No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
جینز کی پاکٹ میں ایک ہاتھ پھنسائے جبکہ دوسرے ہاتھ میں پکڑے موبائل کو کان سے لگائے وہ اپنے کمرے کی قدآور کھڑکی کے سامنے کھڑے ہوکر انسپیکٹر باسط سے کسی کیس کو لے کر محوِگفتگو تھا۔ سیاہ آنکھیں ڈھلتی شام کے گہرے سائے میں ڈوبتے وسیع لان کو مسلسل تکتے ہوئے کچھ ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کررہی تھیں جب آمنہ کے سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارنے سے سارا لان ایکدم سے جگمگاتی روشنیوں میں گھرا تھا۔ تبھی شام کانوں میں ہینڈ فری لگائے زیرِلب مسلسل کچھ گنگناتا ہوا کمرے میں داخل ہوا تو آہٹ محسوس کرتے ہی عائل نے گردن موڑ کر اُسکی جانب دیکھا۔
”ہاں ٹھیک ہے۔۔۔تم کل جاکر خود اچھے سے وہاں کی چیکنگ کرلینا اور پھر مجھے انفارم کردینا۔۔۔۔ہممم۔۔۔صحیح ہے۔۔۔۔اوکے۔۔۔اوکے۔۔۔خدا حافظ۔۔۔۔“ اپنی بات مکمل کرتے ہی وہ کال ڈسکنکٹ کرتا شام کی جانب پلٹا جو تب تک بڑے مست موڈ میں اُسکے جہازی سائز بیڈ پر ٹانگیں نیچے لٹکائے ڈھے چکا تھا۔
”ہیلوووو برادر۔۔۔۔کیا ہورہا تھا۔۔۔۔؟؟؟“ عائل جیب میں موبائل پھنساتا اُسکے سامنے صوفے پر بیٹھا تو وہ کانوں سے ہینڈفری ہٹاتا قدرے بےتکلفی سے پوچھنے لگا۔ وجیہہ نقوش پر خوشی کے واضح رنگ چھائے ہوئےتھے جبکہ بھوری آنکھوں میں گہری چمک تھی جسے دیکھ کر عائل بھی خوشدلی سے مسکرادیا۔
وہ کم ہی ایسا رویہ اپناتا تھا۔ آج اُسکا موڈ حد سے ذیادہ اچھا تھا یہ بات تو وہ اچھے سے جان ہی چکا تھا مگر وجہ کیا تھی؟اس سے وہ اب تک قطعی بےخبر تھا۔
”کچھ خاص نہیں۔۔۔۔بس ایک چھوٹا سا کیس تھا اُسی کو لےکر ہمارے بیچ ڈسکشن چل رہی تھی۔۔۔تم بتاؤ۔۔۔کیا کرتے پھر رہے ہو آجکل۔۔۔؟؟؟ اُسکے لاڈ جتانے پر مسکرا کر وضاحت دیتے آخر میں اُسکا انداز بالکل حسن صاحب کی طرح ہوا تھا۔آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔شام مسکرایا۔ ”میں۔۔۔؟؟؟کچھ خاص تو نہیں۔۔۔۔ بس آج آپکے بہادر بھائی نے ایک لڑکی کو چند آوارہ بدمعاشوں سے بچایا ہے۔۔۔اور مزے کی بات بتاؤں۔۔۔؟؟جس لڑکی کی مدد میں نے کی۔۔۔وہ اُسی لڑکی کی بڑی بہن تھی جسکی جان اُس دن آپ نے بچائی تھی۔۔۔۔“ اپنی کالی کرتوت پر کھوکھلی بہادری کا پردہ ڈالے وہ لیٹے لیٹے ہی فخر سے اپنے کالر جھاڑتا عائل کو اپنی بات سے الجھاگیا۔
”مطلب۔۔۔۔؟؟تم کن لڑکیوں کی بات کررہے ہو۔۔۔۔۔؟؟؟میں ٹھیک سے سمجھا نہیں۔۔۔۔“ واقعی اُسکے دماغ میں شام کی مبہم انداز میں کی جانے والی گفتگو فوری طورپر نہیں بیٹھی تھی جس پر وہ اپنی گھنی بھنوؤں کو سکیڑتا بھرپور سنجیدگی سے گویا ہوا۔
”حرمین زہرا اور اُسکی چھوٹی بہن کی بات کررہا ہوں یار۔۔۔۔حرمین زہرا وہی جو میری یونیورسٹی میں پڑھتی ہے۔۔۔وہ آپکو اچھے سے جانتی ہے بھائی۔۔۔اور آج میرے ساتھ ساتھ آپکی بھی خاصی تعریف کررہی تھی کہ کس طرح آپ نے اُسکی چھوٹی بہن کی جان بچائی۔۔۔“ شام سیدھا ہوکر بیٹھتے ہوئے حرمین کے نام پر زور دیتا کھل کر وضاحت دینے لگا تو عائل کے ذہن میں ایکدم سے جھماکہ ہوا۔
”اچھا اچھا۔۔۔۔۔تو تم حاویہ کی بڑی بہن کی بات کررہے ہو۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔جب ہوٹل میں، میں اُس سے اتفاقاً ملا تھا تو اُسنے مجھے اپنا انٹرو کروایا تھا۔۔۔۔اب تو وہ ٹھیک ہے ناں۔۔۔۔؟؟“ ساری بات سمجھ آتے ہی اُسے اُس معصوم لڑکی کے ساتھ ہوئے ناخوشگوار واقعے کی بابت جان کر حقیقتاً افسوس ہوا تھا۔
”حرمین کی بہن کا نام حاویہ ہے۔۔۔؟؟بلیومی بھائی مجھے آج ہی یہ بات آپ سے معلوم پڑی ہے۔۔۔۔“ اُس کے سوال کو نظرانداز کرتےشام کا لہجہ شوخ رنگ ہوا جہاں افسوس کی کوئی بھی رمق باقی نہ تھی۔ یہ پہلی بار تھا جو عائل کو شام کا حاویہ کے نام پر چھیڑتا لہجہ دل سے بھایا تھا۔
بےساختہ اُسکے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ رینگ گئی۔حاویہ کے بوکھلائے بوکھلائے سے دلکش نقوش بےاختیار اُسکی یاداشت میں تازہ ہوتے چلے گئے۔
”اُسکی جان بچاتے بچاتے کہیں آپ اپنا دل تو نہیں گنوا بیٹھے بھائی۔۔۔؟؟اگر ایسی بات ہے تو مجھےابھی سے بتادیں۔۔۔موم تو الریڈی آپکے پیچھے پڑی ہوئی ہیں کہ شادی کرلو۔۔۔ شادی کرلو۔۔۔۔اچھا ہے اُنکی خواہش بھی جلد ہی پوری ہوجائے گی۔۔۔“ شام کی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی گستاخیاں اُسے مزید مسرور کرتی اُس لڑکی کی یادوں میں مکمل طور پر دھکیل چکی تھیں جب اُسکی عدم توجہ محسوس کرتا وہ ذرا چونکا۔
”بھائی۔۔۔۔؟؟؟“ اُسے کھوئے انداز میں مسکراتا دیکھ شام کی مسکراہٹ معدوم ہوتی ایکدم سے غائب ہوئی تھی۔البتہ وہ خود کبھی اِن احساسات سے حقیقتاً دوچار نہیں ہوا تھا لیکن بھٹک جانے والے ایسے انداز و حالات سے جہاں انسان دوسروں سے قطعی غافل محض اپنی سوچوں میں گم آپ ہی آپ مسکرانے لگے خوب واقف تھا۔
”بھائی۔۔۔۔؟؟؟“ خود کے نظرانداز کیے جانے پر بمشکل ضبط کرتے اُسنے اس بار بآواز بلند اُسے مخاطب کیا۔
”ہ۔۔ہاں۔۔۔۔۔؟؟؟“ اپنے گہرے خیالوں سے چونکتا وہ پل میں اُسکی جانب متوجہ ہوا۔
”مطلب۔۔۔سچ میں آپ اُس لڑکی کو اپنا دل دے بیٹھے ہیں۔۔۔پلیز سچ بتائیے گا مجھے۔۔۔۔“ اپنی حیرانگی پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتا وہ پُریقین سا عائل کو بری طرح ٹھٹھکانے پر مجبور کرگیا۔
”بچ جاؤ میرے ہوہاتھوں سےشام۔۔۔۔بہت سوال پوچھنے لگے ہو اب تم مجھ سے۔۔۔“ عائل نے بات کو بدلتے ہوئے اُسے واضح طور پر ٹالنا چاہا پر وہ ٹلنے کو ابھی تیار ہی کہاں تھا۔۔۔
”پلیزبھائی۔۔۔آپ اب بات گھومائیں نہیں۔۔۔۔آئی ایم سریس یار۔۔۔۔“ قدرے سنجیدگی سے پیشانی پر بل ڈالتا وہ ضد پر اتر آیا۔ ماحول کے ساتھ ساتھ اُسکے لہجے میں بھی قدرے دھیما تناؤ آگیا تھا۔
”اچھی لگتی ہے وہ مجھے۔۔۔۔بہت اچھی۔۔۔۔“ اپنے بھائی کے سامنے ہتھیار ڈالتا وہ دبے لفظوں میں آرام سے اعتراف کرگیا۔ بالوں میں ہاتھ چلاتے اُسکے لب بےاختیار مسکرانے لگے تھے۔
”اٹس مین یور آر اِن لوَ بھائی۔۔۔۔فائنلی یوآر اِن لوَ۔۔۔۔“ فقط اُس لڑکی کے لیے عائل کے لب ولہجے سے ٹپکتی چاشنی اور محبت ملاحظہ کرتے ہوئے وہ جیسے اُسے باور کروانے سے ذیادہ دھیمے لہجے میں بولتا ہوا خود کو یقین دلارہا تھا۔
جواب میں وہ بنا جھجکے سر تائید میں ہلاتا شام کا موڈ صحیح معنوں میں تباہ کرگیا۔ اُسکے دل میں بےاختیار جلن اور اُس اجنبی لڑکی کے لیے نفرت سی ابھرنے لگی تھی۔
”اُسے بھی معلوم ہے یہ بات۔۔۔۔۔؟؟؟“ اگلے ہی پل وہ سرجھٹکتا بظاہر دلکشی سے مسکرایا تو عائل گہری ہوتی مسکراہٹ سمیت نفی میں سر ہلاگیا۔ ”تمھارے علاوہ کسی کو بھی نہیں پتا۔۔۔۔اور موم کو تو بالکل بھی نہیں۔۔۔جب تک میں نہیں کہوں گا تم اپنا منہ بند ہی رکھوگے۔۔۔سمجھ گئے۔۔۔۔“ اُسکے پل پل سلگتے احساسات سے قطعی انجان سنجیدگی سے شہادت کی انگلی اُسکی جانب اٹھاتا وہ وارن کرنے والے انداز میں بولا۔
شاید اُسے فکر تھی کہ کہیں اگر عائمہ بیگم کو معلوم پڑگیا تو وہ حاویہ کا اسٹیٹس کلیئر ہوتے ہی اُسے ریجیکٹ کردیں گی اور ایسا وہ بالکل بھی نہیں نہیں چاہتا تھا۔ معلوم تو یہ شام کو بھی اچھے سے تھا لیکن وہ فی الوقت ایسی ویسی کوئی بھی بات بول کر عائل کی مسکراہٹ کو اُسکے لبوں سے جدا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
”آپ بےفکر رہےہیں بھائی۔۔۔۔آپکا یہ سیکرٹ بوائے لائف ٹائم گرنٹی کے ساتھ ہمہ وقت ایویل ایبل ہے۔۔۔۔“ آنکھ دبا کربولتے ساتھ ہی شام نے اپنے لبوں پر ان دیکھی زپ کو بند کرتے کڑا اطمینان دلایا تو عائل اُسکے اسٹائل پر اس بار کھل کر ہنس پڑا۔
تبھی ادھ کھلے دروازے کو مکمل وا کرتی آمنہ کسی کام سے بے دھڑک روم میں داخل ہوئی لیکن عائل کے ساتھ شام کی تمام تر توجہ خود پر سمٹتی دیکھ حقیقتاً بوکھلاگئی۔
”تم میں سینس نام کی کوئی چیز نہیں ہے کیا جو یوں منہ اٹھا کر سیدھا اندر گھسی چلی آرہی ہو۔۔۔۔؟؟؟ کسی کے روم میں آنے سے پہلے ناک کیا جاتا ہے۔۔۔۔پھر پرمیشن لے کر اندر آتے ہیں۔۔۔۔جاہل لڑکی۔۔۔۔“ اپنے اندر کی کھولن بےاختیار اُس پر اتارتا وہ اُسے پوری طرح سہما گیا تھا۔ ”شام۔۔۔۔۔“ اُسکے اچانک سے بگڑنے پر چونکتا عائل تنبیہی انداز میں گویا ہوا۔
”بھائی۔۔۔اس کو اتنا سر پر چڑھا کر مت رکھا کریں یار۔۔۔۔“ سر جھٹکتا وہ خود پر بمشکل ضبط کرنے لگا تو آمنہ اپنی تذلیل پر بھیگتی آنکھوں سمیت اگلے ہی پل وہاں سے بھاگتی چلی گئی۔
”تم جانتے ہو ناں مجھے ایسا بےہیویر بالکل پسند نہیں۔۔۔۔پھربھی تم۔۔۔۔“ آمنہ کے وہاں سے ہٹتے ہی وہ قدرے تاسف سے بولتا لب بھینچ کررہ گیا۔ ”اچھا ناں سوری۔۔۔۔۔۔“ اپنی بےاختیاری پر گہرا سانس بھرتے اُسے عائل کی عدم مسکراہٹ کا شدت سے احساس ہوا تو لاڈ سے بولتا وہ فوری معذرت کرگیا۔
”تم کبھی نہیں سدھرو گے۔۔۔۔۔۔“ اُسکے سر پر ہلکی سی چپت لگاتا آخر میں وہ ہولے سے مسکرادیا تو شام بھی اس جملے پر سرشار سا مسکراتا اپنے بالوں میں لاپرواہی سے ہاتھ چلانے لگا۔
💞💞💞💞💞💞
رات قطرہ قطرہ بیت رہی تھی لیکن بےچینی سے کروٹیں بدلتے دو وجود نیند سے کوسوں دور بظاہر آنکھیں بند کیے اپنی اپنی سوچوں میں پوری طرح منمہک تھے۔
”اپیہ۔۔۔سچی مح۔۔۔۔بت کی نشانی کیا ہوتی ہے۔۔۔۔؟؟؟“ زوروں سے دھڑکتے دل پر اپنا نازک ہاتھ جمائے وہ بےقرار سی حرمین کی جانب کروٹ بدلتی لفظ”محبت“ پر اٹکی تھی۔
خود کے اندر پنپتے ناقابلِ بیان احساسات نے اُسے اپنی ہچکچاہٹ کو روندتے یہ سوال پوچھنے پرحددرجہ مجبورکردیا تھا۔ مگر وہ بنا کوئی ردِ عمل ظاہر کیے یونہی بے حس و حرکت آنکھیں میچے لیٹی پڑی تھی۔دماغ اس سمے لاتعداد الجھنوں کا شکار تھا جسے سلجھانا اُسکے لیے فی الوقت حد سے ذیادہ مشکل مرحلہ ثابت ہورہا تھا۔
”بولیں ناں اپیہ۔۔۔۔“ مقابل کی حالت سے بےبہرہ وہ اس بار اپنا اعتماد قدرے بحال کرتی اُسے بازو سے جھنجھوڑگئی تو وہ دھیرے سے اپنی نیند کے خمار سے سرخ پڑتی آنکھیں کھول گئی۔
”کیا۔۔۔۔۔؟؟؟“ سیاہی مائل لبوں نے ہولے سے آواز نکالی تھی۔ ”اپیہ۔۔۔۔مجھے آپ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔کچھ ہوا ہے کیا۔۔۔۔؟؟؟بتائیں مجھے۔۔۔۔“ اگلے ہی پل اپنی کیفیات کو فراموش کیے وہ اُسکی بکھرتی حالت پر پھر سے غور کرتی اس بار حددرجہ فکرمند دکھائی دی۔ حرمین جب سے گھر آئی تھی عجیب سی خاموشی اختیار کیے بس اپنے کمرے میں ہی بند پڑی تھی۔
حتیٰ کہ بیگم نفیسہ کے مجبور کرنے پر کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا تھااُسنے۔ یہ سب بقول اُسکے محض تھکاوٹ کی علامات تو نہیں ہوسکتی تھیں۔۔۔۔۔ جواب میں حرمین نے نفی میں گردن ہلاتے مسکرانے کی ناکام سی کوشش کی تھی۔
”توپھر۔۔۔۔؟؟؟کہیں ذباب جیجو کی یاد تو نہیں آرہی آپکو۔۔۔۔ہممم۔۔۔۔بولیں بولیں۔۔۔؟؟صحیح کہہ رہی ہوں ناں میں۔۔۔؟؟انہی کی یاد ستارہی ہے ناں آپکو۔۔۔۔؟؟“ دوسرے ہی پل ٹھوس وجہ تلاشتی وہ پُرجوش سی مزید اُسکی جانب کھسک گئی۔ بھرپور تصدیق چاہتے ہوئے اب فکرمند نقوش شرارتی مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔
”نہیں۔۔۔ شام کی۔۔۔۔“ غوروفکر سے قطعی لاتعلق اُسکے لب اس پل شدتِ بےبسی سے پھڑپھڑائے جسے بمشکل سماعتوں میں گھولتی حاویہ اپنی جگہ ٹھٹھک کر رہ گئی۔
”شام۔۔۔۔۔یہ آپ کیا بات کررہی ہیں اپیہ۔۔۔؟؟؟“ توقع کے برعکس حرمین کے منہ سے ذباب کی جگہ کسی اور کا نام سنتے ہی حاویہ کی چھوٹی سی پیشانی پر بےاختیار تیوری چڑھی۔
”کیونکہ آج اُسنے میری عزت کو تار تار ہونے سے بچایا حاوی۔۔۔۔اپنی جان کی پروا کیے بغیر وہ اُن اوباشوں سے لڑمرنے کے لیے تیار تھا۔۔۔فقط میرے لیے۔۔۔۔اگر اُس پل وہ مسیحا بن کر بروقت مجھ تک نہیں پہنچتا تو شاید اب تک میں کسی ویرانے میں کوڑے کے ڈھیر کی طرح پڑی اپنی آخری سانسیں بھررہی ہوتی۔۔۔۔یاں پھر ممکن تھاکہ تم لوگوں کو ڈھونڈنے کے باوجود بھی میری لاش نہ ملتی۔۔۔۔“ وہ یہ سب شدت سے بولنا چاہتی تھی۔ اپنے اندر کافی دیر سے چیختی ان سرسراتی سرگوشیوں کو بآواز بلند زبان پر لانا چاہتی تھی پر ہنوز خاموشی اختیار کیے وہ چاہ کر بھی یہ سب بول نہیں پارہی تھی۔
اور وجہ صاف تھی۔۔۔۔ اپنی پریشانیوں کو وہ ہمیشہ کی طرح اپنے اندر تو سمیٹ سکتی تھی مگر اپنی وجہ سے اپنوں کو تکلیف دینے سے قطعی گریزاں تھی۔
”اپیہ۔۔۔آپ کچھ تو بولو چپ کیوں ہو۔۔۔؟؟جواب دو ناں مجھے۔۔۔ذباب جیجو کی جگہ آپ شام کو کیوں سوچ رہی ہو۔۔۔۔؟؟“ دماغ پر زور ڈالتے وہ شام کی بابت کچھ کچھ اندازہ تو لگاہی چکی تھی تبھی تھوڑا تلخ ہوتی اُسکی طویل مگر چیختی خاموشی کو شدت سے محسوس کرتی وہ اُسے جھنجھوڑ کر اُس کی توجہ اپنی جانب کھینچ گئی۔
دل میں بہت سے خدشے گھر کرنے لگے تھے۔
”پلیز حاوی اس وقت مجھ سے کچھ بھی مت پوچھو۔۔۔۔اس وقت میری ایسی حالت نہیں ہے کہ تمھاری کسی بھی بات کا جواب دےسکوں۔۔۔میں بہت تھک گئی ہوں۔۔۔۔اور اب صرف سونا چاہتی ہوں۔۔۔۔صرف سونا۔۔۔۔“ اُسکے پل پل بگڑتے لہجے اور سوالوں کی بےتابانہ بوچھاڑ سے عاجز آتی وہ اپنی نم پڑتی آنکھوں سمیت تڑخ کر بولتی ہوئی اگلے ہی پل اُسے چپ کرواگئی۔
”اپیہ۔۔۔۔۔“ حرمین کو مخالف سمت کروٹ بدلتا دیکھ وہ دوسرے کمرے میں سوئی بیگم نفیسہ کی نیند خراب ہونے کے ڈر سے بےبس سی منمناکررہ گئی۔ البتہ اُس کے سلگتے لہجے کی کڑواہٹ بمشکل اپنے اندر اتارتے ہوئے اُسکی سوچوں کا محور و مرکز عائل کی جگہ اب اُسکا بھائی تھا۔
💞💞💞💞💞💞
چمکتے ستاروں سے محروم سیاہ و تاریک آسمان میں وقفے دقفے سے کڑکتی بجلیاں اور بادلوں کی کان پھاڑتی گڑگڑاہٹ ماحول میں اس وقت وحشت بھری ہولناکیاں برپا کررہی تھی۔ مگر وہ اپنے روم میں موجود ہر شے کے خوف سے بےبہرہ آنکھیں موندے کش پر کش بھرتا جارہا تھا۔پاس پڑا ایش ٹرے جلی بجھی سگریٹوں سے بھرا اس بات کی واضح تصدیق کررہا تھا کہ وہ وجود اپنی صحت کی پرواہ کیے بغیر اب تک تین سے چار سگریٹ کے پیک ختم کرچکا تھا۔ مگر سکون اُسے کم سے بھی کم میسر آیا تھا جو فی الوقت اُسکے لیے کسی بھی طور کافی نہیں تھا۔ بند آنکھوں کے پار مسلسل اُس پری پیکر کا چہرہ گھوم رہا تھا جو اُسکی غیر ہوتی حالت کی ذمہ دار تھی۔ کچھ ہی پلوں میں انگلیوں کے بیچ دبا یہ سگریٹ بھی ختم ہوا تھا جس پر شاہ مزید ایک اور سگریٹ کا مزہ لینے کے لیے بے اختیار اپنی آنکھیں کھول گیا۔ پر اگلے ہی پل اپنی لہورنگ آنکھوں کے سامنے وہ اُسے پورے وجود سے مسکراتی ہوئی نظرآئی تو وہ پل بھر کو چونکتا بےاختیار ٹیک چھوڑگیا۔ ایک وقت تھا جب وہ اُسکی بے وقت آمد پر بوکھلاکر پسینہ پسینہ ہوجایا کرتا تھا۔ پر اب تو جیسے اُسے اس بن بلائی آفت کی خاصی عادت سی ہوگئی تھی جس پر وہ محض لمحہ بھر کے لیے چونکنے پر ہی اکتفا کرتا تھا۔ البتہ نفرت کا گہرا سمندر تیزی سے اپنی جگہ رواں دواں تھا۔
”تم۔۔۔۔۔؟؟؟تم پھر آگئی۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکے وحشتوں بھرے چہرے سے ہمیشہ کی طرح خار کھاتا وہ حقیقتاً چٹخ گیا۔
”میں تو ہمیشہ ہی تمھارے پاس ہوتی ہوں۔۔۔۔بس تمہی کو مجھے دیکھنے کی فرصت نہیں ملتی۔۔۔۔“ اُسکی سخت چڑچڑاہٹ کا جواب بظاہر نرمی سے دیتی وہ ہرپل سلگتی قدم قدم اُسکی جانب بڑھنے لگی۔
”ہونہہ۔۔۔۔تم صرف میری تکلیف پر جشن منانے ہی میرے پاس آتی ہو۔۔۔اور اب بھی اسی لیے آئی ہو تاکہ دل کھول کر میری بےبسی کا تماشہ دیکھ سکو۔۔۔۔میری ہار کا شدت سے مزہ لینے کی تڑپ تمھارے وجود کو پل پل جھلسائے دیتی ہے۔۔۔۔تم مجھ سے فقط میری بربادی ہی چاہتی ہو۔۔۔ہے ناں۔۔۔۔؟؟؟یہی سب چاہتی ہو ناں تم۔۔۔؟؟“ اُسکی دلی آرزوؤں کو سلگتے لفظوں کی صورت بیان کرتا وہ اُسے حددرجہ مسرورکرگیا۔ ”ہاہاہاہا۔۔۔۔۔جب تم میرے بارے میں سب جانتے ہو تو بار بار پوچھتے کیوں ہو۔۔۔۔؟؟؟“ مقابل کی بات پر دل کھول کر قہقہ لگاتی سوال کے بدلے سوال کرتے ہوئے اسکے حددرجہ نزدیک پہنچ چکی تھی۔
”پر افسوس جو تم اب تک یہ نہیں جان پائی کہ میری شکست دیکھنا تمھاری ایک ادھوری خواہش ہے جسے تم چاہ کر بھی کبھی پورا نہیں کرپاؤ گی۔۔۔“ اپنے مضبوط کندھوں پر اُسکے دھواں دھواں ہوتے نازک بازوؤں کو لپٹا دیکھ وہ شدید غصے میں بھی مسکراتا اُسے آگ لگاگیا۔
”تمھاری گھٹیا سوچ پر مجھے ہمیشہ سے افسوس ہوتا آیا ہے۔۔۔۔کیا یہ بےبسی تمھارے لیے کافی نہیں جو تم ناچاہتے ہوئے بھی مجھے میری مرضی کے مطابق دیکھنے کے پابند ہو۔۔۔۔؟؟“ قدرے سکون سے بولتی وہ اُسکے لبوں سے دلفریب مسکراہٹ نوچ گئی تھی۔
”او یو جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔تم اسے میری بےبسی کا نام ہرگزنہیں دے سکتی۔۔۔۔کیونکہ مجھے اس پر بھی خاصا اختیار حاصل ہے۔۔۔سمجھی تم۔۔۔“ درشتگی بھرے لہجے میں اُسکے دل جلادینے والے لفظوں کی شدت سے نفی کرتا وہ اپنی بات ثابت کرنے کی غرض سے اگلے ہی پل سختی سے آنکھیں میچے اُسے اپنی نظروں سے غائب کرگیا۔وہ اُسکے ضد جتانے والے اِس انداز پر بےساختہ زہرخند لہجے میں مسکرائی۔
”مان لو شاہ میر حسن۔۔۔۔بےبس ہو تم میرے آگے۔۔۔۔۔۔“ اُسکے کان کے قریب جھک کر سرگوشی کرتی وہ پھر سے اپنی کھنکھناتی ہنسی زہر کی مانند اُسکے کانوں میں انڈیل گئی۔۔۔کیونکہ مقابل شدت سے چاہنے کے باوجود بھی ایک بےضرر عکس کے بازوؤں کا پل پل تنگ ہوتا نامحسوس گھیرا خود پر سے ہٹانہیں پایا تھا۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
وہ پل پل بڑھتے غصے اور بےچینی پر بمشکل قابو پائے ہال نما کمرے میں اِدھر سے اُدھر چکر کاٹ رہا تھا۔ سامنے ہی دیوان صوفے پر گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے تابین بائی اُسکی ہر حرکت کا مشاہدہ کرتی بے چین ہورہی تھیں جو بیچ بیچ میں گھڑی کی سوئیاں دیکھنے کی غرض سے رک بھی جاتا۔ تابین بائی کے وجود میں بھرتی بے چینی کی اصل وجہ اُسکی پہلی دفعہ دن دیہاڑے بےوقت آمد تو تھی ہی مگر ساتھ میں گولڈ کی وہ بریسلٹ بھی اُنکی بےتابی کو بڑھا رہی تھی جو سالار خان اپنی محبت میں ڈوب کر فقط رابی کے لیے لایا تھا۔
”اور کتنی دیر لگے گی اُسے آنے میں۔۔۔۔؟؟؟“ قدرےجھنجھلا کر بولتا وہ تیسری بار تابین بائی کی جانب لپکا تو وہ اپنی ٹانگیں دبیز قالین پر جماتی اُسکی بےصبری پر ٹھنڈی آہ بھرکررہ گئیں۔
”آجائے گی۔۔۔۔“ مختصر جواب دیتی وہ حقیقتاً مقابل کی برداشت آزماگئی تھیں۔
”کیا آجائے گی۔۔۔۔؟؟تین گھنٹے ہونے کو آئے ہیں اور ابھی تک اُسکا دور دور تک کوئی اتا پتہ نہیں ہے۔۔۔۔نہیں کہاں۔۔۔؟؟؟ہے کہاں وہ۔۔۔۔؟؟خدا کا واسطہ ہے کچھ تو بول دیں۔۔۔۔“ تابین بائی کا تب سے ایک ہی راگ الاپنے پر وہ تڑخ کر بولتا کڑے تیوروں سے استفسار کرنے لگا تو وہ اپنی موٹی کمر پر چوڑیوں بھرے دونوں ہاتھ جماتی اُسے سخت نظروں سے گھورنے لگیں۔
”میرے سامنے اتنا اچھلنے کی ضرورت نہیں ہے تمھیں بابو۔۔۔۔اگر نہیں انتظار ہورہا تو یہ بریسلٹ مجھے دے دو اور چلتے بنو یہاں سے۔۔۔۔خواہ مخواہ میں خود کا وقت بھی ضائع کررہے ہو اور میرا بھی۔۔۔۔“ ہاتھ نچانچا کر نخوت سے بولتی وہ ایکدم اُسکے قریب ہوتی چوڑے سینے پر دباؤ ڈالے اُسے آدھا قدم پیچھے دھکیل گئیں تو وہ مٹھیوں سمیت لب بھینچ کررہ گیا۔
”کہیں آپ نے اُسے اپنے دباؤ میں لاکر کسی امیرمرد کے پاس۔۔۔۔“ دبیز قالین پر پُرسوچ نظریں جمائے وہ اپنے دماغ کے محدود میدان میں عقل و شہبات کے تیز گھوڑے دوڑاتا پھنکارا جب اُسکی بات بیچ میں کاٹتی وہ اُس سے دوگنا بھڑک اٹھیں۔
”یہ کیا بکواس کررہے ہو تم۔۔۔۔؟؟پاگل تو نہیں ہوگئے۔۔۔۔؟؟وہ شاپنگ کرنے گئی ہے۔۔۔سمجھے۔۔۔شاپنگ کرنے۔۔۔۔چاہو تو یہاں پرکسی سے بھی پوچھ سکتے ہو۔۔۔۔“ اُسکے اس حد تک چلے جانے پر تابین بائی پھاڑ کھانے والے انداز میں اُس پر برستی اُسے پل میں کڑا اطمینان دلاگئی تھیں۔
اُنکے شدومد سے نفی کرنے پر اُسکے دل کو دھاڑس سی ملی تھی۔ وہ صرف اسکی تھی یہ سوچ کر سالار کے رگ و پے میں سکون سا اتراآیا۔
تابین بائی پیسے کی خاطربغیرتی کی ساری حدیں پار کرنے کی قائل تھیں لیکن صد شکر تھاکہ اس حد تک کبھی نہیں گئی تھیں۔پل بھر کو اُن کے اس احسان پر خوش ہوتا وہ اس بات کا اعتراف کرگیا۔
”تم ایسا کرو یہ بریسلٹ مجھے دےدو۔۔۔خدا قسم میں رابی تک اُسکی یہ امانت صحیح سلامت پہنچا دوں گی۔۔۔۔“ سالار خان کو آپ ہی آپ مسکراتا دیکھ وہ تاسف سے سر جھٹک گئیں۔۔۔اور اُسکی مٹھی میں جکڑا بریسلٹ کا چمکتا سرا نگاہوں میں بھرتے بے دھڑک آگے بڑھ کر اُسے اپنے قبضے میں لینا چاہا جب اپنے دلفریب خیالوں سے چونکتا وہ اپنا ہاتھ بے اختیار اوپر کو اٹھاتا اُنھیں بےبس کرگیا۔
”یہ بریسلٹ میں آپکے حوالے کردوں۔۔۔۔؟؟ہونہہ۔۔۔۔مجھے دماغ سے کھسکا ہوا سمجھ لیا ہے کیا۔۔۔۔؟؟جس کی یہ چیز ہے میں اُسے خود دے دوں گا۔۔۔۔آپ کو فکر کرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ہممم۔۔۔۔“ تابین بائی کے بیس سے چمکتے ماتھے پر لاتعداد بل پڑتے دیکھ وہ ہتک آمیز لہجے میں بولتا اُنھیں سلگتے انگاروں پر لوٹا گیا۔
”بہت ہی کوئی بدتمیز انسان ہو تم۔۔۔۔اللہ بچائے تم جیسوں کے شر سے۔۔۔۔نجانے میری معصوم سی بچی تمھارے چنگل میں کیسے پھنس گئی۔۔۔؟؟مجھے تو حیرت ہوتی ہے سوچ سوچ کر۔۔۔۔“ اُس سمیت بریسلٹ پر بھی بمشکل لعنت بھیجتی وہ فی الوقت اپنی لالچی کو تھپکی دے کر سلاچکی تھیں۔
”حالانکہ ابھی تک میں نے آپ کے سامنے اپنی تھوڑی سی بھی بدتمیزی کا عملی مظاہرہ نہیں کیا۔۔۔۔لیکن جس دن میں نے واقعی میں آپکو اپنا آپ دکھادیا ناں۔۔۔۔تو حقیقتاً مجھ جیسوں کے شر سے اپنے رب کی پناہیں مانگتی پھریں گی آپ جیسیاں۔۔۔۔“ رابی اور خود کے تعلق کی بابت اُنکی حددرجہ پھسلتی زبان سے ناپسندیدہ تبصرہ سن کر سالار خان نے قدرے بگڑے موڈ کے ساتھ اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے اپنے سارے حساب بےباک کرڈالے۔ جس پر وہ اندر تک کلستی نیلی ساری کا پلو تھامے واپس صوفے پر براجمان ہوں چکی تھیں۔
اتنی دیر اُس خوبرو نوجوان کے مقابل کھڑے رہ کر مقابلہ بازی کرنا اُنکی عمر کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا تھا۔
”اب جبکہ تم نے اپنی طرف سے خود پر شریفوں کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے لیکن میری نظروں میں پھر بھی بدتمیز ہی ہو۔۔۔یقین کرو تم جیسا بدلحاظ اور بےغیرت شخص واقعی میں،میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔۔۔۔“ بظاہر نرم لہجے میں طنز و مزاح کے نشتر اُسکے وجود میں پیوست کرتی وہ اُسے مکمل طور پر زچ کرنے کے در پر تھیں جب وہ خود پر سے پل پل ضبط کھوتا لمبی سانس بھر کے رہ گیا۔
”اللہ مجھے صبر دے اس مکار عورت کی چلتربازیوں پر۔۔۔۔رابی کی دیرآمدکا کڑوا گھونٹ تو میں جیسے تیسے بھی کرکے پی لوں گا۔۔۔لیکن اگر آپکی بکواس سننے کے لیے مزید یہاں ٹھہرا تو حقیقتاً اپنا ضبط کھو بیٹھوں گا۔۔۔۔جبکہ میرا دل اپنی رابی کو ناراض کرنے پر ذرا بھی آمادہ نہیں ہے۔۔۔۔اسی لیے جارہا ہوں میں یہاں سے۔۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔“ اپنے خالق ِیکتا سے زیرِلب مدد طلب کرتا اگلے ہی لمحے وہ تابین بائی پر اُنکی اوقات ظاہر کرگیا اور اُنکے سرخ لبوں کی مسکراہٹ چھینتے تن فن کرتا وہاں سے نکلتا چلاگیا۔
”تو جاؤ میری بلاسے کہیں بھی۔۔۔۔آیا بڑا۔۔۔۔۔۔کمینہ کہیں کا۔۔۔۔“ کمرے کا دروازہ زور سے بند ہونے پر وہ قدرے تلخی سے بڑبڑاتی اگلے ہی پل سوچوں کی دلدل میں پھنستی چلی گئیں جس کا محور و مرکز یقیناً رابی ہی تھی۔
💞💞💞💞💞💞
آج وہ دونوں کافی عرصے بعد شام کے اصرار پر اُسکے گھرآئے تھے اور اس وقت اُن کے شاندار ڈرائنگ روم میں بیٹھے گپ مارنے میں مصروف تھے۔ فواد اور افروز شام کے گھر آنے سے اکثر کتراتے تھے جسکی مین وجہ عائل اور حسن صاحب تھے جو اُنکو کچھ خاص پسند نہیں کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ جب بھی شام کے گھر آتے تو اُن دونوں اکڑ باپ بیٹے کی غیرموجودگی میں ہی آتے یاں پھر اپنا ذیادہ وقت مستی میں اُسکے ذاتی فارم ہاؤس میں گزاردیتے۔ اسکے برعکس عائمہ بیگم فقط اپنے لاڈلے بیٹے کی خوشی کی خاطر اُن دونوں کا ہربار خوشدلی سے استقبال کیا کرتی تھیں۔
”دیکھا تھا تم لوگوں نے اُسے۔۔۔۔کیسے بار بار مسکراکر صرف مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔مطلب سمجھ رہے ہوں ناں اس بات کا۔۔۔۔؟؟؟“ ڈرائی فروٹ کی ٹرے میں سے مونگ پھلی اٹھاتے افروز کی پیٹھ پر ہولے سے دھپ مارتا وہ پرجوش سا بولا تو وہ پل بھرکو چونکتا سر ہلاگیا۔ آج یونی میں حرمین نے بارہا شام کو اپنی نظروں کے سامنے دیکھا تھا جو کبھی اُسکے لیکچر ٹائم پر کلاس کے باہر کھڑا کسی سے محوِ گفتگو ہوتا۔
کبھی اپنے فرینڈز کے ساتھ لائبریری میں تو کبھی کیفے میں۔۔۔۔ بار بار دل دھڑکا دینے والے اِس اتفاق پر جی بھرکر حیران ہوتی وہ ہر بار اُسے دیکھ کر احسان کے بوجھ تلے خوشدلی سے مسکرادیتی جس پر بھرپور حظ اٹھاتا شام اپنی چالاکیوں پر دلکشی سے مسکراتے مزید اُسکا نازک دل دھڑکا جاتا۔ اِس بڑی تبدیلی کو اُن تینوں کے علاوہ دوسروں نے بھی خاصے تجسس کے ساتھ محسوس کیا تھا۔
”مطلب ہاتھ گئی چڑیا دھیرے دھیرے دام میں پھنس رہی ہے۔۔۔۔“ افروز کی بجائے فواد نے جواب دیا تو شام شہادت کی انگلی اُسکی جانب جھٹکتا پرجوش سا چلایا۔
”یہ بات۔۔۔۔۔“
”مونگ پھلی میں چھلکے اور لڑکیوں میں نخرے نہیں ہوتے تو زندگی کتنی آسان ہوتی ناں۔۔۔۔؟؟؟آہ۔۔۔۔سالے۔۔۔۔“ اپنی پسندیدہ مونگ پھلی چھیلتے وہ تاسف زدہ لہجے میں بولا تو اُسکے ڈرامائی انداز پر بدمزہ ہوتا شام اگلے ہی پل اُسکی کمر پر زور کا دھموکا جڑ گیا۔
”اتنی انسلٹ کروانے کے بعد بھی وہ چڑیل تیرے دماغ سے نہیں نکلی ناں۔۔۔۔؟؟؟“ رابعہ کی بابت پوچھتا وہ چڑچڑا سا ہوا۔
”نام بھی مت لے اُس چڑیل کا میرے سامنے۔۔۔۔میں اُسے چھوڑ کر باقی ساری لڑکیوں کی بات کررہا تھا۔۔۔۔اچھا چھوڑ اور ہمیں اپنے کارنامے کے بارے میں بتا۔۔۔۔ایسا کیا جادو کردیا تُونے اُس ملانی پر۔۔۔۔؟؟مطلب ایک عدد فیوچر فیانس کے باوجود بھی تجھ جیسے فلرٹی پر چانس ماررہی ہے۔۔۔بندہ بھی وہ جو ہروقت گرلفرینڈز جیب میں لیے گھومتا ہے۔۔۔۔“ شام کے صحیح اندازے پر مصنوعی غصہ دِکھاتا وہ فٹ سے لائن پر آیا تھا۔۔۔ حالانکہ ایک بھی رات ایسی نہیں گزری تھی جس میں وہ اُس دل جلی کے خوبصورت نقوش کو یاد کرتا خود نہ جلا ہو۔
” ابے کہاں یار۔۔۔۔؟؟آجکل اُس ملانی کی نظروں میں اچھا بننے کی خاطرساری گرلفرینڈز سے مجبوراً دوری اختیار کررکھی ہے میں نے۔۔۔۔اور کچھ جلن کی وجہ سے خود ہی دور ہو گئیں۔۔۔۔“ افسردہ لہجے میں بولتا وہ سر جھٹک گیا جب دونوں نے اپنے بیچ بیٹھے اپنے کمینے دوست کو گھورکردیکھا۔ ”صرف یونی ایریا کے اندر اندر۔۔۔۔باہر تو تُو پھر بھی باز نہیں آتا جھوٹے۔۔۔۔“ اب کے فواد نے اُسکے مضبوط کندھے پر دھموکا جڑتے حقیقت کھول کر سامنے رکھی۔
”تو جلتا رہ بس۔۔۔۔۔“ کندھے پر اٹھنے والے دھیمے درد کو سرے سے نظرانداز کرتا وہ بالوں میں ہاتھ چلاتے ہنس کر گویا ہوا۔ تبھی آمنہ عائمہ بیگم کے فوری حکم پر ٹرے میں تین بڑے بڑے چائے کے مگ سجائے قدرےجھجھک کر اندر داخل ہوئی۔
تینوں نے اپنی باتیں روک کر اُسکی طرف متوجہ ہوئے۔ شام تو اُسے سرسری سا دیکھ کر اگلے ہی پل کوفت سے اپنی نگاہیں پھیر چکا تھا مگر وہ دونوں ابھی بھی اُسکے دوپٹے میں چھپے سراپے کو تفشیشی انداز میں گھوررہے تھے۔
”صاحب۔۔۔۔چائے۔۔۔۔“ اپنے چھوٹے صاحب کے آوارہ دوستوں کی خود پر جمی نظریں شدت سے محسوس کرتی وہ جلدی سے آگے بڑھی اور ٹرے اُنکے سامنے رکھ کرجانے کے لیے پلٹی ہی تھی جب اچانک سے افروز نے اُسے پیچھے سے آواز لگائی۔
”رکو۔۔۔مجھے یہ بسکٹ کی پلیٹ بھی پکڑاتی جاؤ۔۔۔۔اتنی دور کون پاگل رکھتا ہے۔۔۔۔؟؟“ دو ہاتھ کے فاصلے پر رکھی بیکری بسکٹس سے بھری پلیٹ کی جانب آنکھ سے اشارہ کرتا وہ ڈپٹنے والے انداز میں بولا تو وہ بمشکل تھوک نگلتی اثبات میں سر ہلاگئی۔
”یہ ل۔۔۔یں۔۔۔صاحب۔۔۔۔“ جیسے ہی آمنہ ٹھوڑی کے نیچے سے دوپٹے کو کس کر پکڑے پلیٹ اٹھاتی اُسکی جانب بڑھانے لگی تو افروز نے پلیٹ کی بجائے سرعت سے ہاتھ آگے بڑھا کر اُسکی نازک کلائی کو اپنی گرفت میں جکڑلیا۔ آنکھوں میں واضح کمینگی چمک رہی تھی جبکہ فواد آمنہ کے پوری طرح بوکھلا کر ہراساں ہونے پر لطف لیتا کھل کر ہنس پڑا۔
”صص۔۔۔۔صاحب۔۔۔ہمارا۔۔۔ہاتھ۔۔۔ہاتھ چھوڑو صاحب۔۔۔۔“ اُسکی زہر لگنے والی مسکراہٹ کو دیکھ کر روہانسی انداز میں بولتی وہ رودینے کو تھی۔ اُسکی ہوس بھری آنکھوں میں جھانکتے اس پل اُسے کیا کچھ یاد نہیں آیا تھا۔۔۔۔گزرے وقت کی تلخ یادیں پھر سے اُسکے حواسوں پر طاری ہوتی اُسے مقابل سے شدید نفرت کرنے پر مجبور کرگئیں۔۔۔تبھی اُسکے کپکپاتے ہاتھ سے چھوٹتی پلیٹ کو تب سے خاموش بیٹھ کرتماشہ دیکھتے شام نے آگے بڑھ کر نیچے گرنے سے بچایا تھا۔
افروز پر ایک ضبط بھری نگاہ ڈالتا اگلے ہی پل وہ اُسکی سخت گرفت سے آمنہ کی سرخ کلائی چھڑواگیا تو وہ جھٹکے سے دور ہوئی۔
”یاررر۔۔۔۔۔شام۔۔۔۔۔“ اُسکی حرکت پر جی بھر کر بدمزہ ہوتا وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاکررہ گیا۔ یہ دیکھ کر فواد کی مسکراہٹ بھی سمٹی تھی۔ ”دیکھ کیا رہی ہو۔۔۔۔؟؟چلو اب دفع ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔۔“ اُسکی آنسو ٹپکاتی تشکر بھری نگاہیں خود پر جمی دیکھ کر شام ایکدم سے اُس پر چلایا۔ ”جج۔۔۔۔جی صاحب۔۔۔۔“ اُسکی دھاڑ پر بےاختیار اپنے دل پر ہاتھ رکھتی وہ تیزی سے ڈرائنگ روم کے دروازے کی جانب لپکی۔
”بعد میں یہ برتن آکر ضرور سمیٹ لینا۔۔۔۔ہمیں گندگی بالکل بھی پسند نہیں ہے۔۔۔سمجھی۔۔۔“ خود پر ضبط کرتا افروز پیچھے سے زور کی ہانک لگانا نہیں بھولا تھا جسے وہ سرے سے اَن سنی کرتی وہاں سے جاچکی تھی۔
”یار ہے تو یہ بھی بڑی مست چیز۔۔۔۔بس لیول سے آکر مارکھاگئی سالی۔۔۔۔“ مگ اٹھا کر لبوں سے لگانے سے پہلے فواد نے اپنی رائے دینا ضروری سمجھا۔
جہاں افروز کھلے دروازے کے پار دیکھتا سر ہلائے مسکرایا تھا وہیں پیشانی پر بل ڈالے اپنی آنکھوں سمیت لمبی پلکوں کو انگلیوں تلے مسلتا شام جھٹکے سے اُنکی جانب مڑا۔
”اب تم دونوں مجھ سے نہ مار کھالینا سالو۔۔۔۔چپ چاپ چائے پیواپنی ۔۔۔۔اگر عائل بھائی یہاں پر موجود ہوتے اور تمھاری یہ حرکت دیکھ لیتے ناں تو یقیناً تم دونوں کا اس گھر میں آنا جانا ساری عمر کے لیے بند ہوجاتا۔۔۔۔ہرجگہ بس شروع مت ہوجایا کروتم لوگ یار۔۔۔۔“ اُنہی کی فکر میں غصے سے دونوں کی کلاس لیتے اُسکا موڈ تقریباً غارت ہوچکا تھا۔ اگرچہ اُسکا لہجہ قدرے تلخ تھا مگر اُسکی بات سو فیصد درست تھی جسکا احساس اِس لمحے اُن دونوں کو ہی ہو چکا تھا۔
”کیا یاررر۔۔۔۔اب اپنے بھائی کی دھمکی دے کر تُو ہمیں انڈراسٹیمیٹ کرےگا کیا۔۔۔۔؟؟جانتا تو ہے مجھے۔۔۔۔میں اپنی عادت کی وجہ سے ذرا مجبور ہوں۔۔۔۔“ افروز اُسکے تنے نقوش دیکھتا قدرے غیرسنجیدگی سے گویا ہوا۔
”تیری مجبوری کی تو۔۔۔۔۔##(گالی)۔۔۔۔“ بےاختیار اُسکے سر پر ٹھوکتا وہ اُسکے سلیقے سےسنورے بال بکھیرگیا۔ جواب میں پاس پڑا کشن غصے سے اُسکی جانب اچھالتا وہ زیرِلب شام کو نت نئے القابات سے نوازنے لگا جب وہ کشن کیچ کرتا واپس اُنکے بیچ آکر بیٹھ گیا۔
” تُو بھی اپنی بتیسی اندر کرلے نہیں تو توڑدوں گا۔۔۔۔“ ایک سائیڈ پر لگے فواد کو دھمکی دیتے ہوئے وہ اپنے بال ساتھ ساتھ سیٹ کررہا تھا۔ فواد اثر لیے بغیرسرجھٹک گیا۔
”چھوڑ ناں اس فضول انسان کو۔۔۔۔یہ تو بکواس کرتا ہی رہے گا تو یہ بتا کہ وہ ملانی تیری طرف مائل کیسے ہوگئی۔۔۔۔؟؟؟“ سنجیدہ بیٹھے شام کو پھر سے سابقہ ٹاپک کی طرف دھکیلتا فواد اُسکا دھیان بھٹکانے میں کامیاب ٹھہرا تھا۔ اب کے افروز بھی چائے کی چسکیاں لیتا دلچسپی سے اُسے دیکھنے لگا۔
”اب اپنے ٹیلنٹ کے بارے میں کیا بتاؤں یاروں۔۔۔بس ذرا لمبی کہانی ہے۔۔۔۔۔“ بیک وقت اُسکے سیاہی مائل لبوں کی مسکراہٹ اور آنسوؤں سے لبا لب گہری سیاہ آنکھوں کو یادداشت میں تازہ کرتا وہ ہولے سے مسکرادیا۔۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
