Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
آج حرمین یونیورسٹی نہیں آئی تھی۔شام جو آج اُس ملانی کو اپنی جانب قائل کرنے کی غرض سے کچھ نیا پلین کرکے آیا تھا یہ جان کر پل میں اُسکا موڈ غارت ہوا تھا لیکن تاشہ کی بروقت انٹری پر مجبوراً اُسے میٹھا بننا پڑا۔ ”شام۔۔۔یہ لو اپنی اسائنمنٹ۔۔۔میں نے کمپلیٹ کردی ہے۔۔۔تمھارے بعد میں نے اپنی اسائنمنٹ تیار کی تھی اسی وجہ سے کل رات ٹھیک سے سو نہیں پائی۔۔۔“ اُسکے ٹیبل پر دھرے بازوؤں کے بیچ سر باقر کا دیا ہوا اسائنمنٹ رکھتی وہ اطمینان اور کچھ تھکاوٹ سے بولی۔
”سو سویٹ آف یو ہنی۔۔۔تم ہمیشہ میرا خود سے ذیادہ خیال رکھتی ہو۔۔۔اتنی اچھی کیوں ہو تم۔۔۔؟؟؟“ اپنا مطلب پورا ہوجانے کے بعد یہ جملہ وہ جانے کتنی ہی لڑکیوں کو بول چکا تھا۔ فواد نے اُسکے از حد معصوم بننے پر آنکھیں گھوماتے ہوئے تاشہ کو دیکھا تھا۔
”میں کہاں اتنی اچھی۔۔۔۔؟؟؟تم بھی ناں بس۔۔۔“ تاشہ اپنی خوشاآمد ہوتے دیکھ شرماتے ہوئے کھل کر مسکرائی تو شام ابرو اچکا گیا۔تبھی افروز آندھی طوفان کی طرح وہاں آیا اور فواد کے ساتھ والی چیئر کھینچ کر بیٹھ گیا۔
وہ جو شام اور رابعہ کے تازہ تازہ بریک اپ کے بعد بڑے خوشگوار موڈ میں اُسے اپنی گرلفرینڈ بنانے گیا تھا،پہلے کی بانسبت اس بار ذیادہ بےعزتی کروا کے واپس لوٹا تھا۔سب نے اُسکے سخت تیور دیکھے تھے جو اب ضبط کے گہرے سانس بھرتا تاشہ کے وہاں سے دفع ہونے کا انتظار کررہا تھا۔
تینوں کی بےزار نظروں اور خاموشی سے وہ بھی یہ بات سمجھ گئی تھی۔ ”اوکے شام۔۔۔۔اب میں چلتی ہوں۔۔۔اگر مجھ سے پھر کوئی کام پڑا تو بلا جھجک مجھے یاد کرلینا۔۔۔“ افروز کی خود پر پڑتی غصیلی نظریں محسوس کرتی ہوئی وہ جھٹ سے بولی تو شام زبردستی مسکراتے ہوئے سرکو جنبش دےگیا۔
”ہاں بھئی اب بول۔۔۔۔اتنی سویٹ سی شکل کیوں بنا رکھی ہے تُو نے۔۔۔؟؟“ تاشہ کے جاتے ہی فواد نے غیرسنجیدگی سے اُسکی طرف دیکھ کر پوچھا۔ وہ ہنستا مسکراتا جتنا اچھا لگتا،غصے میں اُسی قدر کوجا لگنے لگتا۔ ”کمینی۔۔۔خود کو پتا نہیں کیا سمجھ کر بیٹھی ہے۔۔۔ہے کیا وہ۔۔۔؟لڑکی کم اور سوکھی لکڑی ذیادہ لگتی ہے مجھے۔۔۔ہمت تو چیک کرو ذرا اُس رابعہ کی یار۔۔۔ مجھے۔۔۔مجھے انکار کردیا اُسنے۔۔۔افروز صدیقی کو۔۔۔“ افروز تو جیسے اسی پل کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا تبھی ایکدم سے پھٹ پڑا اور اپنے سینے پر انگلی رکھتا دونوں سے ذیادہ خود کو یقین دلانے لگا۔
”وہ بھی دو بار۔۔۔۔“ شام نے اپنے موڈ کی پروا کیے بغیر مسکراتی آواز میں اُسکے زخموں پر نمک چھڑکا تھا۔
”ذیادہ بکواس نہیں کر میرے ساتھ۔۔۔۔یہ تیرا ہی غصہ تھا جو اُسنے مجھ بے قصور پر اتاردیا۔۔۔لڑکی تھی اسی لیے چپ کرگیا ورنہ بتاتا اُسے اچھے سے کیا چیز ہوں میں۔۔۔اور مجھے یہ بیہودہ سا مشورہ دینے والا بھی تُو ہی تھا سالے جو میں پھر سے اُسکے پاس چلا گیا۔۔۔ورنہ تو میری جوتی بھی راضی نہیں تھی اُسے منہ لگانے کو۔۔۔“ اپنا حساب بےباک کرتے ہوئے وہ قدرے تپ کر بولا تو شام اُسکی مزید بگڑتی شکل دیکھتے ہوئے کھل کر ہنس دیا۔ یہ دیکھ کر فواد کی بھی دبی دبی سی ہنسی چھوٹ گئی۔
”تم دونوں کوئی بہت ہی بڑے۔۔۔۔(گالیاں)###۔۔۔ہو۔۔۔بائے گاڈ۔۔۔“ وہ دونوں کو غصے سے گھورتے ہوئے تاسف زدہ لہجے میں بولا پر شاید اُنہوں نے بےشرمی میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی تبھی فل سٹاپ لگائے بغیرڈھٹائی سے ہنستے جارہے تھے۔
”میری جان۔۔۔میری بات مان تو اچھے بچے کی طرح اب اُسے اپنی بہن بنالے۔۔۔۔پٹالیا تُونے اُسے جتنا پٹانا تھا۔۔۔پورا پُھس ہے تُو اس گیم میں کمینے۔۔۔“ فواد نے مزید مرچی لگاتے ہوئے اُسے مزے سے مشورہ دیا جس پر افروز اپنا سارا ضبط کھوچکا تھا۔
”ابے ڈھکن۔۔۔بہن ہوگی تیری۔۔۔مجھے دو بہنیں ہی کافی ہیں۔۔۔اور پٹانے کی کیا بات کرتا ہے۔۔۔؟؟چالیس لڑکیوں کو پٹاکے بھلا بھی چکا ہوں۔۔۔۔“ فواد کے سر پر زور کی ایک ٹھوکتے ہوئے وہ دوسری مارنے پر بھی آیا تھا جب فواد نے بوکھلاتے ہوئے بیچ میں ہی اُسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے قابو میں کرلیا۔ شام نے ہولے سے ہنستے ہوئے اپنا فون باہر نکالا اور کی بورڈ پر تیزی سے انگلیاں چلاتے ہوئے کچھ ٹائپ کرنے لگا۔
”سالے۔۔۔دیکھ تو کتنے بال اُ گ آئے ہیں تیرے۔۔۔گھر جاکے ویکس ضرور کرلی یو۔۔۔۔“ افروز کو غصے سے اپنا ہاتھ چھڑواتا دیکھ کر فواد نے پھر سے بھڑکی مکھیوں کے چھتے کو چھیڑا تھا۔
جہاں شام کی سنجیدگی پھرسے ہنسی میں بدلی تھی وہی افروز نے فواد کو دوسری بھی ٹھوک ڈالی۔
اُن دونوں کی نوک جھونک پر ہی سہی لیکن شام کا موڈ فریش ہوچکا تھا۔ اور شاید وہ دونوں چاہتے بھی یہی تھے۔
💞💞💞💞💞💞
وہ اس وقت چپ چاپ سی بیڈ پہ ٹانگیں سمیٹ کر بیٹھی سامنے دیوار کو تکے جارہی تھی۔اُسے اب بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ ذباب نامی لڑکے سمیت اُسکی چھوٹی سی فیملی اُسے پسند کرکے جاچکی تھی۔ پسند کرکے کیا جا چکی تھی بلکہ رشتہ طے ہونے کی پکی یقین دہانی کرواچکی تھی۔
لڑکا شکل و صورت کے لحاظ سے حرمین کو خود سے کافی بہتر لگا تھا۔لیکن جس چیز نے اُسے ذیادہ اٹریکٹ کیا تھا وہ ذباب کی اچھی سیرت تھی۔ اس کے باوجود بھی جانے کیوں اُسکے دل میں ایک ڈر سا بیٹھ گیا تھا۔ جیسے کچھ ہی دنوں بعد اُن کی فیملی کو کوئی اور خوبصورت لڑکی پسند آجائے گی اور پھر وہ فون پر ہی اس رشتے سے انکار کردیں گے۔
یہ سوچ ہی اُسکے رونگٹے کھڑے کردیتی تھی۔ وہ اپنے آپ میں اس قدر کھوئی ہوئی تھی کہ اُسے حاویہ کے کمرے میں آنے کا بھی پتا نہیں چل پایا تھا۔
”اووووو۔۔۔اپیہ۔۔۔میری پیاری اپیہ۔۔۔میں نے بولا تھا ناں کہ آپکا رشتہ آج کے آج ہی پکا ہوجائے گا۔۔۔آخر میرے ہونے والے زی زو(جیجو)کو آپ سے پہلی نظر میں محبت ہوہی گئی۔۔۔ہووووو۔۔۔“ حاویہ نے آتے ساتھ ہی اُسے جھنجھوڑ کر اپنی خوشی کا اظہار کیا تھا جس پر وہ بری طرح چونکتے ہوئے اُسکی حرکت پر مسکرا کر رہ گئی۔
نیناں کے ساتھ کالج سے واپس گھرآتے ہی حاویہ نے سلام دعا کے فوری بعد دھڑکتے دل کے ساتھ نفیسہ بیگم سے حرمین کے رشتے کی بابت پوچھا تھا۔ آگے سے جب اُسے مثبت جواب ملا تو وہ پرجوش سی بیگ صوفے پر پھینکتی اپنے روم کی جانب بھاگی جبکہ نیناں وہی کھڑی نفیسہ بیگم سے خوشی خوشی ساری تفصیل جاننے لگی۔
نیناں حاویہ کی بیسٹ فرینڈ ہونے کے ساتھ ساتھ اُسکی اچھی پڑوسن بھی تھی اسی لیے اکثر اُنکے گھر پر ہی بلاجھجک اپنا وقت گزارلیتی۔
”مبارکاں اپیہ۔۔۔۔مبارکاں۔۔۔۔میری اپیہ چھیل چھبیلی میں تو ناچوں گی ناچوں گی۔۔۔ناچوں گی۔۔۔“ خوشی حاویہ کے سر چڑھ کر بول رہی تھی تبھی وہ اردگرد سے بےبہرہ بیڈ پر چڑھ کر بےہنگم سا ڈانس کرنے لگی۔ ”اب بس بھی کرجاؤ حاویہ۔۔۔بیڈ توڑو گی کیا۔۔۔؟؟“ اب کے اسے لُڈی ڈالتا دیکھ کرحرمین نے بمشکل اپنی ہنسی روکتے ہوئے اُسے منع کیا۔ ساتھ ہی اپنا چشمہ بھی اوپر چڑھایا تھا جو محترمہ کے اچھلنے پر ناک کے سرے پر آ ٹھہرا تھا۔
”ارے خدا کو مانیں اپیہ۔۔۔۔ایسے کیسے بس کرجاؤں۔۔۔؟ٹریٹ نکالیں ٹریٹ۔۔۔وہ بھی گرینڈ والی۔۔۔“ وہ ایکدم سے خود کے عضو قابو کرتی ہوئی دھپ سے حرمین کے پاس بیٹھتی اپنا تقاضا کرگئی۔
”بالکل ٹھیک بول رہی ہے حاوی۔۔۔ یوں سوکھی سوکھی مبارکیں تو ہم بھی آپکو وصولنے نہیں دیں گے حرمین آپی۔۔۔“ تبھی نیناں بھی حرمین کو بولنے کا موقع دئیے بغیر حاویہ کی تائید میں بولتی ہوئی مٹھائی کی پلیٹ پکڑے کمرے میں داخل ہوئی۔
”تم دونوں تو پاگل۔۔۔۔“ اُنکی ڈیمانڈ سن کر وہ جو اُن دونوں کو ٹالنے ہی والے تھی حاویہ نے اچانک پورے کا پورا گلاب جامن پکڑکر زبردستی اُس کے منہ میں ڈالتے ہوئے اُسکی بولتی بندکردی تھی۔
”آپ چپ کرکے یہ گلاب جامن کھائیں اور کسی اچھے سے ہوٹل میں ہمیں آج کا ڈنر کروائیں۔۔۔بس بات ختم۔۔۔“ حاویہ مستحکم لب و لہجے میں بولتی ہوئی مسکراہٹ سمیٹ گئی۔
حرمین نے بمشکل گلاب جامن حلق سے نیچے اتارتے ہوئے دروازے پر کھڑی نفیسہ بیگم کی جانب بےبس نظروں سے دیکھا۔ اُنھوں نے مسکرا کر اثبات میں سرہلاتے اپنی رضامندی کو ظاہر کیا تو حاویہ سمیت نیناں بھی اُنکے پُرنور چہرے کو دیکھتی خوشی سے اچھل پڑیں۔
💞💞💞💞💞💞
”باسط۔۔۔یہ خبرپکی ہے۔۔۔؟؟؟“ عائل نے کسی بھی قسم کا سخت ایکشن لینے سے پہلے انسپکٹر باسط سے ایک بار پھر کنفرم کرناچاہا۔
اُن کے مخبر کی طرف سے ملنی والی انفارمیشن کے مطابق پاشا جی دار سپر فاسٹ ہوٹل میں اپنے ساتھیوں سمیت پہنچ چکا تھا جہاں خفیہ طور پر ڈرگز اسملنگ کے حوالے سے میٹنگ کی جانی تھی۔
اس کام میں چار لوگ شامل تھے۔پاشا جی دار چھوٹے سے گینگسٹر گروپ کا باس تھا جو بہت سے غیر قانونی کاموں میں ملوث رہ چکا تھا۔
عائل کی اس پر بہت پہلے سے نظر تھی جو ہر بار کسی نہ کسی طرح بھاگ نکلتا۔لیکن اب وہ یہ سنہری موقع کسی بھی طرح ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتا تھا۔
”یس سر۔۔۔ہنڈرڈ پرسنٹ پکی۔۔۔۔“ انسپیکٹر باسط نے پورے یقین سے جواب دیا تو عائل کے چہرے پر جوش کے ساتھ ساتھ سختی در آئی۔
”بہت خوب۔۔۔تو پھر دیری کس بات کی ہے۔۔۔۔؟؟؟چلو نکلتے ہیں۔۔۔۔آج پاشا جی دار اپنے ساتھیوں سمیت ہمارے چنگل سے کسی بھی صورت نکلنا نہیں چاہیے۔۔۔کیونکہ میں اُنھیں ہر حال میں قانون کی سخت گرفت میں تڑپتا مچلتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔گیٹ اٹ۔۔۔“ ٹیبل پر زور سے ہاتھ مارتا ہوا اگلے ہی پل وہ اُٹھ کھڑا ہوا تھا اور انسپیکٹر باسط کو آڈردیتے ہوئے بجلی کی سی تیزی سے باہر کی جانب لپکا۔
”یااللہ مدد۔۔۔۔۔“ سلوٹ مار کر عائل کے پیچھے لپکتا وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا تھا۔ کیونکہ خدانخواستہ اگر آج پاشا جی دار نہیں پکڑا جاتا تو عائل کا غضب ناک روپ پھر اُن سب کو جھیلنا پڑنا تھا۔
💞💞💞💞💞💞
”یاہوووووو۔۔۔۔۔ہوووو۔۔۔۔ہوووو۔۔۔۔۔“ دوسری بائیکس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے جیسے ہی شام کی ہیوی بائیک ریڈ لائن کو چیڑتی ہوئی ذرا سے فاصلے پر بریک کھاتی رکی،وہاں پر بیٹھے لوگ ایکدم سے اپنی جگہ سے اُٹھ کر شور مچاتے ہوئے اپنے ہاتھ پیٹنے لگے۔
وہ سرشار سا ہیلمٹ سر سے اتارتے ہوئے اپنی بائیک سے نیچے اُترا اور بھوری آنکھوں میں فتح کی چمک لیے اپنے ساتھیوں کی جانب آیا۔ پیچھے دوسرے پارٹی سپیٹرز اپنی شکست پر ہاتھ ملتے رہ گئے۔
شام ہر ماہ اس ریس میں پورے اشتیاق سے حصہ لیتا تھا اور یہی چیز حسن صاحب کو زہر لگتی تھی۔ جیت کر وہ جہاں کئی لوگوں کو مایوس کرتا تھا وہیں بہت سوں کو اپنا دیوانہ بھی بنا چکا تھا۔
”کنگریجولیشن یار۔۔۔میں جانتا تھا ہمیشہ کی طرح یہ ریس بھی تمہی جیتو گے۔۔۔کبھی تو ہارنا سیکھ لو۔۔۔تاکہ تمھارے مخالف بھی جیتنے کا اصل سواد چکھ سکیں۔۔۔“ ہادف جوکہ اس ریس کا بڑا پرانا کھلاڑی تھا شام کو گلے سے لگاتے ہوئے سرشار سا گویا ہوا۔
”نو چانس برو۔۔۔۔۔“ جواب میں شام نے مسکراتے ہوئے آنکھ دبائی تھی اور اپنی جیت کی خوشی میں مچلتی لڑکیوں پر بھرپور نگاہ ڈالی جو اُس تک پہنچنے کے لیے محض چند قدموں کے فاصلے پر ہی رہ گئی تھیں۔
”یہ کمینہ کبھی نہیں ہارے گا۔۔۔۔سو اپنا منہ دھورکھو۔۔۔۔“ افروز لقمہ دیتے ہوئے مسکرایا اور فواد سمیت تینوں نے پلٹ کر شام کی طرف دیکھا جو اب وجیہہ چہرے پر جیت کا غرور سجائے اپنے فینز کے ساتھ کھڑا مختلف پوز میں سیلفیاں لے رہا تھا۔
💞💞💞💞💞💞
وہ چاروں اس وقت ہوٹل میں بیٹھ کر ڈنر سے بھرپور انصاف کررہے تھے جب حاویہ ایکدم سے اپنی سیٹ چھوڑ کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔
” کہاں میڈم۔۔۔۔؟؟“ نیناں نے اُسے وہاں سے جاتا دیکھ کر بےاختیار پوچھا تو نفیسہ بیگم سمیت حرمین بھی اُسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
”اتنا پریشان کیوں ہورہے ہیں سب۔۔۔؟؟؟واشروم تک ہی تو جارہی ہوں۔۔۔فکر نہیں کریں اُسکا بل پے نہیں کرنا پڑے گاآپکو۔۔۔“ اُنکے چہروں پر چھائی فکر سے لطف لیتی وہ شرارتی انداز میں گویا ہوئی تو سب نفی میں سر ہلاکررہ گئے۔
ٹریٹ کی خوشی میں حاویہ نے کچھ ذیادہ ہی آڈر کردیا تھا لیکن اب سب ختم کرنا اُسے محال لگنے لگا تو وقتی طورپر نفیسہ بیگم کی ڈانٹ سے بچنے کےلیے واشروم سے بہتر اُسے اس وقت اور کوئی بیسٹ آپشن دکھائی نہیں دیا تھا۔
”کھایا ہے نہیں اور نکالنے کی دیکھو کتنی جلدی ہے محترمہ کو۔۔۔۔“ نیناں جو اُسکی رگ رگ سے واقف تھی اُسکی ڈرامے بازی پر زیرِ لب بڑبڑائی۔ اگر حاویہ اُسکی یہ بات سن لیتی تو یقیناً ایک جھاپڑ پکا پڑنا تھا اُسے۔
”جلدی جاؤ اور جلدی واپس آؤ۔۔۔۔پھرتم نے اپنا سوپ بھی ختم کرنا ہے اور ہمیں گھر بھی جانا ہے۔۔۔“ نفیسہ بیگم اُسے آڑے ہاتھوں لیتی ہوئی بولیں تو اُسکی مسکراہٹ معدوم پڑتی ختم ہوگئی۔
”اوکے ماما۔۔۔۔“ سنجیدگی سے بولتی ہوئی وہ واشروم والے ایریے کی جانب نکل گئی۔ پیچھے سے حرمین اور نیناں اُسکی حالت پر دبا دبا سا ہنس پڑیں جبکہ نفیسہ بیگم ان سے بےخبر کھانے میں مگن تھیں۔
ابھی حاویہ کو وہاں سے گئے چند منٹ ہی ہوئے تھے جب اچانک دروازے سے پولیس کی ٹیم ہوٹل میں داخل ہوئی اور سب کو آتے ساتھ ہی وارن کرنے لگی۔
دور کونے میں ٹیبل کے گرد بیٹھے چار افراد ایکدم آنے والی آفتاد پر بوکھلاتے ہوئے بنا سوچے سمجھے وہاں سے اٹھ کر مخالف سمت بھاگے تھے۔ ”وہ رہے۔۔۔پکڑو اُنھیں۔۔۔“ پاشا جی دار کو اپنی جان بچانے کی خاطر فرار ہوتے دیکھ کر عائل اپنی بیلٹ ہولسٹر سے پسٹل باہر نکالتے ہوئے زور سے چلایا۔ تبھی اُن میں سے ایک نے سب کو خوفزدہ کرنے کے لیے بے دھڑک ہوائی فائرنگ کردی تو لوگوں میں بھگدڑ سی مچ گئی۔سب اُٹھ اُٹھ کر باہر کی جانب بھاگنے لگے۔
”حرمین۔۔۔حاویہ۔۔۔حاویہ واشروم میں ہے۔۔۔۔اُسے واپس لاؤ۔۔۔حرمین میری بچی۔۔۔۔“ نفیسہ بیگم دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے لرزتی آواز میں گویا ہوئیں۔
وہ تینوں بھی باقیوں کی طرح خوفزدہ ہوکر وہاں سے باہر بھاگ جانا چاہتی تھیں لیکن حاویہ کی غیر موجودگی نے اُن سب کو اس خطرناک سچویشن میں مزید خوف میں گھیرتے ہوئے یہی رکنے پر مجبور کردیا تھا۔
”چلو نیناں۔۔۔ہمیں حاویہ کو لے کر جلدی یہاں سے نکلنا ہوگا۔۔۔“ گھبراتی ہوئی حرمین نے نفیسہ بیگم کو تسلی دی اور نیناں کو ہاتھ پکڑے ابھی دو قدم ہی اٹھائے تھے جب اچانک ہوٹل کی ساری لائٹس ایکدم سے آف ہوگئیں۔
اسی کے ساتھ چاروں طرف نیم اندھیرا چھاگیا تھا۔تب تک پولیس ٹیم دو مجرموں کو پکڑچکی تھی۔ پاشا جی دار نے رک کر وارنگ کے طور پر ہوا میں فائر کیا اور لوگوں کے دھکے کھاتا تیزی سے آگے کو لپکا۔
”شِٹ۔۔۔۔“ اُنکی چالاکی پر دانت پیستے ہوئےعائل نے فوری سے بیشتر موبائل ٹارچ آن کی تھی۔ لیکن ایک طرح سے اُسے اطمینان بھی تھا۔اگر وہ ہوٹل سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوبھی جاتے تو ہوٹل کے اطراف میں پھیلی پولیس سے بچ کر فرار نہیں ہوپاتے۔
اگلے ہی پل اُسکی تیز نظروں نے دور تک جاتی ناکافی روشنی میں پاشا جی دار کو واشروم ایریا کی جانب گم ہوتے دیکھا تھا۔بنا کوئی لمحہ ضائع کیے وہ بھی ساری لائٹس آن کرنے کا آڈر دیتے ہوئے لمبے لمبے ڈگ بھرتا سرعت سے اُسکے پیچھے لپکا۔
”ماما حاویہ۔۔۔۔۔“ حاویہ کے اندھیرے سے ڈر کا سوچ کر حرمین چند موبائلوں کی مدھم روشنیوں میں چیخی تھی۔ اس سے پہلے وہ حاویہ کے لیے واشروم کی طرف جاتیں کانسٹیبل نے اُنھیں وہیں پر روک دیا۔
💞💞💞💞💞💞
جاری ہے۔۔۔اچھے اچھے لائکس کمنٹس کرنا مت بھولنا آہووو۔۔۔💖🙃