No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
میری پرمیشن کے بنا کاپی پیسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے 👊🏻🚫
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
”مس حرمین۔۔۔۔“ ڈائس کے سامنے کھڑے سر حمزہ کی سپاٹ آواز کلاس میں گونجی تو اپنے نام کی پکار پر اُسنے چونک کر سراٹھاتے اُنکی جانب دیکھا۔خفیہ طور پر شیٹ پر پھرتی سے چلتی پین کی نوک ساکت ہوئی تھی۔
”ی۔۔۔یس سر۔۔۔۔؟؟؟“ عادتاً اپنا چشمہ صحیح سے ناک پر ٹکاتی وہ محتاط سی سیٹ سے اٹھتی ہکلائی۔اُسے قطعی امید نہیں تھی کہ سر حمزہ سب سے پہلے اُسے مخاطب کریں گے۔۔
”اپنی اسائمنٹ لائیں پلیز۔۔۔۔۔“ سیاہ و سفید مونچھوں پر اطمینان سے انگلیاں پھیرتے وہ اُسکے سانولے چہرے کا زرد پڑتا رنگ صاف دیکھ سکتے تھے۔گوکہ انہوں نے اپنے تجربے کی بناء پر صحیح وقت پر صحیح شکار پکڑا تھا۔
”آئی سیڈ اسائمنٹ۔۔۔۔کم آن۔۔۔۔چیک می۔۔۔“ اُسے اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ وہ اِس بار قدرے اونچا بولے تو وہ بھی چند پلکیں جھپکاتی جیسے ہوش میں آئی۔
ساری کلاس کی توجہ اب کہ حرمین پر سمٹ کر رہ گئی تھی۔
”سوری سر۔۔۔پر وہ مجھ سے ک۔۔۔کمپلیٹ نہیں ہوپائی۔۔۔۔“ خشک حلق سے نکلتی دھیمی آواز بھری کلاس میں گہری خاموشی کے باعث صاف سنائی دی تو اُسکے پہلو میں بیٹھی علیزہ اسکی فکر میں بےچین سی ناخن چبانے لگی جسکی خودکی اسائمنٹ نامکمل تھی۔
”واٹ ڈویو مین بائے کمپلیٹ نہیں ہوئی۔۔۔۔؟؟مس حرمین آپکو کچھ اندازہ بھی ہے کہ آجکل آپ کس لاپرواہی کا مظاہرہ کرتی پِھر رہی ہیں۔۔۔۔؟؟آئی تھنک نو۔۔۔۔یو ہیو نو آئیڈیا آباؤٹ یور اوبجیکشنل جینجز۔۔۔۔۔۔“ ماتھے پر ناگواری کے بل ڈالتے اُنکی پُھرتیلی آواز میں پل پل تلخی گھلنے لگی جب وہ پل بھر کے لیے سانس لینے کو رکے۔
اُن کے برہم رویے پرحرمین کی آنکھوں میں گھلی حیرت تیزی سے نم پڑنے لگی تو گہرا سانس بھرتے اُنھوں نے اپنی منقطع گفتگو کا سلسلہ پھر سے جوڑا۔
”شاید آپ یہ بات بھول رہی ہیں کہ لکیلی آپکا شمار یونی کے ٹاپرز میں ہوتا ہے۔۔۔اور ایسے میں اگر آپکی اسٹڈیز کو لےکر ٹیچرز کو شکایات ہونے لگیں تو یہ آپ سمیت ہم سب کے لیے انتہائی قابلِ افسوس بات ہے۔۔۔کیا وجہ ہے جو آپ اس لیول تک پہنچ گئی ہیں۔۔۔؟؟؟“ غصے میں اُسے بہت کچھ باور کرواتے اُنھیں حرمین کی بابت حقیقتاً افسوس ہورہا تھا جو گزشتہ کچھ دنوں سے اُن سمیت مزید ایک دو ٹیچر کی نظروں میں آچکی تھی۔
جبکہ وہ۔۔۔سرحمزہ کے شکایتی لفظوں پرسرجھکائے کھڑی دھندلائی نظروں سے اپنے لمبے شفاف ناخنوں کو گھورتی کچھ بھی بولنے کے قابل نہیں بچی تھی جنھوں نے پچھلی بار کی طرح اس بار اُسکے حساس پنے کا بھرم رکھنے کی بالکل بھی کوشش نہیں کی تھی۔۔الٹا کسی بم کی طرح اُس پر پھٹ پڑے تھے۔
کئی سٹوڈنٹس کے چہروں پر حیرت کی پرچھائیاں رقصاں تھیں تو کچھ کے لبوں پر حظ اٹھاتی مسکراہٹیں مچل رہی تھیں۔
”سر جی۔۔۔جب لائق فائق سٹوڈنٹس عشقیہ لوجی کے چکر میں پڑجائیں ناں۔۔تو پھر اِن فضول پڑھائی ڈگریوں کے چکر میں نہیں پھنستے۔۔۔۔“ جبھی لاسٹ بنچ سے کوئی من جلی اپنی پونی ٹیل کو مزید کستی تمسخرے پن سے بآواز بلند گویا ہوئی تو بےاختیار کلاس میں اٹھتا دبی دبی ہنسی کا شور حرمین کو اہانت کے شدید احساس تلے پلوں میں سرخ کرگیا۔سٹرکٹ ٹیچر کی موجودگی میں خود کی پرسنل لائف پر بھری کلاس میں مزے سے کیے جانے والا طنز بھرا تبصرہ سن کر حرمین کا دل کیا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔بےساختہ چشمے کے پار گہری سیاہ آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر اُسکی گالوں پر پھسلے تو نتھنے پھولاتی علیزہ نے ملامتی نظروں سے سب کی لطف لیتی ہنسی کو دیکھا۔
ایسے میں لب بھینچ کر یک ٹک حرمین کی جانب سنجیدہ نگاہوں سے تکتے قیصر غازی کا دل شاید پہلی بار اُسکے معاملے میں بےچین ہوتا پھڑپھڑایا تھا۔۔۔کیوں۔۔۔؟؟یہ وہ خود بھی نہیں جان پایا تھا۔
”جسٹ کیپ کوائیٹ سٹوڈنٹس۔۔۔۔۔“ حرمین کی بابت اُس لڑکی کی بات پر پل بھر کو چونکتے سرحمزہ سخت لہجے میں بولے تو اُنکی ڈپٹ پر جلد ہی کلاس میں گہرا سکوت چھاگیا۔
”آئی نو مس حرمین۔۔۔۔ایشوز الموسٹ ہر انسان کو ہی ہوتے ہیں لیکن اسکے پیچھے اپنا فیوچر داؤ پر لگا دینا کوئی عقل مندی نہیں بلکہ ایک ناقابل برادشت حماقت ہے۔۔۔سب جانتے ہیں کہ میں ہمیشہ ہی آپ جیسے لائق فائق سٹوڈنٹس کی دل سے قدر کرتا آیا ہوں۔۔لیکن اُن سے ایسی لاپرواہی کی توقع ہرگز نہیں رکھتا جسکا مظاہرہ فی الوقت آپ کررہی ہیں۔۔۔“ خود کے لہجے میں کچھ نرمی لاتے وہ حرمین کی جانب دیکھتے ہوئے ہنوز سنجیدگی سے بولے جو برائے نام بھیگی پلکیں جھپکا جھپکا کرمزید بہتے آنسوؤں کو اندر اتارنےکی ناکام کوشش میں لرز رہی تھی۔
”ا۔۔۔ایم سوری سر۔۔۔آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔“ سرحمزہ سے بمشکل سرخائی گھلی نم نگاہیں ملاتی حرمین نے منمناتی آواز کانپتے لبوں سے نکالی تو اُسکی معذرت پر سرہلاتے وہ گہرا سانس بھرکے رہ گئے۔
معاملہ سرد پڑتا دیکھ بہت سے سٹوڈنٹس عدم دلچسپی کا اظہار کرتے واپس سابقہ سرگرمیوں میں مصروف ہوچکے تھے جبکہ کچھ کی چہ مگوئیاں ہنوز برقرار تھیں۔
”معذرت کرنے کی بجائے اگر آپ خود کو پہلے جیسا بنانے کی کوشش کریں گی تو مجھے ذیادہ خوشی ہوگی۔۔۔اینڈ آئی ہوپ کہ میری بات کا مان رکھتے ہوئے آپ آئندہ اپنے کسی بھی ٹیچرکو شکایت کا موقع ہرگز نہیں دیں گی۔۔۔آئی ایم رائٹ۔۔۔؟؟“ اس بار ہولے سےمسکراتے وہ نرم تنبیہ سمیت خود کی امیدیں بھی اُس پر واضح کرگئے تو بےاختیار اقراری انداز میں زورشور سے اثبات میں سر ہلاتی وہ بے احتیاطی سے گال رگڑگئی۔
اُسکا یہ بچوں کا سا انداز دیکھ کر قیصر غازی کے لب بےاختیار نرم مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔اگلے ہی پل وہ سر جھٹکتا سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔
”گڈ۔۔۔۔سِٹ ڈاؤن پلیز۔۔۔۔“ ڈائس سے مارکر اٹھاتے سر حمزہ نرمی سے بولتے قدرے اطمینان سے بورڈ کی جانب پلٹے تو جہاں سب سٹوڈنٹس اُنکا لیکچر کورے صفحات پر اتارنے کو چوکنا ہوئے وہیں بورڈ پر تیزی سے بکھرتے لفظوں کو تکتی حرمین کی سوچیں ناچاہتے ہوئے بھی پھرسے بے لگام ہوتیں شام کی طرف موڑی تھیں جو حقیقتاً اُسکے بگاڑپن کی وجہ بنتا جانے کیوں دو دنوں سے یونی نہیں آرہا تھا۔۔۔
وہ اس وقت آفس کے منی کچن میں کھڑی مصروف سے انداز میں کافی کے لوازمات سمیٹ رہی تھی۔خود کے لیے بنائی گئی گرم کافی کا کپ شلف پر رکھتے اُسنے بےاختیار اپنی دکھتی کنپٹیاں دبائیں پھر لاپرواہی سے سر جھٹک کرسمیٹا گیا سامان واپس کیبن میں رکھتی سنک کی جانب بڑھی۔نل کھول کر ہاتھ دھونے کے بعد جونہی وہ پلٹی تو سامنے کھڑے شاہ کو کافی کا بلیک کپ لبوں سے لگائے دیکھ بےساختگی میں منہ سے نکلتی چیخ کو نم ہتھیلی تلے دباگئی۔معاً اُسکے دماغ میں درد کی قابلِ برداشت ٹیس اٹھتی مدھم پڑی تھی۔
”آپ ٹھیک ہیں مس آبرو۔۔۔۔؟؟؟“ استہزائیہ مسکراہٹ لبوں پر بکھیرتا وہ انجان بنا تو زور پکڑتی دھڑکنوں پر آہستہ سے ہاتھ رکھتی وہ بےاختیار اثبات میں سرہلاگئی۔
کتنے دنوں بعد وہ مقابل کے لبوں پر بکھری شوخ مسکراہٹ دیکھ رہی تھی۔۔ورنہ تو اُس روز کی تلخ کلامی کے بعد سے اُن دونوں میں سنجیدگی و اجنبیت کی ایک دیوار سی کھڑی ہوگئی تھی جسے کچھ سپیس کے بعد ریزہ ریزہ کرنے والا خود شاہ ہی تھا۔
”اگر آپ کو کافی چاہیے تھی۔۔تو آپ مجھے بول دیتے سر۔۔۔۔میں پھرسے بنادیتی۔۔۔۔“ اُسکی کافی کی طلب کا احساس کرتی وہ سادگی سے بولی جو بلاتکلف اُسے دیکھتا برابر گھونٹ بھررہا تھا۔۔حالانکہ وہ پہلے ہی اپنی کافی پورے وقت پر لے چکا تھا۔
”آپ نے مجھے بولنے کی ضرورت پیش ہی کب آنے دی مس آبرو۔۔۔۔؟؟بن کہے کافی بھی بن گئی اور اب میں آرام سے کھڑا پی بھی رہا ہوں۔۔۔۔آپ میری طلب بہت اچھے سے سمجھتی ہیں۔۔۔آئی ایم ایمپریسڈ۔۔۔“ شیلف پر ہنوز ایک ہاتھ ٹکائے اطمینان بھرے لہجے میں بولتا وہ اُسے لانبی پلکیں جھکانے پر مجبور کرگیا جو چاہ کر بھی اپنے دکھتے سر کی بابت اُسکی غلط فہمی کا علاج نہیں کرپائی تھی۔
”آپ کو۔۔کوئی کام تھا مجھ سے۔۔۔۔؟؟؟“ چند لمحے چیختی خاموشی کی نذر ہوئے تو مقابل کھڑے اُس شخص کی بھوری نگاہوں کے پُرتپش ارتکاز پر انگلیاں چٹخاتی وہ جلدی سے بول پڑی۔لرزتی پلکوں تلے گہری نیلی نگاہیں ذرا کی ذرا اٹھتی شاہ کے وجیہہ نقوش کا شدت سے دیدار کرگئی تھیں۔
”کام۔۔۔۔“ وہ ایک قدم کے فاصلے پر اُسکے قریب رکتا اِس بار گھمبیر لفظوں سے اُسکا دل دھڑکانے کا ارادہ رکھتا تھا کہ تبھی کوئی اچانک ادھ کھلے دروازے کو پورا کھول کر دھڑلے سے اندر آیا۔شاہ چونک کر پلٹا اور ناگوار نظروں سےٹھٹھک کر رکتی سمن کو دیکھا۔آبرو بھی کچھ جھجکتی ہوئی پیچھے ہٹی تھی۔
”ایکسکیوزمی سر۔۔۔میٹنگ روم میں سب آپکا ویٹ کررہے ہیں۔۔۔۔“ مشکوک نظروں سے آبرو کو گھورتی وہ بظاہر آرام سے بولی تو مٹھیوں کو بھینچ کر پل میں کھولتا وہ مجبوراً سر کو جنبش دے گیا۔
”ہہمم۔۔۔آپ جائیں۔۔۔آرہا ہوں میں۔۔۔۔“ کپ ہنوز ہاتھ میں دبوچے وہ سرد مہری سے گویا ہوا تو سمن اُسکے بگڑتے تیوروں پر صبر کے گھونٹ بھرتی مروتاً مسکرا بھی نہ سکی۔آبرو کے سامنے شاہ کا بیگانہ سا رویہ اُسے خود کی تذلیل کا احساس دلاگیا تھا۔
”اوکےسر۔۔۔۔“ اُسکے آڈر پر مرتی کیا نہ کرتی کہ مصداق سپاٹ لہجے میں بولتی وہ وہاں سے نکل گئی لیکن جانے سے پہلے آبرو کی دلکش نگاہوں میں بھرتی چمک سخت نظروں سے دیکھنا نہیں بھولی تھی۔
دروازہ بند ہونے کی آواز پر شاہ گہرا سانس بھرتا پھر سے اُسکی جانب متوجہ ہوا۔
”آئی تھنک یہ کافی آپ نے اپنے لیے بنائی تھی جوغلطی سے میں نے ٹیسٹ کرلی۔۔۔۔“ ادھ بھرا کافی کا مگ ذرا سا اوپر اٹھاتا وہ کچھ تاسف سے بولا تو اُسکے یوں اچانک اپنی غلطی پوائنٹ آؤٹ کروانے پر وہ پل بھر کو گڑبڑاتی انکار میں سر ہلاگئی۔
”ناٹ آ بگ ایشو سر۔۔اٹس اوکے۔۔۔۔میں۔۔۔میں اپنے لیے دوسری بنالوں گی۔۔۔“ دھیمے سےمسکراتے ہوئے اُسنے شاہ کو اپنی نرم دلی سے آگاہ کیا تھا جب وہ نفی میں سر جھٹکتا پھر سے اُسکے قریب آیا۔
آبرو کی مسکراہٹ سمٹی تو دل نے بےاختیار ایک بیٹ مس کی۔
”اب میں اتنا بھی ظالم نہیں ہوں جو آپکو مزید زحمت سے دوچار کروں۔۔۔یہ لیجیے اپنی کافی۔۔۔۔اینڈ ایم شور۔۔۔اسے پینے کے بعد آپکا سر درد بھی پوری طرح ختم ہوجائے گا۔۔۔۔“ کافی کا کپ اُسکے ہاتھوں میں پکڑاتا وہ آرام سے بولتا اُسکے نقوش پر حیرت کی چھاپ چھوڑ گیا۔
تو یعنی اُسے اندازہ تھا کہ وہ سر میں وقفے وقفے سے اٹھتی درد کی لہروں سے بےچین ہے۔مقابل کی آگاہی پرآبرو کا دل شدتوں سے دھڑکا۔۔جبکہ مقابل اُسکی گہری نیلی آنکھوں کی حیرت میں بہکنے لگا تھا۔
”آبرو۔۔۔۔“ کپ کے گرد لپٹے اُسکے لرزتے ہوئے نرم ہاتھوں پر اپنی گرفت مضبوط کرتا وہ گھمبیر آواز میں بولا تو آبرو کا سکتہ ٹوٹا۔
”جج۔۔۔جی سر۔۔۔۔“ شاید پہلی بار اُسکے سحر میں کھوتی وہ چاہ کر بھی خود کو اُس سے دور نہیں کرپائی تھی۔۔دل کے کسی گوشے میں تلخ باتوں کے واپس دوہرائے نہ جانے کا ایک اطمینان بھی تھا۔
مگر یہ کیا۔۔۔ گلابی حجاب میں کھلتے اُسکے گلاب نقوش شدت سے ازبر کرتا شاہ حدود پھلانگنے کے ڈر سے جھٹکے سے اُس سے دور ہوا تھا پھرضبط سے سرخ پڑتی نگاہیں اُس پر ڈالتا سختی سے لب بھینچے بنا خاموشی سے دروازہ کھول کر وہاں سے نکل گیا۔
سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا تھا کہ پیچھے تنہا کھڑی آبرو حیران سی دروازے کو دیکھتی رہ گئی جہاں سے وہ دہلیز پھلانگ کر باہر گیا تھا۔معاً اُسنے ہاتھ میں پکڑی کافی کو بغور دیکھا پھر منتشر دھڑکنوں کا شمار کرتی کپ کو لبوں سے لگاگئی جو بدقسمتی سے ٹھنڈی پڑ چکی تھی۔۔۔لیکن کافی کا ذائقہ اُسکے منہ میں گھلتا اُسکے دماغ میں ایک عجیب سی ٹھنڈک بھرتا چلا گیا۔۔۔اگلے ہی پل ایک ناقابلِ فہم مسکراہٹ اُسکے پنکھری لبوں پر بکھرتی اُسکی نگاہوں کی چمک مزید بڑھا گئی تھی۔۔۔
سفید روشنیوں میں گھرے اِس بڑے سے ہال میں بیٹھے تقریباً سب ہی لوگ،چند اہم شخصیات سمیت۔۔۔روسٹرم پر کھڑی اُس لڑکی کی پُرجوش تقریر سن رہے تھے جسکے کپکپاتے لبوں سے پھسلتے صاف لفظ اُن سب کی توجہ شدت سے اپنی جانب کھینچے ہوئے تھے۔
” کہ ہم۔۔۔سمندروں کا سینہ چیڑ کر۔۔پہاڑوں کے ذرے ذرے کو جھنجھوڑ کر۔۔ہواؤں کا رخ موڑ کر فتح یاب رہے اور یہ سچے لوگ تھے جنھوں نے عشق سے آگے کی ٹھانی۔۔صدرِ عالی وقارمگر افسوسسس۔۔۔۔۔مگر افسوس یہ عشق پھر بھی ناکام نکلا۔۔۔۔“ مائیک کی بدولت پورے ہال میں گونجتی اُسکی ولولہ انگیز آواز اور شفاف سطح پر بجتی ہتھیلی کی تھاپ اطراف میں چھائے سناٹے کو وقفے وقفے سے توڑ رہی تھی۔اُسکا لہجہ،انداز،پھر لفظوں کا اتار چڑھاؤ حقیقتاً پُراثر اور قابلِ ستائش تھا۔
تبھی وہ بھی پٹتی تالیوں کے درمیان عبدالجبار صاحب کے ہمراہ مصروف انداز میں باتیں کرتا ہال میں داخل ہوا۔لبوں پر تازگی بھری مسکراہٹ رقصاں تھی۔اُسکے نرم تیور دیکھ کر کوئی کہہ ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ پولیس اسٹیشن میں کسی مجرم کی اچھی خاصی کٹائی کرکے یہاں آیا تھا۔۔۔۔
”ویسے تو آپ نے کئی دم دار تقریریں اپنے فرض کے پیچھے مس کردی ہیں عائل صاحب لیکن پھر بھی میں آپ سے یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ۔۔۔اتنی بھی دیر نہیں کی مہربان آتے آتے۔۔۔قوم کا حقیقی جوش تو اب بولنے پر آیا ہے۔۔۔“ مضبوط لہجے میں اپنی بات باور کرواتے عبدالجبار صاحب نے فخریہ مسکراہٹ لبوں پر سجائے بےاختیار اسٹیج کی جانب اشارہ کیا تو دور سے ہی نسوانی آواز سماعتوں میں گھولتا وہ بےاختیار سراٹھا گیا۔
اگلے ہی پل اُسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔سفید یونیفارم پر جامنی حجاب کیے وہ لڑکی یقیناً حاویہ تھی جو اپنی بے دھیانی میں اُسکی موجودگی سے ہنوز انجان سب پر اپنے ہنر کا جادو بکھیررہی تھی۔خوشگوار حیرت پر عائل کی چال سست پڑتی یکدم تھمی تو اُسکے یوں چونکنے پر عبدالجبار بھی رک گئے۔
”کیا ہوا اے۔ایس۔پی صاحب۔۔۔۔؟؟آپ رک کیوں گئے۔۔۔۔؟؟چل کے بیٹھتے ہیں ناں وہاں۔۔۔“ اُسکی کیفیات سے مکمل بےبہرہ انھوں نے اُسکی توجہ سٹیج کے قریب رکھی گئیں مخصوص نشستوں کی جانب کروانا چاہی تو اُس نازک لڑکی کے سحر میں گم وہ محض سر ہلاکررہ گیا۔ گہری سیاہ نگاہیں ہنوز اُسکے بولتے نقوش پر تھیں۔اُسکے سامنے ہمیشہ ہکلاکر بولنے والی وہ نازک سی لڑکی آج بناجھجھکے اپنے تیز لفظوں کا ریلہ بہائے جارہی تھی۔دھڑکتے دل کے ساتھ اُسکے لب آپ ہی آپ مسکرانے لگے تو اُسے اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ عبدالجبار صاحب ناسمجھی سے اُسے گھورتے کچھ حیران ہوئے جو اب جیبوں سے ہاتھ باہر نکالتا چوڑے سینے پر لپیٹ چکا تھا۔
بار بار خشک پڑتے لبوں پر زبان پھیرتے حاویہ نے خود کے آگے دھڑے پیج پر ایک سرسری سی نگاہ ڈالی جہاں بیچ و بیچ بلو مارکر سے واضح کیا گیا اقبال کا شعر اُسے مزید چوکنا کرگیا۔معاً گہرا سانس بھرتے اُسنے جھکا سر اٹھایا۔
” کھول آنکھ۔۔زمین دیکھ۔۔فلک دیکھ۔۔فضا۔۔د۔دیکھ۔۔۔۔“ دلنشین ادا سے بولتی وہ شاید اس بار بھی اطراف میں بھٹکتی خود کی نگاہیں بےنیازی سے پھیرلیتی جو اگر ایک خاص مرکز پر ٹھٹھک کر رکتی پوری طرح سے کھل نہ جاتیں۔
پولیس یونیفارم میں مسکراتے ہوئے پُرشوق نظروں سے اُسے تکتا وہ اے۔ایس۔پی عائل حسن ہی تھا۔آنکھوں میں پوری طرح اترتی شناسائی پر بےاختیار اُسکے دل کو دھڑکا لگا۔پورے ہال میں پل بھرکو سناٹا چھاگیا۔
چند پلوں کا کھیل تھا۔۔نظروں سے نظریں ملی تھیں اور اگلے ہی پل حاویہ کے دماغ کی سلیٹ پر تحریر بقیہ الفاظ چھوووو کرکے اُڑے تھے۔
آدھے شعر پر اُسکی طول پکڑتی خاموشی نے وہاں بیٹھے سبھی حضرات کو چونکنے پر مجبور کردیا۔تیسری رو میں چئیر پر بیٹھ کر دلچسپی سے حاویہ کی جانب دیکھتی نیناں کی مسکراہٹ بھی اپنی دوست کی بدلتی حالت پر سمٹی تھی۔
”بولو بچے۔۔شاباش گھبراؤ نہیں۔۔۔“ اُسکے نقوش پر بکھرتی زرد رنگت دیکھ سٹیج کے قریب صوفے پر بیٹھے قعلہ کالج سے آئے ہیڈ ماسٹر نے قدرے نرم آواز میں اُسے تسلی دی تو لب کاٹتے ہوئے اُسکی کانچ سی بھوری آنکھیں تیزی سے بھیگتی چلی گئیں۔
کیسے بولتی۔۔۔؟؟دل دھڑکاتے اُن وجیہہ نقوش کے سوا جب کچھ یاد ہی نہیں رہا تھا تو کیونکر اپنے لرزتے لبوں پر بھولے بھٹکے لفظوں کا تعین کرتی۔۔۔۔؟؟
جبھی وہ بےبسی سے مٹھیاں بھینچتی شرمندگی تلے سرجھکاگئی۔اچانک پلٹا کھاتی صورتحال پر ہوش میں آتا عائل مضطرب سا سینے سے بازو ہٹاتا سیدھا ہوا۔لبوں کی دلکش مسکراہٹ سمٹتی اب بھرپورسنجیدگی میں ڈھلی تھی۔
عبدالجبار صاحب بھی اس بگڑتے معاملے پر حیران پریشان ہوئے تھے۔
”اوہ۔۔۔لگتا ہے بھول گئی ہے۔۔۔۔بیچاری۔۔۔۔اکثر ایسا ہوتا ہے۔۔۔ویسے اسپیچ اچھی کررہی تھی یہ لڑکی۔۔۔برا ہوا اس کے ساتھ۔ ۔۔۔اگر بھولتی نہیں تو فرسٹ پوزیشن ضرور لے جاتی۔۔۔“ ایسی بہت سی چہ مگوئیاں اردگرد ہوتی حاویہ کی سماعتوں میں زہر کی مانند گھلنے لگیں تو اناؤنسر کو فکرمند سا اپنی جانب آتا دیکھ برداشت کھوتی وہ تیزی سے اسٹیج سے اتری پھر عائل کے چہرے پر پھیلا تفکر پُرشکوہ نگاہوں سے دیکھتی اُسکے پاس سے گزرتی باہر کی جانب بھاگتی چلی گئی۔کسی نے بھی اُسے روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔جبکہ عائل لب بھینچے اُسے نگاہوں سے اوجھل ہوتا دیکھ اپنی انجانے میں کی گئی غلطی سے قطعی انجان تھا۔
”اہمہمم۔۔۔عبدالجبار صاحب۔۔۔ایکچولی مجھے ایک بہت امپورٹینٹ کال کرنی ہے کسی کو۔۔۔تو میں کچھ دیر تک آتا ہوں واپس۔۔۔۔“ گلا کھنگارتا وہ دھیمی آواز میں عبدالجبار صاحب کی جانب متوجہ ہوا تو خیالوں سے چونکتے وہ اُسکے بہانے سے قطعی بےخبر دھیرے سے سر ہلاگئے۔
جواباً ہولے سے مسکراتا وہ سرعت سے وہاں سے پلٹ گیا۔
اب کہ اناؤنسر مائیک کے آگے معذرت کرتا دوسری لڑکی کو اسٹیج پر آنے کے لیے کال کررہا تھا۔
عبدالجبار صاحب نے حاویہ کی بابت سوچتے تاسف سے آہ بھری۔
وہ ٹیلنٹڈ سٹوڈنٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت اچھی اوریٹر(تقریر کرنے والی)بھی تھی لیکن اب اُنکے کالج کی جیت کا دارومدار اُس سے ہٹ کر یہاں سلیکٹ کرکے لائی گی دوسری لڑکی پر منحصر ہوکر رہ گیا تھا۔۔۔جو تالیوں کی پُرزور گونج میں لبوں پر تبسم بکھیرے اسٹیج پر چڑھ آئی تھی۔
ادھر نیناں جو حاویہ کی فکر میں اُسکے پیچھے جارہی تھی عائل کو پاس سے گزر کر تیزی سے باہر جاتا دیکھ ٹھٹھک کر رکی۔اگلے ہی پل حیرت کو جھٹکتی وہ لبوں پر معنی خیرمسکراہٹ سجاگئی پھر اپنے تمام ارادے ترک کرتی واپس اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گئی اور دوسری لڑکی کی ہال میں بلند ہوتی آواز توجہ سے سننے لگی۔۔۔شاید وہ عائل حسن کی منزل کو بخوبی جان گئی تھی جو سیدھا اُسکی دلعزیز دوست تک جاتی تھی۔۔۔اور حقیقت بھی یہی تھی۔۔۔
اپنا قیمتی موبائل فون جیب میں پھنساتا وہ جیسے ہی ہال سے نکل کر باہر آیا تو گہری سیاہ نظریں بےاختیار اُسکے تعاقب میں چاروں اطراف بھٹکنے لگیں۔چند پل بےچینی سے سرکنے پر معاً اُسکی نگاہیں مخصوص جگہ پر سمٹ کررہ گئیں جہاں وہ قطار میں بنے چند سرسبز و شاداب درختوں کی گھنی چھاؤں تلے سرگھٹنوں میں دئیے بیٹھی اردگرد سے مکمل بےبہرہ تھی۔
اپنی تلاش پوری ہونے پر عائل نے گہرا سانس بھرتے اُسکی جانب قدم اٹھائے۔لبوں پر پُرسکون مسکراہٹ در آئی تھی۔
”حاویہ۔۔۔۔۔“ دو قدم کے فاصلے پر رکتا وہ فکرمند سا بولا تو بھاری مردانہ آواز پر چونکتی وہ سر اوپر اٹھاگئی اور نگاہوں کی دھندلاہٹ بھگانے کو نم پلکیں جھپکا جھپکا کرسامنے والے کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔
”آپ۔۔۔۔؟؟؟“ اگلے ہی پل جھٹکے سے کھڑی ہوتی وہ مٹھیاں بھینچ کررہ گئی۔
”ارےتم۔۔۔تم رو رہی ہو۔۔۔؟؟؟مگر کیوں۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکے بھیگے رخسار دیکھ کرٹھٹھکتا وہ کچھ حیرت سے گویا ہوا تو مقابل کے یوں انجان بننے پر اُسے مزید رونا آیا۔عادتاً لبوں کے کونے نیچے لٹکاتی وہ اُسے اس پل کوئی چھوٹی بچی ہی لگی تھی جو اپنی اِس معصوم سی ادا سے اُسکا دل دھڑکا گئی تھی۔
”آپکی وجہ سے۔۔۔۔“ بھرائی آواز میں چیختی وہ اُس کی حیرت میں ڈھیروں اضافہ کرگئی۔
”میری وجہ سے۔۔۔سریسلی۔۔۔؟؟؟“ بھنوؤں کو سکیڑتے اُسنے خود کی جانب انگلی اٹھاکر جیسےتصدیق چاہی۔بھرے ہال میں سے اپنی اسپیچ ادھوری چھوڑ کر وہ آئی تھی اور اب اپنے خاموش آنسوؤں کا سارا ملبہ اُس پر ڈال رہی تھی۔
”اور نہیں تو کیا۔۔۔۔نہ آپ اپنے دیدے پھاڑ پھاڑ کے مجھے گھورتے اور نہ ہی میں اپنی اسپیچ بھول کر یہاں رونے بیٹھتی۔۔۔اتنے دن لگا کے تیاری کی تھی میں نے۔۔۔لیکن آپکی وجہ سے سب۔۔۔۔“ اپنی صفائی میں تڑخ کر بولتی ایکدم ہی اُسکی آواز صدمے کی شدت سے حلق میں اٹکی۔
”فار یور کائنڈ انفارمیشن محترمہ۔۔۔۔ میری طرح وہاں بیٹھے سب لوگ بھی آپکو دیدے پھاڑ پھاڑ کر ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔۔“ اُسکے بھلکڑ پنے کی حقیقی وجہ جان کر پل بھر کے لیے چونکتا وہ ہنوز سنجیدہ تھا۔
”نہیں۔۔۔اُن کے اور آپکے دیکھنے میں بہت فرق تھا۔۔۔۔“ مٹھیوں سے گال رگڑتی وہ پُراعتمادی سی بولی تو اُسکی حالت کو پیشِ نظر رکھتا وہ اپنی مسکراہٹ دبا کر رہ گیا۔
”اچھا۔۔۔؟؟کیا فرق تھا۔۔۔؟؟ذرا کھل کر ایکسپلین کرو مجھے صحیح سے سمجھ نہیں آرہا۔۔۔۔“ قدرے جھک کر اُسکی بھوری آنکھوں میں جھانکتا وہ میٹھی آواز میں بولا جب وہ اُسکی روشن آنکھوں کی گہری ہوتی چمک بغور قریب سے دیکھتی کنفیوز سی نگاہیں جھکا گئی۔دل بےہنگم انداز میں دھڑکا تھا۔
”پت۔۔۔پتا نہیں۔۔۔۔“ آنسوؤں کو روکنے کی کوشش میں نچلا لب دانتوں تلے دباتی وہ یقیناً مقابل کی لطف لیتی مسکراہٹ سے انجان تھی۔
”سیدھی طرح مان کیوں نہیں لیتی کہ تم میں کونفیڈنٹ کی شدید ترین کمی ہے۔۔۔۔؟؟کیونکہ نہ تو تم لوگوں کے سامنے کھل کے بول سکتی ہو اور نہ ہی میرے سامنے۔۔۔۔“ ایک قدم اُسکی جانب بڑھاتا وہ اِس بار چاہ کر بھی اپنی شفاف ہنسی روک نہیں پایا تھا جبھی وہ جھٹکے سے سر اٹھاتی پل بھرکو حیران ہوئی۔
”آپکو بالکل بھی اندازہ نہیں کہ آپ کس قدر بدتمیز پولیس آفیسر ہیں۔۔۔کبھی اپنی غلطی نہیں مانتے آپ۔۔۔“ اگلے ہی لمحے نازک مٹھیوں سےاُسکے مضبوط سینے پر وار کرتی وہ اُسے پیچھے دھکیلنے کی ناکام کوشش میں ہلکان ہوئی تو بےاختیار وہ اُسکی کلائیاں اپنی گرفت میں لیتا اُسے اپنی اوڑھ جھٹکا دے گیا۔اُسکے کلون کی دلفریب مہک پل میں حاویہ کے حواسوں پر چھائی تھی۔
”بدتمیز تو تم بھی ہو جو بنا اجازت ہروقت میرے دل و دماغ پر قابض رہتی ہو۔۔۔۔میں نے تم سے شکوہ کیا کبھی۔۔۔؟؟؟“ اُسکی پانیوں بھری بھوری آنکھوں میں شدت سے جھانکتا وہ اُسے پل بھرکو ساکت کرگیا۔شریں لہجہ جذبوں کی آنچ لیے ہوئے تھا۔
اسی پل کوئی وجود گارڈ کی اجازت ملنے پر بڑا سا سفید گیٹ ایک ہی جست میں پھلانگتا قدرے اشتیاق سے اندر داخل ہوا تھا۔
”اس میں بھی آپکی خود کی غلطی ہے عائل صاحب۔۔۔آپکو اپنے دل و دماغ کو میرے معاملے میں یوں بےلگام نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔۔۔۔“ شدتوں سے دھڑکتے دل کو قابوکرنے کی ناکام کوشش میں وہ نگاہیں جھکاتی دھیمے لہجے میں بولی۔مقابل کی نگاہوں کی وارفتگی سہنا اب محال ہی تو تھا۔البتہ نازک کلائیاں ہنوز اُسکی کی نرم گرفت میں تھیں۔
اطراف کا تیزی سے جائزہ لیتی بختی کی سیاہ پُتلیاں یکدم ٹھٹھکتی پورے وجود سمیت تھمی تھیں۔قدرے کونے پر سرسبز و شاداب درختوں کے پاس سفید یونیفارم میں کھڑی اُس کم عمر لڑکی پر اُسے جیسے حاویہ کا گمان ہوا تھا۔ ”اگر میں لگامیں ڈال دیتا تو یقیناً پاگل ہوجاتا۔۔۔۔اور ایک پاگل انسان کی شدتوں سے واقفیت پھر تمھاری ہی نازک جان کو مشکلوں میں ڈال دیتی۔۔۔تب بھی تم نے یقیناً مجھے ہی موردِ الزام ٹھہرانا تھا۔۔۔۔سوبہتر ہے جیسا چل رہا ہے ویسا ہی چلنے دو۔۔۔۔“ نرمی سے اُسکی کلائیاں چھوڑتا اب کہ وہ سرخائی گھلے نم گالوں کو ہلکے سے نرم پوروں سے چھوتا حاویہ کو پاگل کرنے پر اترا تھا۔
دل کی دھڑکنیں تو پہلے ہی اُسکے سنگ شور مچاتی پاگل سی ہورہی تھیں۔
”آ۔۔پ۔۔۔پلیز اس طرح نہیں چھوا کریں مجھے عائل صاحب۔۔۔۔“ بختی کی گہری نگاہوں کی تپش سے انجان وہ بےاختیار ہوتی عائل کے ہاتھ کو اپنی نازک گرفت میں دبوچتی گھبرائے لہجے میں بولی تو اُسکی بات سمجھتے ہوئے عائل کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
آگے بڑھ کر دوری کو چند قدم کم کرتا بختی حاویہ کے نقوش ایک سائیڈ سے بغور ٹٹولتا پلوں میں پُریقین ہوا تھا۔۔۔
وہ لڑکی سو فیصد اُسکی باربی ڈول ہی تھی۔۔مگر۔۔اگلے ہی پل دماغ کو شدت سے چھوتی اُس باوردی پولیس والے کی حددرجہ نزدیک موجودگی اُسکے اندر تباہیاں مچانے کو کافی تھی جسکی قربت میں وہ نازک لڑکی گلاب کی طرح مہکتی چلی جارہی تھی۔۔۔
”تمھیں شک ہے میری نیت پر۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکی آنکھوں میں کچھ حیرت سے دیکھتا وہ سنجیدگی سے بولا۔اُسکی بےاعتباری پر دل میں چبھن سی ہونے لگی تھی۔
حاویہ اُسے اپنی بات کا غلط مطلب نکالتا دیکھ بوکھلاتی شدت سے نفی میں سر ہلاگئی۔وہ تو اُسکے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی تھی کجا کہ شک۔۔۔بختی اور اُس میں تو زمین و آسمان کا فرق تھا۔
”نن۔۔نہیں۔۔۔بالکل بھی نہیں۔۔۔میں نے تو آپکو ہمیشہ اپنا محافظ سمجھا ہے۔۔۔لیکن۔۔۔جب آپ میرے قریب آتے ہیں ناں۔۔۔تو آپکے ذرا سے لمس پر میرا یہ دل زوروں سے دھڑکنے لگتا ہے۔۔۔۔اتنے زوروں سے کہ۔۔کبھی کبھی تو ڈرلگنے لگتا ہے کہیں میری سانسیں ہی نہ تھم جائیں۔۔۔۔“ بےبسی سے آنکھیں پٹپٹاتی وہ اُسے اپنا مسئلہ سمجھانے لگی تو اُسکی اس قدر معصومیت پر حیران ہوتا عائل ہولے سے ہنسا۔سادگی سے اپنے دل کا حال بیان کرتی وہ اُسے اندر تک سرشار کرگئی تھی۔
کب۔۔ کہاں۔۔ کیسے دل پہ گہرا وار کرنا ہے وہ نازک سی لڑکی اپنے بھولپن میں سب جانتی تھی۔۔
”تو فائنلی تمھیں بھی مجھ سے ہوگئی ہے۔۔۔۔“ شوخ سا لب دانتوں تلے دباتا وہ اُسے الجھا گیا۔مضبوط ہاتھ ہنوز اُسکی نازک گرفت میں تھے جسے چھڑانے کی اُسنے کوشش کی بھی نہیں تھی۔
” کیا۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکی بات پر حاویہ نے ناسمجھی سے اُسکی جانب دیکھا۔
”محبت۔۔۔۔۔لیکن چاہتی ہو کہ اظہار میں پہل میری جانب سے ہو۔۔۔“ ذرا سا اُسکی جانب جھک کر وہ رازداری سے گویا ہوا تو بےاختیار حاویہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنساہٹ سی دوڑگئی۔
اگلے ہی پل اُسکے پنکھری لبوں پررینگتی شرمیلی مسکراہٹ دیکھ کر عائل کے لب بھی دلکشی سے مسکرائے۔
لہو ہوتی آنکھوں سے ملن کا یہ جانلیوا منظر دیکھ کربختی نے اس قدر سختی سے مٹھیاں بھینچی تھیں کہ ہاتھوں کی نسیں باہر کو ابھرآئی تھیں۔
”یہ کیا بکواس ہے کررہے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟ہوش میں تو ہیں۔۔۔؟؟؟نہیں کرنی مجھے آپ سےکوئی شادی وادی۔۔۔سنا آپ نے۔۔۔؟؟؟اپنے اس غلیظ ذہن کو لگام ڈال کر رکھیے اسی میں آپکی بہتری شامل ہے اور۔۔۔میری ماما کے سامنے ایسی بہودہ خرافات بکنے سے بھی آپ پرہیز کیجیے گا۔۔۔۔“ معاً حاویہ کے صبح کے بولے گئے تلخ الفاظ اُسکے آس پاس شدت سے چیختے اُسکے وجود میں شرارے سے بھر گئے۔
ضبط کی حد ہی تو ہوئی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ عائل کو گریبان سے دبوچ کر حاویہ سے دور کرنے کی خودساختہ خواہش پوری کرنے کو تیزی سے اُنکی جانب لپکتا۔۔حاویہ پوری قوت سے عائل کو پیچھے دھکیلتی اندھا دھند اندر کو بھاگی۔۔تو جہاں عائل اُسکی بچگانہ حرکت پر بالوں میں ہاتھ پھیرتا کھل کر ہنسا تھا وہیں بختی اپنی جگہ جم کر کھڑا اُسے نظروں سے اوجھل ہوتا دیکھ دانت پیس کر رہ گیا۔تبھی جینز کی جیب میں پھنسے موبائل فون نے شور مچاتے اُسکی توجہ شدت سے خود کی جانب کھینچی تو گالی نکال کر موبائل فون سرعت سے باہر نکالتا وہ پلٹا اور کال اٹینڈ کرتے ہی کان سے لگاگیا۔اسی پل عائل نے بھی پلٹ کر انجان نگاہوں سے بختی کی پشت دیکھی پھر بےنیازی سے سر جھٹکتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
”بول کیا بیماری ہے۔۔۔؟؟؟“ بنا لحاظ کیے وہ بھڑک کر بولا تو دوسری جانب پل بھر کو خاموشی چھاگئی۔
”ار۔۔ے یار بختی۔۔۔ تُو اس وقت جہاں پر بھی ہے ناں۔۔بس سیدھا ہسپتال آجا ۔۔۔۔تیری امی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے یار۔۔۔اور وہ بار بار بس تجھے ہی یاد کرے جارہی ہیں۔۔۔“ اسپیکر سے ابھرتی دوست کی فکر کھاتی آواز اُسے کانوں میں صور پھونکنے کے برابر لگی۔
”کک۔۔ کیا بول رہا ہے یار۔۔۔؟؟ایسے کیسے امی کو۔۔۔؟؟تُو۔۔تُو مجھے ایڈریس سینڈ کر میں فوراً نکل رہا ہوں یہاں سے۔۔۔۔“ بےچینی سے منہ پر ہاتھ پھیرتا وہ بنا تاخیر کیے گیٹ کی جانب تقریباً بھاگتا ہوا لپکا۔
آج صبح ہی تو وہ اُنکو چنگا بھلا چھوڑ کر گھر سے باہر نکلا تھا۔۔۔تو پھر یہ سب اچانک کیا ہوگیا تھا۔۔؟؟
”اوکے میں کرتا ہوں۔۔۔۔تُو بس آجا۔۔۔۔“ دوسری جانب سے بات مکمل ہوتے ہی کال کٹی تھی۔
وہ جو نفیسہ بیگم کی اضافی معلومات پر یہاں خاص اپنی باربی ڈول کا تقریر کرتا جوشیلا روپ نظروں میں بھرنے آیا تھا اب جلن اور سرخی بھرتا بھاری بوجھ کے ساتھ واپس جارہا تھا۔
گیٹ پار کرنے سے پہلے اُسنے ایک بار پلٹ کر پیچھے دیکھا جہاں اب سورج کی ڈھلتی روشنی میں اپنی رونق کھوتے درختوں کے سوا وہاں اورکوئی بھی نہیں تھا۔
”بےخبری میں اپنی عاشقی کا پردہ میرے سامنے فاش کرکے تم نے اپنی بربادی کو خود دعوت دی ہے حاویہ فیضان۔۔۔۔تم پر اور تمھارے اس عاشق پر اگر میں قہر بن کر نہ ٹوٹا تو میرا نام بھی بختیار دلاور نہیں۔۔۔۔“ دونوں کو تصور میں مخاطب کرتا وہ زہرخند لہجے میں زیرِ لب بولا۔۔پھر تیزی سے گیٹ پار کرتا وہاں سے نکل گیا۔
میٹل چئیر پر گن پکڑ کر بیٹھے اُس گارڈ نے کچھ حیرت سے اُس نوجوان کو قدرے غصے میں اپنی پرانے ماڈل کی گاڑی زن سے وہاں سے بھگاتے دیکھا اور اگلے ہی پل سر جھٹکتا اطمینان سے واپس ٹیک لگاگیا۔۔۔
”ساتھ ساتھ چلنے والے راہیں کیوں بدلتے ہیں
راہیں جب بدل جائیں تو راستے بھٹکتے ہیں
دور ہو نظر سے چاہے دل کے پاس ہوتا ہے
چاہے دو جہاں بھی پالو وہ ہی خاص ہوتا ہے
مانگو میں اب کیا رب سے پایا ہے تجھ کو جب سے
عشق تیرا ہم پہ طاری رقص میں جہاں“
وہ آج بھی کمرے سے ملحقہ ٹیرس پر کھڑے ہوکرآسمان پر پھیلی وسیع تاریکی کو بغور دیکھتا خود کی محبت کا غم غلط کررہا تھا۔کندھوں پر دھڑی مہرون چادر خنک ہوا کے جھونکوں سے اُسکا بچاؤ کیے ہوئے تھی۔
لیکن چادر سے بےنیاز چوڑا سینہ موسم کی جنوں خیزی سے برف ہورہا تھا جس میں بھڑکتی آتش نے اُسکا پورا وجود سلگا ڈالا تھا۔اس سے پہلے کہ انگلیوں کے بیچ دبا دھواں اڑاتا سگریٹ وہ واپس لبوں میں لیتا کھٹکے کی آواز پر چونک کر پلٹا۔
چوکھٹ پر کھڑی ملازمہ کی تیز نگاہیں پل میں مقابل کا اجڑا اجڑا سا حلیہ دیکھتی فوری طور جھکی تھیں۔
”خان جی۔۔۔۔بیگم حضور نے آپکو یاد کیا ہے۔۔۔۔“ وہ دھیمی آواز میں بولی تو نم آنکھوں کو جھپکاتا وہ دھیرے سے سر ہلاگیا۔
”تم جاؤ۔۔۔۔میں آتا ہوں۔۔۔۔“ لہجے میں گھلا اکھڑپن اُسکے ضبط کو ظاہرکررہا تھا جو اپنا رُخ پھر سے کھلے آسمان کی جانب موڑچکا تھا۔شاید وہ اپنے بلائے جانے کی ٹھوس وجہ سے بخوبی آگاہ تھا جبھی خود کو آنے والے کڑے لمحوں سے نمٹنے کے لیے قائل کرنے لگا تھا۔
”جی بہتر۔۔خان جی۔۔۔۔“ سالار خان کی پشت کو نظر بھر کر دیکھتی وہ وہاں سے نکلتی چلی گئی جب سلگتا سگریٹ مسل کر پڑے اچھالتا وہ گہرے گہرے سانس بھرنے لگا۔
”میں دھیرے دھیرے خود پر سے ضبط کھورہا ہوں رابی۔۔۔تمھارے بے معنی لفظوں نے جو بیڑیاں میرے پیروں میں باندھ رکھی ہیں میری ٹوٹتی برداشت اُنھیں بھی پل پل توڑ رہی ہے۔۔۔خدارا واپس آجاؤ نہیں تو تمھارا سالار خان تمھارے بغیر یونہی تڑپ تڑپ کے اپنی سانسیں گنوادے گا۔۔۔۔“ بےبسی کی انتہاؤں پر رابی کے تصور سے مخاطب ہوتا وہ بے اختیار اپنا تپتا سینہ مسل کر رہ گیا۔لبوں سے پھوٹتی یہ فریاد جانے وہ کتنی ہی بار اُس سے کرچکا تھا لیکن سننے والا تو شاید خود کے وجود سے بھی بےبہرہ تھا۔
کچھ لمحے یونہی خاموشی سے سرک جانے کے بعد چمکتے چاند سے محروم تاریک آسمان پر سےنگاہیں ہٹاتا وہ اگلے ہی پل ٹیرس سے کمرے میں داخل ہوا اور من ہی من ایک مضبوط فیصلہ کرتا کمرے سے باہر نکل گیا۔
”تم اصل حقائق کھول کر سامنے کیوں نہیں رکھ دیتے سالار خان۔۔۔؟؟آخر کیا وجہ ہے جو تم اُس معصوم لڑکی سے بیاہ کرنے سے مسلسل انکاری ہو۔۔۔؟؟؟“ اپنے خوبرو بیٹے کی خودسری پر حتمی صفائی مانگتے ہوئے خنساء بیگم کا لہجہ کرخت ہوا تو اُنکے یوں طرز تخاطب پر وہ کچھ حیران ہوتا اُنھیں دیکھنے لگا جو آج یقیناً سب آر پار کرنے کے درپے تھیں۔
پلر کی اوٹ میں چھپ کے کھڑی اُس نازک سی لڑکی کا تیزی سے دھڑکتا دل بھی وجہ جاننے کو بری طرح مچلا تھا۔
جواباً وہ بے چینی سے بالوں میں ہاتھ چلاتا نظروں کا زاویہ بدل گیا جب اُسکی نگاہیں غیرارادی طور پر سیاہ آنچل پر پھسلتی اُسے حلیمہ کی موجودگی کا بھی پتا دے گئیں۔جبھی اُسے اپنا ہدف مزید آسان ہوتا نظر آیا۔
”سیدھا سا معاملہ ہے اماں حضور۔۔۔مجھے اُس لڑکی کی چاہ نہیں ہے۔۔۔اُسکی تو کیا۔۔۔مجھے کسی بھی لڑکی کی کوئی چاہ نہیں ہے۔۔۔تو پھر کیوں میں خود کو کسی اَن چاہے رشتے سے زبردستی باندھ کر اپنے ساتھ ساتھ کسی اور بےگناہ کی زندگی بھی جانتے بوجھتے برباد کروں۔۔۔؟؟؟“ گردن موڑ کر سپاٹ لہجے میں سادہ سا جواز پیش کرتا وہ بے حس بنا۔ آنکھوں میں اتری سرخائی اُسکے ضبط کا پتا دے رہی تھی۔اُسکی بلاوجہ کی ڈھٹائی پرخنساء بیگم نے قدرے بے چینی سے پہلو بدلا۔
بن ماں باپ کے پلی بڑھی دل عزیز بھانجی کا دکھ بدقسمتی سے آج اُنھیں اپنے ہی جگر کے ہاتھوں اٹھانا پڑرہا تھا جو اب ہرلحاظ سے شادی کے قابل ہوچکی تھی۔حلیمہ کو اپنی بہو کے روپ میں دیکھنے کی پاداش میں وہ گھر کی دہلیز پھلانگ کر آئے جانے کتنے ہی رشتوں کو بذاتِ خود دھتکار چکی تھیں۔۔مگر اب اُنکا خود کا بیٹا ہی اُس انمول ہیرے کو بڑے دھڑلے سے ٹھکرارہا تھا۔ہاں یہ سچ تھا کہ سالار خان نے اس رشتے کو لے کر کبھی بھی اپنی دلچسپی یا آمادگی ظاہر نہیں کی تھی جس کے لیے خنساء بیگم ہر بار اُسے مجبور کرتی تھیں لیکن اِن دنوں تو وہ صاف کوری مخالفت پر اترآیا تھا۔
”لیکن اُس بےگناہ سے تمھیں چاہنے کا جو گناہ سرزد ہوچکا ہے اُسکا کیا۔۔۔؟؟؟بچپن سے لے کر اب تک اُسنے نے اپنی آنکھوں میں صرف تمھارے حوالے سے ہی خواب سجائے ہیں سالار خان۔۔۔۔اُسکے لیے یہ زبردستی کا نہیں بلکہ چاہت بھرا رشتہ ہے جسے ٹھکرا کر تم سراسر بےوقوفی کررہے ہو۔۔۔۔“ اُسے حلیمہ کی بابت اُسکی حماقتوں کا احساس دلاتی وہ بپھڑیں۔
ایسے میں اپنے ڈوبتے دل کو بمشکل سنبھالتے ہوئے حلیمہ نے بےاختیار اپنے خشک لبوں پر زبان پھیری۔ایک ہاں کی امید میں اُسکی نم نگاہوں میں چمکتی بےبسی مزید گہری ہوئی۔
”کسی کی یکطرفہ چاہت کی خاطر اپنے ہی عشق کو ٹھوکر مارکر دور اچھال دینا میرے نزدیک اُس سے بھی بڑی بےوقوفی ہے اماں حضور۔۔۔۔اور ایسی بےوقوفی کے بدلے ملنے والی اذیت یقیناً میری جان لے لے گی۔۔۔۔“ کلس کر بولتا جہاں وہ خنساء بیگم کو بیٹھے سے کھڑا ہونے پر مجبور کرگیا تھا وہیں وہ بے اختیار ہوتی خود کی سانسیں روک گئی۔اُسے لگا کسی نے پگلا ہوا سیسہ اُسکی سماعتوں میں انڈیلا ہے۔
”ت۔۔۔م۔۔۔۔تم کسی پرائی لڑکی کے عشق میں گرفتار ہو اورہمیں خبرتک نہیں۔۔۔۔“ اِس غیرمتوقع انکشاف پرخنساء بیگم اُسکے مقابل آکر ٹھہرتی قدرے بے یقینی سے گویا ہوئیں۔اپنے اکلوتے سپوت کی بابت خود کی بےخبری اُنھیں بری طرح کھلی تھی۔
”ایسا ہی ہے اماں حضور۔۔۔۔میں فقط اُسی سے شادی کروں گا جس سے میں عشق کرتا ہوں۔۔۔۔نہیں تو میرے بیاہ کا جو خواب آپ نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رکھا ہے وہ کم از کم میرے جیتے جی تو کبھی پورے نہیں ہونے والا۔۔۔۔“ اُنکی حیرت بھری نگاہوں میں براہِ راست دیکھتا وہ بے دھڑک بول گیا۔قطعیت بھرے انداز میں سرکشی واضح تھی۔
حلیمہ نے بےاختیار اپنے سسکتے لبوں پر ہتھیلی جمائی۔چھن سے ٹوٹتے دل کا شور اُسے اپنی سماعتوں تک سنائی دیا تھا جو ہنوز پلر کی اوٹ میں چھپی پل پل بکھررہی تھی۔
”کیا وہ بھی تمھارے عشق میں اسی حد تک پاگل ہے جس حد تک کہ تم خود جاچکے ہو۔۔۔۔؟؟؟“ قدرے تحمل سے پوچھتے جانے کیسے اُن کی خشک آنکھوں میں نمی اترآئی تھی۔۔نہیں تو وہ سیاہ نگاہیں اشک بہانا بھلا کہاں جانتی تھیں۔۔؟؟
”پاگل تو بہت ہے پر جان بوجھ کر اپنا آپ ظاہر نہیں ہونے دیتی۔۔۔۔اپنی فطرت میں بڑی ضدی ہے وہ۔۔۔“ یکطرفہ عشق میں دوطرفہ وفاؤں کے رنگ گھولتے ہوئے اُسنے خنساء بیگم سے ذیادہ جیسے خود کو یقین دلایا تھا۔
اسکے مسکاتے جواب پر حلیمہ کا دل کرلانے لگا تو بےچین ہوتی وہ سینے پر پڑے دوپٹے کو مٹھی میں جکڑگئی۔
”کون ہے وہ لڑکی۔۔۔۔؟؟؟“ پوچھتے ہوئے اُن کے چمکتے ماتھے پر ناگوار لکیروں کا جال ابھرا۔ مقابل کی دیوانگی کے آگے ناچاہتے ہوئے بھی وہ شاید ایک ماں بن کے خود کی ضد ہارنے لگی تھیں البتہ بھانجی کی سرعام بےقدری پر لہجے میں بسی برہمی اور ناپسندیدگی کی کاٹ ہنوز برقرار تھی۔
”خالہ حضور۔۔۔۔“ خود کا مقدمہ ہارتی خنساء بیگم کو اپنے لاڈلے کے حق میں پینترا بدلتے دیکھ اُسکے پنکھری لب بےبسی کے شدید احساس تلے پھڑپھڑائے۔آنکھوں میں گھلی بےیقینی سرعت سے گالوں پر لڑھکی تھی۔
”رابی۔۔۔۔“ پشت پہ ہاتھ باندھتا وہ قدرے ٹھہر کر بولا تو سراپا سماعت بنی حلیمہ اُسکے لہجے کی میٹھاس شدت سے محسوس کرتی پاگل سی ہونے لگی۔ اگلے ہی پل ضبط کی ساری حدیں توڑتی وہ آنسوؤں سے تربتر چہرہ لیے وہاں سے بھاگی تھی۔
”فقط اتنا سا تعارف۔۔۔؟؟؟خاندان۔۔۔حسب و نصب۔۔۔کہاں رہتی ہے کیا کرتی ہے۔۔۔؟؟؟اِن سب باتوں سے تو تم بخوبی آگاہ ہوگے ناں برخوردار۔۔۔؟؟؟سو اُس لڑکی کے حوالے سے جو کچھ بھی جانتے ہو ہمیں تفصیلاًسب بتاؤ۔۔۔۔“ ضبط کے کھلے گھونٹ بھرتی وہ کڑی تفشیش پر اتر آئیں تو بےاختیار لب بھینچتے اُسکی ان گنت رگوں میں دوڑتا خون پل بھرکو منجمد پڑا۔اب کہ کٹھن مرحلے سے گزرنے کی باری سالار خان کی تھی جسکا فیصلہ وہ پہلے سے ہی کرکے یہاں آیا تھا۔
”رقاصہ ہے وہ۔۔۔۔۔“ بڑے ضبط سے تین لفظوں میں رابی کی پوری شناخت سمیٹتا وہ پل میں اُنکے چودہ طبق روشن کرگیا۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
