Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21


وہ رات کی سیاہی گہری ہونے پرحویلی واپس لوٹا تھا لیکن ملازمہ کی جانب سے ملنے والی خنساء بیگم کی طبیعت خرابی کی اطلاع اُسے حقیقی معنوں میں بے چین کرگئی۔۔جبھی وہ اپنی تھکاوٹ کو پسِ پشت ڈال کرسرعت سے سیڑھیاں پھلانگتا ہوا اوپر کمرے کی جانب بھاگا تھا۔
بند دروازے کے آگے پہرہ دیتی ملازمہ نے چونک کر سالار خان کو اپنی جانب آتا دیکھا تو سوکھے لبوں پر زبان پھیرتی وہ فوراً سے محتاط ہوئی۔
وہ ملازمہ کو یکسرنظرانداز کرتا ہوا اندر جانے کو تھا جب بروقت اُسکے آگے اپنا بازو پھیلاتی وہ مقابل کے قدم روکنے کی جرات کر گئی۔
”خطا معاف خان جی۔۔لیکن آپ اندر نہیں جاسکتے۔۔۔۔“ سالار خان کے بگڑتے نقوش دیکھ کر نگاہیں جھکاتی وہ دھیمی آواز میں منمنائی۔
”تمھاری اتنی اوقات کہ تم مجھے روکو۔۔۔؟؟؟“ اُسے سخت نظروں سے گھورتا وہ پھنکارا۔
ایسے میں ملازمہ کی سانس اٹکی تو صفائی دینے کو اسنے جلدی سے منہ کھولا۔
”نہ خان جی نہ۔۔میں تو فقط آپکے جوتوں کی دھول صاف کرنے کے قابل ہوں مگراس گستاخی کی حقیقی وجہ بذاتِ خود بیگم حضور ہیں۔۔ہم ملازمائیں تو بس اُنکے حکم کی پابند ہیں۔۔بےبس اور۔۔۔“
”بکواس بند کرو اپنی اور ہٹو سامنے سے۔۔۔“ وہ بول رہی تھی جب سالار خان غصے سے اسکی بات بیچ میں کاٹتا۔۔اگلے ہی پل اسے پیچھے دھکیل چکا تھا۔
نتیجتاً ملازمہ دیوار کے ساتھ رکھی میز سےٹکرائی تو اوپر رکھا واز فرش پر گرکے پل میں چکنا چور ہوگیا۔
واز اور ملازمہ کے انجام سے بےبہرہ وہ قدرے بےتابی سے دروازہ کھولتا کمرے میں داخل ہوا تو پلنگ پر نیم دراز خنساء بیگم سمیت حلیمہ نے چونک کر اسکی جانب دیکھا۔
”اماں حضور۔۔۔۔“ اپنی ماں کی طبیعت سے چھلکتی نقاہت اور زرد رنگت دیکھ کر سالار خان کے دل پر گھونسا پڑا۔۔لیکن تکلیف میں دگنا اضافہ تو اس وقت ہوا جب خنساء بیگم نے قدرے رکھائی سے اسے اپنی جانب آنے سے روکا تھا۔انکے ہاتھ کے لرزتے اشارے پر وہ کچھ حیران سا ناچاہتے ہوئے بھی وہیں تھم گیا۔گہری نگاہوں میں ضبط کی سرخائی پھیلنے لگی تھی۔۔لیکن خود سے اس رواں سلوک کی اصل وجہ کیا تھی۔۔وہ فوری طور پرسمجھ نہیں پایا تھا۔
کچھ تاسف سے اسکی پھیکی پڑتی رنگت دیکھتی حلیمہ کا دل ڈوبنے لگا۔
سالار خان کے معاملے میں خنساء بیگم اتنی سخت دل کبھی نہیں رہی تھیں۔۔ لیکن اب شاید موجودہ حالات نے انھیں ایسا بننے پر مجبور کردیا تھا۔
”حلیمہ۔۔اسے کہہ دو کہ چلا جائے یہاں سے۔۔۔اپنی نافرمانیوں کا سواد تو یہ ہمیں بہت پہلے سے چکھا چکا ہے۔۔اب مزید اسکی جھوٹی ہمدردیوں اور برائے نام دلاسوں کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔“ اسکی جانب سے منہ پھیرتی وہ براہ راست حلیمہ سے مخاطب ہوئیں جو پریشان سی۔۔ان کے قریب بیٹھے سے اب اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
لفظ ”نافرمانی“ پر ایک پل لگا تھا اسے ساری بات سمجھنے میں۔۔
”ممم مگر۔۔خالہ حضور۔۔۔۔“ وہ جو پہلے ہی خنساء بیگم کو اتنا سنگدل ہونے سے باز رکھنے کی ناکام کوششیں کررہی تھی اس اچانک حکم پر گڑبڑا سی گئی۔۔سالار خان نے سرخ ہوتی ناگوار نظروں سے حلیمہ کی طرف دیکھا تھا۔
سارے فساد کی جڑ ایک وہی تو تھی۔معصوم سی دکھنے والی چال باز عورت جو اسکی سیدھی سادی زندگی میں عذاب بن کر آئی تھی۔
”تم۔۔۔۔۔“ اگلے ہی پل دانت پیستا ہوا وہ بجلی کی سی تیزی سے اس کی جانب لپکا تو حلیمہ نے کچھ سہم کر اسکی جانب دیکھا۔
”اب کونسا نیا زہر گھول کر پلایا ہے تم نے میری اماں حضور کو جو وہ اپنے بیٹے کی شکل تک دیکھنے کی بھی روادار نہیں رہیں۔۔ہہمم۔۔؟؟بتاؤ مجھے۔۔۔؟؟“ سالار خان اُسے بازو سے دبوچتا قدرے بلند آواز میں بولا۔اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسکا نازک وجود ہی اس جہاں سے مٹادے۔۔
جبکہ ایک عرصے بعد مقابل کے یوں خود سے قریب آنے پر بمشکل نفی میں سر ہلاتی حلیمہ کی آنکھیں تیزی سے بھیگتی چلی گئیں۔دل کی دھڑکنیں تیز تر ہوئی تھیں۔
”سالار خان۔۔۔۔“ خنساء بیگم کو ہتھیلیوں کے زور پر سیدھا ہو کر بیٹھنا پڑا جب قدرے سختی سے ملنے والی اس تنبیہہ پر وہ جھٹکے سے اسکا بازو چھوڑتا انکی جانب پلٹا۔
”اماں حضور۔۔خدا کا واسطہ ہے بس کردیں اب۔۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ مجھے آپکی بےرخی ذرہ برابر بھی برداشت نہیں ہوتی۔۔پھربھی ایسا بیگانہ رویہ اپنا کر کیوں آپ مجھے تڑپانا چاہ رہی ہیں۔۔۔؟؟“ پورے حق سے ان کے قریب بیٹھ کر ہاتھ تھامتے ہوئے اسکی بھاری آواز شدید بےبسی تلے پل بھرکو ڈگمگائی تھی۔خنساء بیگم نے کچھ غصے سے اسکی جانب دیکھا۔
”اور جو تم اپنی نافرمانیوں سے ہمیں دن رات تڑپا رہے ہو اسکا کچھ اندازہ ہے تمھیں۔۔۔؟؟“ کھانسی کو بمشکل روکے رکھے ان کا لہجہ ہنوز اکھڑا اکھڑا سا تھا۔
”اپنے حق میں بولنا اگر آپکو نافرمانی کے مترادف لگتا ہے تو آئندہ سے میں اپنے دل کی آواز دل کے اندر ہی دبا کر رکھوں گا۔۔لیکن آپکو تکلیف دینے کا میں سوچ بھی نہیں سکتا اماں حضور۔۔کجا کہ آپکی یہ حالت۔۔۔“ عاجزی سے بولتا وہ بےاختیار انکے ہاتھوں پر اپنی تپتی پیشانی ٹکا گیا۔
ایسے میں پل بھر کے لیے خنساء بیگم کا دل نرم پڑا تھا۔
نم گالوں پر لڑھکتے آنسوؤں کو صاف کرتے سمے حلیمہ کا دل کیا وہاں سے چلی جائے۔۔لیکن جانے کیوں دبیز قالین میں پیوست اسکے قدموں نے ان پلوں میں ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
”ہماری مخالفت کرکے تم پہلے ہی ہمیں بے پناہ تکلیف میں مبتلا کرچکے ہو برخوردار۔۔۔۔اور تمھارے تیوروں سے لگتا ہے کہ اس تکلیف کا مداوا کرنا شایدتمھارے بس کی بات نہیں ہے۔۔۔سو چلے جاؤ یہاں سے۔۔۔ چلے جاؤ کہ تمھارے اس باغی پن سے ہمیں تمھارے محروم باپ کی بو آتی ہے۔۔۔“ تلخی سے بولتے ہوئے آخر میں ملنے والا طعنہ بڑا سخت ترین تھا۔
”اماں حضور۔۔۔“ سالار خان نے تڑپ کر سر اٹھایا۔
حلیمہ نے بھی اس غیرمتوقع طنز پر قدرے حیرت سے خنساء بیگم کی جانب دیکھا تھا۔۔جن کی شاید یہی پر بس نہیں ہوئی تھی۔
”اُسکی منمانیوں نے تو ہمیں جیتے جی مار دیا تھا۔۔تم بھی اُسی کا خون ہو۔۔۔ماضی کی تلخ یادوں کو تو دہراؤ گے ہی۔۔۔“ بھلا کیسے بھول سکتی تھیں وہ اپنا بدترین ماضی جب ان کے من چاہے شوہر نے ایک پرائی عورت کی خاطرخاندانی روایات کے ساتھ ساتھ ان سے بھی سرعام بےوفائی کر ڈالی تھی۔۔۔اور اس طویل بے وفائی کو ان کے برائے نام شوہر نے اپنے اچانک قتل تک نبھایا تھا۔
گو کہ انکی مغفرت کی خاطر وہ ایک اچھی بیوی کے طور پر انھیں دل سے معاف کرچکی تھیں۔۔لیکن کیا کچھ نہ سہا تھا انہوں نے اپنی زندگی میں اور اب ان کا اپنا بیٹا بھی اسی ڈگر پر چل پڑا تھا۔۔
بھیگتی آواز میں بولتے ہوئے اگلے ہی پل خنساء بیگم کو کھانسی کا زبردست دورہ پڑا تھا۔
چمکتے ہوئے دو آنسو تھے جو ان کی گال پر لڑھکتے ہوئے۔۔سالار خان کے مضبوط ارادوں کی بنیاد بری طرح ہلاکر رکھ گئے تھے۔
”اماں حضور میں صرف آپکا بیٹا ہوں۔۔۔فقط آپکی پرچھائی۔۔۔خدارا مجھے میرے باپ سے مت ملائیے کیونکہ میں ان جیسا ہرگز نہیں ہوں۔۔اور نہ ہی ایسا کبھی بننا چاہتا ہوں۔۔۔“ انکی کھانسی تھمنے پر وہ مدھم سلگتے لہجے میں بولا۔
”تو پھر ثابت کرو یہ بات۔۔۔“ کچھ نرمی سے بولتے ہوئے خنساء بیگم کو بازی اب پوری طرح اپنے ہاتھوں میں آتی ہوئی محسوس ہوئی۔
شاید نہیں یقیناً۔۔۔وہ ایک گہری ٹھوکر لگ چکی تھی جو مقابل کے ضد اور بغاوت کے قلعے کو ملیا میٹ کرنے کے لیے کافی تھی۔
”مجھ سےکیا چاہتی ہیں آپ۔۔۔؟؟؟“ منہ پر ہاتھ پھیرتا وہ شکست خوردہ لہجے میں گویا ہوا۔انداز تھکا تھکا سا تھا۔
”تمھاری خالہ زاد حلیمہ سے تمھارا نکاح۔۔۔وہ بھی بنا کسی دیری کے۔۔۔“ گہری سانسوں کے بیچ جواب توقع کے عین مطابق آیا تھا۔
خنساء بیگم کے اس بھرپور تقاضے پر جہاں انگلیاں مروڑتے ہوئے حلیمہ کا دل شدتوں سے دھڑکا تھا وہیں وہ بھی اپنے لب سختی سے بھینچ گیا۔
”مگر وہ میرے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ پائے گی اماں حضور۔۔۔میں دعوے سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ آپکی اس جذباتی خواہش کے نتیجے میں۔۔ میں تو بےسکون رہوں گا ہی۔۔ساتھ ہی ساتھ آپکی اکلوتی بھانجی کی خوشیاں بھی برباد ہوجائیں گی۔۔۔۔“ وہ بڑی سنجیدگی سے اُنھیں آنے والے کل کی بابت آگاہ کررہا تھا۔۔۔آگاہ کیا کررہا تھا۔۔اپنی پشت پر سراپا سماعت بن کے کھڑی اُس لڑکی کو اپنے تیئں ڈرا دھمکا رہا تھا۔۔مگر وہاں پرواہ کسےتھی۔۔۔
”ہونہہ۔۔۔انسان تو خود کی چلتی ہوئی سانسوں کی گرنٹی دینے کے بھی قابل نہیں ہے برخوردار۔۔تو پھرتم کیسے اتنے یقین سے کسی کے دکھ سکھ کی گرنٹی دے سکتے ہو۔۔۔؟؟ان کھوکھلی پیشن گوئیوں کی بجائے ہمیں صرف اتنا بتاؤ کہ۔۔کیا تم ہماری اس دلی خواہش کا احترام کرو گے۔۔یاں پھراس بار بھی نافرمانی کی راہ چن کے اپنی اماں حضور کو گہری اذیت میں مبتلا کرنے کا ارادہ کرلیا ہے۔۔۔؟؟؟“ اسکی باتوں کو ہوا میں اڑاتی وہ خاصے بے لچک انداز میں بولیں تو گہرا سانس بھرتا وہ سر جھکا گیا۔
”آپ جانتی ہیں کہ آپکی رضامندی میں میری رضا نہیں بلکہ بے بسی کی انتہا شامل ہے۔۔لیکن صرف آپکی دلی تسکین کی خاطر۔۔مجھے یہ پچھتاوے بھرا سودا بھی منظور ہے۔۔۔۔“ اپنا آپ مار کے ہامی بھرتا وہ مزید وہاں رکا نہیں تھا بلکہ ایک اچٹتی ہوئی کاٹ دار نگاہ حلیمہ کے جھکے سر کی جانب اچھال کر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
پیچھے جہاں ایک کا وجود ہنوز بے یقینی کے عالم میں گھرا ہوا تھا وہیں دوسرے کی ڈبڈبائی آنکھیں خوشی و سرشاری کے بل پر مزید چمک اٹھیں۔
اگلے ہی پل جانے کتنی ہی ملازماؤں کے نام بلند پکار کی صورت خنساء بیگم کی زبان سے نکلتے چلے گئے لیکن حلیمہ کا سکتہ ہنوز قائم رہا تھا۔۔۔
☆….☆….☆….☆
فارم ہاؤس کے چاروں اطراف پھیلی گہری تاریکی۔۔مہیب سناٹے کے سنگ پل پل بڑھتی چلی جارہی تھی۔فضا میں مدھم ہوا کے باعث درختوں کے پتے بھی دھیمی سی سرسراہٹ پر رقصاں تھے۔
ایسے میں وہ کسی مجسمے کی طرح کھلی کھڑکی کے سامنے کھڑی۔۔آسمان پر چمکتے بے داغ چاند کو بنا پلک جھپکائے یک ٹک دیکھتی چلی جارہی تھی جب وہ دروازہ کھول کر کمرے میں آیا۔
اپنی جانب بڑھتے دبے قدموں کی آہٹ پر بھی حرمین کی محویت ہنوز قائم تھی۔
”اس خوبصورت چاند میں کیا کھوجنے کی کوشش کررہی ہو۔۔۔اپنا عکس۔۔۔؟؟“ اسکے قریب رکتا وہ مسکاتی آواز میں بولا تو حرمین بھاری لب و لہجے پر اپنے خیالوں سے چونکتی اُسکی جانب پلٹی۔
پھرمسکراتی ہوئی نفی میں سر ہلاگئی۔
شام جو ہاتھ پشت پر باندھے پُرسوچ نگاہوں سے اسی کے نقوش دیکھ رہا تھا۔۔اچانک ہی بلیک کیس والا ہاتھ آگے لاتا اسے ایک بار پھرسے چونکا گیا۔
”یہ۔۔۔تمھارے لیے۔۔۔۔“ لاپرواہی سے ایک ہاتھ بالوں میں چلاتے ہوئے اسکے انداز میں ایک غیرمعمولی سی ہچکچاہٹ تھی۔
”مم۔۔میرے لیے۔۔۔۔؟؟“ حرمین کو حیرت کا شدیدجھٹکا لگا۔
مقابل کی یہ حرکت بالکل ہی غیرمتوقع تھی۔
”کھول کر نہیں دیکھو گی۔۔۔؟؟“ کیس اسےتھماتا وہ کچھ بےتاب سا ہوا تو ہنوز حیرانگی کی کیفیت میں گھری حرمین بمشکل اثبات میں سرہلا پائی۔
خود کے نکاح کی دل گھٹاتی خبر کے حوالے سے ذہن میں ترتیب دئیے گئے سب الفاظ اس پل جیسے بھولتے چلے گئے۔
لرزتی انگلیوں سے بلیک ویلوٹ کیس کے لاکس کھولتے ہوئے اسکا الجھا دل بےہنگم انداز میں دھڑک رہا تھا۔۔
جبکہ شام سینے پر بازو لپیٹتا اب کہ اسکا ایک ایک تاثر قدرے دلچسپی سے گہری نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھا۔
اگلے ہی پل کمرے میں کئی روشن بلبوں تلے وائٹ گولڈ کا تھری لیئرڈ نیکلس پوری آپ و تاب سے چمکتا ہوا۔۔چشمے کے پار اس کی آنکھوں کی سیاہی مزید گہری کرگیا۔
اناری رنگ نگوں پر دھیرے سے انگلیاں پھیرتی حرمین کے لیے نیکلس پر سے فوری طور نظریں ہٹانا مشکل ترین ہوا تھا۔
”جانتی ہو لائف میں پہلی بار کسی لڑکی کے لیے خود سے ایسا کوئی گفٹ خریدا ہے۔۔۔انفیکٹ میں تو کبھی موم کے لیے بھی اتنا پریکٹیکل نہیں ہوا جتناکہ تمھارے لیے۔۔۔۔“ اپنی بات پر وہ آپ ہی دھیرے سے ہنس دیا۔حرمین نے کچھ میکانکی انداز میں چاند کی روشنی تلے اسکا وجیہہ چہرہ دیکھا۔
”م۔۔مگرشام۔۔یہ تو۔۔۔بہت قیمتی ہے۔۔انفیکٹ بہت ہی ذیادہ قیمتی۔۔۔“ اس قدر اہمیت ملنے پر اسےسمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے اپنے جذبات کا اظہار کرے سو اناری رنگ نگوں کی دمکتی خوبصورتی کو فراموش کرتی وہ بےساختہ قیمت پر فکر مند ہوئی۔
شام کی دلکش مسکراہٹ میں بےاختیار تمسخر گھلا تھا۔
”ہاں پر تم سے ذیادہ قیمتی نہیں ہے سویٹ ہارٹ۔۔۔“ ذرا سا اسکی جانب جھک کر مخصوص لب ولہجے میں بولتا وہ حرمین کی دھڑکنوں میں مزید شدت لے آیا۔
”آپکو یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں تھی شام۔۔میں۔۔۔“ وہ مزید کہنا چاہتی تھی۔۔انکار کردینا چاہتی تھی جب شام ان رسمی نخروں سے بچنے کو درمیان میں ہی بول پڑا۔
”مگر مجھے اس وقت تمھاری اجازت کی بےحد طلب ہے۔۔۔۔“ شدت سے سانولے نقوش تکتا وہ اپنی بات سے اسے الجھا گیا۔
”مطلب۔۔۔؟؟؟“ اگلے ہی پل اسکی مضبوط ہتھیلیوں تلے دبے خود کے نازک ہاتھوں کو محسوس کرتی حرمین نے بغور اسکی لمبی خمدار پلکوں کو دیکھا۔
ایک عجیب سا سرور تھا جو دھیرے دھیرے سے اسکے دماغ پر حاوی ہونے لگا تھا۔
شاید مقابل کی موجودگی کا اثر تھا یاں پھر اس بد ذائقہ ایپل جوس کا جسے وہ نفیسہ بیگم سے موبائل فون پر بات کرنے کے بعد آدھا پی کر ہی چھوڑ گئی تھی۔۔۔
علیزہ کے ساتھ اپنی کمبائن اسٹڈی کی بابت نفیسہ بیگم کو آگاہ کرتی وہ انھیں خود سے خاصا مطمئن کر تو چکی تھی۔۔۔۔لیکن جانے کیوں لفظ لفظ جھوٹ بولتے وقت حرمین کی زبان پل بھر کے لیے بھی نہیں لڑکھڑائی تھی اور نہ ہی دل میں کوئی شرمندگی کا ذرہ برابر احساس اجاگر ہوا تھا۔
وہ دبو سی حقیقت پسند لڑکی حقیقتاً بہت بدل گئی تھی۔
شام اسکے پوچھنے کے انداز پر ہولے سے مسکراتا اگلے ہی پل کیس اسکے ہاتھوں سے لے چکا تھا۔۔۔
”مطلب یہ کہ۔۔۔اپنے ہاتھوں سے خود تمھیں یہ نیکلس پہنانا چاہتا ہوں۔۔۔سو۔۔اجازت ہے؟؟“ نیکلس نکال کر کیس سائیڈ پر رکھتے ہوئے شام کے نرم لہجے میں صاف گزارش تھی۔۔۔اور اس گزارش میں پوشیدہ۔۔حجاب اتارنے کا اشارہ حرمین سے بالکل بھی مخفی نہیں رہا تھا۔
آنے والے زندگی اجاڑ لمحوں سے انجان وہ بے اختیار سیاہی مائل لبوں پر در آنے والی شرمیلی مسکراہٹ پر سے ضبط کھوتی۔۔۔چاہ کر بھی مقابل کو انکار نہیں کرپائی تھی سو اسکی نگاہوں میں گھلتی گلابیت سے نگاہیں چراتی پلٹی۔
اگلے ہی پل آئینے کے سامنے جاکر کھڑی ہوتی وہ ایک ایک کرکے عنابی رنگ حجاب میں پیوست پنیں کھینچ کر نکالنے لگی۔انداز میں سستی اور ہچکچاہٹ صاف تھی۔
نیکلس مٹھی میں بھینچے وہ بھی قدم قدم چلتا ہوا اسکی پشت پر آ کھڑا ہوا۔
”مجھے یقین ہے کہ تم حجاب کی بانسبت کھلے بالوں میں ذیادہ دلکش لگتی ہوگی۔۔۔“ شام کا حسرت زدہ لہجہ حرمین کو مزید شرمانے پر مجبور کرگیا۔
معاً کھلی کھڑکی سے بےدھڑک اندر کو کودتے سرد ہوا کے جھونکے نے ان دونوں کو موسم کے بدلنے کا خوشگوار احساس دلایا تھا۔
عنابی رنگ حجاب حرمین کے سلکی بالوں سے پھسل کر نازک کندھوں سے ہٹتا ہوا شام کے دل کی دھڑکنیں تیز کرگیا۔سانولی سی صراحی دار گردن اسکی گہری نگاہوں کے سامنے تھی۔
مزید پل اسی کیفیت میں سرکے تو وہ ایکدم سے سرجھٹکتا آگے کو ہوا۔
پھر پورے استحقاق سے قیمتی نیکلس کو اسکے گلے میں اتارتے ہوئے۔۔اب کہ وہ قدرے اطمینان کے ساتھ پیچھے سے ہک بند کررہا تھا۔
اس دوران حرمین اسکی مردانہ انگلیوں کی سرسراہٹ پر ضبط کرتی سر تا پیر کانپ گئی۔سانسوں سمیت سانوالے گالوں پر اترتی سرخائی مزید گہری ہوئی تھی۔
”بیوٹیفل۔۔۔۔“ بنا پیچھے ہٹے وہ آئینے میں دکھائی دیتے نیکلس پر اپنی بھوری نگاہیں جماتا سراہتی ہوئی آواز میں گویا ہوا۔۔تو بے اختیار خود کو نظر بھرکر آئینے میں دیکھتی وہ اگلے ہی پل لبوں پر شرمیلی مسکراہٹ بکھیرے نگاہیں جھکا گئی۔
”تمھیں معلوم ہے جب تم کھل کرمسکراتی ہو تو مجھے کس قدر حسین لگتی ہو۔۔۔یونہی مسکراتی رہا کرو۔۔۔لیکن صرف میرے لیے۔۔۔“ نازک کندھے تھام کر شام اسکی ذات کو ہرلحاظ سے معتبر کرتا چلا جارہا تھا۔اسے یاد نہیں پڑتا تھا کہ کب اسنے تنہائی بھرے لمحات میں اس قدر نرمی کسی دوسری لڑکی کے ساتھ بھی برتی تھی۔۔۔
”جانتے ہیں شام مجھے اپنی تعریف سننا پسند نہیں ہے۔۔۔شاید اس لیے کہ کسی نے مجھے اس قابل سمجھا ہی نہیں کبھی۔۔۔لیکن جب آپ کرتے ہیں تو بہت اچھا لگتا ہے۔۔۔۔“ آئینے میں اسکے وجیہہ نقوش بےتابانہ تکتی وہ ایک ٹرانس کی سی کیفیت میں بولی تو وہ بھنویں اچکا گیا۔
”ہہممم۔۔۔اگر ایسی بات ہے تو اب کی بار تمھیں ایک خامی بھی بتائے دیتا ہوں۔۔۔کہیں ایسا نہ ہو بعد میں غرور تمھارے سر چڑھ کے بولے۔۔۔“ سنجیدگی میں گھلتی شوخی حرمین کو بھی متفکر کرگئی۔معاً وہ بے خود ہوتی اسکی جانب پلٹی۔
”بتائیں۔۔۔؟؟“ آنکھیں بند کرکے کھولتی وہ دھیرے سے بولی تھی۔
کافی کم مقدار میں جوس میں گھلا نشہ اسکے اعصاب پر مزید گہرا ہوتا چلا جارہا تھا۔
”یہ جو تمھارا بڑے بڑے شیشوں والا چشمہ ہے ناں۔۔۔یہ تم پر بالکل بھی سوٹ نہیں کرتا یار۔۔۔ہاف پرسنٹ بھی نہیں۔۔۔جانتی ہو کیوں۔۔۔؟؟؟“ ایک ہاتھ نرمی سے اسکی نازک کمر کے گرد حائل کرکے اپنی جانب کھینچتا وہ اگلے ہی پل اسکی آنکھوں سے چشمہ اتار کر پیچھے پلنگ پر اچھال چکا تھا۔
” کیوں۔۔۔؟؟؟“ اسکی بےباکی برداشت کرتی حرمین نے بےاختیار اسکے سینے پر اپنی ہتھیلیاں جماتے۔۔اسی کے انداز میں بھنویں اچکائیں۔
ہچکچاہٹ میں اترتی نشے کی سی کیفیت اسے شرمیلے احساسات سے دورکررہی تھی۔۔اور یہی تو مقابل چاہتا تھا۔۔۔بےباکیاں ہی تو تھیں جو اسے شدت سے اپنی جانب اٹریکٹ کرتی تھیں۔
”کیونکہ۔۔تمھارا یہ ظالم چشمہ اِن حسین آنکھوں کا حسن ہمیشہ چرالیتا ہے۔۔۔۔پلیز اسے میرے سامنے مت لگاکرآیا کرو۔۔۔“ اسکی گلابیت گھلی آنکھوں میں قریب سے جھانکتے ہوئے اب کی بار اسکی آواز میں خفگی شامل تھی اور انداز بھی کچھ دھونس لیے ہوئے تھا۔
حرمین کو بےساختہ ہنسی آئی۔اسکے خامی بیان کرنے کا انداز بھی دل دھڑکانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
جانے کیوں شام کو اسکی یہ معمولی سی ہنسی بھی اس فسوں خیز لمحات میں حسین ترین لگی تھی جبھی بے خود ہوتا وہ اسکی پلکوں پر جھکا تھا۔۔اور
لمحوں میں ان پر اپنا نرم لمس چھوڑتا حرمین کا وجود پتھرکرگیا۔
مزید۔۔۔اسکے سکتے کی کیفیت کو اقرار سمجھ کر بالوں کا جوڑا کھولتا۔۔اب کہ وہ اسکے بال بھی آہستہ سے اسکے کندھوں پر بکھیرتا چلا گیا۔
شام کی بڑھتی پیش قدمی حرمین کو ایکدم سے ہوش کی دنیا میں واپس پٹخ لائی تھی۔
”ی۔۔یہ غلط ہے۔۔۔“ پل میں اسکا نازک حصار توڑتی وہ متوحش سی پیچھے ہٹی تو شام نے پل بھر کو حیرت تلے دبتے اسکی جانب دیکھا۔
اسکے اس قدر اچانک گریز پر پیشانی پر بے اختیار بل پڑے تھے جنھیں انگلیوں تلے مسلتا وہ پھرسے اسکے قریب ہوا۔
”کچھ غلط نہیں ہے میری جان۔۔۔اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کرنا کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں ہے۔۔۔انفیکٹ۔۔۔آجکل تو یہ سب بہت کامن ہے۔۔۔نارملی چلتا ہے یار۔۔۔سو جسٹ ریلکس۔۔ ہہمم ۔۔گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے تمھیں بالکل بھی۔۔۔۔۔“ قدرے بےباکی سے اپنی کیفیات کو بیان کرتا وہ اسکا بگڑتا تنفس نارمل کرنے کی کوششوں میں تھا۔
جبکہ گہرے سانس بھرتی حرمین ۔۔واپس مقابل کے نرم گھیرے میں آنے سے ذیادہ اسکے ارادے جان کر گھبرائی تھی۔
”میں آپکی چاہتوں کا بہت احترام کرتی ہوں شام۔۔لیکن اگر کسی کو آپکی ان شدتوں کا علم ہوا تو اسکے انجام پر۔۔زمانے سے زیادہ اپنے گھروالوں سے نظریں ملانا میرے لیے مشکل ترین ہوگا۔۔۔“ چکراتے دماغ پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کرتی وہ ہنوز خائف تھی۔
اندر ہی اندر پیچ و تاب کھاتے شام نے ضبط سے لب بھینچ لیے۔وہ لڑکی اسے خود سے قریب کرکے اب بلاوجہ ہی تڑپا رہی تھی۔
”حرمین دیکھو۔۔تم مجھ سے بے پناہ محبت کرتی ہو۔۔رائٹ۔۔؟؟اور محبت میں یہ ہرگز نہیں سوچا جاتا کہ اسکے بعد لوگ کیا سوچیں گے۔۔۔انفیکٹ تمھیں تو اس وقت صرف یہ سوچنا چاہیے کہ میں تمھارے بارے میں کیا سوچ رکھتا ہوں یار۔۔۔عشق محبت کے معاملے میں تو لوگ اپنی جانیں تک گنوا بیٹھتے ہیں۔۔۔اور میرا تقاضا تو پھر بھی صرف تمھاری قربت پانے کا ہے۔۔۔دیٹ سٹ۔۔۔۔“ ٹھہر ٹھہر کر تحمل سے سمجھاتا وہ اسکے گالوں پر اتری ضبط و حیا کی سرخائی کو پوروں تلے نرمی سے چھورہا تھا۔۔اسکی ڈانواں ڈول ہوتی ذات کو ہر طرف سے گھیرنے کی ہر ممکن کوششیں کررہا تھا۔۔
جب اسکی بےجا ضد پرحرمین زہرا کا گلا خشک پڑنے لگا تو بےساختہ لرزتے لبوں کو تر کیا۔
”میں بھی خود کو صرف آپکی ذات تک محدود کرلینا چاہتی ہوں۔۔۔لیکن ڈرتی ہوں کہ اس عشق محبت کی عمارت کھڑی کرتے کرتے کہیں اپنی نسوانیت نہ ہاردوں۔۔۔بغیر کسی جائز رشتے کے میرے لیے۔۔۔۔“ وہ بگڑتے تنفس سے بےپرواہ اسکی سرد آنکھوں میں دیکھتی بول رہی تھی جب شام بیچ میں ہی برہم ہوتا اسے ٹوک گیا۔
”کیا تمھیں مجھ پر یقین نہیں ہے۔۔۔؟؟“ اسے بازوؤں سے تھام کر جھٹکا دیتا وہ حددرجہ متاسف ہوا تھا۔ بھوری نگاہوں میں چیختے جذبات سمیت برہمی صاف عیاں تھی کہ نم ہوتی آنکھوں سمیت حرمین کی سانسیں تھمنے سی لگیں۔
نتیجتاً اسکی طول پکڑتی خاموشی پر شام چٹختا ہوا اگلے ہی پل اسے پیچھے دھکیل چکا تھا۔پورے وجود سمیت ڈگمگاتی وہ بمشکل سنبھلی۔پھر تڑپ کر آگے بڑھتی اس کا گریبان اپنی مٹھیوں میں دبوچ گئی۔۔
اس جرات پر وہ شام کو اپنے حواسوں سے پرے لگی تھی۔
”ہ۔۔ہے یقین۔۔بہت ہے۔۔لیکن اپنی قسمت سے ڈر لگتا ہے۔۔ہمیشہ کی طرح کب ۔۔کک۔۔کہاں ساتھ چھوڑ جائے۔۔؟؟ کچھ پتا نہیں۔۔۔“ آنسو اسکی گال پر پھسل کر بے مول ہوئے تھے۔اب کی بار وہ خود سے اسکے قریب آئی تھی۔۔بہت قریب۔۔اور شاید مقابل بھی اسی پیش قدمی کا منتظر تھا۔
”اگر یقین کرتی ہو تو پھر میری بےتاب دھڑکنوں کو قرار بخش دو حرمین زہرا۔۔۔اس سے ذیادہ میں تم سے کچھ نہیں مانگتا یار۔۔۔۔“ ہاتھ بڑھا کر اسکے چہرے کی نمی کو بظاہر محبت سے صاف کرتا وہ ملتجی ہوا۔ خمار گھلے لہجے میں چیختی بےتابیاں عروج پرتھیں۔
حرمین نے آنکھیں میچتے ہوئے سختی سے نچلا لب کچلا۔وہ ناچاہتے ہوئے بھی اُسکے لفظوں کی مٹھاس اور لمس کی نرمی پاکر اپنا آپ ہارنے لگی تھی۔بند کھلتی آنکھوں پر بے دم ہوتے احتجاج اگلے ہی پل اسے شام کے چوڑے سینے میں اپنا چہرہ چھپانے پر مجبور کرگئے۔
شاید۔۔۔شاید وہ مقابل کی انا کو تسکین پہنچانے کی غرض سے خود کا وجود کرچی کرچی بکھیرنے کو نیم رضامند ہوگئی تھی۔
دھیرے سے لبوں پر سرشار سی مسکراہٹ سجاتے شام کے رگ و پے میں سکون اترتا چلاگیا۔
”دیٹس مائے لوَلی گرل۔۔تمھاری یہ بےتابانہ چاہت۔۔۔اور اس چاہت پر قائم یہ بھروسہ مجھے مزید تمھارے قریب کرگیا ہے حرمین۔۔۔بہت قریب۔۔اتنا کہ اب میں ہر فاصلہ مٹادینا چاہتا ہوں۔۔۔۔“ ضبط کے کڑے بندھن توڑتا شام اسکے لرزتے وجود کو خود میں بھینچے مسلسل سرگوشیاں پر اترآیا تھا۔
سن ہوتے دماغ نے آخری بار حرمین کو سرتاپیر جھنجھوڑنا چاہا تھا لیکن
دل کی دھڑکنوں کا شور ہی اس قدر تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی ذات میں گم ہر شے سے بےبہرہ ہوتے چلے گئے۔
جہاں پرسکون روشنیاں بکھیرتا چاند مایوس ہوتا پوری طرح گہرے بادلوں تلے جا چھپا تھا وہیں دو وجود ہوش وحواس کی حدود سے رہائی پاتے۔۔پوری طرح سے نفس کی قید میں جکڑے جاچکے تھے۔ایسے میں قطرہ قطرہ سرکتی رات اُن دونوں کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے بہت پرے دھکیل چکی تھی۔۔۔۔
☆….☆….☆….☆
”اففف۔۔۔میرے خدایا۔۔۔۔“ اسنے قدرے عجلت میں کافی بھرا مگ ٹرے میں رکھا تھا جب تپتی ہوئی کافی جھٹکے سے باہر کو چھلکتی اسکے ہاتھ کی پشت پلوں میں سرخ کرگئیں۔
آبرو نے جلن والی جگہ پر جلدی سے پھونکیں مارتے ہوئے ہاتھ جھٹکا پھر ضبط سے۔۔نم آنکھیں میچتی ہوئی گہرے گہرے سانس بھرنے لگی۔متاثرہ حصہ اب کہ اسکی نازک ہتھیلی تلے سختی سے دبا ہوا تھا۔
ہاں۔۔۔ ایک عدد تھپڑ سے گال لال کرنے کے باوجود بھی وہ اس وقت آفس کی عمارت میں کھڑی۔۔۔اپنے باس کی جانب سے سونپی گئیں سابقہ ذمہ داریوں میں سے ایک کو بن کہے ہی نبھارہی تھی۔۔۔
جسکا شاید اسنے گزشتہ شب سوچا بھی نہیں تھا۔
وہ کبھی اپنی جاب واپس نہ سنبھالتی جو اگر مینجر وقار صاحب کی جانب سے اسے زور دے کر واپس نہ بلایا جاتا۔۔۔
اور پھر خود شاہ کی کال بھی تو آئی تھی اسے جو بظاہر سرد مہری سے بات کرتا اس بار بھی اپنی انا کو اسکے معاملے میں پیچھے چھوڑ گیا تھا۔
”مس آبرو سکندر۔۔۔جہاں تک میرا خیال ہے آپ میرے آفس میں ایز اے کامن ایمپلائی کام کرتی ہیں۔۔۔ایسے میں جاب سے فائر ہوئے بغیر خود ہی سے بلاوجہ گھر بیٹھ جانا آپکی کم عقلی کا واضح ثبوت ہے۔۔۔بہتر ہوگا اپنا اور ہمارا قیمتی وقت برباد کرنے کی بجائے آپ کل سے ریگولرلی آفس جوائن کریں۔۔۔یو گیٹ دیٹ۔۔۔؟؟“ اسکا بھاری لب و لہجہ کس قدر بےتاثر ہورہا تھا۔
اتنا کہ وہ چاہ کر بھی اپنے دل کی دھڑکنیں۔۔پل بھرکو بےترتیب ہونے سے روک نہیں پائی تھی۔
سو خاموشی سے اسکا بیگانہ انداز تسلیم کرتی وہ کچھ بھی نہ بولی۔
اتنے دنوں سے چپ چاپ گھر بیٹھی وہ شاہ کے سامنے اپنی ذات اور انا کا بھرم رکھ تو گئی تھی لیکن مجبوریوں تلے خود کی اجیرن زندگی کا بھرم رکھنے کے لیے بھی اسکا۔۔کہا ماننا وقت کی ضرورت تھی۔
جواب میں طول پکڑتی خاموشی کو اسکا اقرارسمجھتا شاہ اگلے ہی پل کال کاٹ چکا تھا۔۔۔
ذہن میں کھلبلی مچاتی مختلف سوچوں کو یکدم جھٹکتی آبرو فوراً سے اپنی گلابیت گھلی آنکھیں کھول گئی۔جلن ہنوز ہاتھ کی پشت سمیت دل کو جلارہی تھی لیکن وہ گزرے لمحوں میں خود کو کافی حد تک کمپوزکر چکی تھی۔سو مضبوطی سے ٹرے پکڑتی باہر نکل گئی۔۔۔
کچن کے سامنے کی چھوٹی سی راہداری پار کرتے اسکے قدموں کا رخ سیدھا شاہ کے مخصوص روم کی جانب تھا جب وہ اسے سامنے ہی سمن سے گفتگو کرتا دکھائی دے گیا۔آبرو کی چال میں بےاختیار سستی آئی تھی۔سفید شرٹ پر بلیک کوٹ اس وقت ندارد تھا جبکہ مصروف انداز میں بات چیت کرتے ہوئے وجیہہ نقوش ہنوز نکھرے نکھرے سے تھے۔
اتنے دنوں بعد اسے نظر بھر دیکھنے کی گستاخی پر آبرو کا دل بے ساختہ دھڑک اٹھا۔اسی کی جانب رخ کرکےسمن سے خان انڈسٹری کی بابت ڈسکشن کرتا شاہ بھی اسے سست روی سے اپنی جانب آتے دیکھ چکا تھا۔
”اممم۔۔۔ایسا ہے کہ۔۔کل آفٹرنون میں جو ہماری خان انڈسٹری کے ساتھ میٹنگ فکس ہوئی ہے۔۔میں چاہتا ہوں اُسے کینسل کرکے نیکسٹ ڈے پر لےجایا جائے۔۔۔“ شاہ کے سنجیدہ لہجے میں اچانک سے گھلتی حددرجہ نرماہٹ سمن کو چونکاگئی۔
”ا۔۔اوکے سر۔۔۔۔۔“ سینے سے فائل چپکائے وہ تابعداری سے بولی۔لپ سٹک لگے سرخ لبوں پر دیوانی سی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔
”مزید اس حوالے سے آپ خان انڈسٹری کو لازمی طور پر انفارم کردیجیے گا۔۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ کسی بھی طرح کی بےخبری کے سبب انھیں بلاوجہ کا تکلف اٹھانا پڑے۔۔۔ہہمم۔۔۔۔“ پاس آکر رکتی آبرو کی جانب دوسری نگاہ ڈالے بنا وہ مزید بولا۔
”میں انفارم کردوں گی سر۔۔۔اور کوئی آڈر۔۔۔؟؟“ شاہ کے مسکاتے لہجے پرپونی ٹیل کو برابر ہلاتی وہ کچھ شوخ ہوئی پھر ذرا سا پلٹ کر آبرو کو دیکھتی ٹھٹھکی۔
”گڈ مارننگ سر۔۔۔۔“ آبرو کچھ ہچکچاکر بولی۔جواباً سرسری سا اسکی جانب دیکھ کرسر اثبات میں ہلاتا وہ واپس سمن کی جانب متوجہ ہوا۔
”ابھی کے لیے بس اتنا ہی۔۔۔ویسے آپ کہیں جارہی تھیں۔۔۔۔؟؟؟“ اسکے شوخ نقوش گہری نگاہوں سے تکتا شاہ ایکدم یاد آنے پر بولا۔وہ یقیناً کسی کام سے جارہی تھی جب اسنے پیچھے سے آواز دے کر اسے رکا تھا۔
لہجہ ہنوز نرم تھا۔۔۔
فقط لہجہ کیا۔۔۔آواز۔۔۔انداز۔۔۔یہاں تک کے دیکھنے میں بھی نرمی ہی نرمی تھی۔
لیکن کس کے لیے۔۔۔؟؟
سمن لطیف کے لیے۔۔۔؟؟
جانے کیوں ان باریکیوں پر غور کرتی آبرو کا دل ڈوبنے لگا۔
”یاہ سر۔۔۔ وہ ایکچولی۔۔وقار صاحب نے امپورٹنٹ پیپرز دئیے تھے کچھ ۔۔وہی کاپیز کروانے جارہی تھی۔۔۔۔“ آبرو کی موجودگی سے کچھ بیزار سی ہوتی وہ فائل دکھاتی بولی۔
سمن کی یہ بیزاری ان دونوں سے ہی چھپ نہیں سکی تھی۔
اگلے ہی پل آبرو ضبط سے پنکھری لب بھینچتی ان دونوں کے پاس سے آگے گزرگئی۔پلکیں جھپکا جھپکا کر نمی کو اندر دھکیلنے کی کوشش میں ٹرے کے کناروں پر پکڑ سخت ہوئی تھی۔
”مس آبرو۔۔۔“ شاہ نے پلٹ کر بےساختہ پکارا تو جہاں سمن نے حقارت سے اپنی ابرو اچکائی تھی وہیں وہ بھی دھڑکتے دل سمیت تذبذب کی سی کیفیت میں جلدی سے مڑی۔
”سمن۔۔۔آپ اس طرح کیجیے کہ یہ فائل مس آبرو کو دے دیں وہ خود اسکی فوٹو کاپیزکروا کے وقار صاحب تک پہنچادیں گی۔۔اور آپ پلیز ایک دبنگ سی چائے بناکر میرے روم میں لے آئیں۔۔۔۔“ آبرو کو اپنی جانب متوجہ کرواتا وہ براہ ِراست سمن سے مخاطب ہوا۔۔
جبکہ شاہ کی ایک کے بعد ایک نئی عنایت پرسمن حیرت تلے پلکیں جھپکاتی اپنے باس کو دیکھ کر رہ گئی۔
”مم۔۔مگرسر۔۔میں نے الریڈی آپکی کافی۔۔۔“ آبرو نے سٹپٹا کر بولنا چاہا جو اپنی پسند ہی بدل چکا تھا۔۔
مگر شاہ۔۔شانِ بے نیازی سے اسے ٹوک گیا۔
”ڈونٹ ویسٹ دی ٹائم۔۔۔جیسا کہا گیا ہے ویسا ہی کریں۔۔۔“ ایک بھرپور سرد نگاہ حق دق سی کھڑی آبرو کی جانب اچھالتا اگلے ہی پل وہ جیبوں میں ہاتھ پھنساتا اسکے پاس آیا تھا۔
”اس بار میں نیا ذائقہ آزمانا چاہتا ہوں۔۔۔شاید اس لیے کہ پرانے میں اب وہ لذت باقی نہیں رہی۔۔۔ویلکم بیک ٹو مائے آفس آبرو سکندر۔۔۔۔“ ذرا سی گردن ترچھی کرکے اسکی پرشکوہ نیلی نگاہوں میں اشتیاق سے جھانکتا۔۔وہ تمسخر گھلے مدھم لہجے میں بولا تو آخر میں اسکے لبوں پر در آنے والی مسکراہٹ کو آبرو نے تاسف سے دیکھا۔
اسے لگا جیسے تپتے چھینٹے ایک بار پھر سے اسکی جانب اچھلتے اب کی دفعہ اسکے دل کو نشانہ بنا گئے ہوں۔
اگلے ہی پل شاہ سنجیدہ ہوا اور اسکے ہاتھ کی سرخائی سے بالکل انجان۔۔ سرخ چہرے سے نظریں ہٹاتا۔۔ وہاں سے نکلتا چلاگیا۔۔۔
تبھی سمن تمسخرانہ نظروں سے اسکا سپاٹ چہرہ دیکھتی ایک ادا سے اسکی طرف لپکی تھی۔
”لگتا ہے سر کو اب تمھارا ٹیسٹ کچھ خاص پسند نہیں رہا۔۔۔جبھی تو وہ اب کچھ نیا ٹرائے کرنا چاہتے ہیں۔۔۔“ ہاتھ آیا موقع وہ خوب استعمال میں لارہی تھی۔آبرو نے بھیگی نظریں مگ سے ہٹاتے ہوئے بڑے ضبط سے اسکی مکروہ مسکراہٹ دیکھی تھی۔
”سوچو اگر پہلی ہی بار میں اُنھیں میرے ذائقے کا چسکا لگ جائےتو۔۔۔مجھے پوری امید ہے پھرتمھاری رسائی صرف ان بے مطلب کی فائلوں تک ہی محدود ہوکر رہ جائے گی آبرو سکندر۔۔۔۔“ طنز کے بھیگےنشتر اسکے وجود میں گھسیڑنے کی کامیاب کوشش کرتی وہ اگلے ہی پل ٹرے اسکے ہاتھ سے لیتی فائل اسے تھما چکی تھی۔۔۔
آبرو نےتنفر سے اسکی جانب دیکھا جو اسکے امڈتے غصے سے بے پرواہ۔۔اپنی ہنسی روکتی اگلے ہی پل وہاں سے نکلتی چلی گئی۔۔۔۔پیچھے فائل کو سختی سے گرفت میں دبوچتے ہوئے آبرو کے دو آنسو ٹوٹ کر گہرے سیاہ کور پر پھسلتے بےمول ہوئے تھے۔۔۔۔
☆….☆….☆….☆
تپتی ہوئی ریت سورج کی بھڑکتی کرنوں تلے چمکتی اسکے وجود کو بھی بھڑکا رہی تھی۔چاروں اطراف نم نگاہیں دوڑانے پر وہ لامحدود سی جگہ اسے کوئی ویران سا صحرا ہی لگا تھا جسکے ہر حصے سے جھلکتی وحشت اسکی ہمت کو مزید کھوکھلا کرتی چلی گئی۔ایسے میں گرم ہوا کے سنگ وقفے وقفے سے اڑتی ریت اسکی مشکلات مزید بڑھائے دے رہی تھی۔
گہرے سانس لیتے ہوئے اسنے آنسو ملا پسینہ بازو سے پونچھا پھر سینے میں انجان وسوسوں تلے۔۔شدتوں سے پھڑپھڑاتے دل کے ساتھ آگے بڑھی۔
”آہ۔۔۔ہ۔۔۔“ ابھی وہ دو چار قدم آگے کو چلی ہی تھی جب دایاں پیر حد سے ذیادہ ریت میں دھنسنے پر وہ لڑکھڑا کر منہ کے بل نرم سلگتی ریت پرگری۔
ایک آگ کی سی لہر تھی جو اسکے رگ و پے میں سرائیت کرتی اسے ایک نئی اذیت سے دوچار کرگئی۔بےبسی اس قدر تھی کہ اسے شدت سے رونا آنے لگا۔معاً اسے اپنے پیچھے کسی دوسرے وجود کی موجودگی کا احساس ہوا تو سرعت سے ہتھیلیوں پر زور دے کر کھڑی ہوتی وہ وحشت زدہ سی پیچھے پلٹی۔
دل خوف کی ذیادتی سے پھٹنے کے قریب ہوا تھا جب اگلے ہی پل بھیگی آنکھوں میں اترتی شناسائی اسے بے یقینی میں دھکیلتی چلی گئی۔
”با۔۔با۔۔۔۔۔۔“ مقابل شخص کو دیکھ کر اسکے لب بے آواز کپکپائے تھے۔
گرد آلود کپڑوں کونظرانداز کرتی وہ انکا زردچہرہ دیکھ کر روہانسی ہوئی تھی مگر توقع کے الٹ وہ بیگانے سے اسکے پاس سے گزرگئے۔۔یوں جیسے جانتے ہی ناں ہوں۔۔۔
اس قدر بےنیازی پر حرمین کے وجود میں نئے سرے سے تڑپ جاگ اٹھی تو بے تابانہ ان کے پیچھے لپکی۔۔
”بابا۔۔رک جائیں خدارا۔۔۔میں ہوں آپکی حرمین۔۔۔آپ۔۔کی۔۔۔“ وہ پل پل بگڑتے تنفس کی پرواہ کیے بنا مسلسل پیچھے سے انھیں پکار رہی تھی پر وہ ہر التجاء سے بے بہرہ کسی ربوٹ کی مانند بنا رکے ایک مخصوص سمت میں چلتے جارہے تھے۔
”بابا۔۔۔۔“ اپنا ضبط کھوتی حرمین تقریباً بھاگ کر ان کے آگے آئی تو فیضان صاحب ایکدم سے رکے۔
نم آنکھوں میں اب کی بار شناسائی موجود تھی مگر ساتھ ہی ان میں دکھنے والا وہ کرب کیسا تھا۔۔۔؟؟حرمین کا دل ڈوبنے لگا۔
”تکلیف ہورہی ہے۔۔۔بے حد تکلیف۔۔۔وجود جھلستا چلا جارہا ہے۔۔۔مگر بہت تلاشنے کے باوجود بھی سکون کہیں میسر نہیں آرہا۔۔۔۔“ سینے پر بےتابانہ ہاتھ مسلتے وہ خود کے ساتھ ساتھ اسے بھی تڑپا گئے تھے۔
”بابا۔۔۔۔“ بے اختیار ہاتھ بڑھا کے وہ انھیں چھونے کے قریب ہوئی۔انداز میں حسرت صاف تھی۔۔جب اچانک انکا وجود ریت ہوتا۔۔گرم ہوا میں تحلیل ہونے لگا۔
اس غیرمتوقع صورتحال پر حرمین کا دل دھک سے رہ گیا۔
”م۔۔مت جائیں بابا۔۔۔۔مجھےا۔۔اس طرح سے اکیلا چھوڑ کرمت جائیں۔۔میں اس ویرانے میں تنہا مرجاؤں گی مجھے ضرورت ہے آپکی۔۔۔۔۔۔“ پھوٹ پھوٹ کر روتی وہ انھیں روکنے کی ناکام کوششوں میں پاگل ہورہی تھی لیکن ہاتھ میں آتے ریت کے تپتے ذرات اسکی چیختی التجاؤں سے انکاری ہوتے ۔۔اسکا وجودمحرومیوں کے عذاب سے دوچارکرتے چلے گئے۔۔
”ہااا۱۔۔۔۔ہ۔۔۔۔“ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی تھی۔آنکھیں نیند کے خمار سے اس پل سرخ ہورہی تھیں جب سامنے کھڑکی کے کھلے پٹ سے اندر کو جھانکتی نکھری نکھری سی کرنوں پر اسے اسی صحرا کی دھوپ کا گمان ہوا۔
”بابا۔۔۔۔؟؟“ گہرے سانسوں کے بیچ بڑے سے کمرے کو انجان نظروں سے دیکھتی وہ ہنوز لاعلمی کے عالم میں تھی۔شدتوں سے دھڑکتا دل تھا کہ اس لمحے سینہ توڑ کر باہر آنے کو بےتاب ہورہا تھا۔
معاً اسکی سہمی نگاہوں نے نادانستگی میں اپنے پہلو میں سوئے شام تک سفر کیا تھا جو اسکی جانب اپنی پشت کیے گہری نیند میں تھا۔
معاً حرمین کے تمام حواس ایکدم سے بیدار ہوتے چلے گئے۔
”تمھاری یہ بےتابانہ چاہت۔۔۔اور اس چاہت پر قائم یہ بھروسہ مجھے مزید تمھارے قریب کرگیا ہے حرمین۔۔۔بہت قریب۔۔اتنا کہ اب میں ہر فاصلہ مٹادینا چاہتا ہوں۔۔۔۔“ تیزی سے نم پڑتی گہری سیاہ آنکھوں میں گزشتہ رات کے تمام جذباتی مناظر ایک ایک کرکے گھومتے چلے گئے تو بے یقینی تلے نفی میں سر ہلاتی وہ اگلے ہی پل سرعت سے بیڈ سے اتری۔
”ی۔۔یہ کک۔۔کیا ہوگیا۔۔؟؟یہ مجھ سے۔۔کیا۔۔؟؟“ اس حساس معاملے میں خود کی شامل رضامندی یاد آئی تو وہ اپنے بالوں کو بےاختیار مٹھیوں میں دبوچ گئی۔ سانولی رنگت آنسوؤں سے بھیگتی ہوئی اس وقت زرد پڑ رہی تھی۔
خود اپنی مرضی سے نفس کی دلدل میں اترتی وہ داغدار ہوچکی تھی۔۔اور یہ وہ سیاہ حقیقت تھی جسے فوری طور قبول کرنا اس وقت اسے محال لگ رہا تھا۔
”عشق محبت ہی سہی۔۔۔پ۔۔پر ہمارے بیچ کی یہ لازم حدیں اس طرح سے پار نہیں ہونی چاہیے تھیں۔۔نن۔۔ نہیں ہونی چاہیے تھیں۔۔۔پھرمیں کیوں بہک گئی۔۔۔کک۔۔کیسے۔۔؟؟“ شام سے ذیادہ خود کو قصوروار ٹھہراتی حرمین نے بےساختہ ہتھیلی تلے اپنی سسکی دبائی تو اسے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہونے لگا۔
جہاں عشق کا بوجھ اسکی سانسوں پر بھاری پڑنے لگا تھا وہیں رات گھر سے باہر گزارنے کا احساس اسے مزید بےچین کرگیا۔۔
دوسرے ہی پل خود کا رلتا دوپٹہ جھک کر اٹھاتے ہوئے کتنے ہی آنسو اسکی سرخ آنکھوں سے بہہ کر دبیز قالین میں جذب ہوئے تھے۔
ایسے میں شام کی گہری نیند میں رتی برابر بھی فرق نہیں آیا تھا۔
جلدی جلدی دوپٹے کا حجاب بناتی وہ مسلسل لرز رہی تھی۔اپنا بکھرا وجود بڑی مشکلوں سےسمیٹتی وہ فوری وہاں سے نکل جانا چاہتی تھی ورنہ ممکن تھا کہ اسکی سانسیں ہی رک جاتیں۔۔
پھٹتے دماغ کے ساتھ حرمین چشمے سمیت اپنا بیگ سنبھالتی تیزی سے دروازے کی طرف لپکی تھی جب قدموں سے الجھتا بلیک کیس اسے منہ کے بل نیچے گرنے پر مجبور کرگیا۔ایسے میں منہ سے نکلتی چیخ بےساختہ تھی۔
”کیا مصیبت ہے یار۔۔۔“ وہ جو کسمساتا ہوا کروٹ بدل رہا تھا عجیب سے شور پر زیر لب بڑبڑاتا ہوا بے اختیار اپنی دراز پلکیں وا کرگیا۔پھر مندی مندی آنکھوں کو پورا کھول کر سامنے دیکھا تو وہ دروازے کے پاس زمین پر بیٹھی سسک رہی تھی۔
”حرمین تم۔۔۔۔۔؟؟“ معاملہ سمجھنے کی کوشش میں وہ جلدی سے بیڈ سے اترتا اسکی جانب بڑھا تھا جب وہ اپنا آپ سنبھال کر۔۔بنا کچھ کہے سنے تیزی سے اٹھتی کمرے سے باہر بھاگ گئی۔۔
اسکے اس قدر جذباتی ردعمل پر شام کچھ حیران ہوا تھا جس نے ٹھیک سے اس سے نگاہ ملانے کی بھی جرات نہیں کی تھی۔
گزشتہ رات اپنا سب کچھ لٹا دینے کے بعد بھی اتنا گریز۔۔۔۔؟؟
اسکے پیچھے جانے کی بجائے اسنے وہیں رک کر بےاختیار بالوں میں ہاتھ چلایا تھا پھر الٹے قدم پیچھے کی جانب لیتا پیٹھ کے بل بیڈ پر ڈھے سا گیا۔گریبان کے اوپری بٹن ہنوز کھلے اسکے چوڑے سینے کا دیدار کروارہے تھے۔بے اختیار ایک نگاہ سائیڈ ٹیبل پر پڑے اپنے قیمتی موبائل فون پر ڈالتا وہ کمینگی سے مسکرایا۔
”شاہ میرحسن کو ہارانا کیا اتنا ہی آسان ہے۔۔۔۔؟؟؟“ خود کی ذات پر ٹوٹ کر مان کرتا وہ چیلنجنگ انداز میں گویا ہوا۔گزشتہ رات کی بابت سوچتے ہوئے بھوری آنکھوں میں جہاں جیت کی چمک گہری ہوئی تھی وہیں اگلے ہی پل لبوں سے پھوٹتا مدھم سا قہقہ اسکی سفاکیت کو مزید بڑھاگیا۔۔
☆….☆….☆….☆
”آپ دوسرے مردوں سے اتنے منفرد کیوں ہیں۔۔۔؟؟کیوں میری ذات کو لے کر آپکی نیت میں کوئی کھوٹ یاں میل شامل نہیں ہے۔۔۔؟؟“ بھیگی ہوئی مترنم سی آواز اسکی سماعتوں میں اترتی ہوئی اسکی دھڑکنیں بےچین کرگئی تھی۔
سادگی میں کیا گیا شکوہ کس قدر جانلیوا تھا یہ کوئی اس وقت عائل حسن سے پوچھتا۔۔۔
”آپکی نظروں کی پاکیزگی مجھے ہمیشہ آپکی صاف ستھری نیت کا احساس دلاتی ہے۔۔۔لیکن جب وہ مجھے چھوتا ہے ناں۔۔۔تو اسکے ذرا سے لمس سے بھی اسکی گندی نیت صاف ٹپکتی ہے۔۔۔“ ذہن میں ناقابل فراموش لفظوں کی بازگشت پھر سے ہوئی تو اسکی پیشانی پرنسیں صاف ابھرتی چلی گئیں۔
ایسے میں بند آنکھوں سمیت چئیر کی شفاف پشت پر دھیمے سے سرپٹخنے میں بےاختیار تیزی آئی تھی۔
”مجھے اسکا چھونا۔۔اسکا جان بوجھ کر میرے قریب آنا بالکل بھی اچھا نہیں لگتا۔۔۔م۔۔میری روح اسکی نزدیکی پر بری طرح کپکپا اٹھتی ہے۔۔۔“ نازک وجود کا سسکنا یاداشت کے پردے پر لہرایا تو خود پر سے ضبط کھوتا۔۔وہ بےاختیار آنکھیں کھولتا ہوا ٹیک چھوڑ گیا۔
ایسے میں بےتاب نگاہوں نے حاویہ کو اپنے سامنے۔۔اپنے پاس دیکھنے کی شدت سے چاہ کی تھی۔۔لیکن اسکی جگہ باسط ہونقوں کی طرح منہ کھول کے کھڑا اپنے افسر کی یہ سب کیفیات ملاحظہ کررہا تھا سو عائل کو چونک کر اپنی جانب متوجہ ہوتا دیکھ گڑبڑا سا گیا۔
”آ۔۔۔آپ ٹھیک ہیں سر۔۔۔؟؟میں کب سے آپکو آوازیں دے رہا تھا۔۔مگر آپ کو تو شاید میری موجودگی کی بھی خبر نہیں ہوئی۔۔۔“ دھیمے لہجے میں بولتا وہ کچھ فکرمندا سا ہوا تو عائل نے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گہرا سانس خارج کیا۔
وہ جب سے وہاں سے ہوکر آیا تھا۔۔۔ایک بےنام سی اذیت کا شکار ہوچکا تھا۔حاویہ کی آدھی ادھوری باتوں سے مکمل قصہ اخذ کرلینے میں مسلسل ناکامی اسکی اس اذیت میں پل پل اضافہ کرتی چلی جارہی تھی۔۔۔پر وہ اسکی بے حس خاموشی کےآگے بےبس تھا۔
”ٹھیک ہوں۔۔۔تم اپنا بتاؤ کیا کہہ رہے تھے۔۔۔؟؟؟“ سرجھٹکتے ہوئے اسنے اپنی ذاتی سوچوں کو فی الحال کے لیے پرے دھکیلا۔سیاہ آنکھوں میں اترا گلال باسط کی نگاہوں سے مخفی نہیں رہا تھا۔
”دراصل آپکی غیر موجودگی میں۔۔اسحاق باجوہ کی بیوی آئی تھی تھانے۔۔۔ اپنے شوہر کی ضمانت کی غرض سے وکیل کو بھی ساتھ ہی ہائر کرکے لائی تھی وہ۔۔۔سو ہمیں اسکے شوہر کو چھوڑنا پڑا۔۔۔۔“ باسط نے پشت پر ہاتھ باندھتے ہی آج کی تفصیل بتائی تو پُرسوچ انداز میں پیشانی مسلتا وہ اثبات میں سر ہلاگیا۔
”ہہمم۔۔۔تم اسکی تمام کاروباری سرگرمیوں پرنظر رکھنا باسط۔۔مجھے یقین ہے کہ جلد بادیر وہ کوئی نیا پنگاہ ضرور لے گا۔۔۔“ اسحاق باجوہ کی بابت اسے خبردار کرتا وہ اپنے تھکے ذہن کے لیے نئی سوچوں کے در وا کرگیا تھا۔
”جیسا آپ کہیں سر۔۔۔“ تابعداری سے بولتا وہ تھوڑا جھجکا۔
”سر وہ ایک اور بات کرنی تھی آپ سے۔۔۔۔“ باسط کالرکو بےوجہ ہی ٹھیک کرتا بولنا چاہ رہا تھا۔۔جب شیشے کی شفاف سطح پر پڑا عائل کا موبائل فون ایکدم سے بجتا ہوا دونوں کی توجہ اپنی کھینچ گیا۔
اسکرین پر آئے نمبر کو دیکھ کر عائل نے ضبط سے اپنے لب بھینچے پھر باسط کو بعد میں آنے کا اشارہ کرتا کال ریسیو کرگیا۔۔۔سو وہ بھی چپ چاپ سر ہلاتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
”کیا مسئلہ ہے تمھیں۔۔۔؟؟کیوں تم کال پہ کال کیے جارہی ہو مجھے۔۔۔؟؟ چاہتی کیا ہو۔۔۔؟؟“ عروسہ شاہنواز کی مدھرآواز پر وہ بھڑک ہی تو اٹھا تھا۔
”تم سے اکیلے میں ملنا چاہتی ہوں۔۔۔دیٹ سٹ۔۔۔“ اسپیکر سے ابھرتی آواز بہت پرسکون تھی۔
بارہا ایک ہی تقاضے پر عائل نے ضبط سے سانس کھینچی۔
”جب ہم میں سب معاملات پہلے سے ہی کلئیر ہوچکے ہیں تو پھر یوں اکیلے میں ملنے کی اب کیا تُک بنتی ہے۔۔۔؟؟؟کچھ بھی ہو مگر میرا تم سے خفیہ طور پر میٹنگ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔۔۔“ عائل نے قدرے چڑکر صاف صاف انکار کیا۔
اسے لگا تھا کہ جتنی انا وہ لڑکی اُس سمیت سب گھر والوں کے سامنے دیکھا کر حسن پیلس سے نکلی تھی اسکے بعدتو کبھی اسے دیکھنا بھی نہیں چاہے گی۔۔۔کجا کہ ملنے کا تقاضا۔۔۔
”تُک بنتی ہے ناں۔۔۔کیا تم نہیں چاہتے کہ ہم دونوں کی فیملیز کے بیچ سب کچھ پہلے کی طرح ٹھیک ہو جائے۔۔یہ رنجشیں جو انھوں نے ہماری وجہ سے پال رکھی ہیں وہ دور ہوجائیں۔۔۔؟؟“ دوسری طرف پل بھر کو اہانت محسوس کرتی عروسہ نے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اسکی تلخی کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا تھا۔
وہ بندہ بھلائے نہ بھولنے والی شے بن کر اسکے دل کی گہرائیوں میں اترا تھا۔
عروسہ کی بات پر بےاختیار اسکی پیشانی پر بل پڑے۔
”تم مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کررہی ہو۔۔۔۔؟؟“ عائل کا لہجہ دھیما سلگتا ہوا تھا۔
”آفکورس ناٹ۔۔۔تم مجھے غلط سمجھ رہے ہو عائل۔۔۔دیکھو میں نہیں چاہتی کہ ہماری نادانیوں کی وجہ سے ہمارے بڑوں کا رشتہ خراب ہو۔۔یاں پھر سالوں کی دوستی ملیامیٹ ہوجائے۔۔بیلیو می میں نے ڈیڈ کو دیکھا ہے۔۔میرے ساتھ ساتھ انھیں اپنی دوستی کھودینے کا بھی بے حد ملال ہے۔۔۔آئی تھنک ہمیں ان بگڑے معاملات کو سنبھالنے کے لیے ایک آدھ ملاقات تو کرنی ہی چاہیے۔۔۔۔“ اس اوکھے مزاج بندے کو اپنی جانب قائل کرنے کے لیے عروسہ نے لمبی وضاحت دی تو عائل کی پیشانی پر پڑے بل ذرا سے سمٹے۔بظاہر تو حسن صاحب نے بھی منہ سے کچھ نہیں کہا تھا لیکن کہیں نہ کہیں وہ بھی ان سب سے پریشان سے تھے۔آخر کو دوستی کے ساتھ ساتھ ان کے بزنس کے ایک آدھ پروجیکٹ میں بھی تو قابل برداشت خلل پڑا تھا۔
”اور تم یہ سب ایک آدھ ملاقات میں کیسے ٹھیک کرو گی۔۔۔۔؟؟“ عائل نے سنجیدگی سے جانچنا چاہا۔
”اوففف او۔۔تم مجھ سے پہلے ملو تو سہی۔۔پھر سب ٹھیک بھی ہو جائے گا عائل ٹرسٹ می۔۔۔“ اسکی جلدبازی پر عروسہ پل بھر کو جھنجھلائی۔
”ہہمم۔۔۔ امید کرتا ہوں کہ ان سب کے پیچھےتمھارے خیالات نیک ہوں۔۔خیر ان دنوں تو میں بےحد مصروف ہوں۔۔۔سو تمھاری اس آفر کے بارے میں تسلی سے بیٹھ کر سوچوں گا۔۔پھر فیصلہ کروں گا کہ کیا کرنا بہتر ہے۔۔۔خدا حافظ۔۔۔“ اپنی بات مکمل کرتا وہ بنا اسکی مزید کوئی بات سنے کال کاٹ چکا تھا۔۔اگلے ہی پل موبائل اسکرین پر دکھتی نمبروں کی لسٹ تکتے ہوئے اب کہ عائل کا ارادہ شام کو کال ملاکر اسکی خبرلینے کا تھا۔۔۔
💞💞💞💞💞💞