Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14


💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
رات کے تیسرےپہر۔۔نیم اندھیرے کو توڑتی پیلے رنگ کی مدھم سی روشنی اس پل سناٹوں کی زد میں آئے اِس کمرے کی وحشت کو کم کرنے میں قدرے ناکام ٹھہررہی تھی جب اچانک لحاف میں لپٹے اُس نازک سے وجود میں گہری نیند کی وادیوں میں اترنے کے باوجود بھی ہولے سے جنبش ہوئی تھی۔بند آنکھوں میں سمائی سیاہ تاریکی دھیرے دھیرے حرکت کرتی اب ایک عجیب سے منظر میں ڈھلنے لگی تھی۔
ایک جانا پہچانا سا دھندلایا ہوا منظر۔۔۔بےبس سماعتوں سے ٹکراتی عجیب مگر شناسائی چیخیں۔۔۔اور اِن میں گھلے بےشناسا مردانہ قہقے۔۔۔
اسکی ہموار سانسوں میں بےچینی سی بھرنے لگی۔
اِن زور پکڑتی آوازوں کے سنگ اگلے ہی پل بندآنکھوں کے سامنے سب کچھ آئینے کی مانند صاف شفاف ہوا تھا۔
”وحشی ہو تم۔۔۔درندے ہو۔۔۔خدا۔۔خدا غارت کرے تمھیں۔۔۔۔ چھوڑومجھے۔۔۔۔“ دوپٹے سے محروم وہ عورت کسی زخمی چڑیا کی مانند اُس ظالم کی آہنی گرفت میں پھڑپھڑاتی خود کو چھڑوانے کی ناکام کوششوں میں ہلکان ہورہی تھی مگر وہ اُسکی سسکتی ہوئی بےبس آہوں سے بےبہرہ اُسے بےدردی سے خود کے ساتھ گھسیٹتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔
”نن۔۔نہیں۔۔۔۔“ آبرو کے لرزتے لب بے آواز پھڑپھڑائے۔اطراف میں پھیلی موسم کی پُرسکون ٹھنڈک کے باوجود بھی وحشت کے شدید احساس تلے وہ لمحہ بہ لمحہ پسینے میں بھیگنے لگی تھی۔نم ہوتی بند پلکوں پر اترتی کپکپاہٹ کے ساتھ ساتھ اُسکی دھڑکنوں میں بھی شدت کی تیزی آتی جارہی تھی۔
”مونسٹر انکل۔۔۔میری م۔۔مما کو چھوڑدو پلیز۔۔۔۔“ سامنے ہی نقاب پوش بھیڑیوں کے نرغے پھنسی دو پونیوں والی وہ چھوٹی سی بچی اپنی ماں کی ابتر حالت دیکھتی ہنوز بلک رہی تھی۔
مگر وہاں پرواہ کسے تھی۔۔۔
معاً بند دروازوں پر لات مارتے اُس شخص کی گھنی مونچھوں تلے سیاہ لب اپنی منزل قریب جان کر بےساختہ مسکرائے تھے۔۔جبکہ خود پر بیتنے والے قیامت خیز لمحوں کی بابت سوچ کر اُس عورت کا خون خشک پڑا۔
شدومد سے نفی میں سرہلاتی وہ خود کو رہائی دلوانے کی غرض سے بےاختیار اُسکے ہاتھ کی پشت پر جھپٹتی اپنے دانت گاڑ گئی جب اگلے ہی پل بھرپور شدت سے گال پر پڑتا تھپڑ اُسے زمین بوس ہونے پر مجبور کرگیا۔
”مم۔۔ا۔۔۔۔“ کڑکتی بجلی سے کہیں ذیادہ اُس بچی کو اپنی ماں کے ہونٹ سے رستا خون دیکھ کر وحشت ہوئی تھی۔
”نن۔۔۔نہیں۔۔۔۔چھوڑ۔۔۔دو۔۔۔ “ لحاف کو سختی سے مٹھیوں میں دبوچتی وہ بےتاب سی سر اِدھر اُدھر جھٹکنے لگی۔بند آنکھوں سے نکلتےآنسو کنپٹیوں پر پھسلتے ہوئے بالوں میں گم ہونے لگے تھے۔
گہرے سانس بھرتی وہ اِن وحشتوں سے ہرممکن جان چھڑالینا چاہتی تھی لیکن معائے افسوس جو اعصاب پر حاوی نیند کے پُراثر اثرات اسکو اس بات کی اجازت دینے سے فی الوقت انکاری تھے۔
”آجاؤ جانِ من۔۔۔۔تمھارا خاندانی حساب چکتا کروں۔۔۔“ اگلے ہی پل وہ سفاک شخص بےباک سا اُسے کمر سے دبوچتا کمرے میں گم ہوا تو وہ سسکتی ہوئی اُسکے سنگ کھنچتی چلی گئی۔دروازے کے روغنی پٹ بند ہونے پر بےاختیار نقاب پوش آدمیوں کے خباثت بھرے قہقہے نکلتے اُس بچی کو مزید سہماگئے۔
”نہیں۔۔۔وہ۔۔۔وہ۔۔۔ماردے گ۔۔ا۔۔۔وہ ماردے گاااا۔۔۔۔“ جہاں بآواز بلند چیختے۔۔آبرو کے تکیے پر سرپٹخنے میں شدت آئی تھی وہیں بند آنکھوں میں سمائے سانسیں روک دینے والے مناظراب ہچکولے کھاتے دھندلانے سے لگے۔
کچھ ہی پلوں میں بند دروازوں کے پیچھے لٹتی آبرو پر حلق سے پھوٹنے والی نسوانی چیخیں اطراف میں پھیلے سناٹوں کو چیڑتی ہوئی اُس بچی کے ہچکیاں بھرتے وجود کو ساکت کرگئی تھیں۔
”نہیںںںںں۔۔۔۔۔“ تبھی وہ بھی ایک دلخراش چیخ کے ساتھ جھٹکے سے آنکھیں کھولتی اُٹھ بیٹھی۔سینے میں پھڑپھڑاتا نازک سا دل یکدم ساکت ہوا تھا۔
بمشکل گہرے سانس بھرتی وہ نیم اندھیرے میں ڈوبی کمرے کی چاردیواری کو بے یقینی سے گھورنے لگی تو وحشت کا احساس اُس پر مزید حاوی ہوتا چلا گیا۔ بھیگے ڈوروں کی سرخائی مزید گہری ہوئی تھی۔
اگلے ہی پل ٹچ ٹچ کی آواز پر پورا کمرہ روشنیوں میں نہایا تو آبرو نے کچھ خوف سے اندر آنے والی اُس عورت کا خود کے لیے فکرمند چہرہ دیکھا جو یقیناً اُسکی چیخیں سن کر یہاں بھاگی بھاگی چلی آئی تھیں۔اگلے ہی پل آنکھوں میں ٹھہرے نیلے رنگ سمندر میں گھلتی شناسائی اُسکی چیخوں کا گلا گھونٹ گئی تھی۔
” کیا ہوا میری بچی۔۔۔۔؟؟تم۔۔۔تم ٹھیک تو ہونا میری جان۔۔۔۔؟؟“ سرعت سے اُسکے مقابل بیٹھ کر اس کا بھیگا چہرہ اپنی انگلیوں کی نرم پوروں سے چھوتی وہ پریشان سی گویا ہوئیں جسکا تنفس نفی میں سر جھٹکتے ہنوز بگڑا تھا۔
”تم نے پھرسے وہی خواب دیکھا ہے ناں۔۔۔۔؟؟؟“ وہ شاید اُسکی ابتر حالت سے قطعی انجان نہیں تھیں تبھی اُسکے بکھرے بالوں کو سنوارتی درست اندازہ لگا گئیں۔نظروں میں فکر کے بعد تاسف بھرا احساس جاگا تھا۔
آبرو نے تڑپ کر نم پلکیں اٹھاتے اُنکی جانب دیکھا۔ مقابل کے لفظوں پر وہ جیسے ہوش میں آئی تھی۔
”خواب۔۔۔؟؟؟نہیں۔۔نہیں۔۔۔وہ فقط ایک خواب نہیں تھا۔۔۔۔وہ میری ماں کی آبرو کا۔۔۔۔او۔۔اور اُنکی چلتی سانسوں کا آخری دن تھا۔۔۔۔آخری دن تھا وہ میری ماں کی زندگی کا۔۔۔۔۔ہاں۔۔آ۔۔۔خری۔۔۔۔“ سسکتی سانسوں کے بیچ چیختی وہ اُنکے لفظوں کی تصحیح کرتی بےاختیار اپنے پھٹتے دماغ کو ہتھیلیوں تلے جکڑگئی۔دل کا درد حد سے سوا ہونے لگا تھا۔
”بس میری جان بس۔۔۔۔سب ٹھیک ہے۔۔۔۔“ اس پوشیدہ حقیقت پر اُس عورت نے نم آنکھوں سمیت بےبسی سے لب بھینچتے اُسکا بکھرا وجود اپنی بانہوں میں سمیٹا تھا اور پھر ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل کا دراز کھولتے اُسکی دوائیوں بھرا لفافہ باہر نکالا جن کو وہ یقیناً کچھ دنوں سے لینا چھوڑ گئی تھی۔۔۔۔


”حاویہ۔۔۔۔سارا ناشتہ ختم کرکے جانا بیٹا۔۔۔۔نہیں تو خالی پیٹ ذیادہ دماغ نہیں چلے گا۔۔۔۔“ گھٹنوں پر دھڑے رجسٹر پر تحریر الفاظ بغور دیکھتی وہ سامنے پڑے بچے کھچے پراٹھے اور آملیٹ کو یکسر فراموش کرچکی تھی جب کچن سے آتی نفیسہ بیگم کی تنبیہی آواز پر چونک سی گئی۔
”نہیں ماما۔۔۔اگر ذیادہ کھالیا۔۔۔تووو میرا دماغ نہیں چلے گا۔۔۔۔آپ جانتی تو ہیں میرا اندرونی نظام دوسروں سے ذرا ہٹ کر ہے۔۔۔پھر بھی آپ۔۔۔چچ۔۔۔۔“ اسپیچ کی تیاری میں بےچین ہوتی وہ کچھ لاپرواہی سے بولی تو نفیسہ بیگم کے روٹی بیلتے ہاتھ پل بھر کو رُکے۔اُنکے بگڑتے تیوروں سے انجان حاویہ کا فوکس ہنوز لفظوں پر ہی تھا۔
”ذیادہ باتیں مت بگاڑو میرے ساتھ۔۔۔ یہ جو دنوں میں تم دونوں بہنوں کے تیور بدل سے گئے ہیں ناں۔۔۔۔سچ میں بہت تنگ آگئی ہوں میں۔۔۔۔۔اگر چاہتی ہوکہ آج کا دن اچھا جائے تو پلیٹ صاف کرکے جانا۔۔۔۔“ توے پر پڑی روٹی کا رخ سرعت سے پلٹتی وہ ڈپٹتے ہوئے اُسے دھمکی دے گئیں تو ٹھٹھک رجسٹر سے سراٹھاتی وہ پل میں بےسکون ہوئی۔نفیسہ بیگم کی ایسی چھوٹی موٹی دھمکیوں سے وہ جانے کیوں ہمیشہ ہی خائف رہتی تھی۔
”اچھا بھئی کھا رہی ہوں۔۔۔کھاااارہی ہوں میں۔۔۔اور آپ ناں ہروقت مجھے اسطرح سے بلیک میل نہیں کرسکتیں۔۔۔انسان کی اپنی بھی کوئی مرضی ہوتی ہے۔۔۔۔“ بنا تاخیرکیے پلیٹ اپنی جانب کھینچتی وہ جتاکر بولی تو اُسکی منہ بسورتی تابع داری پر نفیسہ بیگم کے لبوں پر سرشار سی مسکراہٹ درآئی۔
بے دلی سے لقمے توڑتی وہ بمشکل ہی انھیں زہر مار کر پارہی تھی جب ایکدم سے اپنے دائیں بائیں اُبھرتے مردانہ ہاتھوں کا حصار ناسمجھی سے دیکھتی وہ چونکی۔
”بُووووو۔۔۔۔۔“ اس سے پہلے کہ وہ کسی خاص نتیجے پرپہنچ پاتی معاً بھاری آواز سمیت کان سے ٹکراتا گرم سانسوں کا گولہ پل میں اُسکے رونگھٹے کھڑے کرگیا۔
”ہ۔۔۔اااا۔۔۔۔“ لبوں سے نکلتی چیخ بےساختہ تھی جسے بختی بروقت بھاری ہتھیلی تلے دباتا اسکا سر چیئر کی پشت سے ٹکا گیا۔اس گستاخی پر حاویہ نے سختی سے اپنی آنکھیں میچی تھیں۔
”ریلکس باربی ڈول۔۔۔۔“ ایک محتاط نگاہ کچن کی جانب اچھال کر پھرسے اُسکے کان کے قریب جھکتا وہ سرگوشی نما آواز میں بولا تو اُسکے نازک وجود سے اٹھتی مہک نتھنوں سے ٹکراتی اُسے مسرور سی کرنے لگی۔
بختی کی خود سے حدردجہ قریب موجودگی حاویہ کو تڑپا ہی تو گئی تھی جو اب بےخوف سا براہِ راست ساری حدیں پار کرنے پر اتر آیا تھا۔بمشکل اُسکا ہاتھ پڑے جھٹکتی وہ اپنی جگہ سے اٹھتی سرعت سے پلٹی۔
”ہاہاہا۔۔۔۔کیا ہوا جانم۔۔۔۔؟؟ڈرگئی تھیں کیا۔۔۔۔؟؟“ اُسے گہرے سانس بھرتا دیکھ وہ اُسکے گھبرائے نقوش سے ہمیشہ کی طرح حظ اٹھارہا تھا جو تیز رفتار سے چلتے پنکھے کے باوجود بھی پسینہ پسینہ ہوگئی تھی۔
”اففف یہ معصوم چہرہ اور سہمے سہمے انداز۔۔۔واللہ۔۔سیدھا یہاں پر وار کرتے ہیں۔۔۔۔ کیا تمھیں مجھ پر ذرا سا بھی رحم نہیں آتا۔۔۔۔؟؟؟یہ بندہ تو پہلے سے ہی گوڈے گوڈے تمھارے عشق میں ڈوبا ہوا ہے۔۔۔اب اور کتنا بس میں کروگی اپنے۔۔۔ہہمم۔۔۔؟؟؟“ اُسکی خاموش گھوری پر سینے پر ہاتھ دھڑے ہولے سے اُسکی جانب جھکتے ہوئے انداز بالکل مجنوؤں والا تھا جب وہ ضبط کی انتہاؤں کو چھوتی بروقت دو قدموں کا فاصلہ بناتی پیچھے ہٹی۔
”آپ اس وقت یہاں کیوں آئے ہیں۔۔۔۔؟؟اپنے گھر میں سکون نہیں ملتا کیا آپکو۔۔۔۔؟؟؟“ نم آنکھوں سمیت دبی سی آواز میں غراتی جانے کیوں وہ اُسکا لحاظ کرگئی تھی ورنہ دل تو مقابل کا گریبان پکڑ کر چیخنے کو چاہ رہا تھا۔
” گھر پرکیا رکھا ہے جانم۔۔۔۔؟؟؟حقیقی سکون تو میرا یہاں بستا ہے۔۔۔اور اب میں اپنے دل کے سکون کو بہت جلد اپنے گھر میں بسانے کی سوچ رہا ہوں۔۔۔۔“ خباثت سےمسکراتا وہ بڑے شریں مگر دھیمے لہجے میں بول رہا تھا۔جبھی وین کا پُرشور ہارن دونوں کی سماعتوں سے ٹکرایا۔
” کک۔۔۔کیا مطلب۔۔۔۔؟؟؟“ بےچین سی خشک لبوں پر زبان پھیرتی وہ الجھی تو بےاختیار مقابل کی بہکتی نگاہیں اُسکے گلاب لبوں پر جا ٹھہریں۔
”سیدھا سیدھا سا مطلب ہے جان۔۔۔میں یہاں خالہ سے ہماری شادی کی بات کرنے آیا ہوں۔۔۔وہ کیا ہے ناں کہ اب مزید صبر کی گنجائش نہیں رہی مجھ میں باربی ڈول۔۔۔۔“ آنکھ دبا کر بولتا وہ شوخ ہوا تو اِس بیہودہ مذاق پر حاویہ کا دل کیا اُسکا سر پھاڑدے۔
”یہ کیا بکواس ہے کررہے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟ہوش میں تو ہیں۔۔۔؟؟؟نہیں کرنی مجھے آپ سےکوئی شادی وادی۔۔۔سنا آپ نے۔۔۔؟؟؟اپنے اس غلیظ ذہن کو لگام ڈال کر رکھیے اسی میں آپکی بہتری شامل ہے اور۔۔۔میری ماما کے سامنے ایسی بہودہ خرافات بکنے سے بھی آپ پرہیز کیجیے گا۔۔۔۔“ برداشت کھوتی وہ پھنکارتی ہوئی بختی کے لبوں کی مسکراہٹ پل میں نوچ گئی۔گال پر پھسلتے آنسو رگڑتی جانے وہ خود کے حق میں بولنے کی ہمت آج کہاں سے کر بیٹھی تھی۔ہارن پھر سے بجا تھا۔
”تم۔۔۔۔۔“ اُسکے کاری وار پر حیرت کو پیچھے چھوڑ کر دانت بھینچتا وہ بےساختہ اُسکی عقل درست کرنے کو آگے بڑھا جب کچن سے باہر نکلتی نفیسہ بیگم نے بروقت اُسکے بےقابو عضو جکڑلیے۔
”حاویہ تم ابھی۔۔۔۔ارے بختی بیٹا تم کب آئے۔۔۔۔؟؟؟“ وہ جو مگن انداز میں ماتھے پر آیا پسینہ پلو سے پونچھتی حاویہ کی خبرگیری کے لیے کچن سے باہر نکلی تھیں سامنے بختی کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رکیں۔
”اسلام علیکم خالہ جان۔۔۔۔آپ سے ملنے کو بہت دل چاہ رہا تھا تو بس سوچا کام پر جانے سے پہلے آپکی خیرخیریت معلوم کرتا جاؤں۔۔جبھی تو میں صبح سویرے منہ اٹھا کر آپ کے گھر چلاآیا ہوں۔۔۔۔یہی کوئی دو منٹ ہی ہوئے ہیں مجھے آئے۔۔۔“ پل میں گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا وہ مسکرا کر وضاحت دینے لگا تو حاویہ شدتِ ضبط سے اپنی نازک مٹھیاں بھینچ کررہ گئی۔
اس قدر مکار شخص اُسنے شاید ہی کبھی زندگی میں دیکھا تھا۔۔
”ارے بیٹا ایسے بیگانوں کی طرح کیوں وضاحتیں دینے لگے ہو۔۔۔؟؟تمھارا اپنا گھر ہے یہ۔۔۔جب جی چاہے آؤ۔۔۔۔“ قدرے خوش اخلاقی سے بولتی وہ حاویہ کی پلیٹ کی جانب دھیان نہیں دے پائی تھیں جہاں بچا پراٹھا آملیٹ ہنوز اپنی بےقدری پر نالاں تھا۔
”یہ تو میں بھی اچھے سے جانتا ہوں خالہ۔۔۔بس یونہی آپکو تنگ کرنے کے لیے یوں وضاحتیں دے گیا۔۔۔“ اتنی اہمیت ملنے پر شرسار ہوتا وہ ایک جتاتی نگاہ حاویہ پر ڈالنا نہیں بھولا تھا۔
”ماما۔۔۔میں جارہی ہوں۔۔۔دعا کیجیے گا کہ شیطانوں کے شرسے ہمیشہ محفوظ رہوں۔۔۔۔خدا حافظ۔۔۔۔“ اب کہ دبے لفظوں کی آڑ میں بہت کچھ جتانے کی باری حاویہ کی تھی جو اُسے شیطان کا درجہ دیتی سرعام اُسکی تذلیل کرگئی تھی۔
اُسے سینے سے رجسٹر چپکاتے دیکھ بختی کی آنکھوں میں سرخائی بھرنے لگی جو نفیسہ بیگم کی جانب مسکراہٹ اچھالتی بنا اُسے دیکھے عجلت بھرے قدم باہر کی طرف بڑھاگئی۔
”خیر سے جاؤ۔۔۔۔اللہ تمھارا حامی و ناصرہو۔۔۔۔اور تم بیٹھو بچے۔۔۔میں تمھارے لیے ابھی چائے بنا کر لاتی ہوں۔۔۔۔“ پیچھے سے دعا دیتی وہ پل میں بختی کی جانب متوجہ ہوئیں تو وہ چونک کر اُنکی جانب دیکھنے لگا۔
”جی۔۔۔؟؟جی خالہ۔۔۔ضرور۔۔۔۔“ اُسکے بے دھیانی میں ہامی بھرنے پر نفیسہ بیگم مسکرا کر سرہلاتی واپس کیچن میں چلی گئیں تو اُسکی سرد نگاہیں دوبارہ دہلیز کے پار جا ٹھہریں جہاں سے حاویہ کا نازک سراپا اب نظروں سے اوجھل ہوچکا تھا۔۔۔


آج وہ تینوں خلافِ توقع اس وقت شاپنگ مال کی بلند عمارت میں موجود تھے لیکن شام کی عنایت تلے فواد اور افروز اپنی یہاں موجودگی کی وجہ سے قطعی بےخبر تھے۔اس پر مستزاد اُسکے سلے لب اُنکی برداشت مزید آزما رہے تھے۔
”یار اب کچھ بتا بھی دے۔۔۔؟؟آخر تُونے جانا کدھر ہے۔۔۔؟؟کب سے فضول میں ہمیں اِدھر اُدھر گھمائے جارہا ہے۔۔۔۔“ میانہ روی سے اوپر کو رینگتی سیاہ سیڑھیاں باقیوں کی طرح اُن تینوں کا بوجھ بھی بآسانی سہتی اُنھیں تیسرے فلور پر لے جارہی تھیں جب فواد بےصبرا ہوتا بولا۔
”پٹر پٹر بند کر۔۔پتا چل جائے گا ابھی۔۔۔۔“ اُسکی تلخی پر ناپسندیدہ نظروں سے اُسکی جانب گھورتا وہ بھرپورسنجیدگی سے بولا اور اگلے ہی پل اپنے قدم چمکتے فرش پر جماگیا تو اُسکے ہمراہ ہوتا فواد منہ بسورکررہ گیا۔افروز بھی کندے اچکاتا دو اسٹیپ ایک ساتھ پھلانگ کر اُن کے ہمقدم ہوا۔
اب وہ تینوں ناک کی سیدھ پر چل رہے تھے جب شام یکدم بائیں سائیڈ مڑتا جیولرز ایریا کی جانب بڑھا۔
”او بھئی۔۔۔غلط ٹریک پر جارہا ہے۔۔۔۔؟؟؟“ اُن دونوں کا حیران ہوکراُسے ٹوکنا بےساختہ تھا۔
اُنکی ہنوز بےخبری پر شام کے لب بےاختیار مسکراہٹ میں ڈھلے۔
”شام خود کے لیےکبھی غلط ٹریک چوز نہیں کرتا اور اگر ٹریک غلط ہو بھی جائے تو اُسے اپنے طریقے سے درست کرنے کا ہنر جانتا ہے۔۔۔۔“ اُنھیں ہونقوں کی طرح وہیں کھڑا دیکھ کر جینز کی جیبوں میں ہاتھ پھنساتا وہ ایک غرور سے بولا پھر آنکھ دباکر مسکراتا ہوا آگے بڑھ گیا۔سو چارو ناچار اُنھیں بھی اُسکی تقلید میں چلنا پڑا۔
”وہ تو ٹھیک ہے لیکن یہاں کرنے کیا آیا ہے۔۔۔۔؟؟؟“ اُسے تیز روشنیوں میں گھری جیولری شاپ کے سامنے رکتا دیکھ فواد ہنوز ناسمجھی سے جھنجھلاکر گویا ہوا جو مایا جیولرز کا بڑا سا سائن بورڈ بغور دیکھ رہا تھا۔
”اُس دوٹکے کی لڑکی کی قیمت پوری کرنے کے لیے۔۔۔۔“ بےنیازی سے بول کر اُنھیں پیچھے حیران چھوڑتا وہ گلاس وال دھکیل کر شاپ میں داخل ہوچکا تھا جب وہ بھی ہوش میں آتے اُسکے پیچھے لپکے۔خود کے یہاں ہونے کی حقیقی وجہ اُن اب جاکر سمجھ میں آئی تھی جبکہ حرمین کی بابت اُنھیں اپنے جگری یار کے ارادے اور انداز حقیقتاً سوچ میں ڈال گئے۔
”یس سر۔۔۔۔؟؟؟ہاؤ کین آئی ہیلپ یو۔۔۔۔؟؟“ تین لڑکوں کو آگے پیچھے اندر آتا دیکھ شلوار سوٹ میں ملبوس جیولر قدرے اخلاق سے بولتا اُن کی جانب لپکا۔چمکتی نظروں سے اُنھیں سر تا پیر بغور دیکھتے اُسے انداز ہوچکا تھا کہ آج اُسکے ہاتھ بھاری گاہک لگے ہیں جبھی وہ اپنے ایک ملازم کو بھی ٹھنڈا لانے کا اشارہ کرچکا تھا۔
وہاں پہلے سے ہی بیٹھ کر ٹاپس دیکھتی عبائے میں موجود دو لڑکیوں نے بھی نظر بھر انھیں دیکھا جو شکل سے ہی کسی امیر کبیر خاندان کے سپوت لگ رہے تھے۔
”مجھے جو سب سے ذیادہ ایکسپینسیو رِنگز ہیں وہ دکھاؤ۔۔۔۔“ چئیر کھینچ کر بیٹھتا شام بےتاثر لہجے میں بولتا ٹانگ پر ٹانگ جما چکا تھا جبکہ اُسکے پہلو میں نشستیں سنبھالتے افروز اور فواد نے کونے میں بیٹھی اُن لڑکیوں کو نظربھرکر گھورا جو خود کے لیے ٹاپس پسند کرنے میں ہنوز تذبذب کا شکار تھیں۔
”شیور سر۔۔۔۔“ خوشدلی سے مسکراتا وہ کچھ ہی پلوں میں پھرتی دکھاتا شام کے آگے چمچماتی انگوٹھیوں کے تین کیس رکھ چکا تھا۔
”یہ دیکھیں سر۔۔۔۔آپکے کہے کے مطابق یہ سب سے ذیادہ ایکسپینسیو رِنگز ہیں۔۔۔اور ڈیزائنز بھی ایکدم نیو ہیں۔۔۔“ اُسے خود کے مال کی جانب قائل کرتا وہ اُسے چن چن کر سب سے نفیس اور مہنگی رنگز دکھا رہا تھا لیکن مقابل پر پھر بھی کچھ خاص اثر نہیں پڑا تھا۔
”نو۔۔۔۔اٹس ناٹ ایمپریسو۔۔۔کچھ اور دیکھاؤ۔۔۔۔“ شیشے کے کاؤنٹر پر دھڑے کیس کو ہلکا سا پڑے کھسکاتا وہ کچھ بےزاری سے بولا۔
زندگی میں پہلی بار صنفِ نازک کے لیے جیولری خریدتا شام ہر معاملے کی طرح اِس معاملے میں بھی کافی چوزی ثابت ہوا تھا۔
اپنی دال گلتی نہ دیکھ کر جیولر کی مسکراہٹ معدوم پڑتی سمٹی لیکن پھر اگلے ہی پل وہ زبردستی مسکراتا سر ہلا کے دیوار میں نصب بڑی سی الماری کی طرف پلٹا۔
”آپ سیکنڈ رو میں جو وائٹ سٹون والے ٹاپس ہیں وہ سلیکٹ کرلیں ناں۔۔۔بہت جچے گے آپ پر۔۔۔۔“ کہنی کے بل قدرے آگے کو جھکتا افروز لبوں پر خوشامدی مسکراہٹ سجائے اپنی طرف بیٹھی لڑکی سے مخاطب ہوا تو وہ چونک کر کچھ حیرانگی سے اُسکی جانب دیکھنے لگی۔
”بیلیومی۔۔بیوٹیفل گرل۔۔۔۔“ اُسکےنظریں ملانے پر بےباکی سے آنکھ دباکر یقین دہانی کرواتا وہ اُسے سیٹ کرنے کے چکروں میں تھا مگر اُسکی سوچ کے برعکس وہ لڑکی بری طرح سٹپٹاتی سیاہ چادر میں لپٹا خود کا سادہ چہرہ سرعت سے پھیرگئی۔
معاً افروز کی بجھتی نگاہیں دوسری لڑکی کے ضبط سے سرخ ہوتے چہرے پر پڑیں جو غصے سے اسی کو گھور رہی تھی۔وہ شاید اُسکی بہن تھی جسے اُسکا ٹھرکی جھاڑتا انداز قطعی پسند نہیں آیا تھا۔اگلے ہی پل سنجیدگی سے گہرا سانس بھرتا وہ شریف سا سیدھا ہوکر بیٹھ گیا لیکن اپنی جانب تکتے فواد کو دیکھ کر وہ خجل پڑا تھا جسکی دبی ہنسی صاف بتارہی تھی کہ وہ تمام کاروائی سے خاصا حِظ اٹھا چکا ہے۔
”دانت اندر کر نہیں تو پنچ مارکے توڑدوں گا۔۔۔۔“ اُسے ہنوز کولگیٹ کی تشہیر کرتا دیکھ وہ دھیمی آواز میں غرایا تو اچانک سماعتوں سے ٹکراتی شام کی بھاری آواز اُن دونوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ گئی۔
امم۔۔۔ایسا کرو تم مجھے وہ والا نیکلس دیکھاؤ۔۔۔“ ٹھوڑی کو ہلکے سے کھجاتے اُسنے ٹاپ شیڈ پر رکھے گئے بلیک ویلوٹ سٹینڈ کی جانب اشارہ کیا تو شام کی نگاہوں کے تعاقب میں تھری لئیرڈ نیکلس کو دیکھتے جیولر کے لب آپ ہی آپ مسکرانے لگے۔
”یہ لیں سر۔۔۔۔“ قدرے مہارت سے بذاتِ خود اُس سٹینڈ کو شیڈ سے اتار کر ہاتھوں میں بھرتا وہ شام کے آگے کاؤنٹر پر رکھ چکا تھا۔
وائٹ گولڈ کی تین موٹی چین کناروں سے اکٹھی جڑی تھیں جن میں جڑے چھوٹے چھوٹے اناری نگ مرکری بلبوں کی روشنی میں چمکتے دمکتے نہایت بھلے لگ رہے تھے۔اس وقت وہ نیکلس اپنی دلکشی کے زور پر شاپ میں بیٹھے سب نفوس کی توجہ اپنی جانب کھینچے ہوئے تھا۔
تبھی ملازم بھی ہاتھ میں شیشے کی بوتلیں پکڑے اندر داخل ہوا لیکن کسی کے بھی ہاتھ نہ لگانے پر مجبوراً وہ کولڈ ڈرنکس سائیڈ پر پڑے ٹیبل پر رکھ گیا۔
”ہہمم۔۔۔۔اٹس ایمپریسو۔۔۔۔تم اسے پیک کردو۔۔۔۔“ اُسے چھوکردیکھتا وہ بنا تاخیر کیے اُسے خریدنے کا حتمی فیصلہ کرتا جیولرکا سیروں خون بڑھا گیا۔
”یارشام۔۔۔اتنا قیمتی پیس تو اُس مولانی کے لیے خرید رہا ہے۔۔۔؟؟؟مطلب کہ ہوش و حواس تو قائم ہیں ناں تیرے۔۔۔؟؟؟“ دھیمے لفظوں میں شام کو اُسکی حماقت کا احساس دلاتا فواد اُسکی جانب جھک کر کچھ حیرت سے گویا ہوا تو جواباً وارنگ دیتی نظروں سے گھورتا وہ اُسے لب بھینچنے پر مجبورکرگیا۔۔جسکی زبان آج حد سے کچھ ذیادہ ہی چل رہی تھی۔
”نائس سر۔۔۔۔آپکی چوائس کی داد دیتا ہوں میں۔۔۔۔آپ نے مجھ سے جو ماسٹر پیس خریدا ہے وہ یقیناً آپکی مسز کے حُسن کو چار چاند لگادے گا۔۔۔۔“ بڑی پھرتی سے تھری لئیرڈ نیکلس بلیک کیس میں بند کرتا وہ اپنی بات سے شام کی سنجیدگی کو پل میں استہزائیہ ہنسی میں ڈھال گیا۔
”ہاااہ۔۔۔حُسن۔۔۔۔چیک تو کرو یارو۔۔۔بن دیکھے ہی اُس محترمہ کی خوبصورتی کے چرچے یہاں پر بھی ہونے لگے ہیں۔۔۔۔ماننا پڑے گا بھئی۔۔بہت خوش قسمت لڑکی ہے حرمین زہرا۔۔۔۔“ تمسخر اڑاتے لہجے میں اپنے دوستوں سے مخاطب ہوتا وہ جیولر سمیت اُن دو لڑکیوں کو بھی اپنی باتوں سے پل بھرکے لیے کنفیوز کرگیا۔
”یو آر رائٹ یار۔۔۔خوش قسمت تو وہ ہے۔۔۔نہیں تو اس وقت تُو یہاں نہیں ہوتا۔۔۔۔“ مسکاتے لہجے میں بظاہر شام کی تائید کرتے اُنکا واضح اشارہ نیکلس کی طرف تھا جو اس پل اُسکی خوش نصیبی کا سرعام چرچا کررہا تھا۔
”یہ لیں سر۔۔۔۔آپکی امانت۔۔۔“ سر جھٹک کر مایا برینڈ کا بیگ اُسکے سامنے رکھتا وہ پُرسکون ہوا۔
”پرائز بولو۔۔۔۔؟؟؟“ ذرا اچک کر جینز کی پچھلی پاکٹ سے والٹ نکالتا وہ اپنے مخصوص لب و لہجے میں بولا تو جیولر کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
”تین لاکھ۔۔۔۔“ بنا کسی رعایت کے بڑھ چڑھ کر قیمت بتاتا وہ پورے اطمینان سے گویا ہوا۔شاید وہ اچھے سے جان گیا تھا کہ مقابل بحث کرنے والا بندہ ہرگز نہیں تھا۔
”اتنی قیمت بہت ہیں اُسکے لیے۔۔۔۔۔“ خود کا کریڈٹ کارڈ جیولر کی جانب بڑھاتے ہوئے اُسکے شفاف لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ درآئی تھی۔۔۔جبکہ مقابل کو خود کی توقعات پر پورا اترتے دیکھ جیولر کی کریڈٹ کارڈ پکڑتے باچھیں کھل چکی تھیں۔۔۔


وقفے وقفے سے حلق سے پھوٹتی مردانہ چیخیں لاک اپ کی مضبوط دیواروں سے ٹکراتی اِن لمحوں وحشت بھرا ماحول برپا کررہی تھیں۔پسینے سے بھیگی برہنہ کمر پر سخت ضربیں لگاتے ہوئے جانے کتنی ہی بار اُسکا ڈنڈا اپنی جگہ سے پھسلا تھا پر وہ بنا لحاظ کیے پل پل اُسکے اوسان خطا کرنے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑ رہا تھا۔
”صص۔۔۔صاحب جی۔۔۔۔صاحب جی۔۔۔بتاتاہوں میں۔۔۔سب بتاتا ہوں۔۔۔پر خدارا اپنا یہ ڈنڈا مجھ سے پرے ہٹالو۔۔۔۔ماں قسم میرے تمام جوڑوں میں اب شدید درد اُٹھ رہا ہے۔۔۔“ پچھلے بیس منٹوں سے مار کھاتا شیدا گرمی کی شدت اور اس پر مستزاد بدن کے مختلف حصوں پر ہوتی شدید جلن پر اب کہ جیسے اپنی تمام تر برداشت کھوچکا تھا جبھی خود پر ایک بار پھرسے ڈنڈا برسنے سے پہلے ہی اُسکے سامنے باقاعدہ ہاتھ جوڑگیا تو عائل کا ہوا میں اٹھا ہاتھ یکدم ساکت پڑتا دھیرے سے نیچے ہوا۔
”گڈ۔۔۔جلدی ہی عقل ٹھکانے لگ گئی ہے تمھاری۔۔۔مجھے تو لگا تھا کہ تم کچھ وقت مزید لوگے۔۔۔“ ہولے ہولے ڈنڈا سرخ ہتھیلی پر بجاتا وہ مسکرایا۔فرش پر التی پالتی مار کر بیٹھے اُس پینتیس سالہ شخص کی ہٹ دھڑمی کو توڑنے کی غرض سے وہ خود بھی پسینہ پسینہ ہوچکا تھا جبکہ شیدے کو اُسکے لبوں پر رینگتی مسکراہٹ سے بھی وحشت ہوئی تھی۔مقابل کا ڈر حقیقی معنوں میں اُسکی سرخ پڑتی چمڑی میں بیٹھ چکا تھا۔
”نہ صاحب نہ۔۔۔۔میرےکو نہیں چاہیے کوئی مزید وقت۔۔۔پوچھو جو پوچھنا ہے میں سب کچھ بتانے واسطے تیار ہوں۔۔۔“ نفی میں گردن ہلاتے اُسکی آنکھیں پھرسے نم پڑیں تو آستینوں کے کف مزید اوپر کو فولڈ کرتا عائل چئیر پر ہی آگے کو کھسکتا ایکدم سے اُسکی جانب جھکا۔
”تو بتاؤ کس گروہ سے تعلق ہے تمھارا اور اس سے پہلے تم اپنے ساتھیوں سمیت کتنے بچوں کو اغوا کرچکے ہو۔۔صرف بچوں کو ہی اغوا کرتے ہو یہاں پھر جوان لڑکیاں اٹھانے کا بھی دھندا سنبھال رکھا ہے۔۔۔سچ سچ بتانا مجھے۔۔۔؟؟؟اور یہ بات یاد رکھنا اگر کچھ بھی جھوٹ ہوا تو اس بدن کی ساری کھال کھینچ اتاروں گا۔۔۔سمجھے۔۔۔“ اُسے اچانک بالوں سے جکڑتا وہ سختی سے بولتا چلا گیا تو پل بھرکو تکلیف سے آنکھیں میچتا وہ مشکل سے تھوک نگل پایا۔
آج ہی اُسنے ایک دس سالہ بچے کو دن دھاڑے سنسان سڑک پرسے اغوا کرنے کی غلطی کی تھی اور عائل کے ہاتھوں بروقت پکڑے جانے کی صورت میں یہ غلطی اب اُسکے گلے کا پھندا بن چکی تھی۔
”نن۔۔نہیں صاحب ہم۔۔صرف بچے ہی اٹھاتے ہیں۔۔فی الحال تو ہمارے گینگ میں بس تین لوگ ہی شامل ہے۔۔۔۔میں۔۔۔میرا سالا اور بڑا بہنوئی۔۔۔یہ ایک قسم کا خاندانی گینگ ہے صاحب۔۔مشکل سے چھ مہینے ہی ہوئے ہیں ہمیں یہ دھندا کرتے کہ پھوٹی قسمت جو آپکے ہتھے چڑھ گئے۔۔۔ماں قسم صاحب جی ہم نے۔۔۔آ۔۔۔آج تک کسی ایک بھی بچے کو جانی نقصان نہیں پہنچایا۔۔۔بس فقیروں کے بھیس میں سنسان جگہوں سے بچے اٹھاتے ہیں اور اُنکے ماں باپ سے اپنی مرضی کا تاوان بھروا کر چھوڑدیتے ہیں۔۔۔اس کے علاوہ تو۔۔۔۔“ پھنسی پھنسی آواز میں بولتا وہ خود کے کالے چٹھوں کو بڑے ہلکے انداز میں تول رہا تھا جب منہ پر پڑتے بھاری تھپڑ نے اُسکی آواز حلق میں ہی کہیں اٹکادی۔
”باسط۔۔۔۔“ سیدھا ہوتا وہ دھاڑا۔
شیدا ہتھیلی ہنوز گال پر جمائے حیران سا اپنی غلطی سمجھنے کی کوشش کررہا تھا۔
”یس سر۔۔۔۔؟؟؟“ قدرے عجلت میں لاک اپ کے اندر قدم جماتے باسط نے فوری سلوٹ کیا۔
”اس خبیث انسان سے ساری کی ساری ڈیٹیل نکلواؤ اور اس کیس کی ایک فائل ریڈی کرکے فوراً میرے ٹیبل تک پہنچاؤ۔۔۔“ چئیر سے اٹھ کراُسکی جانب پلٹتا وہ اکھڑپن سے بولا جب پاکٹ میں پڑا موبائل فون یکدم رنگ ہونے لگا۔
”اوکے سر۔۔۔۔“ عائل کو عجلت اور بےزاری میں دیکھتے ہوئے وہ جلدی سے بولا۔
”اوشٹ۔۔۔۔“ چمکتی اسکرین پر ہیڈماسٹر کالنگ دیکھ کر وہ پیشانی مسلتے گہرا سانس بھرکے رہ گیا۔یوں معلوم ہورہا تھا جیسے وہ خود پر بڑا ضبط کررہا ہو۔
”کیا ہوا سر۔۔۔۔؟؟؟“ باسط فکرمند ہوا۔
”دیر ہوگئی۔۔۔۔“ تاسف زدہ لہجے میں جواب دیتا وہ بنا تاخیر کیے کال ریسیو کرتا موبائل فون کان سے لگا چکا تھا۔
”اسلام علیکم عبدالجبار صاحب۔۔۔جی۔۔جی مجھے سب اچھے سے یاد ہے بس اگر بیچ میں ایک ارجنٹ کام نہ پڑتا تو اس وقت میں آپکے پاس پہنچ چکا ہوتا۔۔۔۔جی بالکل۔۔۔آپ فکر نہیں کریں میں بس تھوڑی دیر میں نکلتا ہوں۔۔۔جی اوکے۔۔۔اوکے خدا حافظ۔۔۔۔“ پلکیں جھپکاتا وہ ٹھہر ٹھہر کر معذرت طلب لہجے میں نرمی سموئے بولتا جارہا تھا پھر بات پوری ہونے پر مسکرا کر کال کاٹ دی۔
”سر۔۔سب خیریت ہے۔۔۔۔؟؟؟“ ہونقوں کی طرح کھڑا وہ ذیادہ کچھ سمجھ نہ آنے پر کچھ پریشانی سے بولا۔
”ہاں خیریت ہے سب۔۔۔۔عبدالجبار صاحب کو تو تم جانتے ہی ہو اچھے سے۔۔۔دراصل وہ چاہتے ہیں کہ آج کی تقریب میں۔۔میں بطورِ مہمانِ خصوصی لازمی طور پر شرکت کروں۔۔میں چاہ کر بھی اُنھیں انکار نہیں کرپایا۔۔۔۔خیر میں پہلے ہی لیٹ ہوں۔۔۔سو اب مجھے جلدی نکلنا ہوگا۔۔۔۔“ سادگی سے تفصیلاً سب بات بتاکر اُسے پُرسکون کرتا عائل خود کی فولڈ آستینں برابر کرچکا تھا۔وجیہہ چہرے پر کچھ لمحوں پہلے کی نرمی کی جگہ اب فکر کے آثار نمایاں ہوئے تھے۔
”سر میں بھی چلوں ساتھ میں۔۔۔۔؟؟“ وہ ہمراہی کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا تھا سو عائل کو پلٹتا دیکھ بےاختیار بول پڑا تو جواباً وہ اُسکی جانب دیکھتا پل بھرکو مسکرایا۔
”نہیں۔۔۔تم میرے پیچھے کا سب سنبھالو۔۔۔اور اس خبیث کا سارا بیان لفظ بہ لفظ نوٹ کرلینا۔۔۔۔باقی سب میں آکر خود دیکھ لوں گا۔۔۔۔“ مٹھیاں بھینچتے اُسکا لہجہ ایکدم کرخت ہوا تو تب سے اُن کے مابین ہوتی گفتگو کو غور سے سنتا شیدا عائل کی خود کے لیے کی جانے والی تنبیہ پر ٹھٹھک کر پہلو بدل گیا۔
”یس سر۔۔۔۔“ جوشیلے لہجے میں سلوٹ مارتا وہ بآواز بلند بولا تو عائل مزید دیری کیے لمبے ڈگ بھرتا لاک اپ سے باہر نکل گیا۔
”اُدھر کیا دیکھتا ہے سالے۔۔۔اِدھر میری طرف دیکھ اور بنا رکے شروع ہوجا۔۔شاباش۔۔۔۔“ شیدے کا جبڑا پکڑ کر اپنی اوڑھ جھٹکا دیتا باسط اب عائل کی سیٹ سنبھالے اپنی آستینیں اوپر چڑھا چکا تھا جبکہ خود کو سترویں بار کوستا شیدا اس نئے وبال کے لیے خود کو قائل کرتا اب دھیرے دھیرے لب ہلانے لگا۔۔۔
💞💞💞💞💞💞