Sulagti Yaadon Ke Hisaar Mein By RJ Readelle50174 Last updated: 23 August 2025
Rate this Novel
Sulagti Yaadon Ke Hisaar Mein
By RJ
وہ اس وقت ٹیسٹ کی تیاری میں بری طرح غرق ہرشے سے بےپرواہ تھی۔ ”اُففف انگلش۔۔۔۔اُففف۔۔۔۔“ پلنگ پر التی پالتی مار کر بیٹھی حاویہ انگلش کی بُک میں زبردستی سر دھنسائے زور زور سے ہلارے لے رہی تھی۔ یاد کرنے والا اتنا ذیادہ تھا جبکہ ٹائم حد سے بھی کم۔۔۔۔۔ کل کے ٹیسٹ کے لیے یقیناً اُسکی تیاری نہ ہونے کے برابر تھی اور ایسا شاید اُسکے ساتھ پہلی بار ہورہا تھا۔ جبھی نیناں دھڑام سے اُسکے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی جسے دیکھ کر وہ یکدم ہلنا جُلنا چھوڑگئی۔ اگلے ہی پل سامنے پڑی انگلش کی بُک ٹھک سے بند ہوئی تھی۔ اور شاید محترمہ بھی اسی پل کے انتظار میں تھیں۔۔۔ ”ٹیسٹ کی تیاری کیسی ہے تیری نینی۔۔۔۔؟؟“ لہجے میں بےچارگی سموئے وہ اُسکے احوال پوچھنے پر اُترآئی۔ ”ارے فکر نہیں کرو۔۔۔تمھارے جیسی ہی ہے۔۔۔۔خیر اسے چھوڑو اور یہ دیکھو میں تمھارے لیے کیا لائی ہوں۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکے معصوم نقوش پر بارہ بجتے دیکھ کر وہ بےفکری سے بولی تو حاویہ کے دل کو بھی کچھ سکون ہوا۔ لیکن اگلے ہی پل رجسٹر سے بے ڈھنگے انداز میں پھاڑے گئے آدھے سے کم صفحے کو اُسکی انگلیوں کے بیچ دبا دیکھ وہ الجھی جس پر غالباً کسی کا نمبر کیڑے مکوڑوں کی صورت تحریر کیا گیا تھا۔ ”یہ کیا لے کر آئی ہو میرے لیے۔۔۔۔۔؟؟؟“ منہ بسور کر پوچھتی وہ حیران ہوئی۔ ”تمھاری اماں کے ہونے والے چھوٹے داماد کا نمبر ہے بہن۔۔۔۔۔“ ایک ادا سے بول کر اُسکے پہلو میں گرتی وہ قدرے اطمینان سے اُس پر دھماکہ ہی تو کرگئی تھی۔ ”کیاااا۔۔۔۔تمھیں عائل کا نمبر کہاں سے ملا۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکی گہری بات کا مطلب سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں سمجھتی وہ دبی آواز میں چیخی۔ ”بس دیکھ لو۔۔۔ضروری نہیں کہ ہمیشہ ہیرو ہی ہیروئن کو تنگ کرنے کے لیے اُسکا نمبر نکلوائے۔۔۔۔کبھی کبھی ہیروئن کی دوست بھی ہیرو کا نمبرنکلوالیتی ہے بھئی۔۔۔۔“ شہادت کی انگلی اُسکی ٹھوڑی کے نیچے ٹکاتی نیناں اُسکا حیرت سے کھلا منہ بند کرتے ہوئے آنکھ دباگئی۔ چہرے پر رقصاں شرارتی مسکراہٹیں قابلِ ستائش تھیں۔ ”پاگل ہوگئی ہو کیا۔۔۔۔؟؟میں اُس کھڑوس سے بات کروں گی۔۔۔۔؟؟اور وہ بھی پولیس اسٹیشن کال کرکے۔۔۔۔؟؟نو۔۔۔۔نیور۔۔۔۔“ نیناں کو موبائل فون پر نمبر ملاتا دیکھ اُسکا دماغ صحیح معنوں میں گھوم گیا جبھی وہ اُسکا ارادہ بھانپتی قطیعت بھرے لہجے میں غرائی۔ ”حاوی۔۔۔۔تو بات کرے گی تو بس کرے گی۔۔۔۔میں بول رہی ہوں ناں کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔جسٹ چِل یار۔۔۔۔“ حاویہ کو موبائل فون پر جھپٹتا دیکھ وہ سرعت سے اپنا ہاتھ پشت پر ٹکاگئی۔ ”وہ میری اُس دن والی حرکت پر پہلے سے ہی بہت غصہ ہوگا نینی۔۔۔ایسے میں میں جان بوجھ کر شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کا رسک نہیں لے سکتی میڈم۔۔۔۔نونونو۔۔۔۔ایم سوری۔۔۔۔“ عائل کا گدلے پانی سے بھیگا وجود بھوری نظروں میں گھومتے ہی وہ بےاختیار جھڑجھڑی لے بیٹھی۔ اُسکی غصے کی ذیادتی سے سرخ آنکھیں اور تلخ لہجہ وہ بھلا کیسے بھول سکتی تھی۔۔۔۔ ”اپنی جان پر کھیل کر میں نے تمھارے اے۔ایس۔پی۔ کا نمبرپرنسپل سر کے آفس سے نکلوایا ہے۔۔۔۔نکلوایا نہیں بلکہ بذاتِ خود چُرایا ہے۔۔۔۔اب نہ نہ بول کر میرا موڈ مت خراب کرو پلیز۔۔۔۔“ حاوی کو ڈپٹتی وہ اُس پر بری طرح بگڑی۔ ”نہ کر نینی۔۔۔۔اگر اُسے معلوم پڑگیا کہ میں بات کررہی ہوں تو وہ۔۔۔۔“ اُسکا پھولا ہوا منہ اور آنکھوں میں اترتی ہلکی ہلکی نمی دیکھ کروہ نرم لہجے میں بےبس ہوتی التجاء کرگئی۔ ”کچھ پتا نہیں چلے گا پاگل۔۔۔۔بس تُو وہی کر جو میں کرنے کو بول رہی ہوں۔۔۔۔“ بےاختیار اُسے ٹوکتی وہ کئی لمحوں پر محیط گنے چنے لفظوں کا لائحہ عمل اُسے سمجھا بھی چکی تھی۔ ”اگر اُسنے پوچھا کہ کون بات کررہا ہے تو پھر میں کیا کہوں گی آگے سے۔۔۔۔؟؟“ اُسکی شدید ناراضگی کے ڈر سے وہ اِس بے جا ضد کے سامنے پھرسے وہی جواز پیش کرگئی۔ ”کہہ دینا کہ آپکی لوَر بول رہی ہوں۔۔۔۔“ اُسکی ایک ہی رٹ پر چڑتی وہ جھنجھلاکر بولی۔ ”ہاں۔۔۔۔اور وہ مجھے جواب میں خوشی خوشی آئی لوَیو بول دے گا۔۔۔۔ہے ناں۔۔۔۔؟؟“ اُسے قدرے احتیاط سے اسکرین پر انگلیاں چلاتے دیکھ کر حاویہ کا بس نہیں چل رہا تھاکہ اپنی جان سے پیاری دوست کا سر پھاڑدے۔ اور پھر اِسکا خود کا دھڑکتا دل۔۔۔وہ بھی تو عین وقت پر اُسکی مخالفت کرجاتا تھا۔۔۔جیسے کہ اب کررہا تھا۔ ”ششش یہ لے پکڑ پکڑ۔۔۔۔۔“ موبائل فون کو اسپیکر پر ڈالتے ہی وہ سیل اُسکے ہولے ہولے لرزتے ہاتھوں میں تھما چکی تھی۔ بیل جارہی تھی جب حاویہ نے قدرے بےچارگی سے اُسکی طرف نظر بھرکردیکھا۔ اگلے ہی پل بھاری دلکش آواز دونوں کی سماعتوں سے ٹکراتی اُنھیں چونکاگئی۔ ”ہیلو۔۔۔۔جی کون بات کررہا ہے۔۔۔۔؟؟؟“ عائل پروفیشنل انداز میں پوچھتا نرمی سے گویا ہوا۔ مگر کئی لمحے بیت جانے پر بھی جواب ندارد تھا۔۔۔ ”میں نے پوچھا کون بات کررہا ہے۔۔۔؟؟“ دوسری جانب مسلسل کھٹ کھٹ کی آواز پر بیزارہوتا وہ سخت لہجے میں بولا۔ ”جج۔۔جی وہ میں۔۔۔کیا آپ اے۔ایس۔پی عائل حسن بول رہے ہیں پولیس اسٹیشن سے۔۔۔؟؟“ نیناں کے زور کا ٹہوکا دینے پر وہ بمشکل اپنی آواز بدل کربولی۔دل اپنی بےوقوفی پرشدتوں سےدھڑک رہا تھا۔ ”جی میں ہی بات کررہا ہوں۔۔۔آپ کون بول رہی ہیں بی بی اور یہاں فون کرنے کا کوئی خاص مقصد۔۔۔؟؟“ کسی لڑکی کے ہکلاکر بولنے پر پل بھرکو چونکتا وہ ٹیک چھوڑ کر قدرےسنجیدگی سے گویا ہوا۔ ”وہ۔۔۔وہ ناں ہمارے گھرزبردستی کچھ چور گھس آئے ہیں۔۔۔اسی لیے آپکی ہیلپ چاہیے تھی۔۔۔کمینی تُو مجھے برا پھنسوائے گی۔۔۔“ سیکھے سکھائے لفظوں کو باریک آواز میں اگلے کی سماعتوں میں گھولتی وہ بےساختہ اپنی دوست پر برس پڑی۔ یہ جانے بغیر کہ مقابل اُسکا نہایت دھیمے انداز میں بولا گیا آخری جملہ بھی سن کر ماتھے پر لاتعداد بل ڈال چکا تھا۔ ”ہہممم۔۔۔توآپ ایسا کریں کہ فوراً مجھے اپنے گھر کا ایڈریس بتائیں۔۔۔میں ابھی پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ وہاں پہنچتا ہوں۔۔۔بلکہ آپ رہنے دیں میں خود ہی آپکی کال ٹریس کرکے لوکیشن معلوم کرلیتا ہوں۔۔۔“ اپنے غصے پر قابو پائے وہ سرد لہجے میں بولتا حقیقتاً اُسے خوفزدہ کرگیا۔ بدلے میں اُسنے نیناں کو آنکھیں پھاڑ کر ایسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو۔۔۔لو بیٹا بُراپھنسی۔۔۔اب کہ نیناں خودبھی یہ سن کرپریشان ہوچکی تھی۔ ”نن۔۔نہیں آپ رہنے دیں۔۔۔چورتو آپکی بھاری بھرکم آواز سنتے ہی ڈرکے بھاگ گئے تھے۔۔۔“ اسکے پُراثرلفظوں کے جال میں پھنستی وہ جومنہ میں آیابول گئی جب اچانک چنگاڑتی ہوئی آواز اسپیکر سےابھری۔ ”میری بات کان کھول کےسنو۔۔۔تم انتہائی بےوقوف اور جاہل قسم کی لڑکی ہو۔۔۔اب اگر دوبارہ کسی بھی پولیس والے کےساتھ ایسا گھٹیا مذاق کرنےکی کوشش کی تو چوروں کا پتا نہیں۔۔۔لیکن تمھیں تمھاری دوست سمیت حوالات کی سیرضرور کروا ڈالوں گا میں۔۔۔اور پھینٹی الگ سے۔۔۔سمجھی۔۔۔“ کانوں میں صور پھونکتا وہ دونوں کے ہی چھکے چھڑاگیا۔ ”چلو اب فون رکھو۔۔۔۔ایڈیٹ۔۔۔۔“ چلتی کال پر اُسکا سکتہ محسوس کرتا وہ تڑخ کر بولا تو وہ دونوں بھی جیسے ہوش میں آئیں۔ ”اللہ میری توبہ۔۔۔۔۔آپ واقعی میں بہت برے ہیں عائل صاحب۔۔۔۔خدا حافظ۔۔۔۔“ بےدھیانی میں اپنے قدرتی لب و لہجے میں بولتی ہوئی وہ اس بار عائل کو بری طرح ٹھٹھکاتی کال کاٹ گئی۔ ”حاویہ۔۔۔۔۔اففف پاگل لڑکی۔۔۔۔تو یہ تم تھی۔۔۔۔“ ان ناؤن نمبرکو غور سے دیکھتا وہ نچلا لب دانتوں تلے دباگیا۔ بھلا وہ یہ آواز یہ انداز کیسے بھول سکتا تھا جو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اُسکے دل میں ہلچل مچاگئے تھے۔ ”اب تو محترمہ کو جلد ہی اپنی ملاقات کا شرف بخشنا پڑے گا۔۔۔۔اُففف۔۔۔۔“ زیرلب خود سے مخاطب ہوتا وہ کئی دنوں سے دل میں مچلتی خواہش پر اب سنجیدگی سے غوروفکر کرنے لگا تھا۔ جبکہ دوسری جانب بند کمرے تک محدود نیناں اور حاویہ کے بیچ ہونے والی بچگانہ لڑائی قابلِ دید تھی۔۔۔ 💞💞💞💞💞💞
