No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
بازو پر اپنا گرے رنگ کوٹ دھرے وہ اس وقت اوپری منزل کو جاتی لفٹ میں موجود تھا۔بھوری نگاہوں تلے مدھم حلقے اس کی بےسکونی میں جاگ کر گزاری گئی۔۔رات کو صاف عیاں کررہے تھے۔۔۔
جبکہ سنسناتا ذہن تو اس پل گزشتہ تلخ سوچوں کی جانب گامزن تھا۔
”منہ کھولو۔۔۔۔۔“ نوالہ بناکر بھینچے لبوں کے قریب لے جاتا وہ اسے سردترین لہجے میں حکم دے رہا تھا۔
جب سے وہ اسکے فلیٹ میں آئی تھی۔۔۔اس بدترین بحث کے بعد سے نڈھال سی بھوکی پیاسی فقط اسی کے کمرے میں ہی مقید ہوکر رہ گئی تھی۔۔۔
اس قدر مقید کہ اسے مجبوراً بذاتِ خود اس کے پاس آنا پڑا تھا۔
”نہیں کھولوں گی۔۔بھوکی مرجاؤں گی پر تمھارے ہاتھ سے۔۔۔ایک لقمہ تک نہیں کھاؤں گی۔۔۔سنا تم نے۔۔۔۔۔؟؟؟“ اسکا ہاتھ پوری قوت لگا کر پیچھے جھٹکتی وہ چلائی۔۔۔تو جہاں نوالہ ہاتھ سے چھوٹ کر بیڈ پر گرا تھا۔۔۔وہیں اس صاف ہٹ دھڑمی پر اس کو بھی خاصی تپ چڑھی۔
”نہیں سنا۔۔۔۔اور نہ ہی مجھے تمھیں سننے کی اب کوئی خاص ضرورت ہے۔۔۔سو بہتر یہی ہے بیوی کہ اپنی ہٹ دھڑمی کے سبب تم مجھے مزید زبردستی کرنے پر مت اکساؤ۔۔۔۔“ اسکی باغی نم آنکھوں میں اپنی سرخ پڑتی نگاہیں گاڑتا وہ چبا چبا کر بولا۔۔۔
پھر بڑے ضبط سے دوسرا نوالہ بنا کر اسکے قریب تر لے گیا۔۔۔تو اسکے پنکھری لبوں پر تمسخرانہ۔۔۔تلخ مسکراہٹ بکھرتی چلی گئی۔
”زبردستی۔۔۔؟؟ہاں۔۔۔۔یہ سب واہیاتیاں کرنا تو شاید تم سفاک لوگوں کا خاندانی وطیرہ ہے۔۔۔۔کبھی میرے ساتھ کرتے ہو۔۔۔تو کبھی میری ماں۔۔ں۔۔۔۔“ اسکے تنے نقوش بےتابانہ دیکھتی وہ پھنکار رہی تھی۔۔۔جب اگلے ہی پل اسکے گالوں کو دبوچتا وہ نوالہ زبردستی اسکے منہ میں ٹھونس چکا تھا۔
”تمھاری بدولت پہلے سے ہی زخمی شیر بن چکا ہوں۔۔۔اب فضول میں میرے باپ کو موردِ الزام ٹھہرا کر مجھے مزید گھائل کرنے کی حماقت مت کرو۔۔۔کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت سے بہت پہلے ہی میں تمھاری نازک جان پر بھاری پڑجاؤں۔۔۔۔۔“ مزید نوالے اسکے منہ میں زبردستی ٹھونستا وہ حقیقتاً اسے ہلکان ہی تو کرگیا تھا۔
”ٹِن۔۔۔۔۔۔۔“ منزل کو پہنچ کر رکتی لفٹ جہاں اگلے ہی پل مطلوبہ آواز کے ساتھ کھلی تھی۔۔وہیں وہ بھی گزشتہ رات کے خیالوں سے چونک کر باہر آیا۔پھر تلخی سے سر جھٹکا۔
ہاں۔۔۔ہاں وہ بد دل سا۔۔سونے کے معاملے میں اس پر چاہ کر بھی کوئی زبردستی نہیں کرپایا تھا۔۔۔۔پر ناقابل فراموش میٹنگ اٹینڈ کرنے کے سبب آتے ہوئے اسے فلیٹ میں لاک ضرور کرآیا تھا۔۔
قدرے پھرتی سےلفٹ سے باہر نکلتے ہوئے۔۔۔اس نے بےاختیار خود کو نارمل کرنے کے لیے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا۔۔
شفاف ٹائیلز پر بنا بلندآواز کیے۔۔۔تیز تیز قدم بڑھاتے شاہ نے ایک بےزار نگاہ خود سے کچھ فاصلے پر سست روی سے دو لڑکیوں کے ہمراہ چلتے اس چشمش لڑکے کی پشت کو دیکھا۔۔۔
وہ بلاشبہ اسی کے انڈر رہ کر کام کررہے تھے۔
”نہ نہ۔۔۔میں نہیں مانتی۔۔۔ہر طرف پھیلی یہ افواہ جھوٹی بھی تو ہوسکتی ہے۔۔۔۔“ اپنے موبائل کی اسکرین بند کرتی وہ قدرے بےیقینی سے گویا ہوئی۔۔۔تو پل پل قریب آتے شاہ کی سماعتوں سے صاف ٹکراتی نسوانی آواز اسے چونکنے پر مجبور کرگئی۔
”ارے یہ جھوٹی افواہ بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔وہ فیک حجابن آبرو صاحبہ۔۔۔جس نے شاہ میرسرکو اپنی خوبصورت اداؤں سے پھانس کر نکاح تک رچا لیا ہے۔۔۔کوٹھوں پر ناچ ناچئیہ کرتی ایک بدکارترین رقاصہ ہے۔۔۔اور یہ حقیقت شاہ صاحب کے بزنس فرینڈز نے بذات ِخود اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کررکھی ہے۔۔۔۔“ اسکی حددرجہ حیرت پر ساجد نامی اس لڑکے سنی سنائی باتوں پر بڑھ چڑھ یقین دہانی کروانا چاہی تھی۔۔۔جب اسکے لفظوں پر اپنی چال سست کرتا شاہ۔۔۔تیوریاں چڑھائے۔۔۔سختی سے مٹھیاں بھینچ گیا۔
تو بالآخر یہ بدترین خبر جنگل میں آگ کی مانند چہارسو پھیل ہی گئی تھی۔
”اوہ مائے گاڈ۔۔۔۔۔اتنی بد ترین حقیقت۔۔۔۔“ پیچھے چلتی قیامت سے ہنوز بےخبر اب کی بار دوسری لڑکی نے بھی حیرت کا پرچار کیا۔
”میرے سننے نے بھی آیا ہے کہ شدید غصے کے عالم میں شاہ صاحب نے۔۔۔اسے منہ پر ایک عدد زور کا تھپڑ بھی جڑدیا تھا۔۔۔اور پھر بدلے میں اس رقاصہ نے بھی سب کے سامنے تھپڑ مار کر اپنا بدلہ سود سمیت واپس اتارا تھا۔۔۔۔۔“ وہ مزید گویا ہوئی تو شاہ کا فشار خون شدت سے بڑھنے لگا۔ضبط کی سرخی بھوری نگاہوں میں گھلنے لگی تھی۔
”افففف۔۔۔۔اس قدر تماشہ۔۔۔؟؟اس قدر ذلالت۔۔۔۔۔؟؟“ قدرے تاسف سے بولتی پہلی لڑکی باقاعدہ اپنے کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہوئی۔ورکنگ ایریا ٹھیک سامنے ہی تھا۔
”اے کاش کہ میں بھی اس تماشے کا حصہ ہوتا۔۔۔تو کم از کم اس حجابن حسینہ کا بھڑکتا ہوا ناچ تو دیکھ لیتا۔۔۔ہاااائےےے۔۔۔۔خدا قسم اگر جو اپنی پوری سیلری بھی اس خوبصورت رقاصہ پر لٹا دیتا ناں۔۔۔تو بھی رتی برابر افسوس نہیں ہوتا مجھے۔۔۔۔۔۔“ اس بار ذرا شوخے ہوتے ساجد نے ہنستے ہوئے ان لڑکیوں کے سامنے قدرے بےباکی سے اپنی کیفیت بیان کی تھی۔۔۔جب ایک ہی جست میں پیچھے سے اسکا گریبان دبوچ کر اپنی جانب گھوماتے ہوئے۔۔شاہ نے پوری شدت سے اسکے منہ پر مکا دے مارا۔
نتیجتاً جبڑے میں یک لخت اٹھتے درد کے سبب جہاں بری طرح حواس باختہ ہوتا وہ بنا سنبھلے پیٹھ کے بل گرا تھا۔۔۔وہیں عینک بھی جھٹکے سے اتر کر دور جاگری۔
ایسے میں خود کے مقابل مشتعیل سے کھڑے شاہ کو دیکھ کر ان دونوں لڑکیوں کا گھبرانا بے ساختہ تھا۔
وہاں کام کرتے آفس ورکرز نے بھی اپنے ہاتھ روک کر شاہ میرحسن کو قدرے حیرت سے دیکھا تھا جو خود سے اٹھنے کی کوشش کرتے ساجد کو بذاتِ خود گریبان سے پکڑتے ہوئے اب کہ کھڑا کرچکا تھا۔
”اب بھونک۔۔۔۔یہاں میرے منہ پر بھونک کیا خرافات بک کررہا تھا تُو۔۔۔۔۔؟؟ہہممم۔۔۔۔بول ناں۔۔۔؟؟؟“ اسے جھنجھوڑ کر مزید لب کشائی کرنے پر اکساتا وہ پل پل بپھر رہا تھا۔
جواباً ساجد کے لیے حقیقتاً تھوک نگلنا مشکل ہوا۔۔
”س۔۔سر۔۔۔۔م۔۔میں۔۔۔۔“ اپنے دفاع میں صفائی دینے کی ناکام کوشش کرتے اس نے نفی میں سرہلایا۔۔۔تو شاہ کا دماغ مزید گرم ہوتا چلا گیا۔
”سالےنمک حرام۔۔۔۔تیری اتنی اوقات کہ اب تو میری بیوی کو رقاصہ بولے گا۔۔۔ہممم۔۔۔۔؟؟میرے ہی سامنے اس پر پیسہ لٹانے کی بات کرے گا تُو۔۔۔۔۔“ چلا کر پوچھتے ہوئے زور کا مکا اب کی بار ناک کی ہڈی سے ٹکراتا ہوا ساجد کو بری طرح بلبلانے پر مجبور کرچکا تھا۔
جہاں وہ لڑکھڑا کر اس سے دو قدم پیچھےہوا۔۔۔وہیں اس بڑھتے ہنگامے پر قریب آتے ورکرز ان کے گرد اکٹھے سے ہونے لگے۔
بازو پر دھرا گرے رنگ کوٹ اس سرگرمی میں لڑھک کر کب کا زمین بوس ہوچکا تھا۔
”غ۔۔غلطی ہو گئی سر۔۔۔م۔۔۔معاف کردیں پلیز۔۔آئندہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔“ معاً ناک سے بہتا خون ساجد کو بھی ضبط کی حدوں پر لے گیا۔۔مگر خود کی نوکری بچانے کو کراہ کر لہو صاف کرتا وہ بظاہر معافی تلافی کرنے پر اتر آیا تھا۔
”نہ۔۔۔معافی نہیں دوں گا۔۔۔۔سیدھا جان لے لوں گا میں تیری کمینے۔۔۔آخر ہمت بھی کیسے ہوئی تیری ایسی غلاظت بکنے کی۔۔۔کیسےےےے۔۔۔۔۔؟؟؟“ اطراف کی پرواہ کیے بنا۔۔۔ پھولے سانسوں کے بیچ دھمکاتا ہوا وہ۔۔۔اس بار اسے گردن کی پشت سے پکڑتے ہوئے غصے سے پاگل ہونے کے درپے تھا۔
ایسے میں شدید حیرت تلے مدھم چہ مگوئیاں تو شروع ہوچکی تھیں۔۔۔مگر دونوں میں مداخلت کی جرات ہنوز کسی نے بھی نہیں کی تھی۔
”ہاں تو اگر حقیقت سننے میں اتنی ہی جان جاتی ہے تمھاری تو بدنامی سہنے کی بجائے اس رقاصہ کو طلاق کیوں نہیں دے دیتے تم۔۔۔۔اس طرح نہ باقی رہے گی بدنامی۔۔۔اور نہ ہی اس بدنامی سے پلنے والا کوئی فساد۔۔۔۔“ اپنی تماتر برداشت کھونے پر اسکا ہاتھ نفرت سے پیچھے جھٹکتا۔۔۔اب کہ ساجد بھی صاف بد لحاضی پر اتر آیا۔
”تیری تو۔۔۔۔۔۔۔“ اس کے یوں زہر اگلنے پر پل بھرکو ساکت ہوتا شاہ۔۔۔۔اپنی عزت۔۔اپنے اسٹیٹس کی پرواہ کیے بنا اگلے ہی لمحے اس پر پُل پڑا تھا۔
”رقاصہ نہیں ہے وہ۔۔۔۔سنا تم نے۔۔۔۔شاہ میرحسن کی بیوی ہے وہ۔۔۔۔۔ملکیت ہے میری۔۔۔۔۔“ پے در پے وار کرتا وہ انگاروں پر لوٹ رہا تھا۔
اس دوران بلاوے پر دو گارڈز بھی بھاگ کر وہاں آچکے تھے۔
”اس کے خلاف ایک بھی واہیات لفظ سننے کا روادار نہیں ہوں گا میں۔۔۔۔ہاں مگر واہیاتی بکنے والے کا بد سے بدترین حال ضرور کردوں گا۔۔۔۔“ چیخ چیخ کر باور کرواتے ہوئے اسکی لہو رنگ بھوری آنکھوں میں نمی سی در آئی۔
ایسے میں ساجد بھی خود کے دفاع کی ناکام کوششیں کرتے ہوئے اسے ایک سے دو بار پسلیوں پر بری طرح مکے رسید کرچکا تھا۔
”سر پلیز۔۔۔۔چھوڑ دیں اسے۔۔۔۔اب کافی زخمی ہوچکا ہے یہ۔۔۔سر۔۔۔سر پلیز۔۔۔۔۔“ معا آگے بڑھتے گارڈز نے شاہ کو فوری اس سے دور ہٹانے کی بےتابانہ کوشش کی تھی۔۔۔۔ورنہ ممکن تھا وہ غصے سے پاگل ہوتا۔۔طاقت میں اپنے سے کم ترین اس ورکر کا کوئی بڑا نقصان کر ڈالتا۔۔۔
تناؤ کے شکار شدہ اس ماحول میں مزید وحشت سی پھیلتی چلی جارہی تھی۔
”نکال باہر پھینکو اسے اس عمارت سے۔۔۔نکال باہر پھینکو اس گند کو۔۔۔۔“ بڑی مشکلوں سے ساجد سے دور ہوتا۔۔۔وہ پسلی میں اٹھتی درد کی لہر کو برداشت کرتے ہوئے چلا کر بولا۔۔۔تو گارڈز اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اس کی طرف لپکے۔۔۔جو وہیں پڑا اب بھی کراہ رہا تھا۔
”اور تم دونوں۔۔۔۔۔“ معاً وہ کچھ ہی فاصلے پر کھڑی ان دونوں لڑکیوں کی جانب متوجہ ہوا جو۔۔۔کچھ دیر پہلے اسکے حالاتوں پر متاسف سی ہورہی تھیں۔
اب اسکے یوں نفرت سے مخاطب کرنے پر مزید سہم سی گئیں۔
”اسی کے ساتھ نکل جاؤ۔۔۔جسٹ آؤٹ۔۔۔۔۔“ بھاری۔۔۔تلخ لب و لہجے میں بولتا وہ ان دونوں کو۔۔۔گارڈز کے پیچھے دفع ہوجانے پر مجبور کرچکا تھا۔۔۔جو کچھ نڈھال سی حالت میں بڑبڑاتے ساجد کو احتیاط سے وہاں سے لے کر نکلتے چلے گئے تھے۔
اگلے ہی پل شاہ نے سختی سے لب بھینچ کر جھکتے ہوئے۔۔اپنا نیچے گرا کوٹ تندہی سے اٹھایا۔پھر سیدھے ہوتے ہوئے اپنی جانب متوجہ ورکرز کو بغور دیکھا۔
”یہاں پر اور کوئی ایسی گھٹیا ترین۔۔۔غلیظ سوچ رکھتا ہے۔۔۔۔؟؟؟اگر ہاں۔۔۔تو بنا ہاتھ پیر تڑوائے ابھی کہ ابھی نکل جائے یہاں سے۔۔۔۔کیونکہ میرے آفس میں،میں کسی بھی قیمت پر یہ سب تماشہ برداشت نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔“ وہ تڑخ کر پوچھ رہا تھا۔
جواباً سب نے کچھ جھجک کر نفی میں سر ہلایا۔۔۔تو گہرا سانس بھرتے ہوئے۔۔۔اپنی آنکھوں کو بےدردی سے مسلتا وہ اگلے ہی پل تندہی سے اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۔
اس پل دل اگر ناقابل برداشت اذیت سے تر تھا۔۔۔تو وجود قابل برداشت درد سے بےسکون۔۔۔۔
”اوئے پولیس آفیسر۔۔۔میں تجھے آخری بار وارن کررہا ہوں۔۔۔میرے بیٹے کو چھوڑ دے ورنہ اس سرکاری وردی کے بل بوتے ہمارے سامنے ذیادہ اچھل کود کرے گا تو۔۔ہماری مدمعاشی سکت تلے راتوں رات کچلا جائے گا۔۔۔سمجھا۔۔۔۔؟؟؟“ مابین پڑےٹیبل پر بھڑک کر ہاتھ مارتا وہ دھمکاتے ہوئے بولا۔۔۔تو انگوٹھے تلے پیشانی کھجاتے عائل کی بےزاری بڑھ سی گئی۔
”نہیں سمجھا شمس چوہدری۔۔۔اور ویسے بھی ایسی بکواسیات میری سمجھ سے کافی پرے ہیں۔۔۔ہاں البتہ تم یہ ضرور جان لو کہ دن دھاڑے ایک پولیس آفیسر کو یوں سامنے بیٹھ کر سرعام دھمکی دینا۔۔تمھاری ذات سمیت بدمعاشی سکت پر کافی حد تک بھاری پڑسکتا ہے۔۔۔۔“ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں دوبدو گویا ہوتے ہوئے آخر میں اسکے لب تمسخرانہ مسکراہٹ میں ڈھلے۔
جواباً انگلیوں میں پہنی انگوٹھیوں کے رنگ برنگ قیمتی نگوں کو پوروں تلے مسلتا شمس چوہدری یک دم سے اپنے تیور بدل گیا۔
کسی پرائی لڑکی کے گینگ ریپ میں عیاشی تلے پھنس چکے سپوت کو۔۔رہائی دلوانے کی ہر کوشش ناکام ہوتی چلی جارہی تھی۔
حتیٰ کہ بن چکے مضبوط کیس پر نہ تو اسکی دی جانے والی محدود رشوت کی آفر کا کوئی اثر ہورہا تھا۔۔۔اور نہ ہی اسکے نام نہاد اثر و رسوخ کا۔
”سمجھ رہا ہوں میں۔۔۔اچھے سے سمجھ رہا ہوں تیری اس بظاہر ایمانداری کے پیچھے چھپی گھٹیا چال کو۔۔۔پیسہ بڑھانے کے وطیرے ہیں یہ سب۔۔۔اچھا چل بول۔۔۔مزید کتنا پیسا بڑھاؤں۔۔۔؟؟دو لاکھ۔۔۔چار لاکھ۔۔۔یا حد پانچ لاکھ۔۔۔۔؟؟؟“ طنزیہ۔۔نرم لہجے میں بولتا ہوا اگلے ہی پل نوٹوں کی گدی ایک ایک کر کے اس کے سامنے پھینکتا۔۔۔وہ اس بار عائل کے مزاج گرمانے کا سبب بنا تھا۔
معاً ضبط کھو کر ٹیبل پر ہتھیلی جماتا وہ کافی حد آگے کو جھک کر اسکا گریبان دبوچ چکا تھا۔
” گھٹیا چال تو تم خود کھیل رہے ہو شمس چوہدری۔۔اپنے اس آوارہ۔۔عیاش سپوت کو بچانے کے چکروں میں جو ایک معصوم لڑکی کے گینگ ریپ میں ملوث رہ چکا ہے۔۔۔پر بےفکر رہو میں ایک رشوت خور پولیس آفیسر ہرگز نہیں ہوں۔۔۔باقی ملزمان کے ہمراہ اسکی بھی پوری پوری چمڑی ادھیڑ کے رکھ دوں گا پر تمھاری یہ چھوٹی موٹی چالیں کسی بھی طور کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔“ گریبان کو مزید مضبوطی سے کستا عائل چبا چبا کر بولا تو اسکی سرخ پڑتی آنکھوں میں برابر۔۔تندہی سے دیکھتے شمس چوہدری کی رنگت توہین تلے متغیر ہوئی۔
”اب اس سے پہلے کے میں مزید ایکسٹرا ایمانداری دکھانے کے موڈ میں آجاؤں۔۔تمھارے لیے بہتر یہی ہے کہ اپنا یہ حرام مال اٹھاؤ۔۔۔اور یہاں سے نکلتے ہوئے نظر آؤ مجھے۔۔۔۔بنا کوئی بکواس کیے۔۔۔جسٹ آؤٹ۔۔۔۔“ مزید گویا ہوتا وہ جھٹکے سے اسکا گریبان چھوڑ کر پیچھے ہٹ چکا تھا۔
جواباً شمس چوہدری مشتعل سا مٹھیاں بھینچے چئیر سے کھڑا ہوا۔پھر شکست خوردہ سا دانت پیستا ہوا ایک ایک کر کے نوٹوں کی گدیاں پکڑنے لگا۔
”ابھی وقت تیرا ہے۔۔۔مگر اس کے بعد میں دیکھ لوں گا تجھے اے۔ایس۔پی۔۔۔۔تیری اس نام نہاد ایمانداری کا دیوالیہ نہ نکال دیا تو کہنا۔۔۔سالا مجھے انکار کرتا ہے۔۔۔شمس چوہدری کو۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔“ برابر پھنکارتا وہ جاتے ہوئے بھی زہر اگلنے سے باز نہیں آیا تھا۔
”آئی سیڈ گیٹ لاسٹ۔۔۔۔۔۔“ پولیس اسٹیشن کے اس مخصوص روم میں گونجتی عائل کی آواز میں غضب کی دہاڑ تھی۔
نتیجتاً وارن کرتی نگاہوں سے آخری بار اسکی جانب غصے سے دیکھتا وہ اگلے ہی لمحے دروازہ کھول کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
معاً عائل نے سر سے کیپ اتار کر بالوں میں ہاتھ چلایا۔پھر گہرا سانس بھرتا واپس چئیر پر بیٹھا۔۔۔تو اگلے ہی پل ٹیبل پر دھرے موبائل فون۔۔۔پر آتی غیرمتوقع کال نے اسے چونک کر اپنی جانب متوجہ کیا۔
عائل نے موبائل پکڑتے اسکرین کو بغور دیکھا۔کال کسی ان ناؤن نمبر سے آرہی تھی۔۔۔جس کے ڈسکنیکٹ ہونے سے قبل ہی یس کرتا وہ موبائل فون کان سے لگا گیا۔
”ہیلو۔۔۔۔اے۔ایس۔پی عائل حسن اسپیکنگ فرام پولیس اسٹیشن۔۔۔۔“ چہرے پر ہاتھ پھیر کر اپنی آواز کو نارمل کرتا وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔
جبکہ دوسری طرف ہنوز آفس میں موجود وہ۔۔۔۔
وہ تو ایک عرصے بعد اسپیکر سے ابھرتی اسکی شفاف بھاری آواز سنتا جیسے ساکت سا ہوگیا تھا۔
سرخ بھوری نگاہوں میں در آنے والی نمی سمیت دل کی دھڑکنیں بےاختیار تیز تر ہوئی تھیں۔
”ایکسکیوزمی۔۔۔؟؟جواب میں اب کوئی کچھ بولے گا بھی۔۔۔؟؟یا پھر میں سیدھا کال کاٹ دوں۔۔۔؟؟؟“ ہنوز کوئی جواب آتا نہ دیکھ عائل کا موڈ اب کہ پھر سے بگڑنے لگا۔۔۔تو سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ شاہ نے اپنے لبوں کو جنبش دینا چاہی۔۔۔
مگراس پل حلق سے آواز کا پھوٹنا محال ہی تو ہورہا تھا۔
”عجیب فالتو قسم کے لوگ ہیں۔۔۔وقت بے وقت موڈ برباد کرنے آجاتے ہیں۔۔۔سنوتم جو کوئی بھی ہو دوبارہ یہاں بےوجہ کال مت کرنا۔۔ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔انڈر سٹینڈ۔۔۔“ اس قدر ڈھٹائی پر حقیقتاً سلگتا عائل دانت پیس کر گویا ہوا۔۔۔جب اسکا ارادہ بھانپتا وہ بےساختہ بول پڑا۔
”ب۔۔بھائی۔۔۔۔؟؟؟“ بےقراری عروج پر تھی۔
اس قدر عروج پرکہ۔۔۔اسپیکر سے ابھرتی بھاری۔۔شناسا آواز عائل کی پیشانی پر چڑھی تیوری کو مٹانے کے لیے کافی ہوئی تھی۔
”کون بات کررہا ہے۔۔۔؟؟؟معذرت پر میں نے پہچانا نہیں آپکو۔۔۔“
یہ آواز۔۔۔
یہ انداز۔۔۔
یہ تو۔۔۔۔
حواس بحال کرنے کو سر جھٹکتے ہوئے عائل نے کچھ الجھ کر پوچھا۔
جبکہ دوسری طرف یہ سوال شاہ میر حسن کے لبوں پر ایک زخمی سی مسکراہٹ لے آیا تھا۔
گزشتہ تلخ حالاتوں کے سبب وقت اس قدر تیزی سے بدل چکا تھا کہ اپنوں کا۔۔۔اب اپنوں کو پہچان پانا ہی مشکل ترین تھا۔
”بھائی۔۔۔یہ۔۔م۔۔ میں ہوں۔۔۔آپکا شام۔۔۔۔“ اپنا آپ مکمل اس پر جتاتے۔۔ضبط کا ایک آنسو ٹوٹ کر آہستگی سے اسکی گال پر لڑھکا۔
جبکہ اپنے ابھرتے خدشے کی یوں صاف لفظوں میں تصدیق ہوجانے پر عائل نے دھڑکتے دل کے ساتھ بےساختہ آنکھیں میچ کر کھولیں۔
وہ شاہ میرحسن ہی تھا۔۔۔
کیا کچھ یاد نہیں آیا تھا اسے ان پلوں میں۔۔۔
وہ جرم۔۔۔
وہ انا۔۔۔وہ اکڑ۔۔۔۔
وہ طوفانِ بدتمیزی برپا کرنا۔۔۔۔۔
”کون شام۔۔۔۔۔؟؟؟میں ایسے کسی بھی اپنے سے واقف نہیں ہوں۔۔۔۔۔“ کچھ توقف لیتا وہ قدرے سنبھل کر بےتاثر لہجے میں بولا۔۔۔تو شاہ بےسکونی تلے نفی میں سر کو تیزی سے جنبش دیتا اگلے ہی پل راکنگ چئیر سے کھڑا ہوا۔پھر بےچینی سے چلتا ہوا گلاس وال تک آیا۔
”یہ مت کریں بھائی۔۔۔مجھ سے آپکی لاکھ ناراضگی سہی۔۔۔پر خدا کے لیے اس خفگی کو میری پہچان۔۔۔میرے رشتے۔۔پر ہرگز بھاری مت پڑنے دیں۔۔۔۔۔“ ضبط سے بھیگتی آنکھیں مسلتا وہ تڑپ ہی تو اٹھا تھا۔
دل جانے کیوں اس پل کمزور ترین سا ہورہا تھا۔
”تمھاری پہچان پہلے ہی بہت سوں کی زندگیوں پر بھاری پڑ چکی ہےشاہ میرحسن۔۔۔جسکا تمھیں اب تک کوئی پچھتاوا۔۔کوئی ملال نہیں ہے۔۔۔سو میرے آگے بھی تمھاری یہ دکھاوے کی تڑپ بےسود ہے اب۔۔۔۔“ سینے میں اٹھتی چاہ کو بڑی مشکلوں سے دباتے ہوئے عائل کا لہجہ ہنوز سپاٹ تھا۔
شاہ نے شدتِ بےبسی سے ہاتھ کی مٹھی بنا کر گلاس وال پر ہٹ کی۔
وسیع آسمان پر سجے سورج کی کرنیں گرماہٹ میں اب کہ بے دم سی ہونے لگی تھیں۔
”احساس ہے ناں بھائی۔۔۔ہے احساس۔۔۔۔یہ سچ ہے کہ بیت چکے وقتوں میں خود کو اچھا ثابت کرتے کرتے بہت برا بن چکا تھا میں۔۔۔پر اب۔۔اب میں مکمل بدل گیا ہوں۔۔۔بیلیو می بھائی۔۔۔میرے حالات۔۔۔احساسات۔۔سوچ۔۔ارادے۔۔انفیکٹ سب کچھ ہی بدل چکا ہے۔۔۔۔۔“ اپنی صفائی پیش کرتا وہ اس بار بھی حرمین زہرا کے نام پر کیا گیا جرم بڑے عام سے انداز میں لے گیا تھا۔
بلاشبہ اسپیکر سے ابھرتا لہجہ متاسف ضرور تھا۔۔۔مگر صرف خود کی ذات کے لیے۔۔۔
اپنے کیے پر ہنوز نہ کوئی پچھتاوا۔۔۔نہ ہی کوئی ملال۔۔۔
کون کہتا تھا وہ بدل چکا ہے۔۔۔۔؟؟
عائل کو صاف دکھ ہوا تھا۔
”بدلتے حالاتوں کے سبب فقط بدل جانا ہی کافی نہیں ہوتا شام۔۔۔؟؟اصل بات تو اس گناہ کا ازالہ کرنے کی ہے۔۔جو شاید تمھارے لیے اب ایک ناممکن سا عمل بن کر رہ گیا ہے۔۔جان لو کہ گئی جانیں واپس نہیں آیا کرتیں۔۔۔۔“ شرم دلانے کو اس نے حقیقتاً ایک ناکام سی ہی کوشش کی تھی۔
”انٹرسٹنگ۔۔۔بھائی کی اذیت پر بیوی کی خوشی کو ترجیح دینے کی عادت آپ نے اب تک نہیں بدلی۔۔۔اور نہ ہی آپکے اس عمل کے نتیجے میں،میں نے اپنے دل میں اٹھنے والی دکھن کو بدلا ہے۔۔۔۔“ گہرا طنز کرتا وہ ان سنگین پلوں میں تمسخرانہ ہنسا۔
”حقیقی مدعے پر آؤ۔۔۔مجھ سے کیا چاہ رہے ہو اب تم۔۔۔۔؟؟“ سرد مہری سے گویا ہوتے عائل نے بات ختم کرنا چاہی۔
”کم از کم ایک ملاقات۔۔۔ملنا چاہتا ہوں آپ سے۔۔۔بنا کسی فضول سی جھجھک کاشکار ہوئےکھل کر باتیں کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ورنہ ممکن ہے دن بدن بڑھتی یہ بےسکونی مجھے پاگل کردے گی۔۔۔۔۔“ شدت سے ملتجی ہوتا وہ موبائل فون سرعت سے دوسرے کان پر رکھ گیا۔
ناامیدی سے کہیں ذیادہ امید تھی۔۔جیسے وہ نہ نہیں کرے گا۔
آخر کو سگا بھائی تھا اسکا۔۔۔
”مگر میں یہ نہیں چاہتا۔۔۔۔“ بڑے ضبط سے صاف انکار کرتا وہ شام کے لبوں پر بکھرتی مدھم مسکراہٹ کو مٹا چکا تھا۔
”وہ ہمارے باپ کو قاتل کہہ رہی ہےبھائی۔۔قاتل۔۔۔۔کیا اب بھی آپ نہیں چاہیں گے۔۔۔؟؟؟“ معاً قدرے درشتگی سے چلا کر بولتا وہ عائل کو اپنے لفظوں سے بری طرح چونکا گیا تھا۔
”کیا مطلب ہے تمھاری اس بکواس کا۔۔۔کون۔۔۔؟؟کس کی بات کررہے ہو تم۔۔۔؟؟“ حیرت سے کھڑا ہوتا وہ مشتعل سا گویا ہوا۔۔۔تو دوسری طرف منہ پر ہاتھ پھیرتے شاہ نے ضبط سے آنکھیں میچ کر کھولیں۔
”میری بیوی۔۔۔۔۔۔۔۔“ اسپیکر سے ابھرتا دو لفظی جواب حقیقتاً بڑا ہی تلخ ترین تھا۔
اجازت ملنے پر راشدہ پریشان سی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔
پریشان ہوتی بھی کیوں ناں۔۔۔۔
آخر کو عائمہ بیگم نے اپنی نام نہاد بہو سے بےتابانہ کام جو کروا ڈالا تھا۔۔۔
بجائے خود سے انکار کرنے کے۔۔۔اب وہ تھکن سے چُور ننھی سی جان۔۔ میلے کپڑوں کا آخری ڈھیر دھوتے سمے چکراتی ہوئی سر تھام کے وہیں گیلے فرش پر بیٹھ گئی تھی۔
عائل کی غیر موجودگی میں ایک بار پھر سے۔۔اپنی پتھر دل ساس کی اپنائیت وصولنے کی یہ حقیقتاً ایک ناکام سی کوشش ہی تو تھی۔
”کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟اتنی حق دق کیوں کھڑی ہو تم۔۔۔۔؟؟“ حسن صاحب کی موجودگی میں انھوں نے ٹانگ سے ٹانگ اتارتے ہوئے ازلی نخوت سے پوچھا۔۔۔تو پل بھر کو گڑبڑاتی راشدہ نے سر پر دوپٹہ درست کیا۔
ادھ جلے سگریٹ کو۔۔۔قریب ٹیبل پر پڑے ایش ٹرے میں مسل کر وہیں چھوڑتے حسن صاحب بھی اسکی جانب متوجہ ہوچکے تھے۔
”جی وہ بیگم صاحبہ۔۔۔۔بات دراصل یہ ہے کہ وہ جو چھوٹی بی بی ہیں ناں۔۔۔انھیں کپڑے دھوتے وقت تھکاوٹ کے سبب اچھے خاصے چکر آگئے تھے جی۔۔۔ان سے مزید کام بھی نہیں ہو پارہا تھا۔۔۔تو بس اسی لیے میں انھیں۔۔۔واپس ان کے کمرے میں چھوڑ آئی ہوں جی۔۔۔۔“ راشدہ نے اپنے ازلی پینڈو لہجے میں ٹھہرٹھہر کر وضاحت دی۔۔۔تو جہاں بیڈ کے کنارے براجمان عائمہ بیگم نے تنفر سے بھنویں اچکائیں تھیں وہیں۔۔حسن صاحب نے کچھ تاسف سے اپنی ڈھیٹ بیگم کو دیکھ کر نگاہیں پھیر لیں۔
”چکر۔۔۔۔؟؟؟ہونہہ۔۔۔۔چکر چلانے میں تو یہ محترمہ شروع سے ہی خاصی ماہر رہی ہے۔۔۔اب بھی وہی کچھ کررہی ہے۔۔۔اچھے سے جانتی ہوں میں اس لڑکی کی بہانے بازی کو۔۔۔۔۔“ ان کے لہجے سے صاف نفرت ٹپک رہی تھی۔ہرے رنگ دوپٹے کا پلو انگلیوں میں گھماتی راشدہ انھیں دیکھ کر رہ گئیں۔
”لڑکی نہیں۔۔۔بہو ہے وہ تمھاری۔۔۔۔“ فریش موڈ کے سبب حسن صاحب نےسادگی سے ٹوکا۔۔۔تو عائمہ بیگم کو اس جملے سے کوفت سی ہوئی۔
”اب کھڑی دیکھ کیا رہی ہو تم۔۔۔جاؤ یہاں سے۔۔۔۔اور باقی کے بچے سارے کام نپٹاؤ جاکر۔۔۔“ انھیں مثبت جواب دینے کی بجائے وہ براہ راست راشدہ پر چلائی تھیں۔۔۔
”ج۔۔جی بہتر۔۔۔بیگم صاحبہ جی۔۔۔۔“ چونک کر سیدھی ہوتی وہ سر اثبات میں ہلاگئی۔پھرقدرے پھرتی سے وہاں سے پلٹ گئی۔
”کیوں بلاوجہ کی ذیادتی کررہی ہو تم اس بچی کے ساتھ۔۔۔؟؟؟“ صوفے سے اٹھ کر وہ لان کی طرف کھلتی کھڑکی کی جانب آئے۔
ان کے یوں پرواہ کرتے سوال پر مٹھیاں بھینچتی عائمہ بیگم بھی کھڑی ہوتی ان کے قریب چلی آئیں تھیں۔
”ہمیشہ مجھے اپنے رعب تلے لاکر اصل ذیادتی تو آپ نے میرے ساتھ کی ہےحسن صاحب۔۔۔۔اس روز بجائے میری بات ماننے کے۔۔۔آپ نے اپنی مردانگی کے زعم میں مجھے اس دوٹکے کی لڑکی کے سامنے تھپڑ مار کر۔۔۔میری عزت دو کوڑی کی بنادی تھی۔۔۔۔“ انکی جانب دیکھتے عائمہ بیگم نے قدرے برہمی سے جتایا۔۔تو ہنوز لان کی جانب بےوجہ تکتے ہوئے حسن صاحب کے لبوں پرمسکراہٹ سی بکھر گئی۔
وارنگ کے بعد ہمیشہ کی طرح اس بار بھی کسی بھی تھپڑ کی بابت عائل کو نہیں بتایا گیا تھا۔۔۔حتی کہ عائمہ بیگم کی سخت تاکید پر خود حاویہ بھی کچھ بتانے سے گریزاں ہوئی تھی۔۔۔ورنہ ممکن تھا اس معاملے میں عائل سخت اسٹینڈ لیتا جو۔۔۔حسن صاحب کو تو قطعی پسند نہیں آنا تھا۔
”تم ابھی تک اس پرانی بات کو اپنے دل سے لگائے بیٹھی ہو بیگم۔۔۔۔میں تو کب کا بھلا بھی چکا۔۔۔بہتر ہے تم بھی بھول جاؤ اور اپنی بڑی بہو سے خوامخواہ کے بیڑ پالنا چھوڑ دو۔۔۔ورنہ عائل کو اپنی ان حرکتوں سے بدظن کردو گی۔۔۔۔“ اگلے ہی پل انکی جانب رخ موڑتے وہ آہستگی سے کندھے تھام کر نرمی سے بولے۔
آج جو من چاہا ٹینڈر انھیں ملا تھا۔۔۔یہ نرمی اسی کا نتیجہ تھی۔وگرنہ تو وہ عموماً ایک پل میں جھاڑ کر رکھ دیتے تھے۔
”جب میں آپکو اپنی بجائے دوسروں کی پرواہ کرتا دیکھتی ہوں ناں۔۔۔تو میرا کلیجہ جل سا جاتا ہے۔۔۔کبھی کبھی تو خاصی حیرت ہوتی ہے مجھے۔۔حیرت ہوتی ہے یہ سوچ کر کہ کیا آپ نے واقعی میں مجھ سے محبت کی شادی رچائی تھی۔۔۔؟؟؟“ اپنے کندھوں سے آہستگی کے ساتھ ان کے ہاتھ ہٹاتی وہ دکھ سے گویا ہوئیں۔
بلاشبہ ماضی کے گنے چنے چند دن ہی سہی۔۔۔مگر ان کے اندر دبی حسرتوں کو اکثر جگا دیا کرتے تھے۔
”تو یعنی اب تم میری محبت کو لے کر شک میں مبتلا ہوچکی ہو۔۔۔یہی جتانا چاہ رہی ہو ناں مجھ پر۔۔۔؟؟“ اس بار ذرا تیوری چڑھا کر پوچھتے وہ بھی سنجیدہ ہوئے تھے۔
”گزشتہ سالوں میں محبت کی جگہ۔۔۔اگر آپ اپنی نفرت کی چھاپ بآسانی میرے رخساروں پر چھوڑ سکتے ہیں۔۔تو پھر میں آپکی محبت کو لے کر شک میں مبتلا کیوں نہیں ہو سکتی بھلا۔۔۔۔؟؟؟“ ان کا نم پڑتی آنکھوں سے دیا جانے والا تلخ جواب حقیقتاً شرمندہ کردینے والا تھا۔۔۔مگر وہ بنا کوئی پرواہ کیے مٹھیاں بھینچ گئے۔
”اصل حقیقت تو یہ ہے بیگم کہ تم کسی بھی لحاظ سے نرمی برتے جانے کے لائق نہیں ہو ورنہ میرے سر چڑھ کے بولنے لگو۔۔۔جیسے ڈھیل دینے پر اب بول رہی ہو۔۔۔اب ہٹو میرے سامنے سے۔۔۔۔۔۔“ عائمہ بیگم انکا خوشگوار موڈ خراب کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہی تھیں۔۔۔جبھی بگڑ کر بولتے ہوئے انھوں نے آخر میں انھیں دھتکارتے انداز میں سامنے سے پرے کیا۔۔پھرکچھ غصے سے کھلے دروازے کی جانب لپکتے باہر نکل گئے۔
ابھی وہ چند قدم ہی آگے بڑھ پائے تھے جب یک دم آتی کال نے انھیں رک کر اپنا موبائل فون جیب سے نکالنے پر مجبور کردیا۔
”ہاں کہو سرمد۔۔۔کیا اپ ڈیٹ ہے وہاں کی۔۔۔۔۔؟؟؟“ کال پک کرتے ہی موبائل فون کان سے لگاتے ہوئے انھوں نے اپنے ہائر کیے ورکر سے پوچھا۔
لہجے میں بےقراری سی تھی۔
”سر۔۔۔۔شاہ میر صاحب کی کلائنڈز کے ساتھ آؤٹ آف سٹی۔۔میٹنگ کا سلسلہ ایک بار پھر سے چل پڑا ہے۔۔۔جہاں جانے کا وہ ارادہ بھی رکھے ہوئے ہیں۔۔۔مزید یہ کہ میں آپکو انہی کے متعلق ایک ویڈیو بھیج رہا ہوں۔۔۔جو شاید آپکی معلومات میں مزید اضافہ کن ثابت ہوگی۔۔۔۔“ دوسری طرف وہ تواتر سے وضاحت دیتا ہوا پل پل حسن صاحب کے رنگ بدلنے کا سبب بن رہا تھا۔
”ہہمم۔۔۔بھیجو جلدی۔۔۔۔۔“ سنجیدگی سے کہتے وہ کال کاٹ چکے تھے۔
نجانے اب کونسا نیا گل کھلانے کو بےتاب ہوا تھا ان کا سپوت۔۔۔۔؟؟؟
مزید دو سے چار پل لگے تھے میسج ٹیون بجنے میں۔۔۔۔جب حسن صاحب چونک کر موبائل اسکرین کی جانب متوجہ ہوئے۔پھرقدرے پھرتی سے کلک پر کلک کرتے چلے گئے۔
ویڈیو اوپن ہوتے ہی آفس فلور پر ہورہی لڑائی کا منظر ان کی بےچین نگاہوں کے سامنے آیا تھا۔
”رقاصہ نہیں ہے وہ۔۔۔۔سنا تم نے۔۔۔۔شاہ میرحسن کی بیوی ہے وہ۔۔۔۔۔ملکیت ہے میری۔۔۔۔۔“ فرش پر گرے کسی شخص پر پے در پے وار کرتا وہ شام ہی تو تھا۔
سماعتوں میں گھلتے ان صاف لفظوں پر حسن صاحب کے نقوش تن سے گئے۔
”اس کے خلاف ایک بھی واہیات لفظ سننے کا روادار نہیں ہوں گا میں۔۔۔۔ہاں مگر واہیاتی بکنے والے کا بد سے بدترین حال ضرور کردوں گا۔۔۔۔“ ویڈیو میں چیخ چیخ کر باورکرواتا وہ اطراف سے تقریباً بےخبر ہی تو تھا۔۔۔
ضبط سےمٹھی بھینچتے حسن صاحب کی نگاہوں میں سرخی اترنے لگی۔
معاً دو گارڈز سنبھالنے کو بپھرے شاہ کی جانب آئے تھے۔۔۔جب حسن صاحب نے مزید دیکھنے کی بجائے دانت پیستے ہوئے موبائل کی اسکرین بند کرڈالی۔
کس قدر۔۔۔۔احمق ترین تھا ان کا بیٹا جو ایک غلیظ رقاصہ کی حقیقت جان کر بھی اسکی محبت میں یوں مرا جارہا تھا۔۔۔
سوچتے ہوئے حقیقتاً حسن صاحب کا خون کھول اٹھا۔
ایسے میں اپنے دھیان سے کمرے سے باہر آتی عائمہ بیگم۔۔۔انھیں وہیں رکا دیکھ چونک گئیں۔۔۔جو ان کی جانب پشت کیے کھڑے ہنوز بےسکون کرتی سوچوں میں ڈنواں ڈول تھے۔
بےچینی سے مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے وہ اگلے ہی پل چونکے۔
تو کیا اس نے ان کی بدترین حقیقت بھی کھول کر شاہ میر کے سامنے رکھ دی تھی۔۔۔۔؟؟؟
اگر ہاں۔۔۔۔تو پھر اس نے کوئی استفسار کیوں نہیں کیا تھا۔۔۔۔؟؟؟
شاید۔۔۔شاید ایک بیٹے کی حیثیت سے اس نے اپنے باپ کے خلاف کچھ قبول نہ کیا ہو۔۔۔۔؟؟
یا پھر شاید وہ۔۔۔۔۔۔۔!!!
وہ دماغ پر شدت سے زور ڈالتے مزید گہرائی میں اتر جانا چاہ رہے تھے جب
کندھے پر ہاتھ رکھتی عائمہ بیگم نے بےساختہ انھیں مخاطب کیا۔
”آپ ابھی تک یہیں پر تھے۔۔۔۔۔؟؟؟“ وہ کچھ حیران ہوئیں تو نتیجتاً بری طرح چونکتے وہ بےاختیار ان کی جانب پلٹے۔
”خیر۔۔مجھے پنڈی جانا ہے۔۔۔اپنے بیٹے اور خاص طور پر چھوٹی بہو سے ملنے۔۔جب سے وہ بیاہی گئی ہے ایک بار بھی ملاقات میسر نہیں آئی۔۔۔۔۔۔“ انکے تاثرات نظرانداز کرتی وہ بظاہر بتارہی تھیں۔۔۔پر انداز صاف اجازت لیتا ہوا تھا۔
اگلے ہی پل حسن صاحب کے تیور خطرناک حد تک کڑے ہوئے تھے۔
”میری اجازت کے بنا تم اس گھر سے ایک بھی قدم باہر نہیں نکالو گی ۔۔۔پنڈی جاکر ملاقات کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔۔۔۔اور جان لو کہ تمھاری فی الحال ایک ہی بہو ہے۔۔۔فقط ایک۔۔۔اور وہ ہے عائل کی بیوی حاویہ۔۔۔دوسری بہو تک رسائی کا وہم و خیال چھوڑ دو۔۔۔سمجھی۔۔۔۔۔۔۔“ کنپٹی پر بارہا شہادت کی انگلی ٹھوکر کر تندہی سے باور کرواتے وہ عائمہ بیگم کا دل بےسکون ہی تو کرگئے تھے۔
”مگر کیوں۔۔۔۔؟؟؟“ پیشانی پر تیوری چڑھائے وہ قدرے حیرانی سے پوچھ رہی تھیں۔
ان کے سوال پر حسن صاحب کی نگاہوں کی سرخی مزید گہری ہوتی چلی گئی۔
”کیونکہ مردہ لوگ تصور میں ہی اچھے لگتے ہیں۔۔۔۔ملاقاتوں میں نہیں۔۔۔“ دبے لفظوں میں۔۔۔اپنے سینے میں پنپتے جانیلوا ارادے عیاں کرتے ہوئے وہ مزید رکے نہیں تھے۔۔۔بلکہ وہاں سے نکلتے چلے گئے۔
جبکہ پیچھے عائمہ بیگم کچھ بھی ٹھیک سے سمجھ نہ آنے پر بری طرح الجھتی ہوئی۔۔۔انھیں نظروں سے اوجھل ہوتا دیکھ کر رہ گئیں۔
دل انجان وسوسوں تلے بھاری سا ہونے لگا تھا۔
اب کون جانے آنے والے لمحات کس کی ذات کے لیے۔۔۔کس انداز میں۔۔۔کیا بربادی لانے والے تھے۔۔۔۔؟؟؟
”آپ اس سرپھرے انسان سے جلد از جلد اپنی جان چھڑوائیے حلیمہ۔۔۔پلیز۔۔۔یقین مانیں وہ شخص رتی بھر بھی آپ جیسی نازک مزاج لڑکی کے قابل نہیں ہے۔۔۔کل میں اس کی طبیعت اور تربیت۔۔۔دونوں کو بہت اچھے سے پرکھ چکا ہوں۔۔۔حیرت ہے۔۔۔اب تک آپ کس طرح گزارا کرتی آئی ہیں۔۔۔۔؟؟؟“ بالوں میں تلخی سے ہاتھ پھیرتا وہ خود کے ساتھ ساتھ اسکے لیے بھی قدرے فکرمند تھا۔۔۔جب اسپیکر سے ابھرتی عرفان کی بےچین آواز پر وہ نم پڑتی آنکھوں کو جھپکا گئی۔
خنساء بیگم سے کروائی گئی سفارش کے سبب۔۔پہلی بار موبائل فون پر وہ اس سے اس قسم کی گفتگو کرے گا۔۔۔
بھلا کہاں سوچا تھا اس نے۔۔۔۔۔؟؟
”کاش کہ آپ دلوں کو بھی پرکھنا جانتے عرفان صاحب تو یوں حیرت ہرگز نہیں ہو رہی ہوتی۔۔۔۔“ کہتے ہوئے اسکے تاسف بھرے لہجے میں تمسخر سا جھلکا۔۔۔تو اسکی بات نہ سمجھتے ہوئے نتیجتاً وہ ذرا چونکا۔
”کیا مطلب۔۔۔۔؟؟میں ٹھیک سے سمجھا نہیں آپ کہنا کیا چاہ رہی ہیں۔۔۔۔؟؟“ الجھا الجھا سا لہجہ نرمی لیے ہوئے تھا۔
”میری چھوڑئیے۔۔۔آپ اپنی بتائیں۔۔۔آپ کیا چاہ رہیں ہیں۔۔۔۔؟؟“ گہرا سانس بھرتی وہ بات کو ٹال گئی تھی۔
عرفان کے لب مسکرائے۔۔۔
خیرشدید محبت تو نہیں۔۔۔۔۔۔ہاں مگر بطور ہمسفر وہ اسے اچھی ضرور لگنے لگی تھی۔
ہاتھ تھامنے پر وہ نازک سا لمس حقیقتاً اس کے دل میں ہلچل سی مچا گیا تھا۔
”میں چاہتا ہوں کہ آپ فی الفور سالار خان سے طلاق کا مطالبہ کیجیے۔۔۔جو شاید وہ دینا نہیں چاہتا۔۔۔۔اور اگر واقعتاً ایسا ہے تو۔۔۔۔پھرآپ بنا کسی دیری کے۔۔خلع کے نام پر اپنا اختیار استعمال میں لائیں۔۔۔۔“ وہ صاف صاف لفظوں میں اپنے دل میں پنپتی خواہش اسے بتارہا تھا۔
دبیز قالین پر مرکوز حلیمہ کی مزید بھیگتی۔۔ساکت نگاہوں میں گلال اترنے لگا۔
”میری با مقصد محبت کی راہ میں تم فقط ایک بے مقصد سی رکاوٹ ہو حلیمہ خانزادی۔۔۔جسے پیروں تلے روند کر آگے نکل جانا اب میری شدید ترین خواہش بن چکی ہے۔۔۔“ معاً سماعتوں میں گھلتی سالار خان کی پھنکار اسے سختی سے مٹھی بھینچنے پر مجبور کرگئی۔ ”حلیمہ۔۔۔۔؟؟؟“ اسکی بےنیازی پر وہ صاف پکار اٹھا تھا۔
”ٹھیک ہے پھر۔۔۔مجھےمحض ایک سے دو دن کی مہلت دیجیے اماں حضور۔۔۔اگر جو فیصلہ میرے حق میں ہوا تو میں خود۔۔حلیمہ خانزادی کو خلع کی جگہ طلاق دوں گا۔۔۔لیکن اگر حق میں نہ ہوا۔۔تو بھی مجھے اسکی مرضی سے کسی بھی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہوگا۔۔۔۔“ دل چیڑتا لہجہ کس قدر سفاک تھا ناں۔۔۔
اسی قدر سفاک کہ گھٹتی سانسوں کے سبب گھبرا کر کھڑے ہوتے ہوئے۔۔۔حلیمہ کو خود کے لیے حتمی فیصلہ لینے میں فقط ایک پل لگا تھا۔
”م۔۔میں۔۔۔میں کروں گی ان سے طلاق کا مطالبہ۔۔بہت جلد۔۔۔۔آپ بےفکر رہیں۔۔۔“ بہتے آنسوؤں کے دوران اپنی نم آواز پر قابو پاتی جہاں وہ۔۔۔فون کے دوسری طرف اسے کھل کر مسکرانے پر مجبور کرگئی تھی۔۔۔وہیں مٹھیاں بھینچ کر۔۔پشت پر ساکت کھڑے سالار خان۔۔۔کا ضبط ٹوٹ کر بکھرتا چلا گیا۔
معاً آگے بڑھتے ہوئے موبائل فون جھپٹ کر۔۔شدت سے سامنے الماری پر مارتا وہ حلیمہ کو بوکھلا کر اپنی طرف پلٹنے پر مجبور کرچکا تھا۔
”کیا بکواس ہے یہ سب۔۔۔ہہمم۔۔۔؟؟؟“ بازو سے دبوچ کر اسے اپنی جانب جھٹکتا وہ شدت سے غرایا۔
پٹیوں میں جکڑا سر تھا کہ اتنے سے عمل میں ہی وقفے وقفے سے اٹھتے درد کے سبب پھٹنے سا لگا تھا۔
اس دوران بند ہوتےموبائل کی اسکرین بھی ٹوٹ چکی تھی۔
”بکواس نہیں خان۔۔۔طلاق۔۔۔طلاق چاہیے مجھے آپ سے۔۔۔۔۔۔“ بڑی مشکلوں سے اس کے نقوش پر بکھرتی اذیت سے لاپرواہ بنتی۔۔۔وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اسی کے انداز میں غرائی۔۔۔تو قدرے قریب سے اسکے باغی نقوش تکتا سالار خان پل بھر کوتھم سا گیا۔
وہ تو اس سے دونوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے بات کرنے کی غرض سے یہاں آیا تھا مگر۔۔۔۔ مگر یہاں تو معاملہ ہی حدود سے پوری طرح باہر نکل چکا تھا۔
”اور اگر میں نہ دوں تو۔۔۔۔انفیکٹ میں دوں گا ہی کیوں۔۔۔؟؟؟“ شدتِ بےبسی سے اپنی گرفت مزید سخت کرتا وہ اسے درد سے آشنا کروا رہا تھا۔
جہاں پلکیں جھپکانے پر دو آنسو ٹوٹ کر اسکے گالوں پر لڑھکے تھے۔۔وہیں پیشانی پر صاف بل پڑے۔
”خان ہونے کے باوجود بھی اپنے کہے لفظوں سے مکر جانا آپکا پسندیدہ مشغلہ ہے۔۔مگر مقابل بھی ایک خانزادی کھڑی ہے۔۔۔اس بار آپکو آپکے کہےلفظوں سے مکرنے نہیں دوں گی۔۔۔بہتر یہی ہے کہ اختلاف کرنے کی بجائے میری مرضی کا احترام کریں خان۔۔۔اور میری مرضی کیا ہے وہ میں آپکو صاف صاف لفظوں میں بتا چکی ہوں۔۔۔۔“ کہتی ہوئی پوری قوت لگا کر اپنا بازو اس سے چھڑواتی وہ۔۔۔اگلے ہی پل پلٹ کر ملحق ٹیرس کی جانب جا چکی تھی۔
گہری ہوتی رات میں وہ بھی سرعت سے اسکے پیچھے چلا آیا۔پھر درشتگی سے اسے اپنی جانب گھومایا۔۔۔جو مشکل ہی اپنے بھیگے گال رگڑ پائی تھی۔
”نہیں دوں گا میں تمھیں طلاق۔۔۔۔سنا تم نے۔۔۔کسی بھی صورت نہیں دوں گا۔۔۔اور اگر تم خلع بھی لینا چاہو گی ناں۔۔۔تو بھی میں تمھیں یہ کام قطعی نہیں کرنے دوں گا۔۔۔
تم میری بیوی تھی۔۔۔۔
میری بیوی ہو۔۔۔
اور فقط میری ہی ملکیت بن کر رہو گی۔۔۔فقط میری۔۔۔۔“ چلا کر قطیت بھرے لہجے میں بولتا وہ۔۔۔اگلے ہی پل درد کرتے سر کو تھامے دانت پیس گیا۔
اس کے اس قدر پاگل پن پر ناچاہتے ہوئے بھی حلیمہ کا دل دھڑک اٹھا تھا۔
”مگر کیوں۔۔۔۔؟؟؟اب یہ تماشہ کیوں۔۔۔؟؟؟یہی تو چاہتے تھے ناں آپ۔۔۔۔؟؟؟“ اس بار عاجز آتی وہ بھرائے لہجے میں پوچھ رہی تھی۔
حقیقت سے ہنوز ناواقف حلیمہ کے لیے۔۔۔اسکی منمانیاں سمجھ سے قدرے پرے ہی تو تھیں۔
اسکے بھیگے نقوش دیکھتا وہ بےاختیار نفی میں سر ہلاگیا۔
”چاہتا تھا۔۔۔۔۔مگر اب نہیں چاہتا۔۔۔قطعی نہیں چاہتا کہ میری ہوتے ہوئے بھی تم مجھ سے یوں دور چلی جاؤ۔۔۔۔۔“ اب کی بار نرمی سے نازک کندھوں کو تھام کر اسے اپنے قریب کرتا وہ مدھم گھمبیر لہجے میں گویا ہوا۔جلتی آنکھوں میں ضبط کے باوجود بھی نمی سی در آئی تھی۔
چونک کر اسکے خماری میں ڈھلتے نقوش تکتی حلیمہ کا دماغ سنسانے لگا۔
اس بار تو وہ نشے میں بھی نہیں تھا۔۔۔
تو پھر یہ سب۔۔۔۔؟؟؟؟
معاً جھماکا سا ہونے پر اسکا دل ڈوب کر ابھرا۔
”رابی نے ٹھکرایا ہےآپ کو۔۔۔۔؟؟؟اور و۔۔وہ ایکسیڈنٹ۔۔۔؟؟؟وہ بھی اسی دکھ میں ہوا تھا۔۔۔۔؟؟؟“ قدرے گہرائی سے سوچتے ہوئے الجھی گتھیاں پل میں سلجھی تھیں۔
وہ جو دوسروں کی طرح اسکے ایکسیڈنٹ کو محض گہری لاپرواہی کا نتیجہ سمجھے بیٹھی تھی۔۔حقیقتاً بڑا ہی مضبوط اندازہ لگاگئی تھی۔
سالار خان نے اسکی نم آنکھوں میں یکدم شدت سے ابھرتی حیرت کو چونک کر دیکھا۔پھربےسکونی سے سینے کو مسلا۔
”وہ تو اول روز سے ہی میری ذات۔۔۔میرے عشق کو ٹھکراتی آئی ہے۔۔۔حقیقی خطا تو میری خود کی ہے۔۔۔یکطرفہ محبت میں خود بھی جلتا رہا۔۔۔۔اور اپنے پیچھے تمھیں بھی جلاتا رہا۔۔۔ک۔۔کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم سب تلخیاں بھول کر میری خطا کو۔۔۔۔۔۔“ ٹوٹ چکے لہجے میں تاسف سے بولتا وہ بےاختیار اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھامنے کو تھا۔۔۔۔جب مکمل ضبط کھونے پر درشتگی سے اسکے ہاتھ پیچھے جھٹکتی حلیمہ کا نازک ہاتھ اٹھا۔۔۔اور اسکے چہرے پر پوری قوت سے اپنی چھاپ چھوڑ گیا۔
”چٹاااااخ۔۔۔۔۔۔۔۔“ نازک تھپڑ کی تلخ آواز رات کے سناٹے میں گونجتی سالار خان کو ساکت ہی تو کرگئی تھی۔
معاً قریب ہوتی وہ جذباتی سی اسکا گریبان پکڑ گئی۔
جبکہ وہ۔۔۔وہ تو اسکا بپھرا روپ دیکھتا ہنوز ساکت تھا۔
”سمجھتے کیا ہیں آپ خود کو خان۔۔۔۔؟؟؟ہاں۔۔۔۔؟؟؟کیا سمجھتے ہیں آپ مجھے۔۔۔۔؟؟؟جب فیصلہ اپنے حق میں نہیں ہوسکا تو اب چلے آئے ہیں تاکہ مجھے زبردستی میرے فیصلے سے دستبردار کرسکیں۔۔۔۔۔“ چیخ کر پوچھتی وہ خود میں سینچ سینچ کر رکھے درد کو بھڑاس کی صورت نکال رہی تھی۔۔۔ورنہ ممکن تھا پاگل ہوجاتی۔۔
اسکی جانب ضبط سے دیکھتے سالار خان نے سختی سے مٹھیاں بھینچ لیں۔
”میری غیرت ابھی مری نہیں ہے حلیمہ سالار خان۔۔۔ کہ اپنی ہی بیوی کو میں جانتے بوجھتے کسی اور مرد کے ہاتھوں چپ چاپ سونپ دوں۔۔۔۔۔“ اسکی ایک کےبعد ایک جرات کو بمشکل برداشت کرتا وہ چبا چبا کر بولا تو۔۔وہ بہتے آنسوؤں میں بےاختیار مدھم سا ہنس دی۔
مگر سسکتادل۔۔۔۔
وہ تو محبوب کی بےدم وفاؤں کے آگے پھٹ سا رہا تھا۔۔۔
”تو یہ غیرت تب کہاں تھی سالار خان۔۔۔۔؟؟؟تب کہاں تھی جب اپنی ہی بیوی کی محبت پرآپ۔۔ہر بار ایک پرائی عورت کی محبتوں کا دم بھرتے ہوئے اذیتوں میں مبتلا کردیا کرتے تھے۔۔۔۔۔؟؟“ ہنوز اسکا گریبان مٹھیوں میں دبوچے اسکا نم انداز صاف مذاق اڑاتا ہوا تھا۔
”محبت میں بھٹکنا لازم ہے۔۔۔۔۔“ بےاختیار عاجز سا گویا ہوتا وہ اسکی ڈھیلی پڑتی گرفت سے بآسانی اپنا گریبان چھڑواگیا۔
”اب میں بھی بھٹکنا چاہتی ہوں۔۔۔مگرمحبت میں نہیں۔۔۔جانتے بوجھتے خسارے میں۔۔۔۔۔“ مضبوط لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر باور کرواتی۔۔ وہ اگلے ہی پل اسے درشتگی سے پیچھے دھکیلتی وہاں مزید رکی نہیں تھی۔۔۔بلکہ اسے بےسکونیوں میں اتارتی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
پیچھے اس نے بے اختیار ہوکر اپنا سفید پٹیوں میں دکھتا ہوا بھاری سر قریب پلر پر مارا تھا۔
کیا بہت ضروری ہے۔۔؟؟
خواب پوش آنکھوں میں
آنسوؤں کا بھر جانا۔۔؟؟
حسرتوں کے ساحل پر
تتلیوں کا مرجانا۔۔؟؟
حبس کی ہواؤں میں
خوشبوؤں کا ڈر جانا۔۔؟؟
دل کے تپتے صحرا میں
حشر ہی بپا ہونا۔۔؟؟
کیا بہت ضروری ہے۔۔؟؟
اب تیراجدا ہونا۔۔!!
