Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5


” تُو مان نہ مان حاوی۔۔۔وہ آفیسر تجھ سے محبت کرنے لگا ہے۔۔۔“ وہ دونوں اِس وقت گراؤنڈ میں بیٹھ کر چپس کترنے کے ساتھ ساتھ کتاب آگے رکھ کر گپیں بھی ہانک رہی تھیں جب پھر سے نیناں کا دھیان آئل کی جانب کھنچتا چلاگیا۔ اُسکی بات حاویہ کے حرکت کرتے ہاتھوں کے ساتھ ساتھ دل کی دھڑکنیں بھی پل بھر کو رکی تھیں۔ نظروں کے سامنے بےاختیار عائل کا وجیہہ چہرہ گھوما تھا جو اُسے ساری رات جگائے رکھنے کا سبب بنا تھا۔ مگر بظاہر چہرے پر سخت تاثرات لیے اُسنے گردن موڑکر نیناں کو گھورا۔
”اور تُو مان نہ مان نینی۔۔۔۔مجھ سے دو کرارے جھانپڑ کھاکر ہی تیرا دماغ ٹھکانے پر آئے گا۔۔۔“ خود کے بدلے بدلے احساسات پر قابو پاتی وہ وارنگ دینے والے انداز میں بولی۔ شکر تھا کہ اُسنے نیناں کو یہ نہیں بتایا تھا کہ کل رات کو وہ کافی دیر تک جاگتی رہی تھی ورنہ وہ میڈم اُسکا خوب ریکاڈ لگاتی۔
اُسکے کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھی نیناں تھوڑاسا پیچھے کھسکی مبادا تھپڑ ہی نہ پڑجائے۔
” کیا یار حاویہ۔۔۔تم اتنی بےمروت کیوں ہو آخر۔۔۔؟؟تمھارے یہی انداز مجھے زہر لگتے ہیں قسمے۔۔۔اُسنے دو دفعہ تمھاری جان بچائی ہے۔۔۔دو دفعہ۔۔۔لیکن تم نے ایک بار بھی اُسکو تھینک یو بولنے کی زحمت نہیں کی۔۔۔اگر میں ہوتی ناں تمھاری جگہ تو اب تک دس بار تھینک یو بول چکی ہوتی اے۔ایس۔پی عائل حسن کو۔۔۔۔“ اُسکے ہاتھ سے چپس کا پیکٹ جھپٹ کر وہ مزید فاصلے بناکر اُسکے مقابل بیٹھتی ہوئی مسلسل اُسکی کلاس لے رہی تھی۔ نیناں کی باتوں میں وزن محسوس کرتی حاویہ کو چند لمحوں کے لیے چُپی لگی تھی۔
”یار۔۔۔دونوں ٹائم پر میں ڈری ہی اتنا ہوئی تھی کہ اُسکا شکریہ ادا کرنا دماغ سے نکل گیا میرے۔۔۔۔“ منہ بسور کر بولتے ہوئے اُسنے اپنی شرمندگی کو مٹانا چاہا تو نیناں اُسکے بونگے بہانے پر اش اش کراٹھی۔
”ہاں ہاں۔۔۔کیوں نہیں۔۔۔جیسے کہ میں تو کچھ جانتی ہی نہیں ناں تمھارے بارے میں۔۔۔تمھاری رگ رگ سے واقف ہوں میں محترمہ اسی لیے میرے سامنے جھوٹ بولنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔سمجھی۔۔۔؟؟“ شروع میں مصنوعی مٹھاس سے بولتی نیناں کے تیور ایکدم سےسختی میں ڈھلے تھے۔
”اچھا ناں بس۔۔۔اگر پھر کبھی وہ آفیسرمیرے سامنے آیا۔۔۔جوکہ مجھے پتا ہے کہ نہیں آئے گا۔۔۔تو میں اُسے تھینک یو بول دوں گی۔۔۔اوکے۔۔۔“ شکست خوردہ انداز میں کہتے ہی اُسنے بڑے اطمینان سے اُسکے ہاتھ سے چپس کا پیکٹ آگے ہوکر جھپٹا مگر خالی پیکٹ ہاتھ میں آتے ہی حاویہ کا موڈ پھرسے بگڑا۔
جواب میں نیناں نے پورے استحقاق سے اپنی سفید بتیسی کی نمائش کی تھی جو اُسے بڑے غور سے گھورنے میں بزی تھی۔
”یہ بھی کھالو بھوکی۔۔۔۔“ خالی پیکٹ مٹھی میں گھچومچھو کرکے واپس اُسی کی جانب اچھالتی وہ دانت پیس کر بولی تو نیناں مزید ہنسنے لگی۔
”نہیں یہ تمہی کھالو۔۔۔میں اتنی بھی بےمروت نہیں ہوں۔۔۔تمھاری طرح۔۔۔“ اُسے مزید چڑاتے ہوئے وہ وہاں سے اُٹھ کر بھاگی تھی کیونکہ حاوی کتاب بند کرکے اُسکے سارے انجر پنجر ڈھیلے کرنے کے لیے اپنے بازو اوپر چڑھا کر چکی تھی۔
”ٹن ٹن ٹن۔۔۔۔۔“ اُن دونوں کو ایک دوسرے کے آگے پیچھے بھاگتے ابھی چند ہی پل گزرے تھے جب اچانک بریک ٹائم ختم ہونے پر بیل بجنا شروع ہوگئی۔
💞💞💞💞💞💞
رات کی سیاہی چہار سو اپنے پنکھ پھیلا چکی تھی لیکن حویلی نما کوٹھے میں جگمگ کرتی روشنیاں اسکے برعکس دن کا سا سماء پیش کررہی تھیں۔ کچھ دیر پہلے ہی بڑے سے ہال میں منعقد ہونے والی رنگین محفل اپنے اختتام کو پہنچی تھی۔تابین بائی کی نگرانی میں سرخ کارپٹ پر بکھرے ہزاروں کے نوٹ اکٹھی کرتی لڑکیاں سارا مال باری باری اُنکے کے حوالے کررہی تھیں جب رابی اپنے ڈیڑھ گھنٹے کے رقص پر شدت سے تھکاوٹ محسوس کرتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
ابھی وہ پلنگ پر براجمان ہوتی صحیح سے سکون کا سانس بھی نہیں لے پائی تھی جب ایکدم سے دروازے کے وا ہوتے پٹ اُسکا سارا دھیان اپنی جانب کھینچ گئے۔
”واللہ کیا کہنے۔۔۔میں جانتی تھی۔۔۔۔تم میرے بنا دو دن بھی نہیں نکال پاؤگے۔۔۔۔“ سالار خان کو کمرے میں داخل ہوکر دروازہ بند کرتا دیکھ کروہ گھنگرؤں کو پاؤں سے اتارتی کھل کر مسکرائی۔
اُسکے لہجے میں مان تھا یا غرور۔۔۔۔؟؟
پلٹ کر اُسکی جانب آتا سالارخان اُسکے تاثرات بغور دیکھ کر بھی سمجھ نہیں پایا تھا۔
”تمھاری بی بی جان کو پیسے دے کر آیا ہوں۔۔۔“ اُسکے پاس پلنگ پر بیٹھ کر بظاہر نرمی سے بولتا وہ اپنے غصے کو ٹھنڈا کرنے لگا جو کچھ دیر پہلے تابین بائی کے ساتھ ہوتی بحث کی وجہ سے امڈآیا تھا۔
”تو یعنی میری قیمت ادا کرکے آئے ہو۔۔۔۔“ خود کی ذات کے بارے میں تلخ الفاظ بولتی وہ ہولے سےمسکرائی تو سالار خان ضبط سے اپنے لب بھینچ گیا۔
اسی طرح کے جملے تھے جو اُسے زہر لگتے یا شاید کچھ وقت سے لگنے لگے تھے۔تبھی وہ رنگین محفلوں کا حصہ بننا بھی لگ بھگ چھوڑ چکا تھا جہاں رابی کے لیے بہت سی قابلِ اعتراض تعریفیں کی جاتی تھیں۔
لیکن اُسکے علاوہ یہاں کسی کو اِسکی رتی بھر بھی پرواہ نہیں تھی۔
یہاں تک کہ خود رابی کو بھی نہیں۔
یہی وجہ تھی کہ وہ دل کے ہاتھوں بُرا پھنسا تھا۔ اگر اُسکا بس چلتا تو اُسے اس بدنامی کی دنیا سے بھگا کرہمیشہ کے لیے اپنی تنہا مگرحسین دنیا میں لے جاتا۔۔۔ لیکن جس ذی روح کے لیے یہ سب سے اہم مرحلہ تھا وہی اس تقاضے پر سرے سے انکاری تھی اور وہ ہربار بےبس ہوکررہ جاتا۔
”میں نے کبھی بھی کسی کو تمھاری قیمت ادا نہیں کی رابی۔۔۔اور نہ ہی تم سے ملنے کے لیے اسکا پابند ہوں۔۔۔بس تابین بائی کی بکواس برداشت نہیں کرسکا تو نوٹوں سے اُسکا منہ بھرآیا۔۔۔۔پلیزمیرے سامنے ایسی فضول گوئی سے پرہیز کیا کروتم۔۔۔۔“ بےاختیار اُسکی نازک کلائی کو اپنی سخت گرفت میں لیتا وہ سرد لہجے میں گویا ہوا۔
”اور تم بھی بی بی جان کے معاملے میں اپنی حد میں رہنے کی کوشش کیا کرو سالار خان۔۔۔۔“ رابی جہاں اُسکے عزت دینے والے انداز پر مسکرائی تھی وہیں تابین بائی کے خلاف اُسکی بات سن کر پل میں اپنا ہاتھ اُسکی نرم پڑتی گرفت سے چھڑواتی سیخ پا ہوئی۔
اُسکی ناراضگی کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے سالار خان کے وجود میں بےچینی سی بھرنے لگی تو وہ بےاختیارنرم پڑا۔
”واللہ۔۔۔۔میرے پسندیدہ رنگ میں تم خفا خفا سی اور بھی پیاری لگنے لگتی ہو۔۔۔“ اُسکی من موہنی سی صورت کو نظروں میں بھرتا وہ پُرشوخ لہجے میں مسکراتے ہوئے بولا جو آج بھی گہرے سبز رنگ کی فراک اور چوڑی دار پاجامے میں ملبوس ہربار کی طرح اس بار بھی اُسکا دل دھڑکاگئی تھی۔ رابی نے آنکھوں میں شکوہ لیے اُسکی جانب دیکھا۔
”واللہ۔۔۔کیا کہنے تمھارے بھی سالار خان۔۔۔تم اور تمھاری دن بدن بڑھتی گستاخیاں کسی دن مجھے تم سے بہت دور کردیں گی۔۔۔۔“ تابین بائی کے حوالے سے اُسکی بدلحاظی اور اکھڑلب و لہجے پر چوٹ کرتی وہ مزید دیر تک اپنی ناراضگی برقرار نہیں رکھ پائی تھی تبھی اپنے مخصوص لہجے میں بولتی اُسکی مونچھوں کو تاؤ دینے لگی جوکہ مقابل کے وجیہہ چہرے پر خاصی جچتی تھیں۔
البتہ پنکھڑی لبوں سےمسکراہٹ ہنوز سمٹی ہوئی تھی۔
”واللہ۔۔۔ایسا ظلم مجھ معصوم پر مت کیجیے گا۔۔۔ورنہ آپکا یہ دیوانہ کہیں کا نہیں رہے گا میرے دل کی ملکہ۔۔۔“ اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرتا وہ قدرے سنجیدگی سے بولا تو رابی اُسکے چوڑے سینے پر دھپ رسید کرتی اس بارکھلکھلا اُٹھی۔
”تمھارا اور میرا ساتھ بالکل شہزادے سلیم اور انارکلی جیساہے۔۔۔جسے یہ ظالم سماج کبھی ایک نہیں ہونے دے گا۔۔۔۔“ اپنے تعلق کو تاریخی قصے سے جوڑتی وہ بڑی دور کی کوڑی لائی تھی۔
”تم غلط بول رہی ہورابی۔۔۔انارکلی نے تو شہزادے سلیم کی خاطر اپنی جان تک کی بازی لگادی تھی۔۔ لیکن یہ والی انار کلی اپنے سلیم کی خاطر بدنامی بھری زندگی چھوڑنے تک کو تیار نہیں ہے۔۔۔“ اُسکی بات کی شدومد سے نفی کرتا وہ شکوہ کرگیا تو رابی کے لبوں پر رینگتی مسکراہٹ معدوم پڑتی سمٹ گئی۔
”مت چلو ایسی راہ پر جسکی کوئی منزل نہیں ہے۔۔۔تھک جاؤ گے۔۔۔“ جواب میں اُسکے خالی دامن میں ناامیدیاں بھرتی وہ قدرے مدھم لہجے میں بولتی اگلے ہی پل اُسکے کندھے سے لگتی آنکھیں موندگئی۔
سالار خان نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئےاُسکی یہ ادا ملاحظہ کی تھی جسکا صاف اشارہ تھا کہ وہ مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھی ماسوائے چیختی خاموشی کے۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
وہ دونوں اردگرد سے بےبہرہ آرام آرام سے سیڑھیاں چڑھتی ساتھ ساتھ مسلسل باتیں بھی کیے جارہی تھیں۔اُنکا اگلاسٹاپ انگلش کی کلاس تھی جس کا لیکچر شروع ہونے میں بس کچھ ہی منٹس باقی بچے تھے۔
”یہ تو بہت زبردست نیوز ہے حرمین۔۔۔مجھے تو اب بھی یقین کرنا مشکل ہورہا ہے کہ تمھیں تمھارے خوابوں کا شہزادہ مل گیا ہے۔۔۔واہ یار۔۔۔اٹس امیزنگ۔۔۔“ علیزہ کے لہجے میں خوشی سے ذیادہ حیرانی تھی۔
”منہ میٹھا کرلیا تم نے لیزی۔۔۔اور تمھیں ابھی بھی یقین نہیں آرہا۔۔۔رکو زرا۔۔۔۔“ اُسکی بےیقینی پر چڑتی حرمین نے اُسکے بازو پر زور کی چٹکی بھری تو وہ آخری اسٹیپ چڑھتی بلبلااٹھی۔
”اُوئی چوَل۔۔۔درد ہوتا ہےیار۔۔۔“ سرعت سے اُسکا ہاتھ جھٹکتی وہ اپنا بازو مسلنے لگی تو حرمین اُسکے بگڑے تیور دیکھ کر ہنس پڑی۔
”اب بولو۔۔۔یقین آیا۔۔۔؟؟؟یا میں پھر سے۔۔۔۔“ علیزہ سے بھرپور تصدیق مانگتے ہوئے اُسنے پھر سے اپنی انگلیوں کو مخصوص انداز میں حرکت دیتے ہوئے اُسکے قریب کیا تو وہ اچھل کر دور ہوئی۔
”نہیں نہیں پلیز۔۔۔مجھے یقین آگیاہے۔۔۔۔ایک سو ایک پرسنٹ یقین آگیاہےکہ تمھارا ذباب جیجو سے رشتہ پکا ہوچکا ہے۔۔۔اب بس چٹ منگنی اور پٹ بیاں کی دیر ہے۔۔۔“ فرفربولتے ہوئے آخر میں علیزہ کا انداز اُسے چھیڑنے والا تھا جس پر وہ اُسے گھورکر رہ گئی۔
”تو بتاؤ پھر کب تمھیں انگوٹھی پہنانے آرہے ہیں وہ۔۔۔۔؟؟“ کلاس کی جانب مڑتے ہوئے اُسنے سوال داغا۔
”بس کچھ ہی دنوں تک۔۔۔۔“ وہ شرماکر مسکراتی ہوئی بےاختیار نگاہیں جھکاگئی۔
”ہائے میں مرجاواں۔۔۔۔آریو بلشنگ حرمین۔۔۔۔“ اُسکے سانولے رنگ گالوں پر ہلکی ہلکی سرخائی دیکھتی علیزہ خوشی سے اچھلی جس پر گڑبڑاتی ہوئی وہ ایک بار پھر سے اُسکے بازو پہ ہلکی سی چٹکی بھرتی کلاس میں بھاگ گئی۔ ”اُففف۔۔۔حرمین کی بچی۔۔۔۔روکو ذرا تم۔۔۔۔ابھی بتاتی ہوں تمھیں۔۔۔۔“ علیزہ بھی غصے سے اپنا بازو مَلتے تیزی سے اُسکے پیچھے لپکی تھی۔ جبکہ چند قدموں کے فاصلے پر چلتا فواد اپنی حیرانگی پر قابو پاتا جیبوں میں ہاتھ پھنسائے ہوئے جس خاموشی کے ساتھ وہاں آیا تھا اُسی خاموشی سے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف نکلتا چلا گیا۔۔۔کیونکہ جو بھی مرچ مصالحہ اُسے چاہیے تھا بنا کسی مشکل کے وہ بڑی آسانی سے اُسے حاصل کرگیا تھا۔ اب کمی تھی تو بس اِس دھماکہ دار خبر کے ذریعے شام کو مرچ مصالحہ لگانے کی۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
عائمہ بیگم لان میں بیٹھی مزے سے چائے پی رہی تھیں جب وہ بھی گاڑی سے اتر کر سیدھا اُنہی کے پاس چلاآیا۔
”اسلام علیکم موم۔۔۔۔“ عائل سر سے کیپ اتارتا اُن کے سامنے والی چیئرپر بیٹھ گیا۔
”وعلیکم اسلام۔۔۔وعلیکم اسلام۔۔۔۔جیتے رہو میرے بچے۔۔۔۔آمنہ۔۔۔جلدی سے چائے کا ایک کپ بناکر لےآؤ۔۔۔“ بڑی چاہت سے اُس پر سلامتی بھیجتی ہوئی عائمہ بیگم نے ساتھ ہی ملازمہ کی انیس سالہ بیٹی کو آواز لگائی۔
”تھینکس موم۔۔۔۔میرا بھی یہی دل چاہ رہا تھا۔۔۔۔“ عائل ہلکی ہلکی تھکان محسوس کرتا نرمی سے گویا ہوا تو اپنا خالی کپ جھک کر ٹیبل پر رکھتی وہ کھل کر مسکرا اُٹھیں۔
”خیریت۔۔۔آج تو بڑی جلدی ڈیوٹی سے واپس آگئے ہو تم۔۔۔سب ٹھیک تو ہےناں بیٹا۔۔۔۔؟؟“ اُسکے وقت سے بہت پہلے ہی گھر آنے پر وہ اپنی حیرانگی مزید چھپانہیں پائی تھیں۔
”جی الحمداللہ سے سب کچھ ٹھیک جارہا ہے۔۔۔ایکچولی آج مجھے عبدالجبار صاحب نے ملنے کے لیے خاص طور پر اپنے آفس بلایا تھا۔۔۔کافی دن پہلےسرکاری زمین کو لےکر کچھ ایشو بن گیا تھا۔۔۔اور اب وہ کیس تقریباً سولو ہوچکا ہے۔۔۔تو اسی پر وہ میرا شکریہ اداکرنا چاہتے ہیں۔۔۔سوچا پہلے گھر سے فریش ہولوں پھر اُنکی طرف بھی چلا جاؤں گا۔۔۔“ گہرا سانس بھرتے اپنے بالوں میں ہاتھ چلاکر اُنھیں سنوارنے کی کوشش کرتا وہ آرام سے بتاتا چلاگیا۔
”یہ تو تم نے بہت اچھا کیا بیٹا۔۔۔پہلے صحیح سے فریش ہولو پھر آرام سے چلے جانا۔۔۔“ عائمہ بیگم کے نرم لہجے میں فکر سی سمٹ آئی۔
تبھی آمنہ لال دوپٹے میں خود کو اچھے سے ڈھانپے ہاتھ میں گرم چائے کا کپ پکڑے وہاں آگئی۔ عائمہ بیگم نے ایک حقارت زدہ نظر اُس پر ڈال کر اپنا منہ پھیر لیا جبکہ اتنے دنوں بعد اُسے اپنے روبرو دیکھ کر عائل کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھرآئی۔
”صاحب جی۔۔۔آپکی چائے۔۔۔۔“ عائمہ بیگم کی موجودگی میں ذرا سا گھبراتی وہ کپ عائل کی جانب بڑھاگئی۔
”شکریہ مُنی۔۔۔۔اور بتاؤ۔۔۔کام کے ساتھ ساتھ پڑھائی بھی جاری رکھی ہوئی ہے ناں۔۔۔۔؟؟“ احتیاط سے کپ پکڑتا وہ اُسکے بارے میں کسی ٹیچر کی طرح پوچھ گچھ کرنے لگا تو وہ اُسکے طرز تخاطب اور بات پر پرجوش سی مسکرادی۔
عائل اپنے کاموں میں بزی ہی اتنا ہوتا تھا کہ کبھی کبھار ہی اُن دونوں میں کھل کر کوئی بات چیت ہوپاتی۔
اور یہ چیز بھی عائمہ بیگم کو ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی جبکہ شام تو اُسے اور اُسکی ماں کو کام کے علاوہ بلانا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔
”جی صاحب۔۔۔رات کو فارغ ہوتے ہی میں اپنی کتابیں لےکر بیٹھ جاتی ہوں پڑھنے۔۔۔۔“ اگرچہ سکول میں مڈل کرنے کے بعدسے اُسکی تعلیم کا سرکٹ ختم ہوچکا تھا لیکن یہ عائل کی کوششوں کا ہی نتیجہ تھا کہ وہ اپنے شوق کو گھر بیٹھے ہی پورا کررہی تھی۔
”ویری گڈ۔۔۔یہ تعلیم ہی ہوتی ہے جو انسان کو بلندیوں کی طرف لے جاتی ہے۔۔۔یہ سنہری موقع کبھی ضائع مت ہونے دینا۔۔۔۔“ وہ مسرور سا چائے کے گھونٹ بھرتا اُسے مزید سمجھانے لگا تو وہ بھی ساتھ ساتھ تائید میں سرہلانے لگی۔
”جی صاحب۔۔۔۔میں خوب من لگا کر پڑھوں گی۔۔۔اور جس طرح آپ پولیس آفیسر بن کر لوگوں کی مدد کرتے ہیں اسی طرح میں بھی ڈاکٹرنی بن کر دوسروں کی مددکیا کروں گی۔۔۔۔“ عائمہ بیگم کی غصیلی نظروں کی تپش خود پر محسوس کرنے کے باوجود بھی وہ بخوشی اپنی دلی خواہش کا اظہار عائل کے سامنے کرگئی۔
”ماشاءاللہ بہت ہی اچھے خیالات ہیں تمھارے مُنی۔۔۔ انشاءاللہ ایک دن ایسا ضرور ہو گا۔۔۔۔لیکن میری بار میں خود بیمار مت پڑجانا فیوچر کی ڈاکٹرنی صاحبہ۔۔۔“ اُسکے نیک خیالات جان کر خوشدلی سے مسکراتا وہ آخر میں شرارتی انداز اپناگیا۔
جہاں عائمہ بیگم نے عائل کی آخری بات پر برہمی لیے اُسکی جانب دیکھا وہیں آمنہ دل پر ہاتھ رکھتی بوکھلائی۔
”اللہ نہ کرے صاحب کہ آپ کو کبھی بھی کسی ڈاکٹر کی ضرورت پیش آئے۔۔۔اللہ آپکو ڈھیروں صحت و تندرستی عطا کرے۔۔۔“ دل سے دعادیتی وہ عائل کو اُسکی اتنی فکر کرنے پر ہنسنے پر مجبورکرگئی۔
”اچھا اب تم جاؤ یہاں سے اور اپنی ماں کو بولو کے دوپہر کے کھانے کے ساتھ گاجر کا حلوہ بنانا مت بھولے۔۔۔اور ساتھ ہی اُسے یہ بھی بتادینا کہ کل کی طرح سالن میں مرچیں پھیکی نہ رکھے۔۔۔سمجھ گئی۔۔۔؟؟“ تھوڑے دھیمے مگر سلگتے لہجے میں بولتی ہوئی وہ عائل کی موجودگی میں صبرکرگئی تھیں۔
ورنہ دل تو چاہ رہا تھا کہ اُس نوکرانی کو اچھا خاصا جھڑک کر وہاں سے ابھی کہ ابھی دفع دور کردیں۔
”جی بیگم صاحبہ۔۔۔۔“ اپنی مسکراہٹ سمیٹتی وہ پھیکے سے لہجے میں بولتی ہوئی وہاں سے نکلتی چلی گئی تو عائل بھی سنجیدگی سے باقی بچی چائے کے گھونٹ بھرنے لگا۔ دوسروں کے ساتھ اپنی ماں کا ایسا رویہ اُسے ہمیشہ سنجیدہ کردیا کرتا تھا۔
”بیٹا میں نے تمھیں مسزشاہنواز کے بارے میں بتایا تھا ناں۔۔۔وہی خواجہ انڈسٹریز والے۔۔۔دراصل آج مجھے اُنکا فون آیا تھا۔۔۔وہ ہمارے گھر آنا چاہ رہے ہیں۔۔۔۔“ عائمہ بیگم لہجے میں چاشنی سموئے مین پوائنٹ پر آئی تھیں۔
”یہ تو اچھی بات ہے۔۔۔۔آنے دیں پھر اُنھیں۔۔۔۔“ اِس بات پر سرسری سا دھیان دیتے وہ اپنی طرف سے بات ختم کرگیا تھا۔
”بیٹا۔۔۔بات صرف اتنی سی نہیں ہے۔۔۔“ اپنے مدعے کی جانب بڑھتے ہوئے اُنکی مسکراہٹ معدوم پڑی تھی۔
”تو پھر۔۔۔۔۔؟؟؟“ خالی کپ کو ٹبیل پر رکھتے وہ الجھا۔ ”دراصل وہ تم میں بہت انٹرسٹڈ ہیں اور تمھارے ساتھ اپنی بیٹی عروسہ کا رشتہ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔“ اصل حقائق کھول کر سامنے رکھتی وہ آس بھری نظروں سے اُسے دیکھنے لگیں جس کا چہرہ ایکدم سے سپاٹ ہوا تھا۔
گہری کالی آنکھوں میں بےاختیار وہ معصوم سا سانولا سلونا چہرہ گھوما تو وہ سختی سے اپنے لب بھینچ گیا۔
”بٹ موم۔۔۔۔آپ جانتی ہیں کہ مجھ پر پہلے ہی بہت سی دوسری ذمہ داریاں ہیں۔۔۔فی الحال کے لیے میں شادی جیسی بڑی ذمہ داری کو اپنے سر نہیں لےسکتا۔۔۔۔“ کچھ توقف کے بعد بڑی صفائی سے انکار کرتا وہ اُنھیں مایوسیوں کے سمندر میں دھکیل گیا۔
”تو اِس میں کیا قباحت ہے۔۔۔آج نہیں تو کل تمھیں یہ ذمہ داری بھی سر لینی ہی پڑے گی عائل۔۔۔بلکہ یہ تو اچھا ہے تم اس طرح اپنی ذمہ داریوں کو مزید اچھے طریقے سے سمجھ پاؤ گے۔۔۔۔اور مجھے بھی اچھی کمپنی میسر آجائے گی۔۔۔“ اپنی تمام تر ہمت ٹوٹنے کے بعد بھی وہ اُسے اس بےکار سی ضد پر سمجھانے لگیں مگر عائل خاموشی سے سنتا کسی اور ہی خیال میں گم تھا۔
”کہیں ایسا تو نہیں کہ تمھارے انکار کی وجہ تمھارا کسی اور کو پسند کرنا ہے۔۔۔؟؟اگر تم کسی اور لڑکی میں انٹرسٹڈ ہوتو مجھے بتاسکتے ہو۔۔۔شاید اس طرح سے ہم دونوں کی مشکل آسان ہوجائے۔۔۔“ عائمہ بیگم اُسے مشکوک نظروں سے دیکھتی اپنے دل میں شدت سے پنپتے سوال کو زبان پر لائیں تو عائل نے چونک کر اُنھیں دیکھا۔
”فی الحال تو میرےساتھ ابھی ایسا کوئی بھی چکر نہیں ہے موم۔۔۔۔لیکن اگر ہوا بھی تو سب سے میں پہلے آپ ہی کو بتاؤں گا۔۔۔۔ڈونٹ وری۔۔۔آپ بس اُن لوگوں کو انکار کردیں تاکہ وہ اپنے اِس ارادے سے باز رہ سکیں۔۔۔۔“ لبوں پر دلکش مسکراہٹ سجائے وہ اُنھیں وارن کرتا اُٹھ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
پیچھے عائمہ بیگم اُسکے ایکدم سے بدلتے تیوروں پرٹھٹھکتی مزید شک و شہبات میں گھرسی گئی تھیں کیونکہ عائل کے لبوں پر مچلتی ہوئی مسکراہٹ اس بار ذرا ہٹ کر تھی۔
💞💞💞💞💞💞
وہ جیسے ہی کلاس میں داخل ہونے لگا تو سامنے سر باقر کو وائٹ بورڈ پر مارکر گھسیٹتے دیکھ وہی ٹھٹھک کر رک گیا۔وہ یقیناً لیٹ ہوچکا تھا جسکا فوری احساس اُسے کلائی میں بندھی گھڑی کی سوئیوں کا مشاہدہ کرکے ہوا تھا۔
تبھی اُسکے لبوں نے بےاختیار”او شٹ“کہنے والے انداز میں حرکت کی۔ سر باقر نے ایک نظر فواد پر ڈالی اور اُسے نظرانداز کرتے ہوئے پھرسے اپنے کام کی طرف متوجہ ہوگئے۔
”سر۔۔۔۔مے آئی کم اِن۔۔۔؟؟؟“ وہ بڑے اطمینان سے مسکراکرگویا ہوا تو اُسکی قدرے بلند آواز پر شام سمیت ساری کلاس اُسکی جانب چند پلوں کے لیے متوجہ ہوگئی۔
”نو۔۔۔۔“ مگن انداز میں ایک لفظی جواب دیتے سرباقر اُسے خاصا مایوس کرگئے۔
”بٹ سر میری کلاس۔۔۔۔“ ایک نظر کلاس پر ڈالتے ہوئے ماتھے پر شکنوں کا جال سجائے فواد نے احتجاج کرنا چاہا جب وہ ایکدم سے مارکر ڈائز پر پٹختے اُسکے مدِمقابل آکر کھڑے ہوگئے۔
”لیکچر اسٹارٹ ہوئے پندرہ منٹ گزرچکے ہیں فواد مسعود۔۔۔باقی کے منٹس بھی آپ کلاس سے باہر رہ کر گزار سکتے ہیں۔۔۔مجھے کوئی ایشو نہیں۔۔۔اینڈ ایم شیور کہ آپکو بھی اپنا امپورٹینٹ لیکچر مس کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔۔“ سرباقر نے لہجہ نرم رکھتے ٹکاکر اُسکی انسلٹ کی تھی۔
لیکچر بیچ میں ہی سٹک ہوجانے پر تقریباً سبھی سٹوڈنٹس کلاس روم کی ایکدم سے بدل جانے والی دلچسپ حالت پر مزے لیتے اُن دونوں کی تکرار دیکھنے لگے۔
”سر اٹ از نسیسری فارمی۔۔۔۔نیکسٹ ٹائم ایسا نہیں ہوگا۔۔۔“ خود پر بمشکل ضبط کرتا وہ اپنی طبیعت کے خلاف جاکر نجانے کیسے ابھی بھی تمیز و تہذیب کے دائرے میں رہ کر بات کررہا تھا۔
شام منہ میں پین دبائے بھرپور انجوائے کرتا ہنوز مسکرا رہا تھا۔ افروز تو اُنھیں دلچسپی سے دیکھتا اپنا رجسٹر ہی بند کرچکا تھا۔
”آپکو ایک دفعہ کی بات سمجھ نہیں آتی کیامسٹر فواد یا پھر آپ کو اس وقت فارسی زبان سننے کا شوق ہورہا ہے۔۔۔۔؟؟نو مینز نو۔۔۔آؤٹ۔۔۔۔“ اُسکی سرد لہجے میں کی جانے والی التجا پر وہ چڑتے ہوئے تڑخ کر بولے اور ساتھ ہی شہادت کی انگلی سے اُسے باہر کا رستہ دکھایا تو بےاختیار سب کی دبی دبی سی ہنسی چھوٹ گئی۔
اپنی اس قدر بےعزتی پر فواد پوری کلاس پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہوئے مٹھیاں بھینچتا خجالت سے سرخ پڑا تھا۔
اپنی تازہ تازہ بنی گرلفرینڈ کی تاسف زدہ نظریں اور جانِ عزیز کمینے دوستوں کی ہنسی دیکھ کر وہ مزید جلا تھا جو اُسے دیکھ کر فلائنگ کس بھی کرچکے تھے۔
”کیپ کوائیٹ پلیز۔۔۔۔“ سر باقر نے سب کو ڈپٹتے ہوئے خاموش کروایا۔ ”سالا بڈھا ٹھرکی۔۔۔۔آؤٹ کا بچہ نہ ہو تو۔۔۔۔ہونہہ۔۔۔“ سرباقر کے سفید بالوں کے ساتھ ساتھ اُنکی دوسری ٹیچرز کے ساتھ فرینک نیس پر بھی زیرِ لب چوٹ کرتا وہ وہاں سے پلٹنے سے پہلے اُنھیں گھورنا نہیں بھولا تھا۔ سر باقر بھی اُسکے حد درجہ بگڑتے موڈ کا اثر لیے بغیر واپس مارکر پکڑتے وائٹ بورڈ کی جانب پورے دھیان سے متوجہ ہوگئے۔ تبھی وہ بھی تن فن کرتا وہاں سے نکلتا چلاگیا۔
کچھ ہی دیر میں لیکچر اپنے پورے ٹائم پر ختم ہوا تو باقی سٹوڈنٹس کے ساتھ وہ دونوں بھی کلاس روم سے نکل کر باہر آگئے۔
فواد سامنے ہی پلر کے ساتھ ٹیک لگائے قدرے بےنیازی سے کھڑا موبائل اسکرین پر دونوں انگھوٹے چلانے میں مگن تھا۔اُسکے لبوں پر رینگتی مسکراہٹ دیکھ کر کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کہ اس بندے کی کچھ دیر پہلے رکھ کر بےعزتی کی گئی تھی۔
”ہاں بھئی۔۔۔۔مزا آیا پھر دھوپ سیک کر۔۔۔؟؟؟“ اُسکے قریب جاتے ہی افروز نے لبوں پر دل جلادینے والی مسکراہٹ سجائے اُسکے مضبوط کندھے پر ہاتھ مارا تو شام بھی اس لطیف سے طنز پر ہنسا۔
”یہ سب چھوڑ کمینے۔۔۔اور شام تُو جلدی سے منہ میٹھا کروانے کی تیاری پکڑ۔۔۔۔“ وہ تپے بغیر موبائل جینز کی پاکٹ میں گھساتا قدرے اطمینان سے تقاضا کرگیا۔
”کیوں بے۔۔۔۔؟سر باقر کا لیکچر چھوٹ جانے کی خوشی تیرے سر چڑھ کر بولنے لگی ہے۔۔۔۔؟؟یا پھر اپنی تازہ تازہ انسلٹ پر تیرا منہ کڑوا ہوچکا ہے جو میٹھا کھانے کو اس قدر دل چاہ رہا ہےتیرا۔۔۔۔؟؟“ شام ہنوز مسکراتا ابھی بھی غیر سنجیدہ تھا۔
”اڑالے جتنا مذاق اڑانا ہے میرا سالے۔۔۔مگر جب میں بولنے پر آؤں گا ناں تو تیری شکل دیکھنے لائق ہوگی بیٹا۔۔۔“ وہ بنا اثر لیے مسکرا کر بولا تو اپنی مسکراہٹ سمیٹتا شام صحیح منعوں میں الجھا۔
”سیدھا سیدھا بول معاملہ کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟“ وہ ایکدم ہی سنجیدہ ہوا تو اُسکے لہجے سے مزے لیتا فواد کھل کر مسکرایا۔
”معاملہ بہت گرم ہے شام صاحب۔۔۔وہ چڑیا جسے تُو پٹانے کی تگ و دو میں تھا وہ تو جال میں پھنسنے سے پہلے ہی اُڑ گئی۔۔۔۔شوووووکرکے۔۔۔۔“ شام پر مبہم انداز میں بم پھوڑتا وہ آخر میں ہاتھ کا ہوائی جہاز بناتا بھرپور اداکاری کرنے لگا جس پر دونوں کے تیوری چڑھنے لگی۔
”یعنی کہ اُس ملانی کا رشتہ پکا ہوچکا ہے برو۔۔۔۔اُسکا ریکاڈ ابھی تک قائم ہے۔۔۔پر تیرا ریکاڈ وہ ضرور توڑگئی ہے۔۔۔“ اُن دونوں کو ابھی بھی خود کی جانب ناسمجھی سے تکتا پاکر وہ شام کو بھرپور مرچ مصالحہ لگاتے مزید وضاحت دینے لگا۔
”بکواس بند کر اپنی۔۔۔۔“ اُسکے طنز پر شام دہاڑا تھا۔
”اب کیا کرے گا۔۔۔۔؟؟وہ تو چلی گئی۔۔۔کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوگیا ہے یار۔۔۔۔“ اُسکے اچانک بھڑکنے پر جہاں فواد کی ساری شوخی جھاگ کی مانند بیٹھی تھی وہیں افروز نے قدرےسنجیدگی سے اُسکی رائے جاننا چاہی۔
”اصل گیم تو شروع ہی اب ہوئی ہے جسے میں کھیلوں گا بھی تو اب اپنے طریقے سے۔۔۔۔اگراُسے اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ کردیا تو میرا نام بدل دینا تم لوگ۔۔۔۔وہ ملانی کہیں بھی چلی جائے میری مٹھی میں ہے۔۔۔ “ حقارت زدہ لہجے میں بولتا وہ پُریقین تھا۔ اُسکے انداز میں اس قدر شدت تھی کہ وہ دونوں چونکتے ایک دوسرے کا منہ دیکھ کررہ گئے۔۔۔
💞💞💞💞💞💞