No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
واشروم سے باہر نکل کروہ لمبی قطار میں بنے واش بیسن کے آگے کھڑی ہوکر ہاتھ دھورہی تھی اور ساتھ ہی آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے مسکرائے جارہی تھی۔
”نشیلی آنکھیں۔۔۔دھیما لہجہ۔۔۔حُسن تو قیامت۔۔۔واللہ!!۔۔۔ہم فنا ہوجائیں گے خود کو شیشے میں دیکھتے دیکھتے۔۔۔واہ واہ۔۔۔واہ واہ۔۔۔“ بہت دن پہلے کا رٹا رٹایا شعر بڑی ادا سے مدھم لہجے میں بولتی ہوئی وہ آخر میں کھکھلا کر ہنسی تھی جب باہر بڑھتے شور کے ساتھ فائرنگ کی آواز پر وہ بری طرح چونکتی ایکدم چپ ہوئی تھی۔اس سے پہلے کہ باہر مچے کہرام سے باخبر ہونے کے لیے وہ باہر کی جانب قدم اٹھاتی اگلے ہی پل اُسکی خوف سے پھیلتی آنکھوں میں اندھیرا چھایا تھا۔
”مم۔۔۔ماما۔۔۔اپ۔۔۔پیہ۔۔۔ماما۔۔۔۔“ گھٹی گھٹی آواز میں چیختی وہ وہیں پر جم گئی تھی۔ دل کی دھک دھک کرتی دھڑکنیں اُسے زور و شور سے سنائی دے رہی تھی کہ وہ بےساختہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کراُسے مسلنے لگی۔ معاً حاویہ کو پھرسے چلنے والی گولی کی آواز کے ساتھ قریب آتے قدموں کی چاپ سنائی دی۔
”ماما۔۔۔میں یہاں ہوں۔۔۔مج۔۔۔ھے۔۔۔بہت ڈر۔۔۔لگ رہا ہے۔۔۔اپیہ۔۔۔“ اس دبیز تاریکی میں وحشت زدہ بہتی آنکھوں سے اُسنے سامنے کھلتے دروازے کو دیکھا تھا۔ اپنوں کی موجودگی کا سوچ کر اُسکے کپکپاتے لب ہولے سے مسکرائے۔
لیکن اگلے ہی پل موبائل ٹارچ کی روشنی کے ساتھ اُسے ایک ہٹا کٹا اجنبی شخص دروازے کو لاک لگاکر تیزی سے اپنی جانب آتا ہوا دکھائی دیا جس کے ہاتھ میں پسٹل دبی ہوئی تھی۔
اس غیر متوقع صورتحال پر حاویہ کی جان ہوا ہوئی تھی۔ اُسنے اپنی بےجان ہوتی ٹانگوں سے کسی ایک واشروم میں بھاگنا چاہا مگر اس سے پہلے ہی پاشا جی دار بڑی پھرتی سے اُسے اپنی گرفت میں لےچکا تھا۔
کھینچا تانی سے اُسکا پیچ کلر کا حجاب ڈھیلا پڑتے ہی کھلتا چلاگیا۔
”چھ۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔ماما۔۔۔۔بچ۔۔۔اؤ۔۔۔بچاؤؤؤ۔۔۔۔۔“ اپنا آپ اُس سے چھڑاتی وہ روتی ہوئی چلارہی تھی۔
”اے۔۔۔چپ کر۔۔۔نہیں تو تیرے دماغ میں اسکی ساری گولیاں گھسا دوں گا ابھی کہ ابھی۔۔۔۔سمجھی۔۔۔“ اُسکی کنپٹی پر پسٹل ٹھوکتا وہ حاویہ کو حددرجہ ڈرا چکا تھا۔ وحشت سے پُر روشنی میں اپنی شفاف گردن پر اُسکے مضبوط بازو کا دباؤ محسوس کرتی وہ سسک پڑی تھی۔
اس پل اُسکے لرزتے دل نے شدت سے کسی مسیحا کے آنے کی دعا مانگی تھی کہ تبھی زور زور دروازہ بجنے لگا۔
”اوپن دی ڈور۔۔۔۔میں جانتا ہوں پاشا۔۔۔تم اندر ہی ہو۔۔۔ڈیمٹ۔۔۔اوپن اِٹ۔۔۔“ عائل کی دھاڑ پر جہاں پاشا محتاط ہوا تھا وہیں حاویہ اِس آواز پر چونکی۔
”دروازہ توڑو۔۔۔۔فوراً۔۔۔۔“ عائل کی کرخت آواز کے ساتھ ہی ہوٹل کی تمام لائٹس جگمگا اُٹھی تھیں۔ کچھ ہی دیر میں لاک ٹوٹنے کی آواز آئی تھی اور اگلے ہی لمحے عائل چند کانسٹیبلز سمیت دھڑام سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔
یہ دیکھ کر پاشا حاویہ کو بےدردی سے ساتھ گھسیٹتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹا تھا۔ عائل جو ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنےکے لیے پہلے سے ہی تیار کھڑا تھا پاشا جی دار کے چنگل میں پھنسی حاویہ کو ہراساں دیکھ کر بری طرح ٹھٹکا۔
حاویہ کی بھی حالت اُس سے کچھ مختلف نہیں تھی جو اب مدد طلب نظروں سے اُسی کو تکے جارہی تھی۔
”آگے مت بڑھنا۔۔۔ورنہ اس لڑکی کو میں یہی مارڈالوں گا۔۔۔“ پاشا عائل کے چہرے پر پھیلتی پریشانی کو بھانپتا ہوا غصے سے بولا تو عائل کے اُسکی جانب بڑھتے قدم وہی تھم گئے۔
”لیسن پاشا۔۔۔اس لڑکی کوچھوڑدو۔۔۔۔ادروائز آئی ول کل یو۔۔۔۔“ حاویہ کے بھیگے چہرے سے بمشکل لہو ہوتی نظریں ہٹاتا وہ شہادت کی انگلی پاشا کی طرف اٹھا کر غرایا تو جواب میں وہ بےہنگم قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔ ”ہونہہ۔۔۔مجھے کیا پاگل سمجھ رکھا ہے تُونے اے۔ایس۔پی جو میں اس سنہری طوطی کو یونہی جانے دوں گا۔۔۔؟؟چل اب ذیادہ ہوشیار مت بن اور جیسا میں بولتا ہوں ویسا ہی کر۔۔۔نہیں تو یہ لڑکی جان سے جائے گی۔۔۔“ سفاکیت سے بولتے ہوئے اُسنے حاویہ پر اپنی گرفت مزید سخت کی تھی۔ نتیجتاً حاویہ کی ہلکی سی چیخ نکلی تھی جو اُسکے ساتھ ساتھ عائل کو بھی تکلیف سے دوچارکرگئی۔
”پلیزززز آفیسر۔۔۔۔“ وہ التجائیہ نظروں سے عائل کی جانب دیکھتی سسکی تھی۔ ”دیکھو۔۔۔۔میں تم سے آخری بار بول رہا ہوں۔۔۔لڑکی کو آرام سے میرے حوالے کردو۔۔۔اگر اسے کچھ بھی ہوا تو یقین جانو میرے ہاتھوں سے زندہ نہیں بچو گےتم۔۔۔۔“ بے اختیار ایک قدم آگے بڑھتا وہ بےبسی سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے دانت پیس کر گویا ہوا۔اُسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ پاشا جی دار کے ہزار ٹکڑے کردے۔
”کیوں بے سالے۔۔۔۔دھمکی دے رہا ہے مجھے۔۔۔؟؟؟“ پاشا جی دار اُسے اپنی سرخ آنکھیں دکھاتا ہوا پھنکارا۔
”صرف دھمکی نہیں دے رہا۔۔۔۔بلکہ کرکے بھی دکھاؤں گا۔۔۔۔“ غضب ناک نظروں سے اُسے گھورتا ہوا وہ پُر یقین تھا۔
”پلیز مجھے بچالو۔۔۔۔۔“ وہ پل پل تڑپ رہی تھی اُسکی مضبوط پکڑسے نکلنے کے لیے۔اس لمحے جانے کس احساس کے تحت عائل کا سامنے کھڑی لڑکی کو اپنے تحفظ بھرے حصار میں لینے کا شدت سے دل چاہا تھا۔
”بس بہت ہوا۔۔۔چپ چاپ یہاں سے کھسک لے۔۔۔اور اپنے کتوں سے بول کہ وہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو یہاں سے جانے دیں۔۔۔ورنہ۔۔۔“ تڑخ کر بولتے ہوئے پاشا جی دار نے ٹریگر پر انگلی کا ہلکا سا دباؤ ڈالا تو سر پہ منڈلاتی موت کو مزید قریب سے دیکھتی حاویہ خوف سے آنکھیں میچتی اپنی سانسیں روک گئی تھی۔
پاشا کی یہ حرکت دیکھتے ہوئے آئل اپنا ضبط کھوچکا تھا اور اگلے ہی پل گولی کی آواز وحشت زدہ سناٹے کو چیڑ گئی۔
”ٹھاہ۔۔۔۔۔“ حاویہ کے سر سے کچھ انچ کے فاصلے پر ہوا میں معلق پاشا کے ہاتھ میں دھنستی گولی پاشا کو بری طرح بُلبلانے پر مجبور کرگئی جس کے ساتھ ہی پسٹل جھٹکے سے فرش پر جاگری۔
اِدھر حاویہ کے سر کو زور کا جھٹکا لگا تھا جس پر وہ چیختی ہوئی چار قدم پیچھے ہٹی اور مارے وحشت کے اپنے سن ہوتے کانوں پر سختی سے ہاتھ رکھ گئی۔ موقعے کا بھرپور فائدہ اٹھاتا ہوا عائل سرعت سے پاشا جی دار تک پہنچا تھا اور اُسے سنبھلنے کا موقع دئیے بغیر پے در پے اُس پر مکے برسانے لگا۔ ”گھسیٹتے ہوئے لےجاؤ اس ذلیل شخص کو یہاں سے۔۔۔۔“ پاشا کو آدھ موا چھوڑتا وہ غصے سے آڈر دیتے ہوئے اُسکے پاس سے اُٹھ گیا اور گہرے سانس لیتا چہرے پر آیا پسینہ اپنی سرخ آنکھوں سمیت بازو سے پونچھ ڈالا۔
”یس سر۔۔۔۔“ کانسٹیبلز اُسکے کہے پر عمل کرتے ہوئے پاشا جی دار کو بازوؤں سے تقریباً گھسیٹتے ہوئے وہاں سے لے گئے جو نیم بے ہوشی کی حالت میں ڈھیلا پڑچکا تھا۔
”تم ٹھیک تو ہو۔۔۔۔؟؟؟“ عائل نے مڑکر واش بیسن کے ساتھ لگ کر کھڑی حاویہ کو دیکھا اوراُس کے پاس جاکر قدرے فکرمندی سے پوچھا تو نفی میں سر ہلاتی ہوئی وہ باآواز رونے لگی اور اگلے ہی پل اپنا سارا ضبط کھوتی بے اختیار اُسکے سینے سے جالگی۔
عائل اپنی جگہ ساکت ہوا تھا حاویہ کے اس طرح خود سے قریب آنے پرکیونکہ اُسے مقابل سے اس چیز کی توقع قطعی نہیں تھی۔
اُس نے زرا سا سر جھکاکر اُسکی جانب دیکھا تو بےساختہ اُس کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی لیکن وہ اُسکے دل کی بگڑتی حالت سے یکسر انجان ابھی بھی خوف کے زیرِ اثر رونے کا شغل پورا کررہی تھی۔
اُسکی شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچے جانے کیوں حاویہ کو اُس کے حصار میں تحفظ کا احساس ہوا تھا۔شاید اسی لیے کہ وہ قانون کے ساتھ ساتھ اُسکی جان کا بھی رکھوالا بن گیا تھا۔ لیکن اپنے مسیحا پر غصہ بھی بہت آرہا تھا جس نے اتنے قریب کرکے گولی چلائی تھی۔
اگرنشانہ چُوک جاتا تو۔۔۔۔؟
یہ سوچ کر حاویہ کے رونے میں مزید تیزی آئی تھی۔
”آپ بہت سنگدل ہیں۔۔۔۔“ وہ اُسکے چوڑے سینے میں منہ دیے ہچکیوں کے درمیان دبا دبا سا چیخی۔
”پتا ہے۔۔۔۔“ اُسکے خوف سے کانپتے نازک وجود کے گرد آہستگی سے اپنا ایک بازو حائل کرتا وہ قدرے آرام سے اعتراف کرگیا۔
”بدتمیز بھی۔۔۔۔“ اب کی بار نازک سی مٹھی کا مکا بناکر پوری قوت سے دل کے مقام پر مارا گیا تھا۔
”اب یہ بہت ذیادہ ہورہا ہے۔۔۔۔اوکے۔۔۔۔“ اُسنے جیسے وارن کیا تھا لیکن اُسکی خوفزدہ حالت کے پیشِ نظر لہجہ ہنوز نرم تھا۔
”پتا نہیں۔۔۔۔“ منہ بسور کربھرائی آواز میں بولتی وہ آنسوؤں سمیت اپنی بہتی ہوئی سرخ ناک اُسکی شرٹ سے صاف کرچکی تھی۔
اپنے صاف ستھرے یونیفارم کا بیڑا غرق ہوتا دیکھ کر اُسکی گہری سیاہ آنکھیں ایک پل کے لیے صدمے سے پھیلی تھیں۔
چلو آنسوؤں کی حد تک تو ٹھیک تھا لیکن سُوں سُوں کرتی ناک۔۔۔۔
”اوئے گندی لڑکی۔۔۔۔یہ سرکاری وردی ہے کوئی ٹشو پیپر نہیں جسے تم اپنا مال سمجھ کر کھلم کھلا استعمال کررہی ہو۔۔۔۔“ اگلے ہی پل وہ تمام لحاظ نرمی بلائے طاق رکھتے اُسے خود سے الگ کرتا ہوا تپ کربولا تو وہ اُسے گھورتی ہوئی ہونٹوں کے کنارے نیچے لٹکاگئی۔
یعنی مقابل کا سخت رویہ برداشت نہ کرتے ہوئے پھر سے رونے کی پوری پوری تیاری پکڑلی گئی تھی۔
عائل جو جیب سے رومال نکال کر اپنی شرٹ کو صاف کررہا تھا اُسکی معصوم سی رونی صورت دیکھ کر چونکا۔
”پلیز پلیز۔۔۔۔رونا نہیں بلکل بھی۔۔۔میں تمھارے آنسو مزید افورڈ نہیں کرپاؤں گا۔۔۔۔ہممم۔۔۔۔“ اپنے تاثرات پل میں نرم کرتا وہ تھوڑا قریب آیا اور حاویہ کو تقریباً بچوں کی طرح ٹریٹ کرتے ہوئے رومال کی دوسری سائیڈ سے اُسکی گال پر لڑھکتے آنسو صاف کرنے لگا۔ ایسے میں وہ حق دق سی اُسے یک ٹک دیکھتی چلی گئی۔
”جانتا ہوں۔۔۔۔بہت ہینڈسم ہوں۔۔۔لیکن فی الوقت مجھے یہ بتاؤ کہ کیا تم یہاں اپنی فیملی کے ساتھ آئی ہو۔۔۔۔یا پھر اپنی کسی فرینڈ کے ساتھ۔۔۔؟؟؟“ اُسکی حیران بھوری آنکھوں میں جھانکتا وہ مسکراتے ہوئے رومال پیچھے ہٹاگیا تھا۔
”وہ۔۔۔وہ ماما۔۔۔اپیہ۔۔۔نیناں۔۔۔سب باہر میرا ویٹ کررہی ہوں گی۔۔۔۔اُففف۔۔۔۔“ اُسکے اچانک پوچھنے پر وہ ہوش میں آئی اور شدتوں سے دھڑکتے دل کو سنبھال کر پیچ دوپٹہ سر پر اوڑھتی باہر کی جانب بھاگی تھی۔
”پاگل۔۔۔۔“ اسکے یوں نظریں چرا کر بھاگنے پر وہ بالوں میں ہاتھ پھیر کر ہنستا ہوا اُسکے پیچھے ہی باہر نکل گیا۔ وہ لڑکی اب بھی اُسے مروتاً تھینک یو بول کر نہیں گئی تھی جو رفتہ رفتہ اُسکے دل میں بسنے لگی تھی۔
💞💞💞💞💞💞
”ماما۔۔۔۔“ وہ نفیسہ بیگم کو کانسٹیبل سے بحث کرتا دیکھ فوری اُنکی جانب دوڑی تھی۔عائل نے کانسٹیبل کو پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا تو حاویہ جھٹ سے نفیسہ بیگم کے گلے جالگی۔
”حاویہ۔۔۔۔میری بچی تم ٹھیک تو ہوناں۔۔۔؟؟تمھیں کچھ ہوا تو نہیں ناں۔۔۔ہاں۔۔۔؟؟“ اُسے اپنے آپ میں سموتے ہوئے وہ پریشانی سے گویا ہوئیں تو وہ اپنوں کا سہارا پاتے پھر سے رونے لگی۔
”ماما میں بہت ذیادہ ڈرگئی تھی۔۔۔وہ غنڈہ۔۔۔اُسنے مجھے پکڑلیا تھا۔۔۔اور۔۔۔اورجان سے مارنے کی کوشش کی تھی۔۔۔لیکن پھر یہ پولیس آفیسر ٹائم پر آگئے۔۔۔اور اِنھوں نے مجھے اُس غنڈے سے بڑی مشکلوں سے بچایا۔۔۔“ حاویہ کے گہری سانسوں کے بیچ وضاحت دینے پر جہاں نفیسہ بیگم سمیت حرمین کے دل کو ہاتھ پڑا تھا وہیں پیچھے کھڑا عائل اُسکے آخری جملے پر لب بھینچ کررہ گیا۔
نیناں جو عائل کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہی تھی اگلے ہی پل اُسکی یہ حیرت حاویہ کو دیکھتے ہوئے معنی خیز مسکراہٹ میں بدل گئی۔
اتنے بڑے ہنگامے کے بعد چاروں مجرموں کو ہتھکڑیاں ڈال کر گاڑی میں پٹخ دیا گیا تھا اور اس کامیابی کا اظہار پولیس ٹیم کے چہروں سے پھوٹتی خوشی سے بخوبی ہورہا تھا۔
”تمھارا بہت شکریہ بیٹا۔۔۔خدا تمھیں ہمیشہ سلامت رکھے۔۔۔اگر تم بروقت میری بیٹی کی مدد کو نہیں پہنچتے تو نجانے کیا ہوجاتا۔۔۔۔؟؟“ نفیسہ بیگم عائل کی جانب غور کرتی تشکرآمیز لہجے میں گویا ہوئیں۔
”شکریہ کی کوئی بات نہیں آنٹی۔۔۔یہ تو میرا فرض تھا۔۔۔“ نرمی سے بولتے ہوئے اُسنے گہری نظروں سے حاویہ کو دیکھا تھا جو نفیسہ بیگم کے سینے سے لگی چور نظروں سے اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔پر آئل سے نظریں ملتے ہی گڑبڑا کر پلکیں جھکاگئی جس پر اُسکے لبوں پر عیاں ہوتی ہلکی سی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی۔
”آپ۔۔۔؟؟آپ شام کے بھائی ہیں ناں۔۔۔اے۔ایس۔پی۔عائل حسن۔۔۔۔“ حرمین جو کب سے الجھی ہوئی تھی دماغ پر زور ڈالتے ہوئے عائل سمیت سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواگئی۔
حاویہ نئی جان پہچان نکل آنے پر چونک کر سیدھی ہوتی آئل کو دیکھنے لگی۔ ”جی بالکل۔۔۔۔پر سوری میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔۔۔۔ایم شیور کہ اس سے پہلے ہماری کبھی ایک دوسرے سے ملاقات بھی نہیں ہوئی ہوگی۔۔۔“ اپنے متعارف ہونے پر وہ ذرا کنفیوز ہوا تھا۔نیناں کو بھی وہ پہچان چکا تھا لیکن اس لڑکی کو جو شاید حاویہ کی بڑی بہن تھی کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ”ایکچولی میرا نام حرمین زہرا ہے اور میں شام کی یونیورسٹی میں ہی پڑھتی ہوں۔۔۔۔وہ سینئر ہیں مجھ سے۔۔۔یونی میں ایک دو دفعہ آپکو آتے جاتے دیکھا تھا۔۔۔تو اسی لیے بس۔۔۔۔“ اپنا چشمہ صحیح سے ناک پر ٹکاتے ہوئے وہ مسکرا کر دھیمے لہجے میں بولی۔
”اوہ۔۔۔۔میں سمجھ گیا۔۔۔“ حرمین نے تھوڑا سا جھجکتے ہوئے وضاحت دی تو عائل تائید میں سرہلاتا خوش اخلاقی سے گویا ہوا۔
”آپ نے میری سسٹر کی جان بچائی۔۔۔اس کےلیے تھینکس۔۔۔“ حرمین حاویہ کو بھیگی گال رگڑتا دیکھ کر تشکر آمیز لہجے میں بولی تو عائل کا دھیان ایک بار پھر سے اُسکی جانب کھینچتا چلا گیا جسکے دلکش نقوش جانے کیوں خفا خفا سے تھے۔
”نیڈڈ ناٹ۔۔۔۔اچھا اب اجازت دیں۔۔۔۔خدا حافظ۔۔۔۔“ جس کے بولنے کا وہ منتظر تھا وہ تو منہ سیئے خاموش کھڑی تھی تبھی وہ انسپیکٹر باسط کو اندر داخل ہوتا دیکھ کر بےبسی سے گہرا سانس بھرتا ایک آخری نگاہ حاویہ پر ڈال کر وہاں سے پلٹ گیا۔
”اللہ کے حفظ و امان میں رہو بچے۔۔۔۔“ نفیسہ بیگم نے دل سے دعا دی تو عائل کی پشت کو دیکھتے ہوئے بےاختیار حاویہ کے لب ہولے سے آمین کہے جانے والے انداز میں پھڑپھڑائے جسکا شاید وہ خود بھی اندازہ نہیں کرپائی تھی۔
💞💞💞💞💞💞
پنتالیس سالہ تابین بائی نے دروزاے پر ہاتھ رکھ کر دباؤ ڈالا تو وہ اندر کی طرف کھلتا چلاگیا۔کمرے میں قدم پڑتے ہی نیم تاریکی نے اُن کا استقبال کیا تھا۔اگلے ہی پل وہ اندازے سے سوئچ بورڈ کی جانب پلٹی تھیں اور ”ٹچ ٹچ ٹچ۔۔۔“ کی گونج پر اطراف میں سفید روشنی بکھرگئی۔ سامنے ہی وہ گہری نیند میں ڈوبی ہوش و خرد سے بیگانہ محوِ خواب تھی۔ ایک پل کو تابین بائی کو اُسکی نیند پر رشک سا آیا تھا جو مختلف ساز میں بجتے تبلے گھنگھروں کی چھنکاروں اور اِس حویلی نما کوٹھے میں جوبیس گھنٹے ہونے والے شوروغل میں بھی خوابوں کی سیر کو نکل جاتی تھی۔
”اُففف۔۔۔میری ننھی کلی۔۔۔۔“ ساری کا گلابی رنگ پلو پشت سے گھما کر ہاتھ میں لیتے وہ مسکرا کر اُسکی جانب بڑھی جو اپنا دودھیا رنگ بازو آنکھوں پر چڑھائے سوئی تھی۔
”رابی۔۔۔۔میری جان۔۔۔۔اُٹھ جاؤ اب۔۔۔وقت گزرتا جارہا ہے۔۔۔اور کتنی دیر سوتی رہوگی تم۔۔۔۔؟؟“ اُسکے سرہانے بیٹھ کر وہ نرمی سے اُسکا بازو پیچھے ہٹاتی بولیں تو رابی کسمساکر زرا سی آنکھیں کھول کر اُلجھے انداز میں اُنھیں دیکھنے لگی۔
”ارے خواجہ صاحب آنے والے ہیں آج رات کو تمھارے لیے۔۔۔۔جانتی تو ہو اگر تمھارے حسن کا دیدار کرنے میں ذیادہ دن بیت جائیں تو اُنکی طبیعت میں بے چینی سی بھرجاتی ہے۔۔۔“ وہ یقیناً آج کی رات منعقد ہونے والی محفل کے بارے میں بھول گئی تھی تبھی تابین بائی نے تحمل سے اُسکا گلاب چہرہ دیکھتے ہوئے یاددہانی کروائی تو وہ اپنی گلابی پڑتی آنکھوں میں نیند کا خمار لیے اُٹھ کر بیٹھ گئی۔
”واللہ۔۔۔ کیا کہنے خواجہ صاحب کے۔۔۔اچھے سے واقف ہوں میں اُنکی طبیعت سے۔۔۔بس آپ فکر نہیں کریں بی بی جان۔۔۔۔ہمیشہ کی طرح اِس بار بھی وہ یہاں سے خوش ہوکر جائیں گے۔۔۔اور کرکے بھی جائیں گے۔۔۔“ اپنے چہرے پر آئی لٹوں کو پیچھے کرتے بےتاثر لہجے میں بولتی ہوئی اب وہ کمر پر بکھرے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹ رہی تھی۔ ”میں چاہتی ہوں کہ آج کی محفل میں تم سبز رنگ کا جوڑا زیب تن کرو۔۔۔۔خواجہ صاحب تمھیں اپنے من پسند رنگ میں دیکھ کر بہت خوش ہوں گے۔۔۔“ تابین بائی پرجوش سی بولتی اُسکی الماری کی طرف بڑھی تھیں جس کا پٹ کھولتے ہی رنگ برنگے جوڑوں کا انبار دکھائی دینے لگا۔
”یہ رنگ تو سالار کا بھی من پسند ہے۔۔۔کیا وہ بھی اس محفل میں موجود ہوگا۔۔۔۔؟؟؟“ اُن کے ہاتھ میں گہرے سبز رنگ کا خوبصورت کام والا شرارہ کرتی دیکھ کر رابی کو بےاختیار اپنے دیوانے کی یاد آئی تھی جو نجانے کتنی ہی رنگین محفلوں میں شرکت کرتے کرتے اُسے سنجیدہ لے بیٹھا تھا۔ ”اُس کم ذات کا تو نام بھی مت لو میرے سامنے۔۔۔اتنے دن ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک اُسنے مجھے ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں دی تمھارے نام کی۔۔۔جھوٹا کہیں کا۔۔۔بس لارے لگائے جارہا ہے۔۔۔اگر آج آ بھی گیا تو اپنے آدمیوں سے کہہ کر اُسے باہر پھینکوا دوں گی۔۔۔جب تک وہ اپنی جیب خالی نہیں کرتا اُسکا یہاں داخلہ ممنوع ہے۔۔۔۔“ کپڑے اُسکے سامنے رکھتی تابین بائی سالار کے نام پر بری طرح چڑ گئی تھیں جو چند دن پہلے اُن کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر بھی آمادہ ہوچکا تھا لیکن صرف رابی کی خاطر خاموشی اختیار کرگیا تھا جسے اپنی بی بی جان سب سے بڑھ کر دل عزیز تھیں۔
”واللہ۔۔۔کیا کہنے اُسکے بھی۔۔۔میرے حق میں تو سستا ترین عاشق ثابت ہوا سالار خان۔۔۔۔“ عادت کے مطابق اپنے مخصوص انداز میں بولتی وہ ہولے سے ہنسی تھی۔ شاید سالار خان کی بےوقوفی پر جو اُسے دل سے چاہنے لگا تھا یاپھر اپنی بدقسمتی پر جو وہ چاہ کر بھی کسی کی نہیں ہوسکتی تھی۔ وہ خود بھی صحیح سے جان نہیں پائی تھی۔
💞💞💞💞💞💞
وہ آفس کے بعد اپنے فرینڈز کے ساتھ باہر لنچ کرنے گیا تھا اور اب شام کے سائے گہرے ہوتے ہی تھکا ہارا واپس لوٹا تھا۔اپنے شاندار سے فلیٹ کا دروازہ کیز کی مدد سے کھولتے ہوئے شاہ بوجھل قدموں سے اندر داخل ہوا اور بازو پہ دھڑا کوٹ سامنے تھری سیٹر صوفے پر اچھالتا خود بھی ساتھ ہی ڈھے گیا۔
”اففف۔۔۔آج کا دن بہت ٹف گیا۔۔۔۔“ اپنے بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ پشت پر سر ٹکاکر آنکھیں موند گیا جب ایکدم اُسکے فون پر رِنگنگ ہوئی۔ بڑے ضبط سے آنکھیں کھولتے اُسنے اپنے فون کی اسکرین چیک کی تھی جس پر ”موم کالنگ“ لکھا نظرآرہا تھا۔
”ہیلو موم۔۔۔۔سب خیریت۔۔۔فون کیوں کرنا ہوا۔۔۔۔؟؟“ گہرا سانس بھرتے اُسنے کال پِک کی اور بظاہر نرمی لیے عجلت بازی سے پوچھا۔
”کیا مطلب کیوں کرنا ہوا۔۔۔؟؟کیا اب مجھے اتنا حق بھی نہیں کہ تمھیں اپنی مرضی سے فون کرسکوں۔۔۔؟؟“ اپنی ماں کی بھڑکی آواز سن کر شاہ کے ماتھے پر پڑتے بل اگلے ہی لمحے غائب ہوگئے۔
”نہیں ایسی بات ہرگز نہیں ہے۔۔۔بس تھوڑا کام کا برڈن تھا ناں تو اسی لیے۔۔۔خیر چھوڑیں یہ سب۔۔۔۔آپ اپنی بتائیں۔۔۔۔؟؟“ بظاہر تھکاوٹ سے بولتا وہ حال احوال پوچھنے پر آیا۔
”کیا بتاؤں بیٹا۔۔۔تمھارے دور جانے سے میرا دل ہر وقت بےچین رہتا ہے۔۔۔اتنے دن گزر گئے لیکن تم ہوکہ ابھی تک گھر ملنے نہیں آئے۔۔۔۔کب آؤں گے۔۔۔۔؟؟“ اپنے دل کی بات زبان پر لاتے وہ شاہ کو بھی ایک پل کے لیے بے چین کرگئی تھیں لیکن دوسرے ہی پل اُسکا انداز سرد ہوا تھا۔
”جلد آؤں گا۔۔۔بس ایک پروجیکٹ میں پھنسا ہوا ہوں۔۔۔وہ کمپلیٹ کرتے ہی آپ سے ملنے کے لیے چلا آؤں گا۔۔۔“ وہ آپ پر زور دیتے ہوئے سنجیدگی سے گویا ہوا تو دوسری طرف وہ خوشی سے مسکرا دیں۔ ”تمھارے لیے دن رات رشتے دیکھتی پھر رہی ہوں۔۔۔کچھ خوبصورت لڑکیاں ہیں جو میری نظروں سے گزری ہیں۔۔۔۔اُنکا فیملی بیک گراؤنڈ بھی اچھا ہے۔۔۔لیکن میرے لیے ان میں سے کسی ایک کو سلیکٹ کرنا خاصا مشکل ہوگیا ہے۔۔۔۔سوچا اس میں تمھاری رائے۔۔۔“ وہ اپنی ہی دھن میں بول رہی تھیں جب شاہ ایکدم صوفے سے ٹیک چھوڑ کر اُنھیں مزید بولنے سے روک گیا۔
”موم۔۔۔موم۔۔۔جسٹ ریلکس۔۔۔۔“ اپنے بائیں ہاتھ کو تیزی سے اوپر نیچے جنبش دیتا ہوا وہ لب بھینچ گیا۔
”ریلکس ہی تو نہیں ہوا جاتا مجھ سے۔۔۔۔بس جلدی سے اپنی شادی کرواؤ۔۔۔۔اور مجھے دادی بناؤ۔۔۔اب اور انتظار نہیں ہوتا مجھ سے۔۔۔“ وہ پھر سے اپنی بےتابیاں اپنے بیٹے پر انڈلنے لگی تھیں۔
”وہ بھی بن جائیں گی۔۔۔انشاءاللہ جلد ہی بن جائیں گی۔۔۔۔“ اپنی ماں کی بےصبری پرشاہ قدرے تحمل سے گویا ہوا۔
”تو بتاؤ پھر۔۔۔۔؟؟“ شاہ کے بات ٹالنے کے انداز کو اُسکا اقرار سمجھتی وہ پھرسے اُس سے رائے مانگنے لگیں۔
”آپ کو میرے لیے بےکار میں لڑکیاں دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔میں خود ہی اپنے لیے کوئی اچھی سی خوبصورت لڑکی پسند کرلوں گا۔۔۔۔اوکے۔۔۔۔“ ٹھوس لہجے میں بولتا وہ آخر میں مسکراتی آواز میں گویا ہوا۔
چمکتی آنکھوں میں بےاختیار آبرو کا حسین سراپا گھوما تو وہ اپنے احساسات جان کر بری طرح چونکا۔ وہ لڑکی اُس کے لیے محض ضد کا سامان نہیں تھی بلکہ اُسکی پہنچ اس سے بھی کہیں آگے کی نکلی تھی جسے وہ صرف نام اور کام کی حد تک ہی جانتا تھا۔
زندگی میں پہلی بار اِس عجیب احساس سے دوچار ہوتے شاہ کے لب آپ ہی آپ مسکرائے تھے۔تبھی اسپیکر سے اُبھرتی تلخ آواز پر اُسکا سکتہ ٹوٹا۔ ”بالکل۔۔۔جیسے پہلے پسند کی تھی۔۔۔۔“ انداز طنز بھرا تھا۔
طنز کیا تھا نشتر تھا جو شاہ کے سینے میں پیوست ہوتا اُس کو مسکراہٹ سمیٹتے ہی سختی سے مٹھیاں بھینچنے پر مجبور کرگیا۔
دل تو شدت سے چاہا تھا کہ موبائل فون دیوار پر دے مارے لیکن پتا نہیں کیسے وہ خود پر ضبط کرگیا۔
”فار گاڈ سیک موم۔۔۔۔میں فی الحال اس طرح کے جھمیلوں میں نہیں پڑنا چاہتا۔۔۔آپ کسی اور سے ایسی فرمائشیں کریں۔۔۔یہ آپ کے لیے ذیادہ بیسٹ آپشن رہے گا۔۔۔مجھے ان سب سے معاف ہی رکھیں آپ۔۔۔پلیزززز۔۔۔۔“ کچھ توقف کے بعد کڑے تیوروں سے ٹھہر ٹھہر کر بولتا ہوا وہ اگلے کو اپنی جلدبازی میں کی جانے والی غلطی کا احساس دلاگیا تھا ”لیکن۔۔۔۔“
”خدا حافظ۔۔۔۔“ اکھڑے لہجے میں بولتے ہوئے وہ اگلے ہی پل کال کاٹ کر موبائل کو صوفے پر پٹختا بالوں کو سختی سے مٹھیوں میں جکڑ گیا تھا۔
💞💞💞💞💞💞
آج سنڈے تھا۔سب گھر پر ہی موجود تھے لیکن عائل کو ایک ضروری کیس کے سلسلے میں صبح ہی صبح اپنی ڈیوٹی پر جانا پڑا۔
”یہ سب کیا ہے شام۔۔۔۔؟؟؟“ وہ بےنیاز سا ناشتہ کرنے میں مگن تھا جب حسن صاحب نے اپنے موبائل کی چمکتی اسکرین اُسکے سامنے کرتے ہوئے سخت لہجے میں استفسار کیا۔شام نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ تصویر میں ہیلمٹ کو بغل میں دبائے لڑکیوں کے بیچ کھڑا مسکرارہا تھا۔
پیچھے ریس کا سارا منظرصاف نظر آرہا تھا جو حسن صاحب کو غصے میں لانے کے لیے کافی تھا۔کسی حسد خورے نے شام کی پِک حسن صاحب کو جان بوجھ کر سینڈ کرکے اپنی شیطانی دکھائی تھی۔
اِن دونوں کی نوک جھونک کا سوچ کر پاس ہی بیٹھی عائمہ بیگم کی سانس سینے میں اٹکی تھی۔
”آفکورس ڈیڈ۔۔۔میری پِک ہے۔۔۔سمپل۔۔۔“ ایک پل کو وہ چونکا ضرور تھا لیکن اپنے باپ کے غصیلے روپ سے مرعوب ہوئے بنا خود کو لاپرواہ ظاہر کرتا وہ آرام سے کندھے اچکاگیا۔
خود کے نظرانداز کیے جانے پر شام کو واپس ناشتہ کرتے دیکھ کر حسن صاحب کو مزید طیش آیا تھا۔
”جب میں نے تمھیں ہزار بار منع کیا ہے ایسی واہیات ریسز میں شرکت کرنے سے۔۔۔تو پھر تم دوبارہ کیوں گئے وہاں۔۔۔ہممم۔۔۔۔؟؟کوئی شرم لحاظ ہے کہ نہیں تم میں۔۔۔؟؟ہر بار اپنی خراب حرکتوں سے میرا دماغ گھومادیتے ہو۔۔۔اور پھر بولتے ہو کہ میں بلاوجہ میں تم پر سختی کرتا ہوں۔۔۔پہلے اس قابل تو بن جاؤ کہ تم سے پیار جتایا جائے۔۔۔دیکھو تو ذرا اس بےشرم کو۔۔۔کیسے لڑکیوں کے ساتھ چپک کر کھڑا ہے۔۔۔؟؟“ درشتگی بھرے انداز میں اُنھوں نے شام کو اُسکی اوقات دکھائی تھی اور ساتھ ہی اسکرین پر پھر سے گہری نگاہ ڈالتے حقارت سے بڑبڑائے جس پر وہ مارے ضبط کے سختی سے اپنے لب بھینچ گیا۔
عائمہ بیگم اپنے شوہر کے غصے سے خائف ہوتی چاہ کر بھی کچھ نہیں کرپارہی تھیں۔غلطی اُنکے بیٹے کی ہی تھی جو ہر بار کی طرح اب بھی اپنی اکڑ دکھانے سے باز نہیں آیا تھا۔
”ڈیڈ۔۔۔ریس لگانا میرا شوق ہے۔۔۔اور شوق پورا کرنا میری ضد۔۔۔ایم سو سوری فار اِٹ۔۔۔میں آپکی یہ بات پوری نہیں کرسکتا۔۔۔اینڈ سیکنڈلی۔۔۔ میں لڑکیوں کے ساتھ نہیں بلکہ لڑکیاں میرے ساتھ چپک کر کھڑی ہوتی ہیں۔۔۔“ ہاتھ میں پکڑا سلائس واپس ڈش میں پٹختا وہ حسن صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سرد مہری سے گویا ہوا۔
”یہ۔۔۔یہ دیکھ رہی ہو تم اپنے لاڈلے سپوت کو۔۔۔کس طرح اپنے باپ سے برابر زبان لڑا رہا ہے۔۔۔؟یہ سب تمھاری اور عائل کی دی ہوئی بلاوجہ ڈھیل کا نتیجہ ہے۔۔۔لیکن فکر نہیں کرو مجھے بھی بگڑے ہوؤں کی لگامیں اچھے سے کسنی آتی ہیں۔۔۔بس ایک بار اسکی اسٹڈیز مکمل ہوجانے دو۔۔۔پھر دیکھتا ہوں کیسے یہ سب فضول کام چھوڑ کر بزنس کی طرف نہیں آتا۔۔۔۔؟؟“ تڑخ کر بولتے ہوئے حسن صاحب نے شام کے ساتھ ساتھ اب عائمہ بیگم کو بھی بیچ میں گھسیٹا تھا اور دوسرے ہی پل اپنے سامنے پڑی پلیٹ کو غصے سے پیچھے دھکیلتے اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔
اپنے بگڑے ہوئے خودسر بیٹے کی بغاوت دیکھ کر یقیناً اُنکی بھوک مرچکی تھی تبھی وہ تن فن کرتے اپنے کمرے میں چلے گئے۔
شام جو اپنے باپ کی چبھتی دھمکی پر غور کرتا سامنے پڑی ڈشز کو غصے سے گھوررہا تھا اچانک پاس پڑے مینگو جوس سے بھرے جگ کو جھٹکے سے ہاتھ مارتا سارا ٹیبل گیلا کرچکا تھا۔
”شام۔۔۔۔“ عائمہ بیگم نے دبی آواز میں چیختے ہوئے بےاختیار اُسے ٹوکا۔ ”اسی لیے۔۔۔اسی لیے مجھے ان کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا پسند نہیں۔۔۔لیکن آپکو اور بھائی کو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔۔۔یار۔۔۔یہ مجھے کبھی خوش ہوتا دیکھ ہی نہیں سکتے۔۔۔کئی بار تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے میں انکا بیٹا ہوں ہی نہیں۔۔۔“ شہادت کی انگلی اٹھا کر اُنھیں اصل معاملہ باور کرواتا وہ حددرجہ تلخ ہوا تو عائمہ بیگم پریشان ہوتی نظریں پھیرگئیں۔
”موم مجھے ایک بات تو بتائیں۔۔۔میں سچ میں انہی کا بیٹا ہوں ناں۔۔۔۔؟؟“ بھوری آنکھوں میں سرخی لیے وہ اس پوائنٹ پر الجھا تھا تبھی عائمہ بیگم نے اُسے غصے سے گھورا۔
”شام اب بس بھی کرو۔۔۔کیسی فضول باتیں کررہے ہو۔۔۔۔؟؟تم جانتے تو ہو اپنے ڈیڈ کے غصے کو۔۔۔اپنی پیاری بہن کی موت کے بعد سے وہ خاصے چڑچڑے ہوگئے ہیں۔۔۔ایسے میں وہ کسی کا بھی لحاظ نہیں کرتے۔۔۔مت کیا کرو ایسے کام جن سے اُنکا موڈ خراب ہوجاتا ہے۔۔۔“ بہت سال پہلے اپنی اکلوتی نند کی موت کا حوالہ دیتی عائمہ بیگم نے حسن صاحب کے بڑھتے چڑھتے غصے کا سبب بتایا تو آگے سے وہ چٹخ گیا۔
”اور میرے موڈ کی آپکو کوئی پرواہ نہیں جو وہ ہمیشہ خراب کردیتے ہیں۔۔۔مجھ پرغصہ تو ایسے اتارتے ہیں جیسے کہ میں نے اُنکی بہن کی جان لی ہو۔۔۔۔آپ میری ایک بات اچھے سے سن لیں موم اور بےشک اُنھیں بھی سمجھادیں۔۔۔نہ تو میں اُنکا بورنگ سا بزنس جوائن کروں گا اور نہ ہی اُنکی ضد کے آگے اپنے شوق چھوڑوں گا۔۔۔دیٹس فائنل۔۔۔۔“ اپنا اٹل فیصلہ سناتا ہوا وہ چیئر سے اُٹھ کھڑا ہوا اور ناشتہ ادھوڑا چھوڑ کر بگڑے تیوروں کے ساتھ وہاں سے نکلتا چلاگیا۔
عائمہ بیگم نے اُسے ناشتہ بیچ میں چھوڑجانے پر روکا نہیں تھا کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ وہ کہنے پر بھی نہیں رکے گا۔
”اُففف۔۔۔یہ باپ بیٹا تو اپنے چکر میں مجھے پاگل کرکے چھوڑیں گے۔۔۔یااللہ کیا کروں میں۔۔۔۔؟؟“ بھوک تو عائمہ بیگم کی بھی اُڑ چکی تھی تبھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے وہیں سر پکڑ کربیٹھ کر گئیں۔
💞💞💞💞💞💞
