Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

پل پل ڈھلتا سورج اس وقت اپنے اطراف کو بھی مدھم نارنجی رنگ میں بدلے ہوئے تھا۔
ایسے میں راولپنڈی کی کشادہ سڑکوں پر رواں دواں لاتعداد گاڑیوں میں سے ایک عدد مہنگی گاڑی اسکی خودکی بھی تھی۔۔۔۔ جو قدرے تیزی سے مطلوبہ منزل کی جانب فراٹے بھرتی چلی جارہی تھی۔
”جی سر۔۔۔آپکے دبئی جانے کے بعد سے مس آبرو سکندر ایک دن بھی آفس نہیں آئیں۔۔۔۔ہم نے ان سے کانٹیکٹ بھی کرنا چاہا تھا۔۔۔مگر بدقسمتی سے ہمارا ان سے لمحے بھر کے لیے بھی رابطہ نہیں ہوپایا۔۔۔۔۔“
آج وہ ٹھیک ساتویں دن بعد دبئی سے واپس پنڈی آیا تھا۔۔۔لیکن گزشتہ روز فون کے اسپیکر سے ابھرتا ریسپشنیٹ کا محتاط لہجہ اسے شدتوں سے الجھاگیا تھا۔
شفاف شیشے کےپار مناظر کو۔۔۔بددلی سے دیکھتی بھوری نگاہوں میں۔۔اس پل بلا کی بےچینی تھی۔
مگر پھر دبئی کے ائیرپورٹ میں داخل ہوتے سمے۔۔۔موبائل فون پر اچانک آتی آبرو کی کال اسکی فکر کو خوشگوار حیرت میں ڈھال گئی تھی۔
”سوچا نہیں تھا کہ میرے یاد کرنے پر تم بھی مجھے یوں یاد کرو گی۔۔۔۔بالآخر دل نے دغا دینے پر مجبور کر ہی دیا ہےتمھیں مس آبرو سکندر۔۔۔۔۔“ سرعت سے فون کان سے لگاتا وہ کس قدر شوخ ہوا تھا ناں۔۔۔
مگر پھر۔۔۔۔
”ش۔۔شاہ۔۔۔۔؟؟؟“ جواباً سسکتی آواز اسکی مسکراہٹ پل میں چھین چکی تھی۔
”پل پل مررہی ہوں۔۔۔سانس لینا دشوار ہورہا ہے میرے لیے۔۔۔کیا ت۔۔تم صرف ا۔۔ایک بار۔۔میرے پاس آسکتے ہو۔۔۔۔؟؟؟“ بھیگے لہجے میں شدت سے ملتجی ہوتی وہ شاید نہیں۔۔۔یقیناً اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہی تھی۔۔۔
جبھی اگلے ہی پل ہچکی بھرکر سرعت سے کال کاٹتی اسے بےسکون ہی تو کرگئی تھی۔
ایک ہاتھ سے ٹائی کی ناٹ کھینچ کر ڈھیلی کرتا وہ اسٹیرنگ کو ہنوز تھامے ہوئے۔۔۔گاڑی کی رواں رفتار مزید بڑھایا گیا۔
اففف۔۔۔جانے وہ ٹھیک تھی بھی۔۔۔ کہ نہیں۔۔۔؟؟؟
ابھی کچھ دیر پہلے بھی وہ اسے کتنی بار فون ملا چکا تھا۔۔۔
پر جواب ہر بار کی طرح ناقابلِ اطمینان۔۔۔
اگلے ہی پل سر جھٹک کر پریشان کرتی ساری سوچوں کو پرے دھکیلتے ہوئے شاہ نے اطراف کا بغور جائزہ لیا تھا۔
پست آبادی میں تیزی سے داخل ہوتے ہوئے منزل قریب سے قریب تر تھی۔
”میں آرہا ہوں تمھارے پاس آبرو۔۔۔۔بس کچھ۔۔۔کچھ ہی لمحے اور۔۔۔۔“ مزید کچھ پل سرکے تھے جب الگ تھلگ سی جگہ پر بنے اس تین مرلہ مکان کے سامنے۔۔۔ گاڑی روکتا ہوا وہ خود سے مخاطب ہوا۔۔۔
پھر عجلت میں اپنی طرف کا دروازہ کھولتا نیچے اترا۔
ایک بار پہلے بھی وہ آبرو کو چھوڑنے یہاں آچکا تھا۔۔۔پر رات کی نسبت ڈھلتے دن میں بھی بےرونقی ہنوز تھی۔دور کہیں دو چار لوگوں کا گزر ہورہا تھا۔۔۔۔جن پر سرسری سی ایک نگاہ ڈالتا وہ سر جھٹک کر آگے بڑھا۔
مگرپھر سامنے گھر کے ادھ کھلے دروازے کو دیکھ کر چونکتا۔۔۔بنا دیری کیے تیزی سے اندر داخل ہوا۔
ڈوبتے دل کے ساتھ ویران سی راہ داری پار کرتے ہوئے وہ سیدھا لاؤنج میں آیا تھا۔
”آبرو۔۔۔۔؟؟“ چاروں طرف متلاشی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اسنے آواز لگائی۔۔پر جواب ہنوز ندارد۔۔۔
آبرو۔۔۔؟؟ آ۔۔۔۔“ دو کمروں میں سے ایک کی طرف لپکتے ہوئے وہ مزید بےقرار ہوا تھا۔۔جب اچانک مخالف کمرے سے بکھری حالت میں باہر نکلتی وہ اسے بری طرح ٹھٹک کر وہیں ساکت ہونے پر مجبور کرگئی۔
سادے پرنٹ کا سفید رنگ سوٹ پہنے ہوئے۔۔۔ ہنوز کمرے کی دہلیز پر کھڑی۔۔۔وہ اسے ہی دھندلائی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
شاہ نے حیرت سے اسکے کندھوں پر بکھرے بالوں کو دیکھا۔پھر اسکے ہاتھ میں تھامے ہوئے فوٹو فریم کی بھوری رنگ پشت کو۔۔۔
”ش۔۔شاہ۔۔۔؟؟“ معاً وہ بھرائے نم لہجے میں گویا ہوئی۔۔تو جواباً شاہ دو قدموں کا فاصلہ پل میں مانپتا اسکے نزدیک آیا۔
”آبرو تم۔۔۔تم ٹھیک ہو۔۔۔۔؟؟؟بتاؤ کیا۔۔۔کیا ہوا کیا ہے تمھیں۔۔۔ہاں۔۔۔۔؟؟دیکھو اب میں آگیا ہوں ناں تمھارے پاس۔۔۔تمھیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔بتاؤ مجھے کیا بات ہوئی ہے۔۔۔۔؟؟“ اسے نفی میں سر ہلاتے ہوئے تواتر سے آنسو بہاتا دیکھ وہ بےاختیار اسکے بازوؤں کو نرمی سے تھام گیا تھا۔۔۔جب اگلے ہی پل فوٹو فریم کا رخ اسکی طرف پھیرتی وہ سسکی۔
”شاہ۔۔۔م۔۔۔میری بوا۔۔۔۔۔میری بوا اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔۔۔۔۔“ شفاف شیشے تلے بےداغ تصویر کو۔۔۔ لرزتی انگلیوں سے چھوتی وہ صدمے سے بولی۔۔۔تو اس دل بیٹھاتے انکشاف پر شاہ نے ٹھٹھک کر اس سادہ صورت عورت کا مسکراتا چہرہ بغور دیکھا۔۔۔۔ جو کسی بھی طور آبرو سے میل نہیں کھا رہا تھا۔
پھر قدرے تاسف سے لب بھینچ کر اسکی طرف نگاہیں پھیر گیا۔
”مانتی ہوں کہ وہ بیمار تھیں۔۔۔پرمیں انکا علاج کروا رہی تھی ناں۔۔تو پھر یوں چلے جانے کی کیا تک بنتی تھی بھلا۔۔۔؟؟؟وہ۔۔وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئیں۔۔۔بنا کسی قصور کے۔۔۔بہت د۔۔دور۔۔۔۔
”بالکل اسی طرح۔۔۔اسی طرح۔۔۔ جیسے بچپن میں میرے ماں باپ مجھے تنہا کر گئے تھے۔۔۔میں نے بہت پکارا بھی انھیں۔۔۔پر کوئی بھی پلٹ کر نہیں آیا میرے پاس ۔۔۔۔ایک بار پھر اکیلی رہ گئی میں شاہ۔۔۔م۔۔میں۔۔میں۔۔۔؟؟“ گہری سانسوں کے بیچ بچوں کی مانند سب بتاتے ہوئے اس کے لیے مزید اپنا غم ہلکا کرنا محال ہی تو ہوا تھا۔
اسکے سرخائی گھلے نقوش دیکھتے شاہ نے۔۔۔ضبط سے پلکیں جھپکائیں۔
اسکے ماں باپ نہیں تھے۔۔۔جہاں یہ بات اسے حقیقی معنوں میں اندر تک افسردہ کرگئی تھی وہیں اسکی ذات کو لے کر کئی فکریں اسے لاحق ہوچکی تھیں۔
بےاختیار اسکے ہاتھوں سے فوٹو فریم لےکر۔۔۔اسے قریب پڑے میز پر احتیاط سے رکھتا وہ پلٹ کر اسکے پاس آیا۔۔۔تو آبرو نے شدتِ بےبسی تلے آہستگی سے نچلا لب کچلا۔
”ششش۔۔۔بس اب چپ ہوجاؤ۔۔۔۔جو کچھ بھی ہوا اسکا دکھ ہے۔۔۔بہت افسوس ہے۔۔۔پر تمھیں یہ کس نے کہہ دیا کہ بوا کے بعد اب تم تنہا ہو گئی ہو۔۔۔ہہمم۔۔۔؟؟تم بالکل بھی تنہا نہیں ہوئی آبرو۔۔۔۔میں ہوں ناں تمھارے ساتھ۔۔۔تمھارے پاس۔۔۔تمھارے بہت قریب۔۔۔۔“ حالات کی سنگینی کا شدت سے احساس کرتے ہوئے اس نے ہاتھ بڑھا کر اسکے آنسوؤں کو باری باری نرمی سے صاف کیا۔
اپنے رخساروں پر اسکے پوروں کا نرم لمس محسوس کرتی آبرو دھڑکتے دل کے ساتھ بےاختیار اپنی گہری نیلی آنکھیں پل بھر کو میچ کر کھول گئی۔۔۔
”جانتے ہو۔۔۔؟؟ب۔۔بچپن میں میری انہی آنکھوں کے سامنے۔۔۔“ نم پلکوں کو کانپتی انگلیوں سے چھوتی وہ سسک کر بےساختہ اٹکی۔۔تو شدت سے دیکھتا وہ مزید بے چین ہوا۔
”بند دروازوں کے پیچھے۔۔م۔۔۔میری ماں کی عزت کو تار تار کیا گیا تھا شاہ۔۔۔ا۔۔اور پھر اسی عزت کے ساتھ ساتھ بچی کھچی سانسیں بھی چھین لی گئیں۔۔۔۔“ بڑے ضبط سے ایک ایک کرکے داغدار حقیقتیں کھولتی وہ اس بار مقابل کو اپنے لفظوں سے ساکت ہی تو کرگئی تھی۔
”اور۔۔م۔۔میرا باپ۔۔۔اسے بھی۔۔۔ہاں۔۔۔اسے بھی ذاتی دشمنی کے سبب بڑی بےدردی سے قتل کردیا گیا تھا۔۔۔نہیں بخشا۔۔نن۔۔نہیں چھوڑا۔۔۔۔پر مجھ کمترذات کو زندگی بھر دربدر رُلنے کے لیے زندہ چھوڑ دیا ان ظالموں نے۔۔۔۔۔؟؟؟“ اسکے سینے پر لرزتی ہتھیلیاں جماتی وہ آخر میں دبا دبا سا چیختی تھی۔۔۔جب اگلے ہی پل اسے بھبھک بھبھک کر روتا دیکھ وہ بےتابانہ اسکا بھیگا چہرہ قدرے نرمی سے اپنے ہاتھوں میں لے گیا۔
اس بھاری شناسائی تلے بھوری نگاہوں میں اذیتیں نئے سرے سے ہلکورے لینے لگی تھیں۔۔
”ک۔۔کون تھے وہ ظالم لوگ۔۔۔؟؟کیا۔۔کیادشمنی کیا تھی ان سب کی تمھارے ماں باپ سے۔۔ہاں۔۔؟؟بتاؤ مجھے۔۔۔۔؟؟“ بھیگتے گالوں کو انگوٹھوں تلے دھیرے سے صاف کرتا وہ تیوری چڑھائے بڑے دکھ سے پوچھ رہا تھا۔۔۔جب ضبط سے اپنے رخساروں پر رکھے اس کے ہاتھوں کو دھیرے سے تھامتے ہوئے۔۔۔آبرو نے خالی خالی نظروں سے اسے بغور دیکھا۔
سرخ نگاہوں کا ارتکاز اس پل ناقابل فہم سا تھا۔۔۔
”بتاؤ۔۔۔۔؟؟؟“ شاہ پھر سےگویا ہوا تو وہ بےساختہ چونکتی نفی میں سرہلاگئی۔
پھر لب بھینچ کر نگاہیں چراگئی۔
”نہیں جانتی۔۔۔۔؟؟م۔۔میرے بختوں کی سیاہی نے کبھی بھی ان تلخ حقیقتوں کے آخر تک میری رسائی نہیں ہونے دی۔۔۔پر اس ایک بیوہ عورت نے۔۔۔مجھ بےسہارا بچی تک ضرور رسائی حاصل کرلی تھی۔۔۔
پرائی ہونے کے باوجود بھی۔۔و۔۔وہ عمر بھر کے لیے اپنائیت کے سارے درجے نبھاتی رہی۔۔او۔۔۔اور پھر۔۔۔“ کہتے ہوئے اسکی سانسیں گھٹنے سی لگی تھیں جب بے اختیار اسکے ہاتھ پرے ہٹاتی وہ اپنا رخ موڑ گئی۔
شاہ نے سرخ پڑتی نگاہوں سے اسے گہری سانسوں میں اپنے بال مٹھیوں میں جکڑتے دیکھا تھا۔
”میں یہ سب بھولنا چاہتی ہوں۔۔۔بارہا کوشش بھی کرتی ہوں۔۔۔پر ہر بار ناکام ٹھہرتی ہوں۔۔۔
یہ بدترین ماضی۔۔۔یہ بچپن کی سلگتی یادیں خوابوں کی صورت میری نگاہوں میں بار بار تازہ ہوجاتی ہیں۔۔۔میری سانسوں کو اکھاڑنے لگتی ہیں۔۔۔ م۔۔۔میں کیا کروں۔۔۔آخرکیا کروں میں۔۔۔۔؟؟؟“ شدتِ بےبسی سے چیختی وہ ہلکان ہوئے جا رہی تھی۔۔۔جب شاہ نے ایک جست ہی میں بازو سے پکڑ کر اسے جھٹکے سے اپنی جانب موڑا۔
”نکاح کرلو مجھے۔۔۔۔“ مضبوط بھاری لہجے میں دیا جانے والا جواب جس قدر برجستہ تھا۔۔۔اتنا ہی قطیعت بھرا بھی۔۔۔
آبرو نے کچھ حیرت سے سنجیدگی میں ڈھلے اسکے وجہہ نقوش دیکھے۔
”خدا قسم زندگی بھر کے لیے مضبوط ترین سہارا بن کر تمھارے ہر درد میں اپنے سکون کے رنگ بکھیردوں گا۔۔۔۔“ ہولے سے اسکے رخسار کو چھوتا وہ مضبوط لہجے میں اپنی طرف سے تمام مسائل کا واحد حل پیش کررہا تھا۔
مقابل کے انداز پر ناچاہتے ہوئے بھی اس کا دل شدتوں سے دھڑکا۔
”پر۔۔۔م۔۔میں۔۔۔۔“ وہ شدت سے کچھ کہنا چاہتی تھی جب وہ بڑی جرات سے اسکے لزرتے لبوں پر اپنی شہادت کی انگلی جماتا اسے ساکت کرگیا۔
پھر دھیرے سے سر کو نفی میں جنبش دی۔
”بسسس۔۔۔بس اب مزید کوئی بےتکا بہانہ نہیں آبرو سکندر۔۔۔کوئی فضول انکار نہیں۔۔۔
فقط اقرار۔۔۔اقرار سننا چاہتا ہوں میں تمھارے ان لبوں سے۔۔۔۔تمھارا یقین۔۔ تمھاری وفا۔۔۔تمھارا بےخلوص عشق چاہتا ہوں۔۔۔۔“ گھمبیر لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر بولتا وہ اسے کمزور ہی تو کررہا تھا۔۔۔اور یہ کمزوری آبرو کے پھڑپھڑاتے دل کو کہیں نہ کہیں شدت سے بھا۔۔۔بھی رہی تھی۔
اگلے ہی پل وہ انگلی پرے ہٹاتا مزید گویا ہوا۔
”یقین کرو تمھارا یوں بےسہارا رہنا اب مجھے مزید گوارا نہیں ہے۔۔۔بس اسی لیے۔۔۔اسی لیےتمھیں ان سلگتی یادوں کے حصار سے باہر نکالنا چاہتا ہوں۔۔۔۔اب تو حالات بھی میرا ساتھ دے رہے ہیں یار۔۔۔بس تمھارے ایک اقرار کی دیری ہے۔۔۔۔۔“ لفظوں کا ہتھیار خاصا پُراثر ہی تو تھا۔۔۔
”م۔۔میرا بدترین ماضی جاننے کے باوجود بھی۔۔۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ تمھارے ہائی اسٹیٹس کے آگے میری شناخت ہر لحاظ سے ناقابل ذکر ہے۔۔۔پھر بھی تم مجھ جیسی آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے کو رضامند ہو۔۔۔۔؟؟“ اسکی تپش بکھیرتی بھوری نگاہوں میں جھانک کر پوچھتی وہ اسے مسکرانے پر مجبور کرگئی۔
”شدید ترین محبت کرتا ہوں تم سے۔۔۔اور میری یہ محبت ہر فرق کو مٹا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔۔یقین کرو میرا۔۔۔۔۔“ بولتے ہوئے اسکا خود کا دل بھی دھڑک اٹھا تھا۔
”پر یہ محبت تمھارے خاندان کے لیے ہرگز کافی نہیں ہوگی۔۔۔؟؟“ ایک اور ٹھوس جواز پیش کرتی وہ اسکی نگاہوں کی چمک مزید بڑھاگئی تھی۔
”سب کی مرضیوں پر شروع سے ہی شاہ میر حسن کی من مرضیاں غالب رہی ہیں۔۔اور آگے بھی رہیں گی۔۔۔سو تمھاری یہ ساری فکریں بےسود ہیں۔۔۔۔“ مضبوط لہجے میں دوبدو جواب دیتا وہ اس جواز کو بھی بڑی آسانی سے مسترد کرگیا تھا۔
جواباً بے چینی تلے نگاہیں چراتی آبرو نے بےاختیار نچلا لب کچلا جب وہ اسکی طول پکڑتی خاموشی پر گہرا سانس بھرتا شدت سے اسکے مخاطب کرگیا۔
”آبرو۔۔۔۔۔؟؟“ آواز بوجھل سی تھی۔
معاً اسنے چونک کر سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا۔۔۔جب
اگلے ہی پل وہ اپنی تمام تر انا۔۔۔غرور کو پسِ پشت ڈالتا۔۔۔
فقط محبت کی خاطر۔۔۔
اسکے سامنے گھٹنوں کے بل ایک ادا سے جھکتا اسے ساکت کرگیا تھا۔
”میں شاہ میر حسن۔۔۔تمھیں عمر بھر کے لیے اپنے نکاح میں لے کر۔۔۔خود کی ادھوری ذات کو ہر لحاظ سے مکمل کرنے کا خواہشمند ہوں۔۔۔کیا تم مجھ سے نکاح کرو گی۔۔۔۔؟؟؟“ میٹھی نگاہوں سے بےتابانہ اسکے حیرت میں ڈھلے خوبصورت نقوش تکتا۔۔۔وہ اسکے دونوں ہاتھ تھامے ٹھہر ٹھہر کر مدھم لہجے میں پوچھ رہا تھا۔
ہنوز منتشر دھڑکنوں کے سنگ۔۔۔پلکیں جھپکانے پر دو آنسو ٹوٹ کر آبرو کے رخساروں پر پھسلے۔
اور پھر کچھ پلوں کے توقف پر اس کا سر دھیرے سے ہلتا شاہ کے لبوں پر شدت سے مسکراہٹیں بکھیرتا چلا گیا۔۔۔
ہاں۔۔۔۔ہاں شاید وہ مقابل کی داغدار حقیقتوں سے قطعی انجان آج ہار مان گئی تھی۔۔۔۔۔اس۔۔۔۔اس شاندار مرد کی محبت آگے اسکے سارے انکار۔۔۔سارے اعتراضات دم توڑتے چلے گئے تھے۔۔۔۔جو پہلے سے ہی کسی اور کی معصوم محبت۔۔سمیت روح تک کی بری طرح دھچیاں بکھیر چکا تھا۔۔۔۔
اس کے برعکس کہیں دور کھڑی قسمت ان دونوں کی حقیقتوں سے مکمل واقفیت رکھتی۔۔۔قدرے اداسی سے مسکرائی تھی۔۔۔۔


”ت۔۔تم۔۔۔؟؟تم یہاں کیا لینے آئے ہو۔۔۔؟؟؟“ وہ ٹوٹی بکھری سی اپنے دھیان میں قبرستان کے داخلی دروازے سے باہر نکلنے کو تھیں۔۔جب اسے مقابل کھڑا دیکھ۔۔۔ ٹھٹھک کر رکتی قدرے حیرت سے گویا ہوئیں۔۔۔
پہلی بار اسکے روبرو ہوتے۔۔۔دل میں ڈھیروں نفرت اتر آئی تھی۔
وہ جو دور سے ہی حرمین زہرا کی قبر پر پھول بکھرتی۔۔۔نفیسہ بیگم پر کب سے اپنی وحشت بھری نگاہیں جمائے ہوئے تھا۔۔۔جواباً ان کی جانب بغور دیکھتا دلکشی سے مسکرایا۔
حرمین زہرا کے نقوش کافی حد تک ان سے میل کھاتے تھے۔
”آنٹی میں۔۔حرمین زہرا کے پاس بلکل بھی نہیں آیا ہوں۔۔۔سو آپ بےفکر رہیں۔۔ہہہمم۔۔۔؟؟اور ویسے بھی اب اسکے قریب جانے کا کوئی فائدہ بھی تو نہیں رہا ناں۔۔۔یونو۔۔چچ سمجھیں یار۔۔۔۔“ پیشانی کو انگوٹھے تلے کھجا کر تمسخرانہ لب و لہجے میں بولتا شام ان کا سینہ ہی تو چھلنی کرگیا تھا۔۔۔۔
اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود بھی۔۔۔
اس قدر ڈھٹائی۔۔۔۔
اس قدر بے حسی۔۔۔۔
اس قدر سکون۔۔۔۔۔
”کس قسم کے انسان ہوتم۔۔۔۔؟؟ذرا سا بھی ڈر نہیں لگتا تمھیں۔۔۔۔۔؟؟“ تڑپ کر پوچھتی وہ اپنی نم آنکھیں مزید بھیگنے سے روک نہیں پائی تھیں۔
”ڈر۔۔۔۔؟؟یار آنٹی ایک ڈر ہی تو نہیں لگتا مجھے۔۔۔کیا کروں۔۔؟؟آپکی خواہش کے مطابق اگر میں نے ڈرنا شروع کردیا۔۔تو یہ دنیا مجھے ڈرانے۔۔ دبانے میں کو کسر باقی نہیں چھوڑے گی۔۔۔“ سنجیدگی سے اپنی منطق انھیں باور کرواتا وہ نفیسہ بیگم کو زہر ہی تو لگا تھا۔
اسکے منہ لگنے کی بجائے۔۔۔اگلے ہی پل سختی سے لب بھینچ کر وہ سر پر دوپٹہ درست کرتی وہاں سے جانے کو ہوئیں تو ان کے ارادے بھانپتا وہ بروقت آگے آتا ان کا رستہ روک گیا۔
ایگزامز سے مکمل فارغ ہوتا اب کہ وہ ایک ایک کو اپنے سوچے سمجھے گئے طریقے سے ہینڈل کرنے پر ہی تو اتر آیا تھا۔
نتیجتاً شام کی جانب کچھ خوف سے دیکھتی نفیسہ بیگم نے بےاختیار دھوپ تلے اس ویران پڑی جگہ پر آس پاس نگاہیں دوڑائیں۔۔۔پھر فی الوقت وہاں کسی کو بھی نہ پاکر واپس شام کے سپاٹ پڑتے نقوش دیکھے۔
”آنٹی اب جو میں کہنے جارہا ہوں ناں۔۔۔وہ ذرا کان کھول کر غور سے سنیے گا۔۔۔۔ہممم۔۔۔۔؟؟
آپکو معلوم ہے آپکی بیٹی کیا کرتی پھر رہی ہے۔۔۔۔؟؟میرے اپنے ہی سگے بھائی کو میرے خلاف بھڑکانے پر مکمل تلی ہوئی ہے وہ۔۔۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اسکی کسی ایک بات پر بھی یقین نہیں کرنے والے۔۔۔پھربھی۔۔۔پھربھی وہ بلاوجہ کے پنگے لینے سے باز نہیں آرہی۔۔۔اور خدا قسم یہ بات میرے لیے ہر گزرتے پل کے ساتھ ساتھ ناقابلِ برداشت ہوتی جارہی ہے۔۔۔۔“ شہادت کی انگلی اٹھائے ٹھہر ٹھہر کر سرد لہجے میں وارن کرتا وہ انھیں حقیقتاً حاویہ کی فکر میں ڈال گیا تھا۔
”م۔۔میں نے اسے سمجھایا تھا۔۔اور موقع ملنے پرپھر سےسمجھاؤں گی۔۔۔۔بس تم۔۔۔تم میری بیٹی سے دور رہنا۔۔۔۔ع۔۔عائل اسے سنبھال لے گا۔۔۔۔“ بےاختیار نرم پڑتی وہ بھرائے لہجے میں اسکے آگے شدت سے ملتجی ہوئیں تو انکے بہتے آنسو دیکھتا وہ بےزار سا بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔
”دیکھیں میں برا آدمی نہیں ہوں۔۔۔کیونکہ اگر ہوتا تو پہلے یوں وارنگ دینے اسپیشلی آپکے پاس بالکل بھی نہیں آتا۔۔۔۔بلکہ سیدھا اسکو کوئی گہرا نقصان پہنچاتا۔۔۔پھر میری جگہ ایک عدد بری خبر آپکے پاس آتی۔۔۔پر ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔۔“ وہ ایک بےبس ماں کو اولاد کے معاملے میں ہرلحاظ سے کمزور کررہا تھا اور وہ ہو بھی رہی تھیں۔۔۔
”نن۔۔نہیں۔۔۔تم۔۔۔تم ایسا کچھ بھی مت کرنا۔۔۔میں اب کی بار اسے اچھی طرح سے سمجھاؤں گی۔۔۔ہاں۔۔۔“ وہ تسلی دیتے لہجے میں ہکلاکر گویا ہوئیں تو شام سر کو ہولے سے جنبش دیتا پل بھر کو مسکرایا۔
”جس عزت کو بچانے کے لیے آپ نے اپنی بیٹی کا نکاح میرے بھائی سے کروایا ہے ناں۔۔۔اگر چاہوں تو سکینڈوں میں اسکی دھچیاں بکھیر دوں۔۔۔۔بہتر یہی ہے کہ اس بڑے نقصان سے پہلے ہی اس دو ٹکے کی۔۔۔جھانسی کی رانی کو میرے راستے میں آنے سے باز رکھیں۔۔۔ورنہ میرے خلاف کی گئی ایک ایک بغاوت اسکی جان پر بھاری پڑ جائے گی۔۔۔۔ٹھیک ویسے ہی جیسے حرمین زہرا پر بھاری پڑی تھی۔۔۔اچھے سے سمجھا دیجیے گا اپنی بیٹی کو یہ سب۔۔۔چلتا ہوں اب۔۔۔خیال رکھیے گا اپنا۔۔۔۔“ اب کی بار پرسکون لہجے میں آخری بار دھمکاتا وہ مزید وہاں رکا نہیں تھا۔۔۔جبکہ وہ نم نگاہوں سے شام کو پلٹ کر وہاں سے جاتا دیکھ اپنی جگہ ہنوز ساکت تھیں۔
اگلے ہی پل بےقرار دل پر دھیرے سے ہاتھ جماتے ہوئےانکے لرزتے لب بےاختیار اپنے رب کے آگے دعاگو ہوئے تھے۔۔۔۔


”میں فی الوقت کے لیے اپنے چچا جان کے پاس لندن جارہا ہوں۔۔۔۔“ وہ اس وقت بتائی گئی مطلوبہ جگہ پر ریڈ ڈالنے کی تیاریوں میں۔۔۔ہنوز پولیس اسٹیشن میں موجود تھا۔۔۔جب فون کے اسپیکر سے ابھرتا افروز کا سادہ لہجہ اسے کام کے دوران ہولے سے مسکرانے پر مجبور کرگیا۔
”یہ تو اچھی بات ہے۔۔۔ویسے شام نے مجھے اس بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا۔۔۔ابھی تمہی سے پتا چل رہا ہے۔۔۔۔۔“ اسکا براہِ راست ائیرپورٹ سے اچانک کال کرنا عائل کو کچھ عجیب لگا تھا۔۔۔جو ایگزامز کے فوری بعد اب کچھ ہی دیر میں لندن کی راہوں میں گامزن ہونے جارہا تھا۔۔۔
”ہوسکتا ہے اب تک اسے بھی اس بارے میں خبر مل چکی ہو۔۔۔۔پر جاتے ہوئے جو خبر میں آپکو دینے جارہا ہوں۔۔۔۔وہ خاصی غورطلب ہے۔۔۔“ دراز کھول کر گن نکالتا عائل اسکے یک دم بدلتے لہجے پر چونک کر سیدھا ہوا۔۔
”مطلب۔۔۔؟؟کیسی خبر۔۔۔۔؟؟“ بیلٹ ہولسٹر میں گن رکھتے ہوئے اب کہ وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔
دوسری طرف افروز نے ائیرپورٹ کی ان گنت روشنیوں تلے۔۔۔آتے جاتے لوگوں پر نگاہ ڈالتے ہوئے بےاختیار لبوں پر زبان پھیری۔
”میں یہ سب بتانا تو نہیں چاہتا تھا عائل صاحب۔۔۔پر کیا کروں؟؟مکمل طور پر مجبور ہوکر مجھے یہ اسٹیپ لینا پڑرہا ہے۔۔۔۔
بہت سوچا۔۔۔سمجھا۔۔۔۔خود کو بارہا باز بھی رکھنا چاہا۔۔۔پر یہ اندر کا ضمیر۔۔۔یہ دن رات ملامت کرنے سے رتی بھر بھی باز نہیں آیا۔۔۔۔۔“ بظاہر تاسف سے بولتے ہوئے اسکی آنکھوں کی شیطانی چمک بڑھی تھی۔
بڑھتی بھی کیوں ناں۔۔۔
آخر کو جس مناسب موقع کی تلاش میں وہ اب تک کمالِ ضبط کا مظاہرہ کیے ہوئے تھا۔۔۔اب وہ سرکتے لمحوں کے سنگ ٹوٹتا جارہا تھا۔
”تو کیا کسی جرم میں ہاتھ پھنسا کر اب تم میرے پاس واقفیت کے بل بوتے پر نجات کی راہ تلاش کرنا چاہ رہے ہو۔۔۔؟؟“ جواباً قدرے مشکوک لہجے میں پوچھتے ہوئے عائل کی پیشانی پر بے اختیار لکیریں ابھرآئیں۔
پر اگلے ہی پل سماعتوں سے ٹکراتی افروز کی مدھم کھلکھلاہٹ اسکی ناگواریت بڑھا گئی تھی۔
”ایک طرح سے آپکی بات درست ہے۔۔۔
جرم بھی ہوا ہے۔۔۔اور اس میں صاف ہاتھ بھی پھنسایا گیا ہے۔۔۔پر یہ بات اچھے سے ذہن نشین کر لیجیے کہ یہ سب کرنے والا۔۔وہ شخص میں ہرگز نہیں ہوں۔۔۔ہاں البتہ اس بارے میں اچھی خاصی معلومات ضرور رکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔“ خود کی مسکراہٹ پر فوری قابو پاتا وہ مضبوط لہجے میں بولا۔۔۔تو اسکے الجھاتے رویے پر عائل کا دماغ ناچاہتے ہوئے بھی خراب ہونے لگا۔
”آخر کہنا کیا چاہتے ہو تم۔۔۔؟؟جو بھی معاملہ ہوا ہے صاف صاف کھل کر بتاؤ۔۔۔۔؟؟“ ضبط سے موبائل فون دوسرے کان سے لگاتے ہوئے وہ چاہ کر بھی اپنا لہجہ نرم نہیں رکھ پایا تھا۔
”میں اس وقت آپکی مرحومہ سالی۔۔۔۔حرمین زہرا کے معاملے پر بات کرنا چاہ رہا ہوں۔۔۔یہ تو اب تک آپ بھی اچھے سے جان چکے ہوں گے۔۔۔کہ ہارٹ اٹیک کی صورت میں ہونے والی اسکی موت۔۔۔محض ایک جھوٹی افواہ سے ذیادہ کچھ بھی نہیں تھی۔۔۔۔“ افروز کافی تجسس پھیلاتے انداز میں بول رہا تھا جبکہ توقع کے برعکس۔۔۔اس پل اسے حرمین زہرا کا موضوع چھیڑتا دیکھ وہ قدرے حیران ہوا۔
”خودکشی کی تھی حرمین زہرا نے عائل صاحب۔۔۔۔اور اسے خودکشی جیسے سنگین اقدام پر مجبور کرنے والا اصل ذمہ دار۔۔۔۔یاں یوں کہہ لیں۔۔۔حقیقی مجرم۔۔۔کون تھا۔۔؟؟اس کے بارے میں آئی ڈیم شیور آپ ضرور جاننا چاہیں گے۔۔۔رائٹ۔۔۔؟؟؟“ اسکی حیرت بھری خاموشی سے ٹھیک ٹھاک لطف لیتا وہ حددرجہ سنجیدہ تھا۔
”کون۔۔۔؟؟کون ہے وہ مجرم۔۔۔۔؟؟اور۔۔۔تم یہ سب کیسے جانتے ہو۔۔۔۔۔؟؟؟“ منہ پر ہاتھ پھیر کر تلخی سے پوچھتے ہوئے عائل کا دل شدتوں سے دھڑک اٹھا۔
اندر کہیں بلاوجہ کے اندیشے شدت سے سراٹھانے لگے تھے۔
دوسری طرف ٹانگ پر ٹانگ چڑھاتے ہوئے افروز کے لبوں پر کمینی مسکراہٹ شدت سے اپنی جھپ دکھلا کر سمٹی تھی۔
”بدقسمتی سے اس مجرم کے ساتھ میری گہری دوستی رہ چکی ہے۔۔۔اسی لیے اتنا سب جانتا ہوں۔۔۔۔جرم کرنے والا اور پھر بذات خود اپنے جرم کی تصدیق کرنے والا بھی آپکا اپنا سگا بھائی شام ہے۔۔۔
شاہ میر حسن۔۔۔۔“ گہرا سانس لیتے ہوئے ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولتا وہ عائل کے سر پر دھماکہ ہی تو کرگیا تھا۔
چند لمحوں کی بے یقین خاموشی رابطے میں حائل ہوتی افروز کو خباثت سے دانتوں تلے نچلا لب دبانے پر مجبور کرگئی۔
”جھوٹ ہے یہ۔۔۔۔۔۔“ معاً عائل مکمل اعتماد سے گویا ہوتا ٹیبل کے دوسری طرف آرکا۔۔۔
یہی بات کہنے والے اب کہ اسکے بھائی کے خلاف دو لوگ ہوچکے تھے۔۔۔
ایک حاویہ۔۔۔اور دوسرا افروز۔۔۔۔
پرثبوت۔۔۔؟؟
وہ تو کسی ایک کے پاس بھی نہیں تھا۔۔۔۔
لیکن پھر۔۔۔
”پختہ ثبوت ہے میرے پاس جناب۔۔۔جانتا ہوں پولیس والے لفظوں کی بجائے ٹھوس ثبوتوں پر یقین رکھتے ہیں۔۔۔۔“ اگلے ہی پل اسپیکر سے ابھرتی صاف۔۔پرسکون آواز اسکا سکون غارت کرنے کے درپے ہوئی تھی۔
افروز کا لہجہ اس قدر مضبوط تھا کہ پل پل ڈگمگاتے یقین پر عائل کی نگاہوں کی سیاہی بڑھتی چلی گئی۔
”میری ایک بات یاد رکھنا افروز۔۔۔اگر تمھارے بولے گئے یہ الفاظ سراسر جھوٹ ثابت ہوئے تو اس گھٹیا عدوات کے جواب میں تم میرے ہاتھوں بچ نہیں پاؤ گے۔۔۔یاد رکھنا۔۔۔۔“ دانت پیس کر اسے صاف دھمکی دیتا وہ حقیقتاً اپنا ضبط ہی تو کھو رہا تھا۔
جواباً مائک پر بلند ہوتی اناؤنسمنٹ پر تندہی سے کھڑے ہوتے افروز نے اس کے انداز پر تلخی سے بھنویں اچکائیں۔
”ثبوت کے طور پر میں کچھ ڈیٹا سینڈ کررہا ہوں جسے اپنا آپ منوانے کی خاطر میری طرف فارورڈ کرنے والا بھی خود شام تھا۔۔۔اپنی آنکھوں سے خود ساری اصلیت دیکھ لینا اے۔ایس۔ پی عائل حسن۔۔۔میرے لفظوں کی سچائی ثابت ہوجائے گی۔۔۔۔فی الحال تو میری فلائٹ کی اناؤنسمنٹ ہوچکی ہے۔۔۔قسمت میں ہوا تو پھر بات ہوگی۔۔۔خدا حافظ۔۔۔۔۔“ تلخ لفظوں سے آگ لگاتا وہ اب جا کر حقیقی معنوں میں اپنے سارے حساب بےباک کرگیا۔
جواباً سختی سے مٹھی بھینچے۔۔۔عائل نے مزید کچھ کہنا چاہا مگر تب تک وہ کال کاٹ چکا تھا۔
”ڈیم۔۔۔۔۔“ معاًموبائل کان سے ہٹا کر اسکرین کو غصے سے گھورتے عائل نے پلٹ کر بےاختیار ٹیبل پر سخت ہاتھ دے مارا۔
”مجھے پورا یقین ہے۔۔۔میرا بھائی کبھی اس حد تک گرہی نہیں سکتا۔۔۔۔شام ایسا۔۔۔ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔۔“ بےتابی سے بالوں میں ہاتھ پھنساتا وہ خود کو تسلی دیتے لہجے میں بول رہا تھا۔۔۔جب تواتر سے ہوتی مسیجنگ ٹیون اسکے دل کی دھڑکنیں بڑھا گئی۔
”ہاں۔۔۔ہاں مجھے یقین ہے۔۔۔شام کا اس سب میں کوئی۔۔۔۔“ عجلت میں نوٹیفیکشن کھولتا وہ سر ہلائے۔۔۔زیرِ لب بڑبڑا رہا تھا۔۔۔پر اگلے ہی پل اسکرین پر ایک ایک کرکے کلئیر ہوتی تصاویر دیکھتا وہ ساکت پڑا۔
نازیبا حالت میں سوئی حرمین زہرا کو اپنی برہنہ بانہوں میں لے کر خباثت سے مسکراتا وہ۔۔۔وہ شاہ میر حسن ہی تو تھا۔۔۔۔
”شام۔۔۔۔؟؟؟“ بےیقینی تلے لبوں کو جنبش دیتے ہوئے عائل کی نگاہوں میں تیزی سے سرخی پھیلتی چلی گئی۔
ہاں۔۔۔ہاں وہ اسکا اپنا بھائی تھا۔۔۔اسکا لاڈلا ترین۔۔۔
شفاف اسکرین پر انگوٹھے کو بڑی مشکلوں سے حرکت دیتے ہوئے جانے کیوں وہ اپنا مضبوط یقین پل پل کھورہا تھا۔۔۔۔
ہنوز حق دق کھڑا وہ ایک کے بعد ایک تصویر دیکھاتا چلا گیا۔
ویڈیو سے ہٹ کر۔۔۔دو سے تین جگہ لی جانی سیلفیز میں وہ اسی ایک پوز میں تھا۔۔۔۔جبکہ باقی تصاویر میں حرمین زہرا کا بےبس وجود تنہا تھا۔۔۔۔
یا پھر جانتے بوجھتے تنہا کیا گیا تھا۔۔۔
”تو کیا شام واقعی میں حرمین زہرا کا مجرم تھا۔۔۔۔؟؟
اسکی ذات۔۔۔عزت۔۔۔روح کی دھچیاں بکھرنے والا۔۔۔۔؟؟“
”حقیقت ہے۔۔۔
سراسر حقیقت ہے۔۔۔
کیوں۔۔۔؟؟؟کیوں نہیں ہوسکتا وہ قاتل۔۔۔۔؟؟؟
صرف اس لیے کہ ایک ایمان دار پولیس آفیسر کا سگا بھائی ہے وہ۔۔۔۔؟؟؟
نہیں عائل حسن۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔
میری بہن کی خودکشی کا حقیقی ذمے دار ہے تمھارا بھائی۔۔۔۔“ سائیں سائیں ہوتے دماغ میں شدت سے ابھرتی حاویہ کی چیختی آواز۔۔۔اسے ڈھیلا ہوکر ٹیبل کے ساتھ لگنے پر مجبور کرگئی تھی۔
”تمھارا اور حرمین زہرا کا تعلق کس حد تک گیا تھا۔۔۔۔؟؟؟“ معاً اسے خود کا شام سے کیا گیا سوال یاد آیا تھا۔
”حد مطلب۔۔۔؟؟؟
آپ۔۔۔۔آپ مجھ پر شک کررہے ہیں بھائی۔۔۔؟؟“ جواباً کس قدر حیران ہوا تھا ناں وہ۔۔۔
”لیکن پھر بھی میں آپکو۔۔۔۔محض آپکی تسلی کی خاطر یہ بات صاف بتائے دیتا ہوں کہ حرمین زہرا سے میرا تعلق صرف اور صرف برائے نام دوستی کی حد تک تھا۔۔۔
بالکل سادہ اور عام سا۔۔۔
اس سے ذیادہ کچھ بھی نہیں۔۔۔
انفیکٹ وہ تو خود انگیجڈ تھی یار۔۔۔
بھلا ایسے میں میرے ساتھ کیا خاک تعلق بناتی۔۔۔۔۔؟؟؟“ بنا ہکلائے ہچکچائے۔۔۔کی جانے والی حد کی اداکاری تھی وہ۔۔۔۔
عائل نے اذیت سے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر انھیں مٹھی میں دبوچا۔
”خود کشی سے کہیں ذیادہ وہ ایک قتل تھا۔۔۔
ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔۔۔جس کے تحت میری بہن کو خود کی جان لینے پرمجبورکردیا گیا۔۔۔
اور اس سب کی ذمہ دار فقط شاہ میر حسن کی ذات ہے۔۔۔۔
جھوٹی محبت کی آڑ میں حرمین زہرا کی عزت کی دھچیاں بکھرنے والا ایک لٹیرا ہے تمھارا بھائی۔۔۔۔دنیا بھر میں اس کے وجود کی سرعام تشہیر کرنے والا بےغیرت ترین انسان ہے وہ۔۔۔۔۔۔“ اگلے ہی پل حاویہ کی بھیگتی آواز اسکی سماعتوں میں زہر بن کر اتری تھی۔
پر تب۔۔۔تب وہ ان بدترین حقیقتوں کو تسلیم کرنے کی بجائے اسے جذباتی۔۔۔ پاگل ہی تو سمجھ رہا تھا۔
عائل انگارہ آنکھوں میں بےاختیار درآنے والی نمی کو بےدردی سے مسلتا اگلے ہی پل شدید بے چینی تلے رخ موڑ گیا۔
”پاگل۔۔۔۔
یس بھائی۔۔۔۔۔
بہن کی موت کا صدمہ اسے اس قدر پاگل کرچکا ہےکہ وہ بنا سوچے سمجھے اس حد تک چلی گئی ہے۔۔۔۔آپکو یاد ہو تو ایک بار میں نے چند غنڈوں سے لڑ کر حرمین زہرا کی عزت بچائی تھی۔۔۔اورعزت کا رکھوالا کبھی بھی ایک لٹیرا نہیں ہوسکتا لیکن اسے زبردستی لٹیرا بنانے والا پاگل ضرور ہوسکتا ہے۔۔جو کہ وہ الموسٹ ہوچکی ہے۔۔۔۔“ بھروسے سے ٹھیک ٹھاک کھیلتا کس قدر فریب دے گیا تھا وہ۔۔۔
سختی سے لب بھینچتے ہوئے بھنویں تن گئی تھیں۔۔۔جب اگلے ہی پل اس نے اشتعال تلے چلاتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا قیمتی موبائل فون دیوار پر دے مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا۔
پھر بڑی مشکلوں سے ضبط کے گہرے سانس بھرتا ہاتھ نیچے کرگیا۔
اففف۔۔۔۔یہ ثبوت سیاہ حقیقتوں کو کھولتا۔۔۔اسکی ذات پر حد سے ذیادہ بھاری ثابت ہوا تھا۔
ایسے میں وہاں آتے حوالدار نے قدرے حیرت سے عائل کی بپھڑی حالت دیکھی۔پھر سلوٹ کرتا اسے نرم آواز میں اپنی جانب تندہی سے دیکھنے پر مجبور کرگیا۔
”سر۔۔۔۔ریڈ ڈالنے کے لیے ہماری ٹیم مکمل تیار ہوچکی ہے۔۔۔اب بس آپکی آمد کے منتظر ہیں سب۔۔۔“ اسکی سلگاتی ہوئی محدود سوچوں کے لیے نئے در وا کرتا اطمینان سے گویا ہوا تو عائل نے بمشکل خود کی حالت پر قابو پاتے ہوئے منہ پر ہاتھ پھیرا۔پھر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے آگے ہوکر ٹیبل کے ایک طرف دھری اپنی کیپ اٹھائی۔
شام کے خلاف افروز کی انتقاماً پھیلائی ہوئی آگ اے۔ایس۔پی عائل حسن کے وجود میں پوری طرح سے بھڑک چکی تھی۔۔۔
پر اس سب کے باوجود بھی وہ اپنے فرض سے فارغ ہوکر۔۔۔
فقط ایک بار۔۔۔ایک آخری بار اپنے بھائی کے لبوں سے اعتراف ِجرم سننے کا خواہاں تھا۔۔۔


”سنو۔۔۔۔۔“ وہ جو کچن کی دہلیز پر چند پل رک کر خاموشی اسے کام کرتا دیکھ رہا تھا۔۔۔اگلے ہی پل اندر آتا اسے مخاطب کرگیا۔
نتیجتاً اسکی بھاری سرد آواز پر خود کے لیے گھی میں شامی کباب تل رہی حلیمہ چونک کر پل بھر کو ساکت ہوئی۔۔پر پلٹی پھر بھی نہیں تھی۔۔
گویا کچھ سنا ہی نہ ہو۔۔۔۔
”میں تم سے مخاطب ہوں۔۔۔۔ایک بار میں سنائی نہیں دے دیتا کیا۔۔۔؟؟؟“ اسے خود کی جانب پلٹنے کی بجائے ہنوز بےنیازی سے کام کرتا دیکھ وہ بےاختیار اسکی طرف لپکتا سپاٹ لہجے میں بولا۔۔۔تو گہرا سانس بھرتی وہ سختی سے لب بھینچ گئی۔
اتنے دنوں کی گہری اجنبیت کے بعد سے اب جانے کس مقصد کےتحت وہ اسے اپنی موجودگی کا شدت سے احساس دلانا چاہ رہا تھا۔۔۔؟؟جبکہ وہ تو اسکے سامنے آنے سے بھی گریزاں تھی۔۔۔
”سننے اور دیکھنے میں بہت فرق ہوتا ہے سالار صاحب۔۔۔میں اگر آپ کی طرف دیکھ نہیں رہی تو اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ میں سننے سے محروم ہوچکی ہوں۔۔۔۔“ چمٹے کی مدد سے ایک ایک کرکے شامی کباب کا بروقت رخ بدلتی ۔۔۔وہ کچھ پل کا توقف لے کر بےتاثر لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
اسکے یوں رکھائی سے دوبدو جواب دینے پر قریب رکتا وہ اگلے ہی پل کچھ جھجھک کر اسکا رخ جھٹکے سے اپنی جانب موڑ چکا تھا۔
”پر میں براہِ راست آنکھوں میں دیکھ کر بات کرنے کا عادی ہوں۔۔۔۔“ اسکے برہم ہوتے نقوش تکتا وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔تو اسکی جانب دیکھ کر ناچاہتے ہوئے بھی حلیمہ کا دل دھڑک اٹھا۔
”حیرت ہے۔۔۔اتنا سب کرنے کے باوجود بھی براہِ راست آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت رکھتے ہیں آپ۔۔۔۔۔“ جھٹکے سے اپنا بازو مقابل کی نرم گرفت سے چھڑواتے ہوئے اس نے۔۔۔گہرے طنز کی آڑ میں اسے حقیقت کا آئینہ دکھایا تھا۔۔۔
وہ آئینہ جس سے نگاہیں چرانا تو سالار خان کو گوارا تھا۔۔۔
پر بغور دیکھنا قطعی گوارا نہیں تھا۔۔۔۔
جواباً ضبط سے لب بھینچ کر بےاختیار اسکے پہلے کی نسبت کمزور ہوچکے چہرے سے نگاہیں ہٹاتا اپنا رخ پلٹ گیا۔۔۔تو حلیمہ نے تاسف سے سر جھٹکتے اگلے ہی پل پلٹ کر ہلکی سی جلتی آنچ بجھائی۔
”مجھے۔۔۔بھوک لگی ہے۔۔۔ کھانے کو جی چاہ رہا ہے میرا۔۔۔۔تم کچھ بھی تیکھا سا بنا دو۔۔۔۔“ شفاف فرش کو گھورتا ہوا وہ سرد لہجے میں حکم دیتا ہنوز وہیں کھڑا تھا۔
”سلمہ کو کہہ دیتی ہوں۔۔۔وہ بنادے گی۔۔۔۔“ مکمل تل چکے شامی کباب ایک ایک کر کے پلیٹ میں رکھتی وہ ملازمہ کا حوالہ دیتے ہوئے اسکی بھوک سے صاف لاپرواہی جتاگئی تھی۔
اس کے اس قدر کورے جواب پر سالار کی پیشانی پر بل پڑتے چلے گئے۔معاً مکمل ضبط کھوکر اسکی جانب پلٹتا اب کہ وہ اسکی کلائی تھام کر اپنی گرفت میں چکا تھا۔
”خان۔۔۔۔۔“ اس کی جانب بےاختیار ہوکر کھینچے چلے جانے پر بوکھلاہٹ کے سبب حلیمہ کے ہاتھ سے چمٹا نیچے گرچکا تھا۔
”اسکے ہاتھوں کا روکھا پھیکا پسند نہیں ہے مجھے۔۔۔۔تمھارے ہاتھوں کا تیز مرچی والا آگ لگاتا ذائقہ چکھنا چاہتا ہوں۔۔۔اب سیدھی سادھی عادتیں بگاڑی ہیں سو مجبوراً برداشت تو کرنا ہی پڑے گا۔۔۔بلاوجہ کے نخرے کیوں دکھارہی ہو۔۔۔۔؟؟“ سالار خان سلگ کر بولتا اسکی کلائی پر اپنی گرفت مزید سخت کرگیا تھا۔
جانے کیوں وہ حلیمہ کا خود کے لیے اس حد تک سرکش لہجہ چاہ کر بھی برداشت نہیں کرپارہا تھا۔
”ہاتھوں اور باتوں سے مرچیں لگانے کی عادت آپکو ضرور ہوگی سالار صاحب۔۔۔۔پر نخرے دکھانے کی عادت مجھ میں قطعی نہیں ہے۔۔۔ اب چھوڑئیے میرا ہاتھ۔۔۔۔۔۔“ نم آنکھوں کے ساتھ بگڑ کر بولتی وہ کوششوں کے باوجود بھی اپنی کلائی نہیں چھڑوا پائی تھی۔
”نہ چھوڑوں تو۔۔۔۔۔؟؟؟“ مزاحمت روکنے کو ہلکا سا جھٹکا دے کر قریب کرتا وہ بھی جیسے ضد میں آیا تھا۔
”ایک بار تھام کر چھوڑ تو چکے ہیں۔۔۔اب کچھ فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔“ اسکی جانب برہمی سے دیکھتی وہ سلگ کر بولی تو سالار اسکی سرخ پڑتی آنکھوں میں بھیگی بھیگی سی اذیت دیکھتا بے اختیار نرم پڑا۔
”حلیمہ میں۔۔۔۔“ لبوں پر زبان پھیرتا وہ کچھ کہنا چاہتا تھا جب درشتگی سے اپنا ہاتھ چھڑاتی وہ اس سے دور ہوئی۔
”اپنی بگڑی عادتیں واپس سدھار لیجیے سالار صاحب۔۔۔۔ٹھیک ویسے ہی جیسے میں سدھار چکی ہوں۔۔۔۔مانتی ہوں تھوڑا مشکل ضرور ہے۔۔۔پر بہتری اس مشکل سے کئی بڑھ کر ہے۔۔۔۔۔۔“ گہرے سانسوں کے بیچ سرد لہجے میں کہتی ہوئی وہ بےدردی گالوں پر لڑھکتے آنسو پونچھ گئی۔پھرپلٹ کر شامی کباب کی پلیٹ اٹھاتی تیزی سے وہاں سے جانے کو دہلیز کی جانب لپکی۔
”میرا نہیں تو خود کا ہی خیال کرلو۔۔۔۔خان کی مچلتی بھوک تمھاری سکون بھری نیندیں اڑادینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔۔۔۔“ جلدی سے بولتا وہ جاتے جاتے۔۔۔اسے رکنے پر مجبور کرگیا تھا۔
”عادتیں بدل گئی ہیں۔۔۔۔سو صلاحیتیں بھی بدل چکی ہیں۔۔۔غلط فہمیوں سے باہر نکل آئیے سالار صاحب۔۔۔لاعلاج ہونے کہ ساتھ ساتھ یہ اکثر جانلیوا بھی ہوا کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔“ بنا اسکی جانب پلٹے۔۔۔وہ اپنے دل کی بڑھتی دھڑکنوں کو سرے سے فراموش کرتی۔۔۔ مکمل بے حس بننے میں کامیاب ٹھہری تھی۔
اگلے ہی پل حلیمہ کو ضبط سے سرخ پڑتی نگاہوں سے اوجھل ہوتا دیکھ وہ وہیں کا وہیں کھڑا رہ گیا۔
وہ حقیقتاً حیران تھا۔۔۔
حیران تھا کہ ہمیشہ اسکی محبتوں میں دم بھرنے والی وہ لڑکی دنوں میں کس قدر بدل چکی تھی۔۔۔۔
اسکے ضبط آزماتے رویے کو سوچتے ہوئے سالار کے اندر الگ بے چینی پنپنے لگی تھی۔۔۔۔
معاً غصے سے سر جھٹکتا وہ بھی وہاں سے جانے کو تھا۔۔۔جب اچانک سلمہ نامی ملازمہ سامنے آتی اسے ٹھٹھک کر رکنے پر مجبور کرگئی۔
”خان جی۔۔۔۔آپکا جو بھی تیکھے ذائقے والی شے کھانے کو دل چاہ رہا ہے وہ آپ مجھے بتادیں۔۔۔میں فوری بنادیتی ہوں۔۔۔۔۔۔“ نرمی سے پوچھتی وہ حقیقتاً اسے طیش ہی تو دلا گئی تھی۔
”بکواس بند کرو اپنی اور جاکر اپنی چھوٹی بی بی کو بتادو کہ بھوک مرچکی میری۔۔۔۔۔۔“ بھڑک کر کہتا وہ مزید وہاں رکا نہیں تھا۔۔۔بلکہ ملازمہ کو حیران چھوڑتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔


ڈھلتی شام پل پل سرکتی اب کہ گہری سیاہ رات میں گھلنے کے درپے ہورہی تھی۔
ایسے میں۔۔۔موسم میں صاف پنپتا بدلاؤ حقیقتاً خوشگوار تھا۔۔مگر کمرے سے ملحقہ ٹیرس پر کھڑی ہوکر لامحدود آسمان کو خالی نگاہوں سے تکتی اس نازک جاں کے تیور۔۔۔چاہ کر بھی خوشگوار نہیں کرپایا تھا۔
کتنے ہی دن گزر گئے تھے اسے شام کی ہنوز غیرموجودگی میں یہاں اجنبیوں کی سی زندگی گزارتے ہوئے۔۔۔
گزشتہ دنوں میں۔۔۔عائل کئی بار خود سے اسکے قریب آتا اس کا دل بری طرح دھڑکا چکا تھا۔۔۔پر اس کے باوجود بھی انا کے خول میں مکمل سمٹی وہ اسکے اور خود کے بیچ ہنوز ایک گہری حد بنائے ہوئے تھی۔۔۔
دوپٹے سے بےنیاز۔۔۔وہیں کھڑے کھڑے وہ گہرا سانس بھرتی لب بھینچ گئی۔
اس دوران۔۔۔صرف ایک بار ضد کرکے وہ عائل کے ہمراہ نفیسہ بیگم سے ملنے اپنے گھر گئی تھی۔۔۔
ارادہ تو صاف شکوہ و شکایات کرنے کا تھا پر وہ بھی ماں تھیں۔۔۔
جبھی ان سے گھر بسانے کی خاطر لاتعداد نصحتیں اور شفقتیں سمیٹتی شکست خوردہ سی۔۔۔اسی روز واپس لوٹ آئی تھی۔
دوسری طرف حسن صاحب کا سلوک جہاں اس سے سادہ اور کافی حد تک محدود تھا۔۔۔وہیں عائمہ بیگم اس سے چوبیس سو گھنٹے بلاوجہ کا۔۔۔اچھا خاصا بیر پالے ہوئے تھیں۔
”اففف بددماغ لڑکی۔۔۔تمھاری ماں نے امیر لوگوں سے عشق معشوقیاں لڑانے کے سوا تمھیں کچھ اور ڈھنگ کا سیکھایا بھی ہے کہ نہیں۔۔۔؟؟میرے اتنے قیمتی سوٹ کا ستیاناس کردیا تم نے۔۔۔جان بوجھ کر کیا ہے ناں یہ سب۔۔ہہمم۔۔۔؟؟“ آج صبح ہی کئی گھنٹوں کی انتھک محنت سے وہ جانے کتنے ہی سوٹ استری کر چکی تھی۔۔۔مگر پھر۔۔۔تپتی استری تلے اپنے قیمتی سوٹ کا دامن جلنے پر عائمہ بیگم قدرے بگڑ کر پوچھتی اسے پل بھر کو سہمنے پر مجبور کرگئی تھیں۔
”میں نے جان بوجھ کر کچھ بھی نہیں کیا آنٹی۔۔۔جو بھی ہوا ہے غلطی سے۔۔انجانے میں ہوا ہے۔۔۔۔۔اور رہی بات عشق معشقیوں کی تو ہاں۔۔۔ مجھے یہ سب کرنے کے علاوہ بخوبی نبھانا بھی آتا ہے۔۔۔پر آپکی اولاد تو محض ڈھونگ رچانے کی حد تک ہی ماہر ہے۔۔۔“ جواباً کیا جانے والا طنز اس قدر گہرا تھا کہ عائمہ بیگم اشتعال تلے بےاختیار اسکا بازو دبوچ گئی تھیں۔
وہ ان افسردہ کرتی سوچوں میں مزید گہرائی سے اترجانا چاہتی تھی۔۔۔جب اگلے ہی پل سماعتوں سے ٹکراتا کسی کا بھاری ہنکارا اسے بڑی طرح ٹھٹھک کر پلٹنے پر مجبور کرگیا۔
”ہاااا۔۔۔ا۔۔۔ہ۔۔۔ہ۔۔۔۔۔۔“ مقابل کو اتنے دنوں بعد اپنے بےحد قریب دیکھ جہاں حاویہ کے لبوں سے نکلتی گھٹی آواز بےساختہ تھی۔۔۔وہیں جینز کے پاکٹس میں دونوں ہاتھ پھنساتا وہ ہولے سے مسکرایا۔
سہمے نقوش دیکھ بھوری نگاہوں کی چمک بڑھی تھی۔
”دھڑلے سے دن رات بڑی بڑی دھمکیاں دینے والی عورت فقط ایک چھوٹے سے ہنکارے پر اس قدر خوفزدہ ہوچکی ہے۔۔۔اففففف بھابی جان اففففف۔۔۔۔“ اسکی بےیقین نگاہوں میں شدت سے جھانکتا شام لطف لیتے لہجے میں گویا ہوا۔۔۔تو اسکی غیرمتوقع آمد پر پل میں یقین کرتی وہ جلدی سے ہوش میں آئی۔پھر قدرے تیزی سے اسکی سائیڈ سے ہوکر نکلتی۔۔۔بیڈ کے کنارے۔۔۔رکھے دوپٹے تک پہنچی۔
اسکی اس قدر پھرتی پر خباثت سے لب دباتا وہ بھی چلتا ہوا اسکے پیچھے آیا تھا۔
ایگزامز کے اختتام پر فارم ہاؤس سے گھر لوٹنے پر۔۔۔گارڈ سے ملتی عائل کی لمبی غیرموجودگی خبر اسے شدت سے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کرگئی تھی۔۔۔جبھی تو بنا کسی کی نگاہوں میں آئے وہ سیدھا اسکے پاس کمرے تک چلا آیا تھا۔۔
پھر بھلا دھمکانے کی آڑ میں وہ اس چھیڑخانی سے کیونکر باز آتا۔۔۔؟؟
تم۔۔۔؟؟تم اس وقت یہاں میرے کمرے میں کیا کررہے ہو۔۔۔؟؟؟“ سر پر ٹھیک سے دوپٹہ درست کرتی وہ۔۔۔ اسکے ڈھٹائی سے مقابل آکر رکنے پر دبے دبے غصے میں چلائی۔۔۔ تو شام بغور اسکے تنے نقوش دیکھتا بھنویں اچکا گیا۔
”اطمینان سے دو چار باتیں کرنے آیا ہوں تم سے۔۔۔جسٹ اٹ۔۔۔“ سادگی سے بولتا وہ اپنی جذباتی طبیعت کے برعکس ہنوز پرسکون تھا۔
”پر مجھے اس وقت تم سے دو چار تو کیا۔۔۔ایک بات کرنے میں بھی رتی بھر دلچسپی نہیں ہے۔۔۔سنا تم نے۔۔۔۔اب نکلو۔۔۔ نکلو میرے کمرے سے فوراً۔۔۔۔؟؟“ چٹخ کر بولتی وہ ادھ کھلے دروازے کی طرف صاف اشارہ کرگئی تھی۔
اس بدلحاظی پر اب کہ شام کے وجیہہ نقوش بھی پل میں سپاٹ ہوئے تھے۔
”او ہیلو کیا۔۔۔۔؟؟تمیز سےبات کررہا ہوں ناں میں تم سے۔۔۔۔ہہمم۔۔۔۔۔؟؟کررہا ہوں ناں بات تمیز سے۔۔۔؟؟سو تم بھی سیم تمیز کے دائرے میں رہ کر سکون سے بات کرو مجھ سے۔۔۔۔میں ایسے بگڑے رویوں کا عادی ہرگز نہیں ہوں۔۔سمجھی۔۔۔۔۔“ شہادت کی انگلی اٹھائے۔۔۔جھٹک کر سخت لہجے میں بولتا وہ بےاختیار ایک قدم اسکی جانب لے گیا۔۔۔تو نفرت سے اسے دیکھتی حاویہ احتیاطاً پیچھے کو ہوئی۔
ایسے میں دل وحشتوں تلے پھڑپھڑایا تھا۔
”اور میں کسی گھٹیا انسان کے رعب میں آنے کی عادی نہیں ہوں۔۔سمجھے تم۔۔۔۔۔“ تیکھے لہجے میں دو بدو جواب دیتی وہ اسے ضبط سے بالوں میں ہاتھ پھیرنے پر مجبور کرگئی۔
”ابے باررررر۔۔۔۔چھٹانک بھر کی ہونے باوجود بھی اتنااااا اٹیٹیوڈ۔۔۔کمال ہے۔۔۔۔۔“ اسکے سراپے کو گھور کر دیکھتا وہ ناچاہتے ہوئے بھی تمسخرانہ گویا ہوا۔۔۔تو اسکی بےلگام نگاہوں کو انداز پر حاویہ کے تیوری چڑھی۔
”اور یہ جو اس حسین چہرے پر بلا کا غصہ ناچ رہا ہے ناں۔۔۔ اسکی وجہ بھی خوب اچھے سے سمجھ رہا ہوں میں۔۔۔۔ڈیم شیور دن رات تم بھائی کو میرے خلاف بھڑکاتی پھرتی ہوگی پر بدلے میں وہ تمھاری کسی ایک بھی بات کا یقین نہیں کرتے ہوں گے۔۔۔رائٹ۔۔۔؟؟“ کہتے ہوئے اس نے بنا ہچکچائے اسکے نرم سانولے رخسار کو دو انگلیوں سے چھونا چاہا تھا جب اسکی جرات پر پل بھر کو حیران ہوتی وہ درشتگی سے اسکا ہاتھ پرے جھٹک گئی۔
”اپنی اوقات میں رہو تم۔۔۔۔دوبارہ چھونے کی غلطی مت کرنا ورنہ بہت بھاری پڑے گی تم پر یہ حرکت۔۔۔۔۔“ انگلی اٹھا کر سلگتے۔۔ تنبیہی انداز میں بولتے ہوئے۔۔۔ضبط کے باوجود بھی اسکی نگاہوں میں بھیگی سرخی گھلی تھی۔
جواب میں سمجھنے کی اداکاری کرتے ہوئے شام سر کو جنبش دیتا۔۔۔ کمینگی سے مسکرایا۔۔۔
مقابل کھڑی لڑکی کو تپانے میں جانے کیوں اسے اس قدر لطف آرہا تھا۔۔۔۔جو بظاہر بہادر بن کر اسکی نزدیکیوں پر مزاحمت کرتی۔۔۔حقیقتاً اسکی موجودگی سے پل پل وحشتوں کا شکار ہورہی تھی۔
”اوقات۔۔۔ہاں۔۔؟؟؟۔۔۔۔اور اپنی اوقات جاننا چاہو گی کیا ہے۔۔۔؟؟میں بتاتا ہوں۔۔۔۔ایک پرائی ملازمہ کی آپ بیتی سن کر اسکے مجرم کو سزا دینے والے شخص کے لیے۔۔۔اپنی ہی بیوی کی سچائی پر یقین کرنا عذاب لگ رہا ہے۔۔۔۔بس یہی۔۔۔۔یہی اوقات ہے تمھاری۔۔۔۔ایک عدد ملازمہ سے بھی گئی گزری۔۔۔۔“ آمنہ نامی اپنی سابقہ ملازمہ کی بابت حوالہ دیتا وہ گہرے طنز پر حاویہ کی آنکھیں شدت سے بھگو گیا تھا۔
اسے یاد آیا تھا جب عائل حسن انہی کے محلے میں آکر مار دھاڑ کرتا کیسے اس لڑکے کو پولیس موبائل میں ڈال کر تھانے بھیج چکا تھا۔
”کیونکہ مجرم کے طور پر مقابل سگا بھائی ہے۔۔۔وہ بھائی جس پر اندھا اعتماد کرکے میرا شوہر غلطی کررہا ہے۔۔۔اور تم۔۔۔اسی اعتماد کی دھچیاں اڑا کر غلطی نہیں بلکہ گناہ کر رہے ہو گناہ۔۔۔اپنے کیے کی پاداش میں بہت جلد ذلیل ہوگے تم شام۔۔۔یاد رکھنا۔۔۔اتنی آسانی سے اپنی بہن کے مجرم کو معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔“ پلکیں جھپکا جھپکا کر شدت سے باور کرواتے ہوئے اسکا لہجہ ڈگمگایا۔۔ تو آنسو بےاختیار اسکے رخساروں پر لڑھک آئے۔
نتیجتاً لاپرواہی سے سر جھٹکتے ہوئے وہ حقارت سے بھنویں اچکا گیا۔
اطمینان قابلِ دید ہی تو تھا۔
”جانتی ہو؟؟تین لاکھ۔۔۔پورے تین لاکھ میں تمھاری پارسا بہن نے اس رات مجھ سے اپنی عزت کا سودا کیا تھا۔۔۔اُس تھری لئیرڈ نیکلس کو دیکھ کر مکمل پگھل چکی تھی وہ میرے آگے۔۔۔“ سفاکی سے بولتے ہوئے اس نے بے اختیار بےباک نگاہوں سے اسے سرتاپیر بغور دیکھا۔۔۔تو شدتِ ضبط سے گہرے سانس بھرتی وہ نازک مٹھیاں بھینچ گئی۔
”لیکن تم چونکہ۔۔اسکے مقابلے میں خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ کافی حد تک تیکھی بھی ہو۔۔۔ تو تین کی بجائے۔۔چھ لاکھ بھی اڑانے کو تیار ہوں میں تم پر۔۔۔بس تمھاری ایک عدد ہاں چاہیے۔۔۔۔“ ٹھوڑی کھجاکر مست سے لہجے میں بولتا وہ بھابی جیسے رشتے کو بھی فراموش کرچکا تھا۔۔۔جبکہ مقابل کہ اس حد تک گر جانے پر اپنا مکمل ضبط کھوتی وہ بےاختیار اس پر جھپٹ پڑی۔
”تم گھٹیا۔۔۔ ذلیل ترین انسان۔۔۔ہمت بھی کیسے ہوئی تمھاری میرے بارے میں یہ سب سوچنے کی۔۔۔ایسی۔۔ایسی بدترین بکواس کرنے کی۔۔۔۔۔؟؟“ گریبان سے دبوچ کر درشتگی سے پوچھتی وہ اگلے ہی پل اس پر ہاتھ اٹھانے کو تھی۔۔۔جب بروقت اسکی کلائی بیچ میں دبوچتا۔۔وہ دوسری بھی قدرےسختی سے تھام کر اسے اپنی جانب جھٹک چکا تھا۔
اسکی اس قدر جرات پر خائف ہوتی حاویہ کے دماغ کی رگیں پھٹنے کے قریب ہوئی تھیں۔
”اگر جو آج تمھارا یہ تھپڑ غلطی سے بھی میرے چہرے پر اپنی چھاپ چھوڑ جاتا ناں۔۔۔تو یقین کرو حرمین زہرا کا میں نے جو حشر کیا سو کیا۔۔۔پر تمھارا اس سے کہیں ذیادہ بدتر حال کرتا کہ جینا دو بھر ہوجاتا۔۔۔۔“ حاویہ کے رخساروں پر پھسلتے آنسوؤں کو دیکھتا جہاں وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تھا۔۔۔وہیں دہلیز پر ساکت کھڑے اس وجود کا دل۔۔۔شدتِ تکلیف سے پوری طرح ڈوب گیا۔
”چھو۔۔چھوڑو مجھے غلیظ انسان۔۔چھوڑو نہیں تو میں تمھاری جان لے لوں گی۔۔۔۔۔“ اسکی سخت گرفت میں بری طرح مچلتی حاویہ کی ہراساں نگاہوں نے۔۔۔بےساختہ بھٹک کر سامنے دروازے تک پل میں سفر کیا تو ٹھٹھک کر ساکت ہوئی۔
”عاااائل۔۔۔۔۔۔۔“ اگلے ہی پل چلا کر بولتی جہاں وہ شدت سے اسکا سکتہ توڑ گئی تھی وہیں شام بھی اسے خود سے پرے دھکیلتا جھٹکے سے پلٹا۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞