No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
کمرے سے منسلک بالکنی میں کھڑے ہوکر تاریک رات کی گہری وحشتوں کو شدت سے محسوس کرتا وہ شراب کا آخری گھونٹ بھی جلدی سے حلق میں انڈیل گیا تھا۔
خنساء بیگم کی حویلی میں عدم موجودگی۔۔۔اس کو یہ بےباک طلب مٹانے پر شدت سے مجبور کرگئی تھی۔۔۔وگرنہ تو اس حویلی میں شراب تک رسائی سے وہ ہر صورت گریزاں ہوا کرتا تھا۔
اگلے ہی پل اس نے ٹھٹک کر خالی گلاس کو دیکھا۔پھر سر جھٹک کر وہاں سے پلٹتا کمرے میں چلا آیا۔
اطراف میں بکھری مدھم۔۔۔پیلی رنگ روشنی میں اسے مشکل سے ہی سائیڈ ٹیبل پر رکھی شراب کی ادھ بھری بوتل دکھائی دی تھی۔جبھی وہ تیزی سے اسکی جانب لپکا۔
بوتل کھول کر شراب گلاس میں انڈیلتے ہوئے۔۔۔وہ اگلے ہی پل اسے لبوں سے لگانے کو تھا جب کمرے کے سکوت کو چیڑتی پائل کی چھنکار سالار خان کی سماعتوں کو چوکنا کرگئی۔
”رابی۔۔۔۔۔؟؟؟“ قدموں کی حرکت پر وہ چھنکار پھر سے صاف بکھری تھی۔۔۔ جبھی وہ گلاس وہیں دھرتا سرعت سے پلٹا۔
پھر نشے تلے لہو رنگ ہوتی نگاہوں کو جھپکا جھپکا کر سامنے کھڑے اس نازک وجود کو دیکھا۔
مدھم روشنی میں پل بھر کو نظر آنے والی حلیمہ اگلے ہی پل رابی کی مسکراتی صورت اسکی نگاہوں میں سمائی تھی۔
”رابی نہیں۔۔۔۔حلیمہ۔۔۔۔حلیمہ ہوں میں سالار خان۔۔۔۔آپکی بیوی۔۔۔۔۔“ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولتی حلیمہ کا دل اس پل اذیتوں تلے پھڑپھڑا رہا تھا۔
پھڑپھڑاتا بھی کیوں نہ۔۔۔۔
آخرکو اسکا مجازی خدا اسکے مقابل کسی غیرعورت کی محبت میں گھلا جارہا تھا۔۔۔۔
فقط۔۔۔فقط ایک مانوس چھنکار پر کیسے رابی رابی پکار اٹھا تھا۔۔۔
”بیوی۔۔۔۔؟؟“ قدم قدم قریب آتے سالار کو لفظ ”بیوی“ پر خوشگوار حیرت ہوئی۔
”کل ساری رات اسی کی سنگت میں گزار کے آئے تھے ناں آپ۔۔۔۔؟؟؟“ نم خوشمگیں نگاہوں سے اسے تکتی وہ پریقین سی پوچھ رہی تھی۔
آج صبح میں اس کے کپڑے اکھٹے کرتے ہوئے حلیمہ کو اسکے کرتے کی جیب سے باہر گرتی پائل شدت سے اپنی جانب متوجہ کرگئی تھی۔اور پھر معاملے کی طے تک پہنچنے میں اسے صرف ایک پل لگا تھا۔
ڈگمگا کر سنبھلتے سالار کو اسکے سوال پر شدت سے الجھن ہوئی۔
سرخ نگاہوں کا دل بہکاتا فریب ہنوز تھا۔
”پر تمھارے پاس ہی تو آیا تھا۔۔۔۔۔۔پھریہ بلاوجہ کی خفگی کیوں۔۔۔۔؟؟؟ کچھ حیرت سے پوچھتا وہ قدرے نرمی سے اسے کندھوں سے تھام کر اپنے قریب کرگیا۔
اسکے جواب پر دو آنسو ٹوٹ کر حلیمہ کی گال پر پھسلے۔۔۔پر بغاوت کرتا دل۔۔۔اسکے ہاتھوں کی بےباکی پر دھڑک اٹھا تھا۔
”یہ خفگی بھی آپ ہی کی لائی ہوئی ہے خان۔۔۔۔اگر آپ چاہیں تو اسے پلوں میں مٹا سکتے ہیں۔۔۔۔پر حقیقت تو یہ ہے کہ۔۔۔۔مجھے اذیت میں تڑپتا دیکھ کر آپکو جو دلی سکون ملتا ہے۔۔۔آپ اس سے قطعی محروم نہیں ہونا چاہتے۔۔۔۔۔“ اسکے مضبوط سینے پر نرم ہتھلیاں ٹکاتی حلیمہ نے مقابل کے منہ سے آتی شراب کی بُو کو بڑے ظرف سے برداشت کیا تھا۔
”میں۔۔۔میں کیا کروں۔۔۔؟؟؟تمھیں تکلیف دینا نہیں چاہتا پر۔۔۔۔ناچاہتے ہوئے بھی۔۔۔۔۔“ اسکی تکلیف میں دکھی ہوتا وہ بول رہا تھا جب حلیمہ سینے سے اسکے کرتے کو مٹھیوں میں دبوچتی اسکی بات کاٹ گئی۔
”شرعی بیوی ہوں میں آپکی خان۔۔۔۔میرے بھی کچھ حقوق ہیں۔۔۔کچھ ارمان ہیں۔۔۔۔۔آخر کب تک ایک نیچ رقاصہ کے لیے آپ ان سب کا بےدردی سے گلا گھونٹتے رہیں گے۔۔۔۔؟؟؟کب تک میری مخلص محبت کی یوں دھچیاں بکھیرتے رہیں گے آپ۔۔۔۔؟؟؟“ اسکا بمشکل قدموں پر کھڑا وجود بآسانی جھنجھوڑتی حلیمہ بھرائی آواز میں چیخ کر بولی تو۔۔۔رابی کے نہ سمجھ میں آنے والے ان شکوؤں پر۔۔۔سالار خان کی پیشانی پر شکنیں ابھرتی چلی گئیں۔
”ت۔۔تم نیچ نہیں ہو رابی۔۔۔۔خدا قسم تم ن۔۔نیچ نہیں ہو۔۔۔۔پر جو بھی ہو۔۔۔ جیسی بھی ہو۔۔۔۔میری م۔۔۔ محبت۔۔۔محبت ہو۔۔۔۔۔۔“ مزید نشے میں اترتے سالار خان نے بڑی محبت سے اسکا بھیگتا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرا۔
گو کہ سماعتوں میں اترتی اسکی نسوانی آواز بدلی بدلی سی تھی۔۔۔پر مچلتے دل کو شدت سے بھاتے رابی کے حسین نقوش اسے پاگل کرتے۔۔۔بغاوتوں پر اکسارہے تھے۔
”دور رہیں مجھ سے۔۔۔۔رابی رابی رابی۔۔۔۔نہیں ہوں میں وہ۔۔۔سنا آپ نے۔۔۔۔؟؟؟نہیں ہوں میں وہ۔۔۔۔۔“ لفظ ”رابی“ پر اپنا کڑا ضبط کھوتی حلیمہ بے اختیار اسے پرے دھکا دیتی چلائی۔
ایسے میں وہ جو اسکے نقوش پر جھکنے لگا تھا۔۔۔لڑکھڑاتے قدموں پر پیچھے ہوتا گرتے گرتے بچا تھا۔پھر کھڑے ہوتے حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔
ایک پل کو گہرے سانس بھرتے ہوئے اپنی جانب تکتی وہ اسے حلیمہ دکھائی دی۔۔۔تو وہ بے ساختہ سر جھٹک گیا۔
نشیلی نظروں نے اگلے ہی پل پلٹا کھایا تھا۔
وہ۔۔۔وہ رابی تھی۔۔۔۔
ہاں وہ۔۔۔وہی تو تھی۔۔۔
اسکے بےتاب دل میں دھرکتی دھڑکن۔۔۔جو اس پل شدت سے اسے اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔
”اتنا پاس لاکر اب کیوں خود سے دور کررہی ہو مجھے۔۔۔۔؟؟؟ی۔۔یہ ظلم مت کرو۔۔۔۔پہلے ہی س۔۔۔ سہہ چکا ہوں۔۔۔اور بار بار سہہ چکا ہوں۔۔۔۔۔ا۔۔اب۔۔۔اب مزید نہیں۔۔۔۔۔۔۔“ وہ جو برہم سی وہاں سے جانے کو پلٹی تھی۔۔۔معاً سرعت سے آگے بڑھ کے اسے اپنی جانب گھوماتا سالار حلیمہ کو اپنی بانہوں کے مضبوط گھیرے میں لے گیا۔
اس دوران پائل کی چھنکار نے زوروں سے سالار خان کی سماعتوں میں شور مچایا تھا۔
مقابل کی جرات پر بوکھلاتی حلیمہ کا دل پل بھرکو ساکت پڑا تھا۔
”رابی نہیں ہوں میں۔۔۔ہوش میں آئیں اور فرق پہچاننے کے قابل بنیں خان۔۔۔۔۔۔“ اب کی بار ملتجی ہوتے اسکا لہجہ بغیر کسی نشے کے لرزا تھا۔۔۔جب پیچھے ہٹانے کو اسکی نرم ہتھلیوں کا دباؤ اپنے سینے پر محسوس کرتے سالار خان نے ضدی بنتے نفی میں سرہلایا۔
”خدا کے لیے مجھ سے د۔۔۔دور مت جاؤ۔۔۔۔مت جاؤ کہ تمھارے یہ خ۔۔خوبصورت نقوش۔۔۔ت۔۔تمھاری قربت۔۔۔۔او۔۔۔اور پائل کی یہ۔۔۔۔چھنکار مجھے پ۔۔۔پاگل کیے دے رہی ہے۔۔۔۔۔“ اسکی عرق آلود ہوتی پیشانی سے اپنی پیشانی مس کرتا وہ جذباتی ہورہا تھا۔
حلیمہ نے شدتوں سے دھڑکتے دل پر آنکھیں میچ کر کھولیں۔
”جس روز آپ اس رقاصہ کی بجائے فقط حلیمہ کے لیے اپنی یہ تڑپ دکھائیں گے ناں خان۔۔۔اسی پل میں بھی آپکی قربت دل و جان سے قبول کرلوں گی۔۔۔۔پر کسی اور کی دیوانگی میں مچلتا یہ شخص مجھے کس بھی صورت منظور نہیں ہے۔۔۔چھوڑئیے مجھے۔۔۔۔“ خود کو بہکنے سے روکنے کی کوشش کرتی وہ دھیمے لہجے میں بولی۔
”ایک بار ت۔۔تمھارے کہنے پر چھوڑا تھا۔۔۔اور انجام۔۔۔میری سانسوں پر بھاری پڑا تھا۔۔۔۔پر اب کی بار ت۔۔۔تمھاری منمانیوں کے چکر میں۔۔۔میں خود کی سانسوں کو ہلکان کرنے کا۔۔م۔۔ متحمل نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔“
”سالار خان۔۔۔۔۔؟؟“ اپنے شوہر کی قربت میں کمزور پڑتی وہ بے ساختہ اسے تنبیہہ انداز میں ٹوک گئی۔
سالار خان کا دماغ سنسنانے لگا۔تپتی پیشانی ہنوز اسکے ساتھ مس تھی۔
”ابھی کچھ لمحے پہلے۔۔۔ت تم نے خود یہ اعتراف کیا ہے۔۔۔۔ک۔۔۔ کہ بیوی ہو تم میری۔۔۔۔۔تو پھر یہ ڈر خوف کیسا۔۔۔۔۔؟؟“ شاید وہ اپنی گرفت میں اسکے لرزتے وجود کا ڈر بھانپ گیا تھا۔۔۔جبھی نحیف سی چوٹ کرگیا۔
اسکے دیدہ دلیری سے بیوی پکارنے پر اب کہ حلیمہ کی ہمت بھی جواب دینے لگی تھی۔
محرم کے مقابل دل بہکنے لگا تھا۔
”آپ کے مکر جانے کا۔۔۔۔۔ایک ایک بات۔۔۔ایک ایک لمحے سے پھر جانے کا۔۔۔۔۔“ مزاحمتوں سے مکمل ہاتھ روکتی وہ اپنا حقیقی ڈر اس پر ظاہر کرگئی تھی۔
”محبتوں میں قربان ہوجانا۔۔۔میری فطرت ضرور ہے۔۔۔۔پ۔۔۔پر محبتوں سے مکرجانا سالار خان کی۔۔۔س۔۔سرشت میں شامل نہیں ہے۔۔۔۔۔“ بند کھلتی آنکھوں سے اسے یقین دہانی کرواتا وہ اگلے ہی پل چہرہ اوپر اٹھاتے ہوئے اسکی پیشانی پر اپنا سلگتا نرم لمس چھوڑ گیا۔۔۔تو حلیمہ بے اختیار اسکے کرتے کو نرمی سے مٹھیوں میں بھینچتے ہوئے۔۔۔ بہتے آنسوؤں میں مسکرائی۔
”وعدہ۔۔۔۔۔؟؟؟“ مدھم پیلی روشنی میں لرزتے پنکھری لب شدت سے پھڑپھڑائے تھے۔
”وعدہ میری متاع جان۔۔۔۔۔۔و۔۔وعدہ۔۔۔۔۔۔“ لبوں سے پھوٹتی سرگوشی نما آواز پر جہاں اگلے ہی پل دو بےتاب دل ایک دوسرے کی خاطرمحبتوں میں جھکتے چلے گئے تھے۔۔۔وہیں سرد رات کا تیسرا پہر بھی ان تاریک وحشتوں میں دھیرے دھیرے سرکنے لگا۔۔۔۔
”توبہ توبہ ۔۔۔ایک نا محرم مرد کے ہمراہ دو عدد راتیں باہر گزار آنے کے بعد۔۔۔اب یہ کس منہ سے یہاں واپس لوٹی ہے۔۔۔۔؟؟؟“ اس سمے وہ تن تنہا پلنگ پر ٹانگیں سمیٹ کر بیٹھی تھی۔۔۔جب سماعتوں سے انگارے کی مانند ٹکراتا گہرا طنز۔۔۔اسے گزشتہ شب کی وحشتوں سے۔۔شدت سے آشنا کرتا چلا گیا۔
”بڑی بہن تو بدنامی کے ابتدائی مراحل طے کرتی اس دنیا سے چل بسی تھی۔۔۔اور اب چھوٹی بہن کو دیکھو ذرا۔۔۔ اسی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس بدنامی کی انتہاء کو پہنچ گئی ہے۔۔۔شاید یہی وجہ ہے جو اکثر مرد بیٹیوں کی پیدائش پر ماتم کناں ہوکر رہ جاتے ہیں۔۔۔۔۔“ گھر آئی محلے کی عورتوں میں سے ایک کا۔۔۔روح کو گھائل کرتا ایک اورحقارت بھرا طنز۔۔۔
ایسے میں مسیحا بن کر اسے آفتوں سے بچانے والا تو۔۔۔ چند اپنائیت بھرے جملوں کا تبادلہ کرتا کب کا اسے چھوڑ کر وہاں سے جا چکا تھا۔
کمرے کی چاردیواری میں بسے گہرے سکوت کو شدت سے محسوس کرتی حاویہ نے سوجھے پپوٹوں سے گال پر لڑھکتے آنسوؤں کو بےدردی سے رگڑا تھا۔
”بسسس کرو۔۔۔۔خدا کے لیے بس کردو اب۔۔۔۔۔پاک دامن ہے میری بچی۔۔۔۔ہر لحاظ سے بے داغ ہے وہ۔۔۔۔۔اور یہ صرف تم لوگوں کی گھٹیا ذہنیت ہے جس کا زہر تم سب میری بےگناہ بچی کے خلاف اپنی اپنی زبانوں سے اگل رہے ہو۔۔۔۔۔“ اسے سینے سے لگاتے ہوئے چیخ کر بولتی نفیسہ بیگم کی آواز میں صاف تلخی تھی۔۔دکھ تھا۔
ایسے میں اس نے بھیگی بھوری نگاہیں اٹھاکر سامنے کھڑے اُن گنے چنے مخالف لوگوں کا مجمع دیکھا تھا۔۔جب انہی میں شامل اپنی دل عزیز دوست نیناں کو دیکھ کر مزید بجھ سی گئی۔
ہاں۔۔۔ہاں صاف تماشہ دیکھتی وہ وہی تھی۔۔۔جو حرمین زہرا کی بدنامی کے بعد سے دوستی کے گہرے ناطے کو ہرلحاظ فراموش کر چکی تھی۔۔۔یا شاید اس سے زبردستی فراموش کروایا گیا تھا۔
حاویہ نے ادھ کھلی کھڑکی سے چھن کرکے اندر آتی گہری دھوپ کو دھندلائی نگاہوں سے تکتے بے اختیار اپنی سسکی روکی۔
”چلو مان بھی لیا کہ تمھاری بچی پاک دامن ہے۔۔۔پر کہلائے گی تو پھربھی اغواء شدہ ہی ناں۔۔۔دیکھو بی بی تمھاری بڑی بیٹی کی کرتوتوں پر ہم بڑے ظرف سے خاموشی اختیار کرگئے تھے۔۔۔پر اب مزید نہیں۔۔۔
یہ ہمارا عزت دار محلہ ہے۔۔۔اور یہاں صرف شریف لوگوں کے لیے ہی جگہ بنتی ہے۔۔۔کسی بدنام ذات کے لیے نہیں۔۔۔۔ویسے تو اس موجودہ حالت میں کوئی بھی شریف زادہ تمھاری بیٹی سے نکاح کرنے کو رضامند نہیں ہوگا پر پھر بھی۔۔۔۔۔ یا تو تم اسے کسی کے ساتھ بھی نکاح کرواکے کے یہاں سے چلتا کرو۔۔۔ورنہ خود کا بھی ساتھ ہی بندوبست کرلو۔۔۔اب فیصلہ اور انتخاب تمھارا خود کا ہے۔۔۔۔۔“ بظاہر بڑی عمر کے شفاف رنگت رکھنے والے وہ بزرگ آدمی دل کے کس قدر سیاہ نکلے تھے ناں۔۔۔
پر آج۔۔۔آج کا دن تو اسکی بےبس ذات کے لیے اس سے بھی ذیادہ سیاہ نکل آیا تھا۔۔۔
اگلے ہی پل سماعتوں میں زہر کی طرح گھلتے نفیسہ بیگم کے الفاظ حاویہ کو سسکنے پر مجبور کرتے چلے گئے۔
”ع۔۔عائل بیٹا۔۔۔۔تم جانتے ہو میری حاویہ پاک دامن ہے۔۔۔۔بے گناہ ہے۔۔بے قصور ہے وہ۔۔۔۔
ت۔۔تو کیا تم میری معصوم بچی سے نکاح کرو گے۔۔۔۔؟؟؟
میں جانتی ہوں کہ تم اسے بےپناہ چاہتے ہو۔۔اور دل سے چاہتے ہو۔۔۔۔
تو کیا اسکو عمر بھر کے لیے خود کے نام سے م۔۔منسلک کرکے اس پر لگے ہر الزام کو غلط ثابت کرو گے۔۔۔۔؟؟؟“ کچھ دیر پہلے گھر بلائے عائل حسن کے سامنے ہاتھ جوڑ کر۔۔۔کی جانے والی نفیسہ بیگم کی بھیگتی درخواست۔۔۔حاویہ کو حقیقتاً اذیت اور شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل گئی تھی۔
جواباً وہ سرعت سے آگے بڑھ کر ان کے جڑے ہاتھ تھام چکا تھا۔
اور پھر فقط ایک پل۔۔۔ایک پل کی خاموشی کے بعد وہ بڑے دھیمے سے نرم لہجے میں ہامی بھرتا نفیسہ بیگم کو کھل کر مسکرانے پر مجبور کرگیا۔
”مجھے منظور ہے آنٹی۔۔۔میں۔۔۔اے۔ایس۔پی عائل حسن۔۔۔آپکی بیٹی حاویہ فیضان سے نکاح کرنے کے لیے دل و جان سے تیار ہوں۔۔۔۔۔“
آس پاس بکھرتے اسکے میٹھا لہجے پر۔۔دھیرے سے نفی میں سر ہلاتی حاویہ بے اختیار کانوں پر ہاتھ رکھ گئی۔
”پر میں یہ نکاح کسی بھی صورت نہیں کروں گی۔۔۔سنا آپ نے۔۔۔؟؟میری بہن کے قاتل کا بھائی ہے وہ۔۔۔۔خدا کا واسطہ ہے آپ مجھ سے اتنی بڑی توقعات مت لگائیں جسے نبھانے کے قابل میں بالکل بھی نہیں ہوں۔۔۔۔۔؟؟؟“ چیخ کر بولتی وہ اپنے جذباتی رویے پر نفیسہ بیگم سمیت کمرے کے باہر کھڑے عائل کو بھی چند لمحوں کے لیے حیران کرگئی تھی۔
”تمھیں میرے سر کی قسم حاویہ۔۔۔تم یہ نکاح کرو گی اور ہر صورت کرو گی۔۔۔اگر جو تم نے میرے فیصلے کے خلاف جاکر اپنی منمانی کی تو یقین کرو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گی تم۔۔۔یاد رکھنا۔۔۔میں پہلے ہی بہت صدمے سہہ چکی ہوں۔۔۔اب مزید سہنے کا حوصلہ باقی نہیں ہے مجھ میں۔۔۔۔۔“ وہ جو اسکے لیے نکاح کا سرخ جوڑا لے کر آئیں تھیں۔۔۔ زبردستی اپنے سر پر اسکا لرزتا ہاتھ رکھواتی۔۔۔اسے حقیقتاً بےبس ہی تو کرگئی تھیں۔
”آپ کی دور اندیشیاں میری سمجھ سے بہت پرے ہیں ماں۔۔۔۔اتنی بڑی قسم دے کر آپ نے اپنی حاویہ کے ساتھ بالکل بھی اچھا نہیں کیا۔۔۔۔بالکل بھی۔۔ا۔۔چھا۔۔۔نہیں۔۔کیااا۔۔۔۔“ ایک ایک کرکے اب تک کی تمام سلگتی یادوں سے نبردآزما ہوتی حاویہ اگلے ہی پل شدتِ بےبسی سے گھٹنوں پر اپنی پیشانی ٹکا گئی تھی۔
معاً عائل حسن خاموشی سے کمرے میں داخل ہوا تو وہ توقع کے عین مطابق گھٹنوں میں سر دئیے رونے میں مصروف تھی۔
”تیار کیوں نہیں ہوئی ابھی تک۔۔۔؟؟؟“ وہ سخت تیور لیے قدم قدم چلتا اُس تک پہنچا اور اُسکے بکھرے سراپے کو نظروں میں بھرتے ہوئے۔۔۔سر پر کھڑا بازپرس کرنے لگا۔
حاویہ ایک پل کو اپنے قریب سے آتی مانوس مگر سخت آواز پر چونکی ضرور تھی۔۔۔مگر ہنوز اُسی پوزیشن میں ڈھیٹ بنی بیٹھی رہی۔
”میں تم سے مخاطب ہوں۔۔۔۔“ اُسکی خاموشی پر چبا چبا کر بولتے ہوئے اُسنے اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا۔
”جہاں ماتم کی صفیں بچھی ہوں وہاں کس خوشی کی تمناء کررہے ہیں آپ صاحب۔۔۔۔؟؟؟ گھٹنوں سے ہلکا سا سر اٹھاکر سامنے پڑے نکاح کے سرخ جوڑے کو تنفر سے دیکھتی ہوئی وہ طنزیہ انداز میں غرائی۔۔۔تو عائل لب بھینچ کر رہ گیا۔
حاویہ نے اُسکی طرف دیکھا ابھی بھی نہیں تھا۔۔۔جیسے ڈر ہو کہ اگر دیکھے گی تو سارا ضبط کھو بیٹھے گی۔
”فضول کی بکواس نہیں کرو میرے ساتھ۔۔۔چلو شاباش اٹھو اور دس منٹ کے اندر اندر ریڈی ہوکر کمرے سے باہر نکلو۔۔۔اتنا فالتو وقت نہیں ہے ابھی میرے پاس جو تمھارے بےجا نخرے اٹھاتا پھروں۔۔۔۔ہری اپ۔۔۔“ اُسکے لب و لہجے اور گریز کو بمشکل نظرانداز کرتا ہوا وہ قدرے بےزاری سے گویا ہوا۔
سر تا پیر آگ ہی تو لگا دی تھی عائل کی باتوں نے اُسے۔۔۔
دوسرے ہی پل دونوں کی نظروں کا زبردست تصادم ہوا۔۔۔تو ناچاہتے ہوئے بھی وہ اُسکی بھیگی مگر بےخوف آنکھوں میں دیکھتا ہوا اپنے دل کی ایک بیٹ مس کرگیا۔
”مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے آپ سے اپنے نخرے اٹھوانے کا۔۔۔آپ بھی کسی خوش فہمی میں مت رہیے گا۔۔۔نہیں ہونا مجھے تیار۔۔۔اور نہ ہی آپ سے کوئی رشتہ جوڑنا ہے۔۔۔دفع ہوجائیں میری نظروں کے سامنے سے۔۔۔“ سلگ کر چیختے ہوئے وہ اپنے سامنے رکھے سرخ جوڑے پر جھپٹی۔۔۔۔اور ایک ہی وار میں اُسے بے دردی سے دور اچھال دیا۔
اُسکی ڈھٹائی اور کھلی بدتمیزی کا نظارہ کرتے ہوئے۔۔۔تب سے ضبط کرتے عائل کی چمکتی پیشانی پر صاف رگیں ابھر آئیں۔
اگلے ہی پل اُسکی مومی کلائی کو سختی سے جکڑتا ہوا وہ جھٹکے میں اُسے اپنے مقابل کھڑا کرگیا۔۔۔تو اس اچانک افتاد پر اپنی چیخ روکنے کی کوشش کرتی حاویہ لبوں کو سختی سے دانتوں تلے دبا گئی۔
شدتوں سے دھڑکتا دل ایکدم ہی خوف سے پھڑپھڑایا تھا۔
عائل کی سیاہ آنکھوں میں ہلکورے لیتی سرخی اُسکے شدید غصے کا پتا دے رہی تھی۔
”اگر نہیں چاہتی کہ تمھاری ماں صدمے سے کل کی مرتی آج ہی مر جائے۔۔۔تو چپ چاپ وہی کرو جو تم سے کرنے کو بولا جارہا ہے۔۔۔
اور سب سے مین بات۔۔۔آئندہ پھر کبھی میرے سامنے ایسی بدتمیزی کا مظاہرہ کیا تو مجھ سے کسی بھی نرمی کی امید مت رکھنا۔۔۔۔گیٹ اٹ۔۔۔“ اُسکی پھٹی پھٹی آنکھوں میں شدت سے دیکھتا ہوا وہ ناپسندیدگی کی کاٹ لیے پھنکارا تھا۔۔۔اور پھر اپنی بات مکمل کرتے ہی اُس کو واپس بیڈ پر پٹختا ہوا تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
پیچھے حاویہ گرنے کے سے انداز میں لیٹتی اپنی بےبسی پر شدت سے رودی تھی۔
خود کی ذات کی بابت سارے فیصلے۔۔۔سارے اختیارات اسکے ہاتھوں سے چھوٹتے چلے گئے تھے۔
پیچھے بچے تھے تو محض بھیگی پلکوں سے ٹوٹ کر بےمول ہوتے وہ شفاف آنسو۔۔۔۔جنھیں وہ نکاح کے فوری بعد رخصتی کا سوچتی ہوئی اس پل بہا رہی تھی اور شدت سے بہائے چلی جا رہی تھی۔۔۔۔
جبکہ اسکی تلملاتی کیفیات سے قدرے سے انجان۔۔۔مولوی اور گواہان کمرے سے باہر اسکے شدت سے منتظر تھے۔۔۔
اس نے بڑی دقت سے اپنی بھاری پلکوں کو جنبش دیتے ہوئے وا کیا تھا۔
بھاری ہوتا سر اس وقت درد کی لہروں سے آشنا ہوتا ہوا۔۔۔اسکے مضبوط وجود کو لیٹے سے۔۔اٹھ کر بیٹھنے پر مجبور کرگیا۔
”آاا۔۔ہ۔۔۔۔ہ۔۔۔۔“ بے اختیار کنپٹیوں کو تھام کر سر جھٹکتے ہوئے اس نے پلکیں جھپکا جھپکا کر اطراف میں دیکھا۔
اس وقت اسکے سوا کمرے میں کوئی بھی موجودنہیں تھا۔
ایسے میں بند کھڑکی کے شیشوں سے دکھائی دیتی سنہری فضا۔۔۔دن چڑھ آنے کا صاف پتا دے رہی تھی۔
اگلے ہی پل غائب دماغی سے چادر ہٹا کر وہ پلنگ سے نیچے اترنے کو تھا۔۔۔جب نگاہیں سائیڈ ٹیبل پر پڑی شراب کی ادھ بھری بوتل سے ٹکراتی ٹھٹک گئیں۔
”شراب۔۔۔۔۔؟؟“ معاً اسے یاد آیا تھا کہ گزشتہ شب وہ بالکنی میں کھڑے کھڑے ہی آدھی بوتل خالی کرچکا تھا۔
اور پھر۔۔۔۔
”یہ خفگی بھی آپ ہی کی لائی ہوئی ہے خان۔۔۔۔اگر آپ چاہیں تو اسے پلوں میں مٹا سکتے ہیں۔۔۔۔پر حقیقت تو یہ ہے کہ۔۔۔۔مجھے اذیت میں تڑپتا دیکھ کر آپکو جو دلی سکون ملتا ہے۔۔۔آپ اس سے قطعی محروم نہیں ہونا چاہتے۔۔۔۔۔“ بے ساختہ جاگتے ذہن نے مزید آگے کا سوچ کر اسے بری طرح چونکایا۔
اسکے مضبوط سینے پر نرم ہتھلیاں ٹکاتی حلیمہ نے کتنی بے دھڑک ہوکر اس سے شکوہ کیا تھا۔
قدرے حیرت سے کھڑا ہوتا وہ مزید گہرائی میں سوچنے پر مجبور ہوا تھا۔
”شرعی بیوی ہوں میں آپکی خان۔۔۔۔میرے بھی کچھ حقوق ہیں۔۔۔کچھ ارمان ہیں۔۔۔۔۔آخر کب تک ایک نیچ رقاصہ کے لیے آپ ان سب کا بےدردی سے گلا گھونٹتے رہیں گے۔۔۔۔؟؟؟کب تک میری مخلص محبت کی یوں دھچیاں بکھیرتے رہیں گے آپ۔۔۔۔؟؟؟“ اسے جھنجھوڑ کر پوچھتی وہ کیسے چیخ چیخ اپنا زہر اگل رہی تھی۔
سالار خان کی پیشانی پر صاف شکنیں ابھرتی چلی گئیں۔
گزشتہ شب چاہ کر بھی دکھائی نہ دینے والی حقیقت اب کہ اس کی یاداشت میں وقفے وقفے سے تازہ ہورہی تھی۔۔۔۔پر آدھی ادھوری۔۔۔۔
اگلے ہی پل۔۔چل کر آئینے کے سامنے آتے ہوئے اسے خود کا بے قرار ہونا شدت سے یاد آیا۔
”اتنا پاس لاکر اب کیوں خود سے دور کررہی ہو مجھے۔۔۔۔؟؟؟ی۔۔یہ ظلم مت کرو۔۔۔۔پہلے ہی س۔۔۔ سہہ چکا ہوں۔۔۔اور بار بار سہہ چکا ہوں۔۔۔۔۔ا۔۔اب۔۔۔اب مزید نہیں۔۔۔۔۔۔۔“
اففف۔۔۔اففف۔۔۔اففف۔۔۔۔اسے اپنی سخت گرفت میں لیتا وہ۔۔۔وہ نشے میں خود بھی تو بہک گیا تھا۔
اشتعال تلے سرخ پڑتی نگاہوں سے شفاف آئینے میں اپنی ہار دیکھتے سالار خان نے ڈریسنگ ٹیبل پر شدت سے مکا مارا۔
معاً رابی کا حسین مکھڑا اسکی آنکھوں میں سماتا۔۔۔اسکا دل بری طرح دھڑکا چکا تھا۔
”رابی۔۔۔؟؟کہتے ہیں محبوب کی صرف۔۔۔پاس موجودگی ہی ایک بےقرار دل کو سکون دینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔۔۔۔
اور میں حالات سے تھکا ہارا اب وہیں سکون لینے کی خاطر تمھارے پاس آیا ہوں۔۔۔۔“ مدھم لہجے میں بول کر اسکی گود میں اپنا سر رکھتے ہوئے اس وقت کس قدر سکون ملا تھا اسے۔۔۔
پر اب۔۔۔اب وہ سکون۔۔۔وہ قرار اس سے چِھن چکا تھا۔۔۔
سالار خان کا دماغ سنسنانے لگا۔
چِھن چکا تھا یاں۔۔۔پھر جانتے بوجھتے چھینا گیا تھا۔۔۔؟؟
ڈریسنگ ٹیبل پر ذرا سا جھک کر آنکھیں میچتے اسکی اذیت بڑھی۔
دماغ کی نسیں درد کرتیں اسے مزید سوچنے سے روک رہی تھیں۔۔۔جب
واشروم کا دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوتی حلیمہ نے چونک کر اسکی پشت دیکھی۔پھر شدت سے دھڑکتے دل کے ساتھ ہولے سے مسکراتی ہوئی۔۔۔اسکی طرف بڑھی۔
اس دوران کچھ شوق سے پیر میں پہنی پائل واضح چھنکار کرتے ہوئے سالار خان کو۔۔۔جھٹکے سے اپنی طرف پلٹنے پر مجبور کرگئی۔
یہی چھنکار سن کر تو وہ ان پلوں میں پاگل ہوا تھا۔
نم بالوں کو ہنوز کندھوں پر بکھیرے۔۔۔حلیمہ ٹھٹک کر وہیں رک گئی۔
”خان آپ۔۔۔ک۔۔۔کب جاگے۔۔۔۔؟؟؟ اسے یوں اپنی جانب بغور تکتا پاکر۔۔۔حیا تلے نم پلکیں جھکاتی وہ کچھ ہکلا کر بولی۔۔۔
پر مقابل تو اسکے نکھرے نکھرے روپ کو سرے سے نظرانداز کرتا۔۔۔فقط اسکی پائل کو ساکت نظروں سے گھور رہا تھا۔
شاید۔۔۔شاید اسے خود کے بہکنے کی شروعاتی وجہ مل چکی تھی۔
”کل رات۔۔۔جب میں نشے میں دھت تھا۔۔۔۔تو یہی پائل پہن کر تم میرے پاس آئی تھی ناں۔۔۔؟؟“ سختی سے مٹھیاں بھینچ کر اسکے قریب آتا وہ بڑے ضبط سے پوچھ رہا تھا۔لہجہ دھیما مگر سرسراتا ہوا تھا۔
جواباً پلکیں اٹھا کر اسکی جانب دیکھتی وہ۔۔۔بدقسمتی سے اپنی فطری حیا میں گھلتی اسکے انداز نہیں سمجھ پائی تھی۔
”ایسا ہی ہے خان۔۔۔۔جانے کیوں ؟؟پر میں یہ پائل چاہتے ہوئے بھی خود سے الگ نہیں کرپائی۔۔۔یقین تو تھا۔۔۔مگرسوچا نہیں تھا کہ ہمارے مابین سب فاصلے اتنی جلدی مٹ جائیں گے۔۔۔اتنی مسافتیں طے کرنے بعد اب اپنی منزل پاکر میں بہت خوش ہوں۔۔۔بہت سے بھی ذیادہ۔۔۔۔۔“ شرمیلی مسکراہٹ کو لبوں پر بکھیرتی وہ گویا اسکے سامنے انجانے میں اعترافِ جرم ہی تو کرگئی تھی۔
مگر اگلے ہی پل سارا ضبط کھوتے سالار خان کا بھاری ہاتھ اٹھا تھا۔۔۔ اور اسکے نازک گال پر پوری شدت سے اپنی چھاپ چھوڑتا اسے زمین بوس کرگیا۔
”تڑاااخ۔۔۔۔۔“ کمرے میں گونجتی تیز آواز نے وہاں آتی خنساء بیگم کو بھی اس ناقابل یقین منظر پر اپنی جگہ ساکت کیا تھا۔
سن ہوتے رخسار پر ہاتھ جماتی حلیمہ نے پلٹ کر پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنی ہی جانب غصے سے تکتے سالار خان کو دیکھا۔
آنکھیں پل میں بھر آئی تھیں۔
”میری با مقصد محبت کی راہ میں تم فقط ایک بے مقصد سی رکاوٹ ہو جسے پیروں تلے روند کر آگے نکل جانا اب میری شدید ترین خواہش بن چکی ہے حلیمہ خان۔۔۔گزشتہ رات مجھے بہکا کر تم اپنا حق تو وصول کر چکی ہو۔۔۔پر یاد رکھنا۔۔۔رابی کی جگہ مرکر بھی نہیں لےسکو گی۔۔۔یہاں۔۔یہاں اس دل میں بستی ہو وہ میرے۔۔۔۔۔“ دہلیز پر جم کے کھڑی خنساء بیگم کی موجودگی سے ہنوز انجان۔۔۔وہ بازو سے دبوچ کر اس پر جھکتا سفاکی سے پھنکارا۔
اسے اپنے سارے مان بھرم۔۔۔خوشیاں۔۔۔اور عزتِ نفس کی پلوں میں دھچیاں بکھیرتا دیکھ وہ نازکِ جان سسک ہی تو پڑھی تھی۔
”محبتوں میں قربان ہوجانا۔۔۔میری فطرت ضرور ہے۔۔۔۔پ۔۔۔پر محبتوں سے مکرجانا سالار خان کی۔۔۔س۔۔سرشت میں شامل نہیں ہے۔۔۔۔۔“
اس نے کہا تھا کہ وہ مکرے گا نہیں۔۔۔۔مگر اب وہ مکر گیا تھا۔۔۔۔ہاں وہ سر تا پیر مکرتا اسکی محبتوں کو حقیقتاً کھوکھلا ہی تو کر گیا تھا۔
”سالار خان۔۔۔دور ہٹو ہماری بچی سے۔۔۔۔“ ہوش میں آتی خنساء بیگم تڑخ کر بولتی جلدی سے انکے قریب آئی تھیں اور سالار کو جھٹکے سے حلیمہ سے پرے دھکیلا۔
”ا۔۔اماں حضور۔۔۔۔۔۔؟؟“ انھیں۔۔روتی ہوئی حلیمہ کو سہارا دے کر اپنے ساتھ کھڑا کرتے دیکھ سالار خان منہ پر ہاتھ پھیرتا ناچاہتے ہوئے بھی کچھ شرمندہ ہوا تھا۔اسے قطعی معلوم نہیں تھا کہ وہ صبح سویرے ہی حویلی آچکی ہے۔۔۔
”آج تم نے حلیمہ پر نہیں۔۔۔بلکہ سیدھا ہماری تربیت پر ہاتھ اٹھایا ہے۔۔۔صد افسوس کہ قابل ہوکر بھی۔۔۔تم اسکے قابل نہیں ہوسکے۔۔۔۔دور رہنا اب تم اس سے۔۔۔۔سنا تم نے۔۔۔۔؟؟؟چلو حلیمہ۔۔۔۔“ دبیز قالین کو گھور کر ہچکیاں بھرتی حلیمہ کے سر پر ہاتھ پھیرتی۔۔۔وہ کاٹ دار لہجے میں بولیں۔۔۔پھر جلتے دل کے ساتھ اسے لے کر وہاں سے پلٹ گئیں۔
سالار نے سختی سے لب بھینچ کر ایک نگاہ خنساء بیگم کے ہمراہ جاتی حلیمہ پر ڈال کر پھیر لی۔
سفاکی ہنوز تھی۔۔۔پر کہنے کو ایک لفظ بھی نہیں تھا۔
جان نکالتے اندیشے۔۔جنھیں حلیمہ اب تک جھٹلا چکی تھی اب بدترین حقیقت بن کر زہر کی مانند اسکے اندر اتر رہے تھے۔
معاً جلتے گال کے ساتھ۔۔۔کمرے کی دہلیز پھلانگتی وہ ایک جھٹکے سے سالار خان کی جانب پلٹی تو جواباً اس نے بھی سرد نظروں اسے دیکھا۔
”میری یہ بات اچھے سے ذہن نشین کرلیجیے گا خان۔۔۔اس ایک تھپڑ کے بعد۔۔۔اب آپکی محبت میں دم بھر کر۔۔۔میں اپنی محبت کی مزید توہین نہیں ہونے دوں گی۔۔۔“ شہادت کی انگلی اٹھا کر سسکتے لہجے میں بولتی وہ مقابل کا سفاک دل پل بھرکےلیے شدتوں سے دھڑکاگئی تھی۔
اگلے ہی پل وہ خنساء بیگم کو بھی وہیں چھوڑتی اپنے سابقہ کمرے کی طرف بھاگتی چلی گئی۔۔۔۔۔۔تو جہاں خنساء بیگم بھی سالار خان کو ملامت کرتی نگاہوں سے گھور وہاں سے چلی گئی تھیں۔۔۔وہیں وہ عجیب سی بے چینی میں گھرتا بےاختیار مٹھی میں اپنے بال جکڑ گیا۔۔۔۔۔
”یہ عشق تم نہ کرنا
یہ روگ ہی لگائے
دفن خود کرے ہے
پھر سوگ بھی منائے
عاشقوں کے دل میں
یہ آس بھی لگائے
پھر آس کو بجھا کے
یہ آگ بھی لگائے۔۔۔۔“
اس وقت وہ واشروم کی دیوار سے ٹیک لگائے۔۔۔سگریٹ پھونکتا ہوا۔۔۔قدرے بےدلی سے سامنے لگے آئینے میں اپنا پھیکا عکس بغور دیکھ رہا تھا۔
فائنل ایگزامز اسٹارٹ ہوچکے تھے۔۔۔جس کے لیے اس نے گزشتہ شب کچھ دیر جاگ کر پڑھائی بھی کی تھی۔۔۔
ایسے میں آج کے دن یونی کی زمین پر دوبارہ چلتے پھرتے۔۔اسکی بےلگام بھوری نگاہوں نے جانے کتنی ہی بار ان راستوں کو بے ارادہ ہی ٹٹولا تھا۔۔۔جہاں کبھی وہ حرمین زہرا کے ہمقدم ہوکر گزرا تھا۔۔۔پر اسکے نازک وجود سے محروم اس پوری عمارت نے۔۔۔اسکے ذہن کو بےمعنی وحشتوں کو اس دوران تلے دبائے رکھا تھا۔
سر دیوار سے ٹکا کر گہرا کش بھرتے شام نے بے اختیار اپنی آنکھیں میچتے۔۔۔لمحے بعد لبوں سے گہرا دھواں باہر کو چھوڑا۔
آج افروز بھی اسے وہاں پر دکھائی دیا تھا۔۔۔جو اسے دیکھ کر اپنا منہ نفرت سے موڑ گیا تھا۔
ہاں البتہ۔۔۔محو گفتگو ہوتے فواد کے تیور ٹھیک تھے اس کے ساتھ۔۔۔۔
ہنوز آنکھیں بند کیے وہ ایک اور گہرا کش لگاتا مزید سوچنا چاہ رہا تھا۔۔۔پر اگلے ہی پل سماعتوں میں اترتی ہوئی صاف نسوانی آواز نے اسے بری طرح ٹھٹک کر نگاہیں کھولتے ہوئے۔۔۔سامنے دیکھنے پر مجبور کیا تھا۔
”م۔۔۔میری سانسیں۔۔۔۔میری سانسیں ختم ہورہی ہیں۔۔۔۔
م۔۔میں مر رہی ہوں۔۔۔پل پل مرررر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔“ گردن پر دونوں ہاتھ جماکر سسکتی یقیناً وہ اسے پلوں میں خود سے خوفزدہ ہونے پر مجبور کرگئی تھی۔
”حر۔۔حرمین۔۔۔۔؟؟“ شفاف آئینے میں خود کے عکس کی بجائے۔۔۔اسکے بکھرے وجود کو آنکھیں پھاڑ کردیکھتے ہوئے اسکے سلگتے لب شدت سے پھڑپھڑائے۔
اس دوران ادھ جلے سگریٹ کا شام کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گرنا بے ساختہ تھا۔
”و۔۔وہ دیکھو۔۔۔۔وہ وہاں۔۔۔۔سب دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔سب دیکھ رہے ہیں میری طرف۔۔۔۔خدا کے لیے انکی غلیظ نگاہیں مجھ پر سے ہٹاؤ۔۔۔۔ انھیں کہو میری طرف مت دیکھیں۔۔۔م۔۔میری نازیبا حالت بالکل بھی دیکھنے کے قابل نہیں ہے۔۔۔۔۔“ اب کہ اپنے بکھرے بال نوچتی وہ شدت سے چیخ رہی تھی۔
بنا پلکیں جھپکائے۔۔۔ہنوز اسے تکتے شام کی پیشانی پر صاف پسینہ پھوٹ پڑا۔
آیا یہ اسکا وہم تھا۔۔۔۔؟؟
خیال تھا۔۔۔؟؟
جاگتی نگاہوں سے دِکھتا ایک بدترین خواب۔۔۔؟؟
یا۔۔۔یا پھر ذہنی فتور؟؟جو وہ بنا کسی نشے کے۔۔۔اس پل اسے اپنے مقابل صاف دکھائی دے رہی تھی۔
بری طرح گھبراتا وہ چاہ کر ان میں سے کسی بھی ایک نتیجے پر پہنچ نہیں پایا تھا۔
”م۔۔مگر میرے سوا ک۔۔کوئی بھی تمھیں نہیں دیکھ رہا۔۔۔او۔۔۔اورتمھاری حالت بھی۔۔۔د۔۔دیکھنے لائق ہے۔۔۔۔میرا یقین کرو۔۔۔۔“ ناجانے کیسے وہ جرات کرتا دھیمے۔۔۔نرم لہجے میں اسے ہکلاکر دلاسہ دے گیا تھا۔
اسکی بات سنتی حرمین زہرا کے سسکتے نقوش اچانک سپاٹ ہوئے تھے۔
سرد ترین۔۔۔
”یقین۔۔۔۔؟؟؟تمھارا یقین۔۔۔۔؟؟؟کیا تھا ناں۔۔۔۔اندھا دھند یقین کیا تھا تم پر۔۔۔۔پر بدلے میں تم نے کیا کیا۔۔۔۔۔؟؟؟“ انگارہ نم نگاہیں اسکی جانب اٹھاتی وہ گویا پھنکاری۔
شام نے قابو سے باہر ہوتے دل پر ہاتھ رکھا تھا۔
”صرف ایک تھپڑ کی جلن نے تمھیں اس حد تک گرا دیا شاہ میر حسن کہ تم نے میری عزت سمیت میری روح تک کی دھچیاں بکھیر دیں۔۔۔۔کسی قابل نہیں چھوڑا تم نے مجھے۔۔ہر۔۔ہر لحاظ سے تباہ کردیا میری ذات کو۔۔۔۔۔“ وہ بڑی تندہی سے اسکی جانب انگلی اٹھاکر۔۔۔سماعتوں میں زہر گھول رہی تھی جب شام۔۔۔شدت سےنفی میں سر ہلاتا بے اختیار ایک قدم آگے کو ہوا۔
”میرا یقین کرو حرمین۔۔۔۔میں۔۔میں نے یہ سب کچھ جان بوجھ کر نہیں کیا تھا۔۔۔۔خدا قسم میں ایسا دل سے نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
ہ۔۔ہاں یہ مانتا ہوں کہ۔۔۔میں تمھیں پل پل تڑپتا۔۔۔سسکتا ہوا ضرور دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔پر تمھاری خود کشی۔۔۔وہ نہیں۔۔۔۔“ وحشتوں تلے وضاحت دیتے اسکا تنفس بگڑرہا تھا جب آخر میں نم آنکھوں سمیت وہ دھیرے سے نفی میں سر ہلاگیا۔
معاً واشروم کا ادھ کھلا دروازہ پورا کھول کر اندر آتی عائمہ بیگم نے شام کو بوکھلاکر اپنی جانب دیکھنے پر مجبور کردیا تھا۔
”شام۔۔۔۔؟؟؟یہ تم اکیلے میں کس سے کیا باتیں کیے جا رہے ہو بیٹا۔۔۔۔؟؟؟تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناں۔۔۔۔؟؟؟“ اندر آتے ہوئے وہ کچھ خاص سن تو نہیں پائی تھیں۔۔۔البتہ اس کے سرخ چہرے کو کچھ حیرت سے گھورتی بے اختیار فکرمند ہوئیں۔
جواباً شام نے سرعت سے واپس آئینے کی جانب دیکھا۔۔۔جہاں اب صرف اسکا خود کا حیرت زدہ عکس صاف دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
”حرمین زہرا۔۔۔۔۔؟؟“ اسکے لب بے آواز پھڑپھڑائے۔
وہ اب کہیں بھی نہیں تھی۔
تو کیا وہ پاگل ہوچکا تھا۔۔۔۔؟؟؟
منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے بےساختہ اطراف میں سرخ نگاہیں دوڑائیں۔
شام۔۔۔۔؟؟؟کچھ ہوا ہے کیا۔۔۔؟؟تم بول کیوں نہیں رہے۔۔۔؟؟کوئی پریشانی کی بات ہے تو مجھے بتاؤ چندا۔۔۔۔؟؟“ اسے ہنوز حیرت سے کچھ ٹٹولتے دیکھ عائمہ بیگم بے قرار سی پوچھتی چلی گئیں۔
” کچھ بھی نہیں ہوا موم۔۔۔۔ٹھیک ہوں میں۔۔۔۔۔سو آپکو بھی میرے بارے میں ذیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ہہمم۔۔۔۔“ ان کے سوالوں سے چڑتا وہ قدرے بے زاری سے گویا ہوا۔
پھر بنا کوئی لمحہ ضائع کیے عائمہ بیگم کی سائیڈ سے ہوتا۔۔۔وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
”پ۔۔پر شام۔۔۔۔۔سنو تو۔۔۔۔“ اسکے بگڑے تیوروں پر پریشان ہوتی عائمہ بیگم اس سے پہلے کہ خود بھی اسکے پیچھے جاتیں۔۔۔ معاً ان کی بھٹکتی نگاہوں نے نیچے گرے ادھ جلے سگریٹ کو حیرت سے دیکھا۔
پھر تیوریاں چڑھاتی وہ بھی کچھ غصے سے اسکی تقلید میں لپکی تھیں۔
ایسے میں شام جو عجلت میں کمرے کی دہلیز پھلانگتا۔۔۔باہر ہال میں آیا تھا۔۔۔معاً سامنے سے اپنی جانب آتے عائل کو۔۔۔حاویہ کے سنگ دیکھ کر بری طرح چونکتا وہیں ساکت ہو گیا۔
محض پل بھر کو رکتے وہ دونوں بھی شام کو دیکھ چکے تھے۔۔۔جس کے وجہہ نقوش پر سرخ جوڑے میں دلہن بنی حاویہ کو دیکھ کر بے یقینی کی چھاپ صاف تھی۔
”شام۔۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔۔“ کمرے سے باہر نکلتی عائمہ بیگم بھی اچانک ان پرنظریں پڑتے ہی ٹھٹک کر چپ ہوئی تھیں۔
عائل قدم قدم چلتا ہوا حاویہ کے ہمراہ انکے قریب آکر رکا۔۔۔تو جہاں اسکے چہرے پر ایک اطمینان تھا وہیں حاویہ کا دل نت نئی وحشتوں تلے ڈوبا۔
”بھائی۔۔۔یہ۔۔۔؟؟؟یہ لڑکی اس وقت آپ کے ساتھ۔۔۔یہاں ہمارے گھر میں کیا کررہی ہے۔۔۔۔؟؟؟“ عائل کو اسکی نازک کلائی مضبوطی سے تھامے دیکھ اسنے قدرے حیرت سے پوچھا۔سنسناتا دماغ اس پل شدت سے بہت کچھ غلط ہوجانے کا صاف اشارہ دے رہا تھا۔
”یہ کون ہے عائل۔۔۔۔۔؟؟؟اور اسکا یوں دولہن کے گیٹ اپ میں تمھارے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر۔۔۔ساتھ کھڑے ہونے کا آخر مطلب کیا ہے۔۔۔؟؟؟“ اب کہ ہوش میں آتی عائمہ بیگم نے بھی قدرے بگڑ کر پوچھا۔۔۔۔تو حاویہ نے نم سلگتی نگاہوں کو شام کے سرخ چہرے سے ہٹاکر اپنی ساس کے سخت تیوروں کی جانب پھیرا۔
جواباً عائل نے ایک گہری نگاہ حاویہ پر ڈال کراگلے ہی پل مکمل اعتماد سے انکی جانب دیکھا تھا۔
”مطلب ایک اور صاف ہے۔۔۔۔یہ لڑکی میری قانونی اور شرعی بیوی کے لحاظ سے زندگی بھرکے لیے اب میرے نکاح میں ہے۔۔۔حاویہ۔۔۔حاویہ عائل حسن۔۔۔آپکی بڑی بہو اور شام کی اکلوتی بھابی۔۔۔۔۔“ اسکے بھاری مضبوط لہجے میں کہے جانے والے وہ الفاظ کم۔۔۔پگھلتا سیسہ ذیادہ تھے جو وہ بڑی آسانی سے ان کی سماعتوں میں انڈیل چکا تھا۔
اس تلخ ترین حقیقت پر جہاں سختی سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے شام کی آنکھوں کا رنگ مزید گہرا ہوا تھا۔۔۔وہیں اس نکشاف پر عائمہ بیگم کی پیشانی پر ناگوار شکنیں ابھریں۔
”یہ کیا فضول گوئی کررہے ہو تم عائل۔۔۔۔؟؟ایسا کیسےممکن ہے بھلا۔۔۔۔؟؟ابھی ٹھیک کچھ دن پہلے تم نے خود ہمیں صاف صاف انکار کیا تھا اس کے گھر رشتہ لے جانے سے اور اب خود۔۔۔بنا کسی سے پوچھے۔۔سمجھے اس کو بیوی بنا کر اس گھر میں لے آئے ہو۔۔۔۔ہوش میں تو ہو تم یہ کیا کرتے پھر رہے ہو۔۔۔۔؟؟“ بھڑک کر پوچھتے ہوئے انھوں نے نظروں میں حقارت لیے بغور حاویہ کو دیکھا۔۔۔تو ان کی رشتے والی بات پر وہ چونک سی گئی۔
”بلکل کیا تھا۔۔۔انکار کیا تھا موم پر۔۔۔ان سب باتوں میں آپ یہ بات ہرگز مت بھولیے۔۔۔کہ حاویہ کی خواہش کرنے والا بھی بذاتِ خود میں ہی تھا۔۔۔اور اب اپنی اسی دلی خواہش کو ہرلحاظ سے مکمل بھی کرچکا ہوں۔۔۔۔سو پلیز آپ بھی یہ حقیقت تسلیم کرلیجیے۔۔۔جیسے تھوڑی دیر پہلے ڈیڈ کرچکے ہیں۔۔۔“ نرمی سے بولتے ہوئے اسکا لہجہ ہنوز مضبوط تھا۔
عائل کے یوں دوبدو جواب پر عائمہ بیگم ضبط کرتی خاموش ہوئی تھیں۔۔۔
تو گویا بزنس کے سبب پنڈی میں موجود حسن صاحب بھی اس نکاح کی بابت جان چکے تھے۔
شام نے سر کو غصے سے جنبش دیتے ہوئے گہرا سانس بھرا۔
حرمین زہرا کی سگی بہن کے لیےاس وقت نفرت اس کے اندر ابل رہی تھی۔۔۔پر پھر بھی عائل کے سامنے وہ ایک حد تک ضبط سے کام لے رہا تھا۔
”بھائی جسے آپ بھابی بناکرزندگی بھر کے لیے میرے سر تھوپنا چاہ رہے ہیں۔۔۔کم از کم ایک بار اس سے بھی تو پوچھ لیں۔۔۔کہ وہ مجھے اپنا دیور مانتی بھی ہے یا نہیں۔۔۔۔؟؟؟“ تندہی سے بولتے ہوئے اس نے حاویہ کی جانب دیکھا تو۔۔۔جہاں عائل نے اسکے بگڑے تیور دیکھ کر پل بھرکو لب بھینچے تھے۔۔۔وہیں تب سے چپ کھڑی وہ اس کے سوال پر بےاختیار اپنا ضبط کھوتی چلی گئی۔
”نایاب رشتوں کو نگل جانے والا ایک قاتل انسان۔۔۔ کبھی بھی خود کے رشتے بنانے کے قابل نہیں ہوتا۔۔۔۔میں تمھیں ایک مجرم تو مان سکتی ہوں شاہ میر حسن۔۔۔پر رشتوں کی توہین کرناکبھی بھی پسند نہیں کروں گی۔۔۔۔“ دھیمے سلگتے لہجے میں جواب دیتی وہ شام کو تن بدن آگ ہی تو لگاگئی تھی۔
عائل نے بےاختیار حاویہ کی کلائی پر اپنی گرفت سخت کی تھی۔
”قاتل۔۔۔مجرم۔۔۔۔؟؟؟“ حیرت سے پلکیں جھپکاتے ہوئے عائمہ بیگم کے دل کو ان لفظوں پر سخت دھڑکا لگا۔
”یہ۔۔۔۔یہ سن رہے ہیں میرے خلاف اپنی بیوی کی بےلگام باتیں۔۔۔۔؟؟؟گھر آئے ابھی مشکل سے پانچ منٹ بھی نہیں گزرے اور اس نے آتے ہی میرے ساتھ۔۔۔جھوٹ کی بنیاد پر ذاتی دشمنیاں پالنا شروع کردی ہیں۔۔۔۔“ حاویہ کی جانب انگلی اٹھائے۔۔دانت پیس کر بولتا وہ براہِ راست عائل سے مخاطب ہوا۔
”مگر اس سب کے باوجود بھی آپ مجھ سے یہ چاہ رہے ہیں کہ میں ساری زندگی اسے۔۔۔۔ایک محترم بھابی کا درجہ دوں۔۔۔سریسلی بھائی۔۔۔۔؟؟؟آپکو لگتا ہے میں یہ سب کروں گا۔۔۔۔؟؟“ سرد لہجے میں باور کرواتے۔۔شام کی سرخ آنکھوں میں پل بھرکو تمسخر سمٹ آیا۔پھر نفی میں سر ہلاتے بڑے ضبط سے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
جبکہ عائل کو شام کی اس قدر برہمی تکلیف دے رہی تھی۔
عائمہ بیگم نے مٹھیاں بھینچ کر نفرت سے حاویہ کے سپاٹ چہرے کو گھورا۔۔۔تو گھنی پلکیں جھپکانے پر ناچاہتے ہوئے ایک آنسو ٹوٹ کراس کے سنہری سانولے گال پر پھسلا۔
سخت گرفت کے سبب اب کہ نازک کلائی میں ہلکا ہلکا سا درد اٹھنے لگا تھا۔
معاً کیچن کا سارا کام سمیٹ کر وہاں آتی راشدہ پر تقریباً سبھی کی نگاہیں پڑیں۔
”راشدہ۔۔۔۔۔۔؟؟“
اچانک عائل کے خود کو آواز دینے پر وہ چونک کر رکی۔پھر قدم قدم چلتی ان سب تک آئی۔
”جی صاحب۔۔۔۔؟؟“ حاویہ کو حیرت سے سرتا پیر دلہن کے روپ میں نظر بھر کر دیکھتی وہ اگلے ہی پل تابعداری سے بولی۔
”اپنی بی بی کو ساتھ لے جاؤ اور میرے کمرے میں چھوڑ آؤ۔۔۔بہت تھک گئی ہے اسی لیے آرام کی اشد ضرورت محسوس ہورہی ہے اسے۔۔۔۔“ سنجیدگی سے بولتا وہ حاویہ کی کلائی چھوڑ چکا تھا۔
شام نے حقارت سے بھنویں اچکاتے ہوئے اس بےجا فکر پر ناگواری سے پہلو بدلا۔۔۔جبکہ عائمہ بیگم بھی لب بھینچتی صبر گھونٹ بھرتی رہ گئیں۔
”جی بہتر صاحب جی۔۔۔آ۔۔آئیے میرے ساتھ بی بی جی میں آپکو صاحب کے کمرے تک چھوڑ آؤ۔۔۔۔۔“ حاویہ کو نامحسوس انداز میں کلائی مسلتا دیکھ وہ خوش اخلاقی سے گویا ہوئی۔
جواباً آنکھوں میں نم شکوہ لیے اسنے اپنی ہی جانب تکتے عائل کو دیکھا۔۔پھر گہرا سانس بھرتی بنا کسی کی طرف دیکھے۔۔۔ڈوبتے دل کے ساتھ راشدہ کی تقلید میں سیڑھیوں کی طرف لپکی۔
”آخر یہ سب ہوکیا رہا ہے۔۔۔؟؟؟کوئی مجھے کچھ بتائے گا۔۔۔۔؟؟ایک تو پہلے ہی تمھارے نکاح کا دھماکہ ہضم کرنا میرے لیے مشکل ہورہا ہے عائل اور پھر یہ۔۔یہ مڈل کلاس لڑکی اور اس کی بد زبانیاں۔۔۔۔کیا تماشہ ہے یہ سب۔۔۔۔۔۔؟؟“ ان دونوں کے نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہی عائمہ بیگم ایک بار پھر پھٹ پڑی تھیں۔
تلخ حقیقتوں سے قدرے انجان وہ کوششوں کے باوجود بھی کچھ سمجھ نہیں پارہی تھیں۔
اور نہ ہی ضبط سے اپنی پیشانی مسلتا عائل فی الوقت انھیں کچھ سمجھانے کے موڈ تھا۔
”بھائی مجھے آپ سے یہ امید بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔۔یقین کریں بہت دکھ ہورہا ہے۔۔۔۔سب جانتے ہوئے بھی آپ نے اپنے سگے بھائی پر اس۔۔۔اس سر پھری لڑکی کو ترجیج دی ہے۔۔۔۔سہی کہتے ہیں لوگ۔۔۔۔محبت اندھی ہوتی ہے۔۔۔۔جو اپنے آگے پیچھے کچھ نہیں دیکھتی۔۔۔کسی کو بھی نہیں دیکھتی۔۔۔۔“ عائل کی طرف رخ موڑ کر کہتا وہ جلے دل سے گویا ہوا۔
”شام۔۔۔میں مجبور تھا یار۔۔۔۔تم۔۔۔۔“ شام کی انگارہ آنکھوں میں ہلکورے لیتی اذیت دیکھ عائل بےاختیار اسےسمجھانے کو آگے ہوا تھا۔۔۔
جب اسکی بات کاٹتا وہ اچانک آپے سے باہر ہوا
”ارے بھاڑ میں گئی ایسی مجبوریاں یار۔۔۔۔جارہا ہوں میں یہاں سے۔۔۔۔۔“ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے۔۔بھڑک کر بولتا وہ وہاں مزید رکا نہیں تھا۔۔۔بلکہ سر جھٹک کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
شام کی اس قدر تلخ کلامی پر عائل نے کچھ حیرت سے اپنی جانب تکتی عائمہ بیگم کو دیکھا۔۔۔تو وہ بھی تاسف سے سر جھٹکتی اپنے کمرے کی طرف پلٹ گئیں۔
پیچھے وہ مٹھیاں بھینچ کر۔۔۔سرخ آنکھوں سے سفید ماربل کو گھورتا۔۔۔ تن تنہا وہیں کھڑا رہ گیا تھا۔۔۔۔۔
”خدا کے لیے۔۔۔خدا کے لیے رحم کرو مجھ پر۔۔۔جانے دو مجھےیہاں سے۔۔۔میں اس گند میں ناچنے کے لیے پیدا نہیں ہوئی ہوں۔۔۔نہیں ہوں میں ایسی لڑکی۔۔۔تو پھر کیوں۔۔۔کیوں میرے پاک صاف دامن کو داغدار کرنے پر تلے ہوئے ہو تم ظالم لوگ۔۔۔۔۔؟؟؟چھوڑو مجھے۔۔۔“ آس پاس شدت سے بکھرتی وہ سسکیاں۔۔۔وہ منتیں اسکے خود کے ناچ میں پھرتی لے آئی تھیں۔
اس ہال نما کمرے کے سکوت کو۔۔۔گھنگروؤں کے شور تلے توڑتی گویا وہ خود کو جانتے بوجھتے وحشتوں کا حصہ بناتی چلی جارہی تھی۔
”گھر سے بھاگ کر۔۔۔ عاشق کے ہاتھوں دھوکہ کھانے کے بعد در بدر رلنے والی لڑکیاں کبھی بھی صاف دامن نہیں ہوا کرتیں لڑکی۔۔۔
تمھاری برائے نام تائی نے تو ویسے بھی اب تک تمھیں بدنامی کی گہرائیوں میں اتار دیا ہوگا سو اتنا غم نہ کھاؤ اور اس کڑوی حقیقت کو قبول کرو۔۔۔۔“ منہ دبوچ کر تلخی سے بولتی تابین بائی نے کیسے آج صبح لائی گئی اس کم سن سی یتیم و مسکین لڑکی کا منہ بند کروادیا تھا۔
ہاں البتہ اسکی سرخ بھیگی نگاہیں اپنی بدقسمتی پر ہنوز ماتم کناں تھیں۔
پر وہ۔۔۔وہ تو گھر سے نہیں بھاگی تھی۔۔۔
اس نے تو کسی عاشق کے ہاتھوں دھوکہ نہیں کھایا تھا۔۔۔
مگر پھر بھی۔۔۔
پھر بھی اسکے صاف۔۔۔سفید دامن پر زبردستی بدنامیوں کے گہرے سیاہ داغ ثبت کردئیے گئے تھے۔۔۔
اور یہ سب کرنے والا کون تھا۔۔۔؟؟
”آااا۔۔۔ہ۔۔۔ہ۔۔۔۔“ اس سے پہلے کہ وہ ان دل چیڑتی سوچوں میں مزید آگے کونکلتی۔۔۔معاً ایڑیاں اچکاکر سرعت سے پلٹنے کی کوشش میں جانے کیسے اسکا پیر مڑتا اسے براہِ راست منہ کے بل زمین بوس ہونے پر مجبور کرگیا۔
کھلے بال جہاں سرعت سے کندھوں سے پھسل کر چہرے کے آگے آئے تھے۔۔۔وہیں گداز ہتھلیاں بروقت بچھے قالین پر جماتے ہوئے۔۔۔گلابیت گھلی آنکھوں سے دو آنسو ٹوٹ کر نرم سطح میں جذب ہوئے۔۔۔
ایسے میں اٹھ کر بیٹھنے کی بجائے اب کہ وہ اپنا دایاں رخسار باقاعدہ قالین سے ٹکاتی آنکھیں موند چکی تھی۔
گہرے سانس بھرتے ہوئےحسین نقوش پر تھکاوٹ اور بےچینی کی گہری چھاپ تھی۔
اس دوران آہستگی سے دروازہ کھول کر وہاں آتی لالی نے آنکھیں پھیلا کر اسکے زمین بوس سراپے کو دیکھا۔۔۔
”رابی جی۔۔آپ ٹھیک تو ہیں ناں۔۔۔۔؟؟“ اگلے ہی پل دل پر ہاتھ رکھتی لالی۔۔۔اسکی اس غیر متوقع حرکت پر قدرے فکرمندی سے اسکی طرف لپکی۔۔۔تو اسکے باآواز استفسار پر چونک کر آنکھیں کھولتی رابی نے اسکی طرف دیکھا۔
” کیا لینے آئی ہو یہاں۔۔۔؟؟؟“ سرد لہجے میں سوال کے بدلے سوال پوچھتے ہوئے وہ ناچاہتے ہوئے بھی ہتھلیوں کے زور پر اٹھ کر بیٹھ چکی تھی۔
”وہ۔۔تابین بائی نے آپکو اپنے پاس بلایا ہے۔۔۔۔حویلی میں آپکے نام کی جو محفل لگنے والی ہے ناں۔۔۔شاید اسی کے حوالے سے بات کرنا چاہتی ہیں وہ آپ سے۔۔۔۔“ اسے چہرے پر آئے بالوں کو کانوں کے پیچھے اڑستا دیکھ لالی نے سادگی سے جواب دیا۔
”تم جاؤ۔۔۔آتی ہوں میں۔۔۔۔“ جواباً اثبات میں سر ہلاتی ہوئی وہ پھرتی سے اپنے پیروں سے گھنگرو اتارنے لگی۔
”جی اچھا۔۔۔۔“ کہہ کر جاتے جاتے وہ کچھ یاد آنے پر سرعت سے اس کی طرف پلٹی۔
”ویسے انھوں نے میرے سامنے آپکے لیے اپنا نولکھا رانی ہار بھی تالے سے نکال کر باہر رکھا تھا۔۔۔سچ کہوں تو آپکو لے کر مجھے تابین بائی کے ارادے اب کی بار خاصے نیک معلوم ہوتے ہیں رابی جی۔۔۔“ عادتاً گلے میں پڑے جامنی رنگ دوپٹے کا کنارہ ہاتھ میں لے کر مڑورتی وہ پُرجوش سی مزید گویا ہوئی۔۔۔تو دوسرے پیر کے گھنگرو کھولتے ہوئے رابی کے لب دھیرے سے مسکرائے۔
”واللہ۔۔۔مجھے لے کر بی بی جان کے ارادے تو نیک ہی رہے ہیں۔۔۔۔لیکن اپنے ارادوں سے خاصی خوفزدہ ہوں میں۔۔۔اندر کہیں ایک ڈر سا ہے کہ کہیں میرے ارادے مجھے ہی برباد نہ کردیں۔۔۔۔پھر سوچتی ہوں۔۔۔پہلے سے برباد ہوئے کو مزید بربادی کا بھلا کیسا ڈر۔۔۔۔۔؟؟“ بےخودی میں اپنے احساسات کو گہرے لفظوں میں بتلاتے ہوئے جہاں اسکا دل بےچینی تلے شدتوں سے دھڑکا تھا۔۔۔وہیں اسکی بات کو سمجھنے کی کوشش میں لالی اسکے سپاٹ نقوش دیکھ کر رہ گئی۔۔۔پھر بظاہر مسکراتی ہوئی تائید میں سر ہلاگئی۔۔۔
کھڑی ہوتی رابی نے اگلے ہی پل مٹھی میں دبوچے گھنگروؤں کو اسکی جانب اچھالا پھر بےنیاز سی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔۔۔۔جبکہ پیچھے بڑی کوششوں کے باوجود بھی لالی ایک گھنگرو ہاتھ میں لیتی لیتی دوسرا زمین بوس کرچکی تھی۔۔۔۔
”جانتی ہو؟؟ تم بےانتہا حسین ہو۔۔۔اس قدر حسین کہ۔۔۔کچھ دیر پہلے میرے گھر والوں کے ساتھ کی گئی تمھاری بدزبانی کے باوجود بھی میں تمھاری طرف کھینچا چلا آیا ہوں۔۔۔یہ بےبسی کی انتہا ہی تو ہے کہ تمھاری ذات کو فراموش کرنا اس پل میرے لیے مشکل ترین ہورہا ہے۔۔۔۔“ اس پل وہ نارنجی رنگ شلوار قمیض پہنے ہوئے۔۔۔آئینے کے سامنے کھڑی خود کا سادہ عکس بغور دیکھ رہی تھی۔۔۔معاً سماعتوں میں گھلتا بھاری لہجہ اسکے دل کی دھڑکنیں مزید بڑھاگیا۔
گزشتہ شب ٹھیک اسی جگہ آئینے کے مقابل ایک ایک کرکے اپنی جیولری اتارتی اسکی بھوری نگاہیں بھیگتی چلی جارہی تھیں۔۔۔جب اچانک پشت پر ابھرتا عائل کا وجیہہ عکس۔۔۔ آئینے میں صاف دکھتا ہوا اسے بری طرح ٹھٹھکنے پر مجبور کرگیا۔
اس پر تضاد اسکے دل دھڑکاتے۔۔سلگتے الفاظ۔۔۔
ایسے میں کچھ دیر پہلے شاور سے برستے۔۔۔بھیگے شور کا۔۔۔ یک دم سکوت میں بدل جانا بھی۔۔۔مزید سوچوں میں گھرتی حاویہ کی توجہ اپنی جانب نہیں سمیٹ پایا تھا۔
”آپکو میری ذرا سی بدزبانی برداشت نہیں ہورہی عائل صاحب۔۔۔یہاں تو سوال پھربھی میری بہن کی موت کا ہے۔۔۔بھلا میں کیسے برداشت کرلوں۔۔۔؟؟“ طنز کے جواب میں قدرے گہرا طنز کیا گیا تھا۔
اگلے ہی پل ضبط کھوتا وہ اسکا چوڑیاں اتارتا ہاتھ۔۔ کلائی سے پکڑتے ہوئے اپنی جانب گھوما چکا تھا۔جواباً اسنے بھی کچھ گھبرا کر اسکی گہری سیاہ آنکھوں میں جھانکا تھا۔
ندارد دوپٹہ۔۔۔
گلابیت گھلی نم بھوری نگاہیں۔۔۔
بےساختہ گھبراہٹ میں ڈھلتے سانولے سلونے نقوش۔۔۔۔
اور پھر قریب تر نازک سراپا۔۔۔
سب کچھ ہی تو مقابل کا دل دھڑکانے کو کافی تھا۔۔۔
اسکی یہ کیفیت وہ خود بھی محسوس کرتی اپنی لرزتی پلکیں پل بھرکو جھکاگئی تھی۔۔۔
”میری برداشت کو اپنی سرکشی تلے مزید آزمانے کی کوشش مت کرو حاویہ ۔۔۔۔یقین کرو بدلے میں سوائے خساروں کے تمھیں کچھ بھی حاصل نہیں ہونے والا۔۔۔۔اسی لیے بہتر یہی ہے کہ کسی بڑے نقصان سے پہلے ہی خود کو سنبھال لو۔۔۔میرے لیے نہ سہی تو کم از کم اپنی ماں کے لیے ہی سنبھال لو جس نے بھروسہ کرکے تمھیں مجھے سونپا ہے۔۔۔۔۔“ پل بھر کا توقف لے کر چہرہ مزید قریب کرتے ہوئے سرد ترین لہجے میں بولتا۔۔۔وہ ناچاہتے بھی اپنی گرفت تنگ کرتا اسکی دو سے تین سرخ رنگ چوڑیاں توڑ چکا تھا۔
پھر اسکی نگاہوں کی جھلمل دیکھ کر جھٹکے سے اسے چھوڑتا کمرے سے باہر نکلتا چلا گیا۔
آئینے کو ہنوز تکتی حاویہ نے پلکیں جھپکاتے ہوئے بےاختیار اپنی سونی کلائی پر ہاتھ پھیرا تھا جہاں ایک دو خراشیں اب بھی صاف دکھائی دے رہی تھی۔۔نتیجتاً دو آنسو ٹوٹ کر اسکے رخساروں پر پھسلے۔
وہ اس سے ذیادہ برے کی توقع رکھتی بھی نہیں تھی۔
معاً واشروم کا دروازہ کھول کر وہ پورے یونیفارم میں باہر نکلا تو۔۔۔خیالوں سے چونکتی حاویہ نے جلدی سے گالوں کو رگڑ کر صاف کرتے ہوئے اسکی جانب دیکھا۔
”گڈمارننگ بیوی۔۔۔۔“ سیاہ کف کو مزید نیچے کھینچ کر درست کرتا وہ اسکی طرف نگاہ اٹھائے بنا عام سے لہجے میں بولا۔۔۔تو حاویہ کی گلابیت گھلی نگاہوں میں اتری برہمی مزید گہری ہوئی۔
”میں یہاں بیڈ پر کیسے آئی۔۔۔؟؟جبکہ مجھے اچھے سے یاد ہے۔۔ کہ کل رات میں اس صوفے پر سوئی تھی۔۔۔کیا میں اس بےوجہ جرات کی وجہ جان سکتی ہوں اے۔ ایس۔ پی صاحب۔۔۔۔؟؟؟“ سینے پر باقاعدہ ہاتھ لپیٹتی وہ گزشتہ رات۔۔۔ کی گئی مقابل کی کارگردیگی کی بابت تڑخ کر پوچھ رہی تھی۔
جواباً بھنویں اچکا کر اسکے سلگتے تیوروں کو دیکھتے ہوئے۔۔۔۔مسکراہٹ عائل کے لبوں پر بکھرنے کو شدت سے مچلی۔۔۔تو وہ بےاختیار اپنے لب بھینچ گیا۔پھر آہستگی سے چلتا ہوا اسکے قریب آ رکا۔
”تمھیں یہ تو کافی اچھے سے یاد ہے کہ۔۔۔اپنی بانہوں میں سمیٹ کر تمھیں اس بیڈ تک لانے والا بذاتِ خود میں ہی ہوں۔۔۔۔پر افسوس یہ یاد رکھتے ہوئے تمھاری یاداشت صاف ناقص ہوچکی ہے۔۔۔کہ نیند میں ڈر کر مجھے بےتابانہ اپنی جانب پکارنے والی تم خودتھی۔۔۔۔دیٹس ناٹ فئیر بیوی۔۔۔۔۔“ کافی حد تک کم۔۔نم بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ مصنوعی تاسف سے بولا۔۔۔تو مقابل کے شوخ لہجے میں دی جانے والی اس وضاحت پر اسے خاصی حیرت ہوئی۔
”جانتے بوجھتے جھوٹ بول رہے ہیں آپ۔۔۔۔یقیناً۔۔ا۔۔۔ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہوگا جیساکہ آپ جتانے کی کوشش کررہے ہیں۔۔۔۔“ معاً ذہن میں تازہ ہوتے گزشتہ شب کے بےچین کرتے خواب نے جہاں اسے بری طرح چونکایا تھا۔۔۔وہیں نگاہیں چراتی وہ صاف مکرگئی۔
”سچ وہی ہے جو میں تمھیں اس وقت بتارہا ہوں۔۔۔۔“ مزید ایک قدم اسکی جانب لے کر مکمل اعتماد سے گویا ہوتا وہ اسے ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ لگ کر کھڑے ہونے پر مجبور کرگیا۔۔۔
اگلے ہی پل اس نے ہاتھ آگے بڑھاکر مضبوط ہتھیلی شیشے پر ٹکائی تو اسکے لبوں پر دبی دبی مسکراہٹ دیکھتی حاویہ نے بے اختیار چوڑے سینے پر ہتھلیاں جما کر اسے پیچھے ہٹایا۔۔۔پھر منتشر دھڑکنوں پر ہاتھ رکھتی اسکے سامنے سے ہٹ کر۔۔۔ کچھ فاصلے پر جا کھڑی ہوئی۔
اسکے اس قدر گریز کے باوجود بھی رخساروں میں گھلتی مدھم سرخی۔۔۔عائل کو سر جھکا کر شدت سے مسکرانے پر مجبور کرگئی تھی۔۔۔
معاً اسنے پلٹ کر گہری نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا۔
”ہاں تو نہ آتے آپ میری پکار پر۔۔۔۔
ترس کھا کر۔۔۔ہمدردی میں آکر آپ نے جو مجھ سے نکاح کیا ہے۔۔۔وہی احسان میرے سر کافی ہے۔۔۔۔مزید آپکے۔۔۔احسانوں کے بوجھ تلے دب کر نہیں رہنا چاہتی ہوں میں اب۔۔۔سنا آپ نے۔۔۔۔۔“ نازک مٹھیاں بھینچ کر قدرے تلخی سے بولتی وہ اسکی مسکراہٹ پلوں میں چھین گئی تھی۔
اگلے ہی پل حاویہ کی نگاہوں میں تیزی سے گھلتی نمی کو دیکھ وہ ضبط سے منہ پر ہاتھ پھیرتا اسکی طرف آیا۔۔۔تو بےاختیار اسکی جانب سے منہ موڑتی وہ سختی سے لب بھینچ گئی۔
”محبت کرتا ہوں تم سے۔۔۔۔اسے جانتے بوجھتے فقط ہمدردی اور احسان کا نام دے کر مزید غلط بیانی مت کرو حاویہ عائل حسن۔۔۔اتنی عقل تو میں رکھتا ہوں کہ ہمدردی اور محبت میں فرق جان سکوں۔۔۔پر شاید تم نہیں رکھتی۔۔۔ورنہ ضرور جان جاتی کہ کیوں میں نے تمھیں اپنایا ہے۔۔۔۔؟؟“ نرمی سے۔۔۔ٹھوڑی سے تھام کر اسکا چہرہ اپنی جانب موڑتا وہ قدرے سنجیدگی سے ٹھہر ٹھہر کر گویا ہوا۔
تیزی سے سرکتی گزشتہ رات میں۔۔۔اسکا نازک ہاتھ تھام کر قریب بیٹھا وہ بےسکونیوں تلے پل بھر کے لیے بھی چین کی نیند نہیں لے پایا تھا۔۔۔
پر وہ یہ سب جان پاتی تب ناں۔۔۔۔
”اگر ایسا ہے تو پھر کیوں آپ مجھ پر بھروسہ نہیں کرتے۔۔۔؟؟حالانکہ اعتبار تو اس محبت کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے ناں۔۔۔تو پھر کیوں آپ۔۔۔۔۔۔“ بھرائے لہجے میں صاف شکوہ کرتے ہوئے دو آنسو آہستگی سے اسکی گالوں پر لڑھکے تھے۔۔۔جب عائل اسکی باتوں کی گہرائی کو سمجھتا بے ساختہ اسے ٹوک گیا۔
”کیونکہ تم میرے بھائی کے معاملے میں صاف غلطی پر ہو۔۔۔اور میرے نزدیک تمھاری یہ بچگانہ ضد۔۔ایک حماقت سے ذیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔سنا تم نے۔۔۔؟؟بہتر ہے کہ اس فضول بحث کو اب یہی دفن کردو تم۔۔۔۔۔“ بازوؤں سے تھام کر اسے ہلکا سا جھٹکا دیتا اس بار وہ خاصا چڑ کر بولا۔
”شدت سے دعا کرتی ہوں کہ جلد ہی آپ پر وہ ساری کڑوی حقیقتیں کھلیں جس کے بھرم میں آپ مکمل انجان بن کر جی رہے ہیں۔۔۔اورجس روز ایسا ہوگا ناں عائل صاحب۔۔۔۔تب۔۔۔تب میں آپ سے پوچھوں گی کہ کیسا محسوس ہوتا ہے بار بار ایسی حماقت سرانجام دے کر۔۔۔۔؟؟“ اسکے رعب میں آنے کے باوجود بھی وہ اپنا آپ چھڑواتی اس سے بہت کچھ کہہ گئی تھی۔
اس کے صاف چیلنج کرتے انداز پر عائل کے چہرے پر پتھریلے تاثرات در آئے۔
اگلے ہی پل مضبوطی سے اسکی کلائی تھامتا وہ اسے لے کر پھرتی سے دروازے کی جانب لپکا تو۔۔کچھ بوکھلا کر اسکے سنگ زبردستی کمرے کی دہلیز پار کرتی حاویہ نے بےاختیار اسے روکنا چاہا۔
”عائل رکیں پلیز ۔۔۔۔یہ آپ مجھے کہاں لے جارہے ہیں۔۔۔؟؟؟“ ناکام ہوتی کوششوں پر وہ دبا دبا سا چیختی پوچھ رہی تھی پر۔۔۔وہ رکے بنا ہی اسے سیڑھیوں تک لے آیا تھا۔
”کچن تک۔۔۔کیونکہ جتنا تم میرا دماغ خراب کرچکی ہو ناں بیوی۔۔۔اب اتنا ہی دماغ خراب میرا پسندیدہ ناشتہ بناتے ہوئے تم اپنا بھی کرو گی۔۔۔گیٹ اٹ۔۔۔۔“ رک کر سرد لہجے میں اسے بتاتا وہ اسے اپنے اس نئے تقاضے سے حیران کرگیا تھا۔۔۔
لیکن درحقیقت ارادہ۔۔۔پولیس اسٹیشن جانے سے پہلے خود کے ساتھ ساتھ اسے بھی اپنی موجودگی میں ناشتہ کروانے کا تھا جو گزشتہ شب جانتے بوجھتے بھوکے پیٹ نیند کی وادیوں میں گم ہوچکی تھی۔۔۔
جبکہ سخت رویے کی آڑ میں چھپے اسکے فکر کرتے ارادوں سے قطعی انجان۔۔۔ وہ اپنے دل میں مزید بدگمانیاں پالتی ہوئی اسکی ہمراہی میں سیڑھیاں اترتی چلی گئی۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
