No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
سیاہ آسمان پر ٹمٹماتے ستاروں کا پھیلا ہوا وسیع جال اور پرسکون سی ٹھنڈی روشنی بکھیرتا چاند۔۔۔اس پل قدرت کا حسین ترین منظر پیش کررہا تھا۔
اسی حسین چاندنی رات تلے۔۔ کوٹھے کا بڑا سا ہال نہایت خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا تھا۔۔جہاں خوبصورت دوشیزاؤں کا دل بہکا دینے والا رقص اس پل اپنے جوبن پر تھا۔
بجتے طبلوں اور چھنچھناتے گھنگھروں کے دل بھاتے شور میں۔۔۔اردگرد بیٹھے موصوف اس دلچسپ نظارے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مزے سے جام نوش کررہے تھے۔۔۔ لیکن قدرے پیچھے ہوکر بیٹھا بس ایک وہی تھا جس نے ساتھ آئے اپنے دوستوں کے برعکس۔۔۔ کسی بھی قسم کا مشروب لینے سے انکار کردیا تھا۔
”یار کب آئے گی وہ ملکہِ حسن۔۔۔۔؟؟؟اب ہم سے مزید انتظار نہیں ہوتا۔۔۔۔“ وہاں پر بیٹھے پینٹ کوٹ میں ملبوس پچاس سالہ مرد کے چہرے پر بیزاری سے کہیں ذیادہ بے چینی کے تاثرات واضح ہورہے تھے۔
اُسکی حالت سمجھتے ہوئے وہاں پر بیٹھے بہت سوں کے چہروں پر حظ اٹھاتی مسکراہٹ بکھرتی چلی گئی۔
یہ دیکھ کر نجانے کیوں اُسے بھی اس پل شدت سے خواہش ہوئی تھی اُس لڑکی کو دیکھنے کی۔۔۔ جسکے حسن کے چرچے اس رنگین محفل میں زبانِ زد خاص و عام ہورہے تھے۔
تو کیا بھلا وہ اُسکی حسین و جمیل شریکِ حیات سے بھی ذیادہ خوبصورت ہوسکتی تھی۔۔۔؟؟جسے آج ہی پورے حق سے اپنے نام کرکے وہ چند نامی دوستوں کی ضد پر زندگی میں پہلی بار یہاں آیا تھا۔۔۔
جس کا وہ حقیقتاً پوری طرح دیوانہ ہوچکا تھا۔۔۔؟؟؟
اس سوچ پر اس کے دل میں بےاختیار ہلکی سی بغاوت نے سراٹھایا۔۔۔تو اگلے ہی پل موسیقی کے اختتام پر ایکدم سے اطراف میں نیم اندھیرا پھیلتا چلا گیا۔
معاً اس بکھری خاموشی میں گونجتی۔۔۔ گھنگھروں کی مخصوص چھنکار نے جہاں سب کو اپنے کان کھڑے کردینے پر مجبور کیا تھا۔۔۔وہیں شاہ میر حسن کا دل بھی قدرے تیزی سے دھڑک اٹھا۔
اگلے ہی پل چہار سو مختلف رنگوں کی روشنیوں کا طوفان برپا ہوا تھا۔
وہ چہرے پر بھاری کامدار۔۔۔سرخ رنگ گھونگھٹ اوڑھے۔۔۔اپنے ہوشربا حسن سمیت سب کے سامنے اپنے دلنشین انداز میں جلوہ ِ افروز ہوئی تھی۔
”شہنشائے من ماہ راجے من۔۔۔
شہنشائے من ماہ راجے من۔۔۔
نہ ہی تخت نہ ہی تاج
نہ شاہی نظر نہ دھن
بس عشق۔۔ محبت۔۔ اپنا پن۔۔۔
بس عشق۔۔ محبت۔۔ اپنا پن۔۔۔
بس عشق۔۔ محبت۔۔ اپنا پن۔۔۔“
عیاش پرست مرد حضرات کی تالیوں اور سیٹیوں کے اختتام پر نئے گانے کے دلنشین سُر شروع ہوئے۔۔۔تو رابی قدرے مہارت سے۔۔۔اپنی لچکتی کمر کے ساتھ سارے وجود کو دلنشین انداز میں۔۔۔دھیرے سےحرکت دینے لگی۔
”ملکہِ حسن کی ہر ادا ہی دلفریب ہے۔۔۔۔
کمال ہے۔۔۔۔
لاجواب ہے۔۔۔۔“ پہلے سے ہی کھڑے ایک آدمی نے مزید آگے بڑھ کر اُس پر بڑے بڑے نوٹوں کی بارش برسائی۔
جواباً رابی کے رقص میں تیز ی آئی۔۔۔جو کہ حقیقتاً قابلِ تعریف تھا۔
شاہ میر کی بےچین۔۔ٹٹولتی نگاہیں اسی کے کامدار گھونگھٹ پر ٹکی تھیں۔
”مغل اعظم ذلِ الہی
ماہبلی تیری دیکھ لی شاہی
زنجیروں سے کہاں رکے ہیں
پیار سفر میں عشق کے راہی
گاتے پھریں گے جوگی بن بن
عشق۔۔ محبت۔۔اپنا پن۔۔
بس عشق۔۔ محبت۔۔ اپنا پن۔۔۔“
اگرچہ ٹھوڑی تک رابی کا مکھڑا ہنوز پوشیدہ تھا۔۔۔پر شدت سے عیاں ہوتا بدن بہت سوں کی نگاہوں کی تسکین بنے۔۔۔انھیں مزید بہکنے پر مجبور کرگیا۔
اُسکا مکمل نوخیزحسن دیکھنے کو حددرجہ بےتاب ہوتا شاہ میر ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچ گیا تھا۔۔۔جب اگلے ہی پل معاون لڑکیوں کے بیچ گول گول گھومتی ہوئی وہ ایکدم ہی گھٹنوں کے بل زمین پر جھکی۔۔۔پھر واپس سیدھی ہوتی۔۔۔ایک ہی جھٹکے میں کامدار گھونگھٹ کو اپنے حسین چہرے سے اٹھاتی پرے دھکیل گئی۔
صبر کی گھڑیاں ختم ہوچکی تھیں۔۔۔۔
اُسکے دیدار پر جہاں سارے تماشائیوں کی آوارہ سیٹیاں ایک بار پھر سے سپردِ فضا ہوتے ہوئے۔۔۔دل کی دھڑکنیں بےہنگم ہوئی تھیں۔۔۔ وہیں بنا پلکیں جھپکائے بغور اسے تکتے شاہ میرحسن کا زوروں سے دھڑکتا دل بےساختہ بند ہوا۔
رنگین محفلوں میں ناچنے والی اس۔۔۔رابی نامی رقاصہ۔۔۔کا ایک ایک نقش اس پل جانے کیوں ہوبہو آبرو شاہ میرحسن سے میل کھا رہا تھا۔۔۔
”زندگی ہاتھوں سے جارہی ہے۔۔
زندگی ہاتھوں سے جارہی ہے۔۔
شام سے پہلے رات آرہی ہے۔۔۔۔“
معاً ہاتھوں کو چہرے کے سامنے۔۔۔ایک ادا سے اوپر نیچے کرتی رابی کی نیلی نگاہیں۔۔۔بےاختیار بھٹک کر اس تک جاتی۔۔۔ ٹھٹھک کر تھم سی گئیں۔۔۔ جو فقط اسے ہی بےیقین سا پھٹی پھٹی نگاہوں کے حصار میں لیے اب کہ اپنے لڑکھڑاتے قدموں پر کھڑا ہوچکا تھا۔
” صاحب عالم کہاں رکے ہو۔۔۔
کلی تمھاری مرجھا رہی ہے۔۔۔
جاتے جاتے بھی گا رہی ہے۔۔
عشق۔۔محبت۔۔اپنا پن۔۔۔
عشق۔۔ محبت۔۔اپنا پن۔۔۔
بس عشق۔۔ محبت۔۔ اپنا پن۔۔۔“
آخری سُریلے بول ہنوز فضاء میں گونج رہے تھے۔۔مگر رابی۔۔بنا کوئی ادا دیکھائے۔۔۔ دھیرے سے کھڑی ہوتی چلی گئی۔
بھلا وہ۔۔۔وہ اس وقت یہاں کیسے ہوسکتا تھا۔۔۔؟؟؟
ناچاہتے ہوئے بھی اسکے بوکھلائے بوکھلائے سے تیور دیکھ اسے اپنا ہر مقصد۔۔۔اب کہ بے مقصد ہوتا دکھائی دیا تھا۔
ایسے میں داخلی دروازے سے وہاں آتے سالار خان نے نگاہیں اٹھا کر براہ راست۔۔رابی کا ایک طرف سے دکھائی دیتا چہرہ شدت سے پھیکا پڑتا دیکھا۔۔۔
معاً شاہ میر حسن نے سر جھٹک کر بے اختیار اپنی نگاہیں شدت سے مسلتے واپس اسکی جانب دیکھا۔
پر۔۔۔پر یہ دل چیڑتا منظر ہنوز تھا۔
وہ حسن۔۔۔۔
وہ نقوش۔۔۔۔
وہ ادا۔۔۔۔
حیران نگاہوں کی وہ نیلاہٹ۔۔۔
اور۔۔۔۔اور دل دھڑکاتا وہ سراپا۔۔۔۔
سب کچھ وہی تو تھا جس کا شاہ میر حسن شدت سے دیوانہ تھا۔۔۔پر۔۔۔
پر وہ خود کیا تھی۔۔۔؟؟؟
رابی۔۔۔۔؟؟یا آبرو۔۔۔۔؟؟؟
فقط رقاصہ۔۔۔۔؟؟؟ یا طوائف۔۔۔؟؟؟
کیا تھی وہ۔۔۔کیا۔۔۔؟؟ کیا۔۔۔؟؟کیا۔۔۔؟؟؟
جہاں سروں سے محروم فضاء اب سونی پڑ چکی تھی۔۔۔وہیں تماشائیوں کو رابی کا مزید رقص دیکھنے کی شدت سے چاہ ہوئی۔
”شاہ۔۔۔۔۔؟؟؟“ لوگوں کے بیچ سے ہوتے ہوئے اسے قدم قدم چل کر اگلے ہی پل۔۔۔ ٹھیک اپنے مقابل رکتا دیکھ رابی کے یاقوتی رنگ لب پھڑپھڑائے۔
اس دوران اپنے دوستوں کے سنگ وہاں بیٹھا صفدر حقیقت سے ہنوز انجان۔۔۔شاہ میر پر یہاں کی عیاشیوں کا شدت سے اثر ہوتا دیکھ کمینگی سے مسکرایا تھا۔
ساتھ ناچتی معاون لڑکیاں اپنے رنگ برنگے گھاگرے سنبھالتی اب کہ ایک ایک کر کے وہاں سے نکلتی چلی گئی تھیں۔
”ی۔۔یہ۔۔۔ تم نہیں ہوسکتی۔۔۔۔۔۔؟؟؟“ اس کے دل بہکا دینے والے نقوش شدت سے تکتے ہوئے۔۔۔معاً اسکے لب دھیرے سے ہلے۔۔۔ تو اس کی نگاہوں میں گھلی نیلاہٹ مقابل کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھ مزید گہری ہوئی۔
بڑی مشکلوں سے چھپایا خود کا یہ بھید۔۔۔مقابل پر مناسب وقت سے بہت پہلے ہی یک دم کھل جائے گا۔۔یہ اس نے قطعی نہیں سوچا تھا۔۔۔
اس دوران سالار خان جو رابی کی بابت فیصلہ اپنے حق میں لینے کی خاطر۔۔۔ جذباتی پنے میں آتا۔۔۔خود کی نبض کاٹنے کو تیز دھار بلیڈ بھی جیب میں ڈال کر ساتھ لے آیا تھا۔۔۔اگلے ہی پل شاہ میر کو رابی کے دونوں کندھے سختی سے دبوچتے دیکھ۔۔۔مٹھیاں بھینچتا۔۔۔ناچاہتے ہوئے بھی وہیں رک گیا۔
ناجانے کیوں یہ شخص اسے کہیں دیکھا دیکھا سا لگا تھا۔۔۔
پر کہاں۔۔۔؟؟یہ سوچنے سے پہلے ہی سماعتوں سے بآسانی ٹکراتی اسکی بھاری تلخ آواز سالار خان کی ذات پر بھاری پڑتی چلی گئی۔
”ا۔۔ایک بار آبرو۔۔۔فقط ایک بار کہہ دو کہ۔۔۔کوٹھوں پہ سرعام ناچنے والی ایک بے حیاء رقاصہ۔۔۔میری محبت۔۔۔میری بیوی نہیں ہوسکتی۔۔۔ناممکن۔۔۔۔“ جلتی نگاہوں سے اسکے یاقوتی لبوں کو دیکھتا شاہ میرحسن چیخ کر شدت سے ملتجی ہوا۔۔۔توجہاں۔۔اسکے دوستوں سمیت وہاں پر موجود سبھی لوگوں نے شدید حیرت تلے ان دونوں کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھا تھا۔۔۔وہیں پردہ پیچھے ہٹاکر وہاں آتی تابین بائی بھی۔۔۔ یہ سن کر وہیں رکتی ساکت پڑیں۔
اسکے خطرناک تیوروں سے رتی پھر بھی مرعوب ہوئے بنا۔۔۔رابی نے ضبط سے آنکھیں بھینچ کر کھولیں۔پھر بےتاثر انداز لیے اس کی انگارہ ہوتی نگاہوں میں بڑی جرات سے جھانکا۔
”بتاؤ مجھے۔۔۔۔۔؟؟؟“ اسکی زہر لگتی خاموشی پر اپنی گرفت مزید سخت کیے۔۔وہ اسے اپنی اورھ جھٹکا دیتا قدرے زور سے چلایا تھا۔۔۔جب اگلے ہی پل پوری قوت لگا کر اپنا آپ چھڑواتی وہ۔۔۔اسکے سینے پر ہتھلیاں جمائے اسے دو قدم پیچھے دھکیل گئی۔
”ہوسکتی نہیں شاہ میر حسن۔۔۔”ہے“۔۔۔۔تمھاری بیوی۔۔۔کوٹھے پر ناچنے والی ایک رقاصہ ہی ہے۔۔۔وہی رقاصہ جس سے محبت میں آکر آج تم نے نکاح کیا ہے۔۔۔۔یہی۔۔۔بالکل یہی حقیقت ہے میری جسے جاننے کے لیے تم اس قدر تڑپ رہے ہو۔۔۔سنا تم نے۔۔۔“ ٹھہر ٹھہر کر قدرے سلگتے لہجے میں بولتی وہ خود بھی جیسے طیش میں آئی تھی۔
سنساتے دماغ کے ساتھ رابی کا اعتراف سنتے جہاں سالار خان کا دل کرچی کرچی ہوا تھا۔۔۔وہیں اسکے جواب پر پل بھر کو تھمتے شاہ کا ضبط ٹوٹ کر مکمل بکھرتا چلا گیا۔
”چٹاااااخ۔۔۔۔۔۔“ ایک قدم آگے آتے ہوئے۔۔بےاختیار اسکا بھاری ہاتھ اٹھا۔۔۔اور اسکے نازک گال پر نشان چھوڑتا ہوا۔۔۔اسے دبیز قالین پر اوندھے منہ گراگیا۔
شدت سے بگڑتی اس ہنگامی صورتحال پر چہ مگوئیاں کرتے تماشائی اب کہ بیٹھے سے اٹھ کھڑے تھے۔
”اےےے بدذات کہیں کے۔۔۔دور ہٹو میری بچی سے۔۔۔۔ہمت بھی کیسی ہوئی تمھاری ایسی گھٹیا حماقت کرنے کی۔۔۔۔؟؟؟“ ہوش میں آتی تابین بائی نے فوری آگے بڑھ کر اسے پوری قوت سے پرے دھکیلا۔۔۔تو با مشکل سنبھلتا شاہ تابین بائی کی جانب دیکھ کر ناچاہتے ہوئے بھی چونک سا گیا۔۔۔پھر بغور تکنے پر اسکی نگاہوں میں ناقابلِ یقین حد تک شناسائی اترتی چلی گئی۔
”بوا۔۔۔۔۔؟؟؟“ اسکے لب جنبش میں آئے تھے۔۔
میک سے لتھرے ہوئے یہ تنے نقوش اس مرحومہ عورت کے ہی تو تھے۔۔۔جس کی سادگی وہ اس دن فوٹو فریم میں دیکھ کر۔۔۔دل دکھاتی موت پر حد سے ذیادہ متاسف ہوا تھا۔
اس قدر فریب۔۔۔۔؟؟
اس حد تک دھوکہ۔۔۔۔؟؟
شاہ نے قدرے حیرت سے رابی کی جانب دیکھا جو سنبھل کر کھڑی ہوتی اب کہ جلتی نم نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
خود کے یوں مخاطب کیے جانے پر تابین بائی نے کڑے تیوروں سے نگاہیں پھیرتے ہنکارہ بھرا۔
معاً کسی کے بلاوے پر بھاگ کر وہاں آتے دو گارڈز نے۔۔۔سکتے میں کھڑے شاہ میرحسن کو اپنی سخت گرفت میں دبوچا تھا۔
جواباً بری طرح ٹھٹھک کر اپنا آپ چھڑواتے ہوئے اس کی بھوری نگاہوں کی سرخی مزید گہری ہوتی چلی گئی۔
” چھوڑو۔۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔۔ی۔۔یہ نہیں ہوسکتا۔۔۔۔تم میرے ساتھ یہ سب نہیں کرسکتی۔۔۔ارے عشق کیا ہے میں نے تم سے۔۔عشق۔۔۔نکاح میں ہو تم میرے۔۔۔۔۔“ دو انجان آدمیوں کی سخت ترین گرفت میں پھنسا وہ چیخ رہا تھا۔تلملا رہا تھا۔
”عشق۔۔۔؟؟؟“ جلتی گال کو لب بھینچ کر چھوتی وہ اگلے ہی پل تمسخرانہ ہنسی۔
”ٹھیک تمھاری طرح۔۔۔ہزار مردوں نے بھی مجھ سے عشق محبت کے کھلے عام دعوے کیے ہیں۔۔۔جب ان میں سے کسی ایک کے ساتھ وفا نہیں نبھائی تو تمھارے ساتھ کیسے نبھالوں۔۔۔؟؟؟“ پھنکار کر بولتے ہوئے اسکی آنکھوں کی نیلاہٹ قدرے بھیگ چکی تھی۔
جواباً شدتِ ضبط سے سرخ پڑتے ہوئے اس نے نفی میں سر ہلایا۔
”جھوٹ بولتی ہو تم۔۔سراسر جھوٹ۔۔۔میرا خدا گواہ ہے کہ تمھارے لیے میری محبت۔۔۔میرا عشق۔۔۔ان سب سے ہٹ کر پاک ہے صاف ہے۔۔۔بالکل ویسے ہی۔۔۔ویسے ہی جیسے میری نظروں میں تم ستی ساوتری۔۔۔اور اعلیٰ درجے کی پارسا تھی۔۔۔پھر یہ دغا کیوں۔۔۔؟؟ یہ ڈھونگ کیوں۔۔۔؟؟اپنی بدترین اصلیت چھپا کر مجھے محبتوں کے جھانسے میں پھنسنانے کی یہ جرات کیوں۔۔۔؟؟آخر کیوں۔۔۔؟؟کیوںںںںں۔۔۔۔۔؟؟؟“ پل پل پاگل ہوتا جہاں وہ گارڈز کو مزید مدد بلانے پر مجبور کرچکا تھا وہیں اسکی پھولتی نسیں دیکھ رابی اپنی نازک مٹھیاں بھینچ گئی۔
ان جانلیوا انکشافات پر اپنی تمام تر ہمت کھوتا سالار خان۔۔۔درد کرتے دل پر دھیرے سے ہاتھ رکھتا پلٹا۔۔پھر نم آنکھوں کو جھپکاتے جس خاموشی کے ساتھ یہاں آیا تھا۔۔۔اسی خاموشی کے ساتھ وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
کسی اور کی بیوی کو اپنا بنانے کی خواہش بھلا اب کہاں گوارا رہی تھی اسے۔۔۔؟؟
”میں تمھارے ہر ایک سوال کا جواب دینے کی پابند ہرگز نہیں ہوں شاہ میرحسن۔۔۔۔ہاں پر اگر تم چاہو تو ابھی اور اسی وقت مجھے طلاق دینے کے پابند ضرور ہوسکتے ہو۔۔۔۔۔آخر کو عیاش مردوں کے سامنے ایک ناچ ناچئیہ کرنے والی رقاصہ تمھاری غیرت کو گوارا بھی تو نہیں ہوسکتی ناں۔۔۔۔۔۔“ کہتے ہوئے اسکے لہجے میں تمسخر سمٹ آیا تو پلکیں جھپکانے پر گالوں پر لڑھکتے آنسوؤں کو نفرت سے دیکھ شاہ نے نفی میں سرہلایا۔
”نہ نہ نہ۔۔۔۔طلاق نہیں دوں گا۔۔۔۔۔آگ لگا کے مار دوں گا۔۔۔۔پر طلاق۔۔۔ کسی بھی صورت نہیں دوں گا تمھیں آبرو شاہ میر حسن۔۔۔یاد رکھنا میری یہ بات۔۔۔۔“ غرا کر قطیعت بھرے لہجے میں بولتے۔۔۔اسنے بے اختیار خود کو چھڑوانے کے لیے ایک زور کا جھٹکا دیا تو مزید دو گارڈز وہاں چلے آئے۔
”واللہ۔۔۔کیا کہنے۔۔۔شاہ میرصاحب کو غیرت چھوڑنا تو منظور ہے۔۔۔لیکن بدنام محبت نہیں۔۔۔۔۔“ بےدردی سے گال رگڑتی وہ طنزاً ہنسی۔پھر چند قدم چلتی ہوئی اسکے مقابل آئی۔
دکھتے دماغ کے ساتھ سختی سے مٹھیاں بھینچے۔۔۔ وہ نم پڑتی نگاہوں سے مسلسل اسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔
”چٹاااااخ۔۔۔۔۔۔“ مگر اگلے ہی پل۔۔۔ گال پر پوری شدت سے پڑنے والا نازک تھپڑ حقیقی معنوں میں شاہ کا خون ابال گیا۔
اس دوران تماشے پر لگتا نیا تماشہ جہاں پل پل لطف لیتے لوگوں کی دلچسپیاں بڑھائے ہوئے تھا۔۔۔وہیں ہنوز حیرت میں ڈوبے صفدر سمیت اس کے دوستوں کو شدت سے افسوس ہوا تھا اسے یہاں لانے پر۔
”وہ وقت قطعی دور نہیں بیوی جب تم ہر لحاظ سے میری گرفت میں ہوگی۔۔۔۔اور جب ایسا ہوگا ناں تو خدا قسم تمھارے سیاہ دامن میں پچھتاوے بھردوں گا۔۔۔۔صرف پچھتاوے۔۔۔۔۔“ زخمی شیر کی مانند۔۔۔گہرے سانس لیتا وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تو جواباً رابی نیلی نگاہوں کا زاویہ بدل گئی۔
”جتنا تماشہ لگنا تھا سو لگ چکا۔۔۔۔محفل بھی ختم ہوچکی۔۔۔۔اب اٹھا کے باہر پھینک آؤ اسے۔۔۔۔۔“ اپنی ست رنگی ساری کا پلو دبوچے کھڑی تابین نے نخوت سے بولیں۔۔ تو جہاں گارڈز زبردستی اسکا مضبوط مچلتا وجود اپنے سنگ گھسیٹ کر وہاں سے نکلتے چلے گئے۔۔۔وہیں اسکی چیختی دھمکیاں سنتے دوست سمیت سارے تماشائی بھی اب کہ ایک ایک کرکے وہاں سے جانے لگے۔
تیزی سے سرکتے لمحوں میں ہال خالی ہوچکا تھا۔۔۔جب وہ ٹوٹتے وجود کے ساتھ گرنے والے انداز میں سرخ رنگ دبیز قالین پر ڈھ سی گئی۔
تابین بائی جلدی سے اسکی جانب لپکتی قریب ہی بیٹھ چکی تھیں۔
”بی بی جان۔۔۔۔۔یہاں جو ہوا۔۔۔جو کچھ بھی ہوا۔۔۔۔و۔۔وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔ہرگزنہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔۔“ تواتر سے بہتے آنسوؤں میں بولتی وہ خائف سی تابین بائی کی گود میں سر رکھ گئی۔
جواباً اسے نت نئی وحشتوں میں ڈانواں ڈول ہوتا دیکھ وہ دھیرے سے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے۔۔۔چاہ کر بھی اس پل کوئی تسلی نہیں دے پائی تھیں۔۔۔
”اپنی بارات سے ٹھیک کچھ گھنٹے پہلے بھاگ گئی ہے تمھاری لاڈلی بہن۔۔۔۔
عمر بھر کی رسوائی کو ہماری پیشانیوں پر داغ کر اپنے عاشق کے ہمراہ بھاگ چکی ہے وہ۔۔۔سن رہے ہو تم۔۔۔؟؟؟
ہائے۔۔۔ہااااائےےےے ہماری برسوں کی خاندانی عزت کو خاک میں ملا گئی وہ بدذات۔۔۔۔۔۔۔“ اپنی اماں کی بین کرتی آواز۔۔۔بپھڑے حسن خاور کا دل چیڑنے کا ہی تو سبب بن رہی تھی۔
بدنامی تلے ان کے صاف دامن داغدار کرتی ان کی اکلوتی بہن کشمالہ سب کو چکما دے کر بھاگی بھی تھی۔۔۔تو کس کے ساتھ۔۔۔۔؟؟؟
اس۔۔اس سکندر نامی دو ٹکے کے ملازم کے سنگ۔۔۔جو شادی شدہ اور ایک عدد بچی کا باپ ہونے کے باوجود بھی۔۔اسے عاشقی جیسے ناقابلِ برداشت مرض میں بری طرح مبتلا کرچکا تھا۔
اور پھر حددرجہ ذلالت۔۔رسوائی سہنے کے ٹھیک دو روز بعد۔۔۔
ان دونوں کو کھوج نکالنے پر۔۔ رگوں میں کھولتی غیرت نے حسن خاور کو خفیہ قاتل بننے پر شدت سے مجبور کردیا تھا۔
مگر صد افسوس۔۔۔۔
رگ رگ میں بھڑکتا انتقام اس قدر انتہا کو پہنچ چکا تھا کہ۔۔۔نم نگاہوں کے سامنے رلتی دو نفوس کی لاشیں بھی اس پل سلگتے کلیجے میں ٹھنڈک ڈالنے کو ناکافی ہوئی تھیں۔
بلاشبہ اس گہری ہوتی رات میں اگلا نشانہ اب سکندر کی بیوی ہی تو تھی۔۔۔یاسمین سکندر۔۔۔۔
اسٹڈی روم میں۔۔۔ ہنوز چئیر پر براجمان حسن صاحب کا بے چین دل۔۔۔جہاں ماضی کے سلگتے پنوں کو ایک ایک کرکے کھولتے ہوئے شدت سے ڈوبتا چلا جا رہا تھا۔۔۔وہیں مزید سوچتے وہ بےسکونی تلے آنکھیں میچ گئے۔
”وحشی ہو تم۔۔۔
درندے ہو۔۔۔
خدا۔۔خدا غارت کرے تمھیں۔۔۔۔
چھوڑومجھے۔۔۔۔۔“ زد و کوب ہونے باوجود دوپٹے سے محروم یاسمین سکندر کسی زخمی چڑیا کی مانند ان کی آہنی گرفت میں تڑپتی صاف بدعائیں دے رہی تھیں۔۔۔
مگر وہ تمام تر سسکتی آہوں سے قدرے بےبہرہ۔۔۔عزت کی دھچیاں بکھیرنے کو اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے میں لے جا چکے تھے۔
جب سکندر جیسا دو ٹکے کا ملازم ان کی خاندانی عزت پر ہاتھ صاف کرسکتا تھا۔۔۔تو پھر وہ کیوں نہیں۔۔۔۔
معاً سماعتوں میں اس کی دل بے چین کرتی چیخیں شدت سے گھلتی۔۔۔ حسن صاحب کو ہڑبڑا کر سرخ آنکھیں کھولنے پر مجبور کر گئیں۔پھر بےاختیار سہمے چہرے پر ہاتھ پھیرتے انھوں نے خود کا پسینہ پونچھا۔
ہاں۔۔۔ہاں انھیں یاد آیا تھا۔۔۔انتقاماً اس حسین عورت کی عزت تار تار کرلینے بعد۔۔۔اپنی ماں کی خاطر روتی بلکتی وہ آٹھ سالہ بچی کیسے بے ارادہ ہی ان کی انتہائی غلط نگاہوں کی زد میں آچکی تھی۔۔
ایسی غلط نگاہیں کہ جس نے اس آبرو نامی اس بچی کا ہنستا کھیلتا بچپن پنڈی شہر کے ایک گمنام کوٹھے کی حقیقی بدنامیوں میں جھونک دیا تھا۔
سلگتی یادوں تلے شدت سے دبتے حسن صاحب کو۔۔۔اپنی تن چکی کنپٹیاں مسلتے خود کا بلڈ لو ہوتا محسوس ہورہا تھا۔۔۔مگر بنا کسی پشیمانی کے گہرائی سے سوچنا ہنوز تھا۔۔۔شدید تھا۔
”ابھی تو یہ قدرے کمسن بچی ہے بابو۔۔۔اس کومل کلی کو بدنام خانے میں لانے کی کچھ ذیادہ ہی جلدی نہیں مچادی آپ نے۔۔۔۔؟؟؟“ ننھی سی ٹھوڑی کو آہستگی سے تھام کر۔۔۔اسکا ستا ہوا چہرہ اپنی جانب موڑتی تابین بائی کچھ حیرت سے گویا ہوئیں۔۔۔جو روتی بلکتی ناچاہتے ہوئے بھی اب کہ نیند کی گہری وادیوں میں جا اتری تھی۔
مقابل۔۔۔وہ جو نگاہوں میں دھیمی دھیمی حدت سمیٹے اس بائی کی ایک ایک ادا کو بغور دیکھ رہے تھے۔۔۔اس بات پر ناپسندیدگی سے بھنویں سکیڑگئے۔
”بلاشبہ عمر میں کمسن ہے۔۔۔مگر حسن میں یہاں موجود ساری عورتوں کو ابھی سے ہی خاصی مات دیتی ہے۔۔۔۔سوچو بائی۔۔۔۔دماغ لگا کرسوچو ذرا۔۔۔جب یہ جوانی کی حدوں کو چھونے لگے گی تو مردوں کے جذبات بھڑکا کے رکھ دے گی۔۔۔۔“ خباثت سے مقابل عورت کو لالچ دیتے۔۔لہجے میں صاف نفرت مچل رہی تھی۔
ایسی نفرت کہ جسے سیدھی ہوکر بیٹھتی تابین بائی۔۔۔بخوبی بھانپتی۔۔۔اگلے ہی پل سرخ لبوں کو زبان تلے تر کرنے پر مجبور ہوئی۔
”کیا قیمت ہے اس کی۔۔۔۔؟؟؟“ پل بھر کا توقف لے کر پوچھتی وہ سیدھا مدعے پر آئیں۔۔۔تو مطلب کی بات سنتے حسن خاور کے سیاہی مائل لب ہولے سے زہر خند مسکراہٹ میں ڈھلتے چلے گئے۔
”اول تو اس کلی کو مکمل طوائف بنانا۔۔۔۔
اور دوسرا یہاں۔۔اس بدنام خانے میں سکون کی ایک عدد رات۔۔۔
بس یہی قیمت ہے اسکی۔۔۔۔۔“ قدرے سکون سے بولتا ہوا وہ اجنبی بابو اس پل۔۔ پتھر دل تابین بائی کو حدردجہ سفاک انسان معلوم ہوا تھا۔۔۔
ہاں۔۔۔ہاں بدنامی کے سبب آبائی شہر چھوڑ دینا۔۔۔۔اس پر مستزاد بہن کی موت کا نحیف پچھتاوا۔۔۔انھیں سفاک ترین بننے پر ہی تو مجبور کرگیا تھا۔۔۔۔
”منظور ہے۔۔۔۔۔“ آس پاس بکھرتی اس بائی کی نسوانی آواز حسن صاحب کے ماتھے پر متفکر لکیروں کا جال بنتی چلی گئی۔
جب قیمت لگ چکی تھی۔۔۔
سکون کی ایک عدد رات بھی گزر چکی تھی۔۔۔۔
انتقام کا دہکتا قعلہ تک مکمل ملیامٹ ہوچکا تھا۔۔۔۔
تو پھر اتنے سالوں بعد کیونکر یہ۔۔۔یہ بدترین ماضی آج ان کی نگاہوں کے سامنے آتا انھیں شدت سے پریشان کرگیا تھا۔۔۔؟؟؟
کیوں۔۔۔۔؟؟آخر کیوں۔۔۔۔؟؟؟
سنساتے ذہن میں ابھرتے یہ سوالات حسن صاحب کو دبیز قالین پر گرا موبائل فون اٹھا کر واپس تھامنے پر مجبور کرگئے۔
عجلت بھرے انداز میں پیٹرن لاک کھولتے ہی اسکرین پر شاہ میر کے سنگ وہیں لڑکی مسکراتی ہوئی دکھائی دی تو نگاہوں کی سرخی مزید گہری ہوتی چلی گئی۔
حسین نقوش سے وہ ساری اپنی ماں کا عکس تھی۔۔۔
اور۔۔۔اور نگاہوں کی وہ گہری نیلاہٹ اس کے بھگوڑے باپ کے سبب سے تھی۔۔۔
ہاں۔۔۔۔ہاں یقیناً اس میں قطعی کوئی شک باقی نہیں رہا تھا۔۔۔۔
وہ وہی بچی تو تھی جو ان کے جرم کے وقت بذاتِ خود عینی شاہد رہ چکی تھی۔
زوم تصویر پر نفرت سے انگلیاں مسلتے حسن صاحب پر وحشت کا احساس مزید حاوی ہوتا چلا گیا۔
”آبرو سکندر۔۔۔۔بدنام کوٹھے کا ناقابل ِبرداشت گند۔۔۔۔“ نازیبا الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے انگ انگ سے انتہا کی نفرت پھوٹ پڑی تھی۔
”اپنے بھگوڑے باپ کی طرح محبت کے نام پر جتنا کھیل تم نے رچانا تھا۔۔۔وہ رچا چکی۔۔۔۔اب مزید میں تمھیں ہماری پرسکون زندگیوں میں گند گھولنے نہیں دوں گا۔۔۔قطعی نہیں۔۔۔پھر چاہے اس کے لیے مجھے بدترین ماضی کو واپس ہی کیوں نہ دہرانا پڑے۔۔میں بلا جھجک دہراؤں گا۔۔۔۔“ مضبوط ترین لہجے میں پھنکارتے حسن صاحب جہاں شاہ میرحسن کی ناکارہ پسند پر جی بھر کر مشتعل ہوئے تھے۔۔۔وہیں ان کے سینے میں پنپتے زہریلے ارادے چٹان کی سی سختی اختیار کرتے چلے گئے۔
اب باقی تھی تو بس رو برو ایک عدد ملاقات۔۔۔۔۔جس کے وہ شدت سے منتظر تھے۔۔۔۔
شفاف سڑک پر تیز رفتاری سے دوڑتی اس گاڑی کا بیلنس بگڑتے بگڑتے بچا تھا۔۔۔۔مگر چلانے والے نفوس کی لاپرواہی اس پل عروج کو پہنچنے کے درپے تھی۔
”ا۔۔ایک بار آبرو۔۔۔فقط ایک بار کہہ دو کہ۔۔۔کوٹھوں پہ سرعام ناچنے والی ایک بے حیاء رقاصہ۔۔۔میری محبت۔۔۔میری بیوی نہیں ہوسکتی۔۔۔ناممکن۔۔۔۔“ وہ شخص اسے نازک کندھوں سے دبوچے کتنے استحقاق سے بول رہا تھا ناں۔۔۔
بول کیا رہا تھا۔۔۔چیخ رہا تھا۔۔۔برملا اظہار کررہا تھا
اور وہ۔۔۔وہ ساکت کھڑی تھی۔
باقی تماشائیوں کی طرح سن تو وہ خود بھی ہوچکا تھا۔۔۔
”ہوسکتی نہیں شاہ میر حسن۔۔۔”ہے“۔۔۔۔تمھاری بیوی۔۔۔کوٹھے پر ناچنے والی ایک رقاصہ ہی ہے۔۔۔وہی رقاصہ جس سے محبت میں آکر آج تم نے نکاح کیا ہے۔۔۔۔یہی۔۔۔بالکل یہی حقیقت ہے میری جسے جاننے کے لیے تم اس قدر تڑپ رہے ہو۔۔۔سنا تم نے۔۔۔“ اگلے ہی پل سماعتوں میں شدت سے گھلتی رابی کی مشتعل سی آواز سالار کی سرخ نگاہوں میں نمی کا سبب بنی تھی۔
ارے اسے تو محبت کے اس دورانیے میں اسکا حقیقی نام ہی پہلی بار پتہ چل رہا تھا۔۔۔
وہ فقط رابی تو نہیں تھی۔۔۔
حقیقی معنوں میں وہ اس شخص کی ملکیت۔۔۔اسکی بیوی۔۔۔۔آبرو شاہ میرحسن تھی۔۔۔۔
رواں رفتار کے ساتھ گاڑی کو دوسری سڑک پر ڈالتے ہوئے۔۔۔اسٹیرنگ پر تاسف سے ہاتھ مارتے سالار خان کے لبوں کو جہاں ایک زخمی مسکراہٹ نے دھیرے سے چھوا تھا۔۔۔وہیں
اُس بیت چکی رات کا آدھا ادھورا منظر اسکے سنساتے ذہن میں شدت سے مکمل ابھرتا چلا گیا۔
”یہ تمھاری رابی نہیں۔۔میری آبرو ہے۔۔۔فقط شاہ میرحسن کی آبرو۔۔۔اسے چھونا تو دور۔۔آئندہ اگر اسکے قریب بھی بھٹکنے کا سوچا تو تمھاری جان لینے میں،میں ذرا بھی وقت ضائع نہیں کروں گا۔۔۔یاد رکھنا میری اس پہلی اور آخری وارنگ کو۔۔۔“ گریبان سے دبوچے۔۔ہر لفظ چبا چبا کر بولتا وہ بزنس مین اس کے منہ پر پھنکارا تھا۔
مگر جواب میں اسکی دی تکلیف سہتا وہ ہنس دیا۔
”ساری دنیا ہی ہمیں جدا کرنےپر ت۔۔تلی ہوئی ہے۔۔۔تم بھی انہی میں سے ایک ہو۔۔۔پر تمھاری اس مم۔۔مارا ماری سے میں ہرگز بھی ہمت نہیں ہارنے والا۔۔۔کک۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔وہ رابی صرف۔۔میری ہے۔۔صرف سالار خان کی۔۔۔ہہمم۔۔۔۔“ اس رات نشے کی حالت میں ہونے کے باوجود بھی وہ اسے ٹھیک ہی تو پہچانا تھا۔
لیکن رابی۔۔۔؟؟وہ تو جانتے پہچانتے بھی صاف صاف مکر چکی تھی۔۔۔
شیشے کے پار ہیڈ لائٹس میں دکھائی دیتا سامنے کا منظر دھندلایا تو تیزی سے پلکیں جھپکانے کے سبب آنسو ٹوٹ کر سالار خان کے رخسار پر پھسلے۔
”میری زندگی صرف تمھارے مقصد تک محدود نہیں ہےسالار خان۔۔۔میرے خود کے بھی کچھ مقصد ہیں جن پر میری پوری زندگی ٹکی ہے۔۔۔۔مگر تمھارا یہ مقصد ایک ایسے سراب کی مانند ہے جسکے پیچھے مسلسل بھاگتے رہنے سے بھی تم اسے کبھی پا نہیں سکو گے۔۔۔ہاں البتہ پیاسے سسک سسک کر ضرور مرجاؤگے۔۔۔۔میری صلاح مانو تو ایسے جان لیوا شوق سے پیچھاچھڑالو۔۔۔۔واللہ سکون میں آجاؤگے۔۔۔۔“ دھتکارتے ہوئے کس قدر بےحسی تھی ناں آبرو کے لہجے میں۔۔۔
تیور میں۔۔۔
آواز میں۔۔۔
انداز میں۔۔۔۔
مگر آج کے ہوئے بھاری انکشاف تلے تو وہ اپنی محبت سمیٹ ٹوٹ کر بکھرچکا تھا۔
بھیگتی پلکوں پر اتری اذیت گاڑی چلاتے سالار خان کے دل کو مزید سلگانے لگی۔
تو کیا بھلا یہ نامرادی کسی اور کی بددعاؤں کا نتیجہ تھی۔۔۔؟؟
معاً ذہن گرماتی ان سوچوں نے اپنا رخ پل میں حلیمہ کی جانب موڑا تھا۔
”محبت کرتی ہوں آپ سے خان۔۔۔۔شدید ترین محبت۔۔۔باخلوص محبت۔۔۔بےدریغ محبت۔۔۔۔“ آس پاس شدت سے بکھرتی حلیمہ کی آواز بےاختیار اس کا دل دھڑکا گئی تھی۔۔۔جب سامنے سے آتی گاڑی کے بآواز ہارن نے یک دم اسکا ڈوبتا دماغ شدت سے اپنی جانب متوجہ کروایا۔
جواباً نم آنکھوں سے بوکھلاتے ہوئے سالار خان نے تیزی سے اسٹیرنگ بائیں جانب گھوماتے گاڑی کو سائیڈ پر کیا تھا۔۔۔
مگر افسوس کہ اگلے ہی لمحے اسکا شدت سے بگڑتا توازن۔۔۔پلوں میں شدید ایکسیڈنٹ کی صورت اختیار کرتا چلاگیا۔
سائیڈ لگے کھمبے سے بری طرح ٹکراتی گاڑی نے جہاں اس کم ٹریفک روڈ پر آتے جاتے لوگوں کی توجہ تیزی سے اپنی جانب کھینچی تھی وہیں۔۔۔سالار خان کو اپنا پورا وجود یک دم کسی پھوڑے کی مانند دکھتا ہوا محسوس ہوا۔
پھٹتی پیشانی سے پھوٹتا خون تیزی سے اسکے چہرے کو بھگونے لگا تھا۔۔۔جب بمشکل سر اٹھاتا وہ اگلے ہی پل نڈھال سا اسٹیرنگ پر اپنا رخسار ٹکاگیا۔
اس دوران رکتی بائیکس گاڑیوں۔۔ سے اتر کر لوگ پھرتی سے اسکی طرف لپکے تھے۔
”ح۔۔حلیمہ۔۔۔۔“ تیزی سے غنودگی میں جاتے سالار خان کے لب بڑے دھیرے سے پھڑپھڑاتے ہوئے۔۔۔اگلے ہی پل ساکت ہوئے تھے۔۔۔
پل پل تیزی سے سرکتی ہوئی یہ بھیگی گہری رات۔۔۔اب کہ ٹھنڈی ٹھار سہری میں سمونے کو شدت سے اتاولی ہورہی تھی۔۔۔مگر نیچے پائنتی کے ساتھ ہنوز ٹیک لگائے۔۔۔سگریٹ پر سگریٹ پھونکتا۔۔۔وہ ہنوز سلگ رہا تھا۔۔۔تپ رہا تھا۔
ایسے میں گارڈز سے احتجاج کرنے کے سبب پھٹے گریبان سمیت۔۔۔تہس نہس ہوئے اس کمرے میں۔۔۔ٹوٹی بکھری چیزیں اسکے اندر مچلتی تباہیوں کو واضح کرنے کے لیے کافی تھیں۔
”تمھیں پتا ہے ناں کہ مجھے تمھارے وجود کی جانب اٹھتی ہرنگاہ زہر سے بھی زہریلی لگتی ہے۔۔۔تو پھر سوچو کسی غیر مرد کا تمھیں چھونا مجھ پر کیا قیامت ڈھاتا ہوگا۔۔۔؟؟؟“ اسے نازک کلائی سے دبوچتا وہ اس پل کس قدر استحقاق سے بولا تھا ناں۔۔۔۔
مگر محرم و نامحرم میں فرق جتانے والی اُس۔۔۔اُس برائے نام پارسا عورت کو اسکا یوں چھولینا بھلا کہاں پسند آیا تھا۔۔۔
تلخی سے سوچتے ہوئے وہ سلگتے لبوں کو بھینچ گیا۔
”محرم تو آپ بھی نہیں ہیں میرے۔۔۔کبھی آپ نے سوچا کہ آپکا یوں بار بار میرے قریب آنا۔۔میری ذات پر بلاوجہ کا حق جمانا مجھ پر کیا حشر برپا کرتا ہوگا۔۔۔؟؟؟“ سنساتے ذہن میں ابھرتا اسکا شکوہ۔۔اگلے ہی پل شاہ کو لمبا کش لینے پر مجبور کرگیا۔
”تو نکاح کرلو مجھ سے۔۔۔بنالو مجھے اپنا محرم۔۔دے دو سارے حق۔۔اعتراض کس کافر کو ہے۔۔۔۔؟؟
اور رہا شکوہ قریب آنے کا تو جان لو کہ شاہ میرحسن نے اپنے اِس گستاخ دل کی بےپناہ طلب کے باوجود۔۔آج تک اپنی محبت میں حد سے گزر جانے کی ایک حقیر سی کوشش بھی نہیں کی۔۔۔“ اپنا خمار زدہ جواب یاد آتے۔۔ بھوری لہو رنگ نگاہوں میں ضبط کے باوجود بھی نمی سی کھلنے لگی تھی۔
افففف۔۔۔۔
کس قدر معتبر کرگیا تھا ناں وہ اسے۔۔۔۔
اپنے کھڑے جذبات۔۔۔اپنی بے پناہ محبت میں۔۔۔
مگر۔۔نتیجتاً اس نے کیا کیا تھا۔۔۔؟؟
نکاح میں ہونے کے باوجود بھی جاتنے بوجھتے ناقابلِ برداشت دغا۔۔۔
فریب۔۔۔۔
بےوفائی۔۔۔
ستم در ستم۔۔۔۔۔
”ہوسکتی نہیں شاہ میر حسن۔۔۔”ہے“۔۔۔۔تمھاری بیوی۔۔۔کوٹھے پر ناچنے والی ایک رقاصہ ہی ہے۔۔۔وہی رقاصہ جس سے محبت میں آکر آج تم نے نکاح کیا ہے۔۔۔۔یہی۔۔۔بالکل یہی حقیقت ہے میری جسے جاننے کے لیے تم اس قدر تڑپ رہے ہو۔۔۔سنا تم نے۔۔۔“ سماعتوں میں کڑوا زہر بن کر شدت سے اترتی اسکی تند نسوانی آواز۔۔۔اسے بےاختیار حلق کے بل چیخنے پر مجبور کرگئی تھی۔
”آاااا۔۔۔اا۔۔۔۔“ پیروں کے قریب پڑی۔۔مینی سائز شراب کی خالی بوتل کو ذرا سا آگے ہوکر شدت سے ٹھوکر مارتا وہ گہرے گہرے سانس بھرنے لگا۔
تلخ تھا۔۔۔
کڑوا تھا۔۔۔
جانلیوا تھا۔۔۔
مگر سچ تھا۔۔۔
حقیقت کا دہکتا ہوا ایک عکس تھا۔۔۔
واپس ٹیک لگاتے ہوئے۔۔۔ قدرے تلخی سے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر انھیں مٹھی میں جکڑتا۔۔۔وہ اگلے ہی پل انگلیوں کے بیچ دبے۔۔۔کافی حد تک جل چکے سگریٹ کو دور جھٹک چکا تھا۔
ہاں۔۔۔ہاں اسکی بیوی عیاش فطرت مردوں کے سامنے اپنا آپ پیش کرنے والی ایک بدنام رقاصہ ہی تو تھی۔۔۔یا پھر۔۔۔شاید بدنام طوائف۔۔۔۔؟؟
شدتِ تکلیف سے ہتھیلی تلے چوڑے سینے کو مسلتے ہوئے شاہ بے اختیار نم انگارہ آنکھیں میچ گیا۔۔۔تو ایک آنسو ٹوٹ کر قدرے آہستگی سے اسکی گال پر لڑھکا۔
افسوس۔۔۔صد افسوس۔۔۔۔سینہ چیڑتے اس غم کو بھلانے کی غرض سے اس نے مناسب حد تک نشہ کیا تو تھا۔۔۔۔مگر یہ نشیلا پن اس کے سر چڑھ کر بول نہیں پا رہا تھا۔۔۔جیسا اسنے چاہا تھا۔
”دل پھٹ رہا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟“ گزرتے چند پلوں کے گہرے سکوت کے بعد۔۔معاً سماعتوں سے ٹکراتے نسوانی۔۔پرسکون لہجے پر وہ چونک کر دھیرے سے خمار زدہ ہوتی آنکھیں کھول گیا۔
پھر سنسناتے دماغ کے ساتھ پلکیں جھپکا جھپکا کر اسے بغور دیکھنے کی کوشش کی۔
”پل پل آہیں بھرنے کو بےتاب ہورہے ہو۔۔۔؟؟؟یا پھر شدت سے نفرت کرنے کو جی چاہ رہا ہے۔۔۔؟؟؟“ سوال پر سوال پوچھتی۔۔۔رُلتی بکھری حالت میں وہ اسکے مقابل ہی تو کھڑی تھی۔
”ح۔۔حرمین زہرا۔۔۔۔؟“ بمشکل شناسائی ہونے پر۔۔۔شاہ کے لب سرگوشیانہ انداز میں ہلے۔
”جانتے ہو۔۔؟؟محبت میں گہری چوٹ کھانے کے بعد میری بھی کبھی ایسی ہی بدترین حالت ہوئی تھی۔۔جس حالت میں آج تم خود ہو شاہ میرحسن۔۔۔مگر اتنا جان لو کہ یہ فقط آغاز ہے۔۔۔
ابھی تو بربادیوں کی ان راہوں میں بہت کچھ سہنا باقی ہے جس کا دوسرا نام محبت ہے۔۔۔۔“ اسے یوں یک ٹک خودکو تکتا پاکر۔۔اس کے لہجے میں صاف کڑواہٹ گھلی تھی۔
”ت۔۔تم۔۔۔۔؟؟تم پھر آگئی مجھ سمیت میری روح کو سلگانے کے لیے۔۔۔؟؟ہہمم۔۔۔۔؟؟کیا۔۔کیا ملتا کیا ہے تمھیں یہ نت نئے ڈرامے رچا کر۔۔۔۔۔؟؟؟بولو۔۔۔؟؟“ خود کے ذہنی فتور سے تنک کر پوچھتا وہ سختی سے مٹھیاں بھینچ گیا۔
حرمین زہرا کی صورت میں آنکھوں دیکھا یہ فریب پیشانی پر پسینہ پھوٹنے کا سبب بنتا۔۔۔ اسے اندر تک گھائل ہی تو کررہا تھا۔
”سکون۔۔۔۔۔۔“ سینے پر بازو لپٹتی وہ یک لفظی جواب بڑے اطمینان سے دے گئی تھی۔
جواباً سیاہی مائل لبوں پر دھیرے سے بکھرتی مسکراہٹ کو تکتے۔۔۔شاہ کی نگاہیں جلنے لگی۔
”مگر مجھے نہیں ملتا ناں۔۔۔تمھارا عادی ہونے کے باوجود بھی میرا یہ سینہ وحشتوں تلے تپنے لگتا ہے۔۔۔دماغ کی نسیں پھٹنے کو آجاتی ہیں۔۔۔ بار بارتمھاری یہ۔۔یہ منحوس شکل دیکھ کر۔۔۔اکتا چکا ہوں۔۔۔بیزار ہو چکا ہوں اب۔۔۔تھک چکا ہوں۔۔۔حد سے ذیادہ۔۔۔“ تنی کنپٹیوں کو شدت سے مسلتے ہوئے۔۔۔چلا کر بولتا وہ پاگل سا ہونے لگا تھا۔
”چچ چچ چچ۔۔۔۔تم ہار گئے شاہ میرحسن۔۔۔۔دیکھوتم ہار گئے۔۔۔ہار ہی تو گئے ہو۔۔۔۔۔“ وہ ہنوز سامنے کھڑی قدرے تاسف سے اُسکی شکست کا برملا اظہار کررہی تھی۔۔۔
اور پھر اگلے ہی پل کھنکھناتی آواز میں بلند ہوتے اُسکے قہقے مقابل کا ضبط ختم کرتے چلے گئے۔
”آااااا۔۔۔۔بس بہت ہوگیا۔۔۔۔خاموش ہوجاؤ اب۔۔۔۔ایکدم چُپپپ۔۔۔۔نہیں ہوں میں ہارا۔۔۔۔میں کبھی ہار ہی نہیں سکتا۔۔۔
کیونکہ آج تک صرف جیت ہی شاہ میر حسن کا مقدر ٹھہری ہے۔۔۔
اور۔۔۔اور ہمیشہ جیتنے والے کبھی ہارا نہیں کرتے۔۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔۔سنا تم نے۔۔۔؟؟؟“ مشتعل سا بولتا وہ اگلے ہی پل پاس گرا واز اٹھا کر سامنے نظر آتے حرمین کے عکس پر مار چکا تھا۔۔۔ جو دھواں دھواں ہوتے عکس کے آرپار ہوتا۔۔۔دیوار سے لگ کر چکنا چور ہوتا چلا گیا۔۔۔۔
اسے یوں اپنی واضح شکست کو چند جذباتی لفظوں کی آڑ میں چھپانے کی ناکام کوشش کرتا دیکھ حرمین زہرا کے سیاہی مائل لبوں پر صاف طنزیہ مسکراہٹ بکھری تھی۔
”لیکن تم تو ہارگئے۔۔۔خود کی حالت دیکھو۔۔۔کیا بازی جیت جانے والا شخص ایسا ہوتا ہے۔۔۔؟؟؟ اس سنگین صورتحال سے رتی بھربھی مرعوب ہوئے بنا۔۔۔ کچھ نرمی سے پوچھتی اب کہ وہ سامنے سے غائب ہوکر اُسکی پشت پر نمودار ہوئی تھی۔
ایسے میں۔۔۔خود ہی کے دماغی فتور میں بری طرح پھنستے شاہ کا دانت پیستے ہوئے۔۔دل شدت سے ڈوبنے لگا۔
” تمھارا ازلی غرور آج تمھیں پوری طرح لے ڈوبا ہے شاہ میر حسن۔۔۔اور یہ بات تم سے بہتر اور کوئی جان ہی نہیں سکتا۔۔۔“ اُسکے کان کے قریب جھک کر زہر اگلتی حرمین زہرا اُسے سخت اذیت سے دوچار کرگئی تھی۔
نتیجتاً گہرے سانس بھرتا وہ ضبط تلے جلتی آنکھیں میچ کر کھول گیا۔
”آخر تم دفع کیوں نہیں ہوجاتی میری زندگی سے۔۔۔۔؟؟؟خدارا تنہا چھوڑدو مجھے اور چلی جاؤ یہاں سے۔۔۔گیٹ لاسٹ۔۔۔جسٹ گیٹ لاسٹٹٹ۔۔۔“ تلخ حقیقت سے نم پڑتی نگاہیں چراتا۔۔۔وہ پسینے میں شرابور حلق کے بل چلایا تھا۔
ہاں۔۔۔ہاں وہ جانتا تھا کہ وہ صحیح کہہ رہی تھی۔۔۔
خود کے۔۔۔کیے گئے بارہا انکار سے کہیں ذیادہ۔۔۔ اُسکی بات میں حددرجہ وزن تھا لیکن کسی کے سامنے یوں اپنی شکست تسلیم کرلینا بھلا اُس اناپرست بندے کے بس کی بات تھی ہی کہاں۔۔۔۔؟؟
چاہے پھر وہ کسی بےضرر سی لڑکی کا عکس ہی کیوں ناں ہو۔۔۔
اسکی کھوکھلی دہاڑ پر خائف ہونے کی بجائے وہ کھلکھلا کر ہنسی۔۔۔
اور پھر بےوجہ ہنستی چلی گئی۔۔۔
تو شاہ نے وحشت تلے سرخ چہرے پر ہاتھ پھیرے۔
”میں تو خود کو تمھاری خلوتوں کا محرم گردانتی ہوں۔۔۔۔پھر کیسے تمھاری زندگی سے دور ہوجاؤں۔۔۔بات وہ کرو جو میرے بس میں ہو۔۔۔۔“ معاً آگے آکر اسکے مقابل۔۔۔قریب تر بیٹھتی وہ ہر لحاظ سے اُسکا امتحان لے رہی تھی۔
شاہ کو کھل کر سانس لینا دشوار لگنے لگا۔
”خدا کا واسطہ ہے۔۔۔فی الحال کے لیے میری نظروں سے دور ہوجاؤ تم۔۔۔چلی جاؤ یہاں سے۔۔۔پلیززز۔۔۔۔۔۔“ وہ اس سمے بےبسی کی انتہا چھورہا تھا۔۔۔ جبھی اس بار مدھم لہجے میں شدت سے ملتجی ہوتا اگلے ہی پل اپنا سر ہاتھوں میں گراگیا۔
جواباً حرمین نم سلگتی نگاہوں سے کئی پل اسے یک ٹک تکتی رہی۔پھربنا کسی تگ و دو کے دھیرے دھیرے ہوا میں تحلیل ہوتی چلی گئی۔۔۔
اس گہرے سکوت میں مزید لمحے سرکے تو یک دم شاہ نے بھاری ہوتا سر اٹھاکر اطراف میں بھوری نگاہیں دوڑائی۔۔۔پھر اسکا تخیلاتی وجود کہیں بھی دیکھائی نہ پڑنے پر۔۔۔لب بھینچ کر سر کو تنفر سے جنبش دی۔
”آبرو۔۔۔۔آبرو۔۔۔۔آبرووووو۔۔۔۔“ اگلے ہی لمحے حلق کے بل چیخ کر شدت سے اسے مخاطب کرتے۔۔۔ فقط ایک پل لگا تھا اسے اپنی بدترین شکست تسلیم کرنے میں۔۔۔
معاً وہیں دبیز قالین پر ڈھیتے ہوئے۔۔۔۔جہاں جھلستے دل میں شدت سے پنپتے ارادے کسی کی ذات کے لیے حقیقتاً بدترین ثابت ہونے کو تھے۔۔۔وہیں کراچی جانے کے سارے منصوبے سرعت سے دم توڑتے چلے گئے۔۔۔
”دیوار ِ شب اور عکس ِ رخِ یار سامنے
پھردل کے آئینے سے لہو پھوٹنے لگا
پھر وضعِ احتیاط سے دھندلاگئی نظر
پھر ضبطِ آرزو سے بدن ٹوٹنے لگا۔۔۔۔“
”آپ کی چائے۔۔۔۔۔“ نرمی سے بولتی وہ۔۔ان کے مگ تھامنے کی منتظر تھی۔۔۔جب اس پر کاٹ دار نگاہیں جمائے وہ آہستگی سے صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہوئیں۔
ہنوز مگ کو احتیاط سے تھامے۔۔۔حاویہ نے سادگی سے پلکیں جھپکا کر ان کا ضبط سے سرخ پڑتا چہرہ دیکھا۔
”بھاڑ میں گئی تمھاری یہ چائے۔۔۔اور دکھاوے کی یہ خدمتیں۔۔۔۔“ تڑخ کر کہتے ہوئے۔۔عائمہ بیگم ہاتھ مار کر تپتی چائے کو اس کے داہنے ہاتھ پر انڈیل چکی تھیں۔۔
جواباً شدتِ تکلیف سے وہ اچھل پڑی۔
”سی۔۔۔آاا۔۔ہ۔۔۔م۔۔میرا ہاتھ۔۔۔۔“ اپنے ہاتھ کی سرخ پڑتی متاثرہ جلد کو شدت سے مسلتی حاویہ پل بھر کو سختی سےآنکھیں بھینچ کر کھول گئی۔۔۔پھر ٹوٹے بکھرے مگ سے بھیگتی نگاہیں ہٹاکر کچھ حیرت سے ان کا سفاک چہرہ دیکھا۔
بلاشبہ عائل کی عدم موجودگی میں ان کا رویہ ہتک آمیز ہوتا تھا۔۔۔
مگر آج۔۔۔آج تو وہ بلاجھجک جسمانی اذیت دینے پر اتر آئی تھیں۔
”کیا ہوا۔۔۔؟؟ہاتھ جل گیا۔۔۔۔؟؟ تکلیف ہورہی ہے۔۔۔؟؟؟
مگر جان لو لڑکی کہ یہ تکلیف۔۔۔اس تکلیف کے آگے بہت کم ہے جو اس وقت میرا سینہ جلائے دے رہی ہے۔۔۔۔“ جھٹکے سے اسکی داہنی کلائی دبوچتی وہ پھنکار بولیں تو جلن سہتی حاویہ نے سختی سے لب بھینچ لیے۔
”مگر آپ کی اس تکلیف سے میرا کیا تعلق۔۔۔۔؟؟؟“ پوچھتے ہوئے وہ زور لگا کر اپنی کلائی ان کی گرفت سے چھڑوانے میں کامیاب ٹھہری تھی۔۔۔جو شاید عائمہ بیگم مڑورنے کا ارادہ کیے ہوئے تھیں۔
دو آنسو ٹوٹ کر اسکے گالوں پر پھسلے۔
”تعلق ہے۔۔۔۔؟؟سارا تعلق تمھارا ہی تو ہے۔۔تمھاری اس منحوسیت۔۔۔اس بدنظری کا۔۔۔جو ہماری تمام تر خوشیوں کو آگ لگانے پر بضد ہیں۔۔۔۔“ اپنی بہو کا بدلحاظی سے کیا جانے والا احتجاج انھیں مزید طیش زدہ کرچکا تھا۔۔جبھی اسے سرمئی رنگ دوپٹے سمیت بالوں سے جکڑتی کراہنے پر مجبور کرگئیں۔
”آا۔۔۔ہ۔۔۔۔۔آنٹی میرے بال چھوڑئیے۔۔۔۔مجھے تکلیف ہورہی ہے۔۔۔۔“ ہاتھ کے بعد بالوں میں اٹھتی تکلیف حاویہ کو شدت سے چلانے پر مجبور کرگئی تھی۔
ایسے میں کچن کے دروازے پر کھڑی شاہدہ حیرت سے کھلے منہ پر ہاتھ جماتی وہیں ساکت تھی۔
آگے بڑھ کر عائمہ بیگم کے خلاف حاویہ کا دفاع کرنا اس کی ملازمت کو خیرباد کہنے کے ہی تو برابر تھا۔
”اب سیدھی طرح بتاؤ کیا بکواس کی ہے تم نے میرے بیٹے سے۔۔۔؟؟؟ایسا کونسا نیا زہر گھولا ہے جو وہ اپنا اس گھر میں آنے کا بنا بنایا ارادہ اچانک بدل چکا ہے۔۔۔۔سچ سچ بتانا۔۔۔۔؟؟ورنہ خدا قسم آج میرے قہر سے تم کسی بھی صورت نہیں بچ پاؤ گی۔۔۔۔“ اسکی مزاحمت پر اپنی گرفت مزید سخت کرتے اگلے ہی پل عائمہ بیگم نے بالوں کو زور کا جھٹکا دیا تھا۔
عائل اور حسن صاحب کے گھر سے چلے جانے کے کچھ ہی دیر بعدتو انھوں نے بذات خود شاہ میرکو کال ملائی تھی۔کچھ اپنی نئی نویلی بہو سے بھی بات چیت کرنے کا خاصا من ہورہا تھا۔
پہلے تو اسکا کال رسیو نہ کرنا انھیں کچھ تفتیش میں مبتلا کرگیا۔۔۔مگر پھر چوتھی کال پر وہ فون اٹھا چکا تھا۔۔۔
اور بنا کوئی سلام دعا کیے اسکا سلگتا لہجہ انھیں ساکت ہی تو کرگیا تھا۔
”فار گاڈ سیک موم۔۔۔ کالز پہ کالز کرکر کے مزید پریشان کرنا بند کیجیے اب مجھے۔۔۔بدل چکا ہوں میں اپنا ارادہ۔۔۔اب نہیں آرہا کراچی۔۔۔اور نہ ہی آپکی چہیتی بہو کو لے کر کبھی آسکتا ہوں۔۔۔۔سنا آپ نے۔۔۔۔۔“ تلخی سے بات کرتا وہ اگلے ہی پل کال کاٹ چکا تھا۔۔۔جبکہ عائمہ بیگم حقیقتوں سے قدرے انجان۔۔۔اسکے اس قطیعت بھرے انکار پر دم بخود ہوکر رہ گئی تھیں۔
اور پھر سنسناتے دماغ میں فقط ایک ہی نام نے فتور بھرا تھا۔۔۔۔
حاویہ عائل حسن۔۔۔۔
ایک وہی تو تھی جو نہیں چاہتی تھی کہ اسکی موجودگی میں ان کا لاڈلہ بیٹا اس گھر میں آئے۔۔۔یقیناً اب بھی عائل یاں حسن صاحب کے سبب اپنا کھیل کھیل چکی تھی۔۔۔۔
”میں نے آپکے بیٹے سے کسی بھی قسم کی کوئی بکواس نہیں کی۔۔۔۔اور اگر کسی وجہ سے وہ اس گھر میں نہیں بھی آرہا ہے۔۔۔تو یقین مانیے یہ اس کا خود کے لیے لیا جانے والا ایک بہترین فیصلہ ہے۔۔۔۔ورنہ سکون تو اسے کہیں بھی نصیب نہیں۔۔۔۔“ عائمہ بیگم کی بات سمجھتے جہاں حاویہ کے دل میں ڈھیروں سکون اترا تھا۔۔۔وہیں بڑی مشکلوں سے اپنا آپ چھڑواتی وہ اپنے لفظوں سے انھیں آگ ہی تو لگا چکی تھی۔
”چٹااااااخ۔۔۔۔۔۔“ اگلے ہی پل اس بدزبانی پر برداشت کھوتی عائمہ بیگم کا ہاتھ اٹھا تھا اور اس کے چہرے پر شدت سے اپنا نشان چھوڑتا چلا گیا۔
”بس بہت جھیل لیا تم جیسی ناقابلِ برداشت۔۔دو ٹکے کی فضول سی لڑکی کو۔۔۔۔نکلو میرے گھر سے۔۔۔ابھی اور اسی وقت نکلو۔۔۔تماشہ لگتا ہے تو لگتا رہے میری بلا سے۔۔۔اب مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کسی کی بھی۔۔۔۔۔“ معاً اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سنگ گھسٹتی عائمہ بیگم نے ہال سے باہر کی جانب قدم بڑھائے تھے۔
”میں نہیں جاؤں گی۔۔۔۔چھوڑئیے میرا ہاتھ۔۔۔۔کیوں جاؤں میں یہاں سے۔۔۔؟؟یہ میرے شوہر کا گھر ہے کہیں نہیں جاؤں گی میں۔۔۔چھوڑئیے مجھے۔۔۔۔“ ان کے اس جذباتی اقدام پر حقیقتاً بوکھلاتی حاویہ بھرائے لہجے میں چیختی متواتر مزاحمت کررہی تھی۔۔۔جب کسی ایمرجنسی کے سبب۔۔۔بروقت دہلیز پھلانگ کر وہاں آتے حسن صاحب اس سنگین صورتحال پر ٹھٹھک کر رکے۔پھر تیوری ڈال کر غصے سے عائمہ بیگم کو دیکھا جو ہنوز حاویہ کو سختی سے تھامے ہوئے انہی کی جانب باغی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔
”چھوڑو اس کا بازو۔۔۔۔۔“ قدم قدم چل کر ان دونوں کے سامنے آکر رکتے وہ بڑے ضبط سے گویا ہوئے۔۔ تو جہاں خود کو سنبھالتی حاویہ نے اتر چکے دوپٹے کو واپس سر پر درست کیا تھا۔۔۔وہیں وہ براہ راست نفی میں سر ہلانے کی جرات کرگئیں۔
اس پل پل بڑھتے ہنگامے کے دوران۔۔۔ہنوز کچن کی دہلیز پر کھڑی راشدہ نے۔۔۔احتیا طاً واپس کچن میں پلٹ جانا ہی خود کے لیے مناسب سمجھا تھا۔
”نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔اگر میرا بیٹا اس گھر میں نہیں آسکتا تو پھر اس لڑکی کو بھی یہاں رہنے کا قطعی کوئی حق نہیں ہے۔۔۔۔“ حسن صاحب کی آنکھوں میں امڈتا غصہ دیکھ وہ صاف قطعیت بھرے لہجے میں بولیں۔۔۔تو اس بات پر پل بھر کو حیران ہوتے ہوئے ان کی کشادہ پیشانی پر مٹتی لکیریں اگلے ہی پل مٹھیاں بھینچتے پھر سے ابھر آئیں۔
”اور ویسے بھی یہ سب آپ لوگوں کی ملی بھگت کا ہی تو نتیجہ ہے یہ جس کے سبب آج میرے شام نے یہاں آنے سے صاف صاف انکار کردیا ہے۔۔۔۔پر اب میں بھی چپ نہیں بیٹھوں گی۔۔۔اسے ہر صورت یہاں سے جانا ہی پڑے گا حسن صاحب۔۔ میں بھی دیکھتی ہوں مجھے کون روکتا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟“ مزید گویا ہوتی وہ۔۔۔اگلے ہی پل بےبسی سے آنسو بہاتی حاویہ کو سائیڈ سے ہوکر نکلنے والی تھیں۔۔۔جب اپنی برداشت کھوتے حسن صاحب نے قدرے درشتگی سے حاویہ کو ان کی مضبوط گرفت سے چھڑوایا۔پھر ان کے احتجاج کرتے لبوں کو اپنے بھاری ہاتھ کے تھپڑ سے ساکت ہونے پر مجبور کردیا۔
”چٹاااااخ۔۔۔۔۔“ پورے ہال میں گونجتی اس تند آواز نے جہاں حاویہ کو منہ پر ہاتھ رکھ کر پیچھے ہونے پر مجبور کیا تھا۔۔۔وہیں عائمہ بیگم نے جلتے رخسار پر ہاتھ رکھے۔۔۔قدرے بے یقینی سے اپنے بپھر چکے شوہر کی جانب دیکھا۔
کمرے کی حدود سے باہر وہ سرعام بھی ان پر ہاتھ اٹھا سکتے تھے۔۔۔یہ بات تو انھوں نے کبھی تصور میں بھی نہیں سوچی تھی۔۔۔
”دیکھ لیا۔۔۔؟؟تمھیں لگامے ڈالنے کے لیے ابھی میں زندہ ہوں۔۔۔۔اور زہرلگتی ہے مجھے یہ بغاوت۔۔۔جو میری ڈھیل کے سبب تمھارے اندر شدت سے سر اٹھا چکی ہے۔۔۔بہتر ہے اسے بذات خود اندر ہی ختم کردو ورنہ میرے ختم کرنے کا انداز تمھیں قطعی پسند نہیں آئے گا۔۔۔۔
اور تم۔۔۔۔۔؟؟“ ہر لفظ چبا چبا کر بولتے جہاں وہ عائمہ بیگم کے بھڑکتے جذبات اپنے رعب تلے ٹھنڈے ٹھار کرچکے تھے۔۔۔وہیں اپنا رخ اگلے ہی پل سہمی کھڑی حاویہ کی جانب مکمل موڑ گئے۔
”اس گھر کی حدود پھلانگنے سے کہیں ذیادہ بہتر ہے کہ اپنے شوہر اور کمرے کی حد تک رہنا سیکھو۔۔۔۔جتنا تماشہ لگنا تھا سو لگ چکا۔۔۔اب جاؤ یہاں سے۔۔۔۔“ سرد لہجے میں بولتے وہ اسے صاف تنبیہہ کررہے تھے۔۔۔
جواباً اپنے بھیگے گال صاف کرتی حاویہ نے سر کو ہولے سے جنبش دی۔
پھر ساکت نم نگاہوں سے شفاف فرش کو گھورتی عائمہ بیگم پر ایک خائف سی نگاہ ڈالتی۔۔۔اگلے ہی پل سیڑھیوں کی جانب پلٹتے وہاں سےتقریباً بھاگتی چلی گئی۔۔۔۔
معاً حسن صاحب نے ایک تند نگاہ اپنی ساکت کھڑی بیوی کو دیکھا۔پھر بنا کچھ بولے مطلوبہ۔۔ضروری فائل لینے کی غرض سے اسٹڈی روم کی جانب لپکے۔
پیچھے عائمہ بیگم نے اہانت کے شدید احساس تلے سرخ پڑتے۔۔۔بڑی بےدردی سے اپنے آنسوؤں کو رگڑا تھا۔۔۔۔
