Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11


منہ پھلائے دوسری لڑکیوں کی طرح کالج کا گیٹ سرعت سے عبور کرتی باہر نکلی۔ہاتھ میں پکڑا فولڈر اُسکی شدیدگرفت میں اپنی رہائی کی دہائیاں مانگتا بےبس ہورہا تھا۔ آج کلاس میں لو مارکس آنے پر اُسے ٹیچر سمیت بہت سوں کی باتوں اور بےیقین نظروں کا نشانہ بننا پڑا تھا۔
اور سب سے بڑھ کر اُسے اِس مشکل وقت میں تسلیاں دینے والی واحد ہستی آج خود چھٹی پر تھی۔ اِس دغا پر بھوری آنکھوں میں پھر سے پانی بھرنے لگا۔ ضبط سے سوچتی وہ اپنی ہی دُھن میں کچھ فاصلے پر کھڑی وین کی جانب قدم اٹھارہی تھی جب کوئی شناسا سی نرم آواز اپنی پشت سے سنائی دیتی اُسے چونکا گئی۔
”کہاں باربی ڈول۔۔۔؟؟؟میں اِدھر کھڑا ہوں۔۔۔۔“ بختی بولتا ہوا سرعت سے اُسکے سامنے آیا تو وہ پل بھرکو بوکھلاتی سختی سے لب بھینچ گئی۔ تو یعنی سچ میں آج کا دن اُسکے لیے برا ثابت ہوا تھا۔۔۔۔
”مجھے آپکے ساتھ نہیں جانا۔۔۔۔میری وین میرے انتظار میں کھڑی ہے میں اُس میں چلی جاؤں گی۔۔۔۔“ قدرے رکھائی سے گویا ہوتے ہوئے حاویہ نے اُسکے سامنے سے ہٹنے کا انتظار کیے بغیر ہی سائیڈ سے نکلنا چاہا جب وہ پُھرتی سے اُسکی راہ میں حائل ہوگیا۔
”میں وین والے کو پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ تمھیں گھر تک میں خود ڈراپ کردوں گا۔۔۔۔اسی لیے ذیادہ سردرد لینے کی ضرورت نہیں ہے تمھیں۔۔۔“ اُسکی سانولی رنگت میں گھلتی ہلکی ہلکی سرخائی کو شدت سے دیکھتا وہ سنجیدگی سے بولا۔
”میں نے کہا ناں کہ میں آپکے ساتھ نہیں جاؤں گی۔۔۔۔“ آتے جاتے لوگوں کی طرف ایک سرسری نگاہ ڈالتی وہ بمشکل خود کو نارمل رکھے دھیمی آواز میں احتجاجاً بولی۔
”کیوں۔۔۔کھاجاؤں گا میں تمھیں۔۔۔۔؟؟؟یار تم اتنا ڈرتی کیوں ہو مجھ سے۔۔۔۔مانتا ہوں ڈرتے ہوئے تم بہت کیوٹ لگتی ہو مجھے لیکن میں تم سے اتنا پیار بھی تو کرتا ہوں۔۔۔پر پھربھی تم۔۔۔۔چچ۔۔۔۔خیرچھوڑو یہ سب بحث اور جلدی سے گاڑی میں بیٹھو۔۔۔۔۔“ دانت پیس کر پٹر پٹر بولتا اگلے ہی پل وہ بنا ہچکچائے اُسکی کلائی تھام گیا۔
”آپ پبلک پلیس میں میرے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتے۔۔۔۔چھوڑیں میرا ہاتھ۔۔۔۔مجھے نہیں جانا۔۔۔۔“ بختی کی سرعام جرات پر جہاں وہ حیران ہوتی کھل کے مزاحمت بھی نہیں کرپائی تھی وہیں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر الجھن زدہ نظروں سے یہ منظردیکھتا عائل کچھ متفکر سا ہوا۔
”گرمی پہلے ہی بہت ہے اوپر سے تم نہ نہ کرکے میرا دماغ مزید گرم مت کرو باربی ڈول۔۔۔۔چپ کرکے بیٹھو یہاں پر۔۔۔۔اور خالہ کو معلوم ہے کہ تم میرے ساتھ ہو۔۔۔۔فکر نہیں کرو آئسکریم کھلاکر تمھیں گھرچھوڑدوں گا۔۔۔۔“ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر حاویہ کو آرام سے بیٹھاتا وہ گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ کی طرف آیا۔
انداز ایسا تھا کہ کوئی بھی یہ نہیں بول سکتا تھا کہ وہ حاویہ کے ساتھ واقعی میں کوئی زبردستی کررہا ہے۔ کچھ ہی لمحوں میں پرانے ماڈل کی کار عائل کی بڑی گاڑی کے پاس سے گزرتی بےپرواہ سی آگے بڑھ گئی جبکہ وہ اندر ہی اندر بے سکون ہوتا اسٹیرنگ پر اپنی پکڑ مزید سخت کرگیا۔
حاویہ کے معصوم چہرے کا اطمینان سوچتے ہوئے اُسکی آنکھوں کے سرخ ڈورے گہرے ہوئے تھے۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
”میں ماما کو سب کچھ بتادوں گی آپکے بارے میں۔۔۔۔“ اپنے خشک لبوں پر زبان پھیرتی وہ بےچین سی سڑک پر نظریں جمائے پہلی بار بختی کو کھلے عام دھمکی دے گئی تھی۔
”کیا بتاؤ گی میرے بارے میں۔۔۔۔۔؟؟؟“ بےاختیار اُسکے کشادہ ماتھے پر بل پڑے۔
”یہی کہ آپ مجھے بار بار ہراساں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔“ گود میں رکھے بیگ پر اپنی گرفت سخت کرتی وہ بڑی ہمت سے بختی کی دکھتی رگ پر پاؤں جما چکی تھی جب اگلے ہی پل گاڑی ایک جھٹکے سے رکی۔ ”اگرتم نے ایسی حماقت کرنے کی کوشش بھی کری تو میں تمھیں جان سے ماردوں گا۔۔۔۔سمجھی۔۔۔۔“ حاویہ کو کندھوں سے تھام کر اپنی جانب کھینچتا وہ چبا چبا کر بولا تو وہ سارے دن کی پریشان حال ضبط کھوتی پھوٹ پھوٹ کر روپڑی۔
”رونا بندکرو اپنا۔۔۔۔“ اُسکے بھیگتے گالوں سے نظریں ہٹاتا وہ اُسے اپنی سخت گرفت سے آزاد کرگیا۔ البتہ لہجہ ابھی بھی سختی لیے ہوئے تھا۔
”میں آپکی پولیس میں کمپلین کردوں گی۔۔۔۔“ بےبسی سے چیخ کر بولتے ہوئے اُسکا دماغ پھٹنے لگا تھا۔
جانے کیوں اُسے اِس پل عائل کی شدت سے یاد آئی تھی جو ہر مشکل میں اُسکے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔۔۔۔لیکن اب بدقسمتی کہیں بھی نہیں تھا۔ عائل کی کچھ دیر پہلے کی موجودگی سے قطعی بے خبر جہاں حاویہ کے آنسوؤں میں روانی آئی تھی وہیں اُسکی معصوم سی دھمکی پر بختی کا حلق سے نکلتا قہقہ بے ساختہ تھا۔ حاویہ نے نفرت سے اُسکی جانب دیکھا۔
”شوق سے کردینا جانم۔۔۔۔لیکن پہلے میری دسترس میں تو آجاؤ۔۔۔۔میں سوچ رہا ہوں کہ مناسب موقع دیکھ کر خالہ سے ہماری شادی کی بات کرہی ڈالوں۔۔۔۔ورنہ جس طرح کی تمھاری عادتیں ہوگئی ہیں ناں۔۔مجھے تو فکرہی لگ گئی ہے۔۔۔۔“ حاویہ کو اپنے ارادوں کی بابت آگاہ کرتا وہ اُسے زہر ہی تو لگا تھا۔اس پل اُسکا دل شدت سے چاہا تھا اُسکے لبوں کی اذیت دیتی مسکراہٹ نوچ لینے کو۔
”میں مرجاؤں گی لیکن تم جیسے گھٹیا انسان سے شادی کرکے اپنی زندگی برباد نہیں ہونے دوں گی۔۔۔۔سنا تم نے۔۔۔“ دل میں چیختی وہ بےبس سی شیشے کی جانب چہرہ موڑگئی۔
جبکہ بختی اُسکی بلاوجہ کی برہمی محسوس کرتا تاسف سے سرہلاکررہ گیا۔
💞💞💞💞💞💞
سموک کلر کے تھری پیس سوٹ میں لبوں سے پھوٹتی دلکش مسکراہٹ سمیت وہ اس پل اپنی ماں کی پیاسی آنکھوں کا تارا بنا بیٹھا تھا۔
”اللہ تیرا شکر ہے جو آج میرا بیٹا۔۔۔میرے دل کا ٹکڑا میری آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔۔۔۔آنکھیں ترس گئی تھیں میری تمھاری ایک جھلک دیکھنے کو۔۔۔۔“ وہ کافی دیر بعد شاہ کو اپنے روبرو دیکھ کر جذباتی ہوتی رو پڑی تھیں۔
”موم۔۔۔۔یار میں آپ سے ملنے آ تو گیا ہوں۔۔۔۔اب آپ یوں آنسو بہاکر کیوں میرا یہاں رہنا مشکل بنارہی ہیں۔۔۔؟؟؟“ ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے ذرا بےزاری سے بولتا وہ ایک ہی نگاہ میں پورے ہال کا جائزہ لے چکا تھا۔ شاہ کی والدہ محترمہ نے اپنی عادت کے مطابق اِس بار بھی حسن پیلس کی سیٹنگ چینج کروادی تھی۔گوکہ ہرشے قابل ستائش تھی لیکن یہ بھی حقیقت ہی تھی جو اِن چیزوں کی طرح یہاں کے رہنے والے مکین بھی بدل گئے تھے۔
سوائے اُسکی ایک ماں کو چھوڑ کر جو ہر وقت اُسکی فکر میں گھلتی رہتی تھیں۔ لیکن فقط اتنی سی اہمیت اُسکی ذات اور انا کی تسکین کے لیے کافی نہیں تھی۔ ”کیوں دور چلے گئے ہو ہم سب سے۔۔۔۔دل نہیں کٹتا تمھارا اس طرح۔۔۔واپس یہی آجاؤ ناں ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔تمھارا گھرتمھارے سب اپنے یہاں پر ہیں۔۔۔۔وہاں کیا رکھا ہے۔۔۔۔؟؟“ اُسکی بیزاری کی پرواہ کیے بغیر وہ شاہ کی دوری کو شدت سے کوستی اب بھی آنسو بہائے جارہی تھیں۔
”بزنس۔۔۔۔۔۔“ مضبوط لہجے میں یک لفظی جواب دیتا وہ اُنھیں پل بھرکو خاموش کرواگیا تھا۔ جب یکدم اُسکی نظریں سامنے سے آتی اُس لڑکی پر پڑیں۔ اُسے دیکھ کر جہاں شاہ کے چہرے پر شدید ناگواری چھائی تھی وہیں پیلے رنگ کپڑوں میں مقابل کا وجود پل بھرکو ساکت ہوتا شعلوں کی زد میں آگیا۔ ضبط کے مارے ہاتھوں میں تھاما ٹرے چائے سمیت لرزہ تھا جو وہ کسی اجنبی مہمان کے لیے خود اپنے ہاتھوں سے بناکرلائی تھی۔
لیکن یہاں تو مہمان کی بجائے اُسے اپنے حریف کا کھٹکتا وجود دیکھنے کو ملا تھا جسکی بےلحاظ گہری نگاہوں نے اُسکے تن بدن میں آگ سی بھردی تھی۔ مسزحسن بھی جھٹ سے اپنے بھیگے رخسار صاف کرتی قدرے محتاط ہوئی تھیں۔ اگلے ہی پل وہ اپنے دل میں شدت سے ابھرتی خواہش کو دبائے بنا شاہ کے قریب آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے گرم چائے کا کپ بڑی بےخوفی سے اُسکے قیمتی سوٹ پر اُنڈیل دیا۔
”واٹ دی ہیل از دِس۔۔۔۔؟؟؟“ بری طرح بوکھلاتا وہ جھٹکے سے صوفے سے اُٹھتا چیخا تو وہ جواب میں پیچھے ہٹتی جلادینے والے انداز میں مسکرائی۔ مسز حسن ساکت سی آنکھیں پھاڑے اپنی بڑی بہو کی جرات پر دنگ ہی تو رہ گئی تھیں۔
”تمھاری اوقات۔۔۔۔۔۔یہ ہے تمھاری اوقات۔۔۔۔“ کرخت لہجے میں بولتی وہ اُسکی عزت دو کوڑی کی بناگئی جبکہ شاہ اپنے اندر شدت سے امڈتے اشتعال کو بمشکل دباتا اُس نڈر لڑکی کو دیکھ کررہ گیا جو بدقسمتی سے اُسکی بھابی کے درجے پر فائز ہوچکی تھی۔ چائے کی گرماہٹ سے ذیادہ اُس کا حقارت بھرا لہجہ شاہ کے ابھرے سینے کو تپا گیا تھا۔
”بہت پر پُرزے نکل آئے ہیں ناں تمھارے۔۔۔۔صبرکرو ذرا۔۔۔۔آلینے دو آج میرے بیٹے کو۔۔۔۔اِن پروں سمیت تمھاری گزبھرلمبی زبان نہ کٹوادی تو کہنا۔۔۔۔“ مسزحسن نے اُسے سخت چتونوں سے گھورتے ہوئے کھلے عام دھمکی دی تو وہ اُنکے چیلنچنگ انداز پر آئی برو اچکاگئی۔
”یہ بھی کرکے دیکھ لیں۔۔۔۔میں بھی دیکھنا چاہتی ہوں کہ آپ اپنے اِس لاڈلے کی خاطر کس حد تک گرتی ہیں۔۔۔۔“ سینے پر بازولپٹتی وہ سردمہری سے گویا ہوئی جب شاہ اُسکی کھلی بدتمیزی پر اپنے آپے سے باہر ہوگیا۔ ”یوبلڈی۔۔۔۔۔باس۔۔۔۔“ سلگتی نظروں سے اُسکی جانب دو قدم بڑھاتا وہ غرایا جب وہ کڑے تیوروں سے وارن کرتی اُسے بیچ میں ہی ٹوک گئی۔ ”خبردار۔۔۔۔گالی مت دینا۔۔۔۔مجھے گالی مت دینا نہیں تو یہ ناپاک زبان کاٹ کے تمھارے ہاتھ میں پکڑادوں گی میں۔۔۔۔سمجھے۔۔۔۔“ بھیگی آنکھوں سمیت شہادت کی انگلی اُسکی جانب اٹھاتی وہ تڑخ کر بولی تو وہ اُسکے جلالی روپ کے آگے پل بھرکو تھم سا گیا۔
شدتِ جذبات سے اُسکا انگ انگ کانپ رہا تھا۔ ”اِس سے پہلے کہ تم پر میرا ہاتھ اُٹھ جائے۔۔۔اپنی منحوس شکل لے کر دفع ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔۔“ غصے سے بپھرے شاہ کو سائیڈ پر کرتی مسز حسن نفرت سے اُسکی جانب دیکھتی چلائیں۔
گہری سانسوں کے بیچ دونوں کی جانب دھندلائی نظروں سے دیکھتی وہ اگلے ہی پل پیرپٹخ کر اپنے کمرے کی جانب تقریباً بھاگتی ہوئی لپکی۔
آخری سیڑھی سے اُسے اوجھل ہوتا دیکھ شاہ نے اپنی لہورنگ نظروں کو اپنی ماں کی طرف پھیرا جو اُس سے نظریں بچانے کو اب ملازمہ کو فرسٹ ایڈ باکس لانے کے لیے اونچا اونچا پکاررہی تھیں۔
”یہ۔۔۔۔یہ دیکھا آپ نے۔۔۔۔اپنے ہی گھر میں مجھے کتوں کی طرح ذلیل کیا جارہا ہے اور آپ بول رہی ہیں کہ میں یہاں آجاؤں ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔سریسلی موم۔۔۔۔۔؟؟؟“ ذرا سا اُنکی جانب جھک کر اپنے داغ شدہ کوٹ کو زور سے جھٹکتا وہ سرتاپیر شکوہ کناں ہوا۔
”چچ۔۔۔ بیٹاتم۔۔۔تم اس بات کو ذیادہ ایشو مت بناؤ۔۔۔۔وہ لڑکی اِسی طرح منہ پھاڑ کربدزبانی کرتی ہے۔۔۔۔جبھی تو اس گھراور اپنے شوہر کے دل میں اپنا کوئی خاص مقام نہیں بناپائی ابھی تک۔۔۔۔“ اُسے ٹھنڈا کرنے کی ناکام کوشش کرتی وہ گڑبڑاگئیں تو اِس پُھس دلیل پر وہ زور سے سرجھٹک گیا۔
”دل تو کررہا ہے اِس چھٹانک بھر کی لڑکی کو ابھی اٹھا کر گھر سے باہر پٹخ دوں لیکن صرف آپکے اُس ضدی بیٹے کی وجہ سے خاموش ہوں جسکی بدولت آج ہم سب اِس حال کو پہنچ گئے ہیں۔۔۔۔“ ضبط سے بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ اپنی دلی خواہش سمیت بےبسی کا اظہارکرگیا تو مسزحسن سرد آہ بھرکررہ گئیں اور ساتھ ہی رُخ موڑ کر پھر سے ملازمہ کو آواز لگائی جو جانے کہاں مرگئی تھیں۔۔۔ جبکہ اتنی ذلت کے بعد شاہ کی انا اُسے مزید یہاں پر رکنے سے منع کررہی تھی اور شاید وہ اپنا جلتا سینہ مسلتے ہوئے یہاں سے جانے کا سوچ بھی چکا تھا۔
💞💞💞💞💞💞
وہ گزشتہ روز کی طرح آج بھی خالی کلاس میں گم صم سی بیٹھی سامنے بورڈ کو بےوجہ تکتی کسی غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی۔چشمے کے پار گہری سیاہ آنکھوں میں گھلی گلابیت اُسکے ضبط کا پتا دے رہی تھی۔
”حرمین۔۔۔۔۔“ تحمل سے پکارے جانے پر اُسنے چونک کر علیزہ کی جانب دیکھا۔
”مت کرو خود کے ساتھ ایسا یار۔۔۔۔یہ تم کس راہ پر نکل پڑی ہو۔۔۔۔؟؟؟پہلے تو تم ایسی نہیں تھی۔۔۔۔“ اُسکی بکھری حالت پر گہری نگاہ ڈالتی وہ قدرے تاسف سے گویا ہوئی۔ دو دن ہوچکے تھے اُسے شام کے ہاتھوں بری طرح اگنور ہوتے ہوئے۔ اور اِن دو دنوں میں وہ بالکل ہی مرجھاکررہ گئی تھی۔
سب کے سامنے مضبوط بنتی وہ اُسکے سامنے بکھرجاتی تھی۔
”پہلے میری زندگی میں شام بھی تو نہیں تھا۔۔۔۔۔“ دھڑلے سے اُسکی اہمیت کا اعتراف کرتی وہ زخمی سا مسکرائی تو بے اختیار علیزہ کی پیشانی پر تیوری چڑھی۔
”مت بھولو کہ اب تمھاری زندگی میں ذباب احمد کا وجود بھی شامل ہوچکا ہے۔۔۔۔تمھارا حال اور مستقبل۔۔۔جسے نظرانداز کرکے تم اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کررہی ہو حرمین۔۔۔۔ہوش کے ناخن لو یار۔۔۔۔یہ صحیح نہیں ہے۔۔۔۔“ برہمی سے بولتی وہ اُسے شدت سے صحیح غلط کا احساس دلانا چاہ رہی تھی لیکن شاید وہ یہ نقصان مول لینے کے لیے دلی طور پر آمادہ ہوچکی تھی جبھی تو کوئی بھی بات اُس پر اپنا اثر نہیں ڈال رہی رہی تھی۔
”کیا کروں۔۔۔۔؟؟دل کا معاملہ ہے جو کسی بھی منطق کو نہیں مانتا۔۔۔۔خدا قسم اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔۔یہ جو بھی کیا دھڑا ہے ناں۔۔۔ صرف اِس دل کا ہے۔۔۔۔یہی تو ہے جو مجھے اُسکی یادوں کے حصار سے باہرنہیں نکلنے کی اجازت نہیں دیتا۔۔۔۔“ دل کے مقام کو بارہا انگلیوں سے چھوتی وہ بےبسی سے گویا ہوئی تو علیزہ اُسے دیکھتی رہ گئی۔ فقط پڑھائی لکھائی کی باتیں کرنے والی وہ ٹاپر لڑکی آج نم آنکھوں سے عشق محبت کا حوالہ دیتی اُس کا منہ بندکرگئی تھی۔
جبھی اُن دونوں کی سماعتوں سے کلاس کے باہر کسی کی بھاری دلکش آواز ٹکرائی تو جہاں علیزہ نے نخوت سے سرجھٹکا وہیں حرمین کی دھڑکنیں بےاختیار تیز ہوئیں۔
اگلے ہی پل وہ بینچ سے اٹھتی باہر کی جانب بھاگی تھی۔ پیچھے علیزہ اُسکی اس قدر عجلت پر تاسف سے سر ہلاکررہ گئی۔ وہ دشمنِ جاں اُسے خالی کوریڈور سے دائیں جانب مڑتے غائب ہوتا نظر آیا تو وہ بھی سرعت سے اُسکے پیچھے لپکی۔
”شام۔۔۔۔۔۔“ حرمین نے تڑپ کر اُسے پکارا۔ ماتھے پر تیوری چڑھائے اُسنے بڑی دقت سے پلٹ کر اُسے دیکھا جو اب تیز تیز قدم اٹھاتی اُسی کی جانب آ رہی تھی۔
” کیا ہوا ہے تمھیں۔۔۔۔؟؟اس طرح بی ہیو کیوں کررہے ہو تم میرے ساتھ۔۔۔۔؟؟“ گہری سانسوں کے بیچ اُسکا مکمل رُخ اپنی جانب موڑتی وہ مقابل کی خفگی کی وجہ جاننے کے لیے حددرجہ بےتاب ہوئی۔ تبھی وہ اپنے کسرتی بازوؤں سے اُسکے نازک ہاتھ جھٹک گیا جو اُسکے اس طرح خود سے قریب آنے پر ہولے ہولے لرزرہے تھے۔
”یہ کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟ذرا ایکسپلین کروگی مجھے۔۔۔؟؟“ اگلے ہی پل اُسکی کلائی کو اپنی سخت گرفت میں لیتا وہ گولڈ رِنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سردمہری سے گویا ہوا۔ اُسکے کڑے سوال پر شدت سے دھڑکتے دل سمیت وہ اپنی جگہ چور بنتی بمشکل اُسکی گرفت سے اپنی کلائی چھڑواگئی۔ ساتھ ہی اپنی منگنی کی نفیس سی رِنگ کو دوپٹے تلے چھپانے کی اپنی سی کوشش کی گئی تھی جسے دیکھ کر شام کی نظروں میں تمسخر پھیلا۔
مقابل کا اکھڑ لب و لہجہ مزید برداشت نہ کرتے ہوئے حرمین کی آنکھیں تیزی سے بھیگی تھیں۔
”میری روح سمیت دل کو پل پل زخمی کررہی ہو اور چاہتی ہوکہ تم سے کھل کر خفا بھی نہیں ہوں میں۔۔۔۔یہ ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے حرمین۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکے سانولے گالوں پر لڑھکتے آنسو دیکھتا وہ تھوڑے نرم لہجے میں شکوہ کرگیا۔ البتہ پل پل بھیگتے گالوں کو صاف کرنے کی زحمت ابھی بھی نہیں کی گئی تھی۔ شام کے اس قدر کھلے اظہار پر حرمین کی دھڑکنیں پل بھرکو تھمی تھیں۔
مقابل کا دبے لفظوں میں کیاگیا یہ اظہار ایسا تھا کہ جس میں لفظ محبت کا دور دور تک کوئی نام و نشان ہی نہیں تھا۔
لیکن اُسے کوئی پرواہ ہی کب تھی۔۔۔۔
”تو اب کیا کروں میں۔۔۔۔؟؟؟“ ہاتھ کی پشت سے اپنے گال رگڑتی وہ الٹا سوال کرگئی۔لہجے میں اس لمحے بےبسی ہی بے بسی تھی۔ اُسکے یوں استفسار کرنے پر شام کو کمینی سی خوشی ملی تھی۔ بھوری آنکھوں میں گہری چمک سموئے وہ اِس بار اُسکے دونوں ہاتھ نرمی سے تھام گیا۔
”اپنے دل کی سنو۔۔۔۔جو وہ کرنے کو کہہ رہا ہے بس وہی کرو۔۔۔۔بلیومی میں ایسی ہزار رِنگز تم پر وار دینے کو تیار ہوں۔۔۔۔پر پلیز اس رِنگ کو اپنے ہاتھ کی زینت بناکر مجھے مت تڑپاؤ۔۔۔۔اسکے ساتھ جڑی وجہ جان کر میرے دل کو بڑی تکلیف ہوتی ہے یار۔۔۔“ دلنشین لہجے میں اُسے نئی راہ دیکھاتا آخر میں وہ رنگ پر ضبط بھری نظر ڈالتے ہی تنفر سے منہ پھیر گیا جبکہ وہ لب بھینچے اپنے دل کی دھڑکنوں کا بڑھتا شور سنتی اُسکے لہجے کی تڑپ دیکھ کر رہ گئی۔
💞💞💞💞💞💞
وہ شور سن کر حیران سی باہر کی جانب بھاگی تھی جہاں وہ گارڈز کے ساتھ بری طرح الجھتا زبان کے ساتھ ساتھ ہاتھ پیر بھی چلارہا تھا۔ آج اتنے دنوں بعد اُسے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتی وہ شدتوں سے دھڑکتے دل کے ساتھ بےاختیار پلر کو تھام گئی۔
اُسکے پیچھے ہی چند لڑکیاں بھی نکلتی آنکھوں میں اشتیاق سموئے رابی کے لیے سالار خان کی دیوانگی دیکھ رہی تھیں۔ ملگجا حلیہ،پھٹا گریبان،بکھرے بال اور لہورنگ آنکھوں کی طرح ہونٹ سے نکلتا لہو۔۔۔وہ اس وقت حقیقتاً قابلِ رحم لگ رہا تھا۔
”میں نے کہا چھوڑو مجھے۔۔۔۔مجھے میری رابی سے ملنا ہے۔۔۔ہرقیمت پر ملنا ہے۔۔۔کیوں مجھ سے الجھ کر اپنی جان کے دشمن بننا چاہتے ہو۔۔۔۔مجھے اچھے سے پتا ہے کہ تمھیں تمھاری بڑی میم نے میری راہ میں رکاوٹ بنا کر حائل کیا ہے۔۔۔۔“ سلگ کر بولتا وہ اپنے مدِمقابل سینہ تان کر کھڑے گارڈ کو پوری قوت سے دھکا دے گیا۔
”ہمیں بڑی میم نے نہیں بلکہ رابی میم نے روکا ہے۔۔۔ہمیں اُنکے سختی سے آڈرز ملے ہیں کہ اگر سالارخان یہاں آنے کی زبردستی جرات کرے تو اُسے دھکے مارکر یہاں سے باہرنکال دیا جائے۔۔۔“ اُس گارڈ نے اُسکا پھٹا گریبان پکڑ کر مضبوط لہجے میں صفائی دیتے ہوئے جوابی کاروائی میں ایک زور کا پنچ مارا تو وہ کچھ حیران سا دو قدم پیچھے کو لڑھکا۔
اگلے ہی پل اُسکی نظریں خود کی جانب بھیگتی نگاہوں سے تکتی رابی پرپڑی تھیں۔
”رابی۔۔۔رابی۔۔۔بس ایک بار مجھ سے بات کرلو۔۔۔اِن سے بولو کہ مجھے اندر آنے دیں۔۔۔۔آئی پرامس میں تمھاری ساری ناراضگی دورکردوں گا۔۔۔۔“ وہ پُرجوش سا چلاتا بےاختیار آگے کو لپکا تھا جب گارڈز نے اُسکے چورے سینے پر بازو لپٹتے اُسے پھر سے پیچھے دھکا دیا۔
اس بار وہ نرم گھاس پر زمین بوس ہوا تھا۔
”آنے دو اسے۔۔۔۔“ اپنا لہجہ سپاٹ بناتی وہ سالار خان کو دلکشی سے مسکرانے پر مجبور کرگئی۔ دور سے یہ سب دیکھتی تابین بائی نے رابی کی بات پر افسوس کرتے سالار خان کو نفرت بھری نظروں سے دیکھا تھا۔ ”جاؤ۔۔۔۔۔“ یک لفظی حکم دیتے گارڈز ایکدم سے اُسکا راستہ صاف کرگئے تو وہ بھی اطراف سے بےبہرہ تیزی سے فاصلہ مانپتا رابی کی جانب لپکا۔ اتنے دنوں بعد اُسکا ضبط سے تمتماتا سرخ چہرہ قدرے قریب سے دیکھتا وہ جیسے سکون میں آگیا تھا۔اس پر تضاد اُسکی غضب ڈھاتی قاتل نگاہیں۔۔۔۔اُسے حقیقتاً اپنا دل لوٹتا ہوا محسوس ہوا۔
”میں نے تمھیں بہت یاد کیا رابی۔۔۔۔پل پل یاد کیا۔۔۔۔تمھاری ناراضگی نے مجھے چین ہی کب لینے دیا ہے۔۔۔۔تم نے بھی مجھے یاد کیا ناں۔۔۔۔؟؟“ رابی کے مومی ہاتھوں کو نرمی سے تھامتا منانے کی پہلی کوشش میں وہ بےتاب سا پوچھنے لگا۔
”یہاں کس مقصد سے آئے ہو سالار خان۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکے سوال کو یکسرفراموش کرتی وہ خود سوال داغ گئی تو وہ بےاختیار مسکرایا۔
”میرا تو ایک ہی مقصد باقی رہ گیا ہے جسے اب صرف تمہی پورا کرسکتی ہو۔۔۔۔“ اپنی گرفت کا دباؤ مزید بڑھاتا وہ پُرامیدسا گویا ہوا تو وہ ٹھٹکی۔ ” کیسا مقصد۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکے نازک ہاتھ ہنوز اُسکی مضبوط پکڑ میں تھے۔
”مجھ سے شادی کرلو رابی۔۔۔۔میں وعدہ کرتا ہوں تمھیں ہرخوشی دوں گا۔۔۔دل و جان سے بھی عزیز رکھوں گا۔۔۔۔تمھارا ہر گلہ شکوہ مٹا دوں گا۔۔۔۔بس میرے عشق کو کامل کردو۔۔۔۔مجھ سے ایک پاکیزہ بندھن میں بندھ کر میرے وجود کو کامل کردو۔۔۔۔بخدا میری ذات پہ کیاگیا تمھارا یہ احسان میں زندگی بھرنہیں بھولوں گا۔۔۔۔“ وہ دیوانہ وار بولتا رابی کو کوئی پاگل مجنوں ہی لگا تھا۔
جہاں تابین بائی نے شدید غصے میں پہلو بدلا تھا وہیں دوسری لڑکیاں دانتوں میں انگلیاں دبا کر رہ گئیں۔ بالآخر دل دلگی کا انجام وہی ہوا تھا جس سے وہ ڈرتی تھی۔۔۔۔ نوبت شادی تک آپہنچی تھی۔۔۔۔ نتیجتاً وہ غم و غصے کی کیفیت میں سختی سے اُسکے ہاتھ جھٹک گئی تو وہ بھی جیسے کسی ٹرانس سے باہر نکلا۔
”میری زندگی صرف تمھارے مقصد تک محدود نہیں ہےسالار خان۔۔۔میرے خود کے بھی کچھ مقصد ہیں جن پر میری پوری زندگی ٹکی ہے۔۔۔۔تمھارا یہ مقصد ایک ایسے سراب کی مانند ہے جسکے پیچھے مسلسل بھاگتے رہنے سے بھی تم اسے کبھی پا نہیں سکو گے۔۔۔ہاں البتہ پیاسے سسک سسک کر ضرور مرجاؤگے۔۔۔۔میری صلاح مانو تو ایسے جان لیوا شوق سے پیچھاچھڑالوسالار خان۔۔۔۔واللہ سکون میں آجاؤگے۔۔۔۔“ دل کی دہائیوں کو جبراً اندر ہی کہیں دفن کرتی وہ نم پڑتی آنکھوں سمیت قدرے تلخی سے گویا ہوئی تو وہ ضبط کی آخری حدوں کو چھوتا قدرے نرمی سے اُسکے ہاتھ دوبارہ تھام گیا۔
مقابل کی خود کے لیے یہ دیوانگی دیکھ کر رابی کو اُس سے ذیادہ اپنے آپ پر غصہ آیا تھا جس کی وجہ سے اُسکی زندگی میں حقیقتاً بہت سے کانٹے بچھ سکتے تھے۔
”میرا یہ شوق جانلیوا ہی سہی۔۔۔پر تمھارے بغیر سکون ملنا ممکن نہیں ہے۔۔۔۔“ دل کی کیفیت بیان کرتا وہ رابی کو انتہا کا ڈھیٹ لگا تھا۔
”اور میں تمھیں مل جاؤں۔۔۔یہ بھی ممکن نہیں ہے۔۔۔۔“ مشتعل سی دوبدوجواب دیتی وہ اُسے پل پل ٹوٹنے پر مجبورکررہی تھی۔ اب کہ تابین بائی بھی خود پر سے ضبط کھوتی دہلیز پھلانک کر باہرلان میں نکل آئی تھیں۔رابی پر لاکھ یقین ہونے کے باوجود بھی دل میں بےنام سا خدشہ سراٹھانے لگا تھا۔ کہ تبھی سالار خان کی اگلی حرکت پر رابی سمیت تقریباً سبھی گہرا سانس بھرکررہ گئیں۔
وہ شخص جھکنا نہیں جانتا تھا پر اب وہ فقط اپنی محبت جیتنے کی خاطرآخری داؤ آزماتا یہ کڑوا گھونٹ بھی پی گیا تھا۔
”تمھارے بغیر جینے کا تصور کرنا میرے لیے خود کی سانسیں روک لینے کے مترادف ہے۔۔۔۔ میں مرجاؤں گا یار۔۔۔۔اور تم یہ بات اچھے سے جانتی ہو۔۔۔۔۔“ اُسکے سامنے گھٹنوں کے بل گرتا وہ اِس پل بےبسی کی انتہا پر تھا۔
”واللہ۔۔۔تم ہو یاں پھر میں۔۔۔اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔؟؟مرنا تو ہرکسی کو ہے۔۔۔۔موت ایسی تلخ حقیقیت ہے جس سے کوئی چاہ کر بھی انکار نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔“ ڈوبتے دل سمیت بھیگی نظروں کو پل بھر کے لیے چراتی وہ سنگدلی کی انتہا ہی تو کرگئی تھی۔ اُسنے چونک کر سراٹھاتے اُسکا بےتاثر چہرہ دیکھا۔
”مم۔۔۔میں سچ کہہ رہا ہوں رابی۔۔۔۔میں مرجاؤں گا تمھارے بغیر۔۔۔۔“ اندر لگی آگ کی پرواہ کیے بنا وہ بڑے ضبط سے بولتا اُسکی ضد اور دلیلوں کے سامنے ناچاہتے ہوئے بھی ہاررہا تھا۔
”میں بھی سچ ہی بیان کررہی ہوں۔۔۔اگر میں تمھاری زندگی میں رہی تو تم ویسے ہی جیتے جی مرجاؤگے۔۔۔ایک بدنام لڑکی کو زندگی بھرکے لیےسرکی عزت بناکر رکھناتم جیسے باکردار شخص کے بس کی بات نہیں ہے۔۔۔خدارا دور چلے جاؤ میری زندگی سے۔۔۔۔“ حقیقت کا کرارا طمانچہ اُسکے منہ پر جڑتی آخری لمحے پروہ بہتی آنکھوں سمیت ہاتھ جوڑگئی۔ وہ لب کھولے ساکت سا اُسے دیکھتا چلاگیا جو اب اپنے بھاری لفظوں کا مزید بوجھ اُس کے کمزور پڑتے وجود پر ڈال رہی تھی۔
”واللہ۔۔۔۔سالار خان۔۔۔۔اگر تم نے کبھی رتی بھر بھی مجھ سے محبت کی ہے تو اُسکے صدقے میں۔۔۔کبھی بھی واپس میری طرف لوٹ کر مت آنا۔۔۔۔ورنہ میں یہی سمجھوں گی کہ تمھیں بھی عام مردوں کی طرح میری روح سے ذیادہ میرے وجود کی چاہ تھی۔۔۔۔“ بول کر وہ رکی نہیں تھی بلکہ آنسوؤں سمیت اُسکی محبت کو بےمول کرتی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔ ہاں۔۔۔اُسے ہارا کر وہ وہاں سے جاچکی تھی۔ ایک تھکا ہوا آنسو اُسکے رخسار پر لڑھکتا بےمول ہوا تھا۔ تابین بائی نے ہوا میں سکون کا سانس خارج کرتے ہوئے ایک تمسخرانہ نگاہ ساکت بیٹھے سالار خان پر ڈالی اور اگلے ہی پل اپنی ساری کا پلو ایک ادا سے تھامتی وہاں کھڑی لڑکیوں کو اپنے سنگ لیتی حویلی کے اندر چلی گئیں۔
”مجھے رابی کی روح سے محبت ہے۔۔۔اُسکے وجود سے نہیں۔۔۔مجھے فقط رابی کی روح سے محبت ہے۔۔۔ہاں۔۔۔عشق ہے مجھے اُس سے۔۔۔۔“ دھندلاتی نگاہ سے سبز زمین کو دیکھتا وہ زیرِلب بڑبڑایا اور اگلے ہی پل شبنم کے قطروں سے نم گھاس پر ہتھیلیاں جماتا اپنے شکست خوردہ قدموں پر کھڑاہوگیا۔ محبت اور جنگ دونوں میں ہی اُسے گہری مات دی جاچکی تھی۔ ”گیٹ بندکرو۔۔۔۔مجنوں صاحب پر سوار عشق کا بھوت لیلیٰ میڈم نے اچھے سے اتاردیا ہے۔۔۔۔“ سالار خان کو صدمے کی حالت میں حدود پار کرتا دیکھ گارڈ نے طنز کیا تو دوسرے گارڈز بھی اُسکی بات پر دبادبا سا ہنس دئیے۔ جبکہ وہ اِن سب سے بےبہرہ اپنی گاڑی میں جانے کی بجائے پیدل ہی بےمنزل راہ پر نکل گیا۔۔۔
💞💞💞💞💞💞