Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 33

ہمارا رتبہ،تمھارا مقام یاد رہے
خِرد سے دورتمھیں عقلِ خام یاد رہے
ادا کیا تو ہے کردار شاہ زادے کا
مگر غلام ہو،ابنِ غلام یاد رہے
ابھی شل ہے میرا وجود سو ہاتھ کھینچ لیا؛
صفحات چاک ہوں گے انتقام کے یاد رہے
نہیں ابھی،تو تمھیں جس گھڑی ملے فرصت
ہمارے ساتھ گزارو گے شام یاد رہے
خمیر میں ہے تمھارے،بڑے بھلکڑ ہو
ابھی لیا ہے جو ذمے تو کام یاد رہے
جو اپنے آپ کو شعلہ بیاں بتاتے تھے؛
سودی ہے ان کی زباں کو لگام یاد رہے
بچھڑ تو جانا ہےاتنا گماں رہتا ہے
لبوں کی سلگتی مہر،دلوں کا پیام یاد رہے
یہ معجزہ بھی تو کوئی دن دیکھنے کو ملے؛
ہمارا ذکر تمھیں صبح و شام یاد رہے
بجا کہ زیر کیا تم نے اپنے مقابل کو
سنبھل سنبھل کر رکھو اب بھی گام یاد رہے
وہ اس پل واش بیسن پر جھکی بار بار اپنے شفاف چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتی چلی جارہی تھی۔۔۔جب گہری نیلی نگاہوں میں بھیگتی ہوئی شکست بڑی آہستگی سے اسکے گالوں پر لڑھکی۔
معاً اس نے سر اٹھا کر بغور خود کا عکس آئینے میں دیکھا۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ شاہ کا ایک ہید بار میں کھیلا گیا شدید داؤ اسے جبراً۔۔۔ اس فلیٹ میں ہر لحاظ سے مقید ہونے پر مجبور کردے گا۔۔جس کے لیے چند روز قبل وہ بذاتِ خود خود کے بنائے منصوبے کے تحت راضی تھی۔۔۔
مگر اب۔۔۔
اب تو جیسے بساط مکمل طور پر اسکے خلاف پلٹ دی گئی تھی۔
شدتِ بےبسی سے نگاہیں بھینچ کر سوچتے ہوئے اس نے بھیگے چہرے پر آہستگی سے ہاتھ پھیرا۔۔۔تو بےاختیار سماعتوں میں اترتی مردانہ آواز اسے بیت چکے لمحوں میں دھنساتی چلی گئی۔
”تابین بائی۔۔۔آپکے خلاف شاہ صاحب کا ہمارے پاس بیان موجود ہے جس کےمطابق آپ نے ان کی بیوی آبرو شاہ میرحسن کو جبراً اپنے قبضے میں لیا ہوا ہے۔۔۔تاکہ اس کے ذریعے اپنے ناچ گانے کا یہ عیاشیوں بھرا دھندا بحال رکھ سکیں۔۔۔۔“ پولیس والا متواتر خود کی ہتھیلی پر ڈنڈے کی ہلکی ضربیں لگاتا پریقین سا تھا۔
جان پہچان کے چند پولیس اہلکاروں کے ہمراہ شاہ میرحسن کا یوں براہ راست حویلی پر کیا گیا یہ وار غیرمتوقع ہی تو تھا۔۔۔
اس دوران وہاں موجود ایک ایک نفوس اس اقدام پر سرسراتی چہ مگوئیوں پر اتر آیا تھا۔
ہنوز اپنے عکس کو دھندلائی نگاہوں سے گھورتے ہوئے آبرو نے آہستگی سے پلکیں جھپکائیں۔۔۔تو دو آنسو ٹوٹ کر اسکی تپتی گالوں پر پھسلے۔
”ایک منٹ پولیس آفیسر صاحب۔۔۔اول تو یہاں کا دھندا سالوں پرانا ہے۔۔۔جس کی بھرپائی ہم تم جیسے پولیس والوں کے آگے ماہوار بھتے کی صورت میں پیش کرتے آئے ہیں۔۔۔اور دوسرا۔۔رہی بات اس دھندے کو چلانے کی تو۔۔۔۔جان لو کہ اس گمنام حویلی میں جبراً کچھ بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔یہاں موجود تمام تر عورتیں اپنی مرضی سے رہ رہی ہیں۔۔۔۔حتیٰ کہ میری معصوم کلی رابی بھی۔۔۔جسے یہ شخص آپ سب لوگوں کے سامنے یوں اپنی بیوی بناکر پیش کررہا ہے۔۔۔۔“ تابین بائی کا باقاعدہ غصے میں ہاتھ نچا نچا کر کیا جانے والا احتجاج جہاں اس دوغلے پولیس آفیسر کی پیشانی پر تیوری لے آیا تھا۔۔۔وہیں اس کے سنگ قدرے اطمنیان سے کھڑے اس شخص کے لبوں پر تمسخرانہ مسکراہٹ بکھرنےکا سبب بنا۔۔۔جس کی بھوری نگاہوں کا مرکز ہنوز وہی ایک تھی۔۔۔جو اشتعال سے مٹھیاں پھینچے کھڑی چپ چاپ اسی کو دیکھ رہی تھی۔
آبرو کا دل عجیب احساس تلے گھبرانے سا لگا تو وہ تیزی سے پلٹتی واشروم سے باہر نکل آئی۔
”دیکھو بی بی معاملہ صاف صاف ہے۔۔۔سو ایسے میں ہمیں ورغلانے کی کوشش مت کرو ۔۔۔۔نکاح نامہ۔۔۔اور مولوی سمیت گواہان کی شاہ صاحب کے حق میں گواہی جیسے ثبوت ہمیں مل چکے ہیں۔۔۔۔پر اگر جو تم نے اپنی شرافت نہ دکھائی تو ان تمام تر ثبوتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں مجبوراً تم پر ایک بھاری کیس دائر کرنا پڑے گا۔۔۔۔مزید تمھارا یہ چلتا چلاتا اڈا بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔۔۔۔“ پولیس والا قدرے بےلچک انداز میں تابین بائی کو نت نئی فکریں باور کروارہا تھا۔۔۔اور وہ سرخ لبوں پر زبان پھیرتی ناچاہتے ہوئے بھی فکرمند ہورہی تھیں۔
”مان لیتے ہیں کہ شوہر ہے تو کیا۔۔۔؟؟؟میری بچی اب خود اس کے ساتھ جانے کو راضی نہیں ہے۔۔اب کیا زبردستی اسکی زندگی برباد کردوں۔۔۔۔؟؟؟“ چٹخ کر پوچھتے ہوئے وہ بےبس ہورہی تھیں۔
ایک ایک کرکے تمام تر حقیقتیں بتانا فی الوقت دشوارترین ہی تو تھا۔
”کیا معلوم تمھارے زبردست دباؤ تلے میری بیوی کی مرضی اب دب چکی ہو تابین بائی۔۔۔۔حالانکہ ان تصاویر میں میرےہمراہ اس کا ہنستا مسکراتا چہرہ صاف ظاہر کررہا ہے۔۔۔جو وہ دل سے چاہتی ہے۔۔۔۔۔“ کچھ سلگ کر کہتے ہوئے بے اختیار شاہ نے جیب سے موبائل نکال کر وال پیپر پر لگی نکاح کی تصویر سرعام دکھائی۔۔۔تو جہاں مقابل کھڑی آبرو کا دل اس پل دھڑک اٹھا تھا۔۔۔وہیں اسکا پلڑا بھاری پڑتا دیکھ تابین بائی کا سینہ پیٹ لینے کو دل چاہا۔
”بالکل صحیح۔۔۔اور ویسے بھی ایک لڑکی کے لیے اس سے بہتر اور کیا بات ہوسکتی ہے کہ وہ اس بدنامی سے نکل کر اپنے شوہر کے سنگ ایک عزت بھری زندگی جیئے۔۔۔۔اب تو یہ تمھیں طے کرنا ہے تابین بی بی کہ تم صلح صفائی سے یہ معاملہ ختم کرنا چاہتی ہو۔۔۔۔؟؟یا پھر خود کے ساتھ ساتھ ہمارا سکون بھی برباد کرکے۔۔۔؟؟“ اس بار پولیس آفیسر نے اپنے ساتھ آئے حوالدار کے ہاتھ میں پکڑی ہتھکڑی کی طرف اشارہ کرتے صاف دھمکی دی تھی۔
اور پھر۔۔۔
بے چین دل پر ہاتھ رکھ کر بیڈ پر بیٹھتی آبرو کو اُس پل خود کا دیا گیا جواب سماعتوں میں سیسے کی مانند گھولتا ہوا محسوس ہوا۔
” مجھےمنظور ہے۔۔۔۔میں جاؤں گی اس شخص کے ساتھ۔۔۔۔اسکی بیوی کی حیثیت سے۔۔۔۔“ بآواز بلند گویا ہوتی جہاں وہ اپنے اس حتمی فیصلے سے تقریباً سبھی کو ساکت ہونے پرمجبور گئی تھی۔۔۔وہیں وہ اسکی جانب دیکھ کر سر کو ہولے سے جنبش دیتا ایک ادا سےمسکرایا۔
وحشتوں میں دھکیلتی صاف مسکراہٹ۔۔۔۔
ہاں۔۔۔ہاں وہ ساتھ نہ دیتے ان حالاتوں سے مجبور ہوکر ہی سہی۔۔مگر شاہ میرحسن کے ہمراہ اسکے فلیٹ میں چلی آئی تھی۔۔۔۔
ایک طرف۔۔۔ایکسیڈنٹ کے بعد سالار خان کے ہوش میں آنے کی خبر نے اسکے بےچین وجود نے اطمینان تو اتارا تھا۔۔۔مگر اس نئے ہنگامے کے سبب اسکا یہ اطمینان اب اذیت اور نت نئی فکروں میں ڈھل چکا تھا۔
آبرو اپنے بھیگتے رخساروں کو رگڑ کر صاف کرتی مزید گہرائی میں اترتی چلی جاتی۔۔۔اگر جو دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوتا شاہ اسکی سوچوں کا تسلسل نہ توڑتا تو۔۔۔۔
کچھ دیر پہلے وہ اسے خود کے کمرے میں چھوڑ جانے کے بعد اب واپس آیا تھا۔۔۔
اگلے ہی پل شاہ میر پلٹ کر انگارہ ہوتی نگاہیں اسکے بےتاثر چہرے پر جمائے ۔۔۔قدم قدم چلتا ہوا اسکے قریب آیا تھا۔
آبرو کو لگا جیسے اب وہ انتقاماً اس پر پے در پے ہاتھ اٹھائے گا۔۔اور اٹھاتا ہی چلا جائے گا۔
مگر یہ کیا۔۔۔؟؟؟
مزید پل خاموشی کی نذر ہوجانے پر اپنا اندازہ غلط ہوتا دیکھ۔۔۔اس نے کچھ حیرت سے اسکے تنے ہوئے نقوش بغور دیکھے۔
چوڑے سینے پر بازو لپیٹے وہ اسے ہی قدرے عجیب نگاہوں سے گھور رہا تھا۔
”ڈر لگ رہا ہے میری موجودگی سے۔۔۔۔؟؟؟“ بظاہر نرمی سے پوچھتا شاید وہ اسکی کیفیات کو بھانپ چکا تھا۔
آبرو نے سادگی سے پلکیں جھپکائیں۔
”مجھے نہیں لگتا کہ ایک شوہر کی موجودگی اسکی بیوی کے لیے کبھی ڈرنے کا سبب بن سکتی ہے۔۔۔وہ تو بذاتِ خود ایک محافظ ہوتا ہے۔۔۔نہیں؟؟۔۔۔“ سنبھل کر دوبدو جواب دیتی وہ اپنی طراری سے شاہ کو مٹھیاں بھینچنے پر مجبور کرگئی۔
”جانتی ہو بیوی؟؟محبت نہیں۔۔۔عشق کیا تھا تم سے۔۔۔۔تمھاری جھوٹی پارسائی سے۔۔۔تمھاری حیاء۔۔۔ہچکچاہٹ۔۔مسکراہٹ۔۔۔انفیکٹ ہر ادا سے ہی۔۔۔۔“ مدھم۔۔سلگتے لہجے میں بولتے ہوئے اس نے بے اختیار اپنی پیشانی کو سختی سے مسلا۔۔۔تو لب بھینچتی وہ کچھ بےزاری سے اپنا چہرہ پھیر گئی۔
”مگر اس عشق کے جواب میں تم نے ایسا ناقابلِ برداشت فراڈ کیا ہے میرے ساتھ کہ دل سمیت روح تک جل کر خاکستر ہوچکی ہے میری۔۔۔کیوں؟؟؟۔۔۔۔آخر کیوں برباد کیا میرا سکون۔۔۔۔؟؟؟“ اسکا یوں نگاہیں چرا جانا زہر ہی تو لگا تھا مقابل کو۔۔۔۔ جبھی آگے بڑھ کر۔۔۔درشتگی سے اسکا منہ دبوچ کر سر بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹکاتا وہ قدرے زور سے چلایا۔
اسکی رخسار میں دھنستی انگلیاں آبرو کی نیلی نگاہیں نم کرگئی تھیں۔۔۔مگر ان میں بھیگتی بغاوت شاہ کا دماغ خراب کرنے کے لیے کافی تھی۔
”کچھ پوچھ رہا ہوں میں تم سے ڈیمٹ۔۔۔۔؟؟؟یوں چپ رہ کر میرا ضبط مت آزماؤ۔۔۔جواب چاہیے مجھے۔۔۔صرف سچ۔۔۔اسکے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔“ پھنکار کر پوچھتے ہوئے اب کہ وہ اسکے مقابل۔۔قریب تر بیٹھ چکا تھا۔
”کیونکہ۔۔تمھاری بربادی مجھے سکون پہنچاتی ہے۔۔شاہ میرحسن۔۔۔۔۔“ مٹھیوں میں بیڈ شیٹ کو دبوچتے جہاں اسنے ہنوز اپنا آپ مقابل سے چھڑوانے کی کوشش نہیں کی تھی۔۔۔وہیں شفاف چہرے پر بکھرتی اس کی سلگتی سانسیں دل کی دھڑکنیں مزید بڑھاگئیں۔
”میری بربادی ہی کیوں۔۔۔۔؟؟؟“ تیوری چڑھاکر پوچھتے شاہ کا دل اس کے جواب پر بھڑکتی بھٹی کی مانند جل رہا تھا۔
”کھیل میں بادشاہ کو مات دینے کے لیے مہروں کی موت لازم ہوتی ہے۔۔۔۔مگر افسوس کہ تم جیسا مہرہ میرے جانلیوا وار سے پہلے ہی اپنی چال بدل گیا۔۔۔۔یا پھر شاید بدقسمتی سے قسمت چال بدل گئی جو میرا سچ یوں تمھارے سامنے آگیا۔۔۔۔“ شدت سے اسکی آنکھوں میں جھانکتی وہ اسی کے انداز میں پھنکار کر بولی۔۔۔تو ضبط کھوتا اگلے ہی پل وہ اسے شفاف گردن سے دبوچتا بستر پر گرا چکا تھا۔
آبرو اس غیرمتوقع افتاد پر شدت سے بوکھلائی تھی۔۔۔جو گھٹنے کے بل پورے استحقاق سے اس پر جھکتا۔۔۔دوسرے ہاتھ سے اسکی نازک کلائی بھی تھام چکا تھا۔
”کون بادشاہ۔۔۔۔۔؟؟ہہمم۔۔۔؟؟؟کس بادشاہ تک پہنچنے کی بات کررہی ہو تم۔۔۔۔؟؟؟یا وحشت۔۔۔یہ بےتکی پہلیاں بجھوانے کا فضول سا ڈرامہ بند کرو اب۔۔۔۔“ سخت تاثرات لیے بڑے ضبط سے پوچھتا وہ آخر میں چٹخ سا گیا۔
اسکی مردانہ کلائی سختی سے تھامے۔۔۔آبرو کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر کنپٹیوں پر لڑھکے۔
گردن کے گرد اس کی پکڑ مضبوط ضرور تھی۔۔۔ مگر اتنی سخت قطعاً نہیں تھی کہ سانسیں ہی گھٹ جاتیں۔۔۔
”عشق محبت کے ہزار ہا دعوے کرنے کے باوجود بھی۔۔۔حقیقت جان لینے پر اب خاصی نفرت ہوچکی ہے ناں تمھیں مجھ سے۔۔۔۔؟؟؟“ کف تلے کلائی چھوڑ۔۔اب کہ گریبان پکڑتی وہ شاہ کو اپنے غیر متوقع سوال سے چونکا گئی۔
استفسار کرتی نیلی نگاہوں میں اچانک گھلتی تپش ناچاہتے ہوئے بھی اسکا دل دھڑکا چکی تھی۔
کس قدر فریبی عورت تھی ناں وہ۔۔۔قریب سے اسکے نقوش تکتے شاہ کو شدت سے یہ احساس ہوا تھا۔
”مطلب ہو گئی ہے۔۔۔ہونہہ۔۔۔کوٹھے میں ناچتی رقاصاؤں کو بھلا محبت کرتا بھی کون ہے۔۔۔؟؟؟سوائے ایک ہوس کے۔۔۔۔۔“ اسکے یوں تیوری چڑھا کر خاموشی سے تکنے پر وہ سنگین صورتحال میں بھی تمسخراڑاتے انداز میں گویا ہوئی۔۔۔تو اسکی بات پر اپنا سارا ضبط کھوتے ہوئے شاہ بےاختیار اسکے چہرے پر دہاڑا۔
”بسسسس۔۔۔۔۔“ رقاصہ کےنام نے تو جیسے اسکے جلتے زخموں کو مزید دہکا کر رکھ دیا تھا جبھی کلائی چھوڑتے ہوئے۔۔۔وہ سانسیں گھوٹنے کو قریب پڑا تکیہ اٹھاتا اسکے منہ پر رکھ گیا۔
”بیوی ہو تم میری اب۔۔۔۔بیوی۔۔۔۔کوئی رقاصہ نہیں۔۔۔سنا تم نے۔۔۔۔۔“ شدت سے بوکھلاتی آبرو نے اسے دونوں ہاتھوں سے دھکا دینے کی ناکام سی کوشش کی تھی۔۔۔ جب گردن سے ہاتھ ہٹائے۔۔۔وہ آنکھوں میں بھیگی سرخی لیے چیخ کر کہتا۔۔۔تکیے پر دونوں ہاتھوں سے اپنا دباؤ مزید بڑھاتا چلاگیا۔
”امممم۔۔۔۔امممم۔۔۔۔۔۔“ نتیجتاً تکیے تلے گھوٹتا سانس اب کہ اسے شدت سے مچلنے پر مجبور کرچکا تھا۔۔۔
معاً اسکی مزید سخت ہوتی مزاحمت پر اگلے ہی پل شاہ نے جھٹکے سے تکیہ پیچھے ہٹایا۔۔۔تو ضبط سے سرخ پڑ چکے چہرے کے ساتھ لمبے لمبے سانس بھرتی آبرو کے رخسار آنسوؤں تلے بھیگتے چلے گئے۔
دل پھٹنے کی حد تک شدتوں سے دھڑک رہا تھا۔
”جانتی ہو؟؟ماضی میں حرمین زہرا نے فقط ایک تھپڑ مارا تھا میرے منہ پر۔۔۔فقط ایک۔۔۔ اور جواب میں،میں نے روح سمیت اسکی عزت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا تھا۔۔۔پر یہاں تو تم نے سیدھا میری ذات پر پے در پے تھپڑ مارے ہیں مس آبرو۔۔۔ذرا سوچو۔۔۔۔سوچو کہ تمھارا کتنا برا حال کروں گا میں۔۔۔۔۔؟؟؟“ خود سے مزید خائف کرنے غرض سے قریب ہوتا وہ۔۔۔اپنے جرم کا اظہار کرتے ہوئے اسے صاف دھمکا رہا تھا۔۔۔جب ہنوز بگڑے تنفس کے ساتھ اسے پوری قوت سے خود سے پرے دھکیلتی وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔
”تو یعنی تم بھی اپنے باپ کی ہی پرچھائی ہو۔۔۔۔حد درجہ ظالم۔۔۔۔“ نفرت سے اسکی جانب دیکھتی وہ بھیگی آواز میں چلائی تھی۔۔۔
وہ جو لڑکھڑا کر سنبھلتا اب بیڈ سے اتر چکا تھا۔۔۔اسکے لفظوں پر کچھ حیرت سے بھنویں سکیڑ گیا۔
بھلا ان دونوں کے معاملے سے اس کے باپ کا کیا تعلق تھا۔۔۔۔
”کیا۔۔؟؟کیا مطلب کیا ہے تمھاری اس بکواس کا۔۔۔؟؟ہہمم۔۔؟؟؟ اسکی جانب دیکھتے اس نے تندہی سے پوچھا تو وہ بھی بیڈ سے اترتی اسکی مقابل آ رکی۔
”تم جاننا چاہتے تھے ناں۔۔؟؟جاننا چاہتے تھے ناں کہ م۔۔میری ماں۔۔۔میرے باپ کا قاتل کون تھا۔۔۔۔؟؟؟“ سسک کر سوال کے بدلے سوال پوچھتی وہ سینے پر ہاتھ رکھے اسے دو قدم پیچھے دھکیل گئی تھی۔۔۔
اس جرات پر شاہ نے اشتعال سے مٹھیاں بھینچ لیں۔
”میں بتاتی ہوں تمھیں۔۔۔۔تمھارا باپ۔۔حسن خاور تھا وہ قاتل۔۔۔۔۔۔“ وہ ایک بار پھر زور لگا کر اسے پیچھے کی جانب دھکا دیتی حلق کے بل چیخی۔۔۔تو اس غیر متوقع انکشاف پر شدت سے دنگ ہوتے شاہ کی پیشانی کے بل بے اختیار سمٹتے چلے گئے۔۔۔
”قاتل۔۔۔۔۔
زانی۔۔۔۔۔
سفاک۔۔۔۔
آزاد مجرم۔۔۔۔۔“ ایک ایک کرکے پوشیدہ حقیقتیں بڑی بےدردی سے اسے باورکرواتی وہ بے اختیار اپنے بال مٹھیوں میں جکڑگئی۔۔۔تو نفی میں سر ہلاتے ہوئے شاہ کی بے یقینی مزید بڑھتی چلی گئی۔
”جھوٹ۔۔۔۔جھوٹ بول رہی ہو تم۔۔۔۔م۔۔میرا باپ ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔قطعی نہیں۔۔۔۔“ اسکی بگڑی حالت پر ڈوبتے دل کی پرواہ کیے بنا۔۔۔وہ بڑے اعتماد سے گویا ہوا۔
ہاں۔۔۔ہاں وہ سخت طبعیت ہوسکتے تھے۔۔۔
بےحس ہوسکتے تھے۔۔۔۔
نفرت کی حد تک بیگانہ رویہ اپنانے کے متحمل بھی ہو سکتے تھے۔۔۔
مگر۔۔۔قاتل۔۔۔
زانی۔۔۔
مجرم۔۔۔۔
ناممکن۔۔۔۔
ناممکنات میں سے ایک ہی تو تھا شاہ کے لیے۔۔۔۔
دکھ سے اسکی جانب دیکھتی آبرو کا دل اسکے صاف انکار پر اذیت تلے شدت سے مچلا۔
”تمھیں کیا لگتا ہے شاہ میرحسن۔۔۔۔پیدائشی رقاصہ ہوں میں ۔۔۔؟؟ہاں۔۔۔۔؟؟ کوٹھے میں پیدا ہوا ایک گند ہوں۔۔۔۔؟؟؟
نہ نہ شاہ۔۔۔نہ۔۔۔۔انتقام کے نام پر میرے ماں باپ۔۔۔
اور غیرت کے نام پر تمھاری سگی پھوپھی کا قتل کرنے کے بعد۔۔۔مجھے کوٹھے کی زینت بنانے والا ذلیل ترین انسان ہے تمھارا باپ۔۔۔۔“ اسکے حدردجہ قریب آتی وہ شدت سے پھنکاری۔آنسو تواتر سے گالوں کو بھگورہے تھے۔
”جسٹ شٹ اپ یو ڈیمٹ۔۔۔۔جسٹ شٹ اپ۔۔۔ بند کرو میرے باپ پر گھٹیا قسم کے بہتان باندھنا۔۔۔“ ضبط ٹوٹنے پر چیخ کر بولتا وہ اگلے ہی پل اسکی بندھی چوٹی کو مٹھی میں دبوچ چکا تھا۔
”اب اگر جو تم نے ایک لفظ مزید میرے ڈیڈ کے خلاف بولا تو خدا قسم زہر اگلتی اس زبان کو گدی سے کھینچ کر الگ کرنے ذرا بھی وقت نہیں لگاؤں گا۔۔۔سمجھی تم۔۔۔۔“ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولتے ہوئے جہاں اسکی رگیں صاف پھولتی دکھائی پڑ رہی تھیں۔۔۔۔وہیں آبرو سخت گرفت کے سبب جڑوں میں اٹھتی تکلیف پر لب بھینچتی۔۔۔بےاختیار سینے سے اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچ گئی۔
”اپنے باپ کی طرح اگر جان سے بھی مار دو گے ناں شاہ میر حسن۔۔۔ تو بھی میں اپنی اس سچ اگلتی زبان کو بےلگام ہونے سے نہیں رکوں گی۔۔۔۔بولوں گی۔۔۔چیخ چیخ کر بولوں گی۔۔۔۔کرلو جو کرسکتے ہو۔۔۔۔“ قدرے ہمت سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نفرت سے گویا ہوتی وہ شاہ کا دل بےسکونی تلے شدتوں سے دھڑکا گئی تھی۔
نتیجتاً اس نے آبرو کے نقوش پر گہرا سانس چھوڑتے ہوئے ضبط سے جلتی آنکھیں میچ کر کھولیں۔
”جانتا ہوں آبرو سکندر۔۔۔اچھے سے جانتا ہوں کہ ایک بار پھر تم مجھے مکروہ فریب دینے کے چکروں میں ہو۔۔۔تمھاری یہ چھلکتی آنکھیں۔۔۔تمھاری کہی باتیں۔۔۔اور تم خود۔۔۔ایک فریب ہو۔۔۔
پر اب ایسا نہیں ہوگا بیوی۔۔۔۔اب فقط وہی ہوگا جو میں چاہتا ہوں۔۔۔۔اور میں تمھیں اپنی قید میں رکھتے ہوئے۔۔۔ہرلحاظ سے تمھارا سکون برباد کرنا چاہتا ہوں۔۔۔بالکل اسی طرح جیسے تم میرا کرچکی ہو۔۔۔۔“ قدرے مضبوط لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر بولتا وہ اسے صاف دھمکا رہا تھا۔
آبرو کے چہرے کی رنگت اس کے ظلمانہ الفاظ پر خطرناک حد تک متغیر ہوئی تھی۔۔۔۔
نیلی نگاہوں میں بھیگتا اشتعال مزید بڑھا تھا۔۔۔جس میں اپنا سفاک عکس بغور دیکھتا وہ اگلے ہی پل اسے بےدردی سے پیچھے بیڈ کی جانب دھکیل گیا۔
پھر شدید غصے میں کمرے کا دروازہ کھول کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
پیچھے وہ پل بھر کا توقف لے کر شدتِ بےبسی سے چیختی ہوئی بیڈ شیٹ کو کھینچ کر نیچے پھینکتی۔۔۔اگلے ہی پل خود بھی ڈھے جانے کے انداز سے زمین بوس ہوچکی تھی۔


دہکتے سورج تلے دل کو وحشت زدہ کرتی ہوئی وہ کوئی قدرے ویران۔۔پتھریلی سی ناہموار جگہ تھی۔۔۔جہاں وہ۔۔۔ان دونوں کے مقابل دوزانوں ہوکر بیٹھا اس پل قدرے اذیت میں دکھائی دے رہا تھا۔
ایسے میں چلتی ہوا کا بہاؤ بھی خاصا ندارد تھا۔۔جبھی اسے حلق میں ہی اپنی سانسیں مزید گھوٹتی ہوئی محسوس ہونے لگیں۔
”ی۔۔یہ۔۔۔یہ دیکھ رہی ہو۔۔۔؟؟؟تمھارے سبب میری حالت کیا سے کیا ہوچکی ہے۔۔۔۔دل کے ساتھ ساتھ میرا سکون۔۔۔میرا وجود خون خون کردیا ہے تمھاری اس بےوفائی نے۔۔۔“ وہ پور پور خوبصورت دلہن میں ڈھلی اپنے محرم شخص کی بانہوں میں سمٹ کر کھڑی تھی۔۔جب نم سرخ نگاہوں سے محض اسی کی جانب دیکھ کر وہ بھرائی آواز میں چیخا۔
مگر صد افسوس کہ سناٹے کو شدت سے توڑتے اسکے اذیتی شکوے نے نگواریت کے سوا۔۔۔اس جوڑے کے جذباتوں پر کچھ خاص اثر نہیں ڈالا تھا۔۔۔ہاں البتہ دل کے ساتھ ساتھ اب اسے خود کا دماغ شدت سے کٹتا ہوا ضرور محسوس ہونے لگا تھا۔
”مگر افسوس۔۔۔افسوس کہ اس سب کے باوجود بھی۔۔۔میری سانسیں چل رہی ہے۔۔۔دل دھڑک رہا ہے۔۔۔زندہ ہوں میں۔۔۔۔۔۔“ معاً پھٹی پیشانی سے گال پر لڑھکتے لہو کو بےدردی سے رگڑتا وہ اس بار مدھم شکستہ لہجے میں بولنے پر مجبور ہوا۔۔۔تو بھنویں سکیڑتی وہ شاہ کی بانہوں سے نکل کر اگلے ہی پل اسکے مقابل۔۔۔قریب تر ہوکر بیٹھی۔
گھنگرؤوں کی چھنکار سنتے سالار خان نے سینے پر ہاتھ دھرے۔۔۔جلتی نگاہوں سے اسکے یک لخت بدلتے تاثرات دیکھے۔
”واللہ۔۔۔سالار خان غلط بیانی مت کرو۔۔۔۔میں نے کبھی بھی تم سے اس بات کا اعتراف نہیں کیا کہ مجھے تم سے بےپناہ تو دور۔۔فقط محبت ہے۔۔۔۔
جب محبت ہی نہیں تو پھر یہ بےوفائی کیسی۔۔۔؟؟؟“ سفاکی سے پوچھتی وہ کس قدر نرم لہجہ اپنائے ہوئے تھی ناں۔۔۔
اس کے نزدیک اپنی اوقات جان کر ہتھیلی تلے سالار کا سلگا دل درد کی شدت سے مزید پھڑپھڑانے لگا۔
”تو پھر کیا یہ شخص تمھاری م۔۔محبت۔۔۔تمھاری منزل ہے۔۔۔۔؟؟؟میں نہیں۔۔۔۔؟؟؟“ شہادت کی انگلی۔۔۔مٹھیاں بھینچ کر ساکت کھڑے شاہ کی جانب اٹھا کر ٹوٹے لہجے میں پوچھتا ہوا وہ پل پل بکھررہا تھا۔
جواباً رابی گردن موڑ کر شاہ کی جانب دیکھتی قدرے محبت سے مسکرائی۔پھر واپس اسکی جانب متوجہ ہوتی بڑے اعتماد سے اثبات میں سر ہلاگئی۔۔۔
تو جواباً سالار خان کو پلکوں سے ٹوٹ کر گال پر پھسلتے آنسو صاف محسوس ہوئے۔سلگاتی گرمی پسینے کا سبب بن رہی تھی۔
”میں اپنی منزل کا انتخاب کر چکی ہوں۔۔۔۔اب تمھاری باری ہے۔۔۔ان غلط راہوں کو چھوڑ کر اپنے حق میں درست منزل کا انتخاب کرو۔۔۔۔۔“ تنبیہی انداز میں کہہ کر کھڑی ہوتی وہ اگلے ہی پل صاف اشارے سے اسے گردن موڑ کر پیچھے دیکھنے پر مجبور کرچکی تھی۔
ایسے میں جہاں آگے بڑھتے شاہ نے واپس رابی کے گرد مضبوط حصار باندھتے ہوئے اسے پورے استحقاق سے اپنے قریب تر کیا تھا۔۔۔وہیں ایک فاصلے پر اسے بکھری حالت میں ساکت کھڑا دیکھ سالار کا بند ہوتا دل شدتوں سے دھڑک اٹھا۔
”ح۔۔۔حلیمہ۔۔۔۔“ بڑی آہستگی سے کھڑے ہوکر۔۔۔مکمل اسکی جانب پلٹتے ہوئے اسکے سوکھے لب پھڑپھڑائے تھے۔
پھر بےاختیار کچھ حیرت سے رابی کی جانب دوبارہ دیکھنا چاہا۔۔۔تو اس سمیت شاہ کو وہاں نہ پاکر چونکتا وہ واپس اسکی جانب متوجہ ہوا۔
”آپ کا دل تو دھڑک رہا ہے خان۔۔۔۔مگر آپکے سبب میری دھڑکنیں تھم چکی ہیں۔۔۔۔“ معاً بھیگتے لہجے میں اس پر اپنی بدتر حالت عیاں کرتی وہ بےتابانہ اسکی جانب دیکھتی دو قدم پیچھے کو ہوئی تھی۔
”ن۔۔نہیں۔۔۔۔ایسا مت کہو۔۔۔۔“ اسکی بآواز ِبلند بات پر بےسکونی تلے نفی میں سر کو جنبش دیتے وہ چار قدم اٹھاتا اسکی جانب لپکا۔
”آپکی سانسیں چل رہی ہیں۔۔۔۔مگر میری سانسیں۔۔۔؟؟میری سانسیں اب مجھ میں رہنے کے قابل نہیں رہیں۔۔۔۔۔“ دوپٹے سے محروم سینے پر ہاتھ رکھتی۔۔وہ نم آواز میں چیخ کر مزید پیچھے کو کھسکی تھی۔۔۔جب بےاختیار سالارخان کی مزید پرے کو بھٹکتی نگاہوں کو۔۔۔محض چند قدموں کی دوری پر اس پتھریلی زمین کے ختم ہونے کا شدت سے احساس ہوا۔۔۔
”رکو۔۔۔۔پیچھے قدم مت لو۔۔۔۔مجھ سے دور مت جاؤ۔۔۔خدا کے لیے مجھ سے دور مت جاؤ۔۔۔۔۔“ اسکی جانب اپنی چال میں روانی لاتے اسکے اندر شدتوں سے خوف چیخا تھا۔
مگر وہ۔۔۔۔
وہ تو اسی تیزی سے۔۔۔متواتر پیچھے کو قدم اٹھاتی اس سے پل پل دور ہوتی چلی جارہی تھی۔
”آپ تو زندہ ہیں خان۔۔۔مگر میں فنا ہوچکی۔۔۔۔ختم ہوچکی خان۔۔۔حلیمہ اب ختم ہو چکی۔۔۔۔“ رو کر بولتی وہ پتھریلے کنارے پر آتی صاف لڑھکی تھی۔۔جب فنا ہوتی روح کے ساتھ وہ پسینے سے تر وجود لیے سرعت سے اسکی طرف بھاگا۔
پھٹتا ذہن اس قدر تکلیف کرنے لگا تھا کہ مقابل وحشتیں بڑھاتا یہ۔۔۔۔ ناقابلِ برداشت منظر اگلے ہی پل تیزی سے شفاف سیاہی میں بدلتا چلا گیا۔
”ہاااا۔۔اا۔۔۔۔ہ۔۔۔۔۔“ نم ہورہی خمارزدہ آنکھیں جھٹکے سے کھولتا وہ شدید گھبراہٹ تلے سادہ بیڈ شیٹ کو بےاختیار مٹھیوں میں دبوچ چکا تھا۔
بیت چکے لمحوں میں دکھتا خواب تھا۔۔۔یا پھر حقیقت کا عکس۔۔۔۔؟؟
سر میں اٹھتی ٹیسوں کے سبب گہرے گہرے سانس بھرتا وہ فوری سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
ایسے میں۔۔۔سینے میں دھڑکتا دل خاصا کمزور ہورہا تھا۔۔۔۔کمزوری تو اس پل اسے پورے وجود میں بھی سرائیت کرتی محسوس ہورہی تھی۔
معاً ہتھلیوں کے زور پر لیٹے سے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے وہ درد تلے سختی سے لب بھینچ گیا۔۔۔۔جب ٹھیک سامنے ڈریسنگ مرر میں دکھائی پڑتا اپنا عکس دیکھتا وہ چونک سا گیا۔
پے در پے سفید رنگ پٹیوں میں جکڑا خود کا بھاری ہوتا سر اسے اپنے ساتھ ہوئے حادثے کی شدت سے یاد دلاتا چلا گیا تھا۔
گہری چوٹ کے سبب۔۔اس چھوٹے سے آپریشن کے بعد گزشتہ روز ہی تو اسے ہوش آیا تھا۔۔۔۔اور پھر نتیجتاً مطلوبہ دوائیوں کے ساتھ ساتھ بیڈریسٹ کے سوا فی الوقت اسکے پاس کرنے کو اورکچھ باقی نہیں رہا تھا۔
اس قدر لاپرواہی کے باوجود بھی صدشکر تھا کہ۔۔۔ اسکا مزید کوئی جسمانی۔۔جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔۔۔
مگر ذہنی اذیت بھی کہاں کم تھی بھلا۔۔۔
خواب کی بےسکون کیفیت جہاں اس پر ہنوز رقصاں تھی۔۔۔وہیں آنکھوں کی گہری ہوتی نمی کو بےدردی سے رگڑتے سالار خان کو حلیمہ کا خود سے روپوش ہوجانا یاد آیا تھا۔۔۔۔
حواسوں میں رہتے ہوئے بھلا کہاں وہ ایک بار بھی اسکے سامنے آئی تھی۔۔۔۔قریب ہوکر احوال جاننا تو قدرے دور کی بات تھی۔۔۔
سالار خان تاسف سے سرخ ہورہی آنکھیں بھینچ گیا۔۔۔جب کوئی بند دروازے کھول کر کمرے میں داخل ہوا تھا۔
”تم جاگ گئے ہمارے جگر۔۔۔۔اب کیسی طبعیت ہے۔۔۔۔؟؟؟“ متفکر سی پوچھتی خنساء بیگم چلتی ہوئی اس تک آئیں تھیں۔۔۔مگر ان کی جانب چونک کر متوجہ ہوتے سالار کی نگاہوں میں۔۔۔اپنی ماں کی تقلید میں آتی راحیلہ بیگم کو دیکھ کر صاف الجھن در آئی۔
”یہ۔۔۔؟؟؟یہ عورت یہاں پر کیا لینے آئی ہیں اماں حضور۔۔۔۔؟؟؟جبکہ اس روز میں آپ سے صاف صاف کہہ چکا تھا کہ ان لوگوں میں سے ایک بھی اس حویلی میں قدم نہ رکھنے پائے۔۔۔تو پھر۔۔۔۔۔؟؟؟“ مدھم سلگتے لہجے میں پوچھتا وہ چاہ کر بھی اونچا بولنے سے پرہیز برت رہا تھا۔۔۔تو جہاں راحیلہ بیگم اس بیمار شخص کی صاف بدلحاظی پر حیران ہوئی تھی۔۔۔وہیں خنساء بیگم بھی اس کے بگڑے رویے پر چونکیں۔
”راحیلہ بہن۔۔۔بس تمھارا پتا لینے آئی ہیں برخوردار۔۔۔ٹھنڈے ہوجاؤ۔۔۔۔۔۔“ بات سنبھالنے کی کوشش میں وہ نرم لہجے میں گویا ہوئی تھیں۔۔۔
حقیقت بھی تو یہی تھی۔۔۔۔
”کس حق سے۔۔۔۔؟؟؟آپکی دوست ہونے کے حق سے۔۔۔۔یا پھر اپنے ان نئے رشتوں کو نبھانے کی غرض سے۔۔۔؟؟؟جن کا نبھاہ تقریباً ناممکن ہے۔۔۔۔۔“ سر میں اٹھتی ٹیس کی پرواہ کیے بنا وہ راحیلہ بیگم کی جانب دیکھتا۔۔حلیمہ کی بابت گہرا طنز کرگیا۔
اسکا یہ شدید ری ایکشن ان دونوں کے لیے حقیقتاً غیر متوقع تھا۔
”ارے بچے تم بلاوجہ بدگمان کیوں ہورہے ہو ہم سے۔۔۔۔؟؟؟تمھارے ایکسیڈنٹ کی اطلاع بھی ہمیں خنساء بیگم کی بجائے کہیں باہر سے ملی تھی۔۔۔۔سوجیسے ہی پتا چلا تو میں بنا کچھ سوچے سمجھے عرفان کے ہمراہ فوری احوال پرسی کو یہاں چلی آئی۔۔۔۔“ اسے سمجھانے کی غرض سے انھوں نے بظاہر نرمی سے وضاحت دی تھی۔۔۔جب عرفان کا نام سن کر بھنویں سکیڑتے سالار کی آنکھوں میں صاف غصہ در آیا۔
تو اب وہ عورت خود کے ساتھ ساتھ اپنے طلاق یافتہ بیٹے کو بھی اٹھا لائی تھی۔۔۔۔
حقیقتاً ضبط توڑنے والی جرات تھی یہ۔
”آپ کی ہمت۔۔۔۔۔۔۔“ سختی سے مٹھیاں بھینچے بھڑک کر بولتا وہ اٹھ کھڑا ہونے کو تھا۔۔۔جب فرش پر چھنکاکے سے ٹوٹتے سوپ کے باؤل نے سبھی کی توجہ کھلے دروازے کے پار ان دونوں کے زبردست تصادم پر کروائی۔
”ا۔۔۔ایم سو سوری حلیمہ۔۔۔موبائل فون کی وجہ سے میرا دھیان۔۔۔افففف۔۔۔۔ذیادہ جلا تو نہیں۔۔۔آ۔۔آپ ٹھیک ہیں ناں۔۔۔؟؟؟“ گرم سوپ شاید حلیمہ کے ہاتھ پر بھی گر چکا تھا۔۔۔جبھی عرفان کا کچھ جھجک کر۔۔۔فکر میں ہاتھ کو تھام کر دیکھنا سالار خان کو آگ لگانے کے مترادف تھا۔
اس بگڑتی صورتحال پر خنساء بیگم نے پریشانی سے لب بھینچے۔۔۔جب حلیمہ بے اختیار اپنا جلتا ہاتھ اسکی نرم گرفت سے چھڑواتی ایک قدم پیچھے کو ہوئی۔
”ٹھیک ہوں میں۔۔۔۔۔“ کہہ کر اپنی ہی جانب ساکت لہو نگاہوں سے تکتے سالار خان پر ایک بےتاثر نظر ڈالتی۔۔۔اگلے ہی پل وہاں سےنکلتی چلی گئی۔
تو اس کے یوں نگاہوں سے اوجھل ہونے پر جہاں عرفان نے معذرت کرتی نظروں سے ان سب کی جانب دیکھا۔۔۔وہیں اس نے بڑے ضبط سے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔۔۔
”تم کمینے انسان۔۔۔؟؟؟نکلو۔۔۔۔۔نکلو یہاں سے۔۔۔اس سے پہلے کہ میری بیوی کو چھونے کی پاداش میں۔۔۔میں تمھیں یہیں زندہ گاڑھ کے رکھ دوں۔۔دفع ہوجاؤ میری نظروں کے سامنے سے۔۔اور آئندہ مجھے یہاں کبھی دکھائی مت دینا۔۔۔۔“ سر میں وقفے وقفے سے اٹھتی تکلیف برداشت کرتا وہ دہاڑتے ہوئے شاید عرفان کا گریبان تک پکڑ لیتا۔۔۔جو اگر خنساء بیگم بروقت اسے بازو سے تھام کر وہیں پر نہ روک لیتیں تو۔۔۔
سالار خان کا حلیمہ کے لیے اس قدر حساس ہونا انھیں پریشانی کے سنگ حیران بھی کیے دے رہا تھا۔
”راحیلہ بہن۔۔۔معذرت پر فی الحال آپ لوگوں کا یہاں سے چلے جانا ہی بہتر ہے۔۔۔۔“ موقع کی نزاکت سمجھتے ہوئے انھیں یہی بہتر لگا تھا۔۔۔ جواباً اپنی اس واضح بےعزتی پر جہاں راحیلہ بیگم منہ بناتی دہلیز کی جانب لپکی تھیں۔۔۔وہیں مٹھیاں بھینچ کر اپنا غصہ ضبط کرتا عرفان۔۔۔اپنی ماں کے اشارے پر مجبوراً ان کے ہمراہ وہاں سے چپ چاپ نکلتا چلا گیا۔
پیچھے سالار خان نے تنگ آتے ہوئے بےاختیار سفید پٹیوں میں جکڑا اپنا سر تھاما تھا۔


”گول گپے کھاؤ گی۔۔۔؟؟؟“ گاڑی کو ٹھیک گول گپے والے اسٹال کے سامنے بریک لگاتے ہوئے اس نے نرمی سے پوچھا۔۔ تو حاویہ نے چونک کر اسے دیکھا۔
پھر ذرا آگے ہوکر اسٹال پر ایک نگاہ ڈالتی ہولے سے مسکرائی۔۔۔
وہ کل سے ہی نفیسہ بیگم کی طرف تھی۔۔۔جبھی عائل اسے واپس لے جانے کی غرض سے جلد ہی اپنی ڈیوٹی سے واپس لوٹ آیا تھا۔ایک عدد ملازمہ کا ہر لحاظ سے خیال رکھنا بھی اب نفیسہ بیگم کی دن بدن گرتی صحت میں کافی حد تک سدھار لے آیا تھا۔۔۔ورنہ تو اس غیرمتوقع ایکسیڈنٹ کے بعد سے وہ حد درجہ کمزوری کے سبب ڈیڑھ ماہ تک وہیل چئیر کی محتاج بھی رہ چکی تھیں۔
دوسری طرف عائمہ بیگم بھی اس بھڑکتی جھڑپ کے بعد سے جہاں اسے مخاطب کرنا پسند نہیں کرتی تھیں۔۔۔وہیں کافی حد تک اب اپنے کمرے تک ہی محدود ہوکر رہنے لگی تھیں۔
”ضرور۔۔۔کھاؤں گی۔۔۔۔۔“ اپنی کچھ افسردہ ہوتی طبیعت کے باوجود بھی وہ ذرا چہک کر بولی۔۔۔تو سر کو جنبش دیتے عائل نے اگلے ہی پل اپنے سائیڈ کا آدھا شیشہ مکمل نیچے کرتے ہوئے۔۔اپنی جانب متوجہ ہوچکے اسٹال والے کو اشارہ کیا۔۔۔
جواباً فروٹ چاٹ کی بھری پرات ایک طرف دھرتا وہ اپنے ساتھ کام کرتے کم عمر ملازم کو فوری ان کی جانب بھیج چکا تھا۔
حاویہ نے اپنی طرف بھاگ کر آتے اس اٹھارہ سالہ ملازم کو دیکھ کر بےاختیار کچھ حد تک سرک چکا دوپٹہ سر پر واپس درست کیا۔
”جی صاحب۔۔۔۔؟؟کیا لاؤں آپکے لیے۔۔؟؟
گول گپے۔۔۔؟؟
فروٹ چاٹ۔۔۔؟؟
دہی بھلے۔۔۔؟؟؟حکم کیجیے۔۔۔“ عائل کو پولیس یونیفارم میں دیکھ کر بلا جھجک سلوٹ کرتا وہ قدرے پھرتی سے بولا۔۔۔تو عائل ایک مسکاتی نگاہ حاویہ پر ڈالتا واپس۔۔اس ملازم کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
”ایسا کرو گول گپوں کی ایک عدد پلیٹ لے آؤ۔۔۔اور ساتھ میں فروٹ چاٹ کی بھی ایک پلیٹ لیتے آنا۔۔۔۔۔“ اس نے سوچ کر بتاتے ہوئے نرمی سے اسے آرڈر دیا تھا۔۔۔جب تائیدی انداز میں سر ہلاتے ہوئے ملازم کو واپس پلٹتا دیکھ حاویہ نے عجلت میں اسے پکارا۔
”ذرا رکو تو بھیا۔۔۔؟؟؟“ آواز میں بےتابی کا عنصر شامل تھا۔
”جی میڈم جی۔۔۔۔؟؟؟“ چونک کر ایک ادب سے پوچھتا وہ حاویہ کو مزید آگے ہونے پر مجبور کرگیا۔
جبکہ اپنے گھٹنے پر اسکا نرم ہاتھ محسوس کرتے عائل نے بےاختیار منہ پر ہاتھ پھیرا۔
”بھیا۔۔۔؟؟ایکدم تیکھے گول گپے بنائیے گا۔۔۔فل مرچ مصالحہ مار کے۔۔۔اتناکہ اندر تک سواد اتر جائے۔۔۔۔۔۔“ ملازم کی جانب دیکھتی وہ پرجوش سی بولی تو۔۔۔اسکی غیرمتوقع فرمائش بغور سنتا وہ بھنویں سکیڑ گیا۔
”ہرگز نہیں۔۔۔بالکل مناسب مرچیں رکھنا۔۔۔۔“ بےاختیار ٹوکتے ہوئے اس نے گردن موڑ کر اپنی بیوی کو گھورا۔۔جو اسکی بات پر اب کہ تھوڑا سا منہ بسور چکی تھی۔
”مگر کیوں۔۔۔۔؟؟؟اگر آپ سے تیز مرچیں ہضم نہیں ہوتیں تو آپ فروٹ چاٹ کھا لیجیے گا ناں۔۔۔۔میرا ذائقہ پھیکا کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں۔۔۔۔؟؟؟بھیا جیسا آپ سے میں نے کہا ہے۔۔۔بس ویسا ہی کیجیے۔۔۔۔۔“ دوبدو جواب دیتی وہ اب کنفیوز ہوچکے سر کھجاتے ملازم کی جانب دوبارہ متوجہ ہوئی۔۔۔تو اسٹیرنگ پر اپنی پکڑ مضبوط کرتا وہ بےاختیار اسکی جانب جھکا۔
”جانم۔۔۔؟؟بدقسمتی سے اس وقت میرے پاس کوئی ٹشو پیپر یا رومال موجود نہیں ہے۔۔۔“ دبے سرد لہجے میں کہتا وہ ناچاہتےہوئے بھی اسکا دل دھڑکا چکا تھا۔
”ہاں تو۔۔۔۔؟؟؟“ اسکی بات نہ سمجھتے ہوئے وہ بھی بظاہر اسی کے انداز میں اپنی بھنویں سکیڑ گئی۔
”تو یہ کہ بیوی۔۔۔تیز مرچوں کے سبب تمھاری آنکھوں سے بہتا پانی تو میں بخوشی اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کرلوں گا۔۔۔مگرتمھاری سو سو کرتی ناک۔۔۔اپنی سرکاری وردی سے صاف کروانے کا متحمل میں فی الوقت ہرگز نہیں ہوسکتا۔۔۔سو معذرت۔۔۔۔“ تیز مرچوں کے سبب اسکی ہوجانے واالی حالت ٹھہر ٹھہر کر باور کرواتا۔۔وہ اگلے ہی پل بےساختہ اپنی امڈ آنے والی مسکراہٹ دبائے سیدھا ہوا تھا۔۔
جبکہ اے۔ایس پی عائل حسن کے اس صاف طنز پر وہ قدرے حیرت سے اسے دیکھ کر رہ گئی۔
یاداشت میں بیت چکے وقت کا ابھرتا حادثہ بےساختہ تھا۔۔۔جب بمشکل اس گینگسٹر ٹائپ غنڈے کے ہاتھوں بچتے ہوئے وہ اس شاندار مرد کا دل بھی حقیقتاً لوٹ چکی تھی۔
اس دوران وہ کم عمر ملازم حاویہ کے کہے پر مکمل عمل کرنے کا ارادہ کیے۔۔اپنے کندھے اچکا کر وہاں سے پلٹتا جا چکا تھا۔
”آپ بالکل بھی فکر مت کیجیے اے۔ایس۔پی صاحب۔۔۔اس بار میرا بھی آپکی سرکاری وردی خراب کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔۔کیونکہ خوش قسمتی سے میرے پاس ایک بہت بڑا رومال الریڈی موجود ہے۔۔۔۔“ سیدھی ہوکر سیٹ سے ٹیک لگاتی وہ یکدم در آنے والی اپنی جھینپ کو اب کہ کافی حد تک مٹاچکی تھی۔۔۔
سینے پر بازو لپیٹ کر حاویہ کے بڑے اعتماد سے دئیے جانے والے جواب پر پل بھرکو چونکتا وہ اپنی بھنویں اچکا گیا۔
”گڈ گرل۔۔۔ویسےکونسا رومال ہے۔۔۔۔؟؟؟“ اسے ہنوز شفاف شیشے کے پار انہماک سے تکتا دیکھ۔۔عائل مزید چھیڑنے کو دلچسپی سے گویا ہوا۔۔۔تو حاویہ نے سنجیدگی سے پلکیں جھپکا کر براہ راست اسکی مسکاتی نگاہوں میں جھانکا۔
”افف کورس میرا دوپٹہ۔۔۔۔۔“ اگلے ہی پل اپنے مہرون رنگ شفون کے دوپٹے۔۔۔ کا پلو اسکے سامنے جھٹکتی وہ مضبوط لہجے میں بولی تو اسکی بات سمجھتے عائل کا اگلے ہی پل لبوں سے پھوٹتا قہقہ بےساختہ تھا۔
حاویہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کی ہنسی بغور دیکھی تھی۔۔۔جو فقط اسی کے سبب سے تھی۔
”اففف بیوی اففف۔۔۔۔جتنی حسین ادائیں۔۔۔اسی قدر بچگانہ عادتیں۔۔۔اتنی سادہ اور معصوم کہ پہلے سے ہی گرویدہ شوہر کا دل مزید لوٹ لیں۔۔۔“ بےاختیار اسکے ہاتھ میں اپنی مضبوط انگلیاں پھنساتا وہ اپنی بات بولتے دھیرے سے ہنسا تو اسکی نگاہوں کی صاف تپش چند پلوں میں ہی حاویہ کو پلکیں جھکاکر ہولے سے مسکرانے پر مجبور کرگئی۔
ایسے میں شدتوں سے دھڑکتے دل نے سکون دیتے ان لمحات کو یہی روک لینے کی ایک ادنیٰ سی خواہش کی تھی۔۔۔