No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
وہ سڑک کے کنارے ریڑھی کے قریب کھڑی نیناں کے سنگ مزے لے لے کر۔۔تیکھے گول گپے کھانے میں مصروف تھی۔آج اُسنے نفیسہ بیگم سے ضد کرکے۔۔جانتے بوجھتے کالج سے چھٹی کی تھی۔۔اور پھرضروری شاپنگ کرنے کی غرض سے اپنی بیسٹ فرینڈ کے ساتھ مارکیٹ چلی آئی تھی۔ ابھی اس نے پلیٹ میں ترتیب سے لگے گول گپوں میں سے۔۔تیسرا گول گپا اٹھاکر کھٹے پانی میں ڈبوتے ہوئے باہر نکالا ہی تھا۔۔۔جب اچانک اُسے پشت سے کسی کتے کے بھونکنے کی آواز سنائی دی۔ اس کے منہ کی جانب جاتا گول گپا بےساختہ پلیٹ میں گرا۔۔۔تو وہ اسکے ایک بار پھر بھونکنے پر پلیٹ سمیت جھٹکا کھا کر پلٹی۔ اس دوران نیناں بھی پیچھے مُڑتی کھانے پینے سے ہاتھ ہٹا چکی تھی۔
” کک۔۔۔کک کتا۔۔۔“ خود کی جانب خونخوار نظروں سے گھورتے ہوئے۔۔ گھنے بالوں والے اس بھورے کتے کو دیکھ کر حاویہ کی سانس سینے میں اٹکیں۔ اُسے بچپن سے ہی کتوں اور اندھیرے کا فوبیا لاحق تھا۔ معاً حاویہ نے قدرےسختی سے نیناں کا ہاتھ پکڑ لیا جو اس صورتحال سے خود بھی گھبرا گئی تھی۔ وہ شاید کسی کا پالتو کتا تھا جو اپنے مالک سے خود کا پٹہ چھڑوا کر اُنکی جانب چلاآیا تھا۔
شاید۔۔نہیں یقیناً اُسکا دماغ گھوم چکا تھا۔
”ارے بیٹیا گھبراؤ نہیں۔۔۔یہ بس بےوجہ بھونک کر ڈرا رہا ہے۔۔ کہے گا کچھ بھی نہیں۔۔۔“ ریڑھی والے بابا نے ان کا ڈر صاف محسوس کرتے ہوئے پرسکون کرنے کی ناکام کوشش کی۔۔ کہ تبھی وہ کتا بھونکتا ہوا پیچھے کو سرکتی حاویہ کی جانب تیزی سے لپکا۔ نتیجتاً گول گپوں والی پلیٹ ہوا میں اچھالتی حاویہ۔۔۔اگلے ہی چیختی ہوئی آگے کو سرپٹ دوڑلگا چکی تھی۔ ”آااا۔۔۔ااہ۔۔۔ب۔۔بچاؤ۔۔۔۔بچاؤ۔۔۔۔کتا۔۔۔کوئی تو بچاؤ۔۔۔۔“ شدید خوف تلے مسلسل مدد کے لیے چیختی ہوئی وہ۔۔۔ہنوز سڑک کے کنارے اندھا دھند بھاگتی چلی جارہی تھی۔۔۔یہ جانے بغیر کہ بیچ راستے میں ہی کتے کے مالک نے قدرے پھرتی سے اسے پکڑ کر اپنے قابو میں کرلیا تھا۔
لیکن وہ پیچھے مڑ کر دیکھتی تب ناں۔۔۔
وہاں پر موجود لوگوں اس انجان لڑکی کو یوں اکیلے احمقوں کی مانند بھاگتے ہوئے دیکھ کر حیران تھے۔
ڈر کے مارے نمکین پانیوں سے بھری بھوری آنکھوں نے آگے کا منظر دھندلا سا کردیا تھا۔۔۔جبھی وہ سامنےصحیح سے دیکھ نہیں پائی تھی اور نتیجتاً مقابل کی پشت سے براہ راست جاٹکرائی۔
عائل حسن جو اس پل موبائل فون پر آئمہ بیگم سے تقریباً بات ختم کرتے ہوئے خدا حافظ کہہ چکا تھا۔۔ اچانک پیچھے سے دھکا لگنے پر ٹھٹک کر پلٹا۔۔۔ اور سرعت سے اپنے مقابل حجاب میں موجود اس لڑکی کو زمین بوس ہونے سے پہلے ہی بازوؤں سے تھام گیا۔
حاویہ نے اپنی گھنیری پلکیں زور زور سے جھپکتے ہوئے اپنے سامنے با وردی پولیس آفیسر کو دیکھا۔۔ جو پیشانی پر تیوری چڑھائے پوری طرح اُسی کی جانب متوجہ تھا۔ پولیس موبائل کی بیک سیٹ پر مجرم کے ساتھ بیٹھا انسپیکٹر باسط بھی آگے کھسک کر باہر کا منظر دیکھتا ہوا چونکا۔
”آر یو اوکے میڈم۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکا زرد پڑتا چہرہ دیکھ کر عائل نے فکرمندی سے پوچھا تو وہ شدت سے نفی میں سرہلاتی ہوئی۔۔ اگلے ہی پل اُس کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرنے لگی۔
”پلیز میڈم۔۔۔آپ مجھے بتائیں۔۔۔کیاکوئی آپکے پیچھے پڑا ہے۔۔۔؟؟؟کیا کوئی آپکو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہا ہے۔۔۔؟؟؟“ عائل اپنے پروفیشنل انداز میں تفتیش کرتا ہوا اُسکی جانب رخ موڑگیا جو اسے کافی گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی۔
”ج۔۔جی آفیسر۔۔۔۔وہ کتا۔۔۔میرے پیچھے پڑا ہے اور۔۔۔م۔۔مجھے جان سے مارنا چاہتا ہے۔۔۔پلیز مجھے بچالیجیے اُس سے۔۔۔پلیزززز۔۔۔“ گہرے سانس لیتی وہ بھرائی آواز میں شدت سے ملتجی ہوئی۔
ساتھ ہی اُس راستے کی طرف نم نگاہ دوڑائی جہاں سے وہ بھاگ کر آئی تھی۔لیکن اب اُس خونخوار کتے کا دور دور تک کوئی نام ونشان نہیں تھا۔ ”کون ہے وہ۔۔۔؟؟؟اور اس وقت کہاں پر ہے۔۔۔؟؟؟آپ پلیز مجھے ذرا اُسکا حلیہ بتائیں۔۔۔تاکہ ہم مجرم کی باآسانی شناخت کرکے اُسے پکڑسکیں۔۔۔“ عائل کو لگا شاید وہ اُس انسان کو غصے کے سبب بےباکی سے گالی دے رہی ہے۔۔جو چند لمحے قبل اُسکی جان کے پیچھا پڑا ہوا تھا۔۔ جبھی اُسکا سہما ہوا سلونا روپ نظروں میں رکھتے ہوئے نرمی سے استفسار کرنے لگا۔
”جی بتاتی ہوں۔۔۔وہ بہت خوفناک تھا۔۔۔اُسکے لمبے براؤن بال تھے۔۔۔چار ٹانگیں تھیں۔۔۔ایک عدد ہلتی ہوئی دُم۔۔۔او۔اور۔۔منہ سے باہر کی جانب لٹکتی ہوئی لمبی سی زبان۔۔۔۔“ وہ اپنے آنسو رگڑتی سوچ سوچ کر بتاتی چلی گئی۔
”وہااااٹ۔۔۔۔“ مجرم کی ایسی شناخت پر عائل کو حقیقیتاً جھٹکا لگا تھا۔ جبکہ۔۔۔ اس پولیس والے کے غیرمتوقع ری ایکشن پر وہ آنکھیں پھیلائے اب کہ اُسے دیکھنے لگی جو بھنویں سکیڑے کافی غصے سے اسی کو گھور رہا تھا۔
”لڑکی تم۔۔۔؟؟تم تب سے ایک اصلی والے کتے سے ڈر رہی تھی اور میں سمجھا کہ۔۔۔۔اففف سائیکو۔۔۔۔تمھارا دماغ تو سیٹ ہے۔۔۔؟؟؟فری میں میرا اتنا قیمتی ٹائم برباد کرڈالا تم نے۔۔۔حد ہے۔۔۔“ وہ اپنے لہجے کو حد سے ذیادہ سخت بناتے ہوئے دانت پیس کر بولا تو وہ خائف سی نگاہیں جھکاتی بےآواز آنسو بہانے لگی۔
کسی اجنبی کے ہاتھوں اچھی خاصی بےعزتی ہونے پر خفت کے مارے اُسکا انگ انگ دہک اٹھا تھا۔ اُسکا یوں جھکا ہوا سر دیکھتے ہوئے عائل نے اپنا غصہ ضبط کرنے کے لیے گہرا سانس بھرا۔
”مجھے کتوں سے اور اندھیرے سے شروع سے ہی بہت ڈر لگتا ہے۔۔۔“ معاً اپنی صفائی دیتی وہ تقریباً منمنائی۔
”یو مین فوبیا۔۔۔۔؟؟؟“ عائل کے صحیح اندازہ لگانے پر وہ شدومد سے اثبات میں سرہلاگئی۔ آنسوؤں میں مزید روانی آئی تھی۔
”اوہ گاڈ۔۔۔۔“ بےساختہ اُسکی حالت دیکھتے ہوئے اُسے اپنے سخت لب و لہجے کا احساس ہوا تو وہ اپنے منہ پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔ اس سے پہلے کہ عائل واپس سے نرم لہجہ اختیار کرتا۔۔۔ کہ تبھی سماعتوں سے ٹکراتی نسوانی آواز پر وہ دونوں ہی چونک گئے۔
”حاویہ۔۔۔۔؟؟؟“ نیناں نے اپنی بیسٹ فرینڈ کو پولیس موبائل کے قریب کھڑےکسی آفیسر کے ساتھ محوگفتگو دیکھا تو قدرے حیرت سے اُنکی جانب لپکی۔
”نیناں۔۔۔؟؟شکر ہے تم آگئی ہو۔۔۔۔“ اُسے ہاتھ میں شاپنگ بیگز تھام کر تیزی سے اپنی طرف آتا دیکھ وہ بھیگی آنکھوں سمیت مسکرائی۔
عائل نے اُسکے سانولے سلونے چہرے پر دھوپ چھاؤں کا یہ عالم بغور دیکھا تھا۔
”میں تو پریشان ہی ہوگئی تھی کہ آخر تم کہاں چلی گئی ہو۔۔۔۔؟؟؟سب ٹھیک تو ہے ناں۔۔۔؟؟؟تم رو کیوں رہی ہو۔۔۔؟؟؟“ حاویہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے نیناں نے الجھی نظروں سے عائل کی جانب دیکھا جو سنجیدگی سے انہی کی جانب دیکھ رہا تھا۔
”چلو گھر چلیں۔۔۔ہمیں لے کر ماما بھی خاصی پریشان ہورہی ہوں گی۔۔۔پہلے ہی کافی دیرہوچکی ہے۔۔۔“ نیناں کے پھرسے پھڑپھڑاتے لب دیکھ کر حاویہ جلدی سے آنسو صاف کرتی۔۔بروقت گویا ہوئی۔
ساتھ ہی زور سے اُس کا ہاتھ دبایا۔ صاف اشارہ تھا کہ ابھی وہ کوئی بھی بات نہ پوچھے۔ نیناں نے اُسکی جانب دیکھا تو اُسکی غلافی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوئے بےبس سی چپ ہوگئی۔۔ پھر دونوں وہاں سے چلتی بنیں۔ ”حاویہ صاحبہ۔۔۔؟؟؟“ عائل نے بےاختیار اسے۔۔اسکے نام سے مخاطب کیا تو وہ چونک کر اس کی جانب پلٹیں۔
”خاص آپ کے لیے ایک بہت مفید مشورہ ہے میرے پاس۔۔۔۔تھوڑی سی دور ایک مینٹل ہاسپٹل واقع ہے۔۔۔اگر من ہوا تو وہاں کا چکر ضرور لگائیے گا۔۔۔شاید کچھ افاقہ ہوجائے۔۔۔“ جانے کیوں وہ اپنی سنجیدہ طبیعت کےخلاف جاکرمسکراتی آواز میں۔۔اسے ذرا سا چھیڑنے کو اپنا اظہارِ خیال پیش کرگیا تھا۔۔۔ لہجے میں واضح نرمی تھی۔
اپنے نام کی حیرت سے ہٹ کر۔۔۔مقابل کے اس واضح طنز پر حاویہ نے صدمے سے اسے دیکھا۔ پھر آنکھیں سکیڑ کر محض غصے سے گھورنے پر ہی اکتفا کیا۔ ورنہ دل تو بہت کررہا تھا کہ اُس پولیس آفیسر کو ابھی دوچار باتیں سنادے جواُسے دل کھول کر بےعزت کرچکا تھا۔
جواباً براہِ راست اُس کی بھوری نم آنکھوں میں سنجیدگی سے دیکھتا اے۔ایس۔پی عائل حسن بےنیاز سا کندھے اچکاگیا۔
لبوں سے مدھم مسکراہٹ اب کہ مفقود ہوچکی تھی۔ اگلے ہی پل وہ کشمکش میں کھڑی نیناں کی کلائی تھام کر تن فن کرتی ہوئی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔ ”پاگل۔۔۔۔“ نگاہوں سے اوجھل ہونے پر اُسکی حرکت یاد کرتے ہوئے بے اختیار اُسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ در آئی۔۔۔تو سر جھٹکتا وہ بھی ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
وہ تینوں خلاف توقع اس وقت سکینڈ فلور پر موجود تھے۔فواد نے مضبوط کلائی میں پہنی مردانہ گھڑی کا جائزہ لیا۔ لیکچر ختم ہوئے دو تین منٹ گزرچکے تھے۔تبھی وہ کندھے سے لگی سٹرپ پر اپنی پکڑ مضبوط کیے اپنی دوست علیزہ کے ہمراہ سب سے آخری کلاس سے برآمد ہوئی تھی۔ دائیں جانب مڑتے ساتھ ہی۔۔ راہداری پارکرتے ہوئے وہ علیزہ کی کسی بات پر ہنستی ہوئی بےاختیار منہ پر ہاتھ رکھ گئی۔
”اوئے شام۔۔۔؟؟سامنے دیکھ۔۔۔ہنستا مسکراتا شکار خود چل کر شیر کے پاس آرہا ہے۔۔۔چل جا اب چلادے اس حسینہ پر بھی اپنی سوہنے پن کا جادو۔۔۔“ حرمین زہرا کو اپنی سمت آتا دیکھ کر افروز اُسے ٹہوکا دیتے ہوئے جوشیلے انداز میں بولا تو وہ دیوار سے ٹیک ہٹائے بغیر گردن ترچھی کرکے اُن دونوں کی طرح اُسکا تفصیلی جائزہ لینے لگا۔ نیلے رنگ کی سادہ سی شلوار قمیض پر ہم رنگ دوپٹے کا حجاب کیے وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئی ان کے قریب سے قریب تر ہوتی چلی جارہی تھی۔
”ابے جائے گا بھی یاں تیری جگہ میں کوشش کرکے دیکھوں۔۔۔۔؟؟؟“ اُسے ہنوز اُسی پوزیشن میں کھڑا دیکھ کر فواد چڑکر بولا۔
”ریلکس بڈی۔۔۔ہہمم۔۔۔؟؟ابھی میری اینٹری کا ٹائم نہیں ہوا۔۔۔۔“ حرمین پر سے نظریں ہٹائے بنا وہ اپنی آبرو اچکاتا قدرے اطمینان سے گویا ہوا۔
”مطلب۔۔۔۔؟؟؟“ دونوں نے ایک کورس میں پوچھتے ہوئے الجھ کر اُسکی جانب دیکھا۔۔ تو وہ ہولے سے مسکرایا۔ اُسکی بھوری رنگ۔۔تیز نگاہیں حرمین کے پیچھے بھاگ کر لپکتی اس لڑکی پر پڑچکی تھیں۔۔جس سے تھوڑی دیر پہلے وہ دو منٹ کی خفیہ ملاقات کرکے آیا تھا۔
”مطلب یہ۔۔۔ کہ تُو بس دیکھتا جا آگے ہوتا ہے کیا کیا۔۔۔۔؟؟“ ان کے تجسس سے حظ اٹھاتا وہ عادتاً کمینگی سے اپنی آنکھ دباگیا۔ معاً قندیل کی خاصی بلند۔۔غصیلی آواز نے ان تینوں کی توجہ پل میں اپنی جانب کھینچی۔ ”او حرمین میڈم۔۔۔؟؟میری اسائنمنٹ چرا کر کہاں بھاگی جارہی ہو تم۔۔۔؟؟؟ذرا اسے تو واپس کرتی جاؤ۔۔۔۔“ طنزیہ لہجہ اپناتے ہوئے وہ اُسکی جانب لپکی تو حرمین اپنا چشمہ صحیح سے ناک پر ٹکاتی ہوئی خاصی حیرت اور کچھ صدمے سے پیچھے پلٹی۔ علیزہ بھی حیران ہوئی تھی اس بےبنیاد الزام پر۔۔۔
”یہ تم کیا بات کررہی ہو۔۔۔۔؟؟؟م۔۔میں بھلا تمھاری اسائنمنٹ کیوں چوری کروں گی۔۔۔؟؟؟“ اپنی کلاس فیلو کو تیوری چڑھا کر دیکھتے ہوئے وہ اُسکے برعکس تھوڑا مدھم لہجے میں بولی جو اُنکے پاس بھاگتی ہوئی پہنچی تھی اور اب گہرے گہرے سانس بھر رہی تھی۔پاس سے گزرتے ابھی چند ایک سٹوڈنٹس کی توجہ ہی اُنکی جانب کھینچی تھی۔
”تم شاید یہ بھول رہی ہو قندیل میڈم۔۔۔۔حرمین زہرا یونی کے ٹاپرز میں سے ایک ہے۔۔۔پھر اُسے تمھاری اسائنمنٹ کی کیا ضرورت۔۔۔جو نجانے کتنی ہی غلطیوں سے پُر ہوگی۔۔۔؟؟؟“ علیزہ نے اُس کو گھورتے ہوئے اپنی فرینڈ کی اہمیت بتائی تھی جبکہ آخری جملہ وہ منہ میں بڑبڑائی جو قندیل نے بمشکل سنا تھا۔
اگرچہ حرمین کے فادر کی ڈیتھ کے بعدسے اُنکے اخراجات پہلے کی نسبت محدود ہوکررہ گئے تھے لیکن یہ اُسکی اعلیٰ ذہانت کا ہی کمال تھا جو اُسے اسکولرشپ کے بل بوتے اس بڑی یونیورسٹی میں آرام سے ایڈمیشن مل گیا تھا۔ ویسے بھی حرمین کے پیرنٹس کی بھی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی تھی کہ اُنکی اولاد ذیادہ سے ذیادہ پڑھ لکھ جائے۔لیکن افسوس کے ٹاپر ہونے کے باوجود بھی وہ ایک دبو سی لڑکی تھی جو کم ہی اپنے لیے سٹینڈ لیتی تھی۔ ”تمھارے کہنے کا مطلب ہے کہ میں جھوٹ بول رہی ہوں۔۔۔؟؟؟ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری۔۔۔واہ بھئی کیا کہنے تم لوگوں کے۔۔۔“ اس ٹھوس دلیل پر پہلے تو وہ گڑبڑائی لیکن پھر اپنے اعتماد کو پل میں بحال کرتی ہوئی تڑخ کر بولی تو اپنی اپنی کلاسوں کی جانب جاتے سٹوڈنٹس رک کر اُنھیں دیکھنے لگے۔
”سنو قندیل۔۔۔بہت ہوگیا ہاں۔۔۔بس کرو اب۔۔۔جب میں کہہ رہی ہوں کہ مجھے نہیں معلوم تمھاری اسائنمنٹ کا تو تم مان کیوں نہیں لیتی۔۔۔؟؟؟“ تھوڑا گھبرا کر بولتے ہوئے حرمین نے اپنا دفاع کرنا چاہا تو آگے سے وہ مزید بگڑگئی۔
”اچھا۔۔۔میں بس کروں۔۔۔تو ٹھیک ہے پھر۔۔۔ابھی کہ ابھی یہاں چیکنگ کرواؤ مجھے۔۔۔خود ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔۔۔“ ناک کے نتھنے پھیلاتے ہوئے اب وہ پلین کے مطابق اگلی کاروائی پر اتر آئی اور کسی کو بھی کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع دئیے بغیر اُس کے کندھے سے سلور بیگ جھپٹ لیا۔
مضبوط چوڑے سینے پر بازو باندھ کر حرمین کی جانب دلچسپی سے تکتا شام اب کہ ٹیک ہٹاتے سیدھا کھڑا ہوچکا تھا۔ اہانت کے شدید احساس سے اس کا روم روم کانپنے لگا۔ وہ چاہ کر بھی قندیل کو ایسا کرنے سے روک نہیں پارہی تھی۔ چشمے کے پار تیزی سے بھیگتی ہوئی گہری کالی آنکھیں اطراف میں گھومیں تو شام سمیت اُسکے دوستوں کو اپنی جانب متوجہ پاکر اُسکا رنگ مزید پھیکا پڑا۔ وہ اس سمے بلاوجہ یونی کے سب سے ڈیشنگ مگر پلے فل گروپ کی توجہ کا مرکز بن رہی تھی۔ شرمندگی سے لب کچلتی وہ سرعت سے نظریں پھیر گئی لیکن اگلے ہی پل اپنے بیگ سے کسی اور کی اسائنمنٹ نکلتی دیکھ۔۔۔ صحیح معنوں میں حرمین زہرا کے ہوش اڑے تھے۔
”ی۔۔یہ۔۔۔کیسے؟؟؟“ بےیقینی اس قدرتھی کہ اُسے بولنا بھی محال لگا۔ علیزہ کا بھی منہ کھلا تھا یہ دیکھ کر جبکہ قندیل کے لب شاطرانہ مسکراہٹ میں ڈھلے۔
”دیکھا۔۔۔؟؟میں نہ کہتی تھی کہ میری اسائنمنٹ تمہی نے چرائی ہے۔۔۔اب بولو مس ٹاپر۔۔۔کہاں گیا تمھارا سارا کونفیڈینس۔۔۔؟؟؟نہیں نہیں۔۔۔مس ٹاپر کیوں۔۔۔۔بلکہ مس چورنی۔۔۔“ بنا کسی خطا کے اُسکے ماتھے پر سرعام چورنی کا ٹیگ چپکاتے ہوئے وہ بالکل بھی نہیں جھجکی تھی۔
شام نے اُسے داد دینے والی نظروں سے مسکرا کر دیکھا۔۔ جو محض ایک بار نرمی سے کہنے پر اُسکی مدد کو فوری سے پیشتر تیار ہوگئی تھی۔ سٹوڈنٹس کے درمیان چہ مگوئیاں ہونے لگیں تو حرمین کی بھیگتی آنکھیں احساسِ توہین کی شدت سے چھلک پڑیں۔
”برو۔۔۔یہ سب تیرا پلین تھا کیا۔۔۔؟؟؟“ اُسے اطمینان تلے دلکشی سے مسکراتا دیکھ کر فواد نے اُسکے کان میں تقریباً گھس کر تصدیق چاہی۔ وہ باقیوں کی طرح حیران تو قطعی نہیں تھا۔
”آفکورس یس۔۔۔اور اب اینٹری مارنے کا ایگزیکٹ ٹائم بھی آچکا ہے۔۔۔۔“ کہتے ہوئے شام نے بےاختیار کندھوں سے بلیک ٹی شرٹ اوپر اچکائی۔۔تو اپنی بھنویں اوپر اٹھاتے ہوئے اُن دونوں کے لب بےاختیار او شیپ میں ڈھلے۔ اگلے ہی لمحے وہ بڑی سنجیدگی سے جینز کی پاکٹس میں ہاتھ پھنسائے قدم قدم چلتا ہوا حرمین کے قرہب جا رکا۔ اتنے قریب کہ اُسکا مضبوط کندھا اُسے چھونے لگا تھا۔ نتیجتاً حرمین جھٹکا کھا کر دو قدم پیچھے ہوئی۔اُسکی یہ حرکت شدت سے محسوس کرتے ہوئے شام کی بھوری آنکھوں میں ناگواری سی در آئی۔
اگلے ہی پل وہ گہرا سانس بھرتا ہوا مجبوراً ضبط کرگیا۔ وہ بھلا لڑکیوں کے ایسے گریز کا عادی کہاں تھا؟
ان میں سے ذیادہ تر تو اُسکے ساتھ چپکے رہنے میں ذیادہ انٹرسٹڈ ہوا کرتی تھیں۔ افروز اور فواد وہیں پر کھڑے رہ کر ہنوز لائیو ڈرامہ انجوائے کررہے تھے۔
”ابے یار۔۔۔۔اپنے شام کے پٹانے کا انداز تو اس نازک جاں پر کافی بھاری پڑگیا۔۔۔۔“ افروز کمینگی سے بولتے ہوئے دھیما سا ہنسا تو فواد بھی طنزیہ ہنستا تائیدی انداز میں سرہلاگیا۔
”جانے دو قندیل۔۔۔کیا ہوگیا ہے یار۔۔؟؟ضروری تو نہیں یہ سب حرمین نے کیا ہو۔۔۔ہوسکتا ہے کسی دوسرے نے مذاق میں آکر ایسا کردیا ہو۔۔۔“ خود کو بمشکل کمپوز کرتے ہوئے وہ قدرے نرمی سے گویا ہوا تو جانے کیوں شام کے بولنے پر حرمین کو حیرت کے ساتھ ساتھ مزید رونا بھی آیا۔
”لیکن۔۔۔میری اسائنمنٹ اسی کے پاس سے ملی تھی۔۔۔“ قندیل شام کی بات پر دھیرے سے منمنائی۔ جبکہ اُسکے اس قدر نرمی سے یار کہنے پر دل میں ہلکی ہلکی سی گدگدی ہوئی تھی۔
”اووو رئیلی۔۔۔؟؟اُسکے آنسو دیکھو۔۔۔کیا یہ تمھیں کہیں سے بھی جھوٹے لگتے ہیں۔۔۔؟؟؟نہیں ناں۔۔۔؟؟؟ہم سب جانتے ہیں کہ حرمین زہرا ایسی لڑکی نہیں ہے بالکل بھی۔۔۔الٹا وہ تو بے مطلب دوسروں کی ہیلپ کرتی ہے۔۔۔۔“ اُسکے انداز سے پل پل ٹپکتی اپنائیت پر حرمین سمیت باقی سب تو حیران ہوئے ہی تھے۔۔۔مزید قندیل بھی اُسکی ایکٹنگ کی فریفتہ ہوچکی تھی۔
حرمین نے اس بار نم نگاہیں پھیلائے شام کی جانب دیکھا جس کی گہری آنکھیں اس کے سانولے بھیگے ہوئے نقوش پر ہی ٹھہری ہوئی تھیں۔ اس کے لرزتے دل کی دھڑکنوں نے یک دم ہی تیز رفتار پکڑی تھی جسکی وجہ یقیناً اس کے دیکھنے کا مخصوص انداز تھا۔
اس دوران کچھ سٹوڈنٹس اپنی اگلی کلاس میں لیٹ پہنچنے کے ڈر سے وہاں سے چپ چاپ کھسکتے چلے گئے۔۔۔ جبکہ کچھ لاپرواہ بنے وہیں کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے۔
البتہ اُنکی کھسرپھسر میں چند نئی سرگوشیوں کا اضافہ ضرور ہوچکا تھا جو یقیناً شام اور حرمین کے متعلق تھیں۔ شام کی عجیب نگاہوں کی تاب نہ لاتے ہوئے حرمین لب بھینچتے۔۔اگلے ہی پل اپنی بھیگی نظروں کا رخ سرعت سے بدل گئی۔پھر سختی سے نم گال رگڑے۔دوسری بار اُسکا یہ انداز شام کو اندر ہی اندر پیچ وتاب کھانے پر مجبور کرگیا تھا۔ ماؤف ہوتا دماغ اور شدت سے دھڑکتا دل اس وقت بےشمار الجھنوں کا شکار تھا کہ وہ کچھ سوچنے سمجھے کی حالت میں نہیں تھی۔
پہلے چوری کا الزام۔۔۔ پھر اُسکی تصدیق ہوجانا۔۔۔ اور پھر ایسےلڑکے کا حمایت میں بولنا جسکا دور دور تک اُس سے کوئی واسطہ تعلق نہیں تھا۔۔۔ آگے جانے اور کیا کیا ہنگامے ہونے باقی تھے۔۔۔۔؟؟؟
”شام بالکل ٹھیک بول رہے ہیں قندیل۔۔۔ضرور یہ کسی اور کی شرارت ہے۔۔۔۔حرمین ایسی نہیں ہے۔۔۔بےقصور ہے وہ۔۔۔“ اُسی کے ساتھ ملوث قندیل کی دوست نے بھی ہمددری بانٹتے کو سرعام ہلکا سا ٹکڑا لگایا تھا۔ ”شاید تم سب ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔۔۔غلطی میری ہے۔۔۔آئی ایم سوری حرمین۔۔۔۔مجھے تمھیں اس طرح بالکل بھی ٹریٹ نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔“ شام کے نامحسوس انداز میں کیے جانے والے اشارے پر شرمندہ ہونے کی بھرپور اداکاری کرتی ہوئی قندیل نے حرمین سے فوری معذرت کی۔۔تو وہ اسکے ایکدم سے بدلتے تیوروں پر اسے دیکھ کر رہ گئی۔
”ا۔۔اٹس اوکے۔۔۔۔“ کچھ توقف کے بعد کمزور آواز میں بولتی ہوئی وہ برہم سی دکھائی دی۔پھر مزید کچھ بولے بغیر سٹوڈنٹس کے بیچ سے نکلتی ہوئی آگے بڑھتی چلی گئی۔
”آااہ۔۔۔اوور ایکٹنگ۔۔۔۔“ آنکھیں گھماتا ہوا وہ حقارت سے بڑبڑایا اور قندیل کو اُسکی خوش آمد مسکراہٹ سمیت اگنور کرتا ہوا تیزی سے اُسکے ہمقدم ہوا۔
”آپ ٹھیک ہیں مس حرمین۔۔۔۔؟؟؟“ لہجے میں واضح فکر تھی جس پر وہ چونک کر بھی رکی نہیں تھی۔
”جی۔۔۔۔“ اپنے پھر سے بہتے آنسوؤں کو رگڑتے ہوئے اُسنے اپنی موجودہ حالت کے برعکس یک لفظی جواب دیا۔
” گڈ۔۔۔۔آپ کو ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کی ٹینشن لینی بھی نہیں چاہیے۔۔۔“ وہ بات بڑھانے کی کوشش میں اُسے مزید الجھا گیا تھا۔ دور سے اس نئے کپل کا بخوبی نظارہ کرتی شمسہ کی آنکھیں اس میل جول پر جل سی اُٹھی تھیں۔
دوسرے ہی پل دل برداشتہ ہوتی وہ پیرپٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔ ”تھینک یو۔۔۔۔“ رک کر شام کی جانب مڑتی ہوئی وہ مروتاً ہلکا سا مسکراکر بولی۔۔تو شام کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔
اس سے پہلے کہ اُسکی دلکشی کا جادو حقیقتاً حرمین زہرا کے کمزور سے دل پر چلتا۔۔اگلے ہی پل وہ اُسکے وجیہہ چہرے سے اپنی نگاہیں ہٹاتی تیز تیز قدم اٹھائے وہاں سے نکلتی چلی گئی۔۔ اس بات سے قطعی بےخبر کہ اپنے اس گریز کے سبب وہ شام کی بھڑکتی ضد کو مزید ہوا دےچکی تھی۔ کچھ فاصلے پر ہوکر چلتی علیزہ بھی اس کے پیچھے بھاگ کر لپکی تھی۔
حرمین کی پشت پر بغور نظریں جمائے شام کے نرم تاثرات یکدم سرد ہوئے تھے۔
”مان گئے برو۔۔۔۔تیرا دماغ پڑھائی سے ذیادہ لڑکیوں کو پٹانے میں تیز چلتا ہے۔۔۔۔“ وہاں آکر۔۔اسکے کندھے پر ہاتھ مارتا ہوا یہ فواد تھا جس پر ساتھ ہی کھڑا افروز بھی کھل کر ہنس دیا۔
”ذیادہ بکو مت۔۔۔۔یہ ٹاسک تھوڑا ٹف ضرور ہے لیکن اس سے کہیں ذیادہ دلچسپ ہے۔۔۔بس کچھ دن اور۔۔۔پھرمیری جیت کے ساتھ ہی یہ چیپٹر بھی جلد ہی کلوز ہوجائے گا۔۔۔جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔۔۔۔“ تندہی سے کہتے ہوئے اسکے انداز میں شدت تھی۔۔۔ ایسی شدت۔۔۔جو آگے جاکر حرمین زہرا کی بظاہر خوشنماء زندگی میں جانے کیا نت نئے رنگ لانے والی تھی۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
”کر آئی ہو شاپنگ۔۔۔۔؟؟؟بڑی دیر لگادی آنے میں۔۔۔اور نیناں۔۔۔؟؟وہ نہیں آئی تمھارے۔۔۔۔؟؟؟“ وہ پھولے منہ کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی تھی۔۔جب باورچی خانے کی جانب جاتی نفیسہ بیگم نے رک کر پوچھا۔ ساتھ ہی سرسری سی نگاہ۔۔تھامے ہوئے گنتی کے چند شاپرز پر بھی ڈالی۔۔ ”جی۔۔۔کر آئی ہوں ساری شاپنگ۔۔۔۔اور نیناں کو گھر جلدی جانا تھا اسی لیے وہ میرے ساتھ نہیں آسکی۔۔۔“ مگن سی جواب دیتی وہ ان شاپرز کو قریب صوفے پر رکھ چکی تھی۔
نفیسہ بیگم اطمینان سے سر ہلاتی پلٹ کر باورچی خانے میں چلی گئیں۔۔تو وہ بھی دو کمروں کے سامنے سے گزرتی ہوئی ان کے پیچھے چلی آئی۔پھر وہاں پڑی چئیر پر بیٹھ گئی۔ نیناں کے اصرار پر وہ رستے میں اسے منہ بگاڑکر اپنی اور اس کھڑوس پولیس والے کی ساری داستان سنا تو چکی تھی۔۔۔لیکن جواباً نیناں کی بےتابانہ ہنسی سمیت۔۔۔چھیڑخانیاں اسے شدت سے اپنی ناراضگی دکھانے پر مجبور کرگئیں۔
” کیا بات ہے حاویہ۔۔۔سب خیریت تو ہےناں۔۔۔تمھارا منہ کیوں اترا ہوا ہے۔۔۔؟؟؟“ اسکی طرف سے ہنوز خاموشی کا احساس پاتے ہوئے پیاز کٹاتی نفیسہ بیگم پلٹ نےکر اس کا گم سم چہرہ بغور دیکھا۔
”ک۔۔کچھ خاص نہیں۔۔۔بس ذرا سی تھکاوٹ ہو گئی ہے ماما۔۔۔اپیہ نہیں آئیں ابھی تک یونی سے۔۔۔؟؟؟“ نفیسہ بیگم کے یوں استفسار کرنے پر پل بھرکو گڑبڑاتی حاویہ سنبھل کر تھکاوٹ ظاہر کرتی۔۔حرمین کی بابت پوچھنے لگی۔
”بس آنے ہی والی ہوگی۔۔۔۔وہ آجائے پھر ساتھ مل کر کھانا کھائیں گے۔۔۔“ نفیسہ بیگم اطمینان سے جواب دیتی واپس اپنے کام میں مگن ہوگئیں جبکہ۔۔۔ حرمین کے ذکر پر ان کے لب کسی امید کے تحت شدت سے مسکرائے۔ آج ہی تو نسیمہ آپا نے انھیں ایک قابلِ سکون خبر سنائی تھی۔۔جو یقیناً وہ اپنی دونوں بچیوں کی موجودگی میں بتلانے کا ارادہ رکھے ہوئے تھیں۔
”جی بہتر۔۔۔تب تک میں اپنا سامان کمرے میں رکھ آتی ہوں۔۔۔“ اثبات میں سر ہلاتی وہ اگلے ہی پل باورچی خانے سے باہر نکل گئی۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
عائل آہستگی سے دروازہ کھولتا کمرے میں داخل ہوا۔ ایسے میں شام اسکی موجودگی سے ہنوز انجان۔۔۔ بیڈ پر پیٹ کے بل لیٹا۔۔موبائل میں انہماک سے کوئی کار گیم کھیل رہا تھا۔
”اہہم اہہم۔۔۔۔شام۔۔۔۔؟؟“ اسے یونہی شانِ بےنیازی سے گیم میں دھت دیکھ کر عائل اپنا گلا کھنکارتا ہوا اس کے قریب بیٹھا۔۔ تو بری طرح چونکتا وہ سرعت سے سیدھا ہوا۔
”اوہ بھائی۔۔۔آپ۔۔۔؟؟سوری مجھے آپکے آنے کا بالکل بھی اندازہ نہیں ہوا۔۔۔“ اپنے موبائل کو آف کرکے سائیڈ پر رکھتا وہ کچھ شرمندگی سے گویا ہوا۔ اسکی جانب دیکھتے ہوئے عائل نے اثبات میں سرہلایا۔
”کھانے کی ٹیبل پر موم ڈیڈ تمھارا کب سے انتظار کررہے ہیں۔۔۔اور تم یہاں مصروف ہو۔۔۔آ کیوں نہیں رہے۔۔۔۔؟؟؟“ آنکھوں میں مدھم شکوہ لیے وہ نرم لہجے میں پوچھ رہا تھا۔ جواباً شام نے بےاختیار نگاہوں کا زاویہ بدلا۔ ملازمہ اسے کچھ دیر پہلے ہی تو کھانے کا بول کر گئی تھی۔۔لیکن وہ بھوک ہونے کے باوجود بھی وہاں نہیں جاسکا تھا۔ اور وجہ کیا تھی۔۔۔؟؟ بلاشبہ حسن صاحب کی بددل کرتی ہوئی موجودگی۔۔
”مجھے بھوک نہیں تھی بھائی۔۔۔اسی لیے۔۔۔“ وہ تھوڑا اٹکتے ہوئے صاف جھوٹ بول گیا۔ یونی سے واپسی پر شام کا بدقسمتی سے حسن صاحب سے ٹکراؤ ہوا تھا۔۔جوکہ کم ہی ہوتا تھا۔ اور پھر کیا تھا۔۔۔ اسکی بے مقصد گزرتی زندگی اور بگڑی ہوئی حرکتوں پر تنقید کرتے ہوئے وہ اس کا اچھا خاصا موڈ غارت کر سے باز نہیں آئے تھے۔ اس بدمزگی کے بعد سے وہ بھلا کمرے سے باہر نکلا ہی کب تھا۔۔۔
”تمھیں ڈیڈ سے ڈانٹ پڑی ہے ناں۔۔۔؟؟؟“ پوچھتے ہوئے عائل پریقین تھا جس پر وہ تمسخر زدہ سا سر جھٹک گیا۔
”یہ کوئی نئی بات تو نہیں ہے بھائی۔۔۔۔جانتے ہیں؟؟ڈیڈ چاہتے ہیں کہ میں فائنل سمیسٹر کا اینڈ ہوتے ہی ان کا پنڈی والا سوکالڈ بزنس سنبھال لوں۔۔۔مگر میں یہ کسی بھی صورت نہیں چاہتا۔۔۔ڈیڈ کے ساتھ مل کر کام کرنا۔۔۔۔؟؟ناٹ پاسیبل یار۔۔۔“ اپنے سنگین مسئلے کی بابت اسے بتاتا وہ معمول سے ہٹ کر اس پل حددرجہ سنجیدہ لگ رہا تھا۔ بے اختیار عائل کو اپنے لاڈلے بھائی کی فکر ہوئی۔
”تو تم کیا چاہتے ہو۔۔۔؟؟؟“ اس نے شام کی رائے جاننا چاہی۔
”میں بھی آپکی طرح کچھ ہٹ کر کرنا چاہتا ہوں بھائی۔۔۔کچھ الگ۔۔۔کچھ خاص۔۔۔“ معاً کچھ جنون سے بولتا ہوا وہ عائل کو مزید تجسس میں ڈال چکا تھا۔
”اور وہ کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟“ اب کہ جاننے کو وہ صاف بےتاب ہوا۔۔۔تو شام کے لب مدھم شریرمسکراہٹ میں ڈھلے۔
”من مستیاں برو۔۔۔۔صرف اور صرف من مستیاں۔۔۔ابھی کچھ کرنے کی میری عمر ہی کیا ہے یار۔۔۔؟؟؟“ اس کی سنجیدگی سے لطف لے کر بولتا وہ اگلے ہی پل قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔۔تو عائل اس کا منہ دیکھ کررہ گیا۔
”شریر کہیں کے۔۔۔۔موم بالکل ٹھیک کہتی ہیں۔۔۔تم کبھی نہیں سدھرو گے۔۔۔معلوم نہیں اپنی زندگی کو لےکر کب سنجیدہ ہوگےتم۔۔۔؟؟؟“ اپنے یوں پاگل بنائے جانے پر تاسف سے مسکراتا وہ نفی میں سر ہلا گیا۔ پولیس والا ہوکر بھی وہ پورے دن میں دو بار پاگل بن چکا تھا۔
معاً عائل کی یاداشت میں وہ سلونا سا گھبرایا ہوا چہرہ تازہ ہوا تو لبوں کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔
”جب میں آپ کے دوچار بچوں کا ہنڈسم چچا بن جاؤں گا۔۔۔۔تب۔۔۔۔“ اپنی ہنسی روک کر دوبدو جواب دیتے ہوئے وہ پھر سے غیرسنجیدہ ہوا۔
”ذیادہ پھیلو مت اور چلو میرے ساتھ۔۔۔۔موم ڈیڈ ہم دونوں کا ویٹ کررہے ہیں۔۔۔۔“ سر پر ہولے سے چپت لگاکر سنجیدگی سے کہتا وہ اگلے ہی پل کھڑا ہوا۔۔۔ تو شام کے نقوش پر بےزاری سی چھائی۔
”بھائی۔۔آپ۔۔؟؟؟اچھا چلیں۔۔۔۔“ وہ جو اسے روکنا چاہ رہا تھا،خود کی جانب اسے سرد نگاہوں سے تکتا پاکر۔۔فوری تیور بدل گیا۔ پھر بددلی سے بیڈ سے اترتا وہ عائل کےسنگ کمرے سے باہر نکل گیا۔
💞💞💞💞💞💞
”حرمین۔۔۔؟؟چندا نسیمہ آپا نے تمھارے لیے ایک بہت ہی اچھا رشتہ بتایا ہے۔۔۔لڑکا ریسٹورنٹ کا منیجر ہے۔۔۔خوبصورت اور ویل ایجوکیٹڈ بھی ہے،فیملی ذیادہ بڑی نہیں ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ کل تمھیں دیکھنے کے لیے آنا چاہ رہے ہیں۔۔۔۔میں نسیمہ آپا کو ہاں کہہ چکی ہوں ہےتو تم کل یونی مت جانا۔۔۔“ کھانے کی ٹیبل پر نفیسہ بیگم پرمسرت انداز اپنی دونوں بیٹیوں کو بتا رہی تھیں تو۔۔۔ ان کی بات پر جہاں حرمین کا روٹی توڑتا ہاتھ ساکت ہوا تھا۔۔ وہیں کھانے سے ہاتھ روکتی حاویہ نے چونک کراپنی ماں کا مسکراتا چہرہ دیکھا۔
پھر اپنی اپیہ کا بجھتا ہوا روپ۔
”تو یعنی ایک بار پھر سے میری پھیکی قسمت میں دھتکار لکھی جا چکی ہے۔۔۔۔“ ٹھہر ٹھہر کر بولتے ہوئے اس کا انداز خود کا مذاق اڑاتا ہوا تھا۔ اس گہرے طنز کے سبب۔۔خود کے ساتھ ساتھ بلاشبہ وہ ان دونوں کو بھی گہری تکلیف سے دوچار کرگئی تھی۔
تقریباً چھ سے سات رشتے تھے۔۔جو ان کے گھر کی دہلیز پار کرتے ہوئے جس طرح سے آئے تھے۔۔۔اسی طرح خالی ہاتھ واپس پلٹ گئے۔ کچھ نے تو اس کی جگہ بلاجھجک حاویہ کا سوال کرڈالا تھا۔۔ جو شکل و صورت کے لحاظ سے اُس سے بہت بہتر تھی۔ اور وہ۔۔۔ ہر بار تہی دامن رہ کر حددرجہ دلبرداشتہ ہوجایاکرتی تھی۔
فیضان صاحب کے انتقال کے بعد سے نفیسہ بیگم کی اپنی دونوں بچیوں کے لیے فکر پہلے سے ذیادہ بڑھتی چلی گئی تھی۔ ایسے میں ان کے بڑے بھائی نے ان پر ہمیشہ اپنا شفقت بھرا ہاتھ رکھا تھا، لیکن اپنی اکھڑ مزاج بیوی کے سبب اپنے بڑے سے گھرمیں رہائش اختیار کرنے کی آفر کبھی نہیں کی تھی۔
اس سب کے باوجود بھی نفیسہ بیگم کے لیے یہ کافی تھا۔۔۔کہ کم از کم ان کا بھائی تھوڑا بہت خیال تو کرلیا کرتا تھا۔ یہ حرمین زہرا کا یونی میں سیکنڈ لاسٹ سمیسٹر چل رہا تھا۔وہ حرمین کی پڑھائی مکمل ہوتے ہی فوری اسکی شادی کردینا چاہتی تھیں۔
لیکن کچھ رشتے آنے کے بعد سے ان پر جو غیر متوقع انکشاف کھلا تھا۔۔۔ اسکی بابت وہ خاصی متفکر ہو چکی تھیں۔
”مایوسی کی باتیں مت کرو حرمین۔۔۔۔اللہ پر کامل یقین رکھو گی تو سب بہتر ہوجائے گا بیٹا۔۔۔اُسکے گھر دیر ضرور ہے پر اندھیر ہرگز نہیں ہے۔۔۔۔“ گہرا سانس بھرتے انھوں نے اسے تسلی دینا چاہی۔
”ماما آپ بھی تو سمجھے ناں۔۔۔۔ایسے معاملات میں صرف علم ہی کافی نہیں ہوتا۔۔۔۔لوگ ساتھ میں حسن کی مانگ بھی کرتے ہیں جو میرے پاس بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔تھک گئی ہوں میں لوگوں کے سامنے بھیڑبکریوں کی مانند پیش ہوتے ہوتے۔۔۔اب مزید برداشت نہیں ہوتے ان کے انکار جو وہ بےدردی سے میرے منہ پر مار کر واپس لوٹ جاتے ہیں۔۔۔۔“ جواب میں وہ ناچاہتے ہوئے بھی اس پل اپنی بےقدری پر پھٹ پڑی تھی۔آنکھوں کی سیاہی بھیگ چکی تھی۔ حرمین کے اس قدر متنفرہوجانے پر جہاں حاویہ کی آنکھیں پھٹی تھیں۔۔ وہیں نفیسہ بیگم کی آنکھوں میں صاف نم اتری۔
وہ ایکدم گہرا سانس چھوڑتی نرم پڑی تھی۔
”آ۔۔آئی ایم سوری ماما۔۔۔میرا مقصد آپکو اذیت دینا بالکل بھی نہیں تھا۔۔۔معلوم نہیں کیسے؟؟ میں آپ سے نہ مناسب لہجے میں بات کرگئی۔۔۔۔؟؟؟سو سوری ماما۔۔۔اچھا ٹھیک ہے۔۔۔میں کل یونی نہیں جاؤں گی۔۔۔آپ اُن لوگوں کو بلالیجیے گا۔۔۔۔اوکے۔۔۔“ بےاختیار اپنی چیئر ان کے قریب کھینچتی وہ شرمندہ سی گویا ہوئی۔۔۔ تو اسکے یوں ہاتھ تھامنے پر نفیسہ بیگم بھیگی آنکھوں سے مسکرائیں۔
وہ اپنی بیٹی کا درد سمجھتی تھیں۔۔جبھی تو اس کی بہتری کے لیے کوشاں تھیں۔
”تم اپنا دل چھوٹا مت کیا کرو حرمین۔۔۔۔مجھے تمھاری مزید فکر ہونے لگتی ہے اس طرح۔۔۔۔لوگ تو پاگل ہیں جو حسن کے پیچھے بھاگتے ہیں۔۔۔ صورت سے ذیادہ سیرت کا اچھا ہونا ضروری ہوتا ہے بیٹا۔۔۔صورتیں کتنی بھی حسین کیوں ناں ہوں ہمیشہ سیرتوں کی محتاج ہوا کرتی ہیں۔۔۔ تم دل کی خوبصورت ہو جو بہت کم لوگ ہوتے ہیں۔۔۔کیا اتنا کافی نہیں۔۔۔؟؟“ نفیسہ بیگم نے قدرے محبت سے اسکی گالوں پر لڑھکتے آنسو پونچھتے ہوئے۔۔اسے حقیقیت کا پوشیدہ رخ دکھایا تو وہ مزید شرمندہ ہوتی اپنا سر دھیرے سے اثبات میں ہلاگئی۔
”آپ دیکھنا اپیہ۔۔۔میرا دل کہتا ہے کہ آپ نہ صرف کل ان لوگوں کو پسند آئیں گی۔۔ بلکہ میرے ہو والے جیجا جی کو آپ سے پہلی ہی نظر میں محبت ہوجائے گی۔۔۔آپ یہ رشتہ پکا ہی سمجھ لیں۔۔ہاں۔۔۔“ معاً حاویہ شریر لہجے میں گویا ہوتی جہاں نفیسہ بیگم کو دل سے مسکرانے پر مجبور کرچکی تھی۔۔۔وہیں اپنی ماں بہن کی خاطر حرمین بےبسی سے مسکراتی سر جھکا گئی۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
وہ اس وقت اپنے آفس روم میں بیٹھ کر لیپ ٹاپ سے ایک امپورٹینٹ فائل دوسری کمپنی کو میل کررہا تھا۔ بلیک کلر کے سموک تھری پیس سوٹ میں وہ اس پل جتنا خوبرو دِکھ رہا تھا۔۔وجیہہ چہرے پر اُسی قدر سنجیدگی رقصاں تھی۔ ایک وقت تھا جب شریر انداز اور بہکتی مسکراہٹیں ہر لمحہ اُسکی شخصیت کا خاصہ ہوا کرتی تھیں۔۔۔ لیکن اب۔۔۔؟؟ اب تو جانے ایسی کتنی ہی ان گنت عادات تھیں جو دوڑتے وقت کے سنگ کہیں بہت پیچھے چھوٹتی چلی گئی تھیں۔ یا پھرشاید مجبوراً چھوڑنا پڑی تھیں۔ ان سب سے ہٹ کر۔۔۔زندگی تھی جو چھوٹی موٹی تمام من مستیوں سے بالاتر ایک مخصوص ڈگر پر چل پڑی تھی۔ معاً لیپ ٹاپ سے فارغ ہوتے ہی اس کی متلاشی نگاہوں نے مطلوبہ فائل کو سامنے ٹیبل پر ڈھونڈنا چاہا۔۔ لیکن وہ وہاں پر ہوتی۔۔۔تو دکھائی دیتی ناں۔۔۔
فائل کی محرومی پر بےاختیار شاہ کی سنجیدہ۔۔بھوری آنکھوں میں اُس پری پیکر کا سندر مکھڑا گھوم سا گیا۔ اس کی اپنے پاس ایک بار پھر سے موجودگی کیا سوچتے جانے کیوں اس کا بےحس دل دھڑک سا گیا۔ اگلے ہی پل سر جھٹکتے اس نے انٹرکام کی جانب ہاتھ بڑھایا تھا۔
”جی سر۔۔۔۔؟؟؟“ کچھ پلوں بعد ہی اسپیکر سے ابھرتی مودب سی آواز شاہ کی سماعتوں میں گھلی۔
”مس آبرو کو میرے روم میں بھیجیں۔۔۔فوراً۔۔۔۔“ رعب بھرے انداز میں بولتے ہوئے اس نے دوسری طرف سے مثبت جواب سنے بنا ہی انٹر کام واپس جگہ پر رکھ دیا۔
”کم اِن۔۔۔۔“ کچھ ہی دیر میں دروازہ ناک ہوا تو وہ ریوالنگ چئیر سے ٹیک ہٹا کے سیدھا ہوبیٹھا۔ وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تھی۔ شاہ نے دیکھا تھا۔۔ہلکے گلابی رنگ حجاب میں اُسکا گلاب چہرہ مزید کھل سا اٹھا تھا۔
اوپر سے غضب۔۔اسکی گہری نیلی آنکھیں جو پلوں میں سامنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ سا لیتی تھیں۔ وہ جو ناچاہتے ہوئے بھی یک ٹک اسے تکنے میں محو سا ہو چکا تھا۔۔یک لخت اس کے پکارے جانے پر چونکا۔
”آپ نے مجھے بلایا تھا سر۔۔۔۔؟؟؟“ شاہ کے وجیہہ چہرے پر ایک سرسری سی نگاہ ڈالتے ہوئے اس نے قدرے سادگی سے پوچھا۔۔ پھر انگلیوں کو آپس میں ملاتی عادتاً پلکیں جھکاگئی۔
مقابل کی گہری نگاہوں کی مزید تپش سہنا اس کے بس کی بات ہی کہاں تھی بھلا۔۔۔
اس لڑکی کے سحر سے نکلتے شاہ نے بےاختیار بھنویں سکیڑیں۔ یوں بےوجہ نگاہوں کا جھکا جانا اس کے نزدیک شرم و حیاء کم۔۔۔ گریز ذیادہ تھا۔
ایسا گریز جو نا چاہتے ہوئے بھی اس کی حساس طبیعت پر گراں گزرتا تھا۔ ”جی۔۔۔آپ نے ابھی تک مجھے فائل تیار کرکے کیوں نہیں دی مس آبرو۔۔۔؟؟؟یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اس وقت کتنی اہم ہے میرے لیے۔۔۔۔“ اس کا جھکا ہوا چہرہ دیکھتے ہوئے وہ کچھ سخت انداز میں گویا ہوا۔۔ تو بھاری لب و لہجہ سنتی وہ بے اختیار اسکی سرد نگاہوں میں دیکھنے پر مجبور ہوئی۔
”سر بس کچھ وقت اور۔۔۔پھر فائل آپکے ٹیبل پر موجود ہوگی۔۔۔“ گڑبڑا کر بولتی وہ تسلی کرواتے لہجے میں بولی۔
”آپکو یہ اچھے سے جان لینا چاہیے کہ مجھے۔۔۔ میرے کسی بھی کام میں دیری پسند نہیں ہے۔۔۔بالکل بھی۔۔۔“ اس کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوتا اب کی بار وہ قدرے نرم لہجے میں بولا تھا۔
جواباً اپنے باس کے پل پل بدلتے روپ پر وہ الجھ کررہ گئی۔
”سوری سر۔۔۔۔آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔آگے سے میں پوری احتیاط کروں گی۔۔۔“ اس پراجیکٹ کے متعلق۔۔فائل کی اہمیت کا اسے بھی بخوبی اندازہ تھا، جبھی بآسانی اپنی غلطی تسلیم کرتی ہوئی وہ اُس سے معذرت کرگئی۔ پل بھرکو انگوٹھے تلے کنپٹی کھجاتے۔۔شاہ نے گہرا سانس بھرا۔ بھوری نگاہیں ہنوز اسکی کے چہرے پر جمی تھیں۔
”اگر آپ احتیاط کرنے کی بجائے پورا دھیان دیں گی تو یہ ذیادہ بہتر رہے گا آپکے لیے۔۔ہہمم۔۔۔۔؟؟“ شاہ کو اُسکے پنکھڑی لبوں سے نکلتا لفظ ”احتیاط“ کچھ خاص بھایا نہیں تھا۔۔ جبھی معنی خیز انداز میں بولتا ہوا وہ اسے شدت سے چونکنے پر مجبور کرگیا۔
”ا۔۔اب میں جاؤں سر۔۔۔۔۔؟؟؟“ اس کی ابھرتی مسکراہٹ سمیت بولتی نظروں سے خائف ہوتی آبرو بےچین سی ہوکر وہاں سے جانے کے لیے پرتولنے لگی۔۔۔تو شاہ کی مدھم مسکراہٹ اُسکے تقاضے پر سمٹتی چلی گئی۔
وہ ان گزرتے چند دنوں میں حقیقتاً یہ نہیں سمجھ پایا تھا کہ۔۔۔ آیا اس کا یہ بےکار سا گریز اکڑ کی علامت تھا۔۔۔؟؟یا فطری عادت۔۔۔؟؟؟ ”ہممم۔۔۔۔شیور۔۔۔۔“ پل بھر کے توقف سے بولتا وہ کچھ برہمی سے اپنی نظریں پھیر گیا۔۔ تو گھبراہٹ میں اپنی انگلیاں چٹخاتی آبرو۔۔۔بنا کوئی لمحہ ضائع کیے پلٹ کر روم سے باہر نکلتی چلی گئی۔
پیچھے۔۔۔وہ سیٹ پر سر ٹکاتا بےبس سا مٹھیاں بھینچ کررہ گیا۔
💞💞💞💞💞💞
