No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
وہ اس وقت اپنے عیاش فطرت دوستوں کے ہمراہ کراچی کے مشہور نائٹ”سٹار“ کلب میں موجود تھا۔
جہاں برائے نام کپلز ملٹی شیڈز روشنیوں تلے۔۔۔بھڑکیلے سُروں پر قدرے بےباکی سے خود کے وجود تھرکا رہے تھے۔۔۔
وہیں خلافِ توقع وہ الگ تھلگ سا ٹیبل بار کے قریب سٹول پر براجمان لائٹ ڈرنک کررہا تھا۔
سرخ آنکھوں میں اتری سوچ کی گہری پرچھائیاں اسکا سکون برباد کیے ہوئے تھیں۔
جبکہ اس کے برعکس فواد اور افروز ہر فکر۔۔۔ٹینشن سے کوسوں پرے۔۔۔اپنی اپنی وقتی من چاہی لڑکیوں کے ساتھ فلور پر ڈانسنگ سٹیپ لیتے ہوئے کافی سرشار سے دکھائی دے رہے تھے۔
”تمھارا اور حرمین زہرا کا تعلق کس حد تک گیا تھا۔۔۔۔؟؟؟“
اس ہنگامہ مچاتے ماحول میں بھی بھاری سنجیدہ آواز اسکے کانوں میں صاف گھلی تھی۔
”حد مطلب۔۔۔؟؟؟
آپ۔۔۔۔آپ مجھ پر شک کررہے ہیں بھائی۔۔۔؟؟
اپنے چھوٹے بھائی پر۔۔۔۔۔؟؟سریسلی۔۔۔؟؟؟“
گزشتہ شب اکیلے میں عائل کی براہ راست تفتیش اسکا سینہ ہی تو تپا کر رکھ گئی تھی۔
اسکی بےیقینی پر وہ بے اختیار گہرا سانس بھرکے رہ گیا۔
”شک ہرگز نہیں کررہا ہوں۔۔۔۔۔
خود کی تسلی کے لیے محض ایک سوال پوچھ رہا ہوں تم سے۔۔۔۔۔“
کچھ نرمی سے بولتا وہ ہنوز اسکے مقابل دستِ سوال دراز تھا۔
تلخ سوچوں کے گہرے بھنور میں بہتے شام نے اس بار گلاس سے شراب کا لمبا گھونٹ بھرا تھا۔
”ہونہہ۔۔۔۔۔
تسلی بھی وہیں کروائی جاتی ہے جہاں شک کی کچھ گنجائش موجود ہو۔۔۔
اور اس لڑکی نے میرے خلاف آپ کے دل میں یہ گنجائش بآسانی پیدا کردی ہے بھائی۔۔۔دِکھ رہا ہے مجھے۔۔۔۔۔“
اس کی بات پر استہزائیہ انداز میں سر کو جنبش دیتا وہ پرتاسف سا گویا ہوا تو عائل اسکی اس قدر بدگمانی پر ضبط سے لب بھینچ گیا۔
”لیکن پھر بھی میں آپکو۔۔۔۔محض آپکی تسلی کی خاطر یہ بات صاف بتائے دیتا ہوں کہ حرمین زہرا سے میرا تعلق صرف اور صرف برائے نام دوستی کی حد تک تھا۔۔۔
بالکل سادہ اور عام سا۔۔۔
اس سے ذیادہ کچھ بھی نہیں۔۔۔
انفیکٹ وہ تو خود انگیجڈ تھی یار۔۔۔
بھلا ایسے میں میرے ساتھ کیا خاک تعلق بناتی۔۔۔۔۔؟؟؟“
بنا ہکلائے۔۔۔ہچکچائے بڑی صفائی سے جھوٹ بولتا وہ عائل کو ایک حد تک اطمینان دلاچکا تھا۔
”تمھیں جب حرمین زہرا کی موت کے بارے میں پتا تھا تو پھر تم نے ہم سے کسی ایک کو بھی یہ بات کیوں نہیں بتائی۔۔۔؟؟؟
یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہم انکے گھر نکاح کی پیشکش لے کر جانے والے تھے۔۔۔۔؟؟؟“
مقابل کے مزید ایک سوال پر وہ پل بھرکو لب بھینچ گیا۔
عائل نے اسکی پیشانی پر ناگواری کی چڑھتی تیوریاں اگلے ہی لمحے مٹتی دیکھی تھیں۔
اپنی پشت پر اٹھتے ہنگاموں سے ہنوز بیگانہ۔۔۔شام کا دماغ مزید گہرائیوں میں اترتا اب کہ سنسنانے لگا۔
معاً اسکی یاداشت میں خود کی دی گئی وضاحت تازہ ہوئی تھی۔
”بھائی۔۔۔مجھے خود یہ بات بہت دیر سے پتا چلی تھی۔۔۔۔
اور جیسے ہی مجھے حرمین کی موت کا علم ہوا تو میں فوراً سے اپنے دوستوں کے ہمراہ ان کے گھر اظہار افسوس کے لیے بھی گیا تھا۔۔۔۔“
سرد لہجے میں اپنی صفائی دیتا وہ کسی بھی طور خود کو غلط ٹھہرانے کا روادار نہیں تھا جب بات کرتے ہوئے یکدم ہی اسکے انداز بدلے۔۔۔
عائل نے چونک کر اسے دیکھا۔
”لیکن وہاں جو آپکے چھوٹے بھائی کے ساتھ سرعام بدسلوکی کی گئی ہے ناں۔۔۔
جو بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کی گئی ہے۔۔۔
وہ سب کچھ ناقابلِ برداشت تھا میرے لیے۔۔۔۔
مگرمیں پھر بھی لحاظ کرگیا۔۔۔
لحاظ کرگیا صرف اور صرف آپکی خاطر۔۔۔
ورنہ آپ جانتے ہیں کہ میں لحاظ برتنے والوں میں سے ہر گز نہیں ہوں۔۔۔۔۔“
انگلی اٹھاکر جتاتا اب کہ وہ عائل کے اندر زہر گھولنے پر آیا تھا۔
جواب میں وہ ضبط سے منہ پر ہاتھ پھیرتا رخ پلٹ گیا۔
”یہی بات تو میری خود کی بھی سمجھ میں نہیں آرہی کہ کیوں۔۔۔؟؟
آخر کیوں وہ تمھارے اس قدر خلاف جا چکی ہے۔۔۔۔؟؟؟
بنا کسی ثبوت۔۔۔بنا ٹھوس وجوہات کے کیوں وہ تمھیں ایک لٹیرا اور قاتل بنانے پر تلی ہوئی ہے۔۔۔۔؟؟؟“
ڈی۔جے نے بیس بڑھاتے ہوئے جہاں ماحول کو مزید بھڑکیلا بنایا تھا وہیں سماعتوں میں اترتی عائل کی اذیت بھری آواز پر۔۔۔آخری گھونٹ بھی حلق میں انڈلیتے شام نے گلاس کو بار ٹیبل پر پٹخا۔
بھوری نگاہوں کی سرخائی مزید گہری ہوئی تھی۔
”پاگل۔۔۔۔
یس بھائی۔۔۔۔۔
بہن کی موت کا صدمہ اسے اس قدر پاگل کرچکا ہے۔۔۔کہ وہ بنا سوچے سمجھے اس حد تک چلی گئی ہے۔۔۔۔“
بے اختیار اس کے سامنے آتا وہ عائل کو مزید پریشانی میں دھکیل گیا۔
”آپکو یاد ہو تو ایک بار میں نے چند غنڈوں سے لڑ کر حرمین زہرا کی عزت بچائی تھی۔۔۔
اورعزت کا رکھوالا کبھی بھی ایک لٹیرا نہیں ہوسکتا۔۔۔
لیکن اسے زبردستی لٹیرا بنانے والا پاگل ضرور ہوسکتا ہے۔۔۔
جو کہ وہ الموسٹ ہوچکی ہے۔۔۔۔“
اسکی محدود سوچوں کے لیے نت نئے در وا کرتا وہ عائل کا مکمل اعتماد پانے میں قدرے کامیاب ٹھہرا تھا۔
”مجھے بھروسہ ہے تم پر شام۔۔۔۔
پورا یقین ہے کہ میرا بھائی کبھی بھی اتنے گھٹیا پن کا مظاہرہ نہیں کرسکتا۔۔۔۔
ہاں البتہ حاویہ اپنے غلط رویے کے سبب خود کے ساتھ ساتھ مجھے بھی سخت اذیت سے دوچار کرگئی ہے۔۔۔۔“
وہ جو حالات کی سنگینی کے پیشِ نظر کچھ وقت پہلے ہی حاویہ کی بابت حسن صاحب کو منع کرچکا تھا۔۔۔ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتا تھکے تھکے سے لہجے میں بولا۔
”سر۔۔۔؟؟؟
مور ڈرنک۔۔۔۔؟؟؟؟“
معاً ویٹر شام کی جانب آکر پوچھتا اسے اسکی گہری سوچوں سے چونکا گیا۔
”ن۔۔نہیں۔۔۔۔۔“
بے اختیار بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ مزید ڈرنک لینے سے انکارکرگیا تو ویٹر بھی سر اثبات میں ہلاتا گلاس اٹھاکر وہاں سے پلٹ گیا۔
شام نے سر جھٹک کر گہرا سانس بھرا۔
پھر وہیں بیٹھے بیٹھے گردن موڑ کر فلور کی جانب دیکھا۔
اگلے ہی پل اسکی لہو رنگ نگاہیں افروز کے ساتھ دبی دبی بےباکیاں کرتی اس لڑکی پڑیں تو اسکے وجیہہ نقوش شدید حیرت میں ڈھلے۔
”حرمین زہرا۔۔۔۔۔؟؟؟“
ہنوز اس نازک وجود پر ساکت نظریں جمائے شام کے لب دھیرے سے پھڑپھڑائے تو دل شدتوں سے دھڑک اٹھا۔
”حرمین زہرا۔۔۔۔۔؟؟؟“
ہنوز اس نازک وجود پر ساکت نظریں جمائے شام کے لب دھیرے سے پھڑپھڑائے تو دل شدتوں سے دھڑک اٹھا۔
”افففف۔۔۔۔۔۔۔“
بےاختیار انگلیوں تلے۔۔۔نشے سے خمار آلود ہوتی آنکھیں مسلتے ہوئے اس نے سر جھٹک کر دوبارہ اسکی جانب دیکھا۔
منظر ہنوز تھا۔
وہ مختصر سے سرخ رنگ لباس میں بانہوں میں بانہیں پھنسائے۔۔۔ اب کہ قدرے دھیمے انداز میں افروز کے ساتھ ڈانس کے سٹیپ لے رہی تھی۔
جھٹکے سے سٹول سے کھڑے ہوتے شام کی سانسیں۔۔۔اسکے سیاہی مائل لبوں کی مسکراہٹ دیکھ کر تیز تر ہوئی تھیں۔
ہاں۔۔۔۔
ہاں۔۔۔وہ لڑکی حقیقتاً حرمین زہرا ہی تھی۔
بے یقینی کی جگہ اب کہ شدید اشتعال نے لی۔۔۔تو لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ سرعت سے ان دونوں کی جانب لپکا۔
اس دوران سن ہوتے دماغ پر نشے کا اثر صاف حاوی ہونے لگا تھا۔
”ہے ای سویٹ ہارٹ۔۔۔
تم مجھے پہلے کیوں نہیں ملی یار۔۔۔۔؟؟؟
جانتی ہو تمھاری تلاش میں۔۔میں کس قدر خوار۔۔۔ہو۔۔و۔۔۔“
رواں میوزک کا لطف لیتا افروز اسکی نازک کمر پر اپنی گرفت مضبوط کرتا اب کہ مزید کمینے پن پر آیا تھا۔۔۔
جب قریب آتے شام نے بے اختیار اسے کندھے سے دبوچ کر پرے دھکیلا۔
پھر قدرے غصے سے اس لڑکی کے مقابل آیا۔
”ہمت۔۔۔ہمت کیسے ہوئی تمھاری یہاں آنے کی۔۔۔۔؟؟؟
ہوں۔۔۔؟؟؟
جانتی ہو ناں کہ تم۔۔۔۔اور تمھارا یہ ناکارہ وجود اب اس جگہ کے تو کیا۔۔۔۔اس جیتی جاگتی دنیا کے بھی قابل نہیں رہا۔۔۔۔
تو پھر کس مقصد کے تحت اب تم میرے سامنے آئی ہو بولو۔۔۔۔؟؟؟“
اسکا عریاں بازو دبوچ کر پوچھتا وہ قدرے جارحانہ انداز اپنائے ہوئے تھا۔
حرمین زہرا کے دکھائی دیتے سانولے نقوش اس پل اسے زہر ہی تو لگ رہے تھے۔
جہاں جنت نامی لڑکی نے آنکھیں پھاڑ کر مقابل کی اس غیرمتوقع حرکت کو دیکھا تھا وہیں افروز اس بےجا مداخلت پرسختی سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔
ابھی کچھ دیر پہلے تو کوئی بھڑکتی کلی اسکے ہاتھ آئی تھی اور اب یہ۔۔۔۔
”او ہیلو مسٹر۔۔۔۔واٹ ربش۔۔۔۔؟؟؟
تم ہوتے کون ہو مجھے یوں بلاوجہ کی نصحیتیں کرنے والے۔۔۔۔؟؟؟
اینڈ واٹ ڈو یو مین بائے قابل نہیں۔۔۔ہاں۔۔۔؟؟؟
کیا تم اس قابل ہو کہ بنا اجازت مجھے ٹچ بھی کر سکو۔۔۔۔؟؟
جسٹ لیو می۔۔۔۔“
وہ مردانہ وجاہت رکھنے والا امیرزادہ اسے خاصا بگڑا ہوا بددماغ لگا تھا۔۔۔جبھی جھٹکے سے اپنا بازو چھڑواتی وہ بھی چٹخ کر گویا ہوئی۔۔۔
اسکے یوں بپھرنے پر شام کے ماتھے پر صاف بل پڑے تھے۔
حقیقتاً اسے حرمین زہرا خود کے ساتھ کھلی بدتمیزی کرتی ایک آنکھ نہیں بھائی تھی۔
اس دوران فواد سمیت آس پاس کے محض دوچار لوگ ہی تھے جو انکی جانب متوجہ ہوتے اپنی مشترکہ سرگرمیوں کو تقریباً روک چکے تھے۔
”تم۔۔۔مجھ سے۔۔۔؟؟
مجھ سے پوچھ رہی ہو کہ میں کون ہوں۔۔۔؟؟؟
ہہمم۔۔۔؟؟
اس سے۔۔۔جس نے بذاتِ خود تمھیں کسی شناخت کے قابل نہیں چھوڑا۔۔۔۔“
غصے میں گھلی نشیلی بے خودی مزید بڑھی تھی کہ پھنکار کر بولتا وہ ایک بار پھر سے اسکا بازو اپنی سخت گرفت میں لے گیا۔
وقفے وقفے سے بند کھلتی۔۔۔آنکھوں کا صاف فریب اسے ہنوز پاگل کیے دے رہا تھا۔
جواباً جنت نے اسکی قطعی سمجھ نہ آنے والی گفتگو پر چڑ کر مزاحمت کی تھی۔
معاً خود پر سے ضبط کھوتے افروز نے آگے بڑھ کر شام کو پلوں میں اس سے دور کیا۔
پھر جنت کو اپنے پیچھے کرتا اسکے مدِمقابل آیا۔
”جسٹ سٹاپ اٹ شام۔۔۔۔
آخرکس حق سے تُو میری گرلفرینڈ کے ساتھ اس قدر بدتمیزی سے پیش آ رہا ہے۔۔۔۔؟؟؟
ایسے کپلز کے بیچ میں زبردستی گھس کر انھیں الگ کردینا کہاں کی اخلاقیات ہیں تیری۔۔۔؟؟؟ہاں۔۔۔۔۔؟؟؟“
صاف حیرت کا اظہار کرتا وہ مٹھیاں بھینچ کر برہم سا غرایا۔۔۔تو جہاں شام نے پلکیں جھپکا جھپکا کر شدید ناگواری سے اسے دیکھا تھا وہیں ان دونوں کی جان پہچان نکل آنے پر وہ بھی صاف حیران ہوئی۔
اس دوران رنگ برنگی روشنیوں تلے میوزک کی روانگی ماحول کو ہنوز بھڑکائے ہوئے تھی۔
”کیونکہ۔۔۔یہ لڑکی انہی بدتمیزیوں کی حقدار ہے جو میں اس کے ساتھ کررہا ہوں۔۔۔۔
اور یہ بات تُو بھی بڑے اچھے طریقے سے جانتا ہے۔۔۔۔
اسی لیے بنا کوئی فضول بحث کیے شرافت کے ساتھ میرے آگے سے ہٹ جا۔۔۔۔۔۔“
اسکے سینے پر بارہا شہادت کی انگلی مارتا وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تو افرور کی آنکھوں کا رنگ بدلا۔
”اور اگر نہ ہٹوں تو۔۔۔۔؟؟؟“
سپاٹ لہجے میں پوچھتا وہ یونہی اسکے سامنے ڈٹ کر کھڑا تھا۔
اسکا یہ باغی پن دیکھ کر جہاں شام کے تیوریاں چڑھی تھیں وہیں جنت کے آتشی لب۔۔۔افروز کو اپنے حق میں لڑتا دیکھ ایک ادا سے مسکرائے۔
”جان یہ تم نے کس قسم کے سائیکو دوست بنا رکھے ہیں جنھیں لڑکیوں سے بات تک کرنے کی تمیز نہیں ہے۔۔۔؟؟؟“
بظاہر غصے سے پوچھتی وہ ہنوز افروز کی پشت پر سنبھل کر کھڑی اس صورتحال سے بخوبی لطف لے رہی تھی۔
شام نے مٹھیاں بھینچ کر پل بھر کی سلگتی نگاہ حرمین زہرا کے آدھے واضح ہوتے چہرے پر ڈالی۔
پھرسخت چتونوں سے اپنی جانب تکتے افروز کو گھورا۔
اس پل پل بڑھتے ہنگامے سے محتاط ہوتا فواد بھی اپنی والی سے فوری ایکسکیوز کرتا ہوا۔۔۔اگلے ہی پل دو افراد کے بیچ سے گزر کر انکی طرف آیا تھا۔
”تیری اس اچانک خودسری کی وجہ تو نہیں جانتا سالے۔۔۔
پر تُو یہ بات ضرور جان لے کہ یہ فقط میرا اور حرمین زہرا کا معاملہ ہے۔۔۔سو ہٹنا تو تجھے ہرصورت پڑے گا۔۔۔
اور اب میں یہ وارنگ دوبارہ نہیں دُہراؤں گا۔۔۔چل ہٹ پیچھےےے۔۔۔۔۔۔۔“
تندہی سے اسکے سینے پر ہاتھ مارتے شام نے بےاختیار اسے ایک طرف دھکا دیا تھا جب قریب تر آتے فواد نے بروقت افروز کو سہارا دے کر سیدھا کھڑا کیا۔
اگلے ہی پل شام حرمین زہرا کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔۔
لیکن یہ کیا۔۔۔۔؟؟
اسکی جگہ کسی اور۔۔۔ناآشنا لڑکی کو گھبرائی نگاہوں سے اپنی جانب تکتا پاکر وہ بری طرح چونکا۔
پھر بے اختیار منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ایک نگاہ اطراف میں دوڑا کر واپس اسے بغور گھورا۔
وہ بہکادینے کی صلاحیت رکھنے والی پٹاخہ سی لڑکی حرمین زہرا تو ہرگز نہیں تھی۔۔۔
”واٹ۔۔۔حرمین زہرا۔۔۔۔؟؟؟
آریو میڈ مین۔۔۔؟؟؟“
سنبھل کر اسکے قریب آتے افروز نے غصے سے پوچھا تو شام کا سرسراتا ہوا دماغ مزید خراب ہونے لگا۔
اسے اتنی جلدی چڑھتی تو نہیں تھی پر آج فقط ایک پیک کا نشہ اس پل اسکے سر چڑھ کر بول رہا تھا۔
”اپنے ہوش بحال کر سالے اور غور سے دیکھ اس لڑکی کو۔۔۔
دیکھ۔۔۔یہ کسی بھی اینگل سے تیری حرمین زہرا لگتی ہے۔۔۔؟؟
نہیں ناں۔۔۔۔
کیونکہ یہ جنت ہے جنت۔۔۔۔
میری گرلفرینڈ۔۔۔۔
جسٹ مائن۔۔۔سمجھا۔۔۔۔۔“
بے اختیار بوکھلائی سی جنت کو بازو سے تھام کر مزید پاس کرتا وہ اگلے ہی پل اسکا نازک وجود اپنے مضبوط گھیرے میں لے چکا تھا۔
”ج۔۔۔جنت۔۔۔۔؟؟؟“
ساکت نگاہوں سے اسکے تیکھے نقوش بغور دیکھتے شام نے حیرت سے زیرِلب اسکا نام دُہرایا۔
فواد بھی اسکی بدلے بدلے تیوروں پر حیران سا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
”یس جنت۔۔۔۔
لیکن کیا ہے ناں کہ حرمین زہرا کے چکروں میں تُو اپنے مکمل حواس گنوا بیٹھا ہے۔۔۔
تبھی حقیقت اور فریب میں فرق کرنا تیرے لیے خاصا دشوار ہورہا ہے۔۔۔
اور اب اپنی اسی بدحواسی کے سبب تو خود کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی ذلیل کروانے پر تُلا ہوا ہے سالے۔۔۔۔۔۔“
بےاختیار کسمساتی جنت کو چھوڑ کر سلگتے لفظوں کا زہر مقابل کی سماعتوں میں انڈیلتا ہوا وہ قریب آیا تھا۔۔۔۔
جب ضبط کی طنابیں چھوڑتے شام نے پوری قوت سے ہاتھ کا مکا اسکے چہرے پر دے مارا۔
”او جسٹ شٹ اپ یو بلڈی۔۔۔۔۔جسٹ شٹ اااپ۔۔۔۔۔(گالی##)۔۔۔۔۔“
اس اچانک افتاد پر خود کو زمین بوس ہونے سے روکنے کے لیے۔۔۔جہاں افروز نے بروقت فلور پر ہاتھ جمایا تھا وہیں دایاں گال۔۔۔درد کی شدت سے اسے کئی پلوں کے لیے بدحواس کرگیا۔۔۔
اس مارا ماری پر اب کہ کافی لوگ حیرت سے انکی جانب متوجہ ہوچکے تھے۔
ایسے میں جنت کا آنکھیں پھاڑ کر اپنے لبوں کو ہتھیلی تلے دبا لینا بے ساختہ تھا۔
وہ دانت پیستا اسے مزید سبق سکھانے کو بے اختیار اسکی جانب لپکا تھا۔۔۔ جب ہوش میں آتا فواد بروقت اسے سینے سے جکڑتا بیچ میں ہی روک گیا۔
”شام۔۔۔جسٹ سٹاپ اٹ یار۔۔۔
کیا ہوگیا ہے تجھے۔۔۔؟؟؟ہوش کر۔۔۔۔“
فواد دبے لہجے میں غراتا شدت سے ملتجی ہوا تھا مگر اسکی خون ہوتی نگاہیں سیدھے کھڑے ہوتے افروز پر ہی جمی تھیں۔
”اگر آئندہ حرمین زہرا کو لے کر میرے خلاف اس طرح سے بکواس کرنے کی ہمت کی۔۔۔۔
تو تجھ سمیت تیری اس کھوکھلی جرات کو یہی گاڑ دوں گا۔۔۔
یاد رکھنا۔۔۔۔۔“
درشتگی سے تنبیہہ کرتا شام ہنوز فواد کی گرفت میں تھا۔
اس دوران نشے کا اثر اب کہ کافی حد تک زائل ہو چکا تھا۔
جواباً افروز نے سر جھٹک کر قہرآلود نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا۔
پھر مٹھیاں بھینچ کر قدرے ڈھٹائی سے قدم قدم چلتا ہوا اسکے سامنے آیا۔
”ایسا کیا۔۔۔۔؟؟؟
تو لے پھر۔۔۔کروں گا حرمین کے نام پر ایسی جرات۔۔۔۔
ایک بار چھوڑ کر بار بار کروں گا سالے۔۔۔
بہت برداشت کرلی میں نے تیری یہ نام نہاد غنڈہ گردی۔۔۔۔
یہ دکھاوے کا دبدبہ۔۔۔۔
اب تجھے مزید جھیلنے کی برداشت نہیں ہے مجھ میں۔۔۔اور نہ ہی میں جھیلوں گا۔۔۔۔“
قطیعت بھرے لہجے میں چلاکر بولتا وہ آج اس پر اپنے اندر دبی ساری بھڑاس ایک ساتھ انڈیلنے پر آیا تھا۔
اس کے اس قدر باغی لہجے پر فقط ایک پل کے لیے شام چونکا تھا۔
”مجھے اوقات اوقات گنواتا پھرتا ہے۔۔۔۔
خود تُو کیا ہے۔۔۔ہاں۔۔۔؟؟
باپ اور بھائی کے بل بوتے پر اچھلنے والا فقط دو ٹکے کا گھٹیا ترین انسان ہے تُو۔۔۔
اس سے ذیادہ کچھ بھی نہیں۔۔۔۔“
دوستی کے رہے سہے باقی بھرم بھی پل میں توڑتا وہ مزید گویا ہوا۔۔۔تو شام کے لیے جیسے برداشت کی حد ہوئی تھی۔
”اوئے ذلیل انسان بکواس بند کرلے اپنی۔۔۔۔
تجھے فضول میں معاملہ بگاڑنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔“
پریشان سا فواد جلدی سے بول پڑا۔۔۔۔
پر اگلے ہی پل شام پوری قوت لگا کر اسے خود سے پیچھے دھکیلتا افروز کے مدِمقابل آیا تھا۔
اس دوران شدت سے ابھرتے تماشے پر جہاں میوزک کی بھڑکیلی دھنوں میں خاص فرق نہیں آیا تھا۔۔۔وہیں چہ مگوئیاں کرتے ہوئے۔۔ان دونوں کی جانب یک ٹک تکتے لوگوں کی نگاہوں میں اگلے لمحوں کے لیے مزید تجسس در آیا۔
افروز تنے اعصاب کے ساتھ ہنوز سینہ تانے کھڑا تھا۔
”اب تُو خود کی اوقات بھول کر مجھے میری اوقات گنوائے گا ۔۔۔۔؟؟؟
سالے تیری تو۔۔۔(گالیاں##)۔۔۔۔“
ایک ہی جست میں اسکا گریبان دبوچ کر پوچھتے ہوئے شام نے بے اختیار اسکے منہ پر ایک اور شدت بھرا مکا مارا۔۔۔
جواباً افروز بھی بنا کوئی لحاظ برتے اس کے ساتھ بری طرح گتھم گتھا ہوچکا تھا۔
بوکھلائے سے فواد سمیت کئی لوگ سرعت سے انھیں الگ کرنے کو آگے بڑھے تھے پر ان دونوں کے سر پر تو نشے کی جگہ جیسے خون سوار ہوچکا تھا۔
ایسے میں ڈی جے نے اپنے ساتھ کھڑے شخص کو فوری گارڈز ساتھ لانے کا صاف اشارہ کیا۔۔۔تو وہ سر اثبات میں ہلاتا ہوا باہر کو بھاگا۔
افروز کے کئی وار بے پرواہی سے برداشت کرتا شام اسکا نچلا ہونٹ شدید زخمی کرگیا تھا۔
”چھوڑو۔۔۔۔
چھوڑو مجھے۔۔۔۔
آج تو میں اس کمینے کے سارے بل کس نکال باہر کروں گا۔۔۔
سالا مجھ سے دشمنی مول لینے چلا ہے۔۔۔تھوووو۔۔۔۔۔“
دو سے تین بندوں نے پکڑ کر شام کا بپھرا وجود افروز سے دور گھسیٹا تھا جب غرا کر بولتا وہ اگلے ہی پل اسکی طرف تھوک چکا تھا۔
ہتھیلیوں کے بل کراہ کر بیٹھتے افروز نے جلتی آنکھوں سے شام کی یہ حرکت دیکھی۔۔۔۔جو اگلے ہی لمحے پوری قوت سے ان سے اپنا آپ چھڑواتا گہرے گہرے سانس بھرنے لگا۔
پھر دھمکی کے طور پر شہادت کی انگلی اسکی جانب اٹھاکر جھٹکا دیتا۔۔۔۔اگلے ہی لمحے بنا کچھ کہے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
نچلے لب کے کنارے سے بہتے خون کو انگوٹھے تلے بے دردی صاف کرتا افروز بامشکل کھڑا ہوا۔۔۔۔
تو جہاں فواد نے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے۔۔۔۔اس کو تاسف زدہ نگاہوں سے گھورا تھا۔۔۔۔وہیں تب سے دنگ کھڑی جنت نے بھی گارڈز کو وہاں آتے دیکھ کھسکنے میں ہی خود کی عافیت جانی تھی۔
”حرمین زہرا کی زندگی برباد کرنے کے لیے ایک داؤ تُو نے کھیلا تھا شاہ میر حسن۔۔۔۔
تیری اس نام نہاد پارسائی کے پرخچے اڑانے کے لیے دوسرا داؤ اب میں کھیلوں گا۔۔۔۔۔
جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔۔۔۔۔۔“ مٹھیاں بھینچ کر زہر خند لہجے میں خود سے بڑبڑاتا۔۔۔وہ اگلے ہی پل خود سے سوال پوچھتے گارڈ کی جانب متوجہ ہوچکا تھا۔
رات کی گہری ہوتی سیاہی چاروں اطراف پھیلی ہوئی۔۔۔چاند سے پھوٹتی ٹھنڈی روشنی کو مزید نمایاں کررہی تھی۔
بادلوں کی نرم رکاوٹوں سے قدرے دور۔۔۔آسمان پر نکلا یہ آدھا چاند بھی فطری خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھا۔
خوبصورت۔۔۔
حسین۔۔۔
مگر ادھورا۔۔۔۔
بالکل اسکی آدھی ادھوری ذات کی طرح۔۔۔۔
جانے کب سے کمرے سے ملحقہ ٹیرس پر کھڑی وہ اپنی ساکت نگاہیں ہنوز اس چاند پر جمائے ہوئے تھی۔
آج کا سارا دن اس نے بنا کسی رنگین محفل کے اس حویلی میں قدرے خاموشی سے گزار دیا تھا۔
مختلف سوچوں کی آماجگاہ بنا اسکا ذہن مزید گہرائی میں اترنا چاہتا تھا۔۔۔مگر اپنی پشت پر ہوتے بآواز کھٹکے پر وہ سوچوں سے چونکتی سرعت سے پلٹی۔
کمرے کے بیچ و بیچ کھڑا سالار خان اُسے پل بھر کا جھٹکا دینے کو کافی تھا۔
”رابی۔۔۔۔۔۔“
اسکی مدھم پکار میں ایک تڑپ سی تھی۔
حیرت سے لانبی پلکیں جھپکاتی وہ اگلے ہی پل اسکی جانب قدم اٹھاتی کمرے میں آئی۔۔۔۔
تو ان چند پلوں کے سکوت کو چاندی کی چھن چھن کرتی پائل کی آواز توڑتی چلی گئی۔
ایک مختصر عرصے بعد۔۔۔پیاسی نگاہوں سے یک ٹک اسکے حسین نقوش تکتا وہ اسکے مقابل آنے پر دھیرے سے مسکرایا۔
”س۔۔سالار خان۔۔۔۔۔“
دھڑکتے دل کے ساتھ پل میں اسکی موجودگی کا یقین کرتے ہوئے رابی کے تیور بےاختیار برہم ہوئے۔
تم۔۔۔؟؟تم اتنی دیدہ دلیری سے۔۔۔کیسے میرے کمرے میں گھسے چلے آئے ہو۔۔۔؟؟
کیا گارڈز نے تمھیں حویلی کے اندر آنے سے روکا نہیں۔۔۔۔؟؟؟“
دھیمے لہجے میں تڑخ کر پوچھتی وہ مقابل کی دلکش مسکراہٹ کو مزید گہرا کر گئی۔۔۔۔
جو ضبط اور لفظوں کی زنجیریں توڑتا آخرکار اس تک پہنچنے کی ہمت کرہی چکا تھا۔
”روکا تھا ناں۔۔۔
پر میرے سنگین ترین جذبوں نے رستے میں حائل ساری رکاوٹیں مٹا دیں۔۔۔
اور نتیجتاً اب تم میری نگاہوں کے سامنے موجود ہو۔۔۔۔“
ایک جذب سے بولتا وہ اسکے سخت لہجے سے کسی بھی طور مرعوب دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
ایسے میں ہلکے فیروزی رنگ شلوار قمیض میں رابی کا نکھرا نکھرا سا روپ اسکے مچلتے دل کو بےحد بھا رہا تھا۔
اسکی اس قدر نرمی پر وہ اپنی بھنویں اچکاتی پلٹی۔
پھر سامنے پلنگ پر مخصوص ادا میں بیٹھتی اسکی جانب تمسخرانہ نگاہوں سے دیکھا۔
”واللہ۔۔۔تمھارے یہ سنگین ترین جذبے سالار خان۔۔۔۔۔
اگر ان میں اتنی ہی شدت ہوتی ناں تو تم میری ایک جھلک دیکھنے کو پیسوں کا یوں بے دریغ استعمال ہرگز نہیں کرتے۔۔۔“
دل پر ضبط کرتے سالار خان نے اسکے ہلتے لبوں کی مدھم مسکراہٹ بغور دیکھی تھی۔
”میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ تم اپنے جذبات کے بل بوتے پر نہیں۔۔۔بلکہ بی بی جان کی رضامندی کے سبب مجھ تک پہنچنے کے قابل ہوئے ہو۔۔۔
اور بی بی جان کی یہ رضامندی اس پیسے کے بل بوتے پر ہے جسے تم پانی کی طرح بہا کر مجھ تک آئے ہو۔۔۔۔۔“
اندازِ بیاں نرم لیکن قاتلانہ تھا۔۔۔
اتنا کہ۔۔۔مقابل کا دل گھائل کرتا اسے بےاختیار نگاہیں چرانے پر مجبور کرگیا۔
وہ اسکی چاہتوں کو چند پیسوں میں تولتی نیلام کر رہی تھی۔
سالار خان سختی مٹھیاں بھینچ گیا۔
پھر اسکی جانب دیکھا۔
”افسوس کہ تمھاری یہ طمانیت لفظ بہ لفظ حقیقت بیان کررہی ہے۔۔۔۔
خیر بے دریغ تو نہیں۔۔۔
ہاں البتہ تمھاری عزیز ترین بی بی جان کے آگے اتنا پیسہ ضرور بہاکر آیا ہوں کہ ایک مکمل رات تمھارے سنگ۔۔۔اپنے اس بے تاب دل کی سناتے سناتے گزار سکوں۔۔۔۔۔“
کچھ توقف لے کر سنجیدگی سے بولتا وہ رابی کو بھی اپنے لفظوں سے سنجیدہ کرگیا تھا۔
”واللہ کیا کہنے تمھارے۔۔۔۔تو یعنی تم نے ثابت کردیا۔۔۔
کہ تم بھی عام مردوں کی ہی طرح اپنے سینے میں میرے وجود کی لالچ بسائے ہوئے ہو۔۔۔۔۔“
پھنکار کر بولتی وہ جھٹکے سے جوڑے میں مقید خود کے بال کھول گئی۔
اسکی برہم اداؤں پر بے قرار دل ہارتا۔۔۔سالار خان قدم قدم چلتا اسکے قریب آیا۔
پھر دبیز قالین پر گھٹنوں کے بل اسکے مقابل بیٹھا۔۔۔تو بے اختیار دھڑکتے دل پر وہ گہرا سانس بھر کے رہ گئی۔
”ہاں ہے میرے سینے میں لالچ۔۔۔
لیکن فقط تمھاری محبت کی۔۔۔۔۔
تمھیں پانے کی حسرت میری دھڑکنوں میں جو اشتعال برپا کیے ہوئے ہے اس سے تمھاری یہ ناواقفیت مجھے مزید تڑپا کے رکھ دیتی ہے یار۔۔۔
پر تم۔۔۔۔۔۔“ اسکے کومل ہاتھوں کو نرمی سے تھامتا وہ تھکے تھکے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔جب وہ اسکی بات بیچ میں کاٹتی مدھم سلگتے لہجے میں بول پڑی۔
”واللہ۔۔۔۔اگر اتنی ہی تڑپ ہوتی تم میں۔۔۔تو اپنے لفظوں سے یوں مکرنے کی بجائے میرے چند لفظوں کی لاج ضرور رکھتے تم سالار خان۔۔۔۔“
معاً اپنا ہاتھ اس سے چھڑواتی۔۔۔ وہ اگلے ہی پل۔۔۔چاندی کی پائل اتارنے کو اپنے پاؤں پلنگ پر رکھ گئی۔
سالار کے اندر بےسکونی بھرنے لگی۔
”کیاتمھیں مجھے اپنے قریب دیکھ کر ذرہ برابر بھی خوشی محسوس نہیں ہوئی۔۔۔؟؟؟
کیا میری ہی طرح تمھارا دل بھی نہیں دھڑکتا۔۔۔؟؟؟“
اب کہ ذرا تلخ لہجے میں پوچھتا وہ وہاں سے اٹھ کر اسکے سامنے۔۔۔پلنگ پر آبیٹھا تھا۔
”یہ دل تو ناجانے اب تک کتنوں کے لیے دھڑک چکا ہے۔۔۔۔
اگر تم ایک ہوتے۔۔۔تو جھوٹ سے ہٹ کر ضرور تمھارا دل رکھتی۔۔۔۔۔“
پائل اتار کر ایک طرف رکھتی وہ اسے انتہا کی سنگدل لگی۔
ہاں۔۔۔وہ جو پہلے فقط اسکی محبتوں سے صاف انکاری ہوا کرتی تھی۔۔۔اب دوریوں کے اس مختصر دورانیے میں حددرجہ متنفرنظر آرہی تھی۔
سرخ پڑتی آنکھوں میں در آنے والی نمی کو پلکیں جھپکا جھپکا کر اندر اتارتا وہ بے اختیار اسے بازوں سے تھام کر اپنے قریب کرگیا۔
”میرے دل کا قرار چھین کے تمھارا دل کیسے اتنا پرسکون ہوسکتا ہے۔۔۔ہاں۔۔۔؟؟
کیسے۔۔۔۔؟؟؟
کیوں مجھے بھی ایسا سکون میسر نہیں آتا۔۔۔جیسا تمھاری ان آنکھوں سے صاف چھلکتا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟“
شدتِ بےبسی سے پوچھتے ہوئے اسکا چہرہ سرخ ہوا تھا۔
وہ جو دوسرے پاؤں کی پائل اتارنے سے رہ گئی تھی اس کے بگڑے تیوروں پر ایک ادا سے اسے خود سے پرے دھکیل گئی۔
”جہاں تمھیں سکون ڈھونڈنا چاہیے وہاں تم کھوجتے ہی کب ہو۔۔۔؟؟؟
سنا ہے تمھاری بیوی۔۔۔ کسی حور سے کم نہیں ہے۔۔۔۔۔“
نرم لہجے تلے۔۔۔دبے لفظوں میں شکوہ کرتی وہ اسے بری طرح چونکنے پر مجبور کرگئی۔
اپنے معاملے میں وہ حلیمہ کی ذات کو تو مکمل فراموش کر چکا تھا۔۔۔
اور اسے یاد دہانی کروانے والی بذاتِ خود رابی تھی۔
”وہ جتنی بھی حسین کیوں ناں ہو۔۔۔
تمھارے سامنے سب پھیکا ہے۔۔۔“
کچھ توقف لیتا وہ سرد لہجے میں گویا ہوا تو۔۔۔اسے خود سے اپنے دوسرے پیر کی پائل اتارتا دیکھ وہ کھلکھلا کر ہنسی۔
تلخ حقیقت سے نگاہیں چرانے کا اچھا بہانا چنا تھا اس نے۔۔۔
اسکی مدھر ہنسی پر سالار خان نے گہری نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا۔
”اگر تمھیں لگتا ہے کہ میری چند وقتی تعریفوں سے تم اس دغاباز دل کو اپنے لیے موم کرنے میں کامیاب ہوجاؤ گے۔۔۔۔تو تم سراسر غلطی پر ہو سالارخان۔۔۔۔۔۔“
گھٹنے پر کہنی ٹکاکر۔۔۔رخسار تلے مٹھی جماتی وہ اسے تپانے کو چھیڑ رہی تھی۔
”یہ وقتی تعریفیں نہیں ہیں۔۔۔
بلکہ میرے دل کے سچے جذبات ہیں جنھیں میں بے دھڑک بیان کرنے میں کوئی آڑ محسوس نہیں کرتا۔۔۔۔
چاہے پھر سامنے میری برائے نام بیوی ہی کیوں ناں ہو۔۔۔۔“
چاندی کی پائل کو مٹھی میں دبوچتا وہ اس پر حلیمہ کی اوقات صاف باور کرواگیا تو۔۔۔۔ رابی اپنی دم توڑتی مسکراہٹ پر اسکے وجیہہ نقوش دیکھ کر رہ گئی۔
”رابی۔۔۔۔۔؟؟؟“
اسے گہری نگاہوں خود کی جانب تکتا پاکر سالار خان نے اسے گھمبیرتا سے پکارا تو وہ چونک کر بےاختیار سیدھی ہو بیٹھی۔
”کہتے ہیں محبوب کی صرف۔۔۔پاس موجودگی ہی ایک بےقرار دل کو سکون دینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔۔۔۔
اور میں حالات سے تھکا ہارا اب وہیں سکون لینے کی خاطر تمھارے پاس آیا ہوں۔۔۔۔۔
خدا کے لیے اپنے لفظوں کی مسلسل تکرار سے میری تھکاوٹ کو مت بڑھاؤ۔۔۔۔
پہلے ہی بہت سہہ چکا ہوں اب مزید سہنے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں۔۔۔۔۔“
مدھم لہجے میں بولتا ہوا وہ ذرا جھجھک کر اسکی گود میں اپنا سر رکھ چکا تھا۔
اسکی ہمت پر رابی کا دل نا چاہتے ہوئے بھی شدتوں سے دھڑک اٹھا۔
”واللہ تم اس حالت کے حقدار نہیں تھے سالار خان۔۔۔
ہرگز نہیں تھے۔۔۔۔پر افسوس کہ میری بخت کی سیاہی تمھارے سکون پر بھی سایہ افگن ہوچکی ہے۔۔۔۔“
دھیرے سے اسکے بالوں میں اپنی انگلیاں چلاتے ہوئے جہاں رابی کی بولتی نگاہوں میں صاف افسوس در آیا تھا۔۔۔
وہیں وہ اس لمس پر مسکراتا پرسکون سا اپنی آنکھیں موند گیا۔۔۔۔چاندی کی پائل ہنوز اسکی سخت گرفت میں دبی ہوئی تھی۔
”خدا کا واسطہ ہے میری بچی کو بچالو۔۔۔۔
بچالو اس شیطان صفت انسان سے۔۔۔۔
ورنہ وہ۔۔۔وہ اسکی عزت کو تار تار کر دے گا۔۔۔۔
ہ۔۔ہاں۔۔۔۔ہمیں اس شخص سے بارہا کھلی دھمکیاں بھی مل چکی ہیں۔۔۔
پر۔۔۔پر تم ان دھمکیوں کو بخت کی سیاہی میں ڈھلنے سے پہلے ہی میری حاویہ کو بچالاؤ۔۔۔۔۔۔“
سماعتوں میں گھلتے یہ الفاظ کم۔۔۔سینے کو چھلنی کرتی کرچیاں ذیادہ تھیں۔۔۔جو گاڑی چلاتے عائل کا سرسراتا دماغ مزید گرما گئیں۔
کچھ وقت پہلے ہی ہانپتی کانپتی نفیسہ بیگم۔۔۔اسکی گمشدگی کی اطلاع لے کر اسکے پاس تھانے چلی آئی تھیں۔۔۔
ایسے میں انکا ہاتھ جوڑتے ہوئے سسک سسک کر حاویہ کے حق میں شدت سے مدد طلب کرنا عائل حسن کو تڑپا ہی تو گیا تھا۔
”آپ دوسرے مردوں سے اتنے منفرد کیوں ہیں۔۔۔؟؟
کیوں میری ذات کو لے کر آپکی نیت میں کوئی کھوٹ یاں میل شامل نہیں ہے۔۔۔؟؟“
معاً اسے حاویہ کا سوال کرتا بھیگا لہجہ یاد آیا تو۔۔۔بےسکونیوں تلے دھڑکتا دل پل بھرکو ڈوب سا گیا۔
محتاط ہوکر ساتھ بیٹھے انسپکٹر باسط نے ایک پریشان نگاہ عائل پر ڈالی تھی۔۔۔جو سختی سے لب بھینچے گاڑی کی رفتار کو پل پل بڑھائے چلا جارہا تھا۔
”آپکی نظروں کی پاکیزگی مجھے ہمیشہ آپکی صاف ستھری نیت کا احساس دلاتی ہے۔۔۔۔
لیکن جب وہ۔۔وہ مجھے چھوتا ہے ناں۔۔۔
تو اُسکے ذرا سے لمس سے بھی اُسکی گندی نیت صاف ٹپکتی ہے۔۔۔
مجھے اُسکا چھونا اُسکا جان بوجھ کر میرے قریب آنا بالکل بھی اچھا نہیں لگتا۔۔۔
م۔۔میری روح اُسکی نزدیکی پر بری طرح کپکپااٹھتی ہے۔۔۔۔“
ڈری سہمی سی نم آواز آس پاس بکھرتی اسکی آنکھوں کی سرخی مزید گہری کرگئی تھی۔
”کون چھوتا ہے تمھیں۔۔۔؟؟؟
کس کا ٹچ اچھا نہیں لگتا۔۔۔بولو؟؟؟
بتاؤ مجھے۔۔کس کی بات کررہی ہوتم۔۔۔؟؟؟“
بازوؤں سے پکڑ کر بےچینی سے استفسار کرتا وہ اس وقت چاہ کر بھی پوری بات جان۔۔۔سمجھ نہیں پایا تھا۔۔۔۔
”بختیار۔۔۔۔عرف بختی۔۔۔۔۔“ پر اگلے ہی پل سماعتوں میں سیسہ بن کے اترتا نفیسہ بیگم کا بڑے یقین سے دیا جانے والا جواب۔۔۔اسکے روگ و پے میں شدت سے کھلبلی مچاگیا۔
یہ خیال ہی سوہان روح تھا کہ اسکے دل کو پل میں دھڑکا دینے والی وہ نازک جاں لڑکی اس وقت گمشدہ تھی۔۔۔۔
کب سے تھی۔۔۔؟؟
کس حال میں تھی۔۔۔؟؟؟
محفوظ بھی تھی یا پھر۔۔۔
یاپھر۔۔۔۔؟؟؟
”شٹ۔۔۔۔۔۔۔“
معاً خود پر سے ضبط کھوتے عائل نے پوری قوت سے اسٹیرنگ پر ہاتھ مارا تو جہاں۔۔۔
سامنے سے رواں رفتار پر آتی بائیک۔۔۔۔پاس سے گزرتی ہوئی ہٹ ہوتے ہوتے بچی تھی۔۔۔
وہیں باسط بوکھلا کر بےساختگی میں اسے ٹوک گیا۔
”سر۔۔۔سر پلیز سنبھالیں خود کو۔۔۔۔
ہم بس اپنی منزل کو پہنچنے ہی والے ہیں۔۔۔۔سب بہتر ہوگا۔۔۔۔۔“ باسط بولا۔۔۔
پر سر کو شدت سے نفی میں جنبش دیتے ہوئے یہاں پرواہ تھی ہی کسے۔۔۔۔؟؟؟
نہ باسط کے تسلیاں دیتے لہجے کی اور نہ ہی بائیک سوار کی۔۔۔خود کے لیے کی گئی بکواس کی۔۔۔۔
”انف از انففف۔۔۔۔
اب تم مجھے پاگل کر رہی ہو حاویہ فیضان۔۔۔
مکمل پاگل۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ میں آپے سے باہر ہوکر تمھارے ساتھ حقیقتاً کوئی نا انصافی کر بیٹھوں۔۔۔
آؤٹ۔۔۔۔
جسٹ آؤٹ فرام ہیر۔۔۔۔۔“
پلکیں جھپکا جھپکا کر آنکھوں کی ابھرتی نمی کو اندر دھکیلتے ہوئے۔۔۔اسے تو فقط اپنی سرد مہری شدت سے یاد آئی تھی۔۔۔
جو وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے کوسوں دور۔۔۔بڑے آرام سے اس سسکتی جان کے ساتھ برت گیا تھا۔
کاش۔۔۔کاش کہ اس ڈھلتی شام میں۔۔۔اسکی ذات سے منہ موڑتا وہ اس قدر سفاکی سے اسے وہاں سے تن تنہا چلے جانے کو نہ بولتا۔۔۔۔
پھرتی سے موڑ لیتے ہوئے وہ اندر کہیں خود کو بھی حاویہ کی ہنوز گمشدگی کا قصوروار ٹھہراگیا تھا۔
گاڑی کو کھلے گلے میں داخل کرتے ہوئے مطلوبہ منزل بہت قریب تر آچکی تھی۔
اگلے چند لمحوں میں۔۔۔بتائے گئے پتے سے آشنا ہوتے عائل نے گاڑی کو سرخ رنگ گیٹ کے آگے فوری بریکس لگائے تھے۔
پھر گہرا سانس بھرتے منہ پر ہاتھ پھیرا۔
”امید تو شدت سے یہی ہے کہ سب بہتر ہو۔۔۔۔
لیکن اگر میری امیدیں ذرہ بھربھی غلط نکل آئیں۔۔۔
تو میں۔۔۔ نہ تو خود کو اس ناکردہ جرم کے لیے کبھی معاف کرسکوں گا۔۔۔
اور نہ ہی اس ذلیل انسان کو زندہ زمین میں گاڑنے سے کوئی گریز برتوں گا۔۔۔۔“
اپنی جانب کا دروازہ کھول کر گاڑی سے اترتے ہوئے۔۔۔اس کے الفاظ جس قدر سلگتے ہوئے تھے۔۔۔لہجہ اس سے بھی ذیادہ سختی لیے ہوئے تھا۔
باسط بھی اسکی حالت پر افسردہ سا لب بھینچ کر اگلے ہی پل گاڑی سے اترا۔
وہ دونوں آگے پیچھے گیٹ تک پہنچے۔۔۔
ایسے میں گرم روشنیاں بکھرتے سورج تلے۔۔۔گلے میں ایک طرف کو کھیلتے دو چار بچے ان کی جانب دور سے ہی متوجہ ہوتے اپنے مشاغل سے فی الوقت کے لیے ہاتھ روک چکے تھے۔
باوردی پولیس سمیت نئے ماڈل کی مہنگی ترین گاڑی ان کے لیے قابلِ توجہ ہی تو تھی۔
بیل خراب ہونے کے سبب باسط نے آگے بڑھ کر دروازہ بجایا۔۔۔۔
جب لب بھینچ کر کھڑے عائل کی سماعتوں سے صاف ٹکراتا۔۔۔۔ کسی کا تیز لہجہ اسے بری طرح چونکنے پر مجبور کرگیا۔
”ابے سالے۔۔۔۔تیرے کبھی نہ ختم ہونے والے یہ بےتکے سے چونچلے میری کاروباری زندگی کا ستیاناس کروا کے رکھ دیں گے۔۔۔
تیری اماں کی لال چنری کے بغیر بھی تو یہ نکاح ہوسکتا ہے ناں۔۔۔۔
پر نہ۔۔۔تجھے تو ہر صورت اپنے جگری یار کا ہی بیڑا غرق کروانا مقصود ہے۔۔۔۔“
اپنی دکان بند کرکے آئے عمیر کو اس قدر صدمہ لاحق تھا۔۔۔کہ ہنوز زمین پر نگاہیں جماکر سست روی سے چلتے ہوئے۔۔۔وہ فون پر بھڑاس نکالتا اپنے اطراف سے مکمل بےبہرہ ہوچکا تھا۔۔۔
ایسے میں شور ہنگامے سے قدرے دور تقریباً ویران پڑے اس گلے میں بآواز کی جانے والی گفتگو کچھ فاصلے سے بآسانی سنی جاسکتی تھی۔۔۔۔
جبھی عمیر کے لفظ لفظ پر عائل کا دل ڈوب کر ابھرا تو اسنے فوراً پلٹ کر قدم قدم قریب آتے اس شخص کی جانب بغور دیکھا۔۔۔
جو اب دوسری طرف سے بات سنتا بے اختیار مسکرایا تھا۔۔۔۔
اس دوران باسط بھی دوبارہ دروازہ کھٹکھٹانے کی بجائے عمیر کی جانب متوجہ ہوچکا تھا۔
پر اسکے منہ سے پھوٹتے اگلے الفاظ عائل حسن کا دماغ بھک سے اڑانے کو کافی تھے۔۔۔
”دیکھ بختی۔۔۔۔۔
میں تجھے صاف صاف بتا رہا ہوں۔۔۔
اب تک میں نے تیرے لیے بہت کچھ کیا ہے۔۔اور بے دریغ کیا ہے۔۔۔۔
اگر جو ان سب کے بدلے تُو نے میری دکان پر سامان نہ ڈلوایا ناں۔۔۔تو۔۔۔و۔۔۔مم۔۔۔۔“
سخت تنبیہہ کرتے کرتے عمیر نے یونہی سامنے نگاہ اٹھائی تھی۔۔۔
جب بجلی کی سی تیزی سے اپنی جانب لپکتے باوردی پولیس والے کو دیکھ اسکی آواز حلق میں ہی پھنس کر رہ گئی۔
”جی بولیے صاحب۔۔۔؟؟
کیا کام ہے آپکو۔۔۔۔؟؟؟
جہاں گیٹ کھول کر بختی کی چھوٹی بہن نے ذرا سا منہ باہر نکالتے ہوئے باسط کو اپنی جانب متوجہ کروایا تھا۔۔۔وہیں عائل نے عمیر کو گریبان سے دبوچتے ہوئے اسکا موبائل فون چھین کر اپنے کان سے لگایا۔
”ہیلو۔۔۔۔
عمیر۔۔۔؟؟
تجھے آواز آرہی ہے میری۔۔۔؟؟
اوئے کمینے۔۔۔؟؟اچھا سن میں اپنا فون واپس سے بند کرنے لگا ہوں۔۔۔
تو مولوی اور چند گواہوں سمیت اماں سے لال چنری لے کر فوراً گودام آجا۔۔۔
اب تیرے یار سے مزید صبر کرنا بڑا دشوار ہورہا ہے۔۔۔اففف۔۔۔۔“
کسی شک میں گھرے بنا۔۔۔۔اطمینان سے اپنی بات کہتا وہ اگلے ہی پل خود سے کال کاٹ گیا۔۔۔۔
تو اسکی ناقابلِ برداشت شوخی پر جہاں عائل کی نگاہوں میں پھیلی اذیت کے رنگ مزید گہرے ہوتے چلے گئے۔اس دوران عمیر کو اپنا گلا شدت سے خشک پڑتا محسوس ہوا۔
”جی میں انسپکٹر باسط ہوں۔۔۔اور اپنے سر کے ساتھ یہاں ایک انتہائی اہم معاملے پر تفتیش کرنے آیا تھا۔۔۔
پر اب آپ بے فکر ہوکر واپس لوٹ جائیں۔۔۔ کیونکہ تفتیش کا معاملہ تقریباً حل ہوچکا ہے۔۔۔۔“
باسط نرمی سے کہتے ساتھ ہی پلٹ کر عائل کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔تو وہ بھی حیران سی زیرِ لب ”اچھا“ کہتی بنا باہر جھانکے جھٹ سے گیٹ واپس بند کرگئی۔
عمیر ہنوز عائل کی سخت گرفت میں پھنسا۔۔۔حقیقتاً اسکے سخت تیوروں سے گھبراگیا تھا۔
بقول بختی کہ۔۔۔۔وہ دو ٹکے کا پولیس آفیسر تو کہیں سے بھی نہیں لگتا تھا۔۔۔۔
”کونسے گودام میں ہے وہ اس وقت۔۔۔۔؟؟؟“
قریب کھڑے باسط کو موبائل پکڑاتا عائل۔۔۔درشت لہجے میں پوچھتا بآسانی اسے اپنے رعب تلے دباگیا تھا۔
”م۔۔میں۔۔۔نہیں جانتا۔۔۔۔۔“
خشک لبوں پر زبان پھیرتا عمیر جانے کیوں ہکلاتے ہوئے جھوٹ بول گیا تھا۔۔۔۔
مگر اگلے ہی لمحے گال پر پڑنے والا زناٹے دار تھپڑ اس کے دماغ کی نسیں ہلاگیا۔۔۔۔
دور یہ سب تماشہ بغور دیکھتے ان بچوں کی توجہ ہنوز تھی۔۔۔جب اگلے ہی پل عائل اسے گریبان سے جھٹکا دیتا شدتِ ضبط سے غرایا۔
”میرے چنگل سے یوں جھوٹے منہ بچ نکلنا اگر اتنا ہی آسان ہوتا تو اس وقت میں تمھارے سامنے اس سرکاری وردی میں ہرگز موجود نہیں ہوتا۔۔۔۔
اگر نہیں چاہتے کہ تھانے کی بجائے یہی پر ایک ایک کر کے تمھاری ساری ہڈیاں توڑ دوں۔۔۔تو تمھارے لیے فی الوقت بہتر یہی ہے کہ اپنے جگڑی یار کے لیے بےدریغ قربانیاں دینا بند کردو۔۔۔۔“
ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے عائل کے تیور حددرجہ بگڑے ہوئے تھے۔۔۔تو جہاں زرد رنگت کے ساتھ کچھ توقف لیتے عمیر نے بڑی مشکلوں سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔
وہیں باسط کے لب مسکرائے۔
اگلے ہی پل عمیر کو دھکیل کر گاڑی کی جانب لاتے ہوئے۔۔۔عائل کا دل حاویہ کی بابت سوچتا شدتوں سے دھڑک اٹھا تھا۔
”بہت پسند کرتی ہو یہ بارش۔۔۔۔؟؟؟“ وہ گلاس وال سے پار مدھم۔۔۔ برستی بارش کو بغور تک رہی تھی جب اچانک پشت سے ابھرتی بھاری آواز پر چونک کر پلٹی۔
وہ پینٹ کی جیبوں میں دونوں ہاتھ پھنسائے قدرے اشتیاق سے اسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔
اس دوران اسکی غیرموجودگی میں ٹیبل پر۔۔۔فائلز کے قریب ہی رکھی گئی کافی میں اب کہ ایک حد تک سرد پن گھل چکا تھا۔
وہ بے اختیار دھیرے سے اثبات میں سر ہلاگئی۔
”بہت سے بھی ذیادہ۔۔۔۔۔“ کہتے ہوئے اس نے پلٹ کر دوبارہ گرتی ہوئی ان گنت بوندوں کی جانب دیکھا تو۔۔۔وہ بھی دو قدم آگے بڑھ کر اسکے برابر میں ٹھہرتا مسکراتی نگاہوں سے برستی بارش کو تکنے لگا۔۔۔۔جو اپنے تلے آفس کی عمارت سمیت ہر شے کو بڑھے دھڑلے سے بھگوئے چلی جارہی تھی۔
اُس رات وہ بذاتِ خود اسے بحفاظت۔۔۔اسکے قابلِ رہن گھر کے دروازے تک چھوڑ کر مطمئن سا واپس لوٹ آیا تھا۔
ایسے میں ایک گہری نگاہ ڈال کر جلدی سے گھر کے اندر جاتی آبرو نے بھی اسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
”جانتے ہیں اس پسندیدگی کا حقیقی سبب کیا ہے۔۔۔؟؟؟“ قدرت کے اس دل بھاتے منظر کو دونوں کا تکنا ہنوز تھا۔۔۔جب آبرو کچھ توقف لے کر بولی۔۔۔
”جہاں یہ ہمارے دکھ میں برابر برستی ہے۔۔۔وہیں ہمارے آنسوؤں کا بھرم بھی بڑی آسانی سے رکھ لیتی ہے۔۔۔اور بارش کی ان ننھی ننھی بوندوں نے بچپن سے ہی میرے لاتعداد بھرم رکھے ہیں۔۔۔۔۔“ گردن موڑ کر اسکی جانب دیکھتے شاہ نے خوشگوار حیرت سے اسکے اس گہرے جواز کو سنا تھا۔آج وہ کچھ الگ ہی منفرد موڈ میں تھی۔
”پر مجھے بھرم رکھنا کچھ خاص پسند نہیں ہیں۔۔۔۔۔جو بولتا ہوں صاف صاف۔۔۔اور بلا جھجک بولتا ہوں۔۔۔
جیسے کہ۔۔۔۔“ اپنے مخصوص لب و لہجے میں کہتا کہتا وہ بےاختیار رک گیا۔۔۔تو جہاں ثمن لطیف آفس روم کا دروازہ بے آواز کھولتی سامنے دیکھ کر ٹھٹکی تھی۔۔۔وہیں اسکی طول پکڑتی خاموشی پر اب کہ آبرو نے براہ راست اسکی بھوری آنکھوں میں جھانکا۔
”جیسے کہ۔۔۔۔۔؟؟؟“ اسکی بے قرار استفسار پر شاہ کے لب دھیرے سے مسکرائے۔
”جیسے کہ تم بہت حسین ہو۔۔۔۔۔“ مکمل اسکی جانب رخ موڑ کر گلاس وال سے ٹیک لگاتا وہ گھمبیر لہجے میں گویا ہوا۔۔۔تو کچھ حیرت سے اسکی جانب دیکھتی آبرو کا دل شدتوں سے دھڑکا۔
ناب کو سختی سے دبوچ کر ہنوز وہیں کھڑی ثمن کی آنکھیں ان دونوں کو ایک دوسرے کے قریب دیکھ کر جل سی اٹھی تھیں۔
وہ جو خود کی صورت خوب تراش خراش کے۔۔۔ ہمت مجتمع کرتی شاہ کے پاس اپنے دل کی حالت بتانے آئی تھی۔۔۔اب تیزی سے نم پڑتی آنکھوں کو جھپکاتی حوصلہ کھونے لگی تھی۔
”جیسے کہ مجھے تم سے سنجیدگی کی آخری حد تک محبت ہے۔۔۔۔“ بےاختیار اسکے مومی ہاتھ اپنی نرم گرفت میں لیتا وہ آبرو سکندر کو گہرا سانس بھرنے پر مجبور کرگیا۔
ان دونوں کی خود سے برتی جانے والی ہنوز بے خبری پر بری طرح کھولتی ثمن کی حالت بری ہونے لگی۔
وہ ایک فاصلے سے ان دونوں کی مدھم گفتگو سن تو نہیں پارہی تھی پر بظاہر دکھائی دیتی حرکات و سکنات اسے دونوں کے مابین محبتوں بھرا معاملہ سمجھانے کو کافی تھیں۔
”جیسے کہ تمھاری میرے پاس موجودگی میری روح کو تسکین پہنچانے کا سبب ہے۔۔۔۔“ شاہ کا لہجہ اس قدر میٹھا تھا کہ آبرو کی گہری نیلی نگاہیں اسکے وجیہہ نقوش پر ٹھہر سی گئیں۔
”میرے بارہا انکار کردینے کے باوجود بھی۔۔۔بار بار ٹھکرائے جانے کی اذیت سہہ کر بھی۔۔۔۔۔۔؟؟؟“ اسکا استفسار بےساختہ تھا۔
شاہ کے لبوں پر کھلتی مسکراہٹ معدوم ہوئی۔
”ہاں بالکل۔۔۔جانتی ہو کیوں۔۔۔۔؟؟؟ پل بھر کو رکتا وہ اسکے ہاتھوں پر شدتِ جذبات میں دباؤ بڑھاگیا۔
”کیونکہ میں نے اپنے نام پر دھڑکتے تمھارے اس دل کی دھڑکنوں کا شور بار بار سنا ہے۔۔۔بالکل اسی طرح جیسے اب سن رہا ہوں۔۔۔۔۔“ اطراف سے ہنوز بےبہرہ۔۔۔مہرون حجاب میں اس کا گلال چہرہ تکتے ہوئے شاہ کی بھوری نگاہوں میں خماری کی سرخی پھیل رہی تھی۔
آبرو کی منتشر دھڑکنیں مزید بکھرگئیں۔
”دھڑکنوں کا یہ شور جھوٹا بھی تو ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔“ بے اختیار خشک پنکھری لبوں کو تر کرتی وہ مقابل کی بہکتی نظریں مزید بھٹکاگئی تھی۔
ثمن نے بہتے آنسوؤں میں تکلیف سے گہرا سانس بھرتے ہوئے اپنی ییلو شرٹ کا ایکسٹر کھلا بٹن تندہی سے بند کیا۔پھر خود کے لیے پل میں قدرے نامناسب۔۔۔قطیعت بھرا فیصلہ کرتی ادھ کھلے دروازے سے ہی واپس پلٹ گئی۔
ہاں شاید۔۔۔وہ اپنے سارے جذبات ہارتی شکست خوردہ سی اس عمارت سے ہی مستقل نکل جانے کو تیار ہوچکی تھی۔
”اس طرح تو تمھارا مجھے ہر بار کیا جانے والا انکار بھی محض دکھاوا ہوسکتا ہے۔۔۔۔میں یکطرفہ محبت کا عادی ہرگز نہیں ہوں آبرو سکندر۔۔۔۔جان لو کہ شاہ میر حسن اگر محبت کرنا جانتا ہے تو خود سے محبت کروانا بھی خوب جانتا ہے۔۔۔۔۔“ گرفت میں تھامے ہاتھوں کو جھٹکا دے کر اسے اپنے قریب کرتا وہ ایک غرور سے بولا تو آبرو کی گہری نیلی آنکھوں کا رنگ بدلا۔
”محبت ایسا جذبہ نہیں ہے شاہ صاحب۔۔۔۔جو زبردستی یاں پھر ضد کے زور پر کسی سے بھی کروالیا جائے۔۔۔بلکہ یہ تو ایک ایسا نازک احساس ہے جو کسی کو راحت کی طرح ملتا ہے تو کسی کو روگ کی طرح۔۔۔۔۔“ اسکی سانسوں کی تپش مشکلوں سے برداشت کرتی وہ مضبوط لہجے میں بولی تو اپنا آپ اسکی حسین آنکھوں میں گنواتا شاہ اسکی تمہید پر دھیرے سے ہنسا۔
”اور راحت میں روگ پالنا میرا پرانا ترین مشغلہ رہا ہے سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔۔“ شوخ لہجے میں بولتا وہ بے اختیار اپنا نچلا لب دباگیا تو آبرو بھی اپنے لب بھینچ گئی۔پھر دھڑکتے دل کے ساتھ اپنے ہاتھ چھڑواتی ایک قدم پیچھے ہٹی۔
”کیونکہ آپ سرپھرے ہیں۔۔۔۔۔“ اطمینان سے بولتی وہ وہاں سے جانے کو پلٹی تھی جب شاہ سرعت سے آگے بڑھ کے نازک کلائی کو تھامتا۔۔۔اس سمیت اسکے دل کی دھڑکنوں کو بھی پل بھر کے لیے روک گیا۔
وہ پلٹی پھر بھی نہیں تھی۔
”مانتا ہوں۔۔۔۔پر فقط تمھارے لیے۔۔۔۔“ دوبدو جواب دیتا وہ آبرو کو مسکراہٹ دباکر لرزتی پلکیں جھکانے پر مجبور کرگیا۔
”سنو میں دبئی جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔“ اسکی طول پکڑتی خاموشی سے لطف لیتا وہ مزید بولا۔
”ک۔۔۔کیوں۔۔۔۔؟؟؟“ معاً حیرت سے پلٹ کر پوچھتی وہ شاہ کو شدت سے مسکرانے پر مجبور کرگئی تھی۔
”آفکورس بزنس کے سلسلے میں۔۔۔۔اور وہاں مجھے ایک انتہائی اہم سیمینار میں بھی شرکت کرنی ہے۔۔۔سو میرے لیے جانا ضروری ہے۔۔۔۔۔“ اسکے بتانے پر وہ محض اثبات میں سرہلاتی اگلے ہی پل اپنی کلائی بآسانی اس سے چھڑواگئی۔
”میری غیرموجودگی میں مجھے مس کرو گی۔۔۔؟؟؟“ اب کہ اسے وہاں سے تقریباً بھاگ کر وہاں سے جاتا دیکھ وہ ایک پھرتی سے ایک اور سوال داغ گیا۔
اسکے بہکتے تیوروں پر اپنی حیرت دباتی آبرو نے بے اختیار مڑ کر ایک گہری نگاہ اپنی جانب تکتے شاہ پر ڈالی۔
”شاید۔۔۔۔۔“ بکھری دھڑکنوں کے ساتھ بظاہر سادگی سے بولتی وہ مسکراہٹ دباتی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
پر دہلیز پارکرتے ہوئے پہلے سے ہی کھلے دروازے کو دیکھتی چونک سی گئی تھی۔
”شاید۔۔۔۔؟؟؟رئیلی۔۔۔۔؟؟؟“ پیچھے وہ دھیرے سے ہنستا اگلے ہی پل سر جھٹک گیا۔پھر خوشگوار موڈ کے ساتھ ٹیبل کی طرف بڑھتا کافی کا مگ اٹھاگیا۔
باہر بارش تقریباً تھمنے کے قریب تھی پر۔۔۔ اس پل گلاس وال کی طرف رخ کرکے مزے سے کافی کے ٹھنڈے گھونٹ۔۔۔۔حلق میں اتارتے شاہ کے جذبات تھمنے کی بجائے مزید بھڑک اٹھے تھے۔
”تو حالات اتنے سنگین ترین ہوجانے کے باوجود بھی تم مجھ سے نکاح کرنے پر رضا مند نہیں ہوگی۔۔۔۔۔؟؟؟ہیں۔۔۔۔؟؟؟“ بالوں میں ضبط سے ہاتھ چلاکر پوچھتا وہ اسی کے سرخ چہرے پر اپنی سخت نگاہیں جمائے ہوئے تھا۔
عمیر کو سارے انتظامات کا بولے بھی ایک حد تک وقت گزر چکا تھا پر اس ہٹ دھڑم لڑکی کے بے جا نخرے اب اسکا دماغ خراب کررہے تھے۔
اسکے بنے ٹھنے حلیے کو سرے سے فراموش کرتی حاویہ نے نفرت سے اسکی جانب دیکھا۔
شدت گریہ زاری سے اسکی سانولی رنگت میں لالی سی بھر گئی تھی۔
”تم چاہےجتنی بار مرضی مجھ سے پوچھ لو بختیار۔۔۔۔پر میرا جواب تمھیں ہر بار نہ کی صورت میں ہی ملے گا۔۔۔۔نہ نہ اور صرف نہ۔۔۔سنا تم نے۔۔۔۔۔؟؟“ چٹخیلے پن سے بولتی وہ اسکے بار بار دہرائے جانے والے تقاضے سے حقیقتاً چڑ چکی تھی۔
اسکی اس قدر خودسری پر وہ سختی سے مٹھیاں بھینچ گیا۔پھر تندہی سے اسکے مقابل رکھی گئی کرسی پر بیٹھتا اسے ہڑبڑا کر ذرا پیچھے ہونے پر مجبور گیا۔
”سن رہا ہوں۔۔۔اور بخوبی دیکھ بھی رہا ہوں۔۔۔۔تمھارے دل میں اس دو ٹکے کے پولیس آفیسر کی یہ جو بے تحاشہ محبت مچل رہی ہے ناں۔۔۔وہی۔۔۔وہی تمھیں بار بار مجھے دھتکارنے پر مجبور کردیتی ہے۔۔۔۔“ ایک ہی جست میں اسکا منہ دبوچتا وہ سرسراتے لہجے میں بولا تو حاویہ کی خوف سے بکھری دھڑکنوں میں بے اختیار تیزی در آئی۔
”پر فکر نہیں کرو باربی ڈول۔۔۔۔اپنے آخری ہتھیار کو استعمال میں لاتے ہوئے اگر میں نے تمھاری اس” نہ“ کو ”ہاں“ میں نہ بدلا۔۔۔ تو بدلے میں تم میری شناخت بدل ڈالنا۔۔۔۔“ ایک یقین کے ساتھ باور کرواتے ہوئے اسنے بے اختیار اسکا چہرہ جھٹکے سے چھوڑا۔
اس کی بات پر سنتی حاویہ کی انگارہ ہوتی نگاہیں تیزی سے بھیگتی چلی گئیں۔
”تو کیا۔۔۔؟؟؟اپنے اس آخری ہتھیار کی آڑ میں اب تم ایک کمزور عورت کی نسوانیت کو قدموں تلے روندو گے۔۔۔۔؟؟؟ذرہ بھر بھی شرم نہیں آئے گی تمھیں اس قدر بےغیرتی دکھاتے ہوئے۔۔۔۔؟؟؟“ بظاہرسلگ کر حقارت سے پوچھتے ہوئے ایک خوف کی شدید لہر اسکے وجود میں دوڑ گئی۔۔۔۔تو وہ کمینگی تلے بے ساختہ ہنس دیا۔
اس کی سفاک ہنسی پر حاویہ کی بھوری آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر تپتے رخساروں پر لڑھک آئے۔
”اس کے لیے تو ایک طویل عمر پڑی ہے جانم۔۔۔پر ابھی کے لیے میرا وہ مخصوص ہتھیار تمھاری اس سوچ سے ہٹ کر بالکل الگ قسم کا ہے۔۔۔دیکھنا چاہو گی۔۔۔۔؟؟؟“ دلچسپی سے اسکی ناسمجھی میں ڈھلتے نقوش دیکھتا وہ اگلے ہی پل اسکے سامنے سے اٹھا۔پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتا پلوں میں وہاں سے باہر نکلتا چلا گیا۔
پیچھے حاویہ کا نازک ترین دل اگلے لمحوں کی بابت سوچتا شدت سے ڈوبا تھا۔
ہنوز ہتھکڑی کے چنگل میں پھنسے۔۔۔جہاں متواتر ایک چئیر پر بےتحاشہ گھنٹے گزار کر اسکا انگ انگ تھکاوٹ سے چور ہوچکا تھا۔۔وہیں بختی کا لایا ہوا ناپسندیدہ کھانا اسکی بھوک مٹانے کو ناکافی ہوتا تھا۔
جانے اب کس ہتھیار کی بات کرکے گیا تھا وہ۔۔۔۔؟؟؟وہ نہیں جانتی تھی۔
بنا کسی امداد کے وہ بے بس سی۔۔۔ایک بےلگام مرد کے سامنے مزید کب تک ٹکنے والی تھی۔۔۔۔وہ یہ بھی نہیں جانتی تھی۔۔۔۔
ہاں البتہ اس بات کی آگاہی شدت سے تھی کہ اسکی اتنے وقت سے گمشدگی۔۔۔اسکی ماں کی حالت خراب کیے ہوئے تھی۔۔۔۔
وہ مزید ان اذیت دیتی سوچوں میں مزید گہرائی سے اترجانا چاہتی تھی جب بختی دروازہ کھول کر واپس آیا۔۔۔تو بھونکتی آواز حاویہ کی سماعتوں سے ٹکراتی اسے بری طرح ٹھٹک کر سامنے دیکھنے پر مجبور کرگئی۔
وہ ہاتھوں میں بھورے رنگ کتے کی رسی تھامے للکارتی نگاہوں سے اسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔۔پر حاویہ کی بےیقین نگاہیں تو اس جانور پر جم سی گئی تھیں۔۔۔جسے ساتھ لانے والا بھی کسی حیوان سے کم نہیں لگا تھا اسے۔
”ک۔۔کتا۔۔۔۔۔؟؟؟“ اپنی جانب دیکھ کر بھونکتے اس ہٹے کٹے کتے کی وہاں موجودگی کس سبب تھی۔۔؟؟سوچ کر ہی اسکے ہوش اڑے تھے۔
”تو کیسا لگا میرا آخری ہتھیار جانم۔۔۔۔؟؟پسند آیا۔۔۔۔؟؟؟ اسکی خوف سے پھٹی پھٹی آنکھوں میں دلچسپی سے دیکھتے ہوئے اس نے مسکاتی آواز میں پوچھا۔۔۔تو اگلے ہی پل اسے کتے کی رسی گھسیٹے ہوئے اپنی جانب بڑھتا دیکھ اسکا رنگ شدت سے پھیکا پڑا۔
”ن۔۔نہیں۔۔۔میرے قریب مت آؤ۔۔۔۔خدا کے لیے میرے قریب مت آؤ۔۔۔۔تم جانتے ہو مجھے فوبیا ہے۔۔۔۔۔۔“ لرزتی آواز میں شدت سے نفی میں سرہلاتی وہ بے اختیار اپنے دونوں پیر چئیر پر رکھتی سمیٹ گئی۔آنسو تواتر سے گالوں پر بہہ رہے تھے۔
”کیوں نہ آؤں قریب۔۔۔۔۔؟؟؟تم ایک بار میں میری کہی بات مانتی ہو۔۔۔جو اب میں تابعداری سے تمھاری مان لوں۔۔۔۔؟؟؟ہاں۔۔۔۔؟؟؟صرف ایک عدد نکاح کی ہی تو خواہش کی تھی تم سے۔۔۔۔۔“ ٹھیک دو قدم کے فاصلے پر رکتا وہ اسے سانسیں روکنے پر مجبور کرگیا۔اگر جو چئیر کے ہتھے سے بندھی ہتھکڑی نے۔۔۔اسکی دکھتی کلائی نہ جکڑی ہوتی تو وہ کب کی وہاں سے بھاگ جاتی۔
”بھبھو۔۔۔بھبھو۔۔۔۔۔“ معاً زور کا جھٹکا لگنے پر بھورے رنگ کا وہ کتا ذرا سا آگے کو ہوتا زوروں سے اس نازک جاں پر بھونکا۔۔۔تو وہ خوف سے چیختی ہوئی بھیگے چہرے پراپنا کپکپاتا ہوا ہاتھ جما گئی۔
اسکی یہ ادا دیکھ مقابل کی سفاک مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔
”ارے۔۔۔۔ابھی تو میں اس معصوم کو ٹھیک سے تمھارے قریب بھی نہیں لایا۔۔۔اور تم خوف سے اس قدر ہلکان ہوچکی ہو۔۔۔چہ چہ چہ۔۔۔سوچو اگر جو میں اسے تمھارے مزید قریب لے آؤں۔۔۔اتنے قریب کہ یہ تمھیں کاٹ کھائے۔۔۔تو۔۔۔۔؟؟؟“ بھڑکے ہوئے کتے کو ایک اور جھٹکا دے کر مزید قریب کرتا بختی سفاکیت کی آخری حد بھی پار کرگیا تھا۔
سر کو شدت سے جنبش دیتی حاویہ کے لیے یہ انتہا ہی تو تھی۔
”نہیں نہیں نہیں۔۔۔بختی بھائی نہیں۔۔۔۔خدا کے لیے نہیں۔۔۔یہ ظلم مت کریں مجھے پر۔۔۔۔دو۔۔۔دور کردیں اسے پلیز۔۔۔۔۔۔م۔۔میں مرجاااؤں گی۔۔۔۔آاا۔۔۔۔ااہ۔۔۔ہ۔۔۔۔۔“ تڑپ تڑپ کر اس سفاک انسان کے آگے منتیں کرتی حاویہ کا دل جہاں تقریباً بند ہوجانے کے قریب تھا۔۔۔وہیں دبے قدموں وہاں آتے عائل حسن کا دل بھی یہ ناقابل برداشت منظر دیکھ پل بھرکو ساکت پڑا تھا۔
اگلے ہی پل وہ سختی سے مٹھیاں بھینچتا سرعت سے اسکی جانب لپکا۔
”تو بولو پھر۔۔۔۔اس کو تم پر کھلے عام چھوڑ دوں یا پھر تم اپنی بےتکی ضد چھوڑنے کی ہامی بھرتی ہو۔۔۔۔؟؟ذیادہ مشکل کام نہیں ہے جانم۔۔۔بس جب مولوی تم سے تین بار قبول ہے پوچھے گا۔۔۔۔تو تمھیں بھی جواب میں۔۔۔۔۔۔“ بختی بےاختیار کتے کو پیچھے کرتے ہوئے اس پر جھکتا بول رہا تھا۔۔۔جب کسی نے اسے پیچھے کالر سے دبوچ کر اپنی طرف گھوماتے ساتھ ہی شدت بھرا مکا اس کے چہرے پر دے مارا۔
”دور رہو اس سے ذلیل انسان۔۔۔۔۔“ چیخ کر بولتا جہاں وہ فرش پر اوندھے منہ گرتے بختی کے چودہ طبق روشن کرگیا تھا وہیں حاویہ نے بگڑے تنفس کے ساتھ بے یقینی سے عائل کا سرخ ہوتا چہرہ دیکھا۔
دل شدتوں سے دھڑک اٹھا تھا۔
اس دوران کتا بھی اپنی رسی کے چھوٹتے ہی بھونکتا ہوا بےاختیار ادھ کھلے دروازے کی جانب بھاگ نکلا۔
”ع۔۔۔عائل۔۔۔۔۔۔۔“ اسے با وردی اپنے سامنے دیکھتی وہ کئی پلوں کے لیے ساکت رہی۔۔۔پھر لرزتے لہجے میں اسے پکارتی اگلے ہی پل بھبھبک بھبھک کر رودی تھی۔
وہ آگیا تھا۔۔۔
ہاں وہ اسکے پاس لوٹ آیا تھا۔۔۔۔
عائل نے بے تابانہ اسکا کمزور چہرہ اپنی نگاہوں میں بھرا۔۔۔پھر اسکی بکھری حالت کو دیکھتے ہوئے اذیت سے لب بھینچ لیے۔
بکھرے بال۔۔۔۔
بھیگے سہمے نقوش۔۔۔۔
سر سے اتر کر کندھوں پر پڑا بے ترتیب دوپٹہ۔۔۔۔
ہتھکڑی میں جکڑی سرخ کلائی۔۔۔
نڈھال سا وجود۔۔۔۔
یہ سب کچھ اسکا سینے پھڑپھڑاتا دل مٹھی میں جکڑلینے کو کافی تھا۔
اس دوران نتھنے سے پھوٹتے خون کو بے دردی سے صاف کرتا بختی ہمت کرکے واپس اپنے قدموں پر کھڑا ہوچکا تھا۔
عمیر۔۔۔۔
مولوی۔۔۔۔
گواہوں اور لال چنڑی کی جگہ۔۔۔۔اپنے مقابل اے۔ایس۔پی عائل حسن کو دیکھ حقیقتاً بختی کی ساری طراری بےیقینی تلے ہوا ہو چکی تھی۔
”ت۔۔تم یہاں۔۔۔۔کیسے آئے۔۔۔۔؟؟
عمیر۔۔۔۔؟؟وہی۔۔۔وہی کمینہ تمھیں یہاں تک لایا ہے ناں۔۔۔؟؟
سالا۔۔۔گالی(##)۔۔۔۔دوستی کے نام پر دغا کرگیا میرے ساتھ۔۔۔۔زندہ نہیں چھوڑو گا میں اسے۔۔۔۔“ پلوں میں معاملے کی طے تک پہنچتا وہ عائل سمیت حاویہ کی توجہ اپنی جانب کرواگیا تھا۔
جواباً قہربار نظروں سے بختی کو دیکھتا وہ مٹھیاں بھینچ کر اسکی جانب بڑھا تو وہ بےساختہ اپنے قدم پیچھے لے گیا۔
”اوئےےےے اے۔ایس۔پی۔۔۔۔اگر تجھے یہ لگتا ہے۔۔۔ کہ میں تیرے دو ٹکے کے رعب اور اس سرکاری طاقت کے آگے زیر ہوکر اپنی محبت سے قدم پیچھے ہٹالوں گا۔۔۔تو یہ تیری بہت بڑی بھول ہے۔۔۔میں اپنے ارادوں پر تیرے۔۔۔۔۔“ انگلی اٹھا کر بظاہر سخت لہجے میں اسے دھمکاتا وہ بول رہا تھا جب عائل ضبط کی کڑی طنابیں چھوڑتا آندھی طوفان کی طرح اس پر جھپٹا تھا۔
”میری محبت کو اپنی محبت کا نام دے کر رسوا کرنے کی ہمت بھی کیسے ہوئی تیری۔۔۔۔۔اغواء کرکے کتوں کے سہارے۔۔۔۔اس سے نکاح کرنا تو بہت۔۔۔۔بہت ہی دور کی بات ہے۔۔۔۔۔“ اشتعال میں پاگل ہوتا وہ اسے پے در پے تھپڑ مکوں سے نواز رہا تھا۔
اپنا بچاؤ کرنے کی ناکام کوشش میں بختی کو حواس باختہ دیکھ حاویہ نے بے دردی سے اپنا نچلا لب کچلا۔اسکا ہرکھوکھلا وار خالی جا رہا تھا۔
”چھوڑ مجھے۔۔۔سالے۔۔۔۔تجھے تو میں آج زندہ نہیں چھوڑوں گا۔۔۔تو دیکھ اب۔۔۔۔۔“ پوری قوت سے اسے دھکا دے کر اپنا آپ چھڑواتا وہ عائل کے ہاتھوں اپنا گریبان چاک کروا گیا۔
پھر بھاگ کر فاصلے پر پڑی چئیر اٹھاتے ہوئے اپنی جانب لپکتے عائل کو دے ماری۔
عاااائل۔۔۔۔۔؟؟“ اسے چوڑے کندھے پر چئیر کی گہری ضرب کھاتے دیکھ گہرے سانس بھرتی حاویہ چیخ کر پکارتی شدت سے فکرمند ہوئی تھی۔
چئیر زمین بوس ہونے پر جہاں عائل نے سختی سے لب بھینچ کر درد کو سہنے کی کوشش کی تھی۔۔۔وہیں بختی کے زخمی لب مسکرائے۔
تبھی باہر بجتے تیز سائرن نے مزید پولیس کی آمد کا صاف اشارہ دیا تھا۔
عائل دانت پیستا بختی کی جانب پلٹا تو بختی کی سماعتوں میں شدت سے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔
”ہونہہ۔۔۔بس اتنا ہی دم تھا تم میں بختیار عرف بختی۔۔۔۔۔؟؟“ اسکی طرف لپکتا عائل۔۔۔اسکے وہاں سے بھاگنے سے پہلے ہی قدرے پھرتی اسے اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔
”ایک کمزور لڑکی کو کھوکھلی محبت کے نام پر ہراساں کرنے کا جرم۔۔۔۔“ بھاری ہاتھ کا شدید تھپڑ درد برداشت کرتے بختی کو زمین بوس ہونے پر مجبور کرگیا۔
”اسے اغواء کرکے پاس رکھنے کا سب سے بڑا جرم۔۔۔۔۔“ وہ پھولے سانسوں کے ساتھ پھنکارتا ہوا اسے ایک ایک حماقت گنوا رہا تھا۔۔۔سر پر ٹھیک سے دوپٹہ لیتی حاویہ نے اگلے ہی پل رخسار پر بہتے آنسوؤں کو صاف کیا۔
”اور باوردی پولیس والے پر ہاتھ اٹھانے کا جرم الگ۔۔۔۔۔ان سب کے بعد تو تمھارا مستقیل ٹھکانہ صرف اور صرف سلاخوں کے پیچھے ہی ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔“ ٹھوکروں کی زد میں آتے بختی کی طراری۔۔۔عاشقی۔۔۔ضد اور غصہ سب جھاگ کی مانند بیٹھ چکا تھا۔
ایسے میں اپنے چنگل میں پھنسے عمیر کو پولیس کے حوالے کرکے وہاں آتا باسط۔۔۔۔تمسخر اڑاتی نگاہوں سے بختی کی درگت بنتے دیکھ وہیں رک گیا۔
نڈھال سا ہوتا وہ اپنا دفاع بھی ٹھیک سے نہیں کرپارہا تھا۔
جبکہ اسکا اس قدر جلالی روپ دیکھ حاویہ کا دم گھٹنے لگا۔
اگلے ہی پل اپنا ہاتھ روکتا وہ اسکے سیاہ کرتے کی جیب سے ہتھکڑی کی مطلوبہ چابی نکال چکا تھا۔پھر قدرے حقارت سے پیچھے ہٹا۔
”اگر مجھ پر ایک خاص حد عائد نہ ہوتی تو اس وقت میں تمھیں اپنی گولیوں ک سامنے رکھ کر اڑانے میں ذرہ برابر بھی دیر نہیں کرتا۔۔۔۔باسط۔۔۔۔“ سیاہ کف سے سرخ چہرے پر آیا پسینہ صاف کرتا وہ اگلے ہی پل باسط کی طرف پلٹا۔
”یس سر۔۔۔۔؟؟؟“ اسکے تندہی سے بلانے پر وہ شدت سے محتاط ہوتا چوکنا ہوا۔
”اس سے پہلے کہ میں اپنی یہ آخری حد بھی بھول جاؤں۔۔۔گھسیٹتے ہوئے لے جاؤ اسے یہاں سے۔۔۔اور پھینکو گاڑی میں۔۔۔۔۔۔“ سختی سے آرڈر دیتے ہوئے عائل کی پیشانی پر رگیں صاف ابھر آئی تھیں۔
”یس سر۔۔۔۔۔۔“ جواباً سلوٹ کرتا باسط پھرتی سے ہنوز زمین پر گرے پڑے نیم بےہوش بختی کی جانب لپکا۔پھر اسے
کرتے کے پھٹے گریبان سے اسے پکڑکر اٹھاتا تقریباً گھسیٹتے ہوئے وہاں سے لے کر نکلتا چلا گیا۔
عائل کندھے میں اٹھتی درد کو نظرانداز کرتا حاویہ کی طرف پلٹا۔اسے اپنی جانب آتا دیکھ اس کا دل شدتوں سے دھڑکا۔
”تم ٹھیک ہو۔۔۔۔؟؟؟“ اسکے مقابل گھٹنوں کے بل بیٹھتا وہ قدرے بے تابی سے گویا ہوا۔۔۔تو بھیگی نگاہوں سے براہِ راست اسکی سیاہ آنکھوں میں جھانکتی وہ سسکی روکنے کو اپنا نچلا لب دانتوں تلے کچل گئی۔
پھر شدومد سے نفی میں سرہلاگئی۔
عائل کا دل مچلا۔
”پہلے نہیں تھی۔۔۔۔پر اب ہوں۔۔۔۔“ وہ بھرائی آواز میں بولی تو۔۔۔وہ اسکے تسلی کروانے کے اس انداز پر دھیرے سے اپنا ہاتھ اسکے نم ہوتے گال پر رکھ گیا۔
مقابل کی بےاختیاری پر۔۔۔۔نرم پوروں کا لمس محسوس کرتی حاویہ کی بھیگی پلکیں پل بھر کو کانپ گئیں۔
عائل کی بے تاب نگاہیں شدت سے اسکے سانولے نقوش ازبر کررہی تھیں۔
”جھوٹی محبت کی آڑ میں حرمین زہرا کی عزت کی دھچیاں بکھرنے والا ایک لٹیرا ہے تمھارا بھائی۔۔۔۔دنیا بھر میں اس کے وجود کی سرعام تشہیر کرنے والا بےغیرت ترین انسان ہے وہ۔۔۔۔قاتل۔۔۔۔“ انگوٹھے تلے نرمی سے اسکے لڑھکتے آنسو پونچھتے ہوئے۔۔۔۔معاً عائل کے ذہن میں تلخ لفظوں کی گونج بکھرتی چلی گئی۔۔۔تو چونک کر وہ اگلے ہی پل اپنا ہاتھ جھٹکے سے پیچھے ہٹا گیا۔
حاویہ بھی اسکے گریز کو صاف محسوس کرتی پل بھر کو چونکی تھی۔۔۔جو بے وجہ ہی اس سے نگاہیں چراتا اب مطلوبہ چابی ہتھکڑی کے چھوٹے سے لاک میں پھنسا چکا تھا۔
”جب تمھیں اچھے سے یہ بات معلوم ہے کہ۔۔۔تم فوبیا جیسے شدید ترین مرض میں مبتلا ہو۔۔۔تو پھر کیوں خود کے پیچھے ہمیشہ بھونکتے ہوئے کتے لگواتی ہو۔۔۔۔؟؟کبھی دو ٹانگوں والے۔۔۔تو کبھی چار ٹانگوں والے۔۔۔ہہمم۔۔۔۔؟؟؟“ ہتھکڑی کھول کر پڑے پھینکتے ہوئے وہ سوالوں میں قدرے گہرا طنز کرگیا تو۔۔۔بےاختیار اپنی دکھتی کلائی کو مسلتی وہ بھیگی نگاہوں سے اسکے تنے نقوش دیکھنے لگی۔
”م۔۔میں شوق سے نہیں لگواتی۔۔۔وہ سب خود ہی جانتے بوجھتے میرے پیچھے لگ جاتے ہیں۔۔۔۔“ ہاتھ کی پشت سے اپنا نم گال رگڑتی وہ خفگی سےتقریبا ًمنمنائی۔۔۔جواباً وہ انگارہ ہوتی نظروں سے اسکی جانب دیکھنے پر مجبور ہوا۔
”جانتے بوجھتے۔۔۔۔؟؟؟سریسلی۔۔۔۔؟؟محترمہ جب جب انھیں تمھاری صورت میں خود کی جانب راغب کرواتی ہڈی بآسانی دکھائی دیتی ہے ناں۔۔۔تب تب وہ تمھارے پیچھے لپکتے ہیں۔۔۔ورنہ بے مقصد کوئی پیچھے نہیں لگتا۔۔۔۔۔“ اسکی شدت سے دل کو بھاتی معصومیت کو سرے سے فراموش کرتا اب کہ وہ اسکی لاعلمی پر خاصا تپ کر بولا تھا۔
”آپ مجھ پر الزام لگارہے ہیں۔۔۔۔۔۔؟؟؟“ حیرت سے پوچھتی وہ دبا دبا سا چیخی تو بے ساختہ سرخ ہوتے چہرے پر ہاتھ پھیرتا وہ اسکے پاس سے اٹھ کر رخ پلٹ گیا۔
”الزام نہیں لگا رہا بالکل بھی۔۔۔۔تمھیں فقط تمھاری بےوقوفیوں کا احساس دلانے کی ایک ناکام سی کوشش کررہا ہوں۔۔۔یہی اگر تم مجھے وقت رہتے اس ذلیل انسان کے حوالے سے ایک ایک بات بتا دیتی تو نوبت کبھی بھی اس حد تک نہیں آتی۔۔۔جہاں آج آچکی ہے۔۔۔۔۔“ مٹھیاں بھینچتا وہ قدرے ضبط سے چبا چبا کر گویا ہوا تو اسکی بات سنتی وہ بھی ایک بار پھر سے دوپٹہ ٹھیک کرتی اسکی تقلید میں کھڑی ہوگئی۔
”بہت شوق ہے ناں تمھیں مجھ سے اپنا آپ چھپا کر رکھنے کا۔۔۔ہوگئے سارےشوق پورے۔۔۔؟؟؟ہہمم۔۔۔۔؟؟یا پھر ابھی بھی پیچھے کچھ باقی ہیں۔۔۔۔۔؟؟؟“ یکدم پلٹ کر بگڑے تیوروں سے پوچھتا وہ اسکا بازو دبوچ چکا تھا۔
کتنا پوچھا تھا اس نے۔۔۔پر وہ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
”میں اسکی دھمکیوں سے ڈرتی تھی۔۔۔۔“ اپنی حیرت دباتی حاویہ نے بھیگی نگاہیں پھیرتے ہوئے دھیرے سے لب کشائی کی۔۔۔۔تو اپنا آپ کنٹرول کرنے کو وہ گہرا سانس بھرکے رہ گیا۔
”اور جو خوف مجھے لاحق ہوا۔۔۔اسکا کچھ اندازہ ہے تمھیں۔۔۔۔؟؟؟اگر آج تمھیں کچھ ہو جاتا تو۔۔۔۔“ اب کہ گرفت کے ساتھ ساتھ عائل خود کا لہجہ بھی خاصا نرم کرگیا تھا۔۔۔جب پیشانی پر صاف تیوری چڑھاتی حاویہ نے تندہی سے اسکی سیاہ آنکھوں میں جھانکا۔
”تو ہو جاتا۔۔۔۔ہو جاتا عائل صاحب۔۔۔۔آپ کو کیوں اتنا فرق پڑ رہا ہے۔۔۔۔؟؟؟“ تڑخ کر بولتی ہوئی جھٹکے سے اپنا بازو چھڑواتی وہ اسے اپنے رنگ بدلتے تیوروں سے حیران ہی تو کرگئی تھی۔
”خود کی زندگی سے بذاتِ خود دھتکارنے والا شخص اب کس حیثیت سے میری اس قدر ذیادہ پرواہ کر رہا ہے۔۔۔۔؟؟؟یہ جھوٹا دکھاوا کیوں۔۔۔۔؟؟؟آخر کیوں۔۔۔۔؟؟؟“ جتانے والے انداز میں سوال پر سوال پوچھتی وہ اسے برداشت کی حدوں کو چھونے پر مجبور کررہی تھی۔
”ہاں کر رہا ہوں پرواہ۔۔۔۔جانتی ہو کیوں۔۔۔۔؟؟کیونکہ جس قدر کھڑی میری پرواہ ہے ناں اسی قدر کھوکھلے تمھارے یہ خدشے ہیں۔۔۔جذبات میں بولے گئے میرے چند لفظوں کو اپنی نفرت کا ذریعہ مت بناؤ حاویہ۔۔۔۔۔۔“ وہ سختی سے تنبیہہ کرتا آخر میں متاسف ہوا تو اس کی صاف گوئی پر حاویہ کا دل عجیب سا ہونے لگا۔
پر اسکے لیے شاہ میر حسن کا معاملہ یونہی جھٹلادینے والا تو ہرگز نہیں تھا۔۔۔۔
”مگر مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔جانتے ہیں کیوں۔۔۔؟؟کیونکہ میری اس نفرت کے لیےآپکے بھائی کا کیا گیا جرم بہت مضبوط جواز ہے عائل صاحب۔۔۔۔۔“ اسی کے انداز میں بولتی وہ قدرے بے حسی سے گویا ہوئی۔
اس سمے اسے صاف بغاوت پر اترتا دیکھ عائل کا دماغ اب کہ خراب ہونے لگا۔
”میرا پہلے سے ہی خراب دماغ اب تم اپنی اس بےتکی بحث سے مزید خراب کر رہی ہو حاویہ۔۔۔۔۔“ بھنویں سکیڑ کر بولتا وہ گویا وارنگ دے رہا تھا۔۔۔۔پر وہ مرعوب ہوتی تب ناں۔۔۔
”میں۔۔۔؟؟؟“ تمسخر اڑاتی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھتی وہ نفی میں سر ہلاگئی۔
”درحقیقت ایک سفاک مجرم پر کیے جانے والے اندھے اعتماد نے آپکا دماغ خراب کردیا ہے۔۔۔۔“ سلگ کر بات پوری کرتی وہ اسکا ضبط ہی تو توڑ گئی تھی۔
”تم۔۔۔؟؟؟تم کافی سے بھی ذیادہ باغی ہو چکی ہو۔۔۔۔بس بہت ہوا۔۔۔۔اب چلو یہاں سے۔۔۔۔چلو۔۔۔۔۔“ معاً درشتگی سے اسکی کلائی پکڑتا وہ اسے گودام سے باہر لے کر نکلتا چلاگیا۔۔۔اور وہ بھی بنا کسی مزاحمت کے ان وحشتوں سے دور اسکے سنگ کھنچتی چلی گئی۔۔۔۔۔مچلتے دل کی دھڑکنیں اب سکون میں تھیں۔۔۔۔
