No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
”اِن گھنگروں کی چھنکار تمھارے ان کومل پیروں میں کس قدر بھلی لگتی ہے رابی۔۔۔
ہربار دل کے تار چھیڑ جاتی ہے۔۔۔
یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ گھنگرو تمھارے لیے نہیں بلکہ تم ان گھنگروں کے لیے بنی ہو۔۔۔۔۔“
اپنے گھٹنے پر دھڑے اُسکے پیر کی نرمی شدت سے محسوس کرتا ساتھ ساتھ وہ گھنگرو کی ہکیں بھی کھول رہا تھا۔
اس دوران وقفے وقفے سے سماعتوں میں گھلتی چھنکار خواجہ کے قیمتی لباس میں ڈھکے قابلِ قبول۔۔
ہٹے کٹے وجود کو ایک الگ ہی لطف سے دوچار کیے دے رہی تھی۔
اس واہیات تعریف پر وہ رخسار پر جھولتی سنہری لٹ کو دھیرے سے کان کے پیچھے اڑستی بظاہر دلکشی سےمسکرائی۔
”واللہ خواجہ صاحب۔۔۔
میرے پیروں میں بندھے ان گھنگروں کی محض چھنکار اگر آپکے دل پر اتنے گہرے اثرات چھوڑتی ہے۔۔
پھرتو میری قاتلانہ ادائیں دیکھ کر یقیناً آپکے کمزور سے دل پر تیز دھار خنجر چلتے ہوں گے۔۔۔“
گھنگروں کی سرخ پٹی اترتے ہی اپنا پاؤں اُسکے گھٹنے سے پرے ہٹاتی وہ شدت سے اترائی تو گھنگرو کی چوڑی پٹی کو مٹھی میں بھینچتا وہ اُسکی کیفیات سے محفوظ ہوا۔
”یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے جانِ بہاراں۔۔۔
میری حالت سے ہی اندازہ لگا لو کہ کس قدر دیوانہ ہوں میں تمھاری اِن جانلیوا اداؤں کا۔۔۔۔“
اپنی خمار سے سرخ پڑتی آنکھیں اُسکی جانب اٹھاتے وہ بےاختیار اپنے گھائل دل پر ہاتھ رکھ گیا۔
اپنے حسن پر نازاں وہ کھلکھلا کر ہنسی۔
”اگر ایسی بات ہے تو پھر اتنے دنوں سے آپ میرے دیدار کو حویلی کیوں نہیں آئے تھے۔۔۔۔
پہلے تو مجھ سے فقط کچھ دنوں کی دوری آپکی طبیعت میں بےچینی سی بھردیتی تھی۔۔۔
مگر اب آپکی دلگی کےآثار مجھے مدھم پڑتے دکھائی دینے لگے ہیں خواجہ صاحب۔۔۔۔“
اپنے نقوش یکدم مصنوعی خفگی میں ڈھالتی وہ شکوہ کناں ہوئی۔۔
جب اُسکی ہر ادا پر اپنا کمزور سا دل ہارتا وہ اچانک اُسے کلائی سے دبوچ کر جھٹکا دیتا اپنے دامن میں گرا گیا۔
اُسکی بےدھڑک جسارت پر جہاں رابی کے پل بھر کو تنے اعصاب گہرا سانس بھرتے ہی ڈھیلے سے پڑے تھے وہیں اُسکی نازک کلائیوں کو بے جھجھک اپنی نرم گرفت میں بھرتا وہ اُسے اپنے حصار میں لے گیا۔
”کیا بات کرتی ہو جانِ بہاراں۔۔۔
ایسی ذیادتی تو ہم سے بھولے سے بھی نہ ہوگی جو خدشے تم حقیقتاً دل میں پالے بیٹھی ہو۔۔۔۔
یقین جانو اگر بیوی بچوں کی یہ مجبوریاں نہ ہوتیں تو کون کمبخت تم سے دور ہونا پسند کرتا۔۔۔“
اُسکے نازک کندھے پر اپنی شیو ہوئی ٹھوڑی جماتا وہ مدہوش آواز میں بولا تو خواجہ کی ناپسندیدہ قربت میں پل بھرکو تڑپتا رابی کا دل ہمیشہ کی طرح بےحسی کے غلاف میں لپٹتا جیسے خود سے ہی خفا ہوا تھا۔
”واللہ نہ کیجیے خواجہ صاحب۔۔
یہی مجبوریاں تو ہیں جو مجھ معصوم کے حق میں بہتر ثابت ہوتی ہیں۔۔۔“
اپنے گرد بےخودی میں پل پل مضبوط ہوتے گھیرے کو رابی زبردستی پرے ہٹاتی اُس سے دور ہوئی تو وہ بھی اُسکی پھرتی پر بوکھلاتا جیسے ہوش میں آیا۔
ان مدہوش پلوں میں بروقت اُس کے تعین کردہ حدود کو قائم رکھنے پر خواجہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاتا اپنے لب بھینچ کر اُسکی نازک پشت دیکھتا رہ گیا۔۔
جو اب کمرے کے قدرے کونے میں پڑی شیشے کی میز تک لپکتی اُسے تہی داماں کرگئی تھی۔۔
جبکہ شیشے کی میز پر ترتیب سے پڑی جام کی بوتلیں کب سے رابی کے نرم ہاتھوں سے خود کے ڈھکنے کھلوانے کو بےتاب ہورہی تھیں۔
معاً دبیز قالین پر بےترتیبی سے پڑےتکیوں کے پہلو میں دھڑا خواجہ کا موبائل فون یکدم چنگھاڑا تو وہ ٹھٹھک کر اگلے ہی پل موبائل فون ہاتھ میں تھام گیا۔
نظروں کے سامنے چمکتی ہوئی اسکرین پر بیگم صاحبہ کا نام واضح جگمگا رہا تھا۔ماتھے پر تیوریاں چڑھاتے اُسنے غصے سے کال کاٹی۔
”ایک تو اِس بے صبری عورت کو بھی کہیں سکون نہیں ہے۔۔۔۔
مجال ہے جو دو پل چین سے گزرنے دے میرے۔۔۔“
موبائل فون واپس دبیز قالین پر پٹختے خواجہ کا لب و لہجہ زہرہوا۔
اُسکی بیزاریت سے حظ اٹھانے کے باوجود بھی جام کی بوتل کو گلاس میں انڈیلتے رابی کے انہماک میں کوئی خاص فرق نہیں آیا تھا۔
اور یہی لاپرواہ انداز نیم دراز ہوتے خواجہ کے ذہن کو کافی دنوں سے اندر دبی سوچ کی جانب کھینچ لے گیا۔
”سنا ہے کہ وہ رئیس لونڈا۔۔
ارے کیا نام بتایا تھا شہاب نے اُس لونڈے کا۔۔۔
ہاں۔۔۔سالار خان۔۔۔“
بیچ میں اٹکتے اُسنے ذہن پر مزید زور ڈالا تو ڈھکن واپس چڑھاتے رابی کی لانبی انگلیاں اس مخصوص تذکرے پر کچھ پلوں کو ساکت پڑی۔
اسکے برعکس دل باغی سا پھڑپھڑایا تھا۔
کتنے دنوں بعد سماعتوں نے دل دھڑکانے کی صلاحیت رکھتا یہ نام سنا تھا۔
”وہ نواب تم سے بیاہ کرنے کو مراجارہا تھا۔۔۔؟؟
مگر۔۔۔“
اُسکی آنکھوں میں اترتے گلال سے بےخبر وہ اُسکے پل بھرکے لیے چونکتے وجود کو دیکھتا مزید متجسس ہوا تھا جب وہ ہاتھ میں جام بھرا شفاف گلاس تھام کر پلٹتی اُسکے الفاظ اچک گئی۔
”مگر میں نے انکار کردیا۔۔۔۔“
رابی کا لہجہ سرد ہوا۔۔محض لہجہ کیا اُسکےدیکھنے کا انداز بھی بدلا تھا۔
”واللہ۔۔۔
پھرتو کیا کہنے تمھارے۔۔۔۔
اگر تمھارا من وہاں نہیں بھیگتا تو مجھ سے شادی رچالو۔۔۔
خدا قسم تمھیں زندگی بھراپنے دل کی رانی بناکر رکھوں گا۔۔۔“
اُسکی نخریلی طبیعت پر سرشار سا سیدھا ہوکے بیٹھتا وہ دل پھینک انداز میں گویا ہوا تو جھک کر اُسے جام کا گلاس تھماتے رابی نے کچھ حیرت سے اُس رنگ بدلتے شخص کی جانب دیکھا جو چند لمحے قبل جان بوجھ کر اپنے چبھتے استفسار سے اُسکا دل جلا چکا تھا۔
تبھی پل بھر کے سکوت میں شور مچاتے موبائل فون نے خواجہ کو اپنی جانب متوجہ کرکے خود سے خاصا بدظن کیا تھا۔
اس سے پہلے کہ وہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ اپنی بیگم کی کال کاٹ کر موبائل فون کو دور پلنگ پر اچھال دیتا معاً رابی اُسکے تیور بھانپتی۔۔موبائل فون کو بروقت اپنی گرفت میں لیتی۔۔فقط چند لمحوں میں یہ کام بذاتِ خود سرانجام دے چکی تھی۔
خواجہ کو اُسکی یہ تیزی شدت سے بھائی تھی جبھی اُسکے پلٹ پر قریب کھسکنے پر گلاب مکھڑے کو پیاسی نظروں کی زد میں رکھتے ہوئے وہ اسی طرح گلاس سے گہرے گہرے گھونٹ بھرنے لگا۔
”واللہ خواجہ صاحب۔۔۔
آپکی نیت کا بھی کوئی مول نہیں۔۔۔
ایک جھگڑالو بیوی سے مستفید ہونے کے باوجود بھی آپ ایک رکھیل سے شادی کا تقاضا کرتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟“
رابی نے بات کو وہی سے چھیڑتے۔۔گویا مقابل کو حقیقت کا آئینہ دیکھاتے ہوئے ایک طرح سے اُسے دل کے چھالے پھوڑنے پر اکسایا تھا۔۔
اور نتیجتاً وہ چِھڑ بھی گیا تھا۔
”ارے موٹی بھینس کی مانند محض چارہ چرنے والی بیوی بھی کوئی فائدہ دینے کی شے ہے کیا۔۔۔؟؟
اور تم رکھیل نہیں رانی ہو رانی۔۔۔۔
اس دل کی رانی میری جانِ بہار۔۔۔“
بنا کسی آڑ کے وہ اپنی دلی کیفیات کا پرچار کرتا انجانے میں کسی ان دیکھے وجود پر دھڑا دھڑ بجلیاں گرا گیا تھا۔
اُسکی حاضر جوابی پر سمٹ کر مزید اُسکے قریب ہوتی وہ کھلکھلا کر ہنسی۔
”میں پھربھی آپ سے شادی نہیں کروں گی خواجہ صاحب۔۔۔
بروقت خوش فہمیوں کے بھنور سے باہر نکل آئیں گے تو تکلیف کم ہو گی۔۔۔۔“
رابی کے لہجے میں ٹھہراؤ کے ساتھ کھلی آگاہی بھی تھی۔۔شاید آنے والے سخت وقت سے بچانے کو ایک بےسود سی آگاہی جسے سمجھنا فی الوقت مقابل کے حواسوں سے پرے تھا۔
”کیوں۔۔۔؟؟
اب تو تابین بائی نے بھی دل پر بھاری بھرکم پتھر رکھ کرتمھیں اپنے میاں کے ساتھ رخصت ہونے۔۔کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔۔۔
ایک رقاصہ ہونے کے باجود بھی۔۔۔
تو پھر یہ ممانعت کیسی۔۔۔؟؟؟
جام کے آخری گھونٹ کے زیراثر کچھ مدہوش ہوتا وہ حیران ہوا تو اُسکا کھوج لگاتا انداز رابی کو مسکراہٹ سمیٹنے پر مجبور کرگیا۔
وہ اُسکی ذاتیات کو لے کر کچھ ذیادہ ہی واقف ہو چلا تھا۔
”ممانعت نہیں۔۔۔
تلاش۔۔۔
تلاش میں ہوں کسی خاص شخص کی جو میرے معیار۔۔میری حسرتوں پر پورا اترسکے۔۔۔
جیسے ہی یہ تلاش پوری ہوگی تو رخصتی کا یہ معرکہ بھی میں اپنی بی بی جان کی کرم نوازیوں سے بآسانی سرکرجاؤں گی۔۔۔“
بولتے ہوئے اُسکے لہجے میں تابین بائی کے لیے بلا کا احترام تھا۔
تبھی وہ خالی گلاس قالین پر لڑھکاتا اُسکی گود میں ڈھیر ہوا تھا۔
رابی نے سختی سے لب بھینچے۔
”تو یعنی تمھاری تلاش ابھی ادھوری ہے۔۔۔۔“
بند کھلتی آنکھوں سے اُسکی ٹھوڑی کو ہولے سے چھوتے اب کہ اُسکا لہجہ ڈھیلا پڑنے لگا تھا۔
”واللہ۔۔۔
ایسا ہی ہے۔۔۔“
اُسکی گستاخی کرتی انگلیاں اپنی مٹھی میں بھرتی وہ کسی غیر مری نقطے کو گھورنے لگی۔۔
جبکہ نرم انگلیاں دھیرے دھیرے سے اُسکے بالوں میں چلنے لگی تھیں۔
”و۔۔ویسے کس خوش قسمت انسان کے سنگ۔۔ت۔۔تم اپنی ساری زندگی گزارو گی۔۔۔؟؟
وہ جو تمھاری ۔۔شش۔۔شناخت کو پس پشت ڈال کر تمھیں جنون کی حد تک چاہے گا۔۔۔؟؟؟“
گہرے قیاس لگاتے ہوئے نشہ اُسکےسر چڑھتا اُسے پوری طرح مدہوش کررہا تھا۔
اس پر مستزاد رابی کا سکون پہنچاتا لمس۔۔۔
”نہیں۔۔۔
بلکہ اُس انسان کے سنگ جسے میں بربادی کی حد تک چاہوں گی۔۔۔۔“
دھیما لہجہ سلگتا ہوا تھا۔جہاں قاتلانہ نگاہوں میں بہت کچھ پالینے کی چاہ تھی وہیں پنکھری لبوں پر دھیرے سے ایک ناقابلِ فہم مسکراہٹ بکھری۔
دل و دماغ کے مابین چِھڑتی جنگ سے نبردآزما ہوتے ہوئے۔۔
جہاں رات کی گہری تاریکی میں پھیلی وحشت اب کہ رابی کے وجود میں بھی بھرنے لگی تھی۔۔
وہیں پلنگ پر اوندھے پڑے موبائل فون کی اسکرین۔۔چلتی کال کٹنے پر یکدم شفاف ہوئی تھی۔۔۔۔
”آہ۔۔ااا۔۔اللہ۔۔۔۔“
اسٹاف روم کی جانب سے آئے بلاوے کی فکر میں۔۔لائبریری سے نکلتی حرمین کی اندھا دھند پھرتی قابلِ دید تھی جب زبردست تصادم پر زمین بوس ہونے سے قبل وہ کسی کی مضبوط بانہوں میں مقید ہوئی تھی۔
اس دوران ناک پر ٹکا چشمہ اُسکی بےساختہ آہ کے ساتھ جھٹکے سے نیچے گرا۔۔
سہمتی دھڑکنوں پر بےاختیار اُسکی کی آنکھیں سختی سے بند ہوئیں تو مقابل کی پریشان نگاہیں اُسکے چشمے سے آزاد سانولے نقوش کو تکتی ٹھہر سی گئیں۔
اس پل دل نے عجیب سی حالت میں بےچین ہوکر پلٹا کھایا تھا۔
ایسے میں راہداری کے اختتام پر چند سیڑھیاں اترتے شام کا رخ موبائل اسکرین کو چھیڑتے ہوئے اب کہ لائبریری کی جانب تھا۔۔
جب یونہی غیر ارادی طور پر اُسکی نگاہیں اسکرین سے ہٹ کر سامنے اٹھیں۔
معاً وہ چونکا۔
اُسنے بےاختیار آنکھیں سکیڑیں تو ان میں اتری الجھن ذرا دور کا منظر صاف شفاف ہونے پرسرخائی میں ڈھلتی چلی گئی۔
دانت پیستا وہ فوراً سے بیشتر موبائل فون جینز کی جیب میں پھنسائے تیزی سے اُنکی جانب لپکا تھا۔
اس دوران چوڑے کندھے سے سرکتی بیگ کی سلور اسٹرپ کو جھٹکا دیتا وہ پہلے ہی بیسٹ پوزیشن دے گیا۔
”تم۔۔
تم ٹھیک تو ہو۔۔۔؟؟؟“
لہجے میں فکر گھولتا قیصر نرمی سے گویا ہوا تو بھاری آواز پر وہ پٹ سے آنکھیں کھول گئی۔
خود کو مضبوط مردانہ حصار میں پاکر بےچینی کی ایک بھرپور لہرتھی جو اُسکے دبلے پتلے وجود میں سرائیت کرتی اُسکا حلق خشک کرگئی۔
معاً وہ اُسکے سینے کو خود سے پرے دھکیلتی اُسکا حفاظتی حصار ایک جھٹکے میں توڑ گئی تو قیصر اُسکا حددرجہ محتاط انداز شدت سے محسوس کرتا لب بھینچ کر رہ گیا۔
تبھی بجلی کی سی تیزی سے اُن تک پہنچتا شام۔۔حرمین کو بازو سے پکڑ کر خود کی پشت میں کرتا بپھرا سا قیصر کے مقابل آیا۔
”ہاتھ کیسے لگایا اُسے۔۔۔؟؟؟“
سینے پر پوری قوت سے دباؤ ڈالتا وہ اُسے پیچھے دھکیل چکا تھا۔آواز میں بپھرے شیر جیسی پھنکار تھی۔
اِس غیر متوقع افتاد پر جہاں حرمین کی سہمی دھڑکنیں سینے میں اٹکی تھیں وہیں قیصرغازی بھی پل بھرکو بوکھلاتا بروقت سنبھلا۔
”ذیادہ ہاتھ پیر چلانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے تمھیں۔۔۔
سوآرام سے بات کرو۔۔۔“
ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچتا وہ بڑے تحمل سے گویا ہوا تو
آگ برساتی نگاہوں سے اُس مڈل کلاس لڑکے کو گھورتا وہ پھر سے قریب آیا۔اس دوران آس پاس بکھرے سٹوڈنٹس رک کر کچھ حیرت سے اس طول پکڑتے تماشے کو دیکھ رہے تھے۔
”شش۔۔
شام۔۔۔پلیز۔۔۔۔؟؟“
بےسود سی مداخلت کرتے حرمین میں خود کا کپکپاتا وجود اُن دونوں کے بیچ گھسیٹنے کی ہمت بالکل بھی نہیں پڑرہی تھی۔
”جو پوچھ رہا ہوں صرف اُسکا جواب دو مجھے۔۔۔
ہمت کیسے ہوئی تمھاری میری گرلفرینڈ کو چھونے کی۔۔۔۔؟؟ہہمم۔۔۔؟؟“
ایک بار پھرآپے سے باہر ہوتا وہ حرمین کو اپنے طرزِ تخاطب سے کان کی لوؤں تک سرخ ہونے پر مجبورکرگیا۔۔
جانے یہ کیسی جلن تھی جو اندر تک اترتی اُسے مزید جنونی بناتی چلی جارہی تھی۔۔
”میں آخری بار بول رہا ہوں شام تمیز کے دائرے میں رہ کر بات کرونہیں تو مجبوراً مجھے بھی اپنی تمیز بھلانی پڑے گی۔۔۔۔
میں صرف اُسکی ہیلپ کررہا تھا۔۔۔
اوربسسس۔۔۔“
اُسکے دوبارہ سے دھکا دینے پر اب کہ وہ بھی اپنی برداشت کھونے لگا جب اُسکے یوں انگلی اٹھاکر صفائی دینے پر شام کی پل بھرکو مٹتی تیوریاں پھر سے چڑھیں۔
”ہیلپ۔۔۔۔؟؟
کسی مجبور لڑکی کی بےبسی کا فائدہ اٹھا کر اُسے زبردستی اپنی بانہوں میں بھرنے کو تم ہیلپ کہتے ہو۔۔۔؟؟
ایسی ہوتی ہے ہیلپ۔۔۔۔؟؟ہہمم۔۔۔۔؟؟
بغیرتی کے نام پر کی جانے والی یہ ہیلپ ہے تمھاری۔۔۔؟؟
کندھے سے جھولتے بیگ کو جھٹک کر سائیڈ پر اچھالتا وہ ایک ہی جست میں اُسکا گریبان دبوچ چکا تھا۔
”مجبوری میں لڑکی کو ٹچ کرنا بےغیرتی ہے۔۔۔تو کیا گرلفرینڈ بنانا بےغیرتی نہیں۔۔۔؟؟“
اپنا گریبان چھڑواتا وہ حقیقتاً مقابل کو آگ لگاگیا تو جہاں اُسکے چیلنج کرتے سوال پر حرمین کا دل ڈوب مرنے کو کیا تھا وہیں شام اپنا سارا ضبط کھوتا قیصر کے ساتھ بری طرح گتھم گتھا ہو چکا تھا۔
زمین پر ڈھیتے ہوئے ایک دوسرے کو زد وکوب کرتا دیکھ جہاں لبوں کو ہتھیلی سے دبوچتی حرمین کی آنکھیں شدتِ بےبسی سے بہنے لگی تھیں وہیں اطراف میں بڑھتی بھیڑ کی چہ مگوئیاں عروج پر جا پہنچیں۔
حرمین زہرا کے لیے شام کا یہ پوزیسو روپ لڑکوں سے ذیادہ لڑکیوں کو بری طرح چبھ رہا تھا۔۔
ایک دو نے ہمت کرکے اُنکو ایک دوسرے سے چھڑوانے کی کوشش کی تو بدلے میں زور دار دھکا کھا کر خود ہی پیچھے ہٹ گئے۔
ہنگامے کا لطف پل پل بڑھ رہا تھا جب۔۔۔عین اسی وقت فواد اور افروز بوکھلائے سے بھیڑ کو چیڑتے ہوئے شام تک لپکے۔
”شاااام۔۔
چھوڑ یاراُسے۔۔۔
کیاکررہا ہے تُو۔۔۔؟؟“
فواد آگے بڑھ کر اُسے کسرتی بازوؤں سے جکڑتا چلایا جب بےدردی سے اُسے پرے دھکیلتا شام دکھتے جبڑے سمیت واپس قیصر پر جھکا۔
”سالے۔۔۔
اب تجھ جیسا دو کوڑی کا گھٹیا شخص مجھے میری بےغیرتی کے قصے گنوائے گا۔۔۔ہہمم۔۔۔؟؟
اتنی اوقات آگئی ہےتجھ میں۔۔۔؟؟
اب بول کے دکھا جو کہہ رہا تھا۔۔۔
بول میرے سامنے پھرسے۔۔۔“
درشتگی سے کہتے ہوئے۔۔شام نے قیصر کے پھٹے گریبان کو دبوچتے بےاختیار منہ پر بھاری ہاتھ کا مکا مارنا چاہا جب فواد اور افروز بےتابانہ اُس تک لپکتے اس بپھرے شیر کو بمشکل اپنے قابو میں کر گئے۔
اس دوران حرمین نے تڑپتے دل کے ساتھ نیچے گرا چشمہ اٹھاکر بڑی مشکلوں سے آنکھوں پر ٹکایا۔
”ابے بس کردے یاررر۔۔۔
اُس غریب کی حالت دیکھ۔۔پہلے ہی بہت خراب کرچکا ہے تُو۔۔۔اس سے پہلے کہ سرطارق یہاں آکر اپنی دبنگ حاضری لگوائیں۔۔
چپ چاپ نکل لے ہمارے ساتھ۔۔“ اُسے کھینچ کر قیصر سے دور کرتے اُن دونوں کے سانس پھول چکے تھے۔
”اور تم لوگ بھی۔۔۔
تماشہ ختم ہوچکا ہے اب رش ہٹاؤ یہاں سے۔۔چلو چلو۔۔۔نکلو شاباش۔۔۔“
ساتھ ہی چٹکی بجاکر تلخ لہجے میں بولتے افروز نے اطراف میں خاموش کھڑے تماشائیوں کو وہاں سے بھگانا چاہا۔۔
تو چند ایک کے سوا باقی سب منہ ناک بسورتے منظرِ عام سے ہٹنے لگے۔
قیصر نے بادقت اٹھ کر بیٹھتے اپنے لب کے کنارے سے نکلتی خون کی لکیر کو بےدردی سے پونچھا پھر خونخوار نگاہوں سے شام کو گھورا۔۔
جو اُسکی بجائے اب اپنے دوستوں کو شعلہ بار نظروں سے گھور رہا تھا۔
”چھوڑو یار۔۔۔
ڈرتا نہیں ہوں میں کسی سے۔۔۔“
خود کو جھٹکے سے اُنکی سخت گرفت سے آزاد کرواتا وہ بری طرح جھنجھلایا تو ہمت کرکے اُسکے مقابل آکر کھڑی ہوتی حرمین کا وجود شدت سے کپکپایا۔
”شام۔۔۔
خدا کا واسطہ ہے آپکو بند کردیں اب یہ لڑائی جھگڑا۔۔۔
کیوں خود کے ساتھ ساتھ میری ذات کا بھی تماشہ بنوارہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟“
اپنے بھیگے گال رگڑتی وہ ملتجیانہ سی گویا ہوئی۔
مریل آواز میں آنسوؤں کی واضح آمیزش تھی۔۔جبکہ حرمین کا شکوہ اُسکی سماعتوں میں زہر کی مانند گھلتا اُسکا خون کھولاگیا۔
پیچھے قیصر کسی کی بھی مدد لینے پر لعنت بھیجتا خود ہی اُٹھ کھڑا ہوا۔وجود میں اٹھتی درد کی ٹیسیں اُسنے زخمی لب بھینچ کر برداشت کی تھیں۔پھر بھی ایک اطمینان سا تھا۔۔ہاتھوں سے ذیادہ نہ سہی مگر تلخ لفظوں کی مار سے وہ شام کے وجود کو کافی حد تک گھائل کرچکا تھا۔
”تماشہ میں بنا رہا ہوں۔۔۔؟؟
سریسلی حرمین۔۔۔؟؟
اُس گھٹیا شخص نے تمھیں ہاتھ لگایا۔۔۔
اور پھر تم نے میرے ہوتے ہوئے اُسے خود کو چھونے کی اجازت کیسے دے دی۔۔۔
ہاں۔۔۔؟؟
بیس سیکنڈز۔۔۔
پورے بیس سیکنڈز اُسنے تمھیں اپنی گرفت میں پکڑے رکھا۔۔۔اور یہ سوچ مجھے پاگل کررہی ہےحرمین۔۔۔
پاگل۔۔۔
نہیں برداشت کرسکتا یار میں تم پر کسی اور کا ٹچ۔۔
اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آتی کیا تمھیں۔۔۔؟؟“
شدید برہمی سے غراتا وہ خود کو اُس نازک سی جان پر برسنے سے روک نہیں پایا تھا سو اگلے ہی پل اُسکے مزید روانی سے بہتے آنسوؤں کی پرواہ کیے بنا مزید خراب ہوتے دماغ کے ساتھ پلٹتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔
حرمین ساکت نظروں سے اُسکا پل پل دور جاتا وجود دیکھتی اُسکے لفظوں پر حقیقتاً خود پاگل ہونے لگی تھی۔۔
جب اُسکے دوستوں کو بھی وہاں سے پلٹتا دیکھ قیصرنے ایک تاسف بھری نگاہ حرمین کی پشت پر ڈالی اور پھر خاموشی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
ایسے میں بے دم ہوتے وجود کو بمشکل سنبھالے کھڑی حرمین نے دھندلائی نگاہوں سے علیزے کو اپنی جانب تقریباً بھاگ کر آتے ہوئے دیکھا تو بےاختیار ہمت ہارتی زمین پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھتی چلی گئی۔۔۔
یہ ہیون سٹار کے وسیع ہال کا منظر تھا جہاں منعقد کی جانے والی بزنس پارٹی میں رنگ و رونق کا ایک الگ ہی جہاں آباد تھا۔
ہال میں اتری مختلف روشنیوں میں چلتے پھرتے قدموں سے کہیں ذیادہ حلق سے پھوٹتے بےہنگم قہقوں کی آوازیں بلندتھیں۔۔
اس پر مستزاد وقفے وقفے سے تبدیل ہوتے بھڑکیلے میوزک نے ماحول میں ایک شوخ پن سا پربا کررکھا تھا۔۔
ایسے میں کتنے ہی مرد عورتیں بزنس کی آڑ میں محض مروت نبھانے کو ایک دوسرے کے کندھوں پر بے تکلفانہ انداز میں ہاتھ رکھے واضح بےباکیوں پر اتر آئے تھے۔
کئی دوشیزائیں حد سے ذیادہ اسٹائلش لباس زیب تن کیے کونے میں کھڑی مختلف پوز میں سیلفیز لینے میں مگن تھیں۔۔تو کچھ اُنھیں بظاہر لاپرواہی سے اوپر سے نیچے تک تکتے دور سے ہی اپنی پیاسی نگاہوں کو تسکین پہنچانے میں۔۔
جبکہ وہ ان سب التفات لحاظ سے قدرے بےنیاز جیبوں میں ہاتھ پھنسائے کھڑا۔۔اس وقت چند بےشناسا جانی مانی شخصیات سے خود کا تعارف کرواتا براہِ راست مخاطب تھا۔
گرےسموک کلر کے تھری پیس سوٹ میں بالوں کو جیل سے سیٹ کیے آج اُسکی مردانہ وجاہت مزید نکھری تھی۔
”ایسا ہی ہے دبیر صاحب۔۔۔
انفیکٹ ہمارے بزنس کی مین شاخیں تو کراچی شہر کی آخری حدود تک پھیلی ہوئی ہیں۔۔۔
اور اُسے۔۔۔۔“
شاہ جو خود سے ہٹ کر اب اپنے باپ کے بزنس کا مکمل حوالہ دینے کے موڈ میں تھا مقابل کی یکدم بدلتی نگاہوں کو نوٹ کرتے لمحے بھرکو چونکا پھر لب بھینچتے اُسکی نظروں کے تعاقب میں پلٹ کر پیچھے دیکھا تو سرسری سی نگاہ پل بھر کوٹھٹھکتی قدرے گہری ہوتی چلی گئی۔
گھٹنوں سے ذرا اوپر تک آتی مہرون شفون کی شارٹ فراک جس پر کاپر کلر کا خوبصورت کام ہوا تھا اور کاپر کلر کا ہی ٹراؤزر پہنے۔۔۔وہ اپنے تمام تر حسن سمیت نگاہیں جھکائے دھیمی چال چلتی اُسی سمت آرہی تھی۔
تہہ در تہہ سیٹ کیے گئے ہم رنگ مہرون حجاب میں اُسکے گلاب نقوش کی دلکشی مزید بڑھ گئی تھی۔
شاہ کے لیے وقت پل بھرکو رکا اور پھر جیسے اپنی جگہ تھم سا گیا۔اُسنے پہلی بارسادگی سے ذرا ہٹ کر اُسکا دل موہ لینے والا یہ سجا سنورا روپ دیکھا تھا۔۔۔
اُس سمیت کتنی ہی سراہتی نظریں اُس منفرد لڑکی کی جانب اٹھتی پل بھرکو ساکت ہوئی تھیں جو باقیوں کی طرح بےپردہ نہ ہوتے ہوئے بھی سب سے حسین لگ رہی تھی۔
جبھی آبرو نے بھی اپنی گھنیری پلکیں اٹھاکر براہِ راست شاہ کی بھوری نگاہوں میں جھانکا تو گرے ٹائی کی ناٹ کھینچ کر ذرا ڈھیلی کرتے اُسکے دل نے بےاختیار ایک بیٹ مس کی۔۔۔
گہری نیلی آنکھوں کی ادا جانلیوا تھی۔
ہائر کیے گئے فوٹوگرافر نے باقیوں کی طرح بڑی پھرتی سے آبرو کی بھی دو سے تین تصاویر کھینچ اتاریں۔
شاہ کی اپنی جانب محویت محسوس کرتی آبرو کے قدم دھڑکنوں سمیت لمحے بھرکے لیے تھمے جو بنا پلکیں جھپکائے ابھی تک مبہوت سا اُسے ہی تکے جارہا تھا۔
اس پر مستزاد رواں موسیقی کے ٹھنڈے میٹھے سے سُر۔۔۔شرمیلی مسکراہٹ روکنے کو عنابی لب دانت تلے دباتے ہوئے رابی کی گھنیری پلکیں بےساختہ گالوں پر سجدہ ریز ہوئیں تھیں۔
”ہے ای آبرو۔۔۔یہاں پر۔۔۔“
معاً کنزہ نے آبرو کو بآواز بلند مخاطب کرتے تیسرے ٹیبل پر اپنی جانب نشاندہی کروائی تو شدت سے شور مچاتی دھڑکنوں پر ہاتھ رکھتی وہ شاہ کے پاس سے گزرکر سرعت سے آگے بڑھ گئی۔
اُسکی جلد بازی پر وہ بھی سرجھٹکتا جیسے ہوش میں آیا۔۔
لبوں پر ہولے سے مسکراہٹ اتری تھی۔
دور سے شاہ کی بےخودی کا یہ عالم بخوبی ملاحظہ کرتی سمن اپنا ضبط کھوتے ہی ہاتھ میں پکڑا کلچ زور سے ٹیبل پر پٹخ گئی۔۔
پھر گردن موڑتے تیکھی نظروں سے آبرو کا نکھرا چہرہ دیکھا جو وقفے وقفے سے مسکراتی اب کنزہ کے ساتھ محو گفتگو تھی۔
”واٹ آپیور بیوٹی۔۔۔۔“
آبرو کو تکتے دبیر کاظمی کی نگاہوں میں واضح ستائش تھی۔
شاہ نے چونک کر اُسے دیکھا اور اگلے ہی پل بھنویں سکیڑتے اُسکا کندھا اپنی مضبوط گرفت میں لیا۔دبیر کاظمی نے اپنے کندھے پر اُسکی سختی محسوس کرکے کچھ حیرت سے اُسکی جانب دیکھا جسکا چہرہ جانے کیوں سپاٹ ہوچکا تھا۔۔
”بٹ ڈونٹ فارگیٹ۔۔۔
شی از اونلی مائن۔۔۔۔مینز کہ۔۔۔اونلی مائن۔۔۔۔
ہہمم۔۔۔۔؟؟“
سرد لہجے میں ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولتا وہ اُسے ایک طریقے سے وارن کررہا تھا جسے بروقت سمجھ کر اثبات میں سر ہلاتا وہ شوخ سا مسکرایا۔
”اووکے۔۔۔۔
ویسےاگر آپ اپنی ملکیت کو لے کر اس قدر حساس ہیں تو یقین جانیے مسٹر شاہ۔۔۔
آپ نے اِن محترمہ کو ایسی بےلگام محفل میں مدعو کرکے یقیناً بہت بڑا رسک لیا ہے۔۔۔
سونے پر سہاگہ اُنکا سجا سنورا معصوم حسن ہے جو کسی بھی مرد کو اپنی جانب قائل کرنے کی بڑی صلاحیت رکھتا ہے۔۔۔“
اپنے کندھے پر دھڑے شاہ کے ہاتھ کی پشت ہولے سے تھپکتا وہ بولنے سے باز نہیں آیا تھا جب وہ اس قابلِ قبول حقیقیت پر ضبط سے لب بھینچتا ہاتھ پرے ہٹاگیا۔
ایک بےاختیار نگاہ آبرو کے سندر روپ پر ڈالتے اُسکی آنکھوں میں سرخائی سی اتری۔
اُسی کی جانب دیکھتی آبرو نے نگاہیں ملنے پر گڑبڑا کر چہرہ پھیرا تو شاہ کے لب بے اختیار مسکرائے۔
”میرے لیے اتنی فکر دکھانے کا بہت شکریہ دبیر کاظمی صاحب۔۔
لیکن رسک چھوٹا ہو یاں بڑا۔۔۔مجھے لینے میں ہمیشہ سے مزا آتا ہے۔۔۔
انفیکٹ رسک جیسی امیزنگ شے کو چاروں خانے چت کرکے جیت کو اپنی مٹھی میں قید کرنا تو میرا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے۔۔۔“
ذرا جھک کر ٹیبل سے سافٹ ڈرنک کا شفاف گلاس اٹھاتے وہ ایک غرور سے بولتا بظاہر پرسکون ہوا۔۔
جبکہ ایک عرصے بعد ایسی ٹون اور لفظوں کا چناؤ کرتے اُسکے وجود میں ایک عجیب سی کھلبلی مچی تھی۔
جواباً دبیر کاظمی محض مسکرانے پر اکتفا کرتا اُسے دیکھتا رہ گیا جو اطراف میں نگاہیں دوڑاتا اب بےدلی سے گھونٹ گھونٹ مشروب حلق میں انڈیلنے لگا تھا۔۔۔۔۔
”بولا تھا ناں کہ مجھ سے دغا بازی مت کرنا۔۔۔
ورنہ میرے انتقام کی بھڑکتی آگ تمھارے وجود کو جلاکر خاکستر کردے گی۔۔۔۔
کہا تھا کہ نہیں۔۔۔؟؟؟“
وہ اُسے بالوں سے دبوچے غرارہا تھا۔۔
مگر وہ پور پور لرزتی جانے کیوں اپنے بےسدھ پڑے وجود کو چاہ کر بھی حرکت نہیں دے پارہی تھی۔
حد سے ذیادہ کھلی آنکھوں میں مقابل کے خوف کے بھیگے سائے لڑھکتے ہوئے مسلسل کنپٹیوں میں جذب ہورہے تھے۔
”پر تم نے کری۔۔۔
میرے منع کرنے کے باوجود بھی تم نے دغابازی کری میرے ساتھ۔۔۔“ اُسکے پسینے سے نم زرد چہرے پر جھکتا وہ اب کی بار چیخا تو اُسے اپنی دھڑکنیں تھمتی ہوئی محسوس ہوئیں۔
”معا۔۔۔معاف کردو۔۔۔۔“
اُسکےسسکتے لب بمشکل پھڑپھڑائے تو نفی میں سرہلاتا وہ سرخ چہرے کے ساتھ مسکرایا۔
مسکراہٹ ایسی تھی کہ شدتِ بےبسی سے دیکھتے حاویہ کا سکڑتا دل تڑپ کر رہ گیا۔
”نہ نہ نہ۔۔۔
معافی نہیں۔۔اب تو بس سزا ملے گی تمھیں۔۔۔۔
میری بےپناہ چاہت میں کسی اور شریک ٹھہرانے کی سزا۔۔۔
مجھ سے کھلے عام بغاوت کرنے کی سزا۔۔۔
مجھے دوسروں کی نظروں میں مجرم بنانے کی سزا۔۔۔
اب اگلے پچھلے سارے حساب چکتا کرنے کا وقت آگیا ہے جو تم کرو گی۔۔۔“
ایک ایک کرکے اُسے اسکی ساری حماقتیں گنواتا وہ اپنا ہاتھ اُسکی نازک گردن تک لے گیا۔۔
جبکہ دوسرا ہاتھ ہنوز بالوں کو جکڑے اُسے مسلسل اذیت میں مبتلا کیے ہوئے تھا۔
”نن۔۔نہیں۔۔۔
خدا۔۔را۔۔نن نہیں۔۔۔“
مقابل کو اپنی پسینے سے بھیگی گردن سے دوپٹہ ہٹاتے دیکھ اُسکی جان ہوا ہوئی تھی مگر صد افسوس جو وہ سوائے سسکنے کے ذرا سی مزاحمت کرنے کی بھی متحمل نہیں تھی۔
معاً گردن کے گرد شکنجہ کسنے سے اُسکے حلق میں گھٹن سی پھیلنے لگی۔
”مجھے دھوکہ دینے کی پاداش میں۔۔میں تمھاری سانسیں بندکردوں گا حاویہ فضیان۔۔۔
یہی تمھاری سزا ہے۔۔۔موت۔۔حاویہ۔۔موت۔۔۔“
سفاکی سے بولتا ہوا وہ پل پل اپنی گرفت میں شدت لاتا جارہا تھا۔
نتیجتاً اُسکی آنکھیں تکلیف کی شدت سے باہر کو اُبل پڑیں۔
جان جیسے حلق میں ہی کہیں اٹکنے لگی تھی۔
ایسے میں دباؤ مزید بڑھا تھا۔
وہ زندگی کے آگے ہمت ہارنے کو تھی جب گھٹن کا احساس یکدم کم ہوتے پلوں میں ختم ہوا تو اُسنے ایکدم سے گہرا سانس کھینچا۔
مگر یہ کیا۔۔۔۔؟؟
مقابل کے ہاتھ گردن سے سرکتے اب کہ اُسکے کندھوں تک آئے تھے۔
”حاویہ۔۔۔
حاوی۔۔۔اُٹھو۔۔۔
آنکھیں کھولو حاوی۔۔۔۔“ وہ جوئی بھی تھا اب کندھے جھنجھوڑتا اُسے مسلسل پکاررہاتھا۔
سماعتوں میں گھلتی سفاکیت بھری مردانہ آواز اب کہ مانوس سی نسوانی دہائی میں بدلی تو اندر ہی اندر خود سے جنگ لڑتی وہ غنودگی میں ہی چونکی۔
نقاہت سمیت گہری نیندکے بوجھ تلے آنکھیں کھلنے سے فی الوقت انکاری ہوئی تھیں۔
”حاوی۔۔۔“
آواز کان کے پردے کے پار گونجی تو دبا سا چیختی وہ جھٹکے سے اُٹھ بیٹھی۔
نیناں نے تفکر بھری نگاہوں سے اُسکا گھبرایا ہوا سرخ چہرہ دیکھا تو نرمی سے اسکے ہاتھ تھام گئی۔
ہلکے ہلکے بخار کے زیرِاثر اُسکا وجود اب بھی تپا ہوا تھا۔
مقابل کو حیرت سے تکتے اگلے ہی پل حاویہ کی تیزی سے دھندلاتی آنکھوں میں شناسائی گھلی تو بےاختیار ٹانگیں سمیٹتی وہ اُسکے کندھے پر سر رکھ گئی۔
”وہ ماردے گا۔۔۔
وہ۔۔
وہ میری جان لے لے گا۔۔۔مجھے بچالو نینی۔۔۔
مجھے بچالو اُس سے۔۔۔“
وہ اب بھی خواب کے گہرے اثر تلے خوفزدہ سی بولتی چلی گئی تو نیناں کو اُسکی بکھری حالت دیکھ کر حقیقتاً افسوس ہوا۔
اُسے ہرگز توقع نہ تھی کہ خالہ زاد بہن کی شادی سے واپس لوٹنے پر اُسے اپنی ہنستی مسکراتی دوست کی یہ حالت دیکھنے کو ملے گی۔جیسے ہی نفیسہ بیگم نے اُسے بختی کی کارستانیوں کی بابت آگاہ کیا تو وہ سب چھوڑ چھاڑ کر اُس سے ملنے چلی آئی تھی۔
”کون مارے گا۔۔۔؟؟
کس کی بات کررہی ہے تو حاوی۔۔۔؟؟
ادھر میری طرف دیکھ۔۔یہاں اس کمرے میں میرے سوا کوئی بھی نہیں ہے تیرے پاس یار۔۔۔“
زبردستی اُسکا چہرہ اپنے مقابل لاتے اُسنے حاویہ کو اطمینان دلانا چاہا تو بےاختیار اطراف میں دیکھتی وہ پل بھر کو خاموش ہوئی۔
بھیگی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گالوں پر پھسلے تھے۔
”مم۔۔مگر۔۔وہ بختی بھائی۔۔
وہ ا۔۔ابھی مجھے دھمکیاں دے رہے تھے۔۔
میرا گلا بھی دبایا۔۔۔
میں سچ بول رہی ہوں۔۔وہ مجھےاب ماردیں گے نینی۔۔۔وہ مجھے نہیں چھوڑیں گے۔۔۔“
اپنی تپتی گردن پر شدت سے انگلیاں پھیرتی وہ سسکی تو بختی کے نام پر نیناں کے اردگرد بھی کڑواہٹ پھیلنے لگی۔
”ریلکس ہوجاؤ میری جان۔۔
تم نے صرف ایک برا خواب دیکھا ہے۔۔اور کچھ بھی نہیں۔۔۔ہہمم۔۔۔
پرسکون ہوجاؤ بس۔۔۔“
نینی نے بڑی نرمی سے اُسکے آنسو اپنی پوروں میں جزب کیے تو وہ اُسکے مسکاتے چہرے کو جانچتی نگاہوں سے تکنے لگی۔
”تم سچ۔۔۔
سچ بول رہی ہو۔۔۔؟؟
وہ دوبارہ سے میرے قریب تو نہیں آئے گا ناں۔۔۔؟؟“
وہ چاہ کر بھی خوف کے حصار سے نہیں نکل پارہی تھی سو نینی کی باتوں پر اعتبار کرنے کو ہاتھ تھامتے ہوئے شدت سے تصدیق چاہی۔
”ہاں وہ نہیں آئے گا حاوی۔۔۔
بس تم اُس گھٹیا شخص کو اپنے اعصاب پر اتنا سوارمت ہونے دو۔۔نہیں تو اس طرح کے بھیانک خواب آنا تمھارے لیے روز کا معمول بن جائیں گے۔۔۔
کیا تم چاہتی ہو ایسا ہو۔۔؟؟“
اپنے تئیں اُسے تلخ حقیقت سے آگاہ کرتی وہ بڑی سمجھداری سے اُسے اپنی جانب قائل کررہی تھی۔
”نن نہیں۔۔
میں ایسا ہرگز نہیں چاہتی۔۔بلکہ اب سے میں اُس گھٹیا انسان سے نہیں ڈروں گی۔۔۔
ہ۔ہاں۔۔نہ میں اُس سے ڈروں گی۔۔نہ ہی وہ میرے خوابوں میں آکر مجھے اذیت دے گا۔۔۔۔“
خود کو بمشکل نڈر ظاہرکرتی وہ قطعیت بھرے نتیجے پر پہنچی تو جواباً نیناں کے لبوں پر بکھرتی مسکراہٹ اُسکا حوصلہ مزید بڑھا گئی۔
معاً نفیسہ بیگم غیرمعمولی ہلچل محسوس کرتی دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئیں تو اُنہی کے پیچھے اندر آتی نسیمہ آپا حاویہ کو آنسو پونچھتا دیکھ ٹھٹھک گئیں۔
”ہائے ہائے نفیسہ۔۔۔
یہ بچی کو ایکدم سے کیا ہوگیا۔۔۔؟؟
بڑی کملائی ہوئی لگ رہی ہے۔۔۔“ قدم قدم اُسکی جانب آتی وہ حیرت کا اظہار کیے بنا نہ رہ سکیں۔۔
نیناں نے ذرا سیدھا ہوکر بیٹھتے بے اختیار کوفت سے آنکھیں گھمائیں۔
”بس کیا بتاؤں نسیمہ آپا۔۔۔
بےموسمی بخار نے میری بچی کو اپنی جکڑمیں لےلیا ہے۔۔۔
مگر اب اسکی طبیعت پہلے کی نسبت کافی بہتر ہوگئی ہے۔۔۔۔“ حاویہ کو پہلو بدلتا دیکھ نفیسہ بیگم نے آگے بڑھ کر اُسکے سر پر ہاتھ رکھتے سنجیدگی سے جواب دیا تو وہ حقیقت سے انجان کچھ مطمئن ہوتی سر ہلاگئیں۔
”صدقہ اتارو بچی کا۔۔۔
پھر دیکھنا سر آئی ساری بلائیں ٹل جائیں گی۔۔۔“
اُنھوں نے لگے ہاتھوں تاکید کرنا ضروری سمجھا تو جہاں نفیسہ بیگم سر کوجنبش دیتی ہولے سے مسکرائیں وہیں حاویہ اپنے آنسوؤں پر ضبط کرتی مزید سر جھکاگئی۔۔۔۔
کنزہ کی غیرموجودگی میں شاہ کی پشت پر ایک گہری نظر ڈالتی وہ اپنے شفاف لبوں پر بےخودی میں بکھرتی مسکراہٹ سے خود انجان تھی جب اچانک اپنے قریب کھڑے ہوتے شخص کی موجودگی محسوس کرتے اُسکی محویت ٹوٹی۔
آبرو کو چونک کرخود کی جانب متوجہ ہوتا دیکھ جنید ملک کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی جومسٹر ہاشم فاروق کی جگہ خود مس انجمن کے ہمراہ اس پارٹی میں آیا تھا۔
”آپ کو شاید اندازہ نہیں مس۔۔
لیکن پھر بھی میں آپکو یہ بات بتائے دیتا ہوں کہ آپ صرف حسین نہیں۔۔
بلکہ حسن کا شاہکار ہیں۔۔۔“
ہاتھ میں پکڑی ڈرنک ٹیبل پر رکھتے ہوئے بےڈھرک تعریف کرتا وہ انجان شخص آبرو کو بیٹھے سے اٹھنے پر مجبورکرگیا۔
”ایکس کیوزمی۔۔۔۔؟؟؟“
مقابل کے دلربانہ انداز پر پل بھرکو جھینپتے اُسنے بےاختیار بھنویں سکیڑیں تو مونچھوں تلے اُسکی مسکراہٹ مدھم پڑی۔
”شاید میری یوں کھل کے تعریف کرنا آپکو پسند نہیں آیا۔۔۔
مگر وہ کیا ہے کہ حسین لڑکیوں کی تعریف کرنے میں کنجوسی دکھانا میری عادت نہیں ہے۔۔۔
لیکن پھربھی اگر آپکو میری ڈائریکٹ سچائی بیان کرنا اتنا برا لگا ہے تو اسکے لیےآئی ایم رئیلی سوری۔۔۔“
اُسکے محتاط تیوروں پر ہاتھ جیبوں میں گھساتا وہ عیاش پسند شخص کچھ معذرت کرتے لہجے میں بولا تو آبرو مقابل کی مصنوعی شرمندگی دیکھتی بےاختیار نرم پڑی۔
”نہیں مجھے برا نہیں لگا۔۔۔۔
ویسے میری تعریف تو آپ نے بخوبی کردی ہے سر۔۔۔
لیکن آپکی تعریف۔۔۔؟؟“
مروت نبھانے کو آہستگی سے مسکراتی وہ جنید ملک کے پست پڑتے حوصلے اچھے خاصے بلند کرگئی۔
”مجھ ناچیز کو جنید ملک کہتے ہیں۔۔
میں ایک بزنس مین ہوں اور بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ابھی تک سنگل ہوں۔۔۔۔“ سنجیدگی سے اپنا تعارف کرواتا وہ آخر میں پھر سے شوخا ہوا۔
اور یہی وہ وقت تھا جب دبیز کاظمی کے ابرو اچکاتے اشارے پر شاہ الجھ کر پلٹا تو مطلوبہ منظر ملاحظہ کرتے ہوئے بے اختیار اُسکی پیشانی پر بل پڑے۔
”سریسلی۔۔۔؟؟؟
آپ کو پہلی نظر میں دیکھ کر تو مجھے یہی لگا تھا کہ آپکے تین نہیں تو۔۔کم از کم دو بچے ضرور ہوں گے۔۔۔“
خوشگوار حیرت کا اظہار کرتی وہ جنید ملک کے بہانے سے فاصلہ مٹانے پر متوجہ نہیں ہوپائی تھی۔۔
اور اُسکی یہی لاپرواہی شاہ کا ضبط آزما رہی تھی۔
”آپکو نہیں لگتا مس کہ اتنے ہینڈسم شخص کو وقت سے پہلے ہی دو بچوں کا باپ بناکر آپ ذیادتی کررہی ہیں میرے ساتھ۔۔۔“
مصنوعی تاسف سے بولتا وہ ہنوز غیرسنجیدہ تھا جب اُسکی بات سمیت تاثرات کا لطف لیتی وہ بے اختیار ہنستی چلی گئی۔۔
تو اُسکے کھکھلاتے وجود کو حسرت بھری نگاہوں سے تاڑتے جنید ملک کی آنکھوں کی چمک مزید بڑھی۔
جہاں شاہ نے مٹھیاں بھینچتے آبرو کی کھنکھناتی ہنسی کو جلتی آنکھوں سے دیکھا تھا۔۔
وہیں خود کے اندازے کی اتنی جلدی تصدیق ہوجانے پر دبیرکاظمی کے لبوں پر تمسخرانہ مسکراہٹ ابھری۔۔
ابھی تو بامشکل چار سے پانچ منٹ کا وقفہ گزرا تھا۔۔
اور نتائج سامنے تھے۔
مگرحقیقی معنوں میں شاہ کا ضبط تو وہاں ٹوٹ کر بکھرا تھا جب جنید ملک ٹیبل پر ہاتھ جماتا دیدہ دلیری سے اُسکی جانب جھکا۔
”ویسے اگر آپ ہاں کردیں تو۔۔۔
دو کی جگہ چار بچوں کا بھی سوچا جاسکتا ہے۔۔۔وٹ سے بیوٹی فل گرل۔۔۔۔؟؟“ مسکاتی سی خمار آلود آواز میں جھک کر آبرو کے کان میں سرگوشی کرتا وہ اُسے سن کرگیا۔
”بس بہت ہوا۔۔۔۔“
شاہ دانت پر دانت جماتے ادھ بھرا گلاس ٹیبل پر پٹختا سرعت سے اُنکی جانب لپکا۔
مقابل کا سرد ناک اپنے کان کے اوپری حصے پر شدت سے محسوس کرتی وہ اگلے ہی پل جھٹکے سے اُس سے دور ہوئی۔
”اب آپ حد سے بڑھ رہے ہیں جنید سر۔۔۔۔“
اُسکی معنی خیز بات پرخفگی سے اُسے گھورتی وہ اِس کھلی بےباکی پر زہرخند لہجے میں گویا ہوئی تو جواباً وہ بجائے شرمندہ ہونے کے ڈھٹائی سے ہنس دیا۔
معاً آبرو کی نظریں اپنی جانب سخت تیوروں سمیت آتے شاہ پر پڑیں تو خشک لبوں پر زبان پھیرتے اُسکے دل کی متوازن دھڑکنوں میں بےاختیار شدت آئی۔
”چلو میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔“
آتے ہی اُسکی کلائی اپنی پکڑ میں لیتا وہ یقیناً منظرِعام پر تماشہ لگانے سے گریزاں ہوا تھا لیکن شاید جنید ملک۔۔
شاہ کے گریز کو اس وقت سمجھنے کے موڈ میں نہیں تھا جبھی آبرو کی دوسری کلائی سرعت سے تھام کر اُسے روکنے کی گستاخی کرگیا۔
”ایک منٹ رکیے مسٹرشاہ۔۔۔
ان حسینہ کو ہم سے دور لے جانے کی اتنی بھی کیا جلدی ہے آپکو۔۔۔؟؟
ابھی تو ہمارے بیچ تکلف کی دیوار گرنے لگی تھی۔۔۔اور آپ نے بے وقت مداخلت کرکے۔۔۔“
اُسکے بگڑتے تاثرات سے مرعوب ہوئے بنا وہ بڑی ڈھٹائی سے بولتا جارہا تھا جب شاہ نے اچانک پلٹ کر اُسکی سرخ ٹائی اپنی مٹھی میں دبوچتے اُسکی بولتی رکوائی۔
اس حرکت پر آبرو ایک پل کوسہمتی جھٹکے سے جنید ملک کی کمزور پڑتی گرفت سے اپنی کلائی چھڑوا گئی۔۔
مگر شاہ کی آہنی گرفت سے اپنا آپ رہا کروانا اُسے فی الوقت محال لگا تھا۔
”جنید ملک۔۔۔مجھے کب کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔۔۔
یہ تمھیں بتانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے مجھے۔۔۔
اس سے پہلے کہ تمھاری یہ بڑھتی بےتکلفی تمہی پر بھاری پڑ جائے۔۔۔
جسٹ گیٹ آؤٹ فرام دِس پارٹی۔۔۔۔۔“
ٹائی کو کسی پٹے کی طرح جنبش دیتے ہوئے شاہ نے سلگتے لہجے میں اُسے اسکی اوقات باور کرواتے ساتھ ہی جھٹکے سے ٹائی چھوڑی تو ذلت کے شدید احساس تلے۔۔چہرے سمیت اُسکی آنکھوں کا رنگ بدلا۔
”یہ آپ مجھ سے کس طرح سے بات کررہے ہیں مسٹر شاہ۔۔۔؟؟
آپکا کوئی رائٹ نہیں بنتا میرے ساتھ ایسی بدتمیزی کرنے کا۔۔۔“
جنید ملک کو اُس سنجیدہ پسندشخص سے اس قدر بدتمیزی کی قطعی کوئی توقع نہیں تھی سو اطراف میں ایک بےچین نگاہ دوڑاتا وہ دبا سا غرایا۔۔
آبرو نے بھی غیرارادی طور پر پلکیں جھپکاتے اردگرد دیکھا۔
چند ایک کےسوا باقی سب لوگ اپنی اپنی شوخ سرگرمیوں میں مشغول اُنکی جانب کچھ خاص متوجہ نہیں ہوپائے تھے۔
”ایک بات اور۔۔۔۔
ہمارے درمیان طے پائی جانے والی ساری ڈیلز کینسل۔۔۔
بتادینا اپنے کولیگز۔۔۔
ناؤ جسٹ آؤٹ۔۔۔۔“
اُسکے کڑھتے استفسار کو ہوا میں اڑاتا وہ مروت سے عاری ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولا تو اُسکی آنکھوں میں گھلی سرخائی دیکھتے۔۔
جنید ملک کا غصہ بے ساختہ حیرت تلے دبا۔
”پ۔۔پر مسٹر شاہ۔۔۔۔۔“
اس نے مخالفت کرنا چاہی جب شاہ اُسے اپنے حق میں احتجاج کرنے کا موقع دئیے بنا۔۔
بے نیاز سا اپنے پہلو میں حق دق کھڑی آبرو کو ساتھ لیے وہاں سے پلٹ گیا۔
ایسے میں سارا تماشہ نم آنکھوں سے دیکھتی سمن کے لیے بھی وہاں مزید رکنا اب محال ہوا تھا سو جبھی کسی کا بھی لحاظ کیے بنا اپنا کلچ موبائل اٹھاتی تپے موڈ کے ساتھ انٹیرنس کی جانب بڑھ گئی۔
”عجیب پاگل آدمی ہے یہ تو۔۔۔
اُففف یارا۔۔۔
اب میں اپنے کولیگز کو کیا وضاحت دوں گا اس سب کی۔۔۔۔؟؟؟“
قدرےپریشانی میں چہرے پر ہاتھ پھیرتے اُسنے تنفر بھری نگاہ شاہ کی دور ہوتی پشت پر ڈالی۔۔۔
جب واشروم ایریا کی سائیڈ سے واپس آتی مس انجمن کودیکھ کر اُسکا موڈ مزید غارت ہوا۔
ایسے میں اس دبے ہنگامے کے دوران براؤن پینٹ کوٹ میں ملبوس قدرے کونے میں کھڑے اُس چالیس پنتالیس سالہ شخص نے شاہ کے سنگ گھسٹتی ہوئی آبرو کا نظروں سے اوجھل ہوتا نازک سا دلکش سراپا بڑی مشکوک نگاہوں سے بغور دیکھا تھا۔۔۔۔
”سر۔۔۔
چھوڑیں مجھے۔۔۔
یہ کیا طریقہ ہے۔۔۔۔؟؟“
وہ اُسے یونہی کھینچتا ہوا اپنے ساتھ کارنر سائیڈ پر بنے روم میں لایا تو اپنی دکھتی کلائی چھڑوانے کو مزاحمت کرتی وہ دبا سا چیخی۔
معاً شاہ نے اُسے کھینچ کر اپنے مقابل کیا۔
”آسان لفظوں میں تو اسے میرا ضبط کہتے ہیں لیکن تمھاری نظر میں میری یہ کاوش زبردستی سے ذیادہ کچھ نہیں ہے۔۔۔۔“
ٹھہر ٹھہر کر اکھڑ لب ولہجے میں بولتا وہ حددرجہ سنجیدہ تھا۔
”ک۔۔کیا چاہتے ہیں آپ۔۔۔۔۔؟؟“
ہکلائے لہجے میں پوچھتے ہوئے آبرو کی نگاہوں میں ضبط کی بھیگی لالی ابھرنے لگی۔
”تمھیں پتا ہے ناں کہ مجھے تمھارے وجود کی جانب اٹھتی ہرنگاہ زہر سے بھی زہریلی لگتی ہے۔۔۔
تو پھر سوچو کسی غیر مرد کا تمھیں چھونا مجھ پر کیا قیامت ڈھاتا ہوگا۔۔۔؟؟؟“
اُسکے بوکھلائے بوکھلائے سے نقوش بےتابانہ دیکھتا وہ ہر لفظ چبا چبا کربولا تو مقابل کے اس جذبات بھرے شکوے پر اُسکے یاقوتی رنگ لبوں کوتمسخراڑاتی مسکان دھیرے سے چھوکر سمٹی۔
”محرم تو آپ بھی نہیں ہیں میرے۔۔۔
کبھی آپ نے سوچا کہ آپکا یوں بار بار میرے قریب آنا۔۔
میری ذات پر بلاوجہ کا حق جمانا مجھ پر کیا حشر برپا کرتا ہوگا۔۔۔؟؟؟“
اپنی کلائی اُسکی مضبوط گرفت سے چھڑوانے کی ناکام شش میں دوبدو جواب دیتی وہ اُسکی بھوری آنکھوں کی جلن مزید بڑھاگئی۔
”تو نکاح کرلو مجھ سے۔۔۔
بنالو مجھے اپنا محرم۔۔دے دو سارے حق اعتراض کس کافر کو ہے۔۔۔۔؟؟
اور رہا شکوہ قریب آنے کا تو جان لو کہ شاہ میر حسن نے اپنے اِس گستاخ دل کی بےپناہ طلب کے باوجود۔۔آج تک اپنی محبت میں حد سے گزر جانے کی ایک حقیر سی کوشش بھی نہیں کی۔۔۔“
نازک کلائی کو اپنی اورھ جھٹکا دیتے ناچاہتے ہوئے بھی اُسکے لہجے میں ہولے سے خمار اترا تھا۔
اُسکے کھڑے جذبات کی شدت پر بکھرتی دھڑکنوں سمیت پل بھرکو گڑبڑاتی وہ بےاختیار نگاہیں چراگئی۔
”میں آپ سے نکاح نہیں کرسکتی۔۔۔۔“
ہر بار کی طرح وہ بضد ہوئی تو نتیجتاً سختی سے لب بھینچتے اُسنے اپنا باہر کو ابلتا غصہ پینے کی ایک ادنیٰ سی شش کی۔
”کیوں۔۔۔؟؟
کیوں نہیں کرسکتی۔۔۔؟؟
کیا وجہ ہے جو تمھیں ہر بارمجھ سے دور بھاگنے پر مجبور کرتی ہے۔۔۔؟؟“ وجہ تھی یاں وجوہات اپنی انا کو فی الوقت پسِ پشت ڈالتا وہ جاننے کو سرتاپیربےچین ہوا۔
نگاہیں بےاختیار لرزتی ہوئی گھنیری پلکوں سے پھسلتی اب کہ یاقوتی لبوں پر جاٹھہری تھیں۔
”اپنے ذاتی معاملات کے حوالے سے میں آپکو وضاحت دینے کی پابندہرگز نہیں ہوں۔۔۔
اب ہٹیے سامنے سے۔۔۔“ پیچھے دھکیلنے کو اُسکے چوڑے سینے پر دباؤ ڈالتی وہ تھوڑا چڑکر بولی تو نتیجتاً وہ بھی اپنا ضبط کھونے لگا۔
”تو پھر کس چیز کی پابند ہو۔۔۔؟؟
غیرمردوں کے سامنے یوں سج سنور کرجانے کی۔۔۔اپنی نازک ادائیں دکھا کر اُنھیں خود کی جانب مائل کرنے کی۔۔۔۔؟؟
ہہممم۔۔۔؟؟؟“ اُسکی اس حد تک بےنیازی اور دھتکارتے لہجے پر اب کہ وہ کلائی چھوڑکر بازو دبوچتا بپھرا۔
تنقیدی نگاہوں سے نازک سراپا جانچتے ہوئے بےاختیار یاداشت میں کچھ دیر پہلے والا ضبط آزماتا منظرتازہ ہوا تھا۔
”میری مرضی میں کچھ بھی کروں۔۔۔
کوئی بھی میری ادائیں دیکھ کر مجھ تک کھینچا چلا آئے۔۔۔یا پھر مجھے چھوئے۔۔
یہ میری زندگی ہے آپکو اس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔؟؟؟“
نم آنکھوں سمیت دبا سا چیختی جانے کیوں وہ آج خودسری پر اتر آئی تھی۔
”تم کوئی رکھیل نہیں ہو جو ہر کوئی تمھارے جذبات کے ساتھ کھیلنے کو اپنے دل کی حسرتیں اتارنے تم تک چلا آئے گا۔۔۔۔؟؟؟
اگر کسی نے تمھیں چھونے کی جرات کی تو اُسکی جان تو میں لوں گا ہی لیکن ساتھ میں تمھیں بھی نہیں بخشوں گا۔۔۔۔“
اُسکا اس حد تک باغی پن مقابل کوحقیقی معنوں میں اشتعال کی بھڑکتی بھٹی میں جھونک گیا جبھی اُسکے حددرجہ قریب ہوتا وہ اپنے آپکو غلط الفاظ کا چناؤ کرنے سے باز نہیں رکھ پایا تھا۔
لیکن اگلے ہی پل اُسکی گال پر پوری شدت سے پڑنے والا نازک تھپڑ۔۔۔
فقط تھپڑ نہیں بلکہ ایک جلتا ہوا انگارہ تھا جو اُسکا گال سلگا کر رکھ گیا۔
لفظ”رکھیل“ نے آبرو کے تن بدن میں جیسےآگ سی بھردی تھی۔
ایک جھٹکے سے اپنا بازو اُسکی ڈھیلی گرفت سے چھڑواتی وہ مزید چٹخی تو نازک تھپڑ کی جلن پر چند پل بے یقینی میں کھڑے شاہ کا سکتہ اُسکی کانپتی ہوئی جذباتی آواز پر ٹوٹا۔
”شاید یہی وجہ ہے جو میں اب تک تمھاری جذباتی محبت قبول نہیں کرپائی شاہ
میر
حسن۔۔۔
اگر میری ذات کو لے کر کسی اور طریقے سے اپنی کڑواہٹ نکالتے تو اپنی نوکری بچانے کو ہمیشہ کی طرح مجبوراً وہ بھی برداشت کرجاتی۔۔۔۔
لیکن اب جو زہر تم نے میرے خلاف اگلا ہے اسکے بدلے میں تم صرف یہی تھپڑ ڈیزرو کرتے تھے۔۔۔
اس سب کے بعد اگر تم مجھے اس جاب سے نکال بھی دو۔۔تو یقین کرو مجھے رتی برابر بھی فرق نہیں پڑنے والا۔۔۔۔“
بے خوف سی اُسکی جانب دیکھتی وہ خود کی آنکھوں سے گالوں پر لڑھکتے اشکوں کو روک نہیں پائی تھی۔
لیکن مقابل اُسکی سن ہی کہا رہا تھا۔۔
وہ تو فقط اپنے اندر اٹھتے شدید اشتعال کو اُس نازک وجود پر اتارنے کے لیے بےتاب ہورہا تھا جبھی اُسے کندھوں سے دبوچ کر دیوار سے لگاتا وہ غرایا۔
”جانتی ہو اس تھپڑ کا خمیازہ بھگتنا تمھاری جان پر کس قدر بھاری پڑسکتا ہے۔۔۔؟؟؟
اسکے انداز اور پکڑ میں ایسی شدت تھی کہ آبرو کپکپا کے رہ گئی۔
بھوری نگاہوں میں گہری ہوتی سرخائی اُسکے اندرونی اشتعال کی واضح عکاسی کررہی تھی۔
”سس۔۔۔۔سر۔۔۔۔“
نتیجتاً اُسکی ساری بہادری ہمت ضد غصہ اکڑ۔۔سب جیسے پل میں ملیامیٹ ہوا تھا۔
”ایک بار پہلے بھی کسی نے یہی گستاخی کی تھی اور انجام۔۔۔
انجام جانتی ہو کیا ہوا تھا۔۔۔؟؟؟“
سلگتی یادوں کے حصار میں بری طرح گھرتا وہ خود بھی سلگ اٹھا تھا۔پورے وجود میں شرارے سے دوڑنے لگے۔
”جانتی ہو۔۔۔؟؟؟“
اُسکی خاموشی پر شدت سے دہاڑتا وہ آبرو کو اپنے تیوروں سے مزید خوفزدہ کرگیا۔
”مم۔۔میں نہیں۔۔جج۔۔جانتی۔۔۔۔۔“
آبرو کے لب بمشکل پھڑپھڑائے تو سرکو شدت سے جنبش دیتا وہ اُسے حواسوں سے باہر لگا۔
”میں بتاتا ہوں کیا ہوا تھا انجام۔۔۔
سانسیں رکنے پر تمام ہوا تھا یہ انجام۔۔۔
ہاں۔۔سانسیں فنا ہوگئی تھیں اُسکی۔۔۔ختم ہوگیا تھا اُسکا نازک سا وجود۔۔۔۔“ ٹھہرٹھہرکر پھنکارتا وہ اُسے گنگ کرگیا۔
ہاں۔۔
یہیں سے۔۔
بالکل یہیں سے تو اُسکی تباہیوں کا حقیقی آغاز ہوا تھا۔۔۔
اگلے ہی پل پھٹتے دماغ کے ساتھ اُسے جھٹکے سے چھوڑتا وہ رخ پلٹ گیا۔
”چلی جاؤ یہاں سے آبرو سکندر۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ میں خودپر سے اپنا سارا ضبط کھودوں۔۔۔
آؤٹ۔۔۔“
اپنی پیشانی مسلتا وہ خود پر قابو پانے کی ناکام کوشش میں چلایا تو اُسکے لہجے کی سختی نے آبرو کا دل لرزا کر رکھ دیا۔۔
مگر وہ خود پر ضبط کیے۔۔وہیں کھڑی دھندلائی نگاہوں سے شاہ کو ویسٹ پر ہاتھ رکھے گہرے گہرے سانس بھرتا دیکھتی رہی۔
”آئی سیڈ گیٹ آؤٹ فرام ہیر۔۔۔۔“
اُسکی موجودگی کو محسوس کرکے پلٹتا وہ پھر سے اُس پر دہاڑا تو بری طرح اچھلتی وہ ایک قدم پیچھے لے گئی پھر پلٹ کر دہلیز پھلانگتی وہاں سے بھاگتی چلی گئی۔
پیچھے وہ صوفے پر ڈھیتا پُراذیت لمحوں سے بھاگنے کی ناکام کوشش میں اپنے بال جکڑ کررہ گیا۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
۔
