Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6


اجازت ملنے پر وہ ہاتھ میں ٹرے پکڑے جیسے ہی روم میں داخل ہوئی تو شاہ آنکھوں میں ڈھیروں چمک لیے اُسے دیکھتا ہوا بےاختیار لیپ ٹاپ پیچھے گھسیٹ گیا۔
”سر۔۔۔۔ کافی۔۔۔۔“ سر جھکائے مدھم لہجے میں بولتی وہ آگے بڑھی کہ تبھی وہ بھی اپنی سیٹ سے اُٹھ گیا۔ کالے شوز میں مقید اُسکے قدموں کو اپنی جانب آتا دیکھ کر وہ وہی رک گئی۔گھنیری پلکیں اُٹھاتے ہی آبرو کو ایک قدم کے فاصلے پر رکتے مقابل کا وجیہہ چہرہ دکھائی دیا تو دل شدت سے دھڑک اٹھا۔
”ویسے تو میں کافی نہ ہونے کے برابر پیتا ہوں۔۔۔لیکن اگر مجھے آپکے ہاتھ کا ٹیسٹ پسند آیا تو ہر روز اسی طرح مجھے کافی پیش کرنا آپکی جاب کا حصہ ہوگا مس آبرو۔۔۔۔“ ہاتھ جیبوں میں پھنسائے اُسکی اٹھتی جھکتی پلکوں کا کھیل دیکھتے ہوئے وہ اپنے مخصوص لب و لہجے میں گویا ہوا تو اُسکی دلفریب مسکراہٹ سے نظریں چُراتی وہ محض سرہلاگئی۔
شاہ نے ٹرے کے بیچ میں سے مگ اٹھانے کی بجائے جان بوجھ کر پوری ٹرے ہی اُسکے مومی ہاتھوں سے لے لی۔
آبرو کو اپنی انگلیوں پر اُسکا سلگتا لمس محسوس ہوا تو وہ ہڑبڑا کر بےاختیار اپنے ہاتھ کھینچ گئی۔ اُسکی گھبراہٹ پر ٹرے ٹیبل پر رکھتے شاہ کے لب ہولے سے مسکرائے جو اب سر جھکائے اپنی نازک و مخروطی انگلیاں شدت سے مروڑ رہی تھی۔
”ہممم۔۔۔۔اٹس امیزنگ۔۔۔۔آئی لائیک اِٹ۔۔۔“ مگ اٹھاکر کافی کا لمبا گھونٹ بھرتا وہ ستائش بھرے لہجے میں بولا تو آبرو نے بےساختہ اُسکی جانب دیکھا۔
”تھینک یو سر۔۔۔۔“ بمشکل مسکرا کر اپنی تعریف وصولتی وہ اپنی پکی ڈیوٹی لگ جانے پر اندر ہی اندر رنجیدہ ہوئی تھی۔
”آپکے ہاتھ کے ٹیسٹ سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آپ کو کوکنگ میں بھی خاصی مہارت حاصل ہے مس آبرو۔۔۔۔میں صحیح کہہ رہا ہوں ناں۔۔۔۔؟؟؟“ کافی کے مزید سِپ لیتے شاہ نے تعریف کرتے ہوئے قدرے دلچسپی سے استفسار کیا۔
”یس سر۔۔۔۔۔۔“ وہ اُسکے اتنی باریک بینی سے درست اندازہ لگانے پر حیران ہوئی تو وہ اُسکی نیلی آنکھوں میں شدت سے جھانکتا کھل کر مسکرایا۔ ”گڈ۔۔۔۔کاش کہ مجھے بھی آپ جیسی کُک مل جائے ہمیشہ کے لیے۔۔۔ میری جو میڈ ہے اُس سے تو میں مکمل اکتا چکا ہوں۔۔۔بہت فضول کوکنگ کرتی ہے وہ۔۔۔۔“ ڈھکے چھپکے الفاظ میں اپنی دلی خواہش کا اظہار وہ بڑے دھڑلے سے کرگیا تھا مگرساتھ ہی اپنا پرسنل میٹربھی بڑے آرام سے شیئر کرتا وہ اُسے حیران پر حیران کرتا جارہا تھا۔
”سر۔۔۔۔آپکو اور کوئی کام ہے۔۔۔یا میں جاؤں۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکی باتوں سے پل پل خائف ہوتی آبرو کی حالت غیر سی ہونے لگی تو وہ بولے بغیر رہ نہ سکی۔
” کام تو بہت سے ہیں آپ سے۔۔۔لیکن پہلے مجھے یہ بتائیں کہ آپ ہر وقت اتنی جلدی میں کیوں رہتی ہیں مس آبرو۔۔۔۔؟؟“ معنی خیز انداز میں بولتا شاہ اُسکے تقاضے کو بڑی صفائی سے رد کرگیا۔
”نہیں تو۔۔۔۔ایسا تو کچھ نہیں۔۔۔میں تو بس کام کی وجہ سے۔۔۔“ عجلت میں بولتی وہ اس شکایت پر رودینے کو ہوئی تو شاہ کو اپنی طبیعت کے برخلاف اُس پر رحم سا آگیا۔
”ریلکس۔۔۔۔آپ جاسکتی ہیں۔۔۔اور ہاں۔۔۔ہرروز اسی ٹائم پر کافی میرے روم میں لےکر آنا اب آپکی ذمہ داری ہے۔۔۔مجھے دُہرانے کی ضرورت پیش نہیں آنی چاہیے۔۔۔از دیٹ کلیئر۔۔۔۔؟؟“ اپنے غارت ہوتے موڈ کی پرواہ کیے بغیر گہرا سانس بھرتا وہ بھرپورسنجیدگی سے بولا۔
”یس سر۔۔۔۔“ تیزی سے سر کو جنبش دیتی وہ اگلے ہی پل وہاں سے نکلتی چلی گئی۔ پیچھے وہ اپنی کافی جوکہ اُسے ہمیشہ سے ناپسند رہی تھی کا آخری گھونٹ بھرتا پُرسوچ انداز میں مسکرادیا۔اُسکے ہاتھ کا ٹیسٹ تو وہ حاصل کر ہی چکا تھا بس اب اُس پری پیکر کو حاصل کرنا باقی تھا۔
💞💞💞💞💞💞
ٹیچر کی عدم موجودگی کے باعث پوری کلاس میں سٹوڈنٹس کی باتوں کا شور پھیلا ہوا تھا جب وہ کافی عجلت بھرے انداز میں لب کاٹتی اپنا پنک بیگ ٹٹول رہی تھی۔ اگلے ہی پل فارم پیج ہاتھ آتے ساتھ ہی اُسکے لب خوشی سے پھیلے تھے۔تبھی وہ شکر کا سانس بھرتی اپنے پاس بیٹھی نیناں کا ہاتھ پکڑتی ہوئی سیٹ سے اُٹھ گئی۔
” کہاں بھئی۔۔۔۔؟؟؟“ وہ جو اردگرد سے بےبہرہ نوٹس پر جھکی بیٹھی تھی خود کو ایکدم سے اُسکے ساتھ گھسٹتا محسوس کرکے بےاختیار چلائی۔
”یہ فارم میں نے فل کردیا تھا لیکن ابھی تک سر کو جمع نہیں کروایا۔۔۔وہی دینے جارہی ہوں سر کے پاس۔۔۔تم بھی چلو میرے ساتھ۔۔۔“ اپنا بھول پن اُس پر دھیمے لہجے میں واضح کرتی وہ اُسے کلاس روم سے باہرتک لے آئی تھی۔
”ویسے تو تمھاری بڑی زبان چلتی ہے۔۔۔اور اتنی اہم چیز بھول گئی تم۔۔۔حد ہے ویسے۔۔۔“ اس اچانک افتاد پر پھیکی پڑتی نیناں اپنی زبان کو قینچی کی طرح چلنے سے روک نہیں پائی تھی تبھی حاویہ نے اُسکا ہاتھ جھٹکتے اُسے غصے سے گھورا۔
”ذیادہ بکواس نہیں کرو میرے ساتھ۔۔۔۔چلنا ہے تو چلو۔۔۔نہیں تو میں اکیلے ہی چلی جاتی ہوں۔۔۔“ حاویہ اُس پر برہم ہوتی اُسے وہیں چھوڑ کر بس دو قدم ہی آگے بڑھی تھی جب ہوش میں آتی نیناں نے اُسے بازو سے پکڑ کر روکا۔
”او او۔۔۔میری پیاری بہن ایک تو تم چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی یہ چھوٹی سی ناک پھلاکر بیٹھ جاتی ہو ناں بس۔۔۔۔چل تو رہی ہوں تمھارے ساتھ۔۔۔“ قدرے نرمی سے بولتی وہ حاویہ کو اُسکی برائی گنواتی ہوئی منانے کی اپنی سی کوشش کرنے لگی۔
”چلو۔۔۔۔“ اُسکے سر پر ہلکی سی چپت لگاتے وہ احسان کرنے والے انداز میں بولی تو نیناں اُسکے اتنی جلدی مان جانے پر کھل کر مسکراتی اُسکے ہمقدم ہوئی۔
”مے آئی کم اِن سر۔۔۔۔۔؟؟؟“ دروازے سے ذرا سا سرنکال کر اندر جھانکتی ہوئی قدرے نرمی سے اجازت طلب کرتی حاویہ براہ راست سرعبدالجبار سے مخاطب تھی۔ایسے میں وہ یقیناً آفس کے اندر بیٹھے اے۔ایس۔پی عائل حسن کی موجودگی سے قطعی بےخبر تھی جو اُسکی آمد پر پل بھرکو چونکتا سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔
”یس۔۔۔۔کم اِن۔۔۔۔“ سر عبدالجبار ناچاہتے ہوئے بھی اخلاق کے تقاضے پورے کرتے اُسے آرام سے اجازت دےگئے تو وہ دونوں پورا دروازہ کھول کر آفس میں داخل ہوگئیں۔
تبھی حاویہ کی نظر بائیں جانب دیوار کے ساتھ رکھے ٹوسیٹر صوفے پر گئی جہاں عائل بلیک شرٹ اور جینز میں آنکھوں میں چمک لیے بظاہر سنجیدگی سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ الگ بات تھی کہ اُسکی یہاں موجودگی پر وہ اپنی حیرت بڑی صفائی سے چھپا گیا تھا۔
بھوری آنکھوں سمیت ہولے سے منہ کھولتی وہ اپنی جگہ پر جم سی گئی تو وہ اُسکی حالت دیکھ کر بےساختہ امڈ آنے والی مسکراہٹ کو روکتا لب بھینچ گیا۔
نیناں کی حالت بھی حاویہ سے کچھ کم نہیں تھی۔
”جی۔۔۔۔؟؟؟“ دونوں کی بےوجہ خاموشی کو شدت سے محسوس کرتے سر عبدالجبار نے اُنکی اچانک آمد کی وجہ جاننا چاہی تو بروقت ہوش میں آتی نیناں نے حاویہ کو خفیہ انداز میں ٹہوکا دیا۔
” کیا ہے بھئی۔۔۔۔؟؟؟“ وہ جو عائل کی موجودگی کو یقینی بنانے کی غرض سے اُسے سرتاپیر گھوررہی تھی ایکدم سے جھٹکا کھانے پر نیناں پر بھڑکتی اگلے ہی پل ہوش میں آئی۔
”وہ۔۔۔سس۔۔۔سررر۔۔۔یہ فارم۔۔۔میں نے اسے فل کردیا ہے۔۔۔“ سرعبدالجبار کو خود کی جانب حیران نظروں سے تکتا پاکروہ کھسیانی ہوتی ہاتھ میں پکڑا فارم پیج بےاختیار اُنکی جانب بڑھا گئی۔
حاویہ کے یوں اٹکنے پر عائل اب کی بار کھل کرمسکرادیا۔
”اوکے اب آپ جائیں۔۔۔“ فارم پیج کو دراز کھول کر دوسرے فارمز کے اوپر رکھتے وہ مصروف سے انداز میں بولے مگر حاویہ اُنکے آڈر کو ان سنا کرتی کشمکش کی حالت میں کبھی عائل کو دیکھتی تو کبھی سرعبدالجبار کو جنھیں اُسکی دماغی حالت پر اب شبہ سا ہونے لگا۔
”لگتا ہے اِن محترمہ کو کوئی شکایت درج کروانی ہے مجھ سے جبھی تو یہاں سے جانے کو انکا دل نہیں چاہ رہا۔۔۔۔“ ٹانگ پر ٹانگ جمائے وہ اُسکے مزید یہاں رکنے پر حظ اٹھاتا آرام سے طنزکرگیا۔
حاویہ نے سر عبدالجبار کی گھوری کو محسوس کرتے اُسکی دل جلادینے والی دلکش مسکراہٹ کوآنکھیں سکیڑتے دیکھا تو نیناں بھی مسکرانے لگی۔ ”ہونہہ۔۔۔خوش فہمیاں۔۔۔۔“ وہ اپنے شدتوں سے دھڑکتے دل پر قابو پانے کی کوشش کرتی غصے سے زیرلب بڑبڑاتی ہوئی اگلے ہی پل پلٹی اور دروازہ کھول کر نیناں سمیت آفس سے باہر نکل گئی۔
عائل سرجھٹکتا بمشکل سنجیدہ ہوتے ہوئے پھرسے سرعبدالجبار سے اپنی گفتگو کا منقطع سلسلہ دوبارہ سے جوڑ چکا تھا۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
”ذرا سنیے آفیسر۔۔۔۔“ عائل جیسے ہی سرعبدالجبار سے رخصت لیتا آفس سے باہر نکلا تو کچھ فاصلے پر اُسکی راہ تکتی حاویہ نے ہمت کرتے اُسے آواز لگائی۔ وہ الگ بات تھی کہ نیناں کے زور کا ٹہوکا دینے پر ہی دبی دبی سی آواز اُسکے حلق سے نکلی تھی جو عائل کی تیز سماعتوں سے فوراً جا ٹکرائی۔
وہ حیرانگی سے اُسکی جانب پلٹا پر اگلے ہی پل اُسکی گڑبڑاہٹ محسوس کرتا اپنے لبوں پر آئی بےساختہ مسکراہٹ بڑی صفائی سے چھپاگیا۔جیبوں میں ہاتھ ڈالے قدم قدم چلتا وہ اُسکے سامنے آکھڑا ہوا جس پر حاویہ جھجھک کر اُسکے چہرے سے نظریں ہٹاتی نیناں کو دیکھنے لگی۔
”آپ یہاں تب سے کھڑی کس کا ویٹ کررہی ہیں۔۔۔۔؟؟آپکی کوئی کلاس نہیں ہورہی کیا۔۔۔۔؟؟یاں پھر آپ کلاسز بنک کرنے کی شوقین ہیں۔۔۔؟؟“ بڑی سادگی سے پوچھتا وہ اُسے صحیح معنوں میں سلگا گیا تھا۔ جبکہ دل اُسے پھر سے اپنے روبرو پانے کی خواہش پوری ہوتا دیکھ کر خوشی سے مچل رہا تھا۔
”میں یہاں اتنی دیر سے صرف آپکو تھینک یو بولنے کے لیے کھڑی تھی۔۔۔لیکن آپ ہیں کہ بس مجھے باتیں سنائے جارہے ہیں۔۔۔بلکہ نہیں۔۔۔جب سے میں آپ سے ملی ہوں تب سے۔۔۔“ اپنے دل کے پھپھولے پھوڑتی وہ دھیمی آواز میں برہم سی غرائی۔اگر اُسکا دغا دیتا دل اور نیناں اُسے مجبور نہیں کرتی تو وہ اس وقت کبھی اُسکا شکریہ ادا کرنے کے لیے اُسکے سامنے موجود نہیں ہوتی۔
”اوہ اچھا۔۔۔۔لیکن بقول تمھارے میں تو بدتمیز ہوں ناں۔۔۔اور سنگدل بھی شاید۔۔۔۔تو پھر ایسے حالات میں تم مجھ سے کسی اچھے کی امید کیسے کرسکتی ہو محترمہ۔۔۔؟؟؟“ اُسکی ہر ادا پر دل ہارتا وہ بظاہرسنجیدہ سا اپنی بھنوؤں کو سکیڑ گیا۔
”آپ بہت برے بھی ہیں عائل صاحب۔۔۔جائیں نہیں بولنا مجھے آپکو کوئی تھینک یو وینک یو۔۔۔۔میں جارہی ہوں۔۔۔“ مقابل کی سفاکی پر روہانسی ہوتی وہ جانے کے لیے پلٹی جب سرعت سے اُسکی کلائی تھامتا وہ اُسے اپنی جانب گھوما گیا۔
اپنی ہنسی روکتی نیناں نے منہ پر ہاتھ رکھے محتاط سی ہوکر اطراف میں دیکھا جہاں ابھی تک کسی کا بھی گزر نہیں ہوا تھا۔
”ایسے کہاں جارہی ہولڑکی۔۔۔؟؟میرے تھینک یو کا حساب تو پورا کرتی جاؤ۔۔۔۔“ نیناں کی پرواہ کیے بغیراُسکی پھیلی ہوئی نم آنکھوں میں شدت سے دیکھتا وہ اب کی بار دلکشی سے مسکراتا ہوا اپنا معصومیت بھرا تقاضا کرگیا۔
”تھ۔۔۔۔ینک یو۔۔۔۔“ اُسکے لمس پر کلائی چھڑواتی حاویہ کی سانسیں اٹکی تھیں جب وہ بڑی نرمی سے اُسے آزادی بخش گیا۔
”بس اتنا ہی۔۔۔۔؟؟؟“ کسرتی سینے پر ہاتھ باندھتا وہ تیوری چڑھائےشکوہ کرگیا تو دل کی بگڑتی حالت پر بےچین ہوتی حاویہ اُسے بنا سوچے سمجھے معصوم سی بددعا دے گئی۔
”اللہ کرے آپکو آپ سے بھی ذیادہ کھڑوس بیوی ملے جو بعد میں آپکی ساری اکڑ نکال دے۔۔۔“ اسکی بات پر عائل بےاختیار قہقہ لگاتا اُسے جھینپنے پر مجبورکرگیا۔
”افسوس پر یہ تو اب پاسیبل نہیں ہے۔۔۔۔“ اداس ہونے کی اداکاری کرتا وہ پُر یقین لہجے میں گویا ہوا۔
”وہ کیوں۔۔۔؟؟؟“ حاویہ اپنی بات کی نفی ہونے پر حیران ہوئی تو اُسکی بےاختیاری پر عائل نے قدرے دلچسپی سے اُس کی جانب دیکھا۔
”کیونکہ مجھے اِن بھوری آنکھوں میں اپنے مستقبل کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔۔۔۔“ ایک قدم کا فاصلہ مٹاتا وہ اُسکی جانب جھکتا رازدارانہ انداز میں بولا۔ وہ جو اُسکے قریب آنے پر بےاختیار ایک قدم کا فاصلہ بناتی ناسمجھی سے اُسکا چہرہ دیکھ رہی تھی اُسکی معنی خیز بات کی گہرائی تک جاتے ساتھ ہی سرخ پڑی اور اگلے ہی پل اُسکی جذبے لٹاتی نظروں سے رُخ موڑتی شورمچاتی دھڑکنوں سمیت وہاں سے سرپٹ دوڑ لگادی۔
”ابھی میرا حساب پورا نہیں ہوا۔۔۔۔پاگل۔۔۔۔“ اُسکے شرمانے کے اِس انداز پر اپنا دل سنبھالتا عائل پیچھے سے شوخ لہجے میں ہانک لگاتے ہوئے آخر میں زیرِ لب بڑبڑایا اور اپنی جانب دیکھتی نیناں پر ایک سرسری نگاہ ڈال کر بالوں میں ہاتھ پھنسائے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
💞💞💞💞💞💞
”اوہ نو۔۔۔۔اب میں گھر کیسے جاؤں گی۔۔۔؟؟؟“ وہ سٹاپ پر پہنچی تو تب تک پوائنٹ جاچکی تھی۔اس تپتی دھوپ میں روڈ اس وقت تقریباً سنسنان ہی تھا جہاں نگاہ دوڑانے پر اُسے دور سے ایک دو آدمیوں کی پشت دکھائی دی تو وہ وحشت زدہ سی سینے سے لگے رجسٹر پر گرفت سخت کرتی پریشانی میں اپنے لب کاٹنے لگی۔
چھٹی کرنے کی وجہ سے حرمین کے کئی امپورٹنٹ لیکچرز چھوٹ گئے تھے جسے آج اپنے رجسٹر پر نوٹ کرتے ہوئے اُسے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوپایا تھا۔لیکن جب اُسے ہوش آیا تو تب تک کافی دیر ہوچکی تھی۔ ”یااللہ۔۔۔۔۔“ مزید کچھ دیر گزرنے پر بے بسی سے اپنا چشمہ ٹھیک کرتی وہ بےاختیار چند قدم آگے کو اٹھاگئی۔انداز ایسا تھا جیسے مزید کوئی راہ نظر نہ آئی تو وہ روتے روتے پیدل ہی گھر کی جانب چل پڑے گی۔ کم بخت کوئی رکشہ بھی دور دور تک آتا جاتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
معاً اُسے اپنے پیچھے گاڑی کا ہارن سنائی دیا تو جھٹکا کھاکر پلٹتی وہ سہم سی گئی۔ ” کیا ہوا ڈارلنگ۔۔۔۔اپنی پوائنٹ مس کردی کیا۔۔۔۔؟؟“ ایک لڑکا شیشے سے سر باہر نکالے انتہا کی بےتکلفی سے اُسے اوپر سے نیچے تک گھورتا قدرے آوارہ انداز میں بولا تو حرمین کی ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی سرد لہر دوڑگئی۔
اس اچانک افتاد پر گھبراتی وہ بغیر کوئی جواب دئیے اطراف میں مددطلب نم نظروں سے دیکھنے لگی۔
”ارے سوئیٹی پریشان کیوں ہورہی ہو۔۔۔؟؟ہم ہیں ناں اویل ایبل تمھارے لیے۔۔۔جہاں کہوگی وہیں چھوڑ آئیں گے۔۔۔ایک بار پیار سے بول کر تو دیکھو۔۔۔“ اب کی بار وہ اپنے ساتھی سمیت گاڑی سے باہر نکل کر قہقہ لگاتا اپنی بےلگام نظروں اور باتوں سے حرمین کو حددرجہ ڈرا چکا تھا تبھی وہ اُن پر لعنت بھیجتی ناک کی سیدھ میں سرپٹ بھاگی تھی۔
”پکڑ سالی کو۔۔۔۔۔“ اُسے فرار ہونے کی کوشش کرتا دیکھ وہ دونوں بھی اطراف کا جائزہ لیتے تیزی سے اُسکے پیچھے لپکے اور اُس سے دوگنی رفتار کے باعث چند لمحوں بعد ہی اُسے اپنی سخت گرفت میں دبوچ لیا۔
”آہ۔۔۔۔چھوڑو۔۔۔مجھے گھٹیا انسان۔۔۔مجھےکہیں بھی نہیں جانا تم لوگوں کے ساتھ۔۔۔۔پلیزمیں خود چلی جاؤں گی۔۔۔۔“ پسینے میں پوری طرح شرابور اُسکے چنگل سے نکلنے کی جان توڑ کوشش میں چیختی وہ آخر میں فریاد کرتی رو پڑی۔
”ایسے کیسے خود چلی جاؤ گی۔۔۔۔؟؟اپنا نہیں تو ہمارا ہی کچھ خیال کرلو ظالم حسینہ۔۔۔۔“ حرمین کی بازو پر پکڑ مزید سخت کرتے ہوئے اُسے اپنی جانب کھینچتے وہ دونوں کمینگی سے ہنس پڑے۔
”پلیز تمھیں خدا کا واسطہ ہے۔۔۔مجھے جانے دو۔۔۔نہیں تو میں شور مچاکر سب کو یہاں اکٹھا کرلوں گی۔۔۔“ ان دونوں کی گستاخیاں اُسے شدتِ خوف میں مبتلاکررہی تھیں کہ اتنا ڈر اُسنے اپنی زندگی میں کبھی محسوس نہیں کیا تھا اور نہ ہی پہلے کبھی اُسکے ساتھ ایسا ناقابلِ برداشت حادثہ پیش آیاتھا۔ ”اچھاااا۔۔۔۔تو اب تُو ہمیں دھمکی دے گی سالی۔۔۔۔ابھی دیکھ تیرا میں کیا حشر کرتا ہوں۔۔۔پھر کسی کو بھی دھمکی دینے لائق نہیں رہے گی۔۔۔اُوے تبریز۔۔۔گاڑی یہاں لےکرآ فوراً۔۔۔“ حرمین کی کپکپاتی دھمکی پر ایکدم بگڑتا وہ ہتھے سے اکھڑا اور ساتھ ہی اپنے دوست کو آڈر دیا۔
وہ تائید میں سر ہلاتا فوراً سے کچھ فاصلے پر کھڑی اپنی گاڑی کی جانب بھاگا تھا۔
”نن۔۔۔نہیں۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔بچاؤ۔۔۔کوئی ہے۔۔۔پلیز مدد۔۔۔“ اُنکے اس عمل پر حرمین کی جان حلق میں پھنسی تھی مگر مقابل کا مضبوط ہاتھ اُسکے چیختے لبوں پر پڑتے ہی سانسوں کے ساتھ ساتھ اُسکی آواز بھی بندکرگیا۔
”اممم۔۔۔۔اممم۔۔۔۔“ نتیجتاً اُسکا چشمہ لڑھک کر نیچے گرا تھا تبھی وہ مزید مچلتی سر مسلسل نفی میں ہلانے لگی۔مہرون حجاب بھی ڈھیلا پڑ کر تقریباً کھل چکا تھا۔
”چپ ایکدم چپ۔۔۔اگر اب تیری زرا سی بھی میں میں مجھے سنائی دی تو زبان گدی سے کھینچ نکالوں گا تیری۔۔۔۔ابے جلدی کرتُو بھی۔۔۔تیرے ہاتھ پیرکیوں سست پڑگئے ہیں گدھے۔۔۔۔؟؟اس سے پہلے کوئی آجائے ہمیں اسے لے کرجلدی یہاں سے نکلنا ہوگا۔۔۔۔جلدی کر جلدی۔۔۔“ سختی سے بولتا وہ اُسکی نازک سی کلائی پکڑکر مروڑگیا اور ساتھ ہی اپنے دوست کو بھی لتاڑا جو گاڑی ڈرائیو کرکے اُنکے قریب پہنچ چکا تھا۔
حرمین کی سانسیں مدھم ہوئی تھیں یہ دیکھ کر۔
”چھوڑ لڑکی کو۔۔۔۔“ اس سے پہلے کہ وہ لڑکا گاڑی کا دروازہ کھول کر حرمین کو پچھلی سیٹ پر پٹختا اپنی پشت سے ابھرتی سرد آواز پر بری طرح چونکتا حرمین سمیت پیچھے پلٹا۔وہ دونوں ہاتھ جینز کی جیبوں میں پھنسائے قدرے نڈر انداز میں غصے سے اُسے دیکھ رہا تھا۔بھوری آنکھوں میں صاف وارنگ ہچکولے لے رہی تھی۔
”شا۔۔۔م۔۔۔۔۔“ دل کی ایکدم سے تیز ہوتی دھڑکنوں سمیت حرمین کے سیاہی مائل لب اُس ظالم کی مضبوط ہتھیلی کے پیچھے پھڑپھڑائے۔
”کیوں بے ہیرو۔۔۔۔ہیروگیری کرنے آیا ہے یہاں پر۔۔۔۔؟؟میرا ذیادہ دماغ خراب مت کر اور نکل لے یہاں سے۔۔۔چل چل۔۔۔شاباش۔۔۔“ خود کی گھبراہٹ پر قابو پاتے اُسنے شام کو وہاں سے رفوچکر کرنا چاہا پر اگلے ہی لمحے شام نے حرمین کے منہ پر دھڑا اُسکا ہاتھ اپنی گرفت میں لیتے ہی ایک جھٹکے سے مروڑ ڈالا۔
جواب میں وہ درد سے بلبلاتا پل پل سسکتی حرمین کو اپنی گرفت سے بے ساختہ آزادکرگیا۔
جس پر وہ بجلی کی سی تیزی سے شام کو اپنا مسیحا سمجھتی اُسکی پشت پر جاکھڑی ہوئی اور اُسکی گرے شرٹ کو اپنی مٹھیوں میں جکڑگئی۔ تبھی وہ مقابل کے وار کو بڑی آسانی سے روکتا ایک زوردار کِک اُسکے پیٹ پر مارکر پیچھے کی جانب تپتی سڑک پر پٹخ چکا تھا۔
”تیری تو۔۔۔۔“ تبھی دوسرا لڑکا بھی یہ تماشہ دیکھ کر گاڑی سے باہر نکلتا شام کو پیٹنے کے ارادے سے اُسکی جانب لپکا۔
” تُو بھی آجا بیٹا۔۔۔۔“ چیلنج بھرے انداز میں بولتے ہوئے وہ اُسکا پنچ کھانے سے پہلے ہی بھرپور شدت سے وارکرتا اُسکی ناک سے خون نکال چکا تھا۔ وہ ایکدم سے چیختا ہوا اپنی ناک کی ٹوٹی ہڈی پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا تو سہمی نظروں سے یہ سب دیکھتی وہ اپنی پکڑ اُسکی پشت پر مزید سخت کرگئی۔
اپنی واضح شکست پر وہ شام کی طاقت کا اندازہ لگاتے مسلسل کراہتے ہوئے وہاں سے اٹھے اور پلک جھپکتے اپنی گاڑی میں بیٹھتے ساتھ ہی وہاں سے بھاگ نکلے۔ شام بھی اُنکے پیچھے جاکر اُنھیں مارنے کا ارادہ ترک کرتا ہوا اُسکی جانب پلٹا۔
”آریو اوکے حرمین۔۔۔۔تمھیں کوئی نقصان تو نہیں پہنچایا ناں اُن کمینوں نے۔۔۔؟؟؟“ وہ فکرمند سا ہوکر اُسکا بھیگا بھیگا چہرہ دیکھ رہا تھا جسے اپنا حجاب بھی ٹھیک کرنے کی ہوش نہیں رہی تھی۔
شام نے پہلی بار اُسے بغیر حجاب اور چشمے کے اتنے قریب سے بغور دیکھا جس پر دل حقارت سے کروٹ بدلتا مچلا تھا۔
”نہیں۔۔۔۔“ اپنے ساتھ ہوئے سنگین حادثے کی بابت سوچتے آنسو بےاختیار اُسکی گالوں پر پھسلنے لگے۔
”ریلکس یار۔۔۔۔رو تو نہیں۔۔۔سب ٹھیک ہے۔۔۔۔“ بڑی دقت سے ہاتھ بڑھا کر اُسکے آنسو انگلیوں کی پوروں سے صاف کرتا وہ خود پر قابو پاگیا۔
”اگر۔۔۔آپ وقت پر نہیں آتے تو نجانے وہ لوگ میرے ساتھ کیا کردیتے۔۔۔۔؟؟“ اُسکا سہارا پاتے ہی وہ بےاختیار ہوتی اُسکے کندھے سے لگی خوف سے سسکنے لگی تو شام بھی اُسکے لرزتے وجود کو اپنے حصار میں لیتا بھنویں اچکائے فتح یاب سا مسکرایا۔
”ششش۔۔۔بس چپ۔۔۔بھول جاؤ سب۔۔۔۔کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔۔۔میں ہوں ناں تمھارے ساتھ۔۔۔۔“ اُسکے جوڑے میں مقید بالوں کو سہلاتا وہ نرماہٹ بھری سرگوشیاں کررہا تھا جب اچانک حرمین ہوش میں آتی جھٹکے سے اُسکا حصار توڑتی الگ ہوئی۔
اُسے کانپتے ہاتھوں سے اپنا حجاب سیٹ کرتا دیکھ شام نے لب بھینچ کر ضبط کا گہرا گھونٹ بھرا اور اگلے ہی پل سڑک پر پڑے چشمے کو ا ٹھاتا اُسکی ناک پر ٹکاگیا۔ شام کے اس قدر کئیرنگ انداز کو شدت سے محسوس کرتی ہوئی وہ اُسکے وجیہہ چہرے کو کچھ حیرت سے تکتی بےساختہ وہ اپنے دل کی ایک بیٹ مس کرگئی۔
اپنے باپ کے بعد سے کسی بھی مرد نے اُسے اتنے پیار سے چشمہ نہیں پہنایا تھا۔ بلاشبہ شام کے پرُاثر حرکتوں اور دلکش نقوش کا جادو ناچاہتے ہوئے بھی اُسکے کمزور سے دل پر چل گیا تھا جس پر وہ اپنی بے ہنگم ہوتی دھڑکنوں پر قابو پانے کی کوشش کرتی بےاختیار نظریں چراگئی۔
”آپ بہت اچھے ہیں شام۔۔۔۔بہت ذیادہ اچھے۔۔۔۔اُس دن آپکے بھائی نے میری چھوٹی بہن کی جان بچائی اور آج آپ نے میری عزت۔۔۔“ تہے دل سے اُسکا شکریہ اداکرتی وہ اُسکے بڑے بھائی کا احسان بھی اُس پر آشکار کرگئی تو وہ عائل کے ذکر پر پل بھرکو چونکتا بمشکل مسکرایا۔
”ایک لڑکی کے لیے اُسکی عزت ہی سب کچھ ہوتی ہے حرمین۔۔۔اور یقین جانو میرے لیے تمھاری عزت سب سے بڑھ کر ہے۔۔۔“ اپنے خوبصورت لفظوں سے اُسے معتبر کرتا وہ اُسکے کمزور دل کو مزید گھائل کرنے لگا تو وہ اپنی بگڑتی حالت پر شدت سے پریشان ہوتی اب کی بار اپنا رخ بدل گئی۔ تبھی اُسکی گہری سیاہ نظروں نے سامنے سے آتے رکشے کو پکڑا تو شام نے بھی سنجیدگی سے اُسے دیکھا۔
”اب گھر تک کیسے جاؤگی۔۔۔۔؟؟چلو میں تمھیں ڈراپ کردیتا ہوں۔۔۔تم بس مجھے اپنے گھر کا ایڈریس بتادو۔۔۔“ اُسکی مزید ہیلپ کرنے کی اداکاری کرتا وہ نرمی سے بولا تو مسکرا کر نفی میں سر ہلاتی وہ اگلے ہی پل ہاتھ سے رکشہ روک گئی۔
”نہیں۔۔۔۔میں اس رکشے میں چلی جاؤں گی۔۔۔پلیز آپ رہنے دیجیے۔۔۔۔پہلے ہی آپ میری حد سے ذیادہ ہیلپ کرچکے ہیں۔۔۔اب اور نہیں۔۔۔“ رکشے میں بیٹھتی وہ اُسکی مدد لینے سے انکار کرگئی جسکا شام کو پہلے سے ہی خوب اندازہ تھا۔
”آر یو شیور۔۔۔۔؟؟؟“ بھرپورفکرمندی ظاہرکرتے اُسنے کنفرم کرنا چاہا تو وہ زورشور سے اثبات میں سرہلاتی مسکرادی۔تبھی ڈرائیور مہارت سے رکشہ اسٹارٹ کرتا تیزی سے آگے بڑھا چکا تھا۔ ابھی وہ رکشہ شام کی بھوری نظروں سے اوجھل بھی نہیں ہوا تھا جب اچانک اُسکے فون پر بیل ہونے لگی۔
”ہاں بولو۔۔۔۔“ فون کان سے لگاتے اُسکے تاثرات سمیت اُسکی آواز بھی سرد ہوئی۔
”سر آپ نے ہمیں پلین سے ہٹ کر کچھ ذیادہ ہی زخمی کردیا ہے۔۔۔۔اس حساب سے پیسے بھی ذیادہ ہوں گے۔۔۔۔“ اسپیکر سے ابھرتی تبریز کی تحکم بھری آواز میں درد کا گھلاملا احساس بھی شامل تھا۔
”ڈونٹ وری۔۔۔۔مل جائیں گے۔۔۔۔۔“ آنکھیں گھماکر گہری سانس فضاء میں خارج کرتا وہ اپنی بات مکمل کرتے ساتھ ہی قدرے لاپرواہی سے کال کاٹ چکا تھا۔
خالی سڑک پر مسکراتی نگاہ ڈالتا اگلے ہی پل وہ اپنے طریقے سے کھیلی گئی گیم پر پہلی فتح کا ٹیگ لگاتے ہوئے سرشار سا سیٹی بجاتا فاصلے پر کھڑی ہیوی بائیک کی جانب لپکا۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
وہ سب کام چھوڑ چھاڑ کر اپنے آفس روم میں بے چینی سے اِدھراُدھر ٹہل رہا تھا۔ جیسے جیسے اُسکی نظریں کلائی میں بندھی قیمتی گھڑی پر جارہی تھیں ویسے ہی اُسکے غصے کا گراف مزید بڑھتا جارہا تھا۔ اُسنے آبرو کو کب سے اپنے روم میں آنے کو بولا تھا مگر وہ تھی کہ ابھی تک نہیں آئی تھی۔ معاً ایک بار پھر سے اُسکی بھوری آنکھوں کے آگے کچھ دیر پہلے کا منظر گھوما تھا جب وہ منیجر کے پاس کچھ خاص انسٹرکشنز دینے کے لیے گیا تھا لیکن گلاس ڈور کے پار دکھائی دیتا ناقابل برداشت منظر اُسے آگ لگاگیا۔
آبرو ارگرد سے بےبہرہ وہاں ایک آفس ورکر کے ساتھ ہنستی مسکراتی باتیں کرنے میں مگن تھی۔
تبھی شاید رحمان نامی لڑکے سے ٹائپ کرنے میں کچھ غلطی ہوئی تھی جس پر وہ اپنے مومی ہاتھ سے اُسکی کی بورڈ پر چلتی انگلیاں پکڑ کر ہٹاتی ذرا سا اُسکے قریب جھکی اور مسکراتے ہوئے خود ٹائپ کرنے لگی۔رحمان بھی اُسکا حسین چہرہ نزدیک سے دیکھتے کھل کر مسکرادیا۔
”او جسٹ سٹاپ دیٹ۔۔۔۔“ اپنے خیال کو آپ ہی جھٹکتا وہ بےاختیار خود پرچلایا کہ تبھی روم کے دروازہ پر ناکنگ ہوئی۔
”کم اِن۔۔۔۔۔“ سرد آواز میں پرمیشن دیتا وہ دروازے کی جانب رخ موڑ گیا تو آبرو شاہ کے اندر بھڑکتے لاوے سے قطعی انجان اندر داخل ہوئی۔ ”آپ نے بلایا تھا سر۔۔۔۔؟؟“ وہ جو شاہ کو بہت پہلے کافی دےکر خوشگوار موڈ میں چھوڑ کر گئی تھی اُسکے بگڑے تیور دیکھ کر پل بھرکو چونکی۔ شاہ جواب دینے کی بجائے غصے سے اُسکے خوبصورت مگر الجھے نقوش دیکھتا ہوا قدم قدم اُسکی جانب بڑھنے لگا۔
نتیجتاً آبرو اُسکے قدموں کو رکتا نہ پا کر حیران پریشان سی پیچھے کو کھسکتی ہوئی دروازے سے جالگی۔
” کہاں تھی تم۔۔۔۔؟؟؟“ خود پر بمشکل ضبط کیے وہ آپ سے تم کا فاصلہ پل میں طے کرتا ہوا پھنکارا تھا۔
”جج۔۔۔جی سر۔۔۔وہ میں بس آہی رہی تھی آپ کےپاس۔۔۔“ اُسکی سرخ ہوتی بھوری آنکھوں میں حیرت سے جھانکتی وہ ہکلاکربولی۔
”مجھے ابھی تک میرا جواب نہیں ملا۔۔۔کس کے ساتھ تھی تم۔۔۔؟؟“ ہاتھ کی مٹھی بناتا وہ ٹھہر ٹھہر کر بولتے ہوئے اب کی بار اپنا سوال بدل گیا۔ لیکن بدقسمتی سے جواب ایک ہی تھا۔
”رحمان۔۔۔رحمان کے ساتھ اُسکی فائل بنوارہی تھی۔۔۔“ مقابل کی نزدیکی پر کپکپاتی ہوئی آواز اُسکے گلے میں پھنسی تھی۔
بے اختیار وہ اپنی آنکھیں میچ کردوبارہ کھول گیا۔جیسے ضبط کی انتہا پرہو۔ ”کتنے منٹ گزرگئے تمھیں میرا میسج ملے۔۔۔۔؟؟؟“ سخت تیوروں سے تفتیش کرتا وہ ایک ہاتھ اُسکے سر کے قریب دروازے پر ٹکاگیا تو اُس نے ہراساں ہوکر اُسکی جانب دیکھا۔
”بب۔۔۔بیس منٹ۔۔۔۔“ مجرموں کی طرح سر جھکاتی وہ نم پڑتی آنکھوں سمیت منمنائی۔
”اور تم نے مجھے۔۔۔میری ذات کو اگنور کرکے اُس دوٹکے کے امپلائے کو مجھ پر ترجیح دی۔۔۔۔کیسے۔۔۔ہممم۔۔۔۔کیسےےےے؟؟؟“ دانت پیس کر ایک ایک لفظ اُسے باور کرواتا وہ ضبط کی طنابیں چھوٹتے ہی چلایا اور دروازے پر دھڑے ہاتھ کا مکا بناکر پوری قوت سے اُس جگہ پر دے مارا۔ ”سس سوری سر۔۔۔۔سوسوری۔۔۔۔پلیز۔۔۔“ نتیجتاً آبرو اس افتاد پر شدت سے گھبراتی ہوئی بےاختیار اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں سے ڈھانپتی بےآواز رونے لگی تو وہ چہرے پر ہاتھ پھیرتا جیسے ہوش میں آیا۔
”مس آبرو۔۔۔ایم۔۔۔ایم سوری۔۔۔پتہ نہیں میں کیسے آپ پر اتنا غصہ کرگیا۔۔۔؟؟پلیز آپ پہلے رونا بند کریں۔۔۔آبرو۔۔۔؟؟“ وہ اس بار قدرے نرمی سے معذرت کرتا فکرمند سا اُسکے چہرے سے ہاتھ ہٹاگیا۔ بدلے میں اُسکا آنسوؤں سے تر بھیگا چہرہ دیکھنے کو ملا تو شاہ سختی سے اپنے لب بھینچ گیا۔
”آ۔۔۔پ نے مجھے بہت ذیادہ ڈرادیا تھاسر۔۔۔آپ مجھے ہمیشہ اپنی باتوں اور حرکتوں سے اسی طرح ڈرا دیتے ہیں۔۔۔آخر آپ ایسا کیوں کرتے ہیں میرے ساتھ۔۔۔؟؟کیا قصور ہے میرا۔۔۔۔؟؟“ اُسکی گرفت سے اپنے دونوں ہاتھ چھڑواتی وہ کانپتی آواز میں بےبس سی شکوہ کر گئی تو وہ ہولے سے مسکرادیا۔
”میں نے تمھیں کبھی بھی ڈرانا نہیں چاہا آبرو۔۔۔اور نہ ہی خود سے بدظن کرنا چاہا ہے۔۔۔بس میں تم پر اپنا حق جتاتاہوں۔۔۔میں مانتا ہوں کہ میرا انداز تھوڑا بہت الگ ہے۔۔۔مگر تم مجھے اس سب سے روک نہیں سکتیں۔۔۔اور تمھارا قصور یہ ہے کہ تم سب جانتے ہوئے بھی انجان بن جاتی ہو۔۔۔تم نے کبھی میری فیلنگز کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔میرا یقین کرومیں تم سے بہتتتت محب۔۔۔۔“ پھر سے اُسکے ہاتھ تھام کر وہ دیوانہ وار اُسکے خفا خفا سے نقوش دل میں اتارتا اپنے سچے جذبات کا کھل کر اظہار کررہا تھا جب اچانک بت بنی آبرو تڑپ کر اُسے مزید بولنے سے روک گئی۔
”مت کریں سر۔۔۔۔پلیز مت کریں یہ میرے ساتھ۔۔۔۔میں یہ سب ڑیزرو نہیں کرتی۔۔۔بالکل بھی نہیں کرتی۔۔۔“ وہ شدومد سے اُسکی چاہت و محبت کی نفی کرتی اُسے پل بھرکو ساکت کرگئی۔
شاہ کی محبت کے زورپر چمکتی آنکھیں شدتِ ضبط سے بے اختیار لہورنگ پڑی تھیں۔زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی کی واضح دھتکار نے اُسے اہانت کے شدید احساس سے دوچار کرکے رکھ دیا تھا۔
اُسکے بدلتے تیوروں سے وحشت زدہ ہوتی آبرو اُسکے سینے پر پوری شدت سے دباؤ ڈال کر اُسے چند قدم پیچھے دھکیل گئی اور راہِ فرار ملتے ہی پلٹ کر دروازہ کھولتی باہر کی جانب بھاگتی چلی گئی۔
یہ جانے بغیر کہ اپنے اس چھوٹے سے عمل سے وہ خود کے لیے کتنی مشکلات بڑھاگئی تھی۔یہ پل پل اپنا ضبط کھوتا شاہ ہی تھا جس نے خود سے اُسے وہاں سے جانے دیا تھا ورنہ ممکن تھا کہ وہ غصے میں پاگل ہوکر اُسے کوئی نقصان پہنچا دیتا۔
”ڈیم۔۔۔۔۔“ اپنی انا پر سخت وار برداشت نہ کرتے ہوئے وہ تنی رگوں کے ساتھ ٹیبل کی جانب آیا تھا اور وہاں پڑی ساری چیزوں کو جھٹکے میں ہاتھ مارتا زمین پر بکھیر گیا۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞