Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

”ہم آپکو صاف صاف یہ بات بتائے دے رہے ہیں نفیسہ بہن۔۔۔ہمیں آپکی لڑکی اب کسی بھی صورت قبول نہیں ہے۔۔۔
پتا نہیں مزید کس کس کے ساتھ کیا کیا گل کھلائے ہوں گے اس لڑکی نے۔۔۔؟؟
آجکل کی بےفیض دنیا کا تو ویسے بھی کوئی اعتبار نہیں ہے۔۔۔۔“ سب کی موجودگی میں کچھ توقف لے کر بولتی فریدہ بیگم نے باقاعدہ ہاتھ نچایا۔۔تو جلتے دل پر ہتھیلی مسلتی نفیسہ بیگم کی آنکھوں میں نمی مزید بڑھی۔
منگنی کی مطلوبہ انگوٹھی واپس لے کر بھی انھیں کسی طور ٹھنڈ نہیں پڑ رہی تھی۔
کل تک۔۔نکاح بیاہ کرنے کو اتاؤلے ہونے والے وہ لوگ اب یوں گھر آکر ہر رشتہ انکار کی صورت ان کے منہ پر دے ماریں گے۔۔یہ تو کبھی انھوں نے وہم و گمان میں بھی نہیں سوچا تھا۔
مگر۔۔۔اب یہی حقیقت انکا سینہ نوچنے کے درپے ہورہی تھی۔
ایسے میں کچن کی دہلیز پر کنگ کھڑی حاویہ نے میز کی شفاف سطح پر فاصلے سے ہی نگاہیں دوڑائی تھیں جہاں بکھری۔۔وہ چندتصاویر نہیں بلکہ اسکی ماں کے کلیجے پر چلتی وہ آریاں تھیں کہ جسکے سبب وہ اپنی بیٹی کے حق میں رتی بھربھی احتجاج کرنے کے قابل نہیں رہی تھیں۔
معاً ماتھے پر تیوری چڑھائے ذباب نے خود پر قابو پانے کو گہرا طویل سانس بھرتے ہوئے اپنا رخ موڑا۔۔۔تو کچھ جھجک کر وہاں آتی حرمین کو دیکھ اسکا چہرہ مکمل سپاٹ ہوا۔
اسی کے عقب میں کھڑی اسکی چچا زاد ندا نے بھی حرمین کا نازک وجود بغور دیکھا تو نگاہوں میں اسکے لیے واضح تمسخر ابھرا۔
”ا۔۔اسلام علیکم۔۔۔۔“ نم حلق سے بمشکل قابلِ سماعت آواز نکالتی وہ ان لمحوں حیرت زدہ تھی۔
ذباب سمیت اسکے اپنوں کی یک لخت آمد نے اسے حقیقتاً الجھا دیا تھا۔۔۔
لیکن جواب میں وہاں موجود ہر نفوس جس انداز میں اسکی جانب دیکھ رہا تھا حرمین کا نڈھال دل کسی انہونی کے تحت شدت سے پھڑپھڑایا۔
غصہ۔۔۔۔
بے یقینی۔۔۔
ہمددردی۔۔۔
حقارت و تمسخر۔۔۔
بیک وقت سبھی کچھ تو محسوس ہوا تھا اسے ان چند لمحوں میں۔۔۔
”لوجی۔۔۔آگئی آپکی نیک پروین بچی۔۔۔۔“ طنز کا پہلا نشتر کمان سے بے دھڑک چھوڑا گیا تھا۔
”سہ پہر ڈھلے یقیناً اسی لڑکے سے مل کرآرہی ہوگی یہ محترمہ۔۔۔۔“ وہیں کھڑے کھڑے نخوت سے قیاس آرائی کرتی فریدہ بیگم حرمین کی گھبراہٹ ابھارنے میں کافی حد تک کامیاب ٹھہری تھیں۔
”ی۔۔یہ آپ کیا بول رہی ہیں آنٹی۔۔۔؟؟؟“ وہ جو خود کا ٹوٹا بکھرا وجود بمشکل سنبھالتی ہوئی جانتے بوجھتے دیر سے گھرلوٹ کرآئی تھی
ایک گھبرائی نگاہ۔۔۔اپنی جانب تکتی نفیسہ بیگم پر ڈالتی ناسمجھی سے بولی پھر سراسیمگی انداز میں اطراف میں پل بھر کو دیکھا۔
جبکہ اسکی ناسمجھی فریدہ بیگم کی کھولن مزید بڑھاگئی تھی۔۔۔
اگلے ہی پل وہ آگے بڑھ کے اسکے مقابل آئی تھیں۔
”وہی جو سچ ہے لڑکی۔۔۔
انسان چاہے جتنا مرضی چھپانے کی کوشش کرلے مگرعشق اور مشک دو ایسی چیزیں ہیں جو آسانی سے چھپائے نہیں چھپتی سو ہمارے سامنے بھی پوری طرح کھل کر ظاہر ہوگئیں۔۔۔“ وہ چٹخ کر بولیں۔
انکے اس قدر زہرخند لہجے پر حرمین کا دل بری طرح ڈوبا تھا۔
”یہ تو بھلا ہو میرے دیور کی بچی ندا کا۔۔۔جو رہتے وقت ہی تمھارے سارے کرتوت کھول کر ہمارے سامنے لے آئی۔۔۔ورنہ تو میرے بیٹے کی زندگی برباد کرنے میں تم ماں بیٹی نے کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی تھی۔۔۔۔“ سینے پر ہاتھ لپیٹ کر پیچھے کھڑی ندا کی طرف باقاعدہ اشارہ کرتی وہ مزید گویا ہوئیں تو کھلتی حقیقت پر حرمین سکتے کی کیفیت سے باہر نکلتی بے ساختہ سر کو نفی میں جنبش دے گئی۔
اس دوران لب بھینچے ذباب کی۔۔۔گھائل کرتی پرشکوہ نگاہیں ایک لمحے کے لیے بھی اسکے پھیکے چہرے سے پرے نہیں ہٹی تھیں۔
”آ۔۔۔آپکو ضرور کوئی بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔ا۔۔ایسا۔۔۔۔“ خشک لبوں پر زبان پھیرتی حرمین نے بےسود صفائی دینا چاہی
مگر لہجے کی صاف ہکلاہٹ تو جیسے اسکے جھوٹ کو شدت سے عیاں کرنے پر تلی تھی۔۔۔
ایکدم سے اپنا ضبط کھوتا ذباب میز پر پڑی تصاویر اٹھاتا اسکے مقابل آیا تھا۔۔۔
اس تلخی بڑھتے ماحول میں حاویہ کا دم ناخوشگوار احساسات سے گھٹنے لگا۔
”اچھا تو یہ ہماری غلط فہمی ہے۔۔ہاں۔۔؟؟؟“ پوچھتے ہوئے اسنے بےاختیار حرمین کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا تو اس نے سراسیما نگاہوں سے اسکے تنے نقوش ٹٹولے۔
”یہ۔۔۔یہ دیکھو۔۔۔ثبوت ہے ہمارے پاس تمھاری سب دغابازیوں کا۔۔۔۔“ تصاویر زبردستی اسکی ہتھیلی پر جماتے ہوئے اسکے تیور بالکل بھی نرم نہیں تھے۔
سب سے اوپر کی تصویر پر پڑتی حرمین کی سرسری نم نگاہیں بےاختیار کھٹکتی گہری ہوئی تھیں۔
”کیا اس سب کے باوجود بھی تم اتنی ہی دیدہ دلیری سے ہمارے سامنےجھوٹ بولو گی۔۔۔؟؟؟شرم آنی چاہیے تمھیں حرمین زہرا۔۔۔شرم آنی چاہیے ایسی شرمناک حرکتیں کرتے ہوئے۔۔۔۔“ معاملے کی سنگینی کا احساس دلانے کو وہ باآواز بلند گویا ہوا تو شام اور خود کی تصاویر کو ایک ایک کرکے دیکھتی حرمین کی سیاہ آنکھیں مزید بھیگتی چلی گئیں۔
”ی۔۔۔یہ۔۔۔۔؟؟؟“
وہ ان دونوں کی مختلف مقامات پر کافی فاصلے سے کھینچی گئی تصاویر تھیں۔
کہیں یونی کی سیڑھیوں پر بانہوں میں بانہیں ڈالے۔۔۔
توکہیں فارم ہاؤس کی پارٹی کے دوران ڈانس کرتے ہوئے۔۔۔
مزید کہیں ریس کی جگہ۔۔ہجوم سے قدرے پرے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے۔۔۔
اور اسی طرح کی مزید تصاویر جو اس اینگل سے کھینچی گئی تھیں کہ دیکھتے ہی قابل اعتراض معلوم ہوتی تھیں۔
گویا موجودہ معاملہ بنے بنائے رشتے کو توڑنے کے لیے کافی تھا۔
”حرمین زہرا۔۔۔۔“ اس دوران نفیسہ بیگم نے حرمین کا فق پڑتا چہرہ نہیں بلکہ اسکی آنکھوں سے چھلکتی شکست کو شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھا تھا۔
اور شاید اسی پل انھیں اپنا مطلوبہ جواب مل چکا تھا۔۔۔
جواب بھی ایسا وہ جو پور پور مخالفین کے حق میں تھا۔۔
ندا کے گلابی لبوں پر دبی دبی مسکراہٹ رینگنے لگی۔
حرمین کی بےبسی قابلِ دید ہی تو تھی۔
”پہلے تو میں محض اسے یونی کی ٹاپ سٹوڈنٹ کے حوالے سے ہی تھوڑا بہت پہچانتی تھی۔۔۔لیکن جب اتفاق سے مجھے تائی اماں کی ہونے والی بہو کو پکس میں دیکھنے کا موقع ملا تو میری حالت حقیقتاً دیکھنے لائق تھی۔۔۔۔“ سینے پر بازو لپیٹ کر بے جھجک معاملے میں کودتی اب کہ وہ بھی زہر اگلنے پر آئی۔۔۔تو حرمین نے دھندلائی نگاہیں اٹھاکر اسکے شاطر نقوش پہچاننا چاہے۔۔۔
بنا عینک کے آنکھوں تلے حلقے بڑی حد تک نمایاں ہورہے تھے۔
”پہلے صاف صاف بتانے کا ارادہ کیا پھر سوچا کیوں ناں زبانی بدمزگی پھیلانے کی بجائے سیدھا ثبوت ہی آپ سب کے سامنے پیش کردوں۔۔۔اور یہی سب سوچ کر میں اتنے وقت سے اس سمیت اسکے عاشق کی بارہا مقام پر تصاویر لیتی رہی۔۔۔تاکہ پیچھے حیلے بہانوں کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔۔۔اور اب دیکھیے۔۔حقیقت آپ سب کے سامنے ہے۔۔۔۔“ اپنے لہجے کو نرم رکھنے کی کوشش کیے بنا وہ حقارت سے بولتی چلی گئی۔
ذباب نے نفرت سے مٹھیاں بھینچی۔
حرمین کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گالوں پر پھسلے تھے۔
بلاشبہ مقابل کھڑی ندا الگ ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے کے باوجود بھی اسی کی یونی میں پڑھنے والی لڑکی تھی۔۔۔۔جو اپنی بے جا ہوشیاری کے سبب حرمین کی عزت اچھال کر اپنی چاہت کی راہ ہموار کرنے میں قدرے کامیاب ٹھہری تھی۔
جہاں نفیسہ بیگم نے تھکے سے انداز میں منہ پھیرا تھا وہیں حاویہ کی نم ہوتی آنکھوں میں ندا کے لیے شدید نفرت در آئی۔
”میں تمھاری بےجا اگنورینس کو ہمیشہ تمھاری فطری حیا اور جھجک سمجھ کر قبول کرتا رہا۔۔۔چاہنے کے باوجود بھی تمھیں کبھی خود سے ملنے پر فورس نہیں کیا۔۔۔۔لیکن جواب میں تم نے میری مخلصی۔۔میری شرافت کا کیا صلہ دیا حرمین۔۔۔؟؟؟منگیتر کے مقابل اپنے عاشق کو لے آئی۔۔۔؟؟؟“ اسکا دھیان واپس اپنی طرف بھٹکاتا اب کہ وہ اسے کرخت لفظوں کی مار۔۔مار رہا تھا۔
شدت توہین سے حرمین کے لیے براہ راست اسکی آنکھوں میں دیکھنا محال ہوا۔۔جبھی وہ بےبسی تلے نازک مٹھیاں بھینچتی سر جھکا گئی۔
”م۔۔میں پشیمان ہوں۔۔۔۔“
بڑی جرات سے اپنا جرم آپ قبول کرتی حرمین کے سیاہی مائل لب ہولے سے پھڑپھڑائے۔۔۔
تو اسکے اعتراف جرم پر تاسف سے سر ہلاتے ذباب کے لبوں پر ایک زخمی مسکراہٹ در آئی۔
”اب اس پشیمانی کا کوئی فائدہ نہیں ہے حرمین۔۔۔؟؟سب کچھ تو تم بہت پہلے ہی ختم کرچکی ہو۔۔۔“ مدھم سلگتے لہجے میں بولتے ہوئے اسنے پل بھر کا توقف لیا تھا۔
”جانتی ہو۔۔۔؟؟
تم وہ پہلی لڑکی تھی جسے میں نے پورے حق سے اپنے دل میں بسیرا کرنے کی اجازت دے رکھی تھی۔۔۔لیکن میں نہیں جانتا تھاکہ اس سادے معصوم چہرے کے پیچھے اتنی بڑی دھوکے باز چھپی بیٹھی ہے۔۔۔“ اس غیرمتوقع اعتراف پر کچھ حیرت سے سر اٹھا کر اسکی جانب تکتی حرمین کا دل شدتوں سے دھڑکا تھا پر مقابل کے لبوں سے پھسلتے الفاظ تو اسکی دھڑکنیں بند کروا دینے کے درپے تھے۔
”درحقیقت تم میری چاہت اور اس رشتے کے کبھی قابل تھی ہی نہیں حرمین زہرا۔۔۔سوائے اس ایک نفرت کے جس کا نظارہ اس وقت تم بخوبی کررہی ہو۔۔۔۔میں آج اور ابھی سے ہمارے درمیان طے پائے ہر رشتے کو توڑتا ہوں۔۔۔سنا تم نے۔۔۔۔سب ختم ہوا۔۔۔۔۔“ اپنے جذبات سمیت اندر دبی بھڑاس ایک ساتھ اس پر انڈیلتا وہ حد درجہ سفاک ہوا۔۔۔ تو جہاں کئی دل بےچین ہوتے ان لفظوں پر ڈوبے تھے وہیں ندا سمیت فریدہ بیگم کے لبوں پر پرسکون سی مسکراہٹ دوڑ گئی۔
انگوٹھی تو وہ پہلے ہی اتار کے وہیں کہیں رکھ چکا تھا۔اب پل میں اسے لفظوں کی قید سے بھی آزاد کرگیا تھا۔
حرمین کو لگا جیسے وہ ذلت کے بوجھ تلے ابھی زمین میں دھنس جائے گی۔
”خدارا ایسا تو مت کریں میرے ساتھ۔۔۔۔ایک دھتکار نے تو پہلے ہی کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔اب آپکی اس دھتکار کے بعد تو ویسے ہی جیتے جی مرجاؤں گی۔۔۔۔“ اذیت کی آخری حد کو پہنچتی حرمین حلق پھاڑ کر شدت سے چیخنا چاہتی تھی مگر اپنے سیاہ بختوں کے بوجھ تلے۔۔۔کوشش کے باوجود بھی اسکی آواز اندر ہی کہیں دب کے رہ گئی تھی۔
سو سسکی روکنے کو دانتوں تلے لب کچلتی نم پلکیں جھکاگئی۔
”دیکھا یہ ہوتی ہے اصل شرافت۔۔۔ورنہ تو آجکل کے جذباتی لڑکے اپنی منگ کی ایسی سیاہ کرتوتوں کے سبب چہرے پر تیزاب انڈیل کر نکل جاتے ہیں۔۔۔اور ایسوں کو پوچھنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔۔۔رب سوہنے کا لاکھ لاکھ شکر ہے جو ہم کوئی بڑا نقصان اٹھانے سے بچ گئے۔۔۔۔خیریہاں اب مزید رکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔۔۔چلو چلیں۔۔۔۔“ وہ عموماً میٹھی زبان بولنے والی۔۔آخری کڑوا وار کرتیں انھیں مزید ذلیل کرگئیں۔۔
جسے وہ تینوں ماں بیٹیاں شدت ضبط سے جانے کیسے سہہ گئی تھیں۔۔
جواباً اپنی ماں کی آگ لگاتی بات پر۔۔۔مٹھیاں بھینچ کر حرمین کے بھیگے چہرے پر شعلہ بار نگاہ ڈالتا ذباب اثبات میں سر ہلاگیا۔
وہ دونوں بنا وقت ضائع کیے اپنا آپ سنبھالتی باہرکو لپکیں تھیں جب انکی تقلید میں وہاں سے جاتا ذباب۔۔۔کچھ یاد آنے پر ایکدم سے پلٹا۔
”آنٹی۔۔۔۔“ اسکے سپاٹ انداز میں مخاطب کرنے پر نفیسہ بیگم نے چونک کر بےتاثر نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا۔تب تک فریدہ بیگم ندا کے ہمراہ دہلیز پھلانگ کر باہر جا چکی تھی۔
”میری سابقہ امانت تو آپ صحیح سے سنبھال نہیں پائیں لیکن اب اپنی چھوٹی بیٹی کو وقت رہتے ضرور سنبھال لیجیے گا۔۔۔۔اپنے ریسٹورنٹ میں محبت کے نام پر کھیلا جانے والا ایک نیا تماشہ دیکھ کر آرہا ہوں۔۔۔میرا خیال نہیں۔۔۔یقین ہے کہ یہ بھی اپنی بہن کی مانند اسی ڈگر پر چل پڑی ہے جہاں انجام پر۔۔۔ رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔۔۔۔“ کچھ حقارت سے تنبیہہ کرتا وہ مزید وہاں رکا نہیں تھا۔
ایسے میں جہاں حاویہ اس کے کھولتے لفظوں پر کنگ ہوئی تھی وہیں نفیسہ بیگم کا کمزور ہوتا دل مزید ڈوب گیا۔
جبکہ حرمین تو ان پلوں میں شفاف زمین کو غائب دماغی سے تکتی کچھ بھی سوچنے سمجھے کی حالت میں نہیں رہی تھی۔
معاً نفیسہ بیگم ہتھیلیوں پر زور ڈالتی اپنی جگہ سے اٹھیں پھر قدم قدم چلتی حرمین کے مقابل آئیں۔۔۔تو حرمین نے چونک کر انکی نم نگاہوں میں دیکھا۔
”تمھارے سیاہ بختوں کے سبب یہ رشتہ بھی ٹوٹ گیا حرمین۔۔۔تمھارے نصیبوں کی سیاہی تلے ہمارے غرور۔۔مان۔۔عزتیں سب کچلے گئے۔۔۔۔“ سلگتا مدھم لہجہ اسے خائف کرنے کو کافی تھا۔
”م۔۔میں ایسا نہیں۔۔۔۔۔“ اسکی بھیگتی آواز نفیسہ بیگم کی بڑھتی تلخی تلے پھر دبی۔
”مجھے کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑا تم نے۔۔۔“ اب کہ وہ چٹخنے لگی تھیں۔
”ا۔۔ایک بار میری بات تو سنیں پلیز۔۔۔۔“ حاویہ بھی اپنی حیرت پرے دھکیلتی انکی جانب آئی تھی جب بےساختہ نفیسہ بیگم کا اٹھتا ہاتھ اس سمیت حرمین کو سن کرگیا۔
”چٹاااخ۔۔۔۔۔۔“ گہری گونج نے پل بھر کو اطراف میں سکوت سا بکھیردیا تھا۔
کیا سنو میں تمھاری بات۔۔ہاں۔۔؟؟کیا سنوووو۔۔۔؟؟اب بھی سننے کو کچھ باقی رہ گیا ہے پیچھے۔۔۔؟؟؟ارے میں نے تو تمھیں ان اداروں میں عزت اور نیک نامی کمانے واسطے بھیجا تھا۔۔۔پر تم تو بدلے میں ذلت اور بدنامی کما کر آگئی حرمین۔۔۔“ اسے حق دق کھڑا دیکھ وہ اگلے ہی پل اسے بازو سے جھنجھوڑتی تقریباً چیخ رہی تھیں۔
آدھی ادھوری حقیقت جان کر یہ حالات تھے جو اگر مکمل سچ کھل کر سامنے آجاتا تو۔۔۔۔
رخسار کی جلن شدت سے محسوس کرتی حرمین کی ہچکیاں سی بندھ گئی۔
”مجھے یہی لگتا تھا کہ جب ماں مرجاتی ہے تو ایک باپ۔۔۔کبھی بھی ماں کی جگہ نہیں لے سکتا۔۔۔لیکن باپ کے مرنے پر ایک ماں۔۔باپ بننے کی صلاحیت ضرور رکھتی ہے۔۔۔
مگر آج اپنی خودسریوں کے سبب تم نے مجھے غلط ثابت کردیا حرمین۔۔۔
ثابت کردیا کہ ہر بیٹی کو حدود میں رکھنے کے لیے فقط ماں کا ہونا کافی نہیں ہوتا۔۔۔بلکہ باپ کے تحفظ تلے رہنا بھی انتہائی ضروری ہے۔۔۔۔“ بگڑتے تنفس کے ساتھ۔۔شدت سے اسے اسکی گستاخیوں کا احساس دلاتی وہ اپنی اولاد کے ساتھ ساتھ خود بھی ٹوٹ رہی تھیں۔
حرمین نے انکی جانب دیکھتے ہوئے شدت سےنفی میں سرہلایا۔
”ا۔۔اپنی کمتری کے سبب میں۔۔بھ۔۔بھٹک گئی تھی۔۔۔غلطی ہوگئی۔۔۔م۔۔معاف کردیں مجھے۔۔۔۔“ ہچکیوں کے درمیان ہاتھ جوڑ کر بولتی وہ مکمل ہاری ہوئی لگ رہی تھی۔
”ماما۔۔۔۔اپیہ کو بھی تو صفائی میں کچھ کہنے کا موقع دیں۔۔۔ایک بار ان کی بھی تو سنیے۔۔۔۔“ شام کے حوالے سے حرمین کی ہنوز چپی حاویہ کو تفشیش میں دھکیلتی بولنے پر مجبور کرگئی۔۔۔جب کنپٹیوں کی دکھن برداشت کرتی نفیسہ بیگم نے دونوں کو قہربار نظروں سے دیکھا پھر بنا کچھ کہے سنے برہم سی وہاں سے اپنے کمرے کی جانب لپکیں تھیں۔
پیچھےحرمین جہاں شکست خوردہ سی زمین پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھی تھی وہیں کسی شے کے گرنے کی آواز پر حاویہ نفیسہ بیگم کے کمرے کی طرف بھاگی۔۔۔۔


وہ ادکھلے دروازے کو دھاڑ سے پورا کھولتی اپنے کمرے میں آئی تھی۔
گہری سانسوں میں گھلتی اذیت نے اسکی حسین آنکھوں کو تیزی سے نم کیا تھا۔۔۔
ورنہ تو کچھ وقت پہلے حویلی میں۔۔اپنی ذات کے نام پہ لگنے والے الگ تماشے پر ضبط کرتی وہ بظاہر قدرے تحمل مزاج ثابت ہوئی تھی۔
مگر اب۔۔۔اب کیا ہوا تھا؟؟
تنہائی میسر آتے ہی بے حسی کے سارے پردے ایک ایک کرکے چاک ہوتے چلے گئے تھے۔۔
معاً اپنے پیچھے دروازے کے دونوں پٹ بند کرتی وہ اگلے ہی پل کمرے میں موجود قدآور آئینے کی جانب لپکی۔
دوپٹے سے بےنیاز بہکا دینے والا نازک سراپا آئینے میں دیکھتے ہی۔۔۔ ضبط کے دو آنسو رابی کے سرخ تپتے رخساروں پر لڑھکے تھے۔
اور پھر ایک پل لگا تھا اسے نم سلگتی نگاہوں کا زاویہ پھیرنے پر۔۔۔
نتیجتاً۔۔۔آئینے میں دکھائی دیتے بازو پر سے۔۔۔کافی حد تک پھٹا نارنجی رنگ ریشمی کپڑا خود کے ساتھ برتی جانے والی دست درازی کا واضح ثبوت دے رہا تھا۔
وجود میں پھیلتی بےسکونی اب کہ رابی کی دماغی نسوں کو جھنجھوڑنے پر آئی تھی۔۔۔
”تم عورت ذات ہوجبھی میں تمھارا لحاظ کرگیا۔۔ورنہ اس تھپڑ کے جواب میں تمھیں تمھاری دوٹکے کی اوقات کے اچھے سے نظارے کروا دیتا۔۔۔۔“ بےاختیار سماعتوں میں گھلتی مردانہ آواز اسکی سانسوں کو مزید گہرا کرگئی۔
”تم جانتی نہیں ہو ابھی مجھے صحیح سے۔۔۔ شجاع درید نام ہے میرا۔۔۔شجاع درید۔۔۔“ تابین بائی کو آگے سے پیچھے ہٹانے کی کچی کوششوں میں وہ چوڑے وجود کا صحت مند شخص۔۔۔ پھنکار کر بولتا اُس پل بظاہر کچھ غلط کردینے کے درپے تھا۔
آغازی بدتمیزی کے سبب۔۔۔رابی کی جانب سے منہ پر پڑنے والا تھپڑ غیر متوقع تھا۔۔۔جس کی جلن اس تیس سالہ مرد کی رگوں میں اشتعال کو بھڑکائے دے رہی تھی۔۔۔
پر اس سے کہیں ذیادہ اطمینان مقابل کھڑی رابی کی گلابیت گھلی خشک نگاہوں میں مچل رہا تھا۔
اس دوران کئی لڑکیاں اس ہنگامے پر کمروں سے باہر۔۔۔ہال میں نکل آئی تھیں۔
”واللہ کیا کہنے۔۔۔عورت ذات دیکھ کر میرا لحاظ کرگئے تم۔۔۔؟؟پر اسی عورت کی نسوانیت پر ہوس بھری نگاہیں گاڑھتے ہوئے تمھیں کوئی لحاظ۔۔۔کوئی شرم نہیں آئی۔۔۔۔؟؟“ دوبدو پوچھتے ہوئے اسکا انداز کس قدر سرد ہوا تھا۔۔
اس قدر خشک کہ کئی لمحوں تک تو وہ بھی کچھ نہیں بول سکا تھا۔
مگر پھر بےساختہ اسکی طیش گھلی نظروں میں صاف تمسخر سمٹ آیا جسے تابین بائی نے محتاط ہوکر دیکھا۔
”ہاں تو رقاصہ ہو تم۔۔۔۔کوئی ستی ساوتری دوشیزہ نہیں جو میرے ذرا سا ہاتھ لگانے پر یوں بکھرکرریزہ ریزہ ہوجاؤ گی۔۔۔نت نئے مردوں کے دل لبھانا ہی جب تمھاری اصلیت ہے تو پھر کیوں خودکو پارسا ظاہر کرکے اپنے اصل سے بھاگ رہی ہو تم۔۔۔۔؟؟؟“ بلاوے پر اندر داخل ہوتے گارڈز کو دیکھ کر وہ بے اختیار ڈھیلا پڑا تھا پر رابی کے وجود کو اسی سادگی میں شدت سے بےمول کرگیا تھا۔
گزرے لمحات میں بہتے ہوئے۔۔۔ہنوز آئینے کی شفاف سطح کو۔۔۔دھندلائی نگاہوں سے یک ٹک تکتی رابی کے وجود میں ایک سنساہٹ سی دوڑگئی۔دل کی دھڑکنیں حد سے سوا ہورہی تھیں۔
جواباً۔۔۔اس بار وہ خاموش ہوئی تھی۔۔۔
ہاں۔۔۔ایسے بےہودہ القابات پر وہ ہمیشہ سے ہی تو چپ اختیار کرتی آئی تھی۔
ایسے میں ضبط کی طنابیں چھوڑتی تابین بائی نے شجاع کو بےساختہ اسکے گریبان سے پکڑ کرجھنجھوڑا تو ان کی جانب دیکھتا وہ بوکھلا سا گیا۔
”ااےےےے۔۔۔گھر میں بیٹھی تیری ماں بہن سے ذیادہ ستی ساوتری اور پارسا ہے میری معصوم کلی۔۔۔۔۔۔شروع سے لے کر اب تک اس پر نت نئے مردوں کی نگاہیں ضرور پڑی ہیں لیکن تیرے جیسے کمی کمین لوگوں کی دست درازی کا شکار کبھی نہیں ہوئی میری بچی۔۔۔ سنا تم نے۔۔۔“
”بہتر ہے کہ اب خود کے ساتھ ساتھ اپنی یہ بےتکی بکواس سمیٹو اور دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔نکلوووو۔۔۔۔“ وہ پوری قوت سے اسے قریب کھڑے ہوتے دو گارڈز کی جانب دھکیل چکی تھیں۔
جبکہ تابین بائی کے احتجاج کرتے لہجے پر رابی کے نارنجی لبوں پر آہستگی سے ایک بےدم سی مسکراہٹ بکھری تھی۔
”دیکھ لوں گا تم لوگوں کو اور تمھاری ان نام نہاد پاکیزگیوں کو بھی۔۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔۔گالی###۔۔۔۔۔۔“ اپنا آپ جھٹک کر خود کو ان سے چھڑوانے کی کوشش کرتا وہ بلند کرخت لہجے میں بولا۔۔تو گارڈز اشارہ پاتے ہی اسے تقریباً گھسیٹ کر اپنے ساتھ وہاں سے لے کر نکلتے چلے گئے۔
”آاااہ۔۔۔ہ۔۔۔۔۔“ آنکھیں میچ کر بےاختیار آئینے سے سرٹکاتی وہ بےدم ہونے کے قریب ہوئی۔
ہاں۔۔۔ وہ سسکنے کی حد تک دل برداشتہ ہورہی تھی۔۔۔؟؟؟
اور وجہ اسکے سینے میں زہر بن کے پنپ رہی تھی۔۔۔
وہ سالوں سے ایسے بہکتے تلخ لہجوں کی عادی تو تھی
مگر مردوں کی دلجوئی کے عوض دست درازی کی عادی کبھی بھی نہیں رہی تھی۔۔۔۔
چند پلوں تک سکوت چھایا تھا۔۔۔
اور پھر۔۔۔۔
”میری بیٹی بڑی ہوکر ایک کامیاب ڈاکٹر بنے گی۔۔۔اور پھر بیمار مریضوں کا مفت علاج کرکے ان کی ڈھیروں دعائیں سمیٹے گی۔۔۔۔۔“ اس بار اردگرد بکھرتی وہ میٹھی آواز اسے حقیقتاً تڑپنے پر مجبور کرگئی۔
اگلے ہی پل پیچھے ہٹ کر بال مٹھیوں میں جکڑتی وہ کرلاتی دھڑکنوں سمیت آپے سے باہر ہوئی تھی۔
”آآآ۔۔۔اااا۔۔۔۔۔آآآ۔۔اا۔۔ہ۔۔۔۔۔۔میرے ساتھ ہی کیوں۔۔؟؟؟م۔۔میں ہی کیوں۔۔۔؟؟ذلت کی ساری حدیں مجھ پر ہی تمام کیوں۔۔۔۔؟؟کیوں ں ں ں۔۔۔۔۔؟؟؟؟“ دبیز قالین پر گھٹنوں کے بل زمین بوس ہوتے اسکی بلکتی آواز میں بین نمایاں تھے۔۔۔
بند کمرے کی چاردیواری کی حد تک محدود۔۔۔فراموش کردئیے جانے والے بے تحاشہ بین۔۔۔


”ارے بی بی آپ مجھے اس طرح سے مسلسل گھورے کیوں چلی جارہی ہیں۔۔۔؟؟؟
سب خیریت تو ہے ناں۔۔۔؟؟
میں کب سے دیکھ رہی ہوں آپ کی نگاہیں لمحے بھر کے لیے بھی میرے چہرے سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہیں۔۔۔“ اچانک اسکی جانب مکمل رخ کرکے پوچھتی عائمہ بیگم اس اجنبی عورت کو ہڑبڑانے پر مجبورکرگئیں۔۔۔تو وہاں موجود چند خواتین سمیت۔۔آس پاس کام کرتی بیوٹی ایکسپرٹس بھی انکی جانب متوجہ ہوگئیں۔
”مانا کہ یہاں کا سب سے مہنگا ترین وائٹنگ فیشل میں نے ہی کروایا ہے۔۔۔لیکن اسکا یہ مطلب تو ہرگز نہیں ہے کہ بندہ اب غیراخلاقی حرکتوں پر ہی اتر آئے۔۔۔حد ہوتی ہے۔۔۔۔“ اس بار اتراتی وہ مزید بولیں۔
مہنگا فیشل کروانے کے بعد انکے نقوش نکھرے نکھرے سے حقیقتاً بھلے لگ رہے تھے۔
”تم۔۔۔؟؟؟
تم حسن خاور کی زوجہ ہو ناں۔۔۔؟؟کیا نام تھا اسکا جس سے اس نے بیاہ رچایا تھا۔۔۔“ پوچھتے ہوئے اس عورت کا گھورنا ہنوز تھا۔
جبکہ یوں غیرمتوقع جان پہچان نکل آنے پر وہ ذرا چونک گئیں۔
”ع۔۔عائمہ۔۔۔؟؟ہاں۔۔۔تم عائمہ ہی ہو ناں حسن خاور کی بیوی۔۔۔۔“ ذہن پر زور ڈالتی وہ بے ساختہ پریقین ہوئی تو جواب میں عائمہ بیگم نے دھیرے سے سرہلایا۔
البتہ کوششوں کے باوجود بھی انکی ٹٹولتی نگاہوں میں اس عورت کے لیے شناسائی کی کوئی رمق نہیں تھی۔
”ہ۔۔ہاں۔۔۔مگر معاف کیجیے گا میں آپکو ابھی تک پہچان نہیں پائی۔۔۔کون ہیں آپ۔۔۔؟؟؟اور میرے متعلق کیسے جانتی ہیں۔۔۔۔؟؟؟“ بغور اسکا چہرہ دیکھتی وہ حقیقتاً اس عورت کو پہچاننے میں ناکام ٹھہررہی تھیں جو غالباً اس سے عمر میں دو چار سال بڑی لگتی تھی۔
جواباً وہ انکے نرم لہجے سے مطمئن سی ہوتی مسکرائی۔ان دونوں کو پرسکون انداز میں باتیں کرتا دیکھ باقی بھی اپنی توجہ ان سے ہٹاچکی تھی۔
”میں رخسار ہوں۔۔۔تم شاید مجھے ٹھیک سے پہچانتی نہ ہو۔۔۔لیکن میں تم سمیت تمھارے شوہر اور اسکے پورے خاندان کو بہت اچھے سے جانتی پہچانتی ہوں۔۔۔“ اپنا نامکمل تعارف کرواتی وہ عائمہ بیگم کا تجسس مزید بڑھاگئی۔۔
مگر اس رخسار نامی عورت کی زبان سے۔۔ذرا بلند آواز میں پھسلتے اگلے الفاظ عائمہ بیگم کا دماغ بھک سے اڑادینے کو کافی تھے۔
”مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ کیسے تمھاری سگی نند کے سبب زمانے بھر میں ہونے والی بدنامی نے بہت سو کی زندگیوں میں تہلکہ سا مچا دیا تھا۔۔۔اور پھر نوبت یہاں تک آچکی تھی کہ تمھارے شوہر کو مجبوراً اپنا آبائی علاقہ چھوڑ کر دوسری جگہ شفٹ ہونا پڑا۔۔۔۔“
اگلے ہی پل وہ اس صاف گوئی پر بے قابو ہوتی جھٹکے سے اٹھی تھیں۔
”ہوش میں تو ہو۔۔یہ کیا خود سے اول فول بکتی چلی جارہی ہو۔۔۔؟؟؟نہ بندہ دیکھتی ہیں نہ ہی بندے کی ذات۔۔۔جاہلوں کی طرح لحاظ کیے بنا کہیں بھی شروع ہوجاتی ہو۔۔۔عجیب بےمروت خاتون ہو تم۔۔۔۔۔“ بے پر کی سناتی وہ حقیقی معنوں میں اس پر برس پڑیں۔
تو جہاں انکی تندہی سے چلتی زبان پرسٹپٹاتی وہ بھی ساتھ ہی اٹھ کھڑی ہوئی تھی وہیں باقی بھی حیرت سے ان دونوں کی جانب دیکھنے لگیں۔
”اول فول بکنے کی عادت مجھے نہیں ہے بہن۔۔۔جو حقیقیت ہے وہی بتا رہی ہوں۔۔۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ تمھاری نند اپنے عاشق کے ساتھ رات کے گپ اندھیرے میں بھاگ گئی تھی۔۔۔کیا تم خود بھی اس حقیقیت سے واقف نہیں ہو۔۔۔؟؟؟“ ہاتھ نچا نچا کر کاٹ دار لہجے میں پوچھتی وہ صحیح معنوں میں جاہل لگ رہی تھیں جبکہ ایک عرصے بعد گڑھے مردے اکھاڑے جانے پر عائمہ بیگم کا رنگ شدتِ توہین سے سرخ پڑگیا۔
سیلون کا پرسکون ماحول انکی شدید تکرار کے سبب بگڑچکا تھا۔البتہ ذرا فاصلے پر بیٹھنے کے سبب خواتین کا دھیمی چہ مگوئیاں کرنا مشکل ہوا تھا۔
”میں کہتی ہوں وقت پر بندکرلو اپنی بکواس۔۔۔۔کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے ہاتھوں تمھارا کوئی شدید نقصان ہوجائے۔۔۔۔“ ایک محتاط نگاہ اطراف میں دوڑاتی وہ مٹھیاں بھینچ کر کاٹ دار لہجے میں بولی تو ملنے والی اس تنبیہہ پر اس نے تنفر سے ہنکارہ بھرا۔
”میں ڈرتی نہیں ان کھوکھلی دھمکیوں سے۔۔۔۔“ کچھ لاپرواہی سے بولتی جانے وہ کونسی دشمنی نکال رہی تھی۔۔عائمہ بیگم کا پارہ ہائی ہونے لگا۔
”میم۔۔۔پلیز سٹاپ اٹ۔۔۔ہمارے ساتھ ساتھ دیگر کسٹمرز بھی آپ دونوں کی بلاوجہ کی جھڑپ کے سبب کافی ڈسٹرب ہورہے ہیں۔۔۔مہربانی کرکے یاں تو آپ آرام سے بیٹھ جائیں۔۔۔یاں پھر یہاں سے جا سکتے ہیں۔۔۔۔“ ہیرکٹ چھوڑ کر ان کے قریب آتی ایک بیوٹی ایکسپرٹ نے بے تاثر لہجے میں کہا تو دونوں نے چونک کر اسکی جانب دیکھا۔
اسکا وارن کرتا لہجہ رخسار خاتون سے ذیادہ عائمہ بیگم کو چبھا تھا جو پلکیں جھپک جھپک کر نمی کو اندر اتارگئی تھیں۔
”ہونہہ۔۔۔مجھےبھی کوئی شوق نہیں ہے ایسے بدزبان اور جاہل لوگوں کے بیچ مزید رک کے اپنا قیمتی وقت برباد کرنے کا۔۔۔اور یہ رہی تمھاری پیمنٹ۔۔۔“ کہتے ہوئے عائمہ بیگم سرعت سے پلٹی اور ایک طرف رکھے ہینڈ بیگ سے مطلوبہ رقم نکالتی وہیں ڈریسنگ پر پٹخ دی۔
اس انداز پر مقابل کھڑی بیوٹی ایکسپرٹ نے ضبط سے لب بھینچے۔
ایک آخری سخت نگاہ اپنی جانب تکتی رخسار پر اچھالتی عائمہ بیگم۔۔۔اگلے ہی پل اپنا آپ سنبھالتی وہاں سے نکلتی چلی گئیں۔
خاندان کے نام پر جس قدر ذلت وہ اب برداشت کرچکی تھیں اس کے بعد اس مہنگے سیلون میں دوبارہ قدم نہ رکھنے کا ارادہ بےساختہ تھا۔۔جبکہ انکے وہاں سے جاتے ہی خواتین کو کھلم کھلا باتیں کھوجنے کا موقع بآسانی میسر آچکا تھا۔


ڈھلتی دوپہر میں ساحل سے ذرا پرے۔۔۔نیلگوں سمندر کی مدھم شور مچاتی لہروں کا نظارہ قدرے طمانیت بخش تھا۔۔۔لیکن قدرت کے روح میں اتر جانے والے اس دلکش نظارے کوتکتی ان پُرسوچ نگاہوں میں اس وقت طمانیت ہرگز نہیں تھی۔۔۔
سکون کی جگہ ایک ناقابل بیان جلن تھی اور یہی جلن اسکے وجود کا سکون برباد کیے ہوئے تھی۔۔۔۔
ایسے میں ہاتھوں میں لاپرواہی سے گھومتا قیمتی موبائل مسلسل اسکے دل کی دھڑکنیں بڑھانے گھٹانے کا سبب بن رہا تھا۔۔۔۔
نرم ریت پر جوتوں سمیت کب سے کھڑا شام اب کہ جھنجھناتے ذہن میں گڈمڈ ہوتی سوچوں سے عاجز سا آنے لگا۔
معاً سرجھٹکتا وہ خود کے تھکے اعصاب پرسکون کرنے کے لیے طویل گہرا سانس بھرگیا۔
”بسسس۔۔۔
بہت سوچ لیا۔۔۔
سمجھ لیا۔۔۔
اب مزید کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔“
بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے اس نے پل میں حتمی فیصلہ کیا۔
معاً اپنی نگاہیں موبائل اسکرین پر جماتا وہ پلوں میں سوشل میڈیا کے مطلوبہ پیج تک رسائی حاصل کرچکا تھا۔
دو سےتین کلک پر اسکرین پر چلتی ویڈیو نے شام کی بےچین نگاہوں میں ایک انتقامی چمک ابھاری تھی۔
حقیقی معنوں میں حرمین زہرا کو رسوائی سے آشنا کروانے کے لیے فقط ایک عدد مزید کلک کی ضرورت تھی۔
” ٹھہرو۔۔۔رکو۔۔۔رکو۔۔۔۔“ وہ لاسٹ اوپشن پر اپنے انگوٹھے کی چھاپ چھوڑ دینے کے قریب ترین تھا جب اندر کہیں چیختی تنبیہی پکار۔۔
اسے مچلتی لہروں کے سبب گہرے سمندر میں اٹھتے شور سے بڑھ کر سنائی دی تھی۔
”تمھاری دھتکار سے تو وہ بہت پہلے ہی اندر تک برباد ہو چکی ہے۔۔۔اب یوں اپنی اس انتقامی کاروائی سے اسکی ظاہری عزت کی دھچیاں مت اڑاؤ۔۔۔۔وہ نازک وجود ستم پر تمھارا ایک اور ستم برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔۔۔“ موبائل کی اسکرین میں صاف واضح ہوتے اسکے معصوم سے پرسکون چہرے کو بغور تکتے جانے کیوں۔۔۔اسے دہائی پہ دہائی سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔
شام کے دل کی تیز دھڑکنیں مخالف سمت دھڑکنے لگیں۔۔۔
فقط ایک پل۔۔۔۔
ایک پل کے لیے اس کا دل ویڈیو سمیت قدرے مہارت سے کراپ کی گئی تصاویر کو سرے سے ہی ڈیلیٹ کردینے کا چاہا تھا۔
”چٹااااخ۔۔۔۔۔۔۔۔“ اگلے ہی لمحے تھپڑ کی گونج اسکی سماعتوں میں اتری تھی۔
”تھو ہے تمھاری اس حسین صورت پر جس پر فدا ہوکر جانے کتنی ہی لڑکیاں خود کی عزت دو کوڑی سے بھی کم کی کر بیٹھتی ہیں۔۔۔اور تھو ہے مجھ جیسی بدنصیب لڑکی پر جو تم پر فدا ہوئی۔۔۔۔تم جیسے گھٹیا ترین مرد کے لیے یہ تھپڑ تو کچھ بھی نہیں ہے شاہ میر حسن ۔۔۔اگر میرا بس چلے تو تمھیں اپنی زندگی برباد کرنے کے جرم میں سیدھا پھانسی پر لٹکا دوں۔۔۔۔۔“ بےدردی سے اپنے نم گال مسلتی کیسے وہ مشتعل سی باآواز بلند چیخ رہی تھی۔
ایسے میں سختی سے لب بھینچے۔۔۔شام کے ہمدردی ابھارتے دل نے اچانک ہی پوری جی جان سے پلٹا کھایا تھا۔۔۔۔
”ت۔۔۔تم نے اپنی نام نہاد جیت کی خاطر جس طرح مجھ یتیم لڑکی کی زندگی تباہ کی ہے ناں شام۔۔میری دعا ہے کہ تم بھی اسی طرح برباد ہوجاؤ۔۔پل پل سسکو۔۔۔تڑپو پر تمھیں زندگی میں کبھی سکون نہ آئے۔۔۔“ اسکی جانب انگلی اٹھا کر بددعا دیتی وہ نئے سرے سے اسے اپنے نازک وجود سے شدید نفرت کرنے پر مجبور کر گئی۔
اور پھر۔۔۔سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں وہ بے حس انسان لاسٹ آپشن پر کلک کر چکا تھا۔
”خیر ڈائریکٹ قتل تو نہیں کروں گا لیکن جوابی کاروائی میں ایسا نایاب داؤ کھیلوں گا کہ وہ جیتے جی موت کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائے گی۔۔۔۔“ اس نے کہا تھا کہ وہ اس لڑکی کی زندگی جہنم بنانے کو ایک نایاب داؤ کھیلے گا۔۔۔سو وہ کھیل چکا تھا۔
ہاں۔۔۔۔شاہ میر حسن قدرے مہارت سے اپنی شناخت چھپائے۔۔۔
دنیا کے سامنے حرمین زہرا کے وجود کی سرعام تشہیر کروا چکا تھا۔۔۔۔ ”حرمین زہرا۔۔۔۔۔
تم کبھی بھی میری بخشش کے لائق نہیں تھی۔۔۔۔
اپنے کیے کا بھگتان تو تمھیں بھگتنا ہی تھا۔۔۔
سو اب بھگتو۔۔۔۔۔۔“
سکینڈوں میں بڑھتی ویووزر کی تعداد نے جہاں اسکے شفاف لبوں پر زہرخند مسکراہٹ بکھیری تھی وہیں اندر کہیں ملامت کرتے ضمیر تلے اسکے دل کی دھڑکنیں ذرا کی ذرا ڈوبی تھیں۔۔۔
پر جو بھی تھا اب وہ انجام کی پرواہ کیے بغیر اپنے اس شرمناک اقدام سے پیچھے ہٹنے والا تو ہرگز نہیں تھا۔۔۔


”لبارا برینڈ کی وہ امپورٹینڈ فائل تم نے منیجر تک ٹرانسفر کروائی تھی۔۔۔۔؟؟؟“ میز پر پڑا پیپر ویٹ گھوماتے ہوئے اسکا لہجہ دھیما تھا پرسلگتا انداز آبرو کو چونکنے پر مجبور کرگیا۔
”جی بالکل۔۔۔۔۔“ بظاہر اعتماد سے بولتی وہ تصدیق کرگئی تو شاہ نے بھوری نگاہیں اٹھا کےاسکی جانب دیکھا۔ان میں گھلی سرخائی اسکے ضبط کا صاف پتا دے رہی تھی۔
”تم جانتی تھیں ناں کہ میرے لیے یہ ڈیل کس قدر ضروری تھی۔۔۔؟؟؟ بھاری سنجیدہ آواز میں کاٹ سی گھلنے لگی۔
عادتاً انگلیاں چٹخاتی آبرو تفتیش زدہ سی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
”مگرتمھاری ایک چھوٹی سی کوتاہی نے میری کامیابی کو پلوں میں تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے آبرو سکندر۔۔۔“ ایکدم سے دھاڑتا وہ اگلے ہی پل پیپر ویٹ اٹھاکر سامنے دروازے پر مار چکا تھا۔
اس غیرمتوقع صورتحال سے خائف ہوتی وہ بے ساختہ لبوں پر ہاتھ رکھتی بوکھلائی۔
وہ جب سے لبارا کمپنی کی میٹنگ اٹینڈ کرکے واپس آیا تھا۔۔تب سے ہی اسکے تیور بگڑے ہوئے سے تھے۔۔
پر اس حد تک بھی بگڑ سکتے ہیں آبرو کو حقیقتاً اب اندازہ ہورہا تھا۔
”ک۔۔کوتاہی۔۔۔؟؟؟مگر میں۔۔۔۔“ اسے سیٹ چھوڑ کر اپنی جانب آتا دیکھ وہ حیرت زدہ سی پوچھنے کی کوشش میں ہکلائی۔۔جب سختی سے اسکی بات بیچ میں کاٹتا وہ اسکے قریب آ رکا۔
”کہنے کو تو عین وقت پر۔۔غلطی سے ری پلیس کی جانے والی وہ فقط ایک غلط فائل ہی تھی۔۔۔پرتمھاری یہ بےدھیانی میرا ایک کڑور کا ٹینڈر بڑی آسانی سے نگل چکی ہے آبرو سکندر۔۔۔۔“ اپنے لفظوں سے حقیقتاً اسکے ہوش اڑاتا وہ اسے گنگ ہی تو کرگیا تھا۔
ابھی کچھ دیر پہلے وہ آفس منیجر کو بھی بری طرح سے بےعزت کرکے اپنے روم سے نکال چکا تھا جس نے فائل چیک کیے بنا ہی آگے تک پہنچادی تھی۔
”غ۔۔غلط فائل۔۔۔پر۔۔۔ا۔۔ایسے کیسے۔۔۔؟؟مجھے یاد ہے میں نے خود منیجر صاحب کو بالکل ٹھیک فائل دی تھی۔۔بے دھیانی کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں نکل سکتی۔۔۔۔“ عجلت میں اپنی صفائی دیتی وہ خود بھی جیسے الجھ سی گئی۔
”اٹس مین کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔۔۔؟؟میرا منیجر جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔؟؟یہاں تک کہ لبارا کمپنی کا آنر بھی جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔؟؟
پر تم۔۔۔۔
تم اپنی جگہ بالکل درست ہو۔۔۔ہہہمم۔۔۔؟؟؟“ تندہی سے پوچھتا وہ اسکی گہری نیلی نگاہیں بھگونے میں کامیاب ٹھہرا تھا۔
”مجھے ن۔۔نہیں معلوم۔۔۔۔“ اسکی پیشانی پر چڑھی تیوری سے نگاہیں چراتی۔۔۔وہ ذہن پر زور ڈالتی ہوئی صاف ڈانواڈول ہوئی تو شاہ نے اسکے حسین نقوش پر چاپ چھوڑتی گھبراہٹ کو جلتی نگاہوں سے بغور دیکھا۔
”معلوم نہیں۔۔۔سریسلی۔۔۔؟؟تمھیں ذرا سا بھی اندازہ ہے کہ تمھاری ان بلاوجہ کی لاپرواہیوں نے مجھ سمیت میری کمپنی کو کس قدر خسارے میں ڈالا ہے۔۔۔۔؟؟؟تمھاری سال بھر کی سیلری بھی وہ قیمتیں پوری نہیں کرسکتی جو تم ایک سیکنڈ میں ضائع کرجاتی ہو۔۔اور ایسے میں تمھاری ناواقفیت بھی ہنوز قائم رہتی ہے۔۔۔امیزنگ۔۔۔۔“ بے اختیار اسکے بازو کو اپنی مضبوط گرفت میں لیتے ہوئے اب کہ اسے جنید والا پراجیکٹ بھی یاد آیا تھا جسے وہ مقابل کھڑی لڑکی وجہ سے جانتے بوجھتے ٹھکرا چکا تھا۔
”آپ۔۔۔۔“ گھنی پلکیں جھپکانے پر بےاختیار آبرو کے گلال رخساروں پر آنسو پھسلے۔
سست روی سے چلتی دھڑکنوں پر اس نے شاہ کی جانب دیکھا مگر وہ نفی میں سر کو تیزی سے جنبش دیتا اسکی بات کاٹ گیا۔
”اب سوری مت کہنا مجھ سے آبرو سکندر۔۔۔
مت کہنا کیونکہ یہ معمولی سا ورڈ مجھ سمیت میری کمپنی کو اس خسارے سے باہر نہیں نکالنے کے لیے ہرگز کافی نہیں ہے جس میں تم ہمیں بہت آرام سے ڈال چکی ہو۔۔۔۔“
دل کو پگھلانے کی قابلیت رکھتے اسکے آنسو دیکھ کر بھی وہ صاف سنگدلی پر اتر آیا تھا۔۔۔جب اپنا ضبط کھوتی آبرو پورا زور لگا کے اپنا بازو ایک جھٹکے سے اس کی مضبوط گرفت سے چھڑوا گئی۔
جواب میں شاہ نے تندہی سے بھنویں اچکائیں تھیں۔۔۔
مگر اگلے ہی پل سماعتوں سے ٹکراتے الفاظ اسکا سفاک ہوتا دل شدتوں سے دھڑکانے پر مجبور کرگئے۔
”محبتوں میں اگر مخلص جذبات کی بجائے قیمتوں کی سودے بازی ہونے لگے تو پھر وہ محبتیں۔۔محبتیں نہیں رہتیں۔۔۔بلکہ ضمیر پر ایک ناقابل برداشت بوجھ بن جاتی ہیں۔۔۔آپ تو پھر بھی بارہا میرے عشق کے دعو یدار رہ چکے ہیں۔۔۔ایسے میں بیک وقت دو طرح کے تقاضے آپ پر بالکل بھی نہیں جچتے شاہ صاحب۔۔۔یاں تو قیمت کا تقاضا کیجیے۔۔۔یاں فقط محبت کا۔۔۔۔۔“ قدرے گہری بات کرتی وہ مقابل کے دل پر گہرا وار کرچکی تھی۔
جبکہ اسکی حسین سی۔۔نم نیلی نگاہوں میں تیرتی تمسخر بھری اذیت دیکھ کر شاہ کا غصہ بھک سے اڑا تھا۔
”اور ہاں۔۔۔میں نے اس فائل کو لے کر بے دھیانی میں بھی کوئی ہیرا پھیری نہیں کی۔۔۔باقی آپ جو بہتر سمجھیں۔۔۔۔۔“
شاہ کو حقیقتاً اسکی محبت کے تقاضے یاد دلاتی وہ۔۔۔اپنی حتمی صفائی دیتی ہوئی اگلے ہی پل وہاں سے نکلتی چلی گئی۔اس بار لہجہ بھی قدرے مضبوط تھا۔
پیچھے وہ ہنوز گم صم سا اسے وہاں سے جاتا ہوا دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔ایسے میں ہاتھ مضبوط سینے میں۔۔پھڑپھڑاتے دل پر کب آیا وہ خود بھی انجان تھا۔
”محبت۔۔۔۔“
”عشق۔۔۔۔“
”آبرو۔۔۔۔“ دل و دماغ میں ہوتی لفظوں کی تکرار میں قیمت کا تقاضا تو کہیں بھی نہیں تھا۔
ہاں یہ حقیقت تھی کہ اس ایک غلط فائل کے سبب اسکا خسارا ہوا تھا پر بروقت دوسرا پراجیکٹ ملنے پر آدھے سے ذیادہ نقصان پورا بھی تو ہوچکا تھا۔
بے اختیار اس نے سر جھٹکتے ہوئے اپنی مڑی ہوئی خم دار کو پلکوں کو انگلیوں تلے مسلا۔ایسے میں آنکھوں کی گہری ہوتی سرخی اسکے اندر شرمندگی کا احساس جگانے کو کافی تھی۔۔۔۔


لمحوں کی تیز رفتاری۔۔۔تپش چھوڑتی دوپہر کو اب کہ وحشتوں بھری۔۔۔ گہری رات میں ڈھالنے کے درپے ہوئی تھی۔
ایسے میں وہ اپنے پلنگ پر ایک طرف۔۔۔گٹھڑی بنی کچی نیند کی آغوش میں تھی۔
گزشہ روز کا ستم اسے ہنوز بھوکا پیاسا۔۔۔تنہا کمرے میں بند کیے ہوئے تھا۔
گداز تکیے پر بکھرے بال جہاں حرمین زہرا کی خود سے برتی گئی لاپرواہی کو ظاہر کررہے تھے وہیں سوجھے پپوٹوں میں بےساختہ ہوتی جنبش اسکے غنودگی سے جاگنے کا سبب بنی تھی۔
دقت سے پوری آنکھیں کھولتی وہ کئی لمحوں تک اپنے آپ سے بیگانہ رہنے کے بعد ایک جھٹکے سے اٹھی۔۔۔تو دماغ میں اٹھتی شدید ٹیس اسے پل بھرکو سختی سے خشک انگارہ آنکھیں میچنے پر مجبور کرگئی۔
”آااہ۔۔۔۔ہ۔ہ۔۔۔“
بےاختیار اسنے ہتھیلی تلے اپنی تپی پیشانی مسلی۔۔۔جب اذیت دیتی سوچوں نے پل میں اسکے سنسناتے ذہن میں ایک حشرسا برپا کیا تھا۔
”اپیہ آپ اب تک کس وجہ سے خاموش ہیں۔۔۔؟؟ادھر ماما کی حالت آپکی خودسریوں کا سوچ کر بد سے بدتر ہوئے جارہی ہے۔۔۔اور یہاں آپ۔۔۔؟؟
”چچ۔۔۔آخر بتا کیوں نہیں دیتیں کہ جس انسان کو سب آپکی بدنامی کا سبب سمجھ رہے ہیں۔۔درحقیقت وہ آپکو زندگی بھرکے لیے اپنانے کی شدید خواہش رکھتا ہے۔۔۔۔“ سماعتوں میں سیسہ بن کے پگھلتی۔۔یہ فکرکھاتی ہوئی آواز اسکی اپنی بہن کی تھی۔۔جو سوال پر سوال پوچھتی اُس پل کس قدر بے سکون دکھائی دے رہی تھی۔
”زندگی بھر اپنانے کی خواہش۔۔۔۔؟؟؟ جواباً کچھ حیرت سے اسکی جانب دیکھتے ہوئے اسکی بھیگی آنکھوں میں خود کے لیے تمسخر ابھرا تھا۔
”جو شفاف پیشانی پر صرف بدنامی کا داغ سجانا جانتے ہوں وہ کسی کے کردار کو پاک صاف رکھنے کے لیے خود کی ذات کو داؤ پر نہیں لگایا کرتے حاوی۔۔۔
وہ بھی انہی میں سے ایک تھا۔۔۔۔“ حقیقت بتلاتے سمےآنسو تواتر سے اسکے سانولے رنگ گالوں کو بھگو رہے تھے۔بالکل اسی طرح جیسے دم گھٹنے پر پلنگ سے اترتے ہوئے اب بھی بہہ نکلے تھے۔
”ک۔۔کیا مطلب۔۔۔؟؟؟
اسنے آپکو اپنانے سے انکار کردیا۔۔۔۔؟؟؟“ قدرے حیرت سے پوچھتی حاویہ کے لیے فوری یقین کرنا دشوار ہوا تھا۔جواباً سر کو ہولے سے جنبش دیتی وہ پل میں اسکے بدترین خدشوں کی تصدیق کرگئی۔
”میراخیال تھا کہ عینک کے بنا میں کچھ بھی اچھے سے دیکھنے کے قابل نہیں ہوں لیکن میں غلط تھی۔۔۔اس عینک کی محتاجی سہہ کر بھی میں اسکا دھوکےباز چہرہ نہیں پہچان پائی۔۔۔محبت کی کمزوری نے مجھے ہر لحاظ سے اندھا کردیا تھا۔۔پھربھلا کیسے پہچانتی۔۔۔۔؟؟؟“ ہنوز اسکے کنگ نقوش تکتے لہجہ بظاہر بے تاثر تھا لیکن دل میں اٹھتی اذیت باکمال تھی۔
آگے لپک کر کھڑکی کے دونوں پٹ کھولتے ہوئے حرمین نے گہرا سانس بھرا تو گہرے سکوت میں ایک بار پھر حیرت میں بھیگی نسوانی آواز اسکے آس پاس بکھر سی گئی۔
”پ۔۔پر وہ۔۔وہ تو آپ سے بے پناہ محبت کرتا تھا ناں اپیہ۔۔۔؟؟آپکی سادگی سے۔۔آپکی سیرت سے۔۔آپکی عادتوں سے۔۔۔۔تو پھر بھلا آپکو ٹھکرادینے کی جرات کرسکتا ہے وہ۔۔؟؟اب کیوں اپنے قدم پیچھے لے رہا ہے۔۔۔کیوں اپنی ہی کہی باتوں سے بھاگ رہا ہے۔۔۔۔؟؟؟“ حقیقی خسارے سے ہنوز بے خبر۔۔۔وہ فقط شاہ میر حسن کے صاف انکار پر تلملا اٹھی تھی۔
جبکہ حاویہ کی دبی دبی غصیلی آواز میں خود کے لیے چھلکتی ہمدردی کو شدت سے محسوس کرتی وہ بھی اپنا ضبط کھونے لگی۔
”جھوٹی محبت کی آڑ میں وہ میری اسی سادگی۔۔۔اسی سیرت کو تو مات دینا چاہتا تھا۔۔۔سو دے دی۔۔۔اپنی انا کو بحال رکھنے کی خاطر وہ میری عزت دو کوڑی کی کرگیا حاویہ اور مجھے دیکھو۔۔۔میں بھی اسکے ساتھ ان سب میں برابر کی قصوروار رہی ہوں۔۔۔“ نئے سرے سے بھیگتی آنکھوں کے گوشے رگڑتے ہوئے اسکا لہجہ مکمل بھیگ چکا تھا۔
اسکی جانب تکتی حاویہ کی نم نگاہوں میں شدت سے الجھن ابھری۔
”سیاہ رات میں م۔۔میرے صاف ستھرے دامن پر سیاہی کی گہری چھاپ چھوڑ گیا وہ انسان۔۔۔کبھی نہ مٹنے والی گہری چھاپ۔۔۔۔اور میں کچھ بھی نہیں کرسکی۔۔۔۔شاہ میر حسن نے م۔۔مجھے ہر لحاظ سے مجھے برباد کردیا ہے حاوی۔۔ہر لحاظ سے۔۔۔۔“ جہاں وہ اسکی مزید ہمدردی پانے کو سسکتی ہوئی حقیقی معنوں میں اپنا آپ واضح کرگئی تھی۔۔وہیں بات کی چبھتی گہرائی کو لمحوں میں سمجھتی حاویہ کا دماغ بےیقینی کے سائے تلے بھک سے اڑا۔
”م۔۔میں۔۔۔میں۔۔۔“ لرزتی آواز میں مزید بولنے کی ناکام کوشش کرتی وہ سر ہاتھوں میں تھام گئی۔
چاند کی بے داغ روشنی کی طرف چہرہ کرکے کھڑی حرمین کے لیے سنساتے لفظوں کے بوجھ تلے اب بھی کھل کے سانس لینا دشوار ہورہا تھا جبھی اذیت سے مٹھیاں بھینچتی وہ آنکھیں میچ گئی۔
”اپیہ۔۔۔؟؟
آ۔۔آپ نے بنا کسی جائز رشتے کے ناپاکی کی حدوں کو پارکردیا اور اب اس پر ماتم کناں ہورہی ہیں۔۔۔؟؟؟“ پوچھتے ہوئے حاویہ کے نم لہجے میں وحشت سی اتر آئی تو سرسراتی آواز پر وہ سر اٹھاکر اسکی جانب دیکھنے پر مجبور ہوئی۔
”میں مانتی ہوں کہ شام جیسے گھٹیا شخص سے محبت کرنا آپکی غلطی تھی لیکن اس غلطی پر مزید بڑا گناہ کرنے کا آپکو کوئی حق نہیں پہنچتا تھا اپیہ۔۔۔“ نفرت سے بولتی وہ پل پل بپھر رہی تھی۔
جبکہ اسکے رویے کی تلخی پر پل بھر کو بوکھلاتی وہ اگلے ہی لمحے اٹھی۔
پھر نفی میں سر ہلاتی مضبوطی سے اسکے کندھے تھام گئی۔
”حاویہ۔۔۔۔م۔۔میں آخری حد تک بہک گئی تھی۔۔۔“ وہ اپنے صفائی میں بولنا چاہ رہی تھی جب حاویہ اپنے کندھوں سے اسکے ہاتھ سختی سے جھٹک گئی۔
”میں نے روکا تھا آپکو۔۔۔باز کیا تھا ناں۔۔۔؟؟پر آپ نے میری ایک نہیں سنی۔۔۔۔
”آپ اپنے کیے کا انجام بھگت رہی ہیں۔۔۔ٹھیک ہے۔۔میں بھی بھگت لوں گی پر۔۔۔پر ہماری ماں یہ رسوائی برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتیں خود میں اپیہ۔۔۔۔بالکل بھی نہیں رکھتیں وہ۔۔۔۔۔“ شدت سے بولتے ہوئے اسکے آنسوؤں میں بے اختیار روانی آئی تھی۔
”ایسے لفظوں کا چناؤ مت کرو حاوی۔۔۔م۔۔میں پہلے ہی اپنے ہاتھوں سے کمائی ندامت کو جھیل نہیں پارہی ہوں۔۔۔۔وہ صرف تمھاری ہی نہیں بلکہ میری بھی ماں ہیں مجھے بھی خیال ہے ان کا۔۔۔۔“ حرمین کو ناچاہتے ہوئے بھی نئے سرے سے گھبراہٹ ہونے لگی تھی جب شہادت کی انگلی اٹھاتی وہ پھنکاری۔
”میں بتارہی ہوں حرمین زہرا۔۔۔آپ کے سبب اگر میری ماں کو کچھ بھی ہوگیا ناں تو میں آپکو کبھی بھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔سنا آپ نے۔۔۔؟؟؟
کبھی بھی نہیں۔۔۔۔“ سلگتے لہجے میں تڑخ کر بولتی وہ وہاں رکی نہیں تھی بلکہ اسکا بچا کھچا سارا اطمینان چھینتی وہاں سےنکلتی چلی گئی۔
”ہا۔۔ااا۔۔۔۔ہ۔۔ہ۔۔۔۔اللہ۔۔۔۔“ حرمین نے گزشتہ روز کی یادوں کے دلدل سے نکلنے کو گھبرا کر آنکھیں کھولیں تو آنسو بے اختیار گالوں پر لڑھک آئے۔تنفس بگڑسا گیا تھا۔
”جو ہوا سو ہوا۔۔۔۔ا۔۔اب کچھ برا نہیں ہوگا۔۔۔۔م۔۔میں کچھ برا ہونے ہی نہیں دوں گی۔۔۔۔ہاں۔۔۔میں۔۔۔“ جانے کیوں ان پلوں میں درد کی انتہاؤں کو چھوتا دل حد سے سوا ہورہا تھا جب سکوت میں موبائل فون کی چنگاڑتی بیل اسے چونک کر پلٹنے پر مجبور کرگئی۔
کئی لمحوں تک بجتی بیل پر حرمین کا دماغ سنسانے لگا۔۔۔تو بےدردی سے آنسو رگڑتی وہ ناچاہتے ہوئے بھی آگے بڑھی۔تب تک دوسری طرف سے کال بند ہو چکی تھی۔
سائیڈ ٹیبل پر پڑا موبائل اٹھاتے ہوئے اسنے لاک کھولا۔معاً علیزے کے نمبر سے بھیجے گئے ویڈیو لنک کا نوٹیفیکشن اسکی اسکرین پر ظاہرہوا۔
”اوپن اٹ۔۔۔اینڈ چیک۔۔۔۔“ مزید ایک اور میسج آیا تھا۔
حرمین نے دھڑکتے دل سے میسج کھول کر ویڈیو لنک پر کلک کیا۔
اگلے پل شفاف سکرین پر چلتی ویڈیو میں اپنا آپ ابھرتا دیکھ حرمین زہرا کے ہوش اڑے تھے۔
پھٹی پھٹی بےیقین نگاہوں سے اپنی نازیبا حالت کا معائنہ کرتے ہوئے۔۔ منہ سے نکلنے والی گھٹی گھٹی سی چیخ بےساختہ تھی۔
آدھی ادھوری چادر میں سکون کی نیند لیتی فقط وہ اکیلی اس شرمناک منظر کا حصہ تھی لیکن اسکے وجود کی دھجیاں بکھیرنے والا خود کہیں بھی اس ویڈیو میں موجود نہیں تھا۔
”ش۔۔شام۔۔۔۔۔“ اس جان نکال دینے والی آفت پر اسکے لرزتے سیاہی مائل لبوں سے فقط ایک نام ہی پھسلا تھا۔
اگلے ہی پل دھندلائی نگاہوں کو تیزی سے جھپکاتے ہوئے اسنے ہزاروں سے لاکھوں کو پہنچتی ویوورز کی تعداد دیکھی تو پھٹتا دل جیسے تھم ساگیا۔
شئیرز کی جانے والی تعداد بھی کچھ کم نہیں تھی۔
حرمین کو لگا جیسے کسی نے چہرے سمیت اس کے وجود پر تیزاب انڈیل دیا ہو۔
اس شیطان نما انسان کا اس قدر انتقامی روپ حقیقتاً اسکی جان نکال گیا تھا۔
اس چلتی ویڈیو کو اس سمیت لاکھوں تجسس بھری نگاہیں دیکھ چکی تھیں۔
”نن۔۔نہیں۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔نہیں ںںںںں۔۔۔۔ایک تھپڑ کے جواب میں۔۔میں اس سزا کی حقدار نہیں تھی۔۔۔۔نہیں تھی میں۔۔بالکل نہیں تھی۔۔۔آاا۔۔اا۔۔ہ۔۔۔“
حرمین سے مزید اپنا آپ دیکھنا محال ہوا تو خوفزدہ سی موبائل کو خود سے پرے اچھالتی اپنے بال مٹھیوں میں جکڑ گئی۔
ذہن کے سیاہ پردے پر حاویہ اور نفیسہ بیگم کے نفرت سے بھیگے نقوش لہرائے تو نڈھال سی ہوتی وہ وہیں نیچے بیٹھتی چلی گئی۔
سب کچھ ختم ہوا تھا۔۔۔
سب کچھ۔۔۔
دوسرے کمرے میں موجود دو نفوس ہنوز برہم۔۔۔نیند کے وادیوں میں جھولتے اس پل اسکی گھٹی گھٹی چیخیں سننے سے محروم تھے۔
ایسے میں علیزے سمیت جانے کتنوں کے ہی ملامت بھرے میسجز آچکے تھے پر وہ دیکھنے کے قابل ہی کہاں تھی۔
وہ تو در حقیقت کہیں کے بھی قابل نہیں رہی تھی۔
بدستور سسکیاں بھرتے وجود میں سانسیں اٹک رہی تھیں پر۔۔۔پر پھٹتے ذہن میں شدت سے ابھرتا سوال یہ تھا کہ
بوجھ بنتی یہ سانسیں اسکے وجود سے جدا کیوں نہیں ہورہی تھیں۔۔۔؟؟؟
وہ ہنوز زندہ تھی۔۔۔
پر کیوں۔۔۔؟؟
ایک ایک کرکے اپنا سب کچھ لٹا دینے کے بعد بھی وہ اب تک کیوں زندہ تھی۔۔۔؟؟
بالوں کو ہنوزسختی سے مٹھیوں میں جکڑے حرمین پاگل ہونے کے درپے تھی۔
اگلے ہی لمحے اسکے ماؤف ہوتے ذہن میں جھماکا ہوا تو بنا کوئی لمحہ ضائع کیے وہ سرعت سے اپنی جگہ سے اٹھی۔
پل میں کیا جانے والا حتمی فیصلہ حقیقتاً جانلیوا تھا۔
اس قدر جانلیوا کہ ہر گزرتا لمحہ اسکی سانسوں پر بھاری پڑتا چلا گیا۔۔۔۔
سلگتی تلخ یادوں سے
بڑے بے درد ہاتھوں سے
لو!دیکھو ہاردی تم نے۔۔۔
”محبت“
ماردی تم نے…..