No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
وسیع و عریض رقبے پر قابض پورے قد سے کھڑی اِس یونیورسٹی کی شاندار عمارت میں آج بھی معمول کے مطابق پُررونق افراتفری کا عالم برپا تھی۔جہاں پڑھاکو طلباء و طلبات کلاسز اور لائبریریز میں گھسے صفحات پر چھپے لفظوں کو سمجھنے کی تگ دو میں غرق تھے وہیں کئی منچلے سٹوڈنٹس پڑھائی سے بےنیاز الگ تھلگ جگہوں پر ٹولہ بنا کرکھڑے دلچسپ معاملات پر آپس میں محوِ گفتگو تھے۔
”پلیز شام۔۔۔۔مجھے انکار مت کرنا۔۔۔۔آئی نو کہ یہ بہت اوور ہورہا ہے۔۔۔پر میں اپنے اِس باغی دل کا کیا کروں جو جانے کتنی دیر سےتمھارے لیے تڑپ رہا ہے۔۔۔۔۔“ لانبی انگلیوں کے بیچ سرخ گلاب کا پھول دبائے وہ بڑے بولڈ انداز میں اُسے اپنی محبت کا یقین دلارہی تھی اور وہ قدرے اشتیاق سے اُسکا میک اپ سے سنورا حسین چہرہ دیکھ رہا تھا۔ اپنی زندگی کے من پسند لمحات گزارتے ہوئے اُسکی بھوری آنکھوں میں غرور سمیت گہری چمک تھی۔
البتہ سمٹے لبوں سے مسکراہٹ مفقود تھی۔ پاس ہی کھڑے فواد اور افروز سینے پر ہاتھ باندھے جینز اور ریڈ ٹاپ میں ملبوس اس نئی پٹاخہ کو ایکسرے کرتی نظروں سے دیکھ رہے تھے جو بدقسمتی سے کسی جوالہ مکھی کی طرح پھٹ کر اُن کے جگڑی یار کے مقابل آکھڑی ہوئی تھی۔
”بٹ تم جانتی ہو شمسہ کہ میں اب گرلفرینڈز نہیں بناتا۔۔۔۔میں تمھارا دل۔۔۔توڑنا تو نہیں چاہتا پر کیا کروں یار۔۔۔۔؟؟مجبوری ہے۔۔۔۔سمجھو بات کو۔۔۔۔“ اپنی بےبسی کا اظہار دبے لفظوں میں کرتا وہ حقیقتاً افسردہ ہوا۔
”ہمارا بچہ اب شریف ہوگیا ہے لڑکی۔۔۔۔اس لیے ساری حسیناؤں سے فاصلہ بنا کررکھتا ہے۔۔۔۔ایویں اسکے پیچھے خود کو مت تھکاؤ۔۔۔۔باقی سب بھی تو ہیں۔۔۔۔تم اُن پر ٹرائے کرسکتی ہو۔۔۔۔بائے دا وے آئی ایم سنگل آن دیٹ ٹائم۔۔۔۔“ شمسہ کا ہاف سلیو بازو نرمی سے تھام کر اُسکی تمام تر توجہ اپنی جانب سمیٹتا افروز بےتکلفی سے گویا ہوا تو شام اُسکی مداخلت پر ضبط سے بالوں میں ہاتھ چلاتا لب بھینچ گیا۔
یہ دیکھ کر فواد نے بھی تاسف سے گردن ہلائی جو آجکل ہر لڑکی پر چانس مارتا پِھررہا تھا۔
”ایسی بھی کیا مجبوری ہے شام کہ تمھیں میری سچی محبت بھی دکھائی نہیں دے رہی۔۔۔۔؟؟پلیز بس ایک بار مجھے چانس دے کر دیکھو۔۔۔۔ایم شیور کہ تمھیں اپنے اس فیصلے پر کبھی کوئی پچھتاوا نہیں ہوگا۔۔۔۔“ بڑی سہولت سے افروز کا ہاتھ جھٹکتی وہ واپس شام کی جانب متوجہ ہوئی تو فواد افروز کے پل میں بگڑتے تاثرات دیکھ کر لبوں سے پھوٹنے والی ہنسی کو بروقت روک گیا۔
”چانس۔۔۔۔۔“ اُسکی آنکھوں میں نمی دیکھتا وہ اب کہ سوچ میں پڑگیا۔ اندر کہیں کم آن مین۔۔۔کم آن۔۔۔ کی سرگوشیاں شدت سے سنائی دیتی اُسے یہ آفر قبول کرنے پر اکسارہی تھی۔
”بس ایک بار۔۔۔۔۔پلیزززز۔۔۔۔“ ایک بار پھر سے گلاب کا مہکتا پھول وہ اُسکے چوڑے سینے کے قریب لے گئی جب اچانک اُسکی بھوری نگاہوں نے سامنے سیڑھیوں تک کا فاصلہ پل میں مانپا۔
حرمین اردگرد سے بےپرواہ سینے سے رجسٹر چپکائے سیکنڈ فلور پر جانے کے لیے ایک کے بعد دوسرا سٹیپ عبور کررہی تھی۔
”آئی کال یو لیٹرشمسہ۔۔۔۔۔ایکس کیوزمی۔۔۔۔“ قدرے عجلت میں اُسکے ہاتھ سے گلاب کا پھول تقریباً جھپٹتا وہ سڑھیوں کی جانب بجلی کی سی رفتار سے لپکا۔
جبکہ شمسہ سمیت وہ دونوں بھی اُسکی اس قدر تیزی پر حیران رہ گئے۔ ”ہائے حرمین۔۔۔۔۔۔۔“ سکینڈوں میں اُس تک پہنچتا وہ گہری سانسوں کے بیچ بےاختیار اُسے مخاطب کرگیا۔ وہ جو کلاس میں لیٹ پہنچنے کے ڈر سے باقی بچے دو سٹیپ ایک ساتھ پھلانگنے والی تھی اپنی پشت سے ابھرتی مانوس سی آواز پر بوکھلاکر بےاختیار پیچھے پلٹی۔
اگلے ہی پل اُسکا توازن بگڑا تھا اور دبی چیخ سمیت وہ شام کے اوپر گرتی خوف سے آنکھیں میچ گئی۔ہینڈ بیگ کندھے سے جھولتا کہنی پر آکر اٹکا تھا جبکہ بلیو شرٹ کا کالرسختی سے اُسکی نازک مٹھیوں میں قیدسلوٹ زدہ ہوچکا تھا۔
”او۔۔او۔۔اووووو۔۔۔۔۔“ سرعت سے اُسکی کمر کے گرد مضبوط بازوؤں کا گھیرا باندھتا وہ خود کے ساتھ ساتھ اُسے بھی بروقت سٹیبل کرگیا۔ البتہ درمیان میں آڑ بنتا موٹا رجسٹر دونوں کے بیچ تھوڑا بہت بھرم رکھ گیا تھا۔ ”اب تم اپنی آنکھیں کھول سکتی ہو کیوٹی پائی۔۔۔۔فکر نہیں کرو۔۔۔جب تک میں تمھارے ساتھ ہوں تمھیں کبھی گرنے نہیں دوں گا۔۔۔۔“ اُسکے خوف سے زرد پڑتے چہرے پر ایک گہری نگاہ ڈالتا اگلے ہی پل وہ اپنے لب اُسکے کان کے قریب کرتا سرگوشی نما آواز میں بولا۔۔۔کہ تبھی وہ اُسکے وجود سے اٹھتی کلون کی دلفریب مہک کو شدت سے محسوس کرتی ڈرتے ڈرتے اپنی آنکھیں کھول گئی۔
”شش۔۔۔۔شام۔۔۔۔“ مقابل کی لمبی پلکوں کو اس قدر قریب سے دیکھتے ہوئے اُسکی سانسیں سینے میں اٹکی تھیں۔
”تم ٹھیک ہو۔۔۔۔؟؟؟“ خود کی قربت کے سبب اُسکی بگڑتی حالت کی پرواہ کیے بنا وہ اب بھی اُسے اپنے حصار میں لیے جم کرکھڑا تھا۔ اسی لمحے کسی نے دور سے کیمرہ زوم کرکے اِس قابلِ اعتراض منظر کو پل میں اپنے پاس قید کیا تھا جس سے وہ دونوں ہی بےخبر انجانے میں ایک دوسرے کے نقوش شدت سے ازبرکرتے چلے جارہے تھے۔
”ہ۔۔۔ہاں۔۔۔۔“ اگلے ہی پل ہوش میں آتی وہ جھٹکے سے اُسکا حصارتوڑتی پیچھے ہٹی تو شام رجسٹرر زمین بوس ہونے سے پہلے ہی اُسے بروقت اپنی مضبوط گرفت میں لےگیا۔
البتہ اس چکر میں گلاب کا پھول اپنی چند پتیوں سے محروم ہوتا نیچے گرچکا تھا۔ ٹیڑھا چشمہ ناک پر صحیح سے ٹکاتے ہوئے حرمین شرمندگی سے لب چباتی شام سے اپنا رجسٹرپکڑچکی تھی۔
”اٹس فار یو۔۔۔۔“ جھک کر اپنی بےقدری پر روتا سرگلاب کا پھول اٹھاتا وہ اُسکے سامنے کرگیا تو حرمین کی بےہنگم دھڑکنوں نے مزید شدت پکڑی۔ ”ایسے کیا دیکھ رہی ہویار۔۔۔۔تمھارے لیے ہی ہے۔۔۔۔“ چشمے کے پیچھے دکھائی دیتی اُسکی بےیقین نظروں میں جھانکتے ہوئے وہ دلکشی سے مسکراتا اُسکا دل مزید گھائل کرگیا جسکا اُسے بخوبی اندازہ تھا۔
”تھ۔۔۔۔تھینک یو شام۔۔۔۔۔“ خشک لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے وہ ہچکچاہٹ کی حدود پھلانگتی اُسکا ادنیٰ سا تحفہ قبول کرگئی جو اس پل اُسے دنیا کی ہرشے سے قیمتی لگا تھا۔
اسی کے ساتھ ایک اور پِک کیپچرکی گئی تھی۔
”اُففف لڑکی ایک تو تم بات بات پر یہ تھینک یو بہت بولتی ہو۔۔۔۔لیکن کبھی یہ سوچا ہے کہ میں تمھارا تھینک یو ایکسیپٹ کرتا بھی ہوں کہ نہیں۔۔۔۔“ جینز کی پاکٹس میں ہاتھ پھنساتا وہ اُسے بڑے آرام سے ایک نئی الجھن میں پھنساگیا۔
”ک۔۔کیا مطلب۔۔۔کیا نہیں کرتے۔۔۔۔؟؟؟“ گنتی کی چند پلکیں اٹھاتی وہ حیرانگی سے اُسے دیکھنے لگی تو اُسکی اس قدر سادگی پر شام کو جانے کیوں عجیب سی چڑ ہوئی۔
”پہلے کا تو پتا نہیں بٹ اب میں صرف ایک ہی شرط پر تمھارا تھینک یو ایکسپٹ کروں گا۔۔۔۔اب یہ تم پر ڈ یپینڈ کرتا ہے کہ تم میری ڈیمانڈ پر پوری اترتی ہو کہ نہیں۔۔۔۔“ حرمین کو اپنے سوچے سمجھے لفظوں کے اثر تلے دباتا وہ اُسے مزید پریشانی میں ڈال گیا۔
” کیسی شرط۔۔۔۔۔؟؟“ اُسکے سیاہ مائل لب بے چینی سے ہلے جو اس پل شام کی نظروں میں تھے۔
”ایکچولی میری برتھڈے آرہی ہے۔۔۔اور میں چاہتا ہوں کہ تم اُس میں سپیشل ون کے طور پر آؤ۔۔۔۔مینزکہ تمھیں میری برتھڈے پارٹی میں آکر مجھے وارملی وِش کرنا پڑے گا۔۔۔۔“ جھٹ سے اپنی نظریں پھیرتا وہ دھیمے انداز میں فرفر بولتا چلاگیا تو وہ شدت سے دھڑکتے دل سمیت تذبذب کا شکار ہوئی۔
”ارے حرمین۔۔۔۔“ اس سے پہلے کہ وہ شام کو کوئی جواب دے پاتی جبھی ایک نسوانی آواز نے بیک وقت دونوں کی توجہ اپنی جانب کھینچی۔ ”علیزہ نہیں آئی آج۔۔۔۔ایکچولی اُسکےنوٹس تھے میرے پاس جو میں نے اُسے ٹائم پر واپس کرنے تھے۔۔۔۔“ دونوں کو ایک دوسرے کے قریب دیکھ کر شانزے اپنی حیرت پر قابو پاتی ذرا سنبھل کر بولی۔
”نن۔۔۔نہیں۔۔۔۔وہ آج نہیں آئی۔۔۔۔“ اپنی کلاس فیلو کی جانچتی نظریں گلاب کے پھول پر محسوس کرتی وہ ناچاہتے ہوئے بھی گھبراگئی۔ جبکہ اُسکی گھبراہٹ سے لاپرواہ وہ بےزار سا اُنکی بےمعنی گفتگو سننے پر مجبور تھا۔ ”اوکے پھر میں چلتی ہوں۔۔۔۔اینڈ ہاں۔۔۔۔میں تو بھول ہی گئی۔۔۔۔گنگریجولیشن حرمین۔۔۔۔“ جاتے جاتے کچھ یاد آنے پر وہ اچانک رکی۔ اُسکے یوں مبارکباد پیش کرنے پر جہاں حرمین نئے سرے سے گھبرائی تھی وہیں شام نے چونک کر اُسے دیکھا۔
”علیزہ نے مجھے بتایا تھا کہ کل تمھاری انگیج منٹ تھی۔۔۔۔سچ میں بہت خوشی ہوئی جان کر۔۔۔۔۔بیسٹ آف لک ڈیئر۔۔۔۔“ فساد پھیلاتی وہ ہنستی مسکراتی وہاں سے جاچکی تھی جب حرمین نے بڑے ضبط سے شام کے تنے نقوش دیکھے۔ اگلے ہی پل وہ بنا کچھ بولے شدید غصے میں سرعت سے سیڑھیاں اترتا اُسے بوکھلاگیا۔
”شام۔۔۔۔۔رکیں پلیز۔۔۔بات تو سنیں میری۔۔۔۔۔شام۔۔۔۔۔“ اپنی چیخوں کا گلا گھونٹتی وہ بھی بے اختیار اُسکے پیچھے لپکی تھی جب اچانک دوسری سیڑھی سے لڑکھڑاتی وہ سرعت سے ریلنگ کو جکڑگئی۔
نیچے گرے رجسٹر کو دیکھتے ہوئے اُسکی گہری سیاہ آنکھیں دھندلائی تھیں جسے اُس سمیت تھامنے والا وہاں سے کب کا جاچکا تھا۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
دبیز قالین پر قدم جماتی وہ اندر داخل ہوئیں تو وہ اپنی گہری سوچوں سے چونکتی تابین بائی کی جانب متوجہ ہوئی۔ خود کو ہوش دلاتی وہ بےاختیار مسکرائی لیکن اِسکے باوجود بھی اُسکے حسین چہرے کی اداسی تابین بائی کی تیز نگاہوں سے مخفی نہیں رہ پائی تھی۔
اُس رات کی محفل کے بعد سے وہ اکثر گم صم سی رہنے لگی تھی۔
”میری جان۔۔۔۔دیکھو توکتنی مرجھاگئی ہو تم۔۔۔۔اور ہر وقت اداس بھی رہنے لگی ہو۔۔۔۔اس بےچینی کی وجہ وہ سالار خان ہی ہے ناں۔۔۔۔؟؟؟یاں پھر تمھارا۔۔۔۔۔“ اُسکے سامنے پلنگ پر بیٹھ کر وہ نرمی سے بولتی رابی کے گھٹنوں کے گرد بندھے دونوں ہاتھ تھام گئیں جب وہ اُنکا نرماہٹ میں لپٹا شکوہ شدت سےمحسوس کرتی تابین بائی کو بیچ میں ہی ٹوک گئی۔
”واللہ بی بی جان اُس شخص کا میرے سامنے نام بھی مت لیں۔۔۔۔اُسکی آپ کے ساتھ کی گئی بدتمیزی مجھے بھلائے نہیں بھولتی۔۔۔۔“ اُس شخص کے نام پر اُسکی آواز کے ساتھ ساتھ نقوش بھی سخت ہوئے جو کہیں نہ کہیں اُسکی سوچوں کا مرکز ومحور تھا۔
”وہ تو دِکھ ہی رہا ہے۔۔۔لیکن تمھاری خاموشی مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتی ہے رابی۔۔۔۔“ اُسکے اتنا مان دینے پر سرشار ہوتی وہ پھرسے اپنی فکر ظاہر کرگئیں تو وہ گہرا سانس بھرتی ہولے سے مسکرائی۔
”میں بالکل بھی اداس نہیں ہوں۔۔۔۔اور رہی بات مرجھانے کی تو میں آپکی یہ غلط فہمی بھی ابھی نکال دیتی ہوں۔۔۔۔وہ سامنے آئینہ دیکھ رہی ہیں ناں۔۔۔۔؟؟؟“ سرعت سے تابین بائی کی توجہ سامنے دیوار پر لگے قدآور آئینے کی جانب مبذول کرواتی وہ اُنھیں نئی الجھن میں ڈال گئی۔
”ہاں۔۔۔۔دیکھ رہی ہوں۔۔۔۔“ اپنے ساتھ ساتھ ہلکے گلابی رنگ فراک میں اُسکا نکھرتا عکس دیکھتی وہ اثبات میں سر ہلاگئیں۔
”میرے عکس سے پھوٹتی حسن کی تابناک شعاعوں میں یہ آئینہ بھی اپنی بے رونقی میں کھل سا اٹھا ہے۔۔۔۔ایسے میں اگر آپ میرے حسن کو مرجھایا ہوا کہیں گی تو یہ مجھ سمیت میری قدرکرنے والوں کے ساتھ اچھی خاصی ناانصافی ہوجائے گی بی بی جان۔۔۔۔“ اُسکے اطمینان دلانے کے اِس نئے انداز پر پل بھر کو خاموش ہوتی تابین بائی اپنے حلق سے نکلتا شفاف قہقہ روک نہیں پائی تھیں۔
بیچ میں رابی کی بھی کھنکتی ہنسی شامل ہوئی تھی۔
”بہت تیز دماغ ہو تم لڑکی۔۔۔۔اپنی باتوں سے ہمیشہ مجھے لاجواب کرجاتی ہو۔۔۔۔“ اُسکے لفظوں سے پھوٹتی ذہانت پر شدت سے رابی کی جانب مرعوب ہوتی وہ ہنوز مسکرا رہی تھیں۔
”واللہ کیا کہنے آپکے بھی بی بی جان۔۔۔۔اس وقت میں جو بھی ہوں جیسی بھی صرف آپکے دم سے ہوں۔۔۔۔ورنہ تو۔۔۔۔“ تابین بائی کے احسانوں تلے دبی وہ اپنی زندگی میں اُنکی اہمیت واضح کرتی اُنھیں مزید معتبر کرگئی۔ آخر میں نم پڑتی آنکھوں سمیت ہنستا مسکراتا لہجہ پل میں ڈگمگایا تھا۔ ”تمھاری یہی ادائیں تو مجھے تمھاری ہر بات ماننے پر مجبور کرجاتی ہیں اور میں چاہ کر بھی تمھاری کسی بھی بات کا انکار نہیں کرپاتی۔۔۔۔کیا ہو تم۔۔۔۔؟؟؟“ اپنی بےبسی کا کھل اظہارکرتی وہ اُسکے ہونٹوں کی سمٹی مسکراہٹ پھرسے واپس لے آئیں۔
”آپکی بیٹی۔۔۔۔اور مجھے ہمیشہ آپکا یہی اعتماد،ساتھ اور پیار چاہیے بی بی جان۔۔۔۔“ بےاختیار اپنی ٹانگیں سمیٹتی وہ بڑے مان سے ان کی گود میں اپنا سررکھ گئی۔
”ہم کچھ ذیادہ ہی ایموشنل نہیں ہوگئے۔۔۔۔خیر چھوڑو اسے اور مجھے یہ بتاؤ کہ اگر تمھارا وہ دیوانہ پھر تمھارے لیے یہاں چلاآیا تو۔۔۔۔؟؟؟“ رابی کے جوڑے میں مقید بالوں کو نرمی سے کھولتے ہی اُن میں اپنی انگلیاں چلاتے ہوئے انہوں سے اپنا خدشہ ظاہر کرنا ضروری سمجھا۔
خدشہ کیا پورا یقین تھا اُنہیں سالار خان کی واپسی کا۔۔۔۔۔اور یہ بات تو رابی بھی بخوبی جانتی تھی۔
”صاف صاف معاملہ ہے۔۔۔۔گارڈز سے کہہ کر اُسے نکال باہر کریے گا۔۔۔۔“ دغاباز دھڑکنوں کی شدت سے مخالفت کرتی وہ سپاٹ لہجے میں گویا ہوئی۔
”میں جانتی ہوں کہ یہ سب تم صرف میری وجہ سے دل پر پتھر رکھ کر بول رہی ہو۔۔۔۔لیکن شاید اسی میں ہم سب کی بہتری پوشیدہ ہے۔۔۔۔خیرجیسی تمھاری مرضی میری معصوم کلی۔۔۔۔۔“ اُسکی رائے سے متفق ہوتیں تابین بائی کے دل میں سکون سا بھرتا چلاگیا جبکہ وہ اُنکی انگلیوں کے نرم لمس کو اتنے عرصے بعد شدت سے محسوس کرتی ہنکارا بھر کر سکون سے آنکھیں موند گئی۔
جانے اُنکے فیصلوں میں کونسے راز۔۔۔کونسی مصلحتیں۔۔۔اور کونسی بہتریاں پوشیدہ تھیں۔۔۔۔۔؟؟
💞💞💞💞💞💞
وہ اس وقت ٹیسٹ کی تیاری میں بری طرح غرق ہرشے سے بےپرواہ تھی۔
”اُففف انگلش۔۔۔۔اُففف۔۔۔۔“ پلنگ پر التی پالتی مار کر بیٹھی حاویہ انگلش کی بُک میں زبردستی سر دھنسائے زور زور سے ہلارے لے رہی تھی۔ یاد کرنے والا اتنا ذیادہ تھا جبکہ ٹائم حد سے بھی کم۔۔۔۔۔ کل کے ٹیسٹ کے لیے یقیناً اُسکی تیاری نہ ہونے کے برابر تھی اور ایسا شاید اُسکے ساتھ پہلی بار ہورہا تھا۔ جبھی نیناں دھڑام سے اُسکے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی جسے دیکھ کر وہ یکدم ہلنا جُلنا چھوڑگئی۔ اگلے ہی پل سامنے پڑی انگلش کی بُک ٹھک سے بند ہوئی تھی۔
اور شاید محترمہ بھی اسی پل کے انتظار میں تھیں۔۔۔
”ٹیسٹ کی تیاری کیسی ہے تیری نینی۔۔۔۔؟؟“ لہجے میں بےچارگی سموئے وہ اُسکے احوال پوچھنے پر اُترآئی۔
”ارے فکر نہیں کرو۔۔۔تمھارے جیسی ہی ہے۔۔۔۔خیر اسے چھوڑو اور یہ دیکھو میں تمھارے لیے کیا لائی ہوں۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکے معصوم نقوش پر بارہ بجتے دیکھ کر وہ بےفکری سے بولی تو حاویہ کے دل کو بھی کچھ سکون ہوا۔ لیکن اگلے ہی پل رجسٹر سے بے ڈھنگے انداز میں پھاڑے گئے آدھے سے کم صفحے کو اُسکی انگلیوں کے بیچ دبا دیکھ وہ الجھی جس پر غالباً کسی کا نمبر کیڑے مکوڑوں کی صورت تحریر کیا گیا تھا۔
”یہ کیا لے کر آئی ہو میرے لیے۔۔۔۔۔؟؟؟“ منہ بسور کر پوچھتی وہ حیران ہوئی۔
”تمھاری اماں کے ہونے والے چھوٹے داماد کا نمبر ہے بہن۔۔۔۔۔“ ایک ادا سے بول کر اُسکے پہلو میں گرتی وہ قدرے اطمینان سے اُس پر دھماکہ ہی تو کرگئی تھی۔
”کیاااا۔۔۔۔تمھیں عائل کا نمبر کہاں سے ملا۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکی گہری بات کا مطلب سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں سمجھتی وہ دبی آواز میں چیخی۔
”بس دیکھ لو۔۔۔ضروری نہیں کہ ہمیشہ ہیرو ہی ہیروئن کو تنگ کرنے کے لیے اُسکا نمبر نکلوائے۔۔۔۔کبھی کبھی ہیروئن کی دوست بھی ہیرو کا نمبرنکلوالیتی ہے بھئی۔۔۔۔“ شہادت کی انگلی اُسکی ٹھوڑی کے نیچے ٹکاتی نیناں اُسکا حیرت سے کھلا منہ بند کرتے ہوئے آنکھ دباگئی۔
چہرے پر رقصاں شرارتی مسکراہٹیں قابلِ ستائش تھیں۔
”پاگل ہوگئی ہو کیا۔۔۔۔؟؟میں اُس کھڑوس سے بات کروں گی۔۔۔۔؟؟اور وہ بھی پولیس اسٹیشن کال کرکے۔۔۔۔؟؟نو۔۔۔۔نیور۔۔۔۔“ نیناں کو موبائل فون پر نمبر ملاتا دیکھ اُسکا دماغ صحیح معنوں میں گھوم گیا جبھی وہ اُسکا ارادہ بھانپتی قطیعت بھرے لہجے میں غرائی۔
”حاوی۔۔۔۔تو بات کرے گی تو بس کرے گی۔۔۔۔میں بول رہی ہوں ناں کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔جسٹ چِل یار۔۔۔۔“ حاویہ کو موبائل فون پر جھپٹتا دیکھ وہ سرعت سے اپنا ہاتھ پشت پر ٹکاگئی۔
”وہ میری اُس دن والی حرکت پر پہلے سے ہی بہت غصہ ہوگا نینی۔۔۔ایسے میں میں جان بوجھ کر شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کا رسک نہیں لے سکتی میڈم۔۔۔۔نونونو۔۔۔۔ایم سوری۔۔۔۔“ عائل کا گدلے پانی سے بھیگا وجود بھوری نظروں میں گھومتے ہی وہ بےاختیار جھڑجھڑی لے بیٹھی۔
اُسکی غصے کی ذیادتی سے سرخ آنکھیں اور تلخ لہجہ وہ بھلا کیسے بھول سکتی تھی۔۔۔۔
”اپنی جان پر کھیل کر میں نے تمھارے اے۔ایس۔پی۔ کا نمبرپرنسپل سر کے آفس سے نکلوایا ہے۔۔۔۔نکلوایا نہیں بلکہ بذاتِ خود چُرایا ہے۔۔۔۔اب نہ نہ بول کر میرا موڈ مت خراب کرو پلیز۔۔۔۔“ حاوی کو ڈپٹتی وہ اُس پر بری طرح بگڑی۔
”نہ کر نینی۔۔۔۔اگر اُسے معلوم پڑگیا کہ میں بات کررہی ہوں تو وہ۔۔۔۔“ اُسکا پھولا ہوا منہ اور آنکھوں میں اترتی ہلکی ہلکی نمی دیکھ کروہ نرم لہجے میں بےبس ہوتی التجاء کرگئی۔
”کچھ پتا نہیں چلے گا پاگل۔۔۔۔بس تُو وہی کر جو میں کرنے کو بول رہی ہوں۔۔۔۔“ بےاختیار اُسے ٹوکتی وہ کئی لمحوں پر محیط گنے چنے لفظوں کا لائحہ عمل اُسے سمجھا بھی چکی تھی۔
”اگر اُسنے پوچھا کہ کون بات کررہا ہے تو پھر میں کیا کہوں گی آگے سے۔۔۔۔؟؟“ اُسکی شدید ناراضگی کے ڈر سے وہ اِس بے جا ضد کے سامنے پھرسے وہی جواز پیش کرگئی۔
”کہہ دینا کہ آپکی لوَر بول رہی ہوں۔۔۔۔“ اُسکی ایک ہی رٹ پر چڑتی وہ جھنجھلاکر بولی۔
”ہاں۔۔۔۔اور وہ مجھے جواب میں خوشی خوشی آئی لوَیو بول دے گا۔۔۔۔ہے ناں۔۔۔۔؟؟“ اُسے قدرے احتیاط سے اسکرین پر انگلیاں چلاتے دیکھ کر حاویہ کا بس نہیں چل رہا تھاکہ اپنی جان سے پیاری دوست کا سر پھاڑدے۔
اور پھر اِسکا خود کا دھڑکتا دل۔۔۔وہ بھی تو عین وقت پر اُسکی مخالفت کرجاتا تھا۔۔۔جیسے کہ اب کررہا تھا۔
”ششش یہ لے پکڑ پکڑ۔۔۔۔۔“ موبائل فون کو اسپیکر پر ڈالتے ہی وہ سیل اُسکے ہولے ہولے لرزتے ہاتھوں میں تھما چکی تھی۔
بیل جارہی تھی جب حاویہ نے قدرے بےچارگی سے اُسکی طرف نظر بھرکردیکھا۔ اگلے ہی پل بھاری دلکش آواز دونوں کی سماعتوں سے ٹکراتی اُنھیں چونکاگئی۔
”ہیلو۔۔۔۔جی کون بات کررہا ہے۔۔۔۔؟؟؟“ عائل پروفیشنل انداز میں پوچھتا نرمی سے گویا ہوا۔
مگر کئی لمحے بیت جانے پر بھی جواب ندارد تھا۔۔۔
”میں نے پوچھا کون بات کررہا ہے۔۔۔؟؟“ دوسری جانب مسلسل کھٹ کھٹ کی آواز پر بیزارہوتا وہ سخت لہجے میں بولا۔
”جج۔۔جی وہ میں۔۔۔کیا آپ اے۔ایس۔پی عائل حسن بول رہے ہیں پولیس اسٹیشن سے۔۔۔؟؟“ نیناں کے زور کا ٹہوکا دینے پر وہ بمشکل اپنی آواز بدل کربولی۔دل اپنی بےوقوفی پرشدتوں سےدھڑک رہا تھا۔
”جی میں ہی بات کررہا ہوں۔۔۔آپ کون بول رہی ہیں بی بی اور یہاں فون کرنے کا کوئی خاص مقصد۔۔۔؟؟“ کسی لڑکی کے ہکلاکر بولنے پر پل بھرکو چونکتا وہ ٹیک چھوڑ کر قدرےسنجیدگی سے گویا ہوا۔
”وہ۔۔۔وہ ناں ہمارے گھرزبردستی کچھ چور گھس آئے ہیں۔۔۔اسی لیے آپکی ہیلپ چاہیے تھی۔۔۔کمینی تُو مجھے برا پھنسوائے گی۔۔۔“ سیکھے سکھائے لفظوں کو باریک آواز میں اگلے کی سماعتوں میں گھولتی وہ بےساختہ اپنی دوست پر برس پڑی۔
یہ جانے بغیر کہ مقابل اُسکا نہایت دھیمے انداز میں بولا گیا آخری جملہ بھی سن کر ماتھے پر لاتعداد بل ڈال چکا تھا۔
”ہہممم۔۔۔توآپ ایسا کریں کہ فوراً مجھے اپنے گھر کا ایڈریس بتائیں۔۔۔میں ابھی پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ وہاں پہنچتا ہوں۔۔۔بلکہ آپ رہنے دیں میں خود ہی آپکی کال ٹریس کرکے لوکیشن معلوم کرلیتا ہوں۔۔۔“ اپنے غصے پر قابو پائے وہ سرد لہجے میں بولتا حقیقتاً اُسے خوفزدہ کرگیا۔
بدلے میں اُسنے نیناں کو آنکھیں پھاڑ کر ایسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو۔۔۔لو بیٹا بُراپھنسی۔۔۔اب کہ نیناں خودبھی یہ سن کرپریشان ہوچکی تھی۔
”نن۔۔نہیں آپ رہنے دیں۔۔۔چورتو آپکی بھاری بھرکم آواز سنتے ہی ڈرکے بھاگ گئے تھے۔۔۔“ اسکے پُراثرلفظوں کے جال میں پھنستی وہ جومنہ میں آیابول گئی جب اچانک چنگاڑتی ہوئی آواز اسپیکر سےابھری۔
”میری بات کان کھول کےسنو۔۔۔تم انتہائی بےوقوف اور جاہل قسم کی لڑکی ہو۔۔۔اب اگر دوبارہ کسی بھی پولیس والے کےساتھ ایسا گھٹیا مذاق کرنےکی کوشش کی تو چوروں کا پتا نہیں۔۔۔لیکن تمھیں تمھاری دوست سمیت حوالات کی سیرضرور کروا ڈالوں گا میں۔۔۔اور پھینٹی الگ سے۔۔۔سمجھی۔۔۔“ کانوں میں صور پھونکتا وہ دونوں کے ہی چھکے چھڑاگیا۔
”چلو اب فون رکھو۔۔۔۔ایڈیٹ۔۔۔۔“ چلتی کال پر اُسکا سکتہ محسوس کرتا وہ تڑخ کر بولا تو وہ دونوں بھی جیسے ہوش میں آئیں۔
”اللہ میری توبہ۔۔۔۔۔آپ واقعی میں بہت برے ہیں عائل صاحب۔۔۔۔خدا حافظ۔۔۔۔“ بےدھیانی میں اپنے قدرتی لب و لہجے میں بولتی ہوئی وہ اس بار عائل کو بری طرح ٹھٹھکاتی کال کاٹ گئی۔
”حاویہ۔۔۔۔۔اففف پاگل لڑکی۔۔۔۔تو یہ تم تھی۔۔۔۔“ ان ناؤن نمبرکو غور سے دیکھتا وہ نچلا لب دانتوں تلے دباگیا۔ بھلا وہ یہ آواز یہ انداز کیسے بھول سکتا تھا جو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اُسکے دل میں ہلچل مچاگئے تھے۔ ”اب تو محترمہ کو جلد ہی اپنی ملاقات کا شرف بخشنا پڑے گا۔۔۔۔اُففف۔۔۔۔“ زیرلب خود سے مخاطب ہوتا وہ کئی دنوں سے دل میں مچلتی خواہش پر اب سنجیدگی سے غوروفکر کرنے لگا تھا۔ جبکہ دوسری جانب بند کمرے تک محدود نیناں اور حاویہ کے بیچ ہونے والی بچگانہ لڑائی قابلِ دید تھی۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
وہ ہاتھ میں فائل پکڑے بےچین سی آفس روم سے باہر نکلی تھی۔گہری نیلی آنکھوں کی چمک مدھم پڑتی فکر کے سایوں میں گھل رہی تھی۔ وجہ شاہ کی اپنے روم میں تو کیا۔۔۔اِس پوری بلڈنگ میں غیرموجودگی تھی۔ورنہ تو آفس آتے ہی اُسکے وجیہہ نقوش کا دیدار ہوجاتا تھا۔ اپنے دل کی بدلی ہوئی حالت پر حقیقتاً پریشان ہوتی وہ اپنی ہی دھن میں چلتی جارہی تھی۔ لیکن برا ہوا جو وہ سامنے سے آتی کنزہ کو دیکھ نہیں پائی تھی اور نتیجتاً دونوں کا قابلِ برداشت تصادم ہوا تھا۔
” کہاں گم ہیں آپ محترمہ۔۔۔۔۔؟؟؟اپنا چشمہ کہیں رکھ کر بھول گئی ہیں کیا۔۔۔۔؟؟؟“ اپنے پیشانی کو سائیڈ سے مسلتی وہ اُسکی آنکھوں پر چوٹ کرگئی تو آبرو بھی اپنے سر کو تھامتی خجالت سے نفی میں سرہلاگئی۔
”وہ۔۔۔ایکچولی سر۔۔۔۔سر نہیں آئے۔۔۔۔؟؟؟“ دل کی بےچینی لفظوں کی صورت مقابل کے سامنے ظاہر کرتی وہ شاہ کی بابت پوچھ بیٹھی۔ ”ہممم۔۔۔۔تو اصل معاملہ یہ ہے۔۔۔۔یعنی کہ دل کا معاملہ۔۔۔۔“ اُسکے حسین مکھڑے سے عیاں ہوتی بےسکونی کو وہ شاہ کی غیرحاضری سے جوڑتی ٹھوڑی پر انگلی ٹکاگئی جب آبرو نے اُسے مزید پھیلنے سے بے اختیار ٹوکا۔ ”ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا تم سوچ رہی ہو۔۔۔۔مجھے بس سر کو اِن فائلز کی ڈیٹیل چیک کروانی تھی۔۔۔اور بس۔۔۔لیکن اگر تمھیں نہیں بتانا تو ٹھیک ہے۔۔۔۔لیکن پلیز خود سے فلاسفی جھاڑنا بندکرو۔۔۔۔ “ فائلز اُسکے چہرے کے سامنے لہراتی وہ کنزہ کو اچھا خاصا لتاڑ گئی تو وہ بھی ذرا سنجیدہ ہوئی۔
”ارے لڑکی کیا ہوگیا۔۔۔۔؟؟اگر سر نے تمھیں ذیادہ کام دے دیا ہے تو اس چیز کا غصہ تم مجھ بیچاری پر کیوں اتار رہی ہو۔۔۔۔؟؟؟“ منہ بسور کر بولتی وہ اُسے حقیقتاً اُسکی ذیادتی کا احساس دلاگئی جو جانے کیوں بات بات پر اتنا ہائپر ہورہی تھی۔۔
”نہیں بس۔۔۔وہ میں۔۔۔“ آبرو لب کچلتی شرمندہ سی ہوئی جب وہ اُسکی مشکل آسان کرگئی۔
”سر آج آفس نہیں آئے۔۔۔۔“ وہ بولی۔
”مگر کیوں۔۔۔۔؟؟“ بےساختگی قابلِ دید تھی۔
”وہ آج کافی ٹائم بعد اپنی فیملی سے ملنے کراچی گئے ہیں۔۔۔۔پتا نہیں کیسے اتنا عرصہ اپنوں سے دور رہ لیتے ہیں۔۔۔۔مجھے تو لگتا ہے یہی مین وجہ ہے جو وہ اتنے رُوڈ ہیں۔۔۔۔یو ناؤ فیملی ایشوز۔۔۔۔“ گہرا سانس بھرتی وہ حد سے کچھ ذیادہ ہی بول گئی تھی لیکن پھرآبرو کے یکدم تنے نقوش دیکھ کر چونکی جو جانے کن گہری سوچوں میں ڈوبتی کسی غیر مرئی نقطے کو گھورنے لگی تھی۔
”خیر مجھے کیا لینا دینا اِن سب چیزوں سے۔۔۔۔تم یہ فائلز اِدھر دو۔۔۔ مجھے یہ سمن کو دینی ہیں۔۔۔“ لاپرواہی سے کندھے اچکاتے ہوئے کنزہ نے اُسکے ہاتھوں سے فائلز پکڑیں تو وہ چونکتی خیالوں سے باہر نکلی۔
”ل۔۔۔لیکن مجھے یہ سر کو دینی ہیں۔۔۔۔اِس میں یہ سمن بیچ میں کہاں سے آگئی۔۔۔۔؟؟؟“ خود کو کمپوز کرتی وہ اپنی تین راتوں کی محنت کسی اور کے ہاتھوں میں جاتا دیکھ کر احتجاجاً بولی۔
نیلی آنکھوں کی گلابیت مزید گہری ہونے لگی تھی۔
”یہ تو تم نے سنا ہی ہوگا۔۔۔۔جسکا کام اسی کو ساجھے۔۔۔۔“ اطمینان سے بولتی وہ اپنی مسکراہٹ دباگئی۔آبرو کی ڈگمگاتی حالت اُسے مزہ دے رہی تھی۔
”مطلب۔۔۔۔؟؟؟“ وہ الجھی۔
”مطلب یہ کہ جو پوسٹ خالی ہوچکی تھی اُسکے لیے سر نے مس سمن لطیف کو اپائنٹ کرلیا ہے۔۔۔۔سو اب سے تم صرف اپنے حصے کا کام کیا کروگی جیسے کہ پہلے کرتی تھی۔۔۔۔نو ایکسٹرا ورک۔۔۔۔ہہمم۔۔۔۔۔“ اپنی طرف سے اُس کے سر پر چھوٹا سا بم پھوڑتی کنزہ اُسکے چہرے پر خوشی اور حیرانگی کے مشترکہ تاثرات دیکھنا چاہ رہی تھی جو اُسے ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے تھے۔
جبھی وہ تاسف سے سر ہلاتی فائلز لیے وہاں سے نکلتی چلی گئی جبکہ وہ سرد نگاہوں سے اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھتی اَن گنت سوچوں میں پھر سے گھری تھی۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
وہ عائمہ بیگم کے حکم پر اس وقت شام کے کمرے میں گھسی ہلکی پھلکی ڈسٹنگ کرنے کے بعد اب بیڈ کور ٹھیک کررہی تھیں جب یکدم کسی خیال کے تحت اُسنے کنارے سے میٹریس اٹھاکر نیچے دبی کسی شے کو دیکھا۔
تجسس کے مارے وہ اگلے ہی پل سلور کلر کا سگریٹ کیس ہاتھ میں پکڑتی بیڈ کور دوبارہ سے سیٹ کرگئی۔
سگریٹ کیس سے الجھتے راشدہ نے ایک محتاط نظر واشروم کے بند دروازے پر بھی ڈالی جہاں شاور سے گرتے پانی کا شور اُسکے اطمینان کے لیے کافی تھا۔
”ہائے اللہ۔۔۔۔۔۔“ بےدھیانی میں اُسکے انگوٹھے کا دباؤ سائیڈ پر بنے ابھرے ہوئے گول دائرے پر پڑا تو اچانک سگریٹ کیس کا منہ جھٹکے سے کھلتا اُسکو ڈرا کر رکھ گیا۔
”ارے یہ تو سگریٹ کا پیکٹ ہے۔۔۔اسے گدّے کے نیچےکس نے گھسا دیا تھا۔۔۔۔؟؟؟“ برانڈ کے سگریٹ بغور دیکھتی وہ حیران ہوئی۔ پر اس چکر میں وہ بند ہوتے شاور پر توجہ نہیں دے پائی تھی۔
”چھوٹے صاحب پیتے ہیں تو یقیناً یہاں رکھنے والے بھی وہی ہوں گے ناں۔۔۔۔اُن کے سوا بھلا اور کون یہ کام کرسکتا ہے۔۔۔۔میں بھی ناں جانے کیا کیا سوچنے لگ جاتی ہوں۔۔۔۔؟؟“ اپنے آپ سے الجھتی اب وہ اُسے بند کرنے کی تگ ودو میں تھی کہ تبھی کلک کی ہلکی سی آواز کے ساتھ واشروم کا دروازہ کھلا اور وہ مصروف سے انداز میں اپنے گیلے بال ٹاول سے جھاڑتا روم میں آیا۔
اگلے ہی پل اُسکی اٹھتی نگاہ راشدہ کی پشت سے ٹکراتے ہی ٹھٹھکی۔ ”تم۔۔۔۔؟؟تم میرے کمرے میں کیا کررہی ہو اس وقت۔۔۔۔؟؟؟اور یہ۔۔۔۔“ اُسکے تڑخ کر بولنے پر راشدہ شدت سے گھبراتی پلٹی تو اُسکے ہاتھ میں اپنا سگریٹ کیس دیکھ کر بے اختیار شام کی تیوریاں چڑھیں۔
”چھو۔۔۔ٹےصص۔۔۔صاحب۔۔۔وہ جی میں تو بس صفائی کرنے آئی تھی یہاں۔۔۔۔بیگم صاحبہ نے مجھے بولا تھا ایک بار پھر سے آپکا کمرہ صاف کردوں۔۔۔۔“ اُسکے غصے سے خائف ہوتے ہوئے راشدہ کی بھٹکتی نظریں ناچاہتے ہوئے بھی مقابل کے کسرتی جسم سے پھسلتی پانی کی شفاف بوندوں پر اٹک کررہ گئیں۔
”یہ۔۔۔۔یہ اس چیز کی صفائی کرنے آئی تھی تم یہاں۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔؟؟؟تمھاری ہمت کیسے ہوئی میری پرسنل چیز کو چھونے کی۔۔۔۔؟؟؟“ آگے بڑھ کر اُسکے ہاتھ سے اپنا سگریٹ کیس جھپٹتا وہ درشت لہجے میں بولا تو وہ بےاختیار نفی میں سرہلاگئی۔
اُسے راشدہ پر جی بھر کر قہر چڑھ رہا تھا جو اُسکی چھپائی گئی پرسنل چیزوں پر بڑی آسانی سے ہاتھ ڈال گئی تھی۔ گھروالوں میں سے کوئی بھی اُسکی سموکنگ کرنے کی عادت سے واقف نہیں تھا۔
مگر یہ دو ٹکے کی نوکرانی۔۔۔۔۔ وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ گیا۔
”نن۔۔۔نہیں صاحب۔۔۔۔وہ تو میں۔۔۔۔“ اُسکی نزدیکی پر راشدہ کی گھگھی سی بندھ گئی جب وہ اُسکی گھبراہٹ پر لعنت بھیجتا ایک بار پھر سے دہاڑا۔
”شٹ اپ۔۔۔۔نکلو یہاں۔۔۔۔فوراً نکلو اور خبردار جو اِس روم میں دوبارہ قدم بھی رکھا تو۔۔۔۔آؤٹ۔۔۔۔“ ایک ہاتھ سے سگریٹ کیس جینز کی پچھلی پاکٹ میں پھنساتا وہ بنا لحاظ کے دوسرے ہاتھ سے راشدہ کا بازو جکڑے اُسے آدھ کھلے دروازے کی جانب گھسیٹ کر لے جانے لگا۔
اور وہ بھی بنا کسی مزاحمت کے بس صاحب جی صاحب جی کرتی رہ گئی۔ اسی دوران کمرے کا پورا دروازہ کھول کر اندر آتے حسن صاحب اِس قابلِ اعتراض منظر کو دیکھتے ہوئے ٹھٹھک کر رکے تو وہ بھی اُنھیں سامنے دیکھ کر چونک گئے۔
”شام۔۔۔۔یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔۔؟؟گھر کی ملازماؤں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے کیا۔۔۔۔؟؟؟یہی تربیت کی ہے ہم نے تمھاری۔۔۔۔؟؟؟“ پل میں اُنکا ازلی غصہ عود کر سامنے آیا جو شام کو ہمیشہ حد سے بڑھ کر محسوس ہوتا تھا۔
”ڈیڈ یہ جاہل عورت میری غیرموجودگی میں میری پرسنل چیزوں سے چھیڑخانی کررہی تھی۔۔۔۔بس اسی لیے میں اُسکو اِسکی اوقات دکھارہا تھا۔۔۔اس میں بدتمیزی کہاں سے آگئی۔۔۔۔؟؟؟“ قدرے سرد مہری سے جواب دیتے ہوئے وہ اگلے ہی پل اُسکا بازو اپنی سخت گرفت سے جھٹکتا آزاد کرگیا۔
”ایک غیرعورت کے سامنے جس حالت میں تم دھڑلے سے کھڑے ہو۔۔۔اگر ایسے میں بھی تمھیں حیا نہ آئے تو یہ بدتمیزی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟افسوس ہوتا ہے مجھے تمھاری گھٹیا حرکتوں پر۔۔۔۔“ اُسکی شرٹ لیس باڈی پر چوٹ کرتے ہوئے حسن صاحب نے اُسے شرم دلانا چاہی تو ایک بار پھر راشدہ کی نگاہیں اُسکے بےداغ جسم پر جاٹھہریں جہاں اب ٹاول موجود نہیں تھا۔
شاید وہ اس سرگرمی کے دوران اُسکے کندھے سے پھسل کر پہلے ہی دبیز قالین پر گرچکا تھا۔
”شرم وحیا کی بات آپ میرے سامنے نہ ہی کیجیے تو بہتر ہوگا ڈیڈ۔۔۔۔مرد سے ذیادہ عورت کو اپنی عزت کا خیال ہونا چاہیے۔۔۔۔اور فی الحال جس کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تھا وہ تو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر میری اِس حالت کو انجوائے کررہی تھی۔۔۔۔“ بناکسی شرم لحاظ کے وہ کچھ دیر پہلے راشدہ کی خود پر محسوس کی جانے والی نظروں کی بابت بےباکی سے بولتا حسن صاحب کو مزید سیخ پاکرگیا۔
”شام۔۔۔۔۔“ حسن صاحب تنبیہی انداز میں دہاڑے تو وہ ایک ملازمہ کی وجہ سے اپنے باپ کی حددرجہ سخت آواز پر ضبط سے پہلو بدل کررہ گیا۔ بھوری آنکھوں میں ذلت کے احساس سے سرخائی گھلنے لگی تھی۔
”بڑے صاحب۔۔۔یہ جھوٹ بول رہے ہیں جی۔۔۔ میں تو بس بیگم صاحبہ کے کہنے پر انکے کمرے کی دوبارہ سے صفائی کرنے آئی تھی جی۔۔۔۔اور پھر بیڈکی چادر صحیح کرتے وقت میرے ہاتھ اچانک انکے سگر۔۔۔۔“ تب سے خاموش کھڑی راشدہ اس الزام پر نم آنکھوں سے دوپٹے کا پلو مڑورتی اپنی صفائی میں بول رہی تھی جب اُسکے سارے رازوں پر پردہ اٹھانے سے پہلے ہی شام سرعت سے پلٹتا اُسکی آواز دباگیا۔
”تم اپنی بکواس بند کرو اور نکلو یہاں سے ابھی کہ ابھی۔۔۔۔گیٹ لاسٹ۔۔۔۔۔“ حسن صاحب کی سلگتی نظروں کا اثر لیے بغیر وہ چلاکر بولا۔اُسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس ملازمہ کو اٹھاکے چھت سے نیچے پھینک دے۔ اگلے ہی پل راشدہ اُسکے غصے سے خائف ہوتی اپنے منہ پر دوپٹہ لپیٹے وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
”ک۔۔۔کیا ہوا ہے۔۔۔۔سب ٹھیک تو ہے ناں۔۔۔۔؟؟“ تبھی آئمہ بیگم بھی وہاں آتی گہری سانسوں کے بیچ معاملہ سمجھنے کی کوشش میں پریشان زدہ آواز میں استفسارکرگئیں۔
دونوں باپ بیٹے کو تنے نقوش سمیت ایک دوسرے کے مدِمقابل دیکھ کر اُنھیں حقیقتاً فکر لاحق ہوئی تھی۔
”سوچا تھا کہ تم سے آکر چند پل سکون سے بات کرلوں گا لیکن تم اپنی حرکتوں سے مجھے ہربار مایوس کردیتے ہو۔۔۔۔۔وقت رہتے سدھرجاؤ برخوردار نہیں تو تمھاری یہ خودسری تمھیں کسی روز بہت بڑے خسارے میں ڈال دے گی۔۔۔۔۔“ وہ جو عائمہ بیگم کی باتوں سے مرعوب ہوکر اپنے باغی بیٹے اور خود کے سرد معاملات کچھ بہتر بنانے آئے تھے،ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اُسکی ضدی طبیعت اور ہٹ دھڑمی پر اپنا ارادے بدل گئے۔
”پلیز ڈیڈ۔۔۔۔آپ نے مجھے ہمیشہ کسی نہ کسی بات پر شوق سے ذلیل کیا ہے۔۔۔لیکن اب گھر کی دوٹکے کی ملازمہ کی وجہ سے میں آپکے ہاتھوں خود کی ذلالت بالکل بھی برداشت نہیں کروں گا۔۔۔۔سو پلیز پرہیز کیا کریں اِن سب سےآپ۔۔یاں پھر مجھ سے بات ہی مت کیا کریں یار۔۔۔۔“ اپنی ماں کی موجودگی میں مزید شے پاکر وہ حسن صاحب پر اپنی برہمی جتاتا اگلے ہی پل بیڈ پہ رکھی گرے شرٹ اٹھا کر واشروم میں جا گھسا۔
”شام۔۔۔۔۔یہاں واپس آؤ۔۔۔ابھی میری بات ختم نہیں ہوئی۔۔۔۔شام۔۔۔۔۔“ عائمہ بیگم کی خود پر شکوہ کناں نگاہیں محسوس کرتے ہوئے حسن صاحب بےتاثر لہجے میں اُسے بلاتے رہ گئے لیکن وہ کسی بھی آواز پر کان دھڑے بغیر شیشے کے سامنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اپنی ہی دھن میں مست ہوچکا تھا۔
💞💞💞💞💞💞
۔
