No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
”خود تو مر کھپ گئی۔۔۔؟؟
لیکن جاتے جاتے ہمارے کندھوں پر بدنامی کا بھاری بھرکم بوجھ لاد گئی آپکی چہیتی بہن۔۔۔۔“
سلگتے الفاظ سماعتوں میں گھلتے گویا ان کا پورا وجود ہی سلگا گئے تھے۔۔۔
پر جواب میں پڑنے والا زناٹے دارتھپڑ عائمہ بیگم کو انکی گستاخی کا احساس دلانے کو کافی تھا۔
”اپنی بکواس بند کرو جاہل عورت۔۔۔
اب اگر اس بارے ایک لفظ مزید بولا تو زبان گدی سے کھینچنے میں۔۔میں بالکل بھی گریز نہیں برتوں گا۔۔۔
یاد رکھنا۔۔۔۔۔“
کچھ دیر پہلے خود کی۔۔۔کی گئی بدسلوکی پر انھیں ہنوز کوئی شرمندگی۔۔۔کوئی ملال نہیں تھا۔
اسٹڈی روم میں چھایا سکوت ہنوز برقرار تھا جب ذہن میں کھلبلی مچاتی تلخ سوچوں نے یکدم پلٹا کھایا۔
”بھ۔۔۔بھااائی۔۔۔
رحم کریں۔۔۔
سگی بہن ہوں میں آپکی۔۔۔
خود سے منسلک خونی رشتوں کو لے کر کوئی اس قدر ظالم کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔؟؟“
اپنے محبوب کی نیم مردہ لاش پر بلک کر ہاتھ جوڑتی وہ بےاختیار بند آنکھوں کے سیاہ پردے پر ابھری تو حسن صاحب کا تنفس مارے ضبط کے گہرا ہونے لگا۔
تاریک رات میں رونما ہوئے یہ ان وحشت زدہ خیالات کا مجموعہ تھا جسے سوچنے سے وہ خود بھی کتراتے تھے۔
سب سے پوشیدہ۔۔۔فقط خود کی ذات تک محدود وحشت زدہ خیالات۔۔۔۔
”لعنت ہے ایسی بہن پر۔۔۔
ایک بار چھوڑ کے ہزار بار لعنت ہے جو خاندانی عزتوں کو سرعام اچھالنے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔۔۔۔“
خود کی ہی چنگھاڑتی آواز اس پل انھیں کسی بھی صورت رحم کھانے کے درپے نہیں لگ رہی تھی۔
”محبت کی ہے بھائی اور ہرصورت نبھائی بھی ہے۔۔۔
کوئی جرم نہیں کیا جسکی سزا دینے کو آپ یوں مرنے مارنے پر اتر آئے ہیں۔۔۔۔“
اس بار کرخت آواز میں سرکشی صاف گھلی تھی جو مقابل کے غصے کو آخری حد تک ہوا دینے کا سبب بنی تھی۔
”ایسی خود غرض محبت پر میں قتل کو ترجیج دینا ذیادہ پسند کروں گا۔۔۔۔
سو ایسے میں خود سے منسلک خونی رشتوں کے لیے بھی رحم کی قطعی کوئی گنجائش نہیں نکلتی میرے پاس۔۔۔۔“
اسٹڈی روم میں داخل ہوتے عائل کے قدموں کی چاپ سے کہیں ذیادہ۔۔۔انھیں آبادی سے قدرے دور سنسان جگہ پر چلتی گولی کی گونج صاف سنائی دی تھی۔
”ہاااا۔۔۔ہ۔۔۔۔“
ضبط کی کڑی ٹوٹتے ہی جہاں حسن صاحب نے گھبرا کر اپنی بند آنکھیں کھولی تھیں وہیں عائل کچھ حیرت سے انکی کشادہ پیشانی پر آیا پسینہ دیکھ کر فکر مند سا ہوا۔
ایسے جانلیوا سوچوں کی زد سے باہر نکلنے کے فوری بعد ایک باوردی پولیس آفیسر کو مقابل دیکھنا درحقیقیت چونکا دینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔۔۔
سو ایسے میں حسن صاحب کی پیشانی کا عرق آلود ہونا ایک بےساختہ ردِعمل تھا۔
”ڈیڈ۔۔۔طبیعت ٹھیک ہے آپ کی۔۔۔۔؟؟“
”ہ۔۔ہاں ٹھیک ہوں میں۔۔۔
پرتم۔۔۔؟؟
تم کب آئے یہاں۔۔۔۔؟؟“
پسینہ صاف کرتے ہوئے۔۔۔فوری طورسنبھل کرحسن صاحب کی طرف سے سوال کے جواب میں سوال داغا گیا تو جواباً عائل بھی مطمئن سا ہوتا اثبات میں سر ہلا گیا۔
”بس ابھی ہی آیا ہوں۔۔۔۔
دراصل مجھے آپ سے ایک بہت ضروری معاملے پر بات کرنی تھی ڈیڈ۔۔۔۔
مزید انتظار نہیں کرسکا سو اسی لیے ڈیوٹی پر جانے سے پہلے سیدھا آپ کے پاس چلا آیا۔۔۔۔“
مضبوط ہتھیلیوں کو آپس مسلتا وہ صاف گوئی سے بولا۔۔تو ذرا کی ذرا تیوری چڑھاتے حسن صاحب کو بےاختیار تجسس سا ہوا۔
”کیابات ہے۔۔۔؟؟؟پریشان لگ رہے ہو۔۔۔کسی بڑے کیس کو لے کر کوئی مسئلہ تو نہیں چل رہا ہے۔۔۔۔؟؟؟“ اندازاً بولتے ہوئے وہ عائل کو دھیرے سے مسکرانے پر مجبور کرگئے۔
”کیس کا نہیں۔۔۔نکاح کا مسئلہ ہے ڈیڈ۔۔۔۔“
بنا لگی پٹی رکھے وہ خاکی رنگ جیبوں میں ہاتھ پھنساتا سنجیدگی سے گویا ہوا تو وہ بھی بیٹھے سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
”نکاح۔۔۔۔؟؟؟“
اسکے مضبوط لہجے پر حسن صاحب نے کچھ حیرت سے اسکی جانب دیکھا جو صبح ہی صبح کسی کیس کی بجائے غیرمتوقع طور پر اپنے مستقبل کو زیرِبحث لائے ہوئے تھا۔
”بالکل ڈیڈ۔۔۔
میں جلد از جلد حاویہ فیضان سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
اب مزید صبرکا دامن تھامے رکھنا میرے اختیار سے تقریباً باہرہوچکا ہے۔۔سو منگنی رسموں کی فارمیلٹیز پوری کرنے پر وقت برباد نہیں کرسکتا۔۔۔“
قطیعت بھرے لہجے میں اپنے خیالات سے آگاہ کرتا وہ خود کے ساتھ ساتھ حسن صاحب کو بھی مزید سنجیدہ کرگیا تھا۔
”ایک مرد پولیس آفیسر ہونے کے باوجود تم لڑکی ذات کے لیے اس قدر حساس ہورہے ہو۔۔۔
آخر معاملہ کیا ہے۔۔۔۔؟؟“
سینہ تان کر پشت پر ہاتھ باندھتے ہوئے انکے اندر ناگواریت سی بھرتی چلی گئی۔
بھرتی بھی کیوں نہ۔۔۔
آخر کو انکا من پسند بیٹا عشق محبت کے معاملوں میں گہرا پھنسا تھا جسے وہ میل بھاؤ دینا بھی گوارا نہیں سمجھتے تھے۔
مگر اس معاملے میں وہ شام سے خاصے مطمئن تھے جو جانے انجانے میں انہی کی ڈگر پر چل رہا تھا۔
”معاملات جب حد سے باہر ہونے لگیں تو بہتر ہے کہ انھیں وقت رہتے یاں تو واپس حد میں کرلینا چاہیے۔۔۔
یاں پھر جڑ سے ہی ختم کردینا چاہیے۔۔۔
میں چونکہ اپنا معاملہ جڑ سے ختم کرنے کا متحمل قطعی نہیں ہوسکتا جبھی اسے وقت رہتے سنبھال لینا چاہتا ہوں۔۔۔
اور اس سب کے لیے مجھے آپکی رضا مندی کی خاصی ضرورت ہے ڈیڈ۔۔۔۔“
آدھی ادھوری بات کو پورے لفظوں میں سمیٹتا وہ۔۔۔مکمل اعتماد سے گویا ہوا تو حسن صاحب اسکی حاضر جوابی پر پل بھرکے لیے لب بھینچ گئے۔
اس پل وہ ہر صورت اپنی منوانے کے درپے تھا۔
”پرتمھاری ماں۔۔۔۔“
بظاہر سادگی میں وہ وہی سابقہ جواز پیش کرنا چاہ رہے تھے جب عائل بےچین سا ہوتا بیچ میں ہی ان کی بات کاٹ گیا۔
”موم کی اجازت کی فی الحال مجھے ضرورت نہیں ہے۔۔۔
انکی رضامندی حاصل کرتے کرتے بہت دیر ہوجائے گی۔۔۔
اور میں اس وقت دیری افورڈ کرنے کی حالت میں بالکل بھی نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔“
عائل کے عجلت بھرے لہجے نے حقیقتاً حسن صاحب کے ساتھ ساتھ تندہی سے وہاں سے گزرتی عائمہ بیگم کو بھی دوہرا چونکا دیا تھا۔۔
جبکہ وہ دورانِ گفتگو اپنی پیشانی پر چڑھتی مٹتی تیوریوں سے بھی انجان تھا۔
سو از حد سنجیدہ لہجے پر کیا غور و فکر کرتا۔۔۔۔؟؟
اسے ہنوز بغور تکتے ہوئے کچھ توقف لیتے حسن صاحب نے ایک گہرا سانس بھرا۔
اس دوران عائمہ بیگم ان دونوں باپ بیٹے کی نگاہوں سے اوجھل۔۔مٹھیاں بھینچتی وہیں دروازے پر رک گئیں۔
”تمھارے بقول اگر معمالات اس حد تک سنگین ہیں تو پھر ٹھیک ہے۔۔۔۔
میرا کانٹینیو پراجیکٹ فی الوقت اپنے آخری مراحل میں ہے۔۔۔
جو تقریباً کل تک مکمل بھی ہوجائے گا۔۔۔۔
اور اسی کے ساتھ میں تمھاری ماں کے ہمراہ انکے گھر باقاعدہ تمھارے نکاح کی بات کرنے جاؤں گا۔۔۔
تم بے فکر رہو۔۔۔۔“ اسکی تمام تر امیدوں پر کھڑا اترتے ہوئے حسن صاحب اسے شدت سے مسکرانے پر مجبور کرگئے۔
”یقین کیجیے ڈیڈ۔۔۔مجھے آپ سے اسی مثبت جواب کی امید تھی۔۔۔۔
انفیکٹ۔۔۔امید کیا پورا یقین تھا کہ آپ مجھے کبھی بھی مایوس نہیں ہونے دیں گے۔۔۔
تھینکس۔۔۔تھینکس آ لاٹ۔۔۔۔۔۔“
بنا ہچکچائے قدرے عقیدت سے آگے بڑھ کے حسن صاحب کے گلے لگتا وہ اپنے خوشگوار احساسات چھپا نہیں پایا تھا۔
مسرت تلے ھڑکتے دل میں۔۔حاویہ کی بابت نت نئے خوبصورت خیالات امڈنے لگے۔۔۔
تو جہاں دور کہیں قسمت نے اسکی وقت پر مدھر سا پر جب حسن صاحب اسکی چوڑی پشت پر دھمکی دیتے ہوئے اس سے الگ ہوئے۔
”خوش رہو میرے بچے۔۔۔۔
جہاں تک میرا دل و دماغ کہتا ہے۔۔۔خیر سے میں تو تمھارے معاملے میں اپنا فرض نبھا چکا ہوں۔۔۔
لیکن اب تمھیں بھی اپنا فرض نبھانے میں دیری نہیں کرنی چاہیے۔۔۔۔“
بظاہر شفقت سے بولتے وہ اسے لطیف سا چھیڑ گئے۔۔تو عائل انکی بات سمجھتا ہولے سے قہقہ لگائے بنا نہ رہ سکا۔
”جی بالکل ڈیڈ۔۔۔پولیس کی ڈیوٹی میری اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔۔
اینی وے۔۔چلتا ہوں اب۔۔۔۔
خدا حافظ۔۔۔۔“ عائمہ بیگم کی موجودگی سے ہنوز بے خبر۔۔۔وہ بالوں میں ہاتھ چلاتا ہوا ایک جاندار مسکراہٹ حسن صاحب کی جانب اچھال کر۔۔۔وہاں مزید رکا نہیں تھا۔۔۔
بلکہ قدرے عجلت میں دہلیز پھلانگ کر وہاں سے نکلتا اپنے پیٹھ پیچھے کھڑی عائمہ بیگم کو دیکھ نہیں پایا تھا۔
معاً خود پر سے ضبط کھوتی عائمہ بیگم۔۔۔ناراضگی کے باوجود بھی بے دھڑک اندر آتی ہوئی انھیں مخاطب کرگئیں۔
”حسن۔۔۔۔۔۔“
جواباً حسن صاحب نے پلٹ کر ان کی جانب بغور دیکھا جو۔۔۔خود کے رخساروں پر حد سے ذیادہ مصنوعی سرخائی بکھیرے ہوئے کچھ تلخی سے انہی کی جانب دیکھ رہی تھیں۔۔۔
گوکہ تھپڑ کی چھاپ چھپانے کی ایک ادنیٰ سی کوشش کی گئی تھی۔۔۔اور عائمہ بیگم کی ایسی ہی بروقت سمجھداریاں ان کے سفاک دل کو بھا جاتی تھیں۔
آپ نے اتنی آسانی سے کیسے عائل کی جذباتی خواہش پر ہامی بھرلی۔۔۔؟؟؟
جہاں تک مجھے علم ہے۔۔۔آپ تو اول روز سے ہی اس فیصلے کے خلاف تھے ناں۔۔۔؟؟
تو پھر ایکدم سے متفق کیوں ہوگئے۔۔۔؟؟؟“
سپاٹ لہجے میں پوچھتی وہ انکے اچانک بدلاؤ کی وجہ جاننے کو قدرے بےتاب دیکھائی دے رہی تھیں۔
”کیونکہ مجھے اسکی باتوں میں بغاوت کی بو صاف محسوس ہوئی تھی۔۔۔
اور جب شرافت میں بغاوت کا زہر گھلتا ہے ناں عائمہ بیگم تو وہ ایک ضدی پن انسان کی ضد سے بھی کہیں ذیادہ خطرناک روپ دھاڑن کرلیتا ہے۔۔۔“
قدم قدم چل کر انکے قریب آکر رکتے وہ سرسراتے لہجے میں گویا ہوئے تو اس دور اندیشی پر نفیسہ بیگم ضبط سے لب بھینچ کر رہ گئیں۔
اسٹڈی روم میں دو نفوس کی موجودگی کے باوجود بھی جہاں گہرے سکوت نے پھرسے اپنی جگہ سنبھالی تھی۔۔۔وہیں اندر ہی اندر ان دونوں کو آنے والے کل کی بابت بہت سی فکریں لاحق ہو چکی تھیں۔
انداز البتہ ایک تھا پر افکار کے پہلو ایک دوسرے سے قدرے الگ الگ تھے۔۔۔۔
اس نے دھیرے سے خمار آلود آنکھیں کھولنے پر بےاختیار اطراف میں دیکھا۔۔۔
تو نفیسہ بیگم کو کمرے میں کہیں نہ پاکر اٹھ کر بیٹھ گئی۔
معاً واشروم میں کھلتے نل سے بہتا پانی۔۔۔پل میں اسکے اندر اطمینان سا بکھیرگیا۔
اسکے برعکس دل کی دھڑکنیں جانے کیوں ان لمحوں ایک غیرمعمولی سی بےچین کیفیت کا شکار ہوئی تھیں۔۔۔
اگلے ہی پل بکھرے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹ کر جوڑا بناتی وہ بیڈ سے اتری۔
جہاں حاویہ کے ہاتھوں ہونے والی تیمانداری کے سبب نفیسہ بیگم کی طبیعت میں کافی حد تک سدھار آیا تھا وہیں وہ گزشتہ دو روز سے حرمین سے ہمکلام نہیں ہوئی تھی۔
اور نہ ہی حرمین کی جانب سے اس شدید برہمی کو دوبارہ سے توڑنے کوشش کی گئی۔
خود اسکے ساتھ بھی نفیسہ بیگم کا رویہ کچھ کھینچا کھینچا سا ہی تھا۔
سر جھٹک کرسرمئی رنگ چپل پہنتے ہوئے اس نے ان تلخ سوچوں سے جان چھڑوانے کی ایک ناکام سی کوشش کی تھی۔
گہری نیند سے جاگنے کے سبب ذہن ہنوز بھاری سا ہورہا تھا۔
ایسے میں ادھ کھلی کھڑکی سے چھن کرکے اندر آتی سورج کی نکھری نکھری سی کرنیں کافی حد تک صبح کے چڑھ آنے کا صاف پتا دے رہی تھیں۔
پے در پے رونما ہونے والےسنگین حالات کے زیرِاثر کل کی طرح آج بھی اس کا کالج جانا کاقطعی کوئی ارادہ نہیں تھا۔
دوپٹہ اچھے سے کندھوں پر پھیلالینے کے بعد حاویہ چہرے پر ہاتھ پھیرتی کمرے کی دہلیز پھلانگ گئی۔
ارادہ تو فی الحال کچن میں جاکر نفیسہ بیگم کے ساتھ ساتھ اس بار حرمین کے لیے بھی چائےسمیت۔۔۔ہلکا پھلکا ناشتہ بنانے کا تھا
پر اس سے پہلے وہ اپنی جسمانی الجھن دور کرنے کو ایک بار واشروم جاکر فریش ہوجانا چاہتی تھی۔
سو خود کے نقوش سپاٹ بناتی اپنے مشترکہ روم کی جانب بڑھی۔
دروازہ کھول کر بےدھڑک اندر آتی حاویہ اپنی ہنوز برہمی کے سبب۔۔۔حرمین زہرا کو مکمل طور پر نظرانداز کردینا چاہتی تھی۔۔۔
مگر سامنے پلنگ کے قریب پڑا بےسدھ وجود گویا اسکے ہوش اڑا دینے کو کافی تھا۔
پھیلتی نگاہوں میں شدت سے در آنے والی تشویش۔۔اسکے ٹھٹک کر رکتے وجود میں بےچینیاں سی بھرتی چلی گئی۔
”اپیہ۔۔۔۔؟؟؟“
اگلے ہی پل پھرتی سے بھاگ کر اسکی جانب لپکتی حاویہ۔۔۔کی ساری ناراضگی بھک سے اڑی تھی۔
”ا۔۔اپیہ۔۔۔
ک۔۔کیا ہوا ہے آپکو۔۔۔؟؟؟“ اسکے پاس جھکتے اسکا دل شدتِ بےسکونی سے دھڑکا۔۔۔
مگر نازک کندھا جھنجھوڑنے پر بھی بے جان وجود میں کوئی اطمینان بخش حرکت نہیں ہوئی تھی۔
”پ۔۔پانی۔۔۔۔
ہاں۔۔۔پانی۔۔پانی کہاں ہے۔۔۔۔؟؟؟“
حرمین زہرا کے سانسوں سے محروم وجود پر صاف بے ہوشی کا گمان کرتی وہ اگلے ہی پل بوکھلا کر اٹھی۔۔
اور پلوں میں سائیڈ ٹیبل سے پانی کا ادھ بھرا جگ اٹھا کر اسکی طرف واپس پلٹی۔
آنسو ٹوٹ کر گالوں پر لڑھکے تھے۔
”ہوش میں آئیں ایپہ۔۔۔پلیزہوش میں آئیں۔۔۔۔“
بےتابانہ اسکے فق چہرے پر پانی کا چھڑکاؤ کرتے ہوئے آواز کے ساتھ ساتھ اب کہ اسکا پورا وجود بھی لرزنے لگا تھا۔۔۔
پر پانی تلے بھیگتی بند آنکھوں کی سیاہ پلکیں ہنوز ساکت تھیں۔
بے اختیار حاویہ کے رونگھٹے کھڑے ہوئے۔
”اپیہ خدا کا واسطہ ہے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔
آپکا یہ بدترین مذاق اب کہ میری جان نکالنے کے درپے ہے۔۔۔بچپنا مت دیکھائیں۔۔۔
م۔۔محض مذاق۔۔مذاق ہی کررہی ہیں ناں آپ میرے ساتھ۔۔۔؟؟“
اسکی مری مری رنگت سے بمشکل بھیگی نگاہیں چراتی وہ شدت سے ملتجی ہوئی۔
سینے میں چلتی سانسیں اس جانلیوا صورتحال پر رکنے سی لگی تھیں۔
پر حرمین زہرا تو کسی بھی التجاء کو سننے کے قابل نہیں تھی۔۔۔
کجا کہ عمل کرنا۔۔۔۔
دل چیڑتے خدشوں کو ٹالنے کی غرض سے۔۔۔
اگلے ہی پل جگ کو ایک طرف رکھتے ہوئے اسکی کانپتی انگلیوں نے بڑی ہمت سے اسکی ساکت نبض کو۔۔۔شدت سے ٹٹولا تھا۔
نتیجتاً اسے لگا جیسے وہ اگلا سانس نہیں لے پائے گی۔
”نن۔۔۔نہیں۔۔۔“
حقیقت سے ہنوز انکاری ہوتی اب کہ حاویہ نے ایک آخری کوشش کے تحت شہادت کی انگلی اسکی ناک کے قریب کی۔
آنسو تواتر سے تپتے رخساروں کو بھگوتے چلے جارہے تھے۔
آنکھوں دیکھی جانلیوا صورتحال کے باوجود بھی یقین کرنا مشکل ترین ہو تو تھا۔
ایک سیکنڈ۔۔۔
دو سیکنڈز۔۔۔۔
تین سیکنڈز۔۔۔۔
اور پھر کئی سیکنڈز۔۔۔۔۔
پر۔۔۔۔پر یہ کیا۔۔۔؟؟؟
نتھنوں سے پھوٹتی سانسیں ہنوز ندارد تھیں۔
وحشتوں تلےگھٹا گھٹا سا چیختی وہ ایکدم سے تڑپ کر پیچھے ہٹی۔
”نن۔۔نہیں۔۔نہیں نہیں۔۔۔“
ج۔۔جھوٹ۔۔۔۔جھوٹ ہے یہ۔۔۔
بالکل جھوٹ ہے۔۔۔بھلا میری اپیہ ایسے کیسے مجھے چھوڑ کر جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔؟؟؟“
فرش پر سختی سے ہتھیلیاں ٹکائے وہ شدت سے نفی میں سر ہلاتی سسک ہی تو پڑی تھی۔
مقابل۔۔۔ریزہ ریزہ بکھری حقیقت پر یقین تیزی سے اندر تک اتر گیا تھا پر کرنے کا انداز اب بھی نہیں آرہا تھا۔
حرمین زہرا کی مردہ حالت اس پل قابلِ رحم تھی۔۔۔۔
قابلِ رحم ترین تھی۔۔۔۔
سسکیاں بھرتی حاویہ کا تنفس پل پل اسکا تنفس بگڑ رہا تھا۔
معاً حاویہ کی سرخائی گھلی دھندلائی نگاہوں نے گھبراہٹ میں تب سے پہلی بار فاصلے پر ٹوٹے موبائل کے قریب پڑی شیشی کو بغور دیکھا تھا۔۔جس میں فقط ایک دو ہی سلیپنگ پلز باقی بچی تھیں۔
بمشکل چند پل لگے تھے اسے نتیجے تک پہنچنے میں۔۔۔اگلے ہی لمحے دل و دماغ میں شدت سے ابھرتا یک لفظی سوال اسکی اذیت مزید بڑھا گیا۔
”خودکشی۔۔۔۔؟؟“
حرمین کے چہرے پر واپس بے یقین نگاہیں جماتی وہ خود بھی جیسے بے جان ہوئی تھی۔
اور پھر۔۔۔
اگلے ہی پل حاویہ کے نم حلق سے پھوٹتی تلخ چیخیں بےساختہ تھیں۔۔
بے تحاشہ تھیں۔۔۔
”تم غازان چودھری سے بات کرلینا وہ تمھیں گوداموں کی ساری معلو۔۔ما۔۔ا۔۔۔۔۔“
سیڑھیوں کے آخری دو زینے سست روی سے پھلانگتا۔۔۔وہ کال پر بات کرتے ہوئے حویلی کی وسیع چھت پر آیا تھا۔۔
جب اچانک سماعتوں میں گھلتی نسوانی چیخ نے اسے چونک کر سامنے دیکھنے پر مجبور کردیا۔
تقریباً دس سے پندرہ قدموں کے فاصلے پر حلیمہ کا ٹھنڈے ٹھار فرش پر بیٹھ کر ٹخنے کو شدت سے مسلنا۔۔۔سالار خان کو حالات کی سنگینی کا پتا دے گیا۔
اس دوران بدقسمتی سے کام کرتی ہوئی ایک بھی ملازمہ اسے وہاں دکھائی نہیں دی تھی۔
بے اختیار کال کاٹ کر اپنا موبائل کرتے کی جیب میں گھساتا ہوا وہ تیزی سے اسکی جانب لپکا۔
ایسے میں حلیمہ نے ٹھٹک کر اسے اپنی طرف آتا دیکھا تو دھیرے سے بھیگتی پلکیں جھپکائیں۔
قابلِ برداشت تکلیف پر پھڑپھڑاتا دل اس پل شدتوں سے دھڑکا تھا۔
”تم۔۔۔؟؟
تم ٹھیک ہو۔۔۔۔؟؟؟“
بنا ہچکچائے گھٹنوں کے بل اسکے سامنے بیٹھتا۔۔۔وہ براہ راست اسکی نگاہوں میں جھانک کر پوچھ رہا تھا۔
جب سر کو نفی میں ہلاتی وہ بےاختیار روہانسی ہوئی۔
”میرا پ۔۔پیر مڑگیاہے خان۔۔۔۔“
ٹخنے کو نرم ہتھیلی تلے دباتی حلیمہ نے۔۔۔قدرے تحمل سے جواب دیا۔
اپنے لب بھینچتا وہ اگلے ہی پل اسکے ہاتھ پیچھے ہٹاگیا۔
پھر نامحسوس انداز میں پوروں کا لمس چھوڑتے ہوئے اس نے بغور اسکے پیر کا متاثرہ حصہ دیکھا جہاں اب دھیرے دھیرے سوجن واضح سی ہونے لگی تھی۔
حلیمہ نے بکھرتی دھڑکنوں پر نچلا لب دانتوں تلے کچلا۔
مقابل کی تیوری بھی دلچسپ تھی۔
اس پل فکر میں گھلتا سالار بلاشبہ اس کے کھلے بالوں کو بھی فراموش کرگیا تھا جو اس قدرے حسین بنانے کا سبب بن رہے تھے۔
”تو کیا اب تم عقل سے اس قدر پیدل ہوچکی ہو کہ دیکھ کر چلنا بھی تمھارے لیے دشوار کن ہے۔۔۔؟؟؟
ہر شے میں خرابیاں سہی پر کم از کم ٹھیک سے چلنے پھرنے پر تو دھیان دے ہی سکتی ہو تم۔۔۔۔“
ہاتھ پیچھے ہٹاتے سالار کو اپنی کرخت آواز میں صاف غصہ محسوس ہوا تھا۔
جبکہ اسکی تلخ لب کشائی پر حلیمہ کے چہرے کی رنگت پل میں بدلی۔
”مانتی ہوں۔۔ میں دھیان نہیں دے پائی۔۔۔
پر اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے خان۔۔۔کہ میں نے آپکا دھیان پانے کی غرض سے یہ سب جان بوجھ کر کیا ہے۔۔۔۔“
جانے کیوں پیر میں اٹھتی ٹیسوں سے کہیں ذیادہ۔۔۔وہ اس پل مقابل کے تلخ لہجے پر دل برداشتہ ہوئی تھی۔۔۔
جبھی بھیگی آواز میں کہتی اگلے ہی پل خود سے اٹھنے کی جرات کرگئی۔
”آاا۔۔۔ااہ۔۔ہ۔۔۔۔اماں۔۔۔۔“
داہنے پیر پر دباؤ پڑتے ہی وہ کراہتی ہوئی واپس زمین بوس ہونے کو تھی جب سرعت سے آگے بڑھ کر تھامتا وہ اسے مضبوط سہارا دے گیا۔
حلیمہ کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر نرم گالوں پر لڑھکے۔
”اب اتنا بھی ظالم نہیں ہوں کہ جانتے بوجھتے ظلم کرنے پر اتر آؤں۔۔۔
بلاوجہ کی ہٹ دھڑمی دکھاؤ گی تو اپنا ہی نقصان کروگی۔۔۔“
سرد ترین لہجے میں حقیقت باور کرواتا وہ اگلے ہی پل بڑی سہولت سے اسکا نازک وجود اپنے مضبوط بازوؤں میں بھر چکا تھا۔
سالار خان کی اس اچانک۔۔۔غیرمتوقع عنایت پر حلیمہ۔۔۔اسکے چوڑے کندھوں پر بازوؤں کا نرم حصار بناتی بے ساختگی میں اپنا سانس روک گئی۔
جوکہ مقابل سے مخفی نہیں رہا تھا۔
پل بھر کے لیے ایک بے تاثر سی بھرپور نگاہ اسکے نم چہرے پر ڈالتا وہ سیڑھیوں کی طرف پلٹا۔
حلیمہ حیران سی اسکے سپاٹ نقوش تکنے لگی۔
زوروں سے دھڑکتے دل کی دھڑکنیں حد سے سوا ہورہی تھیں۔
”آپ ظاہر نہیں کرتے خان۔۔۔
پر میں جانتی ہوں کہ آپکے دل میں کہیں نہ کہیں میرے لیے پرواہ کے جذبات شدت سے پنپتے ہیں۔۔۔“
اسکے کندھوں پر اپنی پکڑ مزید مضبوط کرتی وہ گہری۔۔ نرم آواز میں بولی۔۔۔
تو اسکی بات پر وہ واپس نگاہیں جھکا کر اسکی جانب دیکھنے پر مجبور ہوا۔
”خوش فہمیاں لاعلاج ہوا کرتی ہیں جوکہ میری ذات کو لے کرتمھیں بڑی شدت سے لاحق ہیں۔۔۔۔۔“
شہدرنگ نگاہوں میں گھلے نم خمار کو تندہی سے جھانکتا وہ سرد مہری سے گویا ہوا۔
حلیمہ کے لبوں کو نرم سی مسکراہٹ چھوگئی تو وہ تنفر سے سر جھٹک کر نظروں کا زوایہ بدل گیا۔
”تو پھر مجھے اذیت میں دیکھ کر ان آنکھوں میں مچلتی تڑپ کیسی۔۔۔؟؟؟“
یک ٹک اسکے وجہہ نقوش بہت قریب سے ازبرکرتی وہ حقیقتاً اسے زچ کرنے پر آئی تھی۔
نیچے اترنے کو پہلی سیڑھی پر قدم دھرتا اب کہ وہ اسکی لو دیتی نگاہوں سمیت اس بےتکے استفسار سے سخت بےزار ہوا تھا۔
”ہونہہ۔۔۔۔
جیسے تم تڑپ کا نام دے رہی ہو وہ فقط ایک عام احساس سے بڑھ کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔
اور انسانیت کے ناطے یہ احساس کسی کے لیے بھی جاگ سکتا ہے۔۔۔
چاہے پھر وہ حویلی میں کام کرتی ایک کم ذات ملازمہ ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔“
برجستہ جواب دیتا وہ اسے نئی اذیت کی گہرائیوں میں۔۔۔دھکیلنے میں قدرے کامیاب ٹھہرا تھا۔
”تو کیا اس احساس کو جتانے کی خاطرآپ میری جگہ ایک عام ملازمہ کو بھی یونہی تڑپ کر بانہوں میں سمیٹ لیتے۔۔۔۔۔؟؟؟“
وہ جانتی تھی کہ مقابل ہر دوسرے تیسرے پر ایسی عنایات کرنے کا عادی ہرگز نہیں ہے پھر بھی پیر میں وقفے وقفے سے اٹھتی ٹیسوں پر ضبط کرتی اس سے پوچھ رہی تھی۔
سالار خان نے آدھی سیڑھیاں احتیاطاً ا ترتے ہوئے شدتِ ضبط سے لب بھینچے۔نگاہوں میں غصے کی سرخی گھلی تھی۔
”میں تمھارا کوئی شاگرد نہیں ہوں جو تمھارے ہربے تکے سوال کا فرفر سے جواب دیتا چلا جاؤں گا۔۔۔۔
اگر نہیں چاہتی کہ بیچ سیڑھیوں میں پھینک کر چلا جاؤں تو اپنی زبان کو فی الحال کے لیے اندر رکھو۔۔۔۔“
اسکی جانب دیکھتے ہوئے چبا چبا کر بولتا وہ اسے اچھا خاصہ جھاڑ گیا۔۔۔
تو جواب میں اب کی بار وہ بھی اسکے رعب تلے دب سی گئی۔۔۔کلون کی دل دھڑکاتی مہک ہنوز شدت سے محسوس ہورہی تھی۔
ایسے میں وہاں سے گزرتی ملازمہ نے رک کر۔۔۔بڑی حیرت سے اپنی چھوٹی بی بی کو سالار خان کی بانہوں میں سمٹے دیکھا تھا۔
اگر جو اس فرحت بخش نظارے کو خنساء بیگم دیکھ لیتیں تو یقیناً شدت سے خوش فہمیوں میں گھر جاتی۔۔۔۔
اور ایسا وبال وہ ہرگز نہیں پالنا چاہتا تھا۔۔۔
جبھی ملازمہ کی حیرت کو سرے سے نظرانداز کرتا آخری سیڑھی بھی اتر کراپنی چال میں بےاختیار تیزی لایا۔پھر اپنے مشترکہ کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
”تو یعنی خان جی نے حلیمہ بی بی کو دل سے قبول کرلیا ہے۔۔۔۔
اس کا مطلب۔۔۔۔
اب وہ اپنی من پسند رقاصہ کو حقیقی معنوں میں بھلا چکے ہیں۔۔۔۔“
منہ میں بڑبڑاتی ہوئی ملازمہ یونہی سوچوں میں گھلتی کچن کی طرف پلٹ گئی۔۔۔۔
ڈھلتی شام میں۔۔۔یہ کراچی کی بہترین جمز میں ایک جم ”شیڈو فٹ نیس“ کا منظر تھا۔۔۔
جہاں وہ چند ایک مخصوص ایکسراسائز کرنے کے نتیجے میں آئے پسینے کو۔۔۔اب بیٹھ کر اپنے کسرتی بازؤں سے باری باری پونچھ رہا تھا۔
انداز میں صاف سستی تھی۔
اور اس کی وجہ نگاہوں کے ٹھیک سامنے ٹریڈمل مشین پر نارمل انداز میں بھاگتی وہ اجنبی لڑکی تھی۔۔۔جو چست جننز اور ٹائٹ بلیو ٹاپ میں اس سمیت بہت سوں کی توجہ اپنی جانب کھینچنے کا سبب بنی تھی۔
معاً شام کی بھوری نگاہوں کے ارتکاز کو۔۔اسکے اپنے ہی موبائل کی بے وقت چنگھاڑتی آواز نے توڑا۔۔۔
تو کچھ چونک کر بدمزہ ہوتا وہ پلوں میں موبائل ہاتھ میں تھام کر اس نسوانی حسن سے اپنی توجہ ہٹاگیا۔
”افروز کالنگ۔۔۔۔“
اسکرین پر بےتاثر نگاہیں جماتے شام نے گہرا سانس بھرا۔۔۔
پھر ناچا ہتے ہوئے بھی اسکی کال اٹھا گیا۔
”ہیلو۔۔۔۔۔۔“
بے زار سے لہجے میں پوچھتا وہ بہت پہلے ہی منی ٹاول کو پہلو میں پھینک چکا تھا۔
اس دوران کمینی چمک ابھارتی نظروں کا واپس اس انجان لڑکی کی جانب پلٹنا بے ساختہ تھا جو اب تھکی تھکی سی مشین آف کرتی نیچے اترنے کو تھی۔
”شام۔۔۔۔
وہ۔۔ح۔۔حرمین۔۔۔۔“
اسپیکر سے ابھرتی افروز کی آواز پریشان کن تھی۔
جبکہ سماعتوں میں گھلتا اس لڑکی کا دل جلاتا نام۔۔۔تیز روشنیوں تلے چمکتی شام کی پیشانی پر تیوری چڑھانے کا سبب بنا۔
”کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟؟“
اسکے گھگھیائے لہجے پر وہ ناچاہتے ہوئے بھی کچھ محتاط ہوا۔
دوسری طرف افروز نے اصلیت بتانے کو بے اختیار لبوں پر زبان پھیری۔
”کل رات۔۔۔۔۔
حرمین زہرا کی موت واقع ہوگئی ہے۔۔۔۔
شی از نو مور۔۔۔۔
سن رہا ہے ناں تُو۔۔۔؟؟؟اب وہ لڑکی مزید اس دنیا میں نہیں رہی یار۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
حرمین کی بابت۔۔۔اپنی طرف سے شام کے سر پر بھرپور دھماکہ کرتا وہ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا۔۔۔تو جواب میں اسکی تیوری پل میں سمٹی۔
اس دوران لب غیرسنجیدہ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔
”ہہہمم۔۔۔۔انٹرسٹنگ۔۔۔۔“
اسکے بچگانہ مذاق پر شام نے بےاختیار اپنی سائیڈ آتی سوہا نامی لڑکی کو دیکھتے بائیں آنکھ دبائی۔۔۔
تو جہاں وہ شام جیسے ہینڈسم بندے کی غیر متوقع حرکت پر چونکتی ناچاہتے ہوئے بھی سرخ ہوئی تھی۔۔۔
وہیں افروز اسکے لفظوں پر شدت سے چونکا۔
”اب اگر تیرا۔۔۔یہ بےتکا سا مذاق ہوگیا ہو تو میں فون رکھوں۔۔۔؟؟؟
فی الحال تو ایک بہت ضروری کام میں پھنسا ہوا ہوں۔۔۔سو تیری مزید بکواس سننے کا اس وقت بلکل بھی موڈ نہیں ہورہا میرا۔۔۔۔“
جان چھڑانے والے انداز میں بولتا اب کہ وہ افروز کی کال کاٹنے کو تھا۔۔۔جب یک لخت سماعتوں میں گھستی زہر خند آواز شام کی ساری شوخی کو بھک سے اڑا گئی۔
”ابےےےے سالے میں بکواس نہیں کررہا بالکل بھی۔۔۔
بلکہ سچ بتا رہا ہوں تجھے۔۔۔سچ۔۔۔۔
حرمین زہرا از رئیلی ڈیڈ ڈیمٹ۔۔۔۔۔“
قدرے بپھر کر چیختا وہ شام کو بدترین حالات کی سنگینی باور کروانے میں کافی حد تک کامیاب ٹھہرا تھا۔
اس دوران سوہا بھی اپنی اونچی پونی کو مزید کستی ذرا سے فاصلے پر الگ نشست سنبھال چکی تھی۔
بےاختیار شدید حیرت تلے کھڑے ہوتے شاہ میرحسن۔۔۔کا دل شدت سے ڈوبا۔
”واٹ ربش۔۔۔۔
جانتا بھی ہے تُو کیا کہہ رہا ہے۔۔۔؟؟؟
نہیں مطلب تجھے کس نے بتایا۔۔۔ہاں؟؟
ہ۔۔ہاؤ اٹ از پاسیبل۔۔۔۔؟؟؟“
اپنی کمزور ہوتی آواز پر بڑی مشکلوں سے قابو پاتا وہ پیشانی کو انگوٹھے تلے شدت سے مسلنے لگا۔
سنسناتے دماغ کے سبب نگاہوں میں سرخی سی ابھرنے لگی۔
پل میں یقین کرلینا دشوار ترین ہی تو تھا۔۔۔۔
جبکہ اسکی شوخی کو ایکدم سے بے سکونیوں میں بدلتا دیکھ اسی کی جانب تکتی سوہا کو حیرت ہوئی۔
”میری بھی ایسی ہی حالت تھی جیسے اس وقت تیری ہورہی ہے۔۔۔
مجبوراً ہی سہی پر یقین کرنا پڑا۔۔۔
کہنے کو تو سب یہی بول رہے ہیں کہ کل رات اچانک ہی اسے ہارٹ اٹیک آیا تھا۔۔۔
اس مختصر سے دورانیے میں اسے ہاسپٹل جانے کا بھی موقع نہیں مل پایا۔۔۔سو سیڈ۔۔۔۔“
افروز اپنے تنے اعصاب ایکدم سے ڈھیلے چھوڑتا اب کے چلتا ہوا صوفے کی جانب آیا۔انداز پُرتاسف تھا۔
ساری بات پریشانی میں سنتا شام عجلت میں کیز وائلٹ اٹھاتا اب کہ جم سے نکلنے کو پھرتی سے آگے بڑھا تھا۔
حرمین کی طبی موت کا سن کر مچلتی دھڑکنوں میں کہیں اطمینان بھی اترا تھا۔کم از کم اس کے سر کوئی بوجھ تو باقی نہیں رہا تھا۔
جبکہ اسے وہاں سے یوں چپ چاپ نکلتا دیکھ سوہا کے خوبصورت چہرے پر ناپسندیدگی کے تاثرات نمایاں ہوئے۔
”ویسے شام۔۔۔۔جس طرح سے سوشل میڈیا پر حرمین زہرا کی بدنامی کی دھوم مچی ہے ناں۔۔۔اور اب تک مچ رہی ہے۔۔۔۔
ہوسکتا ہے اسی بدنامی کو خاص جواز بناکر اس نے خودکشی کرلی ہو۔۔۔نہیں۔۔۔؟؟؟“
کچھ توقف سے سوچ سوچ کر بولتا افروز۔۔۔داخلی دروازے تک پہنچتے شام کو اپنے مضبوط اندازے سے آگ ہی تو لگا گیا تھا۔
”کیا۔۔۔؟؟کیا بکواس کیا کررہا ہے تُو سالے۔۔۔ہہمم۔۔۔؟؟
مطلب کیا ہے تیری اس گھٹیا بات کا۔۔۔؟؟؟
کہ اسکی موت کے پیچھے میرا ہاتھ ہے۔۔۔۔؟؟
میری وجہ سے حرمین نے سوسائیڈ۔۔۔۔اففف۔۔۔۔
دماغ تو سیٹ ہے تیرا خبطی انسان۔۔۔؟؟؟“
درشتگی سے گلاس ڈور دھکیل کر باہر نکلتا وہ قدرے بھڑک کر پوچھ رہا تھا۔
اس دوران اپنے مشاغل میں غرق دوسرے لوگ۔۔۔ذرا فاصلے پر کھڑے۔۔۔شام کے غصے کا بھرم رکھنے کے لیے کافی تھے۔
افروز اسکی بات کی گہرائی کوسمجھتا پل بھرکو بوکھلایا۔
”ا۔۔ارے نہیں یار۔۔۔۔تُو مجھے غلط سمجھ رہا ہے۔۔۔میں تو بس اپن۔۔ی۔۔۔۔“
وہ خود کی صفائی میں بولنا چاہ رہا تھا جب اپنی ہیوی بائیک کے پاس آکر رکتا۔۔۔وہ ابھری رگوں سمیت شہادت کی انگلی اٹھا کر قدرے ضبط سے گویا ہوا۔
”بات سن میری غور سے۔۔۔۔
اب تو میں تیری الزام تراشی بڑے جگڑے سے برداشت کرگیا ہوں۔۔۔
پر آئندہ اگر تُو نے یہ غلطی۔۔۔غلطی سے بھی کرنے کی کوشش کی ناں۔۔۔تو یقین جان افروز تیرا حشر بگاڑ نے میں مجھے بالکل بھی وقت نہیں لگے گا۔۔۔
میرے اثر و رسوخ سے بھی خوب واقفیت ہے تیری۔۔۔۔
سمجھ رہا ہے ناں جو میں کہنا چاہ رہا ہوں۔۔۔ہہمم۔۔۔۔؟؟“
سلگتے ہوئے تنبیہی انداز میں سمجھاتا وہ اسے کھلم کھلی وارنگ دے رہا تھا۔
اسکی صاف دھمکی۔۔۔افروز کو سختی سے مٹھی بھینچنے پر مجبور کرگئی۔
”ہوں۔۔۔اچھے طریقے سے جانتا ہوں سب کچھ۔۔۔۔“ بےتاثر لہجے میں بولتا وہ مقابل کے غرور کو مزید ہوا دے گیا۔
موجودہ حالاتوں کے سبب ان دونوں کے بیچ کئی تلخیاں پنپنے لگی تھیں جس کی شام کو تو قطعاً کوئی پرواہ نہیں تھی۔۔۔پر افروز جیسے حساس بندے کے وجود میں نئے سرے سے نفرت کو ابھارنے کا کام بخوبی کر رہی تھیں۔
پر اسے فی الحال کے لیے صلح پسندی سے کام لینا تھا۔۔۔جو کہ وہ خود پر بڑی مشکلوں سے ضبط کرتا بخوبی لے بھی رہا تھا۔
”گڈ۔۔۔۔
اور میری ایک بات اچھے سے اپنے اس ناکارہ دماغ میں بیٹھا لے اب۔۔۔
حرمین زہرا اپنی فطری موت آپ مری ہے۔۔۔
خودکشی یا قتل جیسے عمل سے اسکا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔۔۔۔“
بات کرتے ہوئے شام نے بے اختیار موبائل گھوماکر دوسری طرف لگایا۔
”اور رہی بات بدنامی کی تو جب بھگتنے والی ذات ہی زندہ نہیں رہی تو ذلالت جیسا لفظ اسکے لیے بےمعنی ہے۔۔۔۔“
صاف قصوروار ہوتے ہوئے بھی وہ ہر لحاظ سے اپنے آپ کو بَری الذمہ ٹھہراتا اب کہ بڑے سکون سے بول رہا تھا۔
افروز اسکی طمانیت کو محسوس کرتا بےبسی تلے گہرا سانس بھرگیا۔
”ٹھیک کہہ رہا ہے تُو۔۔۔
اینی وے آرہا ہے ناں اب۔۔۔
آفٹرل آل گزرے وقت میں تیری گرلفرینڈ رہ چکی ہے وہ۔۔۔
ایسے میں افسوس کرنا تو لازمی سی بات ہے۔۔۔۔“ شام کے لیے نئی سوچوں کے در وا کرتا وہ اسکی فوری ہاں کا منتظر تھا۔
”ہہہممم۔۔۔کوئی مناسب سا وقت دیکھ کر جاؤں گا وہاں۔۔۔چل اب فون رکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔“ گردن کی پشت کو مسلتے ہوئے وہ کچھ توقف سے بولا۔
اس پل ذہن میں بیک وقت کئی سوچیں چل رہی تھیں۔
”اوکے پھر۔۔۔۔خدا حافظ۔۔۔۔“ افروز نرم لہجے میں گویا ہوا تو سر اثبات میں ہلاتا اگلے ہی پل وہ کال کاٹ گیا۔
پھر منہ پر ہاتھ پھیرتا بےاختیار سیاہ تار کول پر جلتی نگاہیں جما گیا۔
”آپ کو مجھ میں کیا اچھا لگا۔۔۔؟؟؟
یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں۔۔۔
میں بالکل بھی خوبصورت نہیں ہوں۔۔۔۔“ اپنی ذات کے بارے میں اس سے پوچھتی وہ اُس پل کتنی ڈگمگائی ہوئی سی لگ رہی تھی۔
”اگرتم خود کو میری نظرسے دیکھو تو اپنے آپ کو اِس دنیا کی سب سے حسین ترین لڑکی تصور کرو۔۔۔۔
اور بلاشبہ یہ سچ میرے نزدیک سب سے بڑی حقیقت کا درجہ رکھتا ہے۔۔۔“
سراسر جھوٹ پر مبنی خود کا جواب یاد آنے پر وہ بے ساختہ آنکھیں موند گیا۔
”ت۔۔تو یہ کہ۔۔۔میں یہ چاہ رہی ہوں۔۔۔۔
ان کے آنے سے پہلے آپ اپنے پیرنٹس کو لے کر میرے گھر آئیں۔۔۔
ماما سے اپنے اور میرے نکاح کی بات کریں۔۔۔مجھے پورا یقین ہے اسکے بعد۔۔۔“
ایک اور سرسراتی ہوئی نسوانی آواز اسکی سماعتوں میں گھلی۔
دل عجیب سی لے پر دھڑکنے لگا تھا۔
”شی از رئیلی ڈیڈ ڈیمٹ۔۔۔۔۔“
معاً افروز کی چنگھاڑتی ہوئی آواز آس پاس بکھرتی اسکے دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ گئی۔
اگلے ہی پل وہ کچھ گھبرا کر اپنی انگارہ ہوتی آنکھیں کھول گیا۔
”حرمین۔۔۔زہرا۔۔۔۔۔“
شام کے لب دھیرے سے پھڑپھڑائے تو ناچاہتے ہوئے بھی وہ ایک بےنام سے۔۔۔بوجھ کے گہرے احساس تلے پل بھرکو خائف سا ہوا۔۔۔
آسمان میں پل پل بکھرتی تاریکیاں اسکے وجود میں بھی سیاہیاں بھرتی چلی جا رہی تھیں۔
اگلے ہی لمحے اپنی تمام تر بے معنی سوچوں کو شدت سے جھٹکتا وہ واپس سے اپنی بے حس ذات میں سمٹا تھا۔
پھر قدرے پھرتی سے ہیوی بائیک پر بیٹھ کر۔۔۔اسے اسٹارٹ کرتا وہ لمحوں میں وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔
حلیمہ کو ہنوز کسرتی بازوؤں میں اٹھائے۔۔۔وہ کمرے میں داخل ہوکر فوری سے بیشتر بیڈ تک آیا۔۔۔
پھر بڑی نرمی سے اسے بیڈ کے ایک طرف بٹھایا۔
”تمھاری اوقات میرے اس بستر پر اپنا بسیرا جمانے کی ہرگز نہیں ہے۔۔۔
اس لیے اپنے سارے آرام سکون فقط سامنے پڑے اس صوفے تک محدود کرلینا۔۔۔
اب سے یہی تمھاری مستقیل آرام گاہ بنے گی۔۔۔
بالکل تمھاری اوقات کے برابر۔۔۔۔۔“
یک لخت سماعتوں میں اترتے زہرخند لہجے نے حلیمہ کو گداز بستر پر بیٹھنے سے شدت سے روکا۔۔۔
تو اس نے بےاختیار وہاں سے ہٹنے کی کوشش کی۔
”خان پلیز مجھے صوفے پر۔۔۔۔“
سپاٹ لہجے میں گزارش سمیٹتی وہ بولنا چاہ رہی تھی جب سالار خان اسکے ارادے بھانپتا۔۔۔سرعت سے اسکے اٹھنے کی کوشش کو ناکام بنا گیا۔
”بیٹھووو یہاں۔۔۔۔۔
اور صرف اتنا بتاؤ کہ اس وقت ذیادہ درد کہاں ہورہا ہے۔۔۔؟؟؟“
اسکے قریب بیٹھتا وہ بلاجھجک اسکے کومل پیر کو بڑی آسانی سے اپنی نرم گرفت میں لے چکا تھا۔
مقابل کی ایک کے بعد ایک عنایت کرتے چلے جانے پر حلیمہ کے دل کی دھڑکنیں شور مچاتی بکھرنے سی لگیں۔
”دل میں۔۔۔۔۔“
جواب۔۔قدرے بے خودی میں پنکھری لبوں سے پھسلا تو سالار خان نے کچھ تنفر سے بھنویں اچکا کر اسکی جانب دیکھا۔
”جب یہ دل بار بار حدود سے باہر پھلانگنے کی گستاخیاں کرے گا تو بدلے میں خوشگوار انجام کی توقع رکھنا فقط بےوقوفی ہوگی۔۔۔
مت بھولو کہ زبردستی کی شادیوں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔۔۔
دل کو اذیت ملتی ہے۔۔۔۔
اور بار بار ملتی ہے۔۔۔
تمھارے لیے بہتر یہی ہے کہ عشق میں مجھے ڈیفیٹ دینے کی ناکارہ کوششیں چھوڑ دو۔۔۔۔
اس سے تمھیں کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔۔۔۔کچھ بھی نہیں سوائے ایک پچھتاوے اور بےتحاشہ خسارے کے۔۔۔۔“
اسے اپنے سرد ترین لفظوں کے جال میں پوری طرح پھنساتا وہ اگلے ہی پل اسکے پیر کو زور کا جھٹکا دے چکا تھا۔
معاً حلیمہ کے حلق سے پھوٹتی درد بھری چیخ پورے کمرے میں بکھرتی چلی گئی۔
”آاا۔۔اا۔۔۔ہ۔۔۔خاااان۔۔۔۔“
بلبلاکر اسے پکارتے ہوئے کتنے ہی آنسو اس کے سرخی گھلے نرم گالوں پر پھسلے تھے۔
نرمی کے بعد اس قدر بےحسی کی توقع وہ مقابل سے ہرگز نہیں کر رہی تھی۔
اسے نم شکوہ کناں نگاہوں سے اپنی جانب تکتا پاکر سالار خان کے لبوں پر پل بھر کو مسکراہٹ سی بکھر گئی۔
”آگے سے دھیان رکھنا۔۔۔۔
ضروری نہیں کہ اگلی بار بھی میری ہی مدد تمھارے حصے میں آئے۔۔۔۔“
نگاہوں میں ابھرتے تمسخر کو دبائے بنا وہ مزید وہاں رکا نہیں تھا۔
اسے وہاں سے جاتا دیکھ حلیمہ کو شدت سے رونا آیا۔
معاً اسنے جذباتی پنے میں اپنے پیروں کو گھسیٹ کر بیڈ سے نیچے اتارا تھا۔
پر۔۔۔پر یہ کیا۔۔۔؟؟
وہ بری طرح چونکی۔
پاؤں میں اب وہ پہلے جیسا درد نہیں رہا تھا۔
متاثرہ حصے کو بے یقینی سے چھوتی وہ اگلے ہی پل پیر کو دائیں بائیں حرکت دینے لگی۔
بل نکل چکا تھا۔
بھیگی آنکھوں سمیت مسکراتے لب حلیمہ کو سالار خان کی مزید ایک نئی عنایت کا احساس دلاگئے۔
تو گویا درد کی آڑ میں وہ اسے حقیقی سکون دے گیا تھا۔
ہاں اسکا انداز منفرد تھا۔۔۔
پر حقیقتاً جانلیوا تھا۔۔۔۔
اس نے آہستگی سے اپنے آنسو صاف کیے۔
”مجھے اس دن کا شدت سے انتظار ہے خان جب آپ اپنی اس وقتی بے حسی کا چولا خود پر سے اتار پھینکیں گے۔۔۔۔
اور پھر انہی آنکھوں میں پرواہ کے ساتھ ساتھ جلتے۔۔۔محبت کے دیے قابل دید ہوں گے۔۔۔
جس پر فقط میرا حق ہوگا۔۔۔۔فقط حلیمہ سالار خان کا حق۔۔۔۔“
شدتوں سے دھڑکتے دل پر ضبط کیے بنا خود سے مخاطب ہوتی وہ ہر لحاظ سے پریقین ہوئی۔
اس قدر پریقین کہ۔۔۔۔دور کہیں قسمت اسکی خوش فہمیوں پر اداسی سے مسکرائی تھی…
💞💞💞💞💞💞
