Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

”ہائے حرمین۔۔۔یہ کیا ہے۔۔۔؟؟؟“ پیریڈ فری ہونے کے باوجود بھی وہ دونوں اس وقت خالی کلاس میں بیٹھی تھیں۔۔جب حرمین کے بیگ سے اپنے دھیان میں نوٹس نکالتی علیزہ خود کو چیخنے سے باز نہیں رکھ پائی تھی۔
باز رکھتی بھی کیسے۔۔؟؟نوٹس کی جگہ چمکتا دمکتا تھری لئیرڈ نیکلس جو ہاتھ لگا تھا۔
”کک۔۔کیا ہوا۔۔۔؟؟؟“ دبی چیخ پر گڑبڑا کر چئیر سے ٹیک ہٹاتی حرمین نے کچھ حیرت سے اسکی جانب دیکھتے پوچھا۔
اگلے ہی پل علیزہ نے بلا جھجک نیکلس بیگ سے نکال کر حیرت سے اسکے سامنے کیا تو اس بارحرمین کو بھی شدت کا جھٹکا لگا۔
”یہ اتنا بیش قیمتی نیکلس تمھارے بیگ میں کیا کررہا ہے یار۔۔۔؟؟؟ہائے دیکھو تو کس قدر خوبصورت ہے۔۔۔۔“ اناری نگوں پر بےتابانہ انگلیاں پھیرتی وہ اسکی چمک دمک اور ڈیزائن سے دلی متاثر نظر آرہی تھی جبکہ حرمین تو ان گزرتے دنوں میں ذہنی پریشانی کے سبب اس تحفے کے بارے میں تقریباً بھول ہی بیٹھی تھی جس کی بدولت اس پچھتاوا کن رات کی اصل شروعات ہوئی تھی۔
”ی۔۔یہ۔۔۔۔۔؟؟؟“ نیکلس کو خالی خالی نظروں سے تکتے ہوئے ذہن پر زور ڈالنے کے باوجود بھی اسے یاد نہیں پڑرہا تھا کہ کب اسنے اس نیکلس کو حفاظت سے اپنے بیگ میں رکھا تھا۔
گو اس رات شام نے بڑی محبت سے اسکی گردن سے نیکلس نکال کر الگ سے سائیڈ پر رکھا تھا تو کیا بعد میں پھر اسی نے۔۔۔۔۔
تیز ہوتی دھڑکنوں سمیت وہ مزید سوچوں کی گہرائی میں اترجانا چاہتی تھی مگر تبھی سماعتوں سے ٹکراتا تیز لہجہ اسے چونکنے پر مجبورکرگیا۔
”اگر آنٹی نے یہ نیکلس تمھاری شادی کے لیے خرید رکھا تھا تو پھر اسے اپنے ساتھ یونیورسٹی لانے کی کیا ضرورت تھی پاگل۔۔۔؟؟؟گھر پر ہی حفاظت سے سنبھال کر رکھتی ناں۔۔۔دکھاوے کے چکر میں گم گما گیا تو۔۔۔۔؟؟؟“ علیزہ سیانی بن کر اسے اسکی کوتاہی کا احساس دلاتی بے اختیارنیکلس کو اپنے گلے سے لگاکر دیکھنے لگی۔حرمین کے مقابلے میں وہ اسکی سفید گردن پر خوب چج رہا تھا۔
”یہ ماما کی طرف سے نہیں ہے علیزے۔۔۔ بلکہ اسے۔۔شام نے مجھے گفٹ کیا ہے۔۔۔۔“ بڑی آہستگی سے بولتی ہوئی وہ علیزہ کے سر پر نیا بم پھوڑ گئی تو اسنے پوری آنکھیں کھول کر اسے پل بھر کو خود سے نگاہیں چراتے دیکھا۔
”نہ کرو یار۔۔۔مذاق کر رہی ہو ناں تم میرے ساتھ۔۔۔؟؟؟مطلب سچ میں شام نے تمھیں یہ۔۔۔اففف میرے خدایا۔۔۔۔۔“ نیکلس کو گردن سے ہٹاتی وہ بےیقینی تلے دب جانا چاہتی تھی مگر پھر حرمین کے تاثرات دیکھتی مزید دب نہیں پائی تھی۔
”ایسا ہی ہے۔۔۔۔“ گہرا سانس بھرتی حرمین نے اثبات میں سرہلا کر گویا کھلی تصدیق کردی۔
علیزہ نے ایک بار پھر سے نیکلس کو بغور دیکھا تو بےساختہ آنکھوں میں حسرت سی ابھر آئی۔بھلا ایسا نایاب تحفہ کون نہیں لینا چاہے گا۔۔۔
اگر وہ شام کا نام لے رہی تھی تو یقیناً وہ امیرزادہ اتنا قیمتی تحفہ اپنے کسی چاہنے والے کو بآسانی دینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
”وہ سچ میں بہت بدل گیا ہے حرمین۔۔۔۔“ نیکلس کو پل بھر کے لیے مٹھی میں دبا کر واپس بیگ میں رکھتی وہ سنجیدگی سے بولی۔
”کون۔۔۔؟؟؟“ حرمین نے ناسمجھی سے اسکی جانب دیکھا جس کے چہرے کا رنگ جانے کیوں پہلے کی بانسبت بدل سا گیا تھا۔
”تمھارا شام۔۔۔اور کون۔۔۔“ زبردستی مسکراہٹ لبوں پر لاتی وہ اسے مزید الجھا گئی۔
”اورتمھیں کیسے پتا چلا کہ وہ بدل گیا ہے۔۔۔۔؟؟؟“ کچھ حیرت سے پوچھتے ہوئے حرمین کو تھوڑی گھبراہٹ ہوئی۔
کہیں وہ نیکلس کی آدھی ادھوری حقیقت سے آگے کا سچ خود سے تو اخذ نہیں کربیٹھی تھی۔۔۔؟؟؟ایسا سچ جو وہ خود سے بھی چھپائے ہوئے تھی۔
”لو بھلا اس میں پتا لگنے والی کونسی بات ہے یار۔۔۔؟؟؟سب کو صاف صاف تو دکھتا ہے وہ لڑکا جو کل کو درجنوں لڑکیوں کے ساتھ گرلفرینڈ کے نام پر عیاشی کا کھلم کھلاکھیل کھیلتا تھا۔۔۔اب تو فقط تمھاری ہی ذات میں اٹک کررہ گیا ہے۔۔۔اور شاید زندگی میں کبھی بھی تمھارے بغیر آگے نہ بڑھے۔۔۔۔“ وہ کندھے اچکا کر بظاہرخوش اخلاقی سے گویا ہوئی تو اسکے ایک ایک لفظ کو سمجھتی حرمین کے دل میں اطمینان سا اترا۔
اس حقیقیت کو تسلیم کرتی جواباً وہ ہولے سے مسکرائی تھی جب علیزے نے اسکی قابلِ قبول صورت کو غور سے دیکھا۔اندر کہیں ایک ان دیکھی جلن نے دھیرے سے سر اٹھایا تھا۔
یقیناً وہ لڑکی اس سے کم خوبصورت تھی لیکن نصیب میں۔۔۔
”تمھارے ساتھ نے اُسے سر تا پیر بدل کر رکھ دیا ہے حرمین۔۔۔مجھے تو کبھی کبھی شک پڑتا ہے جیسے تم نے اُسے کچھ گھول کر پلا دیا ہو۔۔۔سچ سچ بتانا۔۔۔؟؟؟کیا واقعی میں ایسا ہے یا فقط تمھاری سادگی اور بھولی صورت کا جادو چل گیا ہے اس پر۔۔۔؟؟؟“ اسکے قریب جھک کر راز دارانہ لہجے میں پوچھتے ہوئے علیزہ کی نگاہوں میں ناقابل فہم چمک تھی۔
”بکو مت۔۔۔تم جانتی ہو میں جادو ٹونے پر رتی بھربھی یقین نہیں رکھتی۔۔۔بس وہ شاندار مرد میری قسمت میں تھا۔۔۔اس سے ذیادہ کچھ بھی نہیں۔۔۔“ علیزہ کے اس انداز پر بےساختہ اسکے سر پر چپت لگاتی وہ ناچاہتے ہوئے بھی کھل کر مسکرائی تھی۔
”ہاں بھئی۔۔یہ تو ہے۔۔۔اب اس جیسے رئیس اور ڈیشنگ بندے کے آگے ذباب یاں ہم جیسے غریب لوگوں کو کہاں نظر آئیں گے تمھیں۔۔۔۔“ وہ ہنوز اسے چھیڑ رہی تھی۔
”علیزے اسٹاپ اٹ ناؤ۔۔۔۔۔۔“ وہ دھیمے تنبیہی لہجے میں بولی تو جواب میں علیزہ نے شدت سے اپنا ماتھا پیٹ لیا۔
”اوہ نو۔۔۔“ اپنے غیر متوقع رویے پر وہ حرمین کو چونکا گئی تھی۔
”اب کیا ہوا تمھیں۔۔۔؟؟؟“ اگلے ہی پل اسے عجلت میں اپنے سامنے سے اٹھتا دیکھ اسکا سوال بےساختہ تھا۔
”بھول گئی۔۔۔مس ناہید نے مجھے اسٹاف روم میں بلایا تھا کسی کام کے سلسلے میں۔۔۔اور میں یہاں تم سے باتوں میں۔۔۔اففف۔۔۔۔“ جلدی اور کچھ تفکر سے بولتے ساتھ ہی وہ مزید کچھ کہے سنے بنا کلاس سے باہر کی جانب لپکی۔
پیچھے حرمین نے کچھ تاسف سے سر ہلاتے ہوئے پلوں میں اسے نظروں سے اوجھل ہوتے دیکھا۔پھر اپنے ہاتھ بے اختیار بیگ کی جانب بڑھائے۔اس بات سے حقیقتاً نا واقف۔۔۔آیا اسکی دوست واقعی مس ناہید کے پاس سٹاف روم تک گئی تھی یاں اپنے اندر کی جلن کو محض اس سے چھپانے کا فقط ایک من گھڑت بہانہ تھا۔۔۔؟؟
####*
دن سر پر چڑھ آیا تھا مگر وہ خلاف توقع۔۔۔اپنی من مرضی کے سبب ہنوز گھر پر ہی رکا ہوا تھا۔صبح سویرے جہاں حسن صاحب کو بزنس کے معاملے میں ایمرجنسی پنڈی شہر جانا پڑا تھا وہیں عائمہ بیگم اپنی پرانی دوست کیطرف سے ملنے والی گیٹ ٹوگیدر پارٹی کے انو یٹیشن کو لے کر۔۔۔ چھوٹی موٹی تیاریوں میں صبح سے ہی پورے گھر میں ہلکان ہوتی پھر رہی تھیں۔۔۔
ابھی ابھی شام انہی کے پاس سے ہوکر آتا سیدھا عائل کے کمرے کی طرف جارہا تھا جو آج دیر سے پولیس اسٹیشن جانے کا ارادہ بنائے ہوئے ہنوز کمرے میں بند تھا۔
”شام جی۔۔۔۔۔؟؟؟“ معاً راشدہ پیچھے سے آواز لگاتی شام کو اپنی جانب پلٹنے پر مجبور کرگئی۔
”یہ آپکا فریش فروٹ والا جوس۔۔۔۔“ مسکرا کر بولتی وہ قریب چلی آئی تو شام نے ایک بھرپور نگاہ اس پر ڈالتے ہوئے سرجھٹکا پھر ٹرے کے بیچ رکھا گلاس اٹھاتا ہوا بنا کچھ کہے وہاں سے پلٹ گیا۔
پیچھے راشدہ نے ایک مصنوعی آہ بھری تھی۔اسکے سیڑھیوں سے اوجھل ہوتے ہی وہ بھی کچن کی طرف مڑگئی۔
”کہاں چلا گیا یہ۔۔۔۔۔؟؟؟“ شام کا ابھی کمرے میں قدم پڑا ہی تھا جب عائل کی غصے تلے دبی آواز کے ساتھ ہی ایک کشن تیر کی مانند اڑتا ہوا اسکی طرف آیا۔۔۔تو بروقت خود کو بچانے کے لیے پھرتی سے ایک طرف کو جھکتا وہ جوس کے گلاس کو دبیز قالین پر گرنے سے بچا نہیں پایا تھا۔
عائل چونک کر اسے دیکھتا ہوا رک گیا پھر ایک نظر قالین میں تیزی سے جذب ہوتے جوس کو دیکھا۔
”بھائی۔۔۔۔؟؟؟کیا ہے یہ سب۔۔۔؟؟؟“ اسکی حرکت سمیت کمرے کی بکھری حالت پر چوٹ کرتا وہ کچھ حیرت سے بولا۔۔ورنہ تو عائل حقیقتاً ایک صفائی پسند انسان تھا اور دل اکتاتے پھیلاوے پر بہت کم ہی کمپرومائز کرتا تھا۔
”تم یہاں۔۔۔۔؟؟؟یونیورسٹی نہیں گئے۔۔۔؟؟؟“ جواباً خودکو کمپوز کرتے ہوئے عائل نے نرم لہجے میں پوچھا تو شام بھنویں اچکاتا اسکے مقابل آ رکا۔
”جی بالکل۔۔۔دل نہیں تھا آج جانے کا۔۔۔پر آپ مجھے یہ بتایے اتنے خراب موڈ کے ساتھ کس چیز کو ڈھونڈ جارہا تھا کہ جس کے نہ ملنے پر مجھ بےچارے کو جوس کا ایک گلاس تک نصیب نہیں ہوا۔۔۔؟؟؟“ عائل کے چہرے کے تاثرات جانچنے کی کوشش کرتا وہ آخر میں غیرسنجیدہ ہوا تو عائل کو اپنی سابقہ سرگرمی یاد آتے ہی فکر ہوئی۔
”یار وہ۔۔۔موبائل۔۔۔میراموبائل فون نہیں مل رہا کہیں۔۔۔ابھی یہی پر رکھا تھا میں نے۔۔پر پتا نہیں پھر ایکدم سے کہاں چلا گیا۔۔۔؟؟؟مجھے باسط کو ایک ضروری کال بھی کرنی تھی۔۔۔پر۔۔۔۔“ پلٹ کر پھر سے سائیڈ ٹیبل کے کھلے درازوں میں ہاتھ ڈالتا وہ اپنی بے چینی کا حقیقی جواز اس سے چھپا گیا تھا۔
”ریلکس آفیسر صاحب ریلکس۔۔۔۔اتنا ہائپر کیوں ہورہے ہیں یار۔۔۔؟؟ میں ہوناں ڈھونڈ دیتا ہوں آپکا موبائل فون۔۔۔“ عائل کو تندہی سے چیزیں کھنگالتا دیکھ شام اسے تسلی دیتا ہوا بیڈ کے دوسری طرف ہوا تھا۔
”یہ۔۔۔یہ دیکھیں۔۔۔یہ رہا۔۔۔۔“ کچھ دیرتک ادھر ادھر ڈھونڈنے کے بعد شام جیسے ہی بیڈ کے نیچے جھکا تو وہاں موبائل فون الٹا پڑا دیکھ فوراً اسے پکڑتے ہوئے وہ بول پڑا۔عائل چونک کر سیدھا ہوتا اگلے ہی پل اسکی جانب لپکا۔
اٹھنے سے پہلے غیرارادی طور پر شام کی نگاہیں ذرا سی آگے پڑی ادھ جلے سگریٹ سے بھری ایش ٹرے پر گئیں تو چونک گیا۔
یہ نہیں تھا کہ عائل نے کبھی سگریٹ نوشی نہیں کی تھی۔۔۔لیکن جب کرتا تو شدید ڈپریشن کا شکار ہوکر کرتا۔
”اوہ۔۔۔یہ یہاں پڑا تھا۔۔پر میں نے تو یہاں نہیں رکھا تھا۔۔۔؟؟؟“ عائل کچھ حیرت سے گویا ہوا تو شام سر جھٹک کر کھڑا ہوتا موبائل فون اسکے ہاتھ میں پکڑاگیا۔
”آپکی یادداشت سے صاف صاف پتا چل رہا ہے کہ آپکو اس عمر میں ایک عدد بیوی کی اشد ضرورت ہے۔۔۔برائے مہربانی اپنی اس محرومی کو جتنا جلدی ممکن ہوسکے دور کرلیں ورنہ کثرت سے سگریٹ نوشی کی عادت پڑجائےگی۔۔۔۔“ گھٹنوں کی طرف جینز پر سے نایدیدہ گرد کو جھاڑتا وہ دھیرے سے ہنسا۔
”شام۔۔۔۔۔“ اپنی کھولتی پول پر لب بھینچ کر پل بھر کو خجل ہوتا عائل اگلے ہی لمحے اسے تنبیہی انداز میں ٹوک گیا۔
”اچھا اوکے اوکے۔۔۔چلیں بتائیں کیا پرابلم ہے۔۔۔؟؟؟ معذرت خواہانہ انداز اپناتا وہ ایکدم سے سنجیدہ ہوا تو عائل نے بالوں میں ہاتھ چلاتے گہرا سانس بھرا۔
”تم جانتے ہو۔۔۔پھر بھی مجھ سے یہ سوال پوچھ رہے ہو۔۔۔“ تھکے ہوئے انداز میں پائنتی پر براجمان ہوتا وہ دھیمے لہجے بولا۔
”ہہمم تو یعنی معاملہ عشق محبت کا ہے جسے کچھ دیر پہلے آپ مجھ سے خوامخواہ میں چھپائے پھر رہے تھے۔۔۔؟؟؟“ اسکے ساتھ لگ کر بیٹھتے ہوئے شام نے نرمی سے پوچھا تو اسکے اتنے درست اندازے پر عائل نے ہاتھوں میں موبائل فون گھوماتے ہوئے ہولے سے اثبات میں سر ہلایا۔
”اندازہ ہے مجھے آپکی پریشانی کا۔۔۔بخوبی اندازہ ہے پر بھائی آپ مانیں نہ مانیں۔۔۔موم کے ساتھ ساتھ ڈیڈ بھی آپکے خلاف اس مخالفت میں برابر کے شریک ہیں۔۔۔بیلیومی۔۔۔۔“ ہاتھ کی مٹھی بنا کر گھٹنے پر جماتا وہ مضبوط لہجے میں بولا تو اس حقیقیت پر یقین نہ کرتے ہوئے عائل نے گردن موڑ کر شام کی طرف دیکھا۔
”ایسا کچھ نہیں بس وہم ہے تمھارا۔۔۔۔حاویہ اور میرے رشتے کے معاملے میں ڈیڈ نے خود میرے سامنے اپنی رضامندی ظاہر کی تھی۔۔۔۔“ موبائل سائیڈ پر رکھتا وہ پریقین لہجے میں بولا تو عائل کو ڈگمگاتا نہ دیکھ شام کھڑا ہوتا اسکے سامنے آگیا۔یقیناً اسے عائل کا حسن صاحب کی حمایت میں بولنا کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا۔
”یہی تو غلط فہمی ہے آپکی۔۔۔جسٹ رضامندی ظاہر کرنے سے کیا ہوتا ہے یار۔۔۔؟؟؟بندہ عملی طور پر کچھ کرکے دکھائے تب اصل بات بنتی ہے۔۔۔اور جہاں تک مجھے یقین ہے ڈیڈ یہ کبھی بھی نہیں ہونے دیں گے۔۔۔۔بہتر ہے اپنے لیے خود سے کوئی اسٹینڈ لیں آپ۔۔۔ورنہ سب ختم ہوجائے گا۔۔۔۔۔“ بےساختہ ہاتھ کی پشت ہتھیلی پر مارتا وہ جذباتی پن سے گویا ہوا تو اسے دیکھ کر رہ گیا۔آنکھوں میں لالی سی ابھرنے لگی تھی۔
”یار وہ سخت ذہنی اذیت کا شکار ہے۔۔۔کھل کر کچھ کہہ بھی نہیں پارہی مجھ سے لیکن میں جانتا ہوں۔۔۔میں جانتا ہوں اسے میری ضرورت ہے۔۔۔لیکن میری بدقسمتی یہ ہے کہ میں چاہ کر بھی اسکے لیے کچھ نہیں کرپارہا ہوں۔۔۔کچھ بھی نہیں۔۔۔۔“ کہتے ہوئے شدت سے پیشانی مسلتا وہ شدید بےبس دکھائی دے رہا تھا۔شام نے اسکی حالت کو دیکھتے گہرا سانس بھرا۔
”شدید ناپسند ہے مجھے ایسی محبت جو انسان کو بے بسی کی آخری حد پر لا چھوڑے اور وہ آزاد ہوتے ہوئے بھی خود کو ایک مجبور قیدی کی مانند محسوس کرے۔۔۔سچ بتا رہا ہوں بھائی اگر آپکی جگہ میں ہوتا ناں تو اتنی مخالفت کے باوجود بھی دماغ کی بجائے صرف اپنے دل کی سنتا۔۔۔چپ کرکے لڑکی سے نکاح کرتا اور پھر اسے پورے پروٹوکول کے ساتھ گھر لے کر آتا۔۔۔پر مسئلہ یہ ہے کہ مجھے محبت ہی تو نہیں ہوتی جس کے لیے اتنے سب بکھیرے کرنے پڑتے ہیں۔۔۔۔“ وہ اسکے سامنے ہچکچائے بنا اپنی فطرت کا کھلم کھلا اعتراف کررہا تھا۔عائل نے ضبط سے لب بھینچتے ہوئے شام کی جانب دیکھا جس کی ہر بات اسکے دل میں گھر کر رہی تھی جبکہ کسی کام سے وہاں آتی عائمہ بیگم نے بھی شام کا تلخ لہجہ بخوبی باور کیا تھا۔
”یہ اکیلے کیا کیا پٹیاں پڑھائی جا رہی ہیں میرے بیٹے کو۔۔۔؟؟؟ہہہمم۔۔۔۔“ کچھ غصے سے پوچھتی وہ دونوں کو چونکا گئیں۔پھر کمرے پر بھرپور نگاہ ڈالتی لب بھینچ گئیں۔
”پٹیاں نہیں پڑھا رہا موم۔۔۔بھائی کو صرف حقیقت بتا رہا ہوں ۔۔۔اب وہ ایکسپٹ کریں نہ کریں یہ تو انہی پر ڈیپنڈ کرتا ہے۔۔۔۔“ صاف گوئی سے بولتا وہ اب بھی نہیں ہچکچایا تھا۔اسکے مسکاتے لہجے پر عائمہ بیگم کی تیوری مزید گہری ہوئی۔
”تمھیں اسکی باتوں پر کان دھرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے عائل۔۔۔اسکا تو دماغ خراب ہوگیا ہے پڑھ پڑھ کر۔۔۔“ سنجیدگی سے بولتے انھوں نے عائل کو اپنی جانب قائل کرنا چاہا تو وہ لب بھینچے انھیں دیکھنے لگا۔
”سن لیں بھائی۔۔۔دماغ خراب ہوگیا ہے میرا۔۔۔کیا بات کہی ہے موم نے۔۔۔۔۔“ بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ ہنوز غیرسنجیدہ تھا جبکہ عائمہ بیگم اسکی ڈھٹائی پر ضبط کرکے رہ گئیں۔
”میری ایک بات کان کھول کر سن لو۔۔۔۔اب اس لڑکی یاں اسکے رشتے کی بابت یہاں پر کوئی ذکر نہیں ہوگا۔۔۔۔سنا تم دونوں نے۔۔۔جب دیکھو اس معاملے کو لے کر ہر زور کوئی نہ کوئی نئی پٹاری کھل ہی جاتی ہے۔۔۔بس ختم کرو یہ قصہ۔۔۔“ اپنا رعب جمانے کو وہ کڑوے لہجے میں بولیں تو عائل کھڑا ہوتا ان کے مقابل آ کر رک گیا۔
”موم یہ حاویہ اور عائل کا قصہ اتنی آسانی سےختم نہیں ہونے والا جتنا آسان آپکو لگ رہا ہے۔۔۔ابھی تو محض گزارشات سے کام چلا رہا ہوں لیکن کل کو اگر ضرورت پڑی تو میں انتہائی قدم اٹھانے سے دریغ نہیں کروں گا۔۔۔۔۔“ سرد مہری سے بولتا وہ اگلے ہی پل پلٹ کر جلدی سے کیز اور موبائل اٹھاتا وہاں مزید رکا نہیں تھا۔نتیجتاً عائمہ بیگم نے مڑ کر سخت چتونوں سے شام کو گھورا تو جواب میں آنکھ دبا کر مسکراتا ہوا وہ بھی کمرے سے نکل گیا۔۔۔جبکہ اسکے نہ سدھرنے پر عائمہ بیگم کو حقیقتاً افسوس ہوا تھا۔۔۔۔
#####
”آئے ہائے خالہ۔۔۔؟؟؟آخر ایسی بھی کیا کمی دکھائی دے گئی ہے میرے ہیرے جیسے بھائی میں جو بنا کوئی لحاظ مروت رکھے آپ ہمارے منہ پر ہی انکار کیے چلی جارہی ہیں۔۔۔؟؟؟“ وہ اپنے دھیان میں سر پہ پڑی چادر درست کرتی اندر کو آرہی تھی جب سماعتوں سے ٹکراتی تیز تلخ آواز پر ٹھٹک کر رکی۔دل کی دھڑکنیں گھبراہٹ تلے بےاختیار تیزتر ہوئی تھیں۔۔۔
ہوتیں بھی کیوں نہ۔۔۔آخر کو چوبیس گھنٹوں بعد اسکے بےچین کرتے خدشے حقیقت بن کر اسے پکار جو رہے تھے۔
”پہلے تو میرا بچہ میرا بچہ پکارتے آپکا منہ نہیں تھکتا تھا۔۔۔اب ایکدم سے ایسی کیا کاروائی پڑگئی کہ آپ لوگوں نے بختی کی بابت خود کے رویے ہی برے کر ڈالے ہیں۔۔۔۔؟؟؟“ بختی کے حق میں نخوت سے بولتی شکیلہ کی آواز مزید تیز ہوئی تھی۔
ضبط کے چکر میں حاویہ نے بیگ کی بھوری اسٹرپ پر اپنی گرفت مزید سخت کرلی۔اگلے ہی پل خشک لبوں پر زبان پھیرتی وہ مرے مرے قدموں سے آگے بڑھی تھی۔
”جو جس قابل ہو اسے اتنی ہی عزت دی جاتی ہے شکیلہ۔۔۔بہتر ہے دبی باتوں کو دبا ہی رہنے دو اور بنا کوئی تماشہ لگائے اپنے ہیرے جیسے بھائی کو لے کر چپ چاپ یہاں سے چلی جاؤ۔۔۔۔“ بختی کی موجودگی میں بڑے ضبط سے اسکی بڑی بہن کی باتیں سنتی نفیسہ بیگم نے بیٹھے سے اٹھتے جان چھڑانے والے انداز میں کہا تو صوفے پر ڈھیٹ بن کر بیٹھے دونوں بہن بھائیوں کے نقوش تن سے گئیں۔ایک بار پھر سے منہ پر پڑنے والی صاف دھتکار انکے دل ہی تو جلاگئی تھی۔
”ارےبھئی اب تو حد ہی ہو گئی۔۔۔صاف صاف نکل جانے کو بول رہے یہ تو اپنے گھرسے۔۔۔ارے خالہ سمجھتی کیوں نہیں ہو تم۔۔۔؟؟بختی محبت کرتا ہے تمھاری لڑکی سے۔۔۔اور تو اور شریفانہ طور طریقے سے اسے اپنے گھرکی عزت بناکرعمر بھر کے لیے ساتھ رکھنا چاہتا ہے۔۔۔بھلا اور کیا چاہیے تم لوگوں کو۔۔ یوں گھر بیٹھے بیٹھائے ایک بہترین رشتہ مل رہا ہے۔۔۔کم از کم بڑی لڑکی کی طرح رشتوں کے چکروں میں سالوں پاپر تو نہیں بیلنے پڑے گے۔۔۔۔“ وہاں آتی حاویہ کو دیکھ کر بھی جہاں بال بچوں والی شکیلہ جذباتی ہوکر طنزوں کی مار مارتی چلی گئی وہیں اسے دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوتا دیکھ بختی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔گو کہ حاویہ خود کو مضبوط ظاہر کرنے کی کامیاب کوشش میں نفرت سے اسے دیکھتی اگلے ہی پل اپنی نظریں پھیرگئی تھی لیکن اس کے باوجود بھی بختی اسکی آنکھوں میں گھلا خوف بھانپ چکا تھا۔
اتنی سنجیدہ صورتحال پر بھی اسکے لبوں پر دھیرے سے ایک کمینی مسکراہٹ اتری۔
”بس کردو شکیلہ۔۔۔خدا کا واسطہ ہے بس کردو اب تم۔۔۔۔اپنی بچی کے لیے رشتوں کے معاملے میں مجھے سالوں پاپر بیلنا منظور ہے لیکن اس عیب لگے انسان سے رشتہ جوڑنا قطعی قبول نہیں ہے۔۔۔سنا تم نے۔۔؟؟“ نفیسہ بیگم نے عاجز آتے بےاختیار ان کے آگے ہاتھ جوڑے تو انکے سخت انکار پربختی ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچتا اٹھ کھڑا ہوا۔اپنے بھائی کی اصل کرتوتوں سے ہنوز انجان شکیلہ بھی منہ ناک پھلاتی ساتھ ہی کھڑی ہوگئی۔
”یقیناً آپ نے اسکے عاشق کے ساتھ پکی کمٹمنٹ کر رکھی ہے خالہ تبھی تو اتنے دھڑلے سے مجھے انکار پر انکار کیے جارہی ہیں۔۔۔؟؟؟ظاہری سی بات ہے جب پہلے سے ہی ایک بندہ نظروں میں ہوگا تو دوسرے کو بنا سوچے سمجھے ٹھکرایا ہی جائے گا ناں۔۔۔“ حاویہ کی جانب دیکھ کر بےجھجھک زہر اگلتا وہ جہاں نفیسہ بیگم سمیت شکیلہ کو اپنے لفظوں سے حیران کرگیا وہیں اس کے سلگتے لہجے پر حاویہ کا دل ڈوب کر ابھرا۔
آج جانے کیوں ایک ایک کرکے اسکے سارے بدترین خدشے سچ ثابت ہوتے چلے جارہے تھے۔
”ایسے کیا دیکھ رہی ہیں خالہ۔۔۔؟؟؟باربی ڈول نے نہیں بتائے نہیں اپنے کارنامے۔۔۔؟؟؟چہ۔۔ارے وہیں پولیس آفیسرجس کے ساتھ آپ خود بھی دن دیہاڑے ہسپتال کے چکر کاٹتی رہی ہیں۔۔۔اسی کی بات تو کررہا ہوں میں بھی۔۔۔پکا عاشق ہے وہ آپکی چھوٹی بیٹی کا۔۔اور کہیں نہ کہیں یہ بھی نادانی میں اپنا دل اسے دے بیٹھی ہے۔۔۔“ نفیسہ بیگم کو خود کی جانب الجھی ہوئی ساکت نگاہوں سے تکتا پاکر وہ مزید گویا ہوا تو پوری بات سمجھ آنے پر نفیسہ بیگم کے اعصاب کو جھٹکا سا لگا۔
”اللہ توبہ۔۔۔اسکا ایک عدد عاشق بھی ہے؟؟؟اور ہم دیکھو کتنا معصوم سمجھتے تھے اس لڑکی کو۔۔۔توبہ توبہ۔۔۔اصل حیرت تو مجھے تم پر بھی ہورہی ہے بختی جو سب جانتے ہوئے بھی تم ایسی بدکردار لڑکی کو اپنا بنانے کے لیے ان کے ہاتھوں مفت کھاتے ذلیل ہوئے جارہے ہو۔۔۔اب ایسی بھی کیا اندھی محبت کرنا کہ بندہ اچھے برے میں کوئی فرق ہی نہ کر پائے۔۔۔چھوڑو پرے۔۔۔۔“ اس نئے انکشاف پر بےساختہ کانوں کو ہاتھ لگاتے شکیلہ نے اگلے پچھلے سارے حساب ایک ساتھ ہی بےباک کرنا اپنا فرض سمجھا تو اپنی ذات پر یوں بلاوجہ کیچڑ اچھلتے دیکھ حاویہ کی آنکھیں تیزی سے بھیگتی چلی گئیں۔۔۔
جبکہ ایسی ضبط توڑتی باتوں پر نفیسہ بیگم تو تڑپ ہی گئی تھیں۔
”یہ کیا بکواس کررہے ہو تم۔۔۔؟؟؟جب میرے سامنے اپنا آپ منوا نہیں پائے تو اب سیدھا بہتان طرازی پر اترآئے ہو۔۔۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ تم کتنی کمینی فطرت کے مالک ہو شرم آنی چاہیے تمھیں ایسی بےغیرتی دکھاتے ہوئے۔۔۔۔۔“ چلا کر بولتی وہ براہ راست بختی سے مخاطب ہوئی تھیں۔جواب میں وہ خباثت سے مسکرایا۔
”شرم۔۔۔۔؟؟کیسی باتیں کررہی ہیں آپ خالہ۔۔۔؟؟؟بھلا حقیقیت سے پردہ اٹھانے پر کیسی شرم۔۔۔۔؟؟پوچھیے ذرا اپنی صاف ساوتری بیٹی سے۔۔۔ کیا یہ چھپ چھپ کر ملتی نہیں رہی اس دو ٹکے کے پولیس آفیسر سے۔۔۔؟؟کبھی کالجوں میں تو کبھی ہوٹلوں کے باہر۔۔۔اور تو اور یہ دونوں فلیٹ پر بھی تنہائی میں کئی ملاقاتیں کر چکے ہیں۔۔۔۔۔“ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے اسنے ہر شے بڑھ چڑھ کر باورکروائی تھی انھیں۔
یہ سن کر شکیلہ کا ہاتھ اب کی بار حیرت سے اسکے لبوں پر پڑا تھا جبکہ اسکی پست ذہنیت کا اندازہ لگاتی حاویہ کا دم گھٹنے لگا تو احتجاجاً اسکا سرخودبخود نفی میں ہلتا چلا گیا۔
”نہیں ماما۔۔۔ایسا بالکل بھی نہیں ہے ۔۔۔یہ۔۔یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔۔اپنی خودساختہ باتیں بڑھا چڑھا کر آپکے سامنے پیش کررہا ہے میرا یقین کریں۔۔۔۔“ نفیسہ بیگم کی نظروں کا رخ اپنی جانب دیکھ کر مضبوط لہجے میں بولتی حاویہ کی آنکھیں بہنے لگی تھیں۔اپنی معصوم محبت کی یوں سرعام برے لفظوں میں تشہیر ہوتے دیکھ اسکا دل بھی اذیت سے پھٹنے کو ہوا تھا۔
اپنی بیٹی کی صفائی پر نفیسہ بیگم کے دل نے چیخ کر حاویہ کے حق میں گواہی دی تھی۔اگلے ہی پل انھوں نے تنفر سے بختی کی جانب دیکھا تو نفیسہ بیگم کو حاویہ پر یقین کرتا دیکھ وہ پل بھر کو گڑبڑاگیا۔
”خدا قسم میں نے خود اپنی ان گنہگار آنکھوں سے اسے اس دو ٹکے کے انسپکٹر کی بانہوں میں جھولتے دیکھا ہے۔۔۔لیکن اسکی بدکرداری کے باوجود بھی میں اسے دل و جان سے اپنانے کو تیار ہوں۔۔بس آپ مان جائیں تو سارے مسئلے ہی حل ہوجائیں گے۔۔۔۔“ قدرے بےادبی سے آنکھوں دیکھا حال بیان کرتا وہ حقیقتاً نفیسہ بیگم کو سلگتے انگاروں پر گھسیٹ چکا تھا۔
”بس بہت ہوا۔۔۔۔اب میں اپنی بیٹی کی بابت تمھارا گھٹیا پن ہرگز برداشت نہیں کروں گی۔۔۔نکل جاؤ میرے گھر سے۔۔۔۔دفع ہوجاؤ۔۔۔۔“ اسکی بے جا دلیلوں پر بپھڑ کر آگے بڑھتی وہ بختی کو دونوں ہاتھوں سے پرے دھکا دے چکی تھیں۔اس دوران سر میں اٹھتی درد کی ٹیس بےساختہ تھی۔
”ہائے میرا بھائی۔۔۔۔“ نتیجتاً وہ لڑکھڑا کر دو تین قدم پیچھے ہوا تو شکیلہ نے دہائی دیتے ہوئے اسے بازو سے پکڑ کر سنبھالا پھر قدرے غصے سے نفیسہ بیگم کی جانب دیکھا۔حاویہ بھی کندھے سے بیگ اتار کر نیچے پھینکتی جلدی سے نفیسہ بیگم کیطرف لپکی تھی۔
”ہاں ہاں جارہے ہیں۔۔۔۔ہمیں بھی کوئی شوق نہیں ہے بی بی یہاں رکنے کا۔۔۔سنبھال کر رکھو اپنی بدکردار لڑکی۔۔۔چل بختی بہت بےعزتی کروالی ان احسان فراموش لوگوں کے ہاتھوں۔۔۔اور اچھا ہی ہوا کہ تُو اماں کو اپنے ساتھ نہیں لے کر آیا ورنہ ان کی کرتوتوں پر اماں کی طبیعت سنبھلنے کی بجائے مزید بگڑ جاتی۔۔ہونہہ۔۔۔“ بختی کو ہنوز بازو سے تھام کر کھڑی شکیلہ دوسرا ہاتھ ناچا کر بدلحاظی سے گویا ہوئی تو ضبط کے مارے نفیسہ بیگم کا تنفس بگڑنے لگا۔
”خدا کا واسطہ ہے اب نکل جائیں آپ لوگ یہاں سے۔۔۔۔۔چھوڑ دیں ہمیں ہمارے حال پر۔۔۔۔نکلیں۔۔۔۔“ نفیسہ بیگم کو کندھوں سے تھامتی وہ روتی ہوئی چیخ کر بولی تو ان دیکھے شعلوں کی زد میں آیا بختی ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ شکیلہ کی گرفت سے چھڑواگیا۔پھر چلتا ہوا دو قدم قریب آیا تو نفیسہ بیگم اسے غصے سے گھورتی اس کے آگے مزید تن کر کھڑی ہوگئیں۔۔۔مگربختی کی آگ برساتی نظریں ہنوز حاویہ کے بھیگے چہرے پر مرکوز تھیں۔
”پہلے بھی وارنگ دی تھی ناں تمھیں کہ اپنے گھر والوں کو ہمارے رشتے کے لیے رضا مند کرلینا۔۔۔۔پر تم اپنی ضد سے ذرہ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹی۔۔۔یہ اچھا نہیں کیا تم نے حاویہ فیضان نہ میرے ساتھ اور نہ ہی اپنے ساتھ۔۔۔بس ایک۔۔ایک عدد موقعے کا متلاشی ہوں میں ۔۔۔اور جیسے ہی وہ موقع میرے ہاتھ لگا تو تمھاری نام نہاد عزت کی دھچیاں بکھیرنے میں پل بھرکے لیے بھی نہیں ہچکچاؤں گا ۔۔۔۔وعدہ رہا یہ میرا۔۔۔۔“ شہادت کی انگلی اٹھاکر قدرے دیدہ دلیری سے گویا ہوتا وہ نفیسہ بیگم کی موجودگی میں بھی دھمکی دینے سے نہیں ہچکچایا تھا۔نفیسہ بیگم کے شانوں پر بےاختیار اپنی پکڑ سخت کرتی حاویہ کے آنسوؤں میں روانی آئی تھی۔
”ابھی میں زندہ ہوں۔۔۔دیکھتی ہوں میرے ہوتے ہوئے تم میری بیٹی کا کیا اکھارلیتے ہو۔۔۔۔“ پھنکار کر چیلنجنگ انداز میں بولتی وہ بختی کے ارادوں کو مزید بھڑکا گئیں۔
”چلو بختی۔۔۔۔“ تب سے تماشہ دیکھتی شکیلہ نے آگے بڑھتے ہوئے کہا تو ایک زہریلی نگاہ دونوں ماں پر ڈال کر وہ پلٹا پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔شکیلہ بھی نخوت سے ہنکارہ بھرتی وہاں سے پلٹ گئی۔
”ماما۔۔۔۔اس شخص نے گزشتہ روز بھی مجھے اپنے دوست کی دکان پر دھمکایا تھا۔۔۔مجھے ڈر ہے کہ وہ کہیں کچھ کر نہ دیں۔۔۔“ ان دونوں کے جاتے ہی سامنے آتی حاویہ نے نم پلکیں جھپکاتے ہوئے نفیسہ بیگم کو تب سے پہلی بار اس سنگین معاملے سے آگاہ کیا تو لب بھینچتی وہ اسے اپنے سینے سے لگا گئیں۔
نئے نئے انجان وسوسوں کی بابت سوچتے جہاں حاویہ کا دل مزید گبھرایا تھا وہیں نفیسہ بیگم کی نم آنکھوں میں پریشانی اور فکر کی ملی جلی کیفیت مزید بھیگنے لگی۔گہری سوچوں میں جاتے ہوئے انکا حرمین کو اس بدمزگی کی بابت آگاہی دلانے کا یقیناً کوئی ارادہ نہیں تھا۔
####*
اپنے نکاح کے بعد سے وہ ڈھلتی شام کو اب حویلی واپس لوٹا تھا اور خنساء بیگم سے ملے بنا ہی سیدھا اپنے کمرے کی طرف لپکا۔محبت کا سوگ منانے کو عیاش دوستوں کے سنگ جاگ کر رات گزارنے کے سبب اسکے مضبوط اعصاب پر اس پل صاف تھکاوٹ اتری ہوئی تھی۔
دروازہ کھول کر اندر آتے ہوئے سالار خان کی سرخ آنکھوں نے ایکدم سے نیم اندھیرے کا سامنا کیا تھا۔بالکل ایسا ہی اندھیرا خود اسکے اندر بھی پھیلا ہوا تھا۔دروازے بند کرتے ہوئے پل بھرکو انگلیوں تلے آنکھیں مسلتا وہ سیدھا اپنے بیڈ کی طرف آیا۔اس دوران نیند اس پر مہربان ہونے کو قدرے اتاؤلی ہورہی تھی۔
پیروں سے جوتے اتار کر سائیڈ پر رکھتا وہ اگلے ہی پل بیڈ پر گرنے کے سے انداز میں نیم دراز ہوا تھا جب سماعتوں میں گھستی نسوانی چیخ سمیت کسی نازک وجود کا ساتھ لگ کر جھٹکا کھانا سالار کو پل بھرکے لیے بوکھلاہٹ کا شکار کرگیا۔
جہاں کچی نیند سے بیدار ہوتی حلیمہ گھبرا کر منہ پر ہاتھ رکھتی ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹی تھی وہیں سالار خان سرعت سے سائیڈ لیمپ آن کرتا پیچھے پلٹا۔
حلیمہ بیڈ کے کنارے پر سمٹی بیٹھی سہمی نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔گو کہ چہرہ سادہ حسن لیے ہوئے تھا لیکن وہ گزشتہ شب سے اب تک نکاح کے سرخ جوڑے میں تھی۔سالار خان کا دماغ بھک سے اڑگیا۔
”تم۔۔۔۔؟؟؟تم اس وقت میرے کمرے میں۔۔۔میرے ہی بیڈ کے اوپر کیا کررہی ہو۔۔۔؟؟؟بولو۔۔۔کس نے اجازت دی تمھیں یہاں گھسنے کی۔۔۔اور ایسی جرات کرنے کی۔۔۔؟؟؟“ قدرے بلند آواز میں تلخی سے پوچھتا ہوا بیڈ سے نیچے اترا اور مٹھیاں بھینچے گھوم کر اسکے سر پر آکھڑا ہوا۔
جس حقیقیت کو اپنی سوچوں میں تسلیم کرنے کے لیے وہ خود سے ہی نظریں چراتا پھر رہا تھا اب وہ ظاہری اصلیت بن کر اسکی آنکھوں کے سامنے پورے حق سے موجود تھی۔
جواب میں حلیمہ نے خاموش نم آنکھوں سے اسکے تنے نقوش دیکھے۔
”خ۔۔خالہ حضور نے بھیجا ہے مجھے یہاں۔۔۔اور اس سے بھی بڑا جواز یہ ہے کہ اب ہمارا نکاح ہوچکا ہے۔۔۔فقط کزن ہی نہیں اب میں آپکی بیوی بھی ہوں۔۔۔۔“ ہمت کرکے بولتی وہ سالار کو چند پلوں کے لیے تھمنے پر مجبور کرگئی۔
سنسناتے دماغ پر زور ڈالنے کہ بعد اسے بےاختیار وہ اذیت دیتے پل یاد آئے تھے جب خنساء بیگم نے غیرمتوقع طور پر اس لڑکی کی اس کمرے تک رخصتی کا دھماکہ کر ڈالا تھا۔نکاح کے کاغذات پر تو اس نے اپنا دل تھام کر جیسے تیسے دستخط کردیے تھے۔۔۔لیکن پھر ستم پر ستم برداشت کرنا اسکے لیے مشکل ترین ہوا تو ضبط کھوتا وہ حویلی سے ہی نکل گیا۔
بھلا وہ یہ بات کیسے بھول گیا تھا کہ اپنی عزیز از جان ماں کی بےجا منمانیوں کے سبب دھڑکنوں کو ناقابل برداشت وہ لڑکی اس کی زندگی کے ساتھ ساتھ اسکے کمرے میں زبردستی داخل کی جا چکی تھی۔۔۔اور اس عمل کے پیچھے انکے جو مقاصد پوشیدہ تھے وہ انھیں بھی اچھے طریقے سے سمجھ رہا تھا۔
”اترو۔۔۔۔اترو بیڈ سے نیچے اور نکلو میرے کمرے سے۔۔۔۔؟؟؟“ معاً حلیمہ کو بازو سے دبوچ کر جارحانہ طریقے سے بیڈ سے نیچے اتارتا وہ دانت پر دانت جمائے بولا۔
”چ۔۔چھوڑیں خان۔۔۔آپ ایسا نہیں کرسکتے میرے ساتھ۔۔۔۔میرا نہیں تو کم از کم اپنی اماں حضور کی طبیعت کا ہی خیال کرلیں۔۔۔وہ ابھی تک پوری طرح سےسنبھلی نہیں ہیں۔۔۔“ بری طرح سے احتجاج کرتی وہ سالار خان کو اپنے لفظوں سمیت زہر ہی تو لگی تھی۔
اگلے ہی پل اسنے رک کر اسکے آنسوؤں سے بھیگتے رخسار دیکھے۔
”تم نے جان بوجھ کر مجھے اس عذاب میں مبتلا کیا ہے ناں۔۔۔؟؟؟میری قربت پانے کے لیے میری ہی اماں حضور کو میرے خلاف لے آئی تم۔۔۔۔“ اسکے بازو پر بےاختیار اپنی گرفت سخت کرتا وہ سلگ کر گویا ہوا۔لہجہ اس بار مدھم تھا۔
”نن۔۔نہیں خان۔۔۔آپ۔۔آپ غلط۔۔۔۔“ تکلیف پر ضبط کرتی وہ نفی میں سرہلاتی بولنا چاہ رہی تھی مگر مقابل اسے صفائی کا موقع دینے کو تیار ہی کہاں تھا۔۔۔
”مجھے پانے کی خاطر تم نے میری اماں حضور کو میرے خلاف ایک مہرے کی طرح استعمال کیا۔۔۔اور پھر اماں حضور بھی اپنی ضد پوری کرنے کے لیے مجھے میری مرضی کے خلاف ایک مہرے کے طور پر استعمال میں لائیں۔۔لیکن ان سب میں برباد کون ہوا۔۔؟؟؟میں۔۔۔میری بےبس ذات۔۔۔۔“ اب کہ اسے دونوں بازوؤں سے تھام کر اپنے اندر کا زہر باہر اگلتا وہ تقریباً سبھی سے کافی حد تک متنفرنظر آرہا تھا۔
”میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔۔۔۔“ نم پلکوں کو جھپکاتی وہ ایک بار پھر سے سالار خان کے سامنے اعتراف کرگئی۔
”بسسس۔۔۔۔۔“ اسکی ایک ہی گردان سے بری طرح چڑتا وہ اسے اپنی اورھ جھٹکا دے گیا۔اسکے یوں ٹوکنے کے انداز پر حلیمہ کے لبوں سے بےاختیار سسکی نکلی تھی۔دل تو پہلے ہی شدتوں سے دھڑکتا اسکا تنفس بگاڑ رہا تھا۔
”میری ایک بات کان کھول کر سن لو تم حلیمہ۔۔۔۔جتنے آنسو تم نے مجھے حاصل کرنے کے لیے بہائے ہیں ناں۔۔۔اس سے کہیں ذیادہ آنسو اب تم مجھ سے نجات پانے کے لیے بہاؤ گی۔۔۔مگر جانتی ہو تمھاری سب سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی۔۔۔۔؟؟؟تمھیں چاہ کر بھی مجھ سے نجات نہیں مل پائے گی۔۔۔مرتے دم تک نہیں۔۔۔سنا تم نے۔۔۔۔؟؟؟“ سرد مہری سے بولتے ہوئے سالار نے بےدردی سے اسے دبیز قالین پر دھکیلا تو بمشکل سنبھلتی حلیمہ نے پلٹ کر بھیگی نگاہوں سے اسکا بےتاثر چہرہ دیکھا۔اگلے ہی پل ٹانگیں سمیٹ کر اسکی جانب رخ کرتے ہوئے اسکے لبوں پر بےاختیار زخمی سی مسکراہٹ اتری۔
”مجھے ایسی نجات چاہیے بھی نہیں خان جسکا انجام آپکی جدائی کی صورت میرے دامن میں آگرے۔۔۔۔آپکی قہر بھری قید قبول ہے۔۔۔پر اذیت دیتی آزادی ہرگز منظور نہیں ہے۔۔۔۔“ والہانہ انداز میں اسکے تنے نقوش دیکھتی وہ مضبوط آواز میں بولی تو اسکی اس قدر ڈھٹائی پر سالار اسے دیکھ کر رہ گیا۔اس کمزورلڑکی کا اطمینان اسکا سکون چھین رہا تھا۔نیند تو پہلے ہی آنکھوں سے روٹھ کر کوسوں دور جاچکی تھی۔
”پھرمرو شوق سے یہیں پر۔۔۔۔۔“ اسے فوری طور سمجھ نہ آیا کہ جواب میں اسکا دل چھلنی کرنے کے لیے اب کونسا طنز کا تیراسکے سینے میں اتارے جبھی نفرت سے چند الفاظ بولتا کمرے سے ہی باہر نکل گیا۔یقیناً اب کی بار اسکا ارادہ دوستوں کی سنگت میں رات بیتانے کی بجائے ویران سڑکیں ماپنے کا تھا۔۔۔پیچھے حلیمہ بےارادہ ہی اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو بہتی آنکھوں سے تکتی چلی گئی۔جانے اسکی قسمت میں خوشیوں کا بکھیرا تھا بھی کہ نہیں۔۔۔؟؟؟
####
شام کی طرف سے دیے گئے تھری لئیرڈ نیکلس کو اپنی دوسری چیزوں کے ساتھ محفوظ کن جگہ پر سب سے چھپاکر رکھتی۔۔۔اب کہ وہ آئینے کے سامنے کھڑی خود کا گہری نظروں سے بغور معائنہ کررہی تھی۔
سانولی سی رنگت،مناسب قدوقامت،گہرے جامنی رنگ کے سوٹ میں واضح ہوتا دبلا پتلا سا فگر،کمر تک آتی سیاہ گھنے بالوں کی چوٹی،مہارت سے تراشی ہوئی بھنوؤں تلے گہری کالی آنکھیں جن کے ساتھ پلکوں کے نام پر گنتی کے صرف چند بال جڑے تھے۔تیکھی ناک پر ٹکا بڑے بڑے شیشوں والا چشمہ،بھرے بھرے ہلکے سیاہی مائل لب،پچکے گال اور دائیں گال کے بیچ و بیچ چمکتا ہوا موٹا سا کالا تل لیکن وہ اتنی حسین و جمیل تو ہرگز نہیں تھی جو قدرت نے اُسکی نظر اتارنے کے لیے یہ اتنا بڑا تل اُسے عطا کردیا تھا۔
اپنی صورت دیکھتے ہوئے بےساختہ اُسکے دل میں شکوہ ابھرا تھا۔
”تمھارا یہ خوبصورت تِل تمھارے سلونے چہرے پر بہت جچتا ہے۔۔۔اتنا کہ میں چاہ کر بھی اس پر سے اپنی توجہ نہیں ہٹاپاتا۔۔۔“ معاً کانوں میں رس گھولتی بھاری آواز اُسے اپنے بہت قریب سے سنائی دی تھی۔
بےاختیار اپنے تل کو چھوتے ہوئے وہ کھل کر مسکرائی کہ تبھی اُسکی نظریں آئینے میں دکھائی دیتے اپنے سفید دانتوں پر پڑیں جو بدقسمتی سے قدرے ٹیڑھے تھے۔
”تمھیں معلوم ہے جب تم کھل کرمسکراتی ہو تو مجھے کس قدر حسین لگتی ہو۔۔۔یونہی مسکراتی رہا کرو۔۔۔لیکن صرف میرے لیے۔۔۔“ ایک بار پھر سے وہی دلکش آواز اُسکا دل شدتوں سے دھڑکا گئی تھی۔
سیاہی مائل مگر شفاف ہونٹوں پرمعدوم پڑتی مسکان پھر سے زندہ ہوئی تھی۔
”مجھے یقین ہے کہ تم حجاب کی بانسبت کھلے بالوں میں ذیادہ دلکش لگتی ہوگی۔۔۔“ اپنی بالوں کی چوٹی کو پکڑ کر کندھے سے آگے کرتے ہوئے اسے شام کا حسرت زدہ لہجہ یاد آیا۔
”تمھارا یہ ظالم چشمہ اِن حسین آنکھوں کا حسن ہمیشہ چرالیتا ہے۔۔۔۔پلیز اسے میرے سامنے مت لگاکرآیا کرو۔۔۔“ اب کی بار آواز میں خفگی تھی اور انداز دھونس بھرا۔
کنپٹی سے لال دستہ پکڑکر چشمے کو اپنے چہرے سے الگ کرتے ہوئے اُسنے اپنی بڑی بڑی گہری سیاہ آنکھوں کو جھپکایا تھا۔
”اگر تم خود کو میری نظر سے دیکھو تو اپنے آپ کو اِس دنیا کی سب سے حسین ترین لڑکی تصور کرو۔۔۔۔“ اُسکا دلفریب لہجہ اُسکی بکھرتی دھڑکنوں کو مزید بکھیرگیا تووہ مسکراتی ہوئی خود سے ہی شرماگئی۔
”میں اتنی خوش قسمت کب سے ہوگئی جو مجھے اس قدر چاہنے والا شخص مل گیا۔۔۔؟؟؟“ خود کی جھلک آئینے میں دیکھتے ہوئے جہاں وہ اپنی قسمت پر نازاں تھی وہی اس سوال کے زیرِاثر بےیقینی کا عنصر بھی شامل تھا۔
لیکن کچھ ہی لمحوں میں وہ ذرہ بھر بےیقینی بھی اُسکے وجود میں آباد خوشیوں کے جہاں تلے دب کر رہ گئی تھی۔
”جانتی ہیں اپیہ۔۔۔؟؟؟ماما نے نسیمہ خالہ کو آپکے نکاح کے حوالے سے اپنی رضامندی دے دی ہے۔۔۔کل ہی وہ اس خبر کے ساتھ زباب بھائی کی طرف جائیں گی۔۔۔اور پھر۔۔۔۔“ چند پلوں کے سکوت کو توڑ کر اس بار اسکے اردگرد چیختی۔۔۔۔حاویہ کی آواز نہیں افکار کا سمندر تھا جسے پہلی بار میں سنتے ہی حرمین کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا تھا۔۔۔
اور پھر جواب میں جذباتی عمل کا مظاہرہ بھرپور کرتی وہ اپنی چھوٹی بہن کے سامنے کتنی آسانی سے اپنی محبت کے بنے بنائے سارے بھرم ایک حد تک توڑتی چلی گئی تھی۔۔۔
حرمین نے آئینے میں ہنوز خود کا عکس تکتے ہوئے گہرا سانس بھرا۔پھر خشک لبوں زبان پھیرتی بمشکل مسکرائی۔دل کے مچلتے جذبوں کو زبان پر لانے کی کوشش میں اسکی سیاہ آنکھوں کا رنگ مزید گہرا ہوا تھا۔
”شام۔۔۔۔؟؟؟نن نہیں۔۔۔“
”مسٹر شاہ میر حسن۔۔۔؟؟؟میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ آپ کے سنگ گزاردینا چاہتی ہوں۔۔۔کیا آپ۔۔۔زندگی بھر کے لیے مجھے اپنا نام دیں گے۔۔۔؟؟؟مجھ سے شادی کرکے اس سارے جہاں کی خوشیاں میری جھولی میں ڈالنا قبول کریں گے۔۔۔؟؟؟“ اپنے لفظوں کی ابتداء سے ہی تصحیح کرتی وہ شدت سے گدگداتے ہوئے دل پر۔۔۔اگلے ہی پل دونوں ہاتھوں تلے اپنا گلاب ہوتا چہرہ چھپاگئی۔
مثبت امیدوں کے بھنور میں بہتے ہوئے اس پل خوشی اسکے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔۔۔مگر خود کے اس قطعیت بھرے فیصلے کے انجام پر کیا یہ شرمیلی مسکراہٹیں باقی رہنی بھی تھیں کہ نہیں۔۔؟؟؟اسکا ذہن فی الوقت اس خیال سے کوسوں پرے تھا۔۔۔
####*
”اوہ میرے خدایا۔۔۔۔اتنی دیرہوگئی مجھے۔۔۔۔؟؟؟“ آفس کی عمارت کے بالکل سامنے سڑک کے کنارے کھڑی وہ یقیناً آٹو رکشے کے انتظار میں متفکر سی بڑبڑائی تھی۔آسمان کی سیاہی پل پل گہری ہوتی اسکی بےچینی میں اضافہ کررہی تھی۔
آبرو سکندر کے لیے یہ تب سے پہلی بار تھا جب ایک ساتھ کئی کاموں کے بوجھ تلے وہ رات کے گہرے ہوتے سایوں میں آفس سے باہر نکلی تھی۔یہ بھی شاہ کی جانب سے کی جانے والی بےجا کاروائی کا ہی نتیجہ تھا جو وہ اس سمے ایک نئی پریشانی سے گزر رہی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ شاہ کی ذات کو کوستی معاً وقفے وقفے سے گزرتی کتنی ہی گاڑیوں کے بیچ بے ہنگم شور مچاتا ایک آٹو رکشہ اسے اپنی جانب آتا دکھائی دیا تو آبرو کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
”رکو۔۔۔ر۔۔رکو پلیززز۔۔۔۔۔۔۔“ وہ ہاتھ کے اشارے سے روکتی رہ گئی مگر پہلے سے ہی مسافروں سے کھچا کھچ بھرا آٹو رکشہ بےپرواہ سا اسکے پاس سے گزر کر آگے نکل گیا۔
”اففف۔۔۔اب یہ کیا نئی مصیبت ہے۔۔۔؟؟؟یقیناً میری وجہ سے گھر میں ب۔۔۔۔“
”ر۔۔رابی۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کلس کر نازک مٹھیاں بھینچتی وہ بولنا چاہ رہی تھی جب اچانک اپنے پیچھے سے ابھرتی مردانہ پکار پر وہ چونک کر پلٹی۔
سامنے کھڑا شخص بمشکل خود کا وجود متوازن رکھے اپنی پلکیں زور زور سے جھپکتا اسی کےنقوش ٹٹولنے کی کوشش کر رہا تھا۔
آبرو کی گہری نیلی آنکھوں میں در آنے والی الجھن۔۔۔ اگلے ہی پل مقابل کی گرفت میں دبی شراب کی ادھ بھری بوتل دیکھ کر بے چینی میں ڈھلی تھی۔
”ی۔۔یہ تم ہو ناں۔۔۔میری رابی۔۔۔۔؟؟؟میرا سکون۔۔۔؟؟؟“ لڑکھڑاتے قدموں سے اسکی جانب لپکتا سالار خان اس پل نشے میں مکمل دھت تھا جبکہ اسکے یوں بےدھڑک قریب چلے آنے پر آبرو کو اسکی سرخ آنکھوں کا صحیح سے اندازہ ہوا تھا۔۔۔جبھی وہ بدک کر کئی قدم پیچھے ہٹی۔پھرسہم کر بےاختیار اردگرد دیکھا جہاں چند لوگ کافی دور آتے جاتے دکھائی دے رہے تھے۔یہ اسکی بدقسمتی ہی تھی جو آفس کے گیٹ پر مسلح گارڈ بھی اس پل غیرموجود تھا۔
”د۔۔دور تو نہ جاؤ مجھ سے۔۔۔جانتی ہو میں نے تمھیں کک۔۔ کتنا تلاش کیا ہے جان۔۔۔؟؟؟تاروں سے محروم اس سیاہ آسمان پر۔۔۔ان خالی سڑکوں پر۔۔ا۔۔اور۔۔۔اور اپنے اس ویران دل میں بھی۔۔۔“ شہادت کی انگلی کو اوپر سے نیچے تک لاتا آخر میں وہ اپنا سینہ پیٹتا ہوا بولا۔
حیرت سے اس شخص کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر آبرو کا دل گھبراہٹ تلے تیزی سے دھڑکنے لگا۔اسکی بہکی ہوئی بے ربط باتیں اسکی سمجھ سے حقیقتاً پرے تھیں۔
”پ۔۔پرتم ہو کہ مجھے ملتی ہی نہیں۔۔۔مانتا ہوں۔۔ن۔۔نکاح کرلیا ہے میں نے اس لڑکی سے۔۔پر عشق تو تمہی سےکرتا ہوں ناں میں۔۔۔پھرایسی بھی کیا ناراضگی۔۔۔۔؟؟؟مجھے اتنا تڑپا کر بھی تمھارا دل نہیں بھرا۔۔۔ہوں۔۔۔؟؟؟“ ضبط سے نم ہوتی آنکھوں سمیت منہ بسور کر شکوہ کرتا وہ اگلے ہی پل شراب کی بوتل کو پوری قوت سے زمین پر پھینکتا کرچی کرچی کر چکا تھا۔اسکی غیر متوقع حرکت پرآبرو کا ہاتھ بےاختیار اپنے لبوں پر پڑا۔
اسے سالار سے ذیادہ خود کی صورتحال پر رونا آنے لگا۔
اسکی جانب تکتے سالار کی آنکھوں میں آبرو کا ڈرا سہما روپ دیکھ کر حیرت ابھری تھی۔ پھر فکر۔۔۔جبھی وہ اسے سنبھالنے کو بےاختیار آگے بڑھا تو لبوں سے ہاتھ ہٹاتی آبرو کا دل جیسے حلق میں آگیا۔
”د۔۔دیکھو تم جو کوئی بھی ہو۔۔۔دور رہنا مجھ سے۔۔۔اگر میرے قریب بھی آئے ناں تو۔۔۔“ خشک لبوں کو تر کرتی وہ احتیاطاً دو قدم پیچھے ہٹی تھی جب مقابل بےتابانہ آگے لپک کر اسے خود میں بھینچتا۔۔۔لفظوں سمیت اسکی سانسیں روک گیا۔نتیجتاً آبرو نے اسے دھکا دینے کی ناکام کوشش میں تڑپ کر مزاحمت کی تھی جواباً وہ اپنی گرفت اس پر مزید سخت کرگیا۔
”ت۔۔تم نے کہا تھا ناں کہ۔۔۔اگر میں تمھارے پاس کبھی پلٹ کر واپس آیا تو تم ی۔۔یہی سمجھو گی مجھے تمھارے وجود کی چاہ ہے۔۔۔؟؟؟ہ۔۔ہے ناں۔۔؟؟؟ل۔۔لیکن ایسا نہیں ہے رابی۔۔۔خدا قسم ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔“ اس نازک وجود پر اپنی من پسند رقاصہ کا بھرپور گمان کرتا وہ نشے میں پل پل بہک رہا تھا۔
”چ۔۔۔چھوڑو مجھے گھٹیا انسان کیا بہودگی ہے یہ۔۔۔؟؟چھوڑو نہیں تو میں اپنے ہاتھوں سے تمھاری جان لے لوں گی۔۔۔۔“ اپنے ہاتھ بمشکل اسکی پشت پرلے جاکر پوری شدت سے ناخن گاڑتی وہ دبا دبا سا چیخی تو اس تکلیف دیتی مزاحمت پر پل بھرکو سختی سے لب بھینچتا۔۔۔وہ اپنے جذبات مزید اس پر انڈیلنے کے لیے بےتاب ہوا۔
”مجھ۔۔مجھے تمھارے وجود کی بالکل بھی کوئی چاہ نہیں ہے۔۔۔بلکہ میری چ۔۔ چاہ تو اس وجود سے بہت آگے نکل گئی ہے۔۔یہ۔۔یہ تو روح کی چاہ بن چکی ہے رابی جو مجھے بےبس کرکے پھر سے تم تک کھینچ لائی ہے۔۔۔م۔۔میرے دل کی ہردھڑکن تمھاری روح سے جڑچکی ہے یار۔۔۔ل۔۔لیکن تمھاری جدائی کے عذاب نے میرا وجود بکھیر کے رکھ دیا ہے۔۔توڑ پھوڑ دیا ہے مجھے۔۔۔“ سالار خان کا نشے تلے ڈگمگاتا لہجہ مارے ضبط کے بھیگتا چلاگیا جبکہ اسکے پاس سے آتی مردانہ کلون کی مدھم مہک میں گھلی شراب کی بدبو پرآبرو کا دم گھٹنے لگا۔
اس کے بگڑتی حالت کے برعکس ایک سکون سا تھا جو اس قربت کے زیراثر سالار خان کی رگوں میں اترتا جا رہا تھا۔
”بچاؤ۔۔۔۔کوئی تو۔۔۔۔۔“ بھیگی آنکھوں سمیت اسکی چوڑی پشت پر مکے برساتی وہ بھرائی آواز میں چیخی ہی تھی کہ تبھی کسی نے پیچھے سے سالار کا کالر دبوچ کر اسے پوری قوت سے اپنی جانب کھینچا تھا۔
نتیجتاً وہ جھٹکے سے آبرو سے الگ ہوتا بوکھلایا تو شاہ کو اپنے سامنے دیکھ کر آبرو کو لگا جیسے اسکی پرواز ہوتی روح کو کسی نے واپس اسکے وجود میں دھکیل دیا ہے۔
سالار اپنے چکراتے سر کو جھٹکتا جونہی پلٹا تو شاہ نے بے اختیار بائیں ہاتھ کا مکا بناکر اسکے منہ پر دے مارا۔مقابل کا وار اس قدر شدید تھا جسے برداشت نہ کرتے ہوئے وہ اگلے ہی پل لڑکھڑا کر پیٹھ کے بل آبرو کے قدموں میں گرا۔
آبرو لبوں سے ہلکی سی چیخ نکالتی اچھل کر پیچھے ہٹی تو شاہ سرعت سے اسکے پاس آیا۔
”تم ٹھیک ہو۔۔۔؟؟؟“ گھنی پلکوں سے ٹوٹ کر اسکے چہرے پر پھسلتے آنسوؤں کو ضبط سے دیکھتا وہ حقیقتاً اسکے فکرمند ہوتا بولا۔
اسکے وجیہہ نقوش پر خود کے لیے پریشانی کی گہری چھاپ دیکھ کر آبرو کا دل شدت سے دھڑکا تو بمشکل اثبات میں سر ہلاتی وہ اسکی تسلی کرگئی۔اس دوران اسکا سیاہ حجاب بھی احتجاج کرنے کے سبب ذرا ڈھیلا پڑ چکا تھا۔
”میں نہیں جانتی یہ ک۔۔کون ہے۔۔؟؟؟معلوم نہیں کیا سوچ کر میرے پیچھے پڑا ہے۔۔۔؟؟؟“ اسکے نم لہجے میں گھلا خوف شاہ کو مٹھیاں بھینچنے پر مجبور کرگیا۔
”جانتا ہوں۔۔۔مجھے تمھارے ساتھ ہی آفس سے باہر نکل آنا چاہیے تھا۔۔۔ کم ازکم میرے ہوتے ہوئے تمھیں یہ سب سہنا تو نہ پڑتا۔۔۔۔“ آہستگی سے اسکے ہاتھ تھامتا وہ متاسف سا گویا ہوا تو آبرو نے نگاہیں جھکاتے لب بھینچ لیے۔اگلے ہی پل ان دونوں کی سماعتوں سے ٹکراتی سالار کی آہ نے انکی توجہ اپنی جانب کھینچی۔
”ر۔۔رابی۔۔۔؟؟م۔۔میرے پاس آؤ۔۔۔مجھ سے دور مت جاؤ اب۔۔م۔۔میں برداشت نہیں کرپاؤں گا ت۔۔تمھاری جدائی۔۔۔س۔۔سن رہی ہو ناں تم۔۔۔؟؟؟“ بائیں نتھنے سے پھوٹتی خون کی لکیر کی پرواہ کیے بنا ہی وہ اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کرتا دھیمے لہجے میں ملتجی ہوا تو آبرو نے نفی میں سر ہلاتے بےساختہ شاہ کا بازو تھام لیا۔
اسکی التجاؤں پر شاہ کی آنکھوں میں اترا گلال سرخائی میں بدلنے لگا۔
تبھی وہ نرمی سے اپنا بازو آبرو کی گرفت سے چھڑواتا واپس سالار کی جانب لپکا۔پھرقریب بیٹھ کر اپنے دونوں ہاتھوں میں اسکا گریبان دبوچتا اسے اپنے قریب لے آیا۔ چہرے اور حلیے سے وہ شاہ کو کسی کھاتے پیتے امیر گھرانے کا لگا تھا۔سالار نے پلکیں جھپکا کر اسکے سرد نقوش دیکھے۔
”یہ تمھاری رابی نہیں۔۔میری آبرو ہے۔۔۔فقط شاہ میرحسن کی آبرو۔۔۔اسے چھونا تو دور۔۔آئندہ اگر اسکے قریب بھی بھٹکنے کا سوچا تو تمھاری جان لینے میں،میں ذرا بھی وقت ضائع نہیں کروں گا۔۔۔یاد رکھنا میری اس پہلی اور آخری وارنگ کو۔۔۔“ ہر لفظ چبا چبا کر بولتا وہ سالار کے بہت قریب ہوکر پھنکارا تو جواب میں تکلیف برداشت کرتا وہ دھیرے سے ہنسا۔شاہ کی بھنویں تن سی گئیں۔
انگلیاں چٹخاتے ہوئے آبرو کی بےچین نگاہیں مسلسل ان دونوں کو ہی کھوج رہی تھیں۔اپنی ذات کے سبب وہ ان دونوں کی آپس میں ہاتھا پائی بالکل بھی کروانا نہیں چاہ رہی تھی۔اس شرابی کی عقل ٹھکانے لگانے کو تو فقط ایک مکا ہی کافی تھا جو وہ بہت پہلے سے ہی شاہ سے کھا چکا تھا۔۔لیکن یہ محض آبرو کی غلط فہمی ہی تھی کہ وہ ایک مکے سے سدھرجاتا۔
”ساری دنیا ہی ہمیں جدا کرنےپر ت۔۔تلی ہوئی ہے۔۔۔تم بھی انہی میں سے ایک ہو۔۔۔پر تمھاری اس مم۔۔مارا ماری سے میں ہرگز بھی ہمت نہیں ہارنے والا۔۔۔کک۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔وہ رابی صرف۔۔میری ہے۔۔صرف سالار خان کی۔۔۔ہہمم۔۔۔۔“ لبوں پر آتی خون کی گہری لکیر کو پونچھے بناہی ایک نگاہ آبرو کے لرزتے وجود پر ڈالتے ہوئے سالار کی دل جلاتی مسکراہٹ ہنوز قائم تھی۔جہاں اسکی غلط فہمی کا معیار بڑھتا چلا جارہا تھا وہیں وہ پل پل اپنے حواسوں سے بھی دور ہورہا تھا۔
”رابی نہیں ہے وہ۔۔۔ آبرو ہے وہ۔۔۔۔آبرو۔۔۔۔“ اسکی ہٹ دھڑمی دیکھ شاہ کا خون کھول اٹھا جبھی مشتعیل سا اس پر چیختا وہ اگلے ہی پل اسے پوری شدت کے ساتھ ایک بار پھر سے زمین پر دھکیل چکا تھا۔
”سرپلیز۔۔۔۔“ ٹھنڈی زمین پر سر ٹکرانے کے سبب جہاں سالار خان کے پورے وجود میں درد کی ایک شدید لہر اٹھی تھی وہیں آبرو کی تنبیہی پکار بے ساختہ تھی۔
تبھی خود کو کمپوز کرنے کے لیے شاہ بالوں میں ہاتھ چلاتا سالار کے پاس سے اٹھا۔پھر گہرا سانس بھرتا آبرو کی جانب پلٹا جس کی محتاط نگاہیں ہنوز سالار خان پر ہی مرکوز تھیں۔
گو کہ وہ واپس اٹھ کر بیٹھنے کے قابل نہیں رہا تھا لیکن صد شکر تھا کہ کئی پل گزرنے پر بھی سالار کے دماغ سے خون کی دھاریں نہیں نکل کر باہر نہیں بکھری تھیں۔البتہ اس دوران کھلتی بند ہوتی آنکھوں سے سیاہ آسمان کو تکتے اس کی مسکراہٹ لبوں پر دم توڑ چکی تھی۔
اسی وقت ایک دوسرا آٹو رکشہ اپنی رفتارگھٹاتا ہوا آبرو کے قریب آکر رکا تو آبرو نے چونک کر رکشہ ڈرائیور کی جانب دیکھا۔
”باجی۔۔۔کدھر جانا ہے آپکو۔۔۔۔؟؟؟مجھے پتا بتائیے میں آپکو آسانی سے لے چلوں گا وہیں۔۔۔۔“ چالیس سال کے قریب وہ درمیانی جسامت والا آدمی براہ راست آبرو سے مخاطب ہوتا یقیناً سالار خان کو دیکھ نہیں پایا تھا۔
”چلو آؤ میں تمھیں گھر چھوڑ دوں۔۔۔“ شاہ پاس آکر رکتا عام سے لہجے بولا تو آبرو نے تپ کر اسکی جانب دیکھا۔
”آفر دینے کا بہت شکریہ سر لیکن میں خود چلی جاؤں گی۔۔۔“ کچھ تلخی سے بولتی وہ آگے بڑھ کر رکشے کا دروازے کھولنے کو تھی جب وہ پھر سے بول پڑا۔
”شوق سے یہ آفر نہیں دے رہا۔۔۔تمھارے ساتھ پیش آنے والے اس حادثے کا ذمہ دار کہیں نہ کہیں میں بھی ہوں بس اسی وجہ سے بول رہا ہوں۔۔۔چلو آؤ میں تمھیں اپنی گاڑی میں گھر تک چھوڑ دوں گا۔۔۔“ سرد مہری سے بولتا وہ اپنی پیشانی پر ابھرتی لکیریں چھپا نہیں پایا تھا۔
”آپ خود کو ذمہ دار سمجھ رہے ہیں میرے لیے یہی کافی ہے۔۔۔میری بُوا گھرپر یقیناً میرے لیے بہت پریشان ہورہی ہوں گی۔۔۔چلتی ہوں۔۔۔۔۔“ پلٹ کر سیدھا سیدھا جواب دیتی وہ اگلے ہی پل دروازہ کھول کر رکشے کے اندر بیٹھ چکی تھی۔۔۔
جبکہ بوا کے نام پر پل بھرکو چونکتے شاہ نے ضبط سے لب بھینچتے اسکی یہ ہٹ دھڑمی دیکھی تھی۔اس دوران تب سے بیزار ہوتے ڈرائیور نے بھی بنا کوئی لمحہ ضائع کیے رکشہ اسٹارٹ کیا اور اپنے نئے گاہک کو ساتھ لیے پلوں میں بھگاتا وہاں سے نکل گیا۔
شاہ نے دور جاتے رکشے سے نگاہیں ہٹاتے گہرا سانس بھرا پھر ایک لاپرواہ نظر دائیں بائیں سر ہلاتے سالار پر ڈال کر پارکنگ ایریا کی جانب بڑھ گیا۔
”رابی۔۔۔۔؟؟؟“ کچھ دیر پہلے کے لمحات یاد کرتے ہوئے سالار خان کے ذہن میں ناچاہتے ہوئے بھی حسین مکھڑے کے گرد لپٹا وہ سیاہ سکارف تازہ ہوا تھا جبھی وہ غنودگی میں جاتا جاتا پل بھر کو چونک سا گیا۔
اسکی رابی تو دوپٹے کو خود کے تن سے لگانا ہی معیوب سمجھتی تھی۔۔۔۔کجا کہ حجاب۔۔۔؟؟؟
ایک واضح فرق تھا جو اسے تب سے پہلی بار محسوس ہوا تھا۔۔۔اور پھر اسکی آنکھوں کا رنگ۔۔۔۔؟؟؟
اس سے پہلے کہ وہ مزید فرق تلاشتا مکمل بند ہوتی آنکھیں سالار خان سے سمجھنے سوچنے کی تمام تر صلاحیتیں مکمل طور پر سلب کرتی چلی گئیں۔۔