Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

”دیکھیں ناں اپیہ نے خود کشی کرلی ہے۔۔۔و۔۔وہ ایسا انتہائی قدم اٹھانے کی سوچ بھی کیسے سکتی ہیں۔۔۔؟؟“
قدرے کونے میں دیوار کے ساتھ سر ٹکائے ساکت سی بیٹھی۔۔۔وہ اتنے لوگوں کے بیچ ہوکر بھی وہاں موجود نہیں تھی۔۔۔جب اپنا ہی روتا بلکتا استفسار اسکی سماعتوں میں زہر بن کر اترا۔
”حرمین زہرا کی فطری موت کو خودکشی کا نام مت دو۔۔۔۔
ہارٹ اٹیک کے نتیجے میں آنے والی موت۔۔۔خودکشی نہیں ہوا کرتی۔۔۔۔“
معاً آس پاس بکھرتی۔۔۔نفیسہ بیگم کی آنسوؤں میں بھیگتی کمزور ترین آواز اسکا دل بھی کمزور کرگئی تھی۔
فقط۔۔۔اپنی مری ہوئی اولاد کو مزید بدنامی سے بچانے کی خاطر وہ کس مہارت سے دوطرفہ گناہوں کی پردہ پوشی کرگئی تھیں۔۔۔
کسی غیر مری نقطے پر ہنوز جمی حاویہ کی بھوری نگاہیں دھندلاگئیں۔
بلاشبہ نفیسہ بیگم کی بےجا دوراندیشی اسکا نازک وجود پل پل سلگائے دے رہی تھی۔
بھلا آسان تھا کیا۔۔۔؟؟
گھر کی دہلیز پھلانگتے بہن کے جنازے پر شدت سے ماتم کناں ہونا۔۔۔
وقت بے وقت غم کھاتی ماں کی۔۔۔بگڑتی سدھرتی حالت پر عجیب وحشتوں کا شکار ہوجانا۔۔۔
اور۔۔۔اور دن کے اجالوں کے برعکس۔۔۔
رات کی گہری تنہائیوں میں اس نازک وجود کی جان نکالتی محرومیوں سے آشنا ہونا۔۔۔۔
بےاختیار لانبی نم پلکیں جھپکانے پر شفاف آنسو ٹوٹ کر اسکے تپتے گالوں پر پھسلے۔
کچھ بھی تو آسان نہیں تھا۔۔۔
لیکن اتنا کچھ غلط کردینے کے باوجود بھی وہ ایک مجرم آسانیوں میں گھرا ہنوز آزاد تھا۔
شاہ میر حسن۔۔۔۔عائل حسن کا بھائی۔۔۔۔
بظاہر وہ جس قدر خاموش تھی اندر اتنے ہی چیختی وحشتوں کے طوفان امڈ رہے تھے۔
یہ اذیت دیتی حقیقتیں جانلیوا ہی تو تھیں۔
حاویہ نے بے اختیار دکھتی کنپٹیوں کو مسلا۔
”بتاؤ بھلا۔۔۔۔
جوان جہان بچی یونہی اللہ کو پیاری ہوگئی۔۔۔
کیا بیت رہی ہوگی اسکی ماں پر۔۔۔۔۔؟؟چہ چہ۔۔۔“
سوئم پر۔۔۔محلے سے آئی چند عورتوں میں سے ایک نے۔۔۔
سامنے سمٹ کر بیٹھی نفیسہ بیگم کو نم پلکیں جھپکا جھپکا پارہ پڑتے دیکھا تو بے اختیار اپنی ساتھ والی سے اظہارِ افسوس کیا۔
”اور چھوٹی بہن۔۔۔۔۔
باپ کے سائے سے تو پہلے ہی محروم تھی اب مستقیل بڑی بہن بھی بچھڑگئی۔۔۔بیچاری۔۔۔۔“
قریب پڑی میز پر پارہ رکھتی وہ بھی برابر لب کشائی کرنے پرآئی۔
”کہنے کو تو یہ لڑکی اپنی فطری موت مری ہے۔۔۔لیکن جانے کیوں مجھے یقین نہیں آتا۔۔۔؟؟
اب کہ پہلی والی خاتون پل بھر کو جھجک کر محتاط ہوتی۔۔۔معاملے کی گہرائی کریدنے پر آئی تو بمشکل سماعتوں کو چھوتی ان کی باتیں ذرا سے فاصلے پر بیٹھی حاویہ کو چونکا گئیں۔
”ہائیں۔۔۔مطلب۔۔۔؟؟؟“
وہ حیران ہوئی۔۔یا پھر شاید بننے کی بھونڈی کوشش کی گئی تھی۔
”یونہی چلتے پھرتے کانوں میں خبر پڑی ہے کہ اسکے لچھن کچھ ٹھیک نہیں تھے۔۔۔۔لڑکے والوں نے خود گھر آکر رشتہ توڑا تھا۔۔۔۔
ایک عدد چنگے بھلے منگیتر کے ہوتے ہوئے بھی پڑھائی کی آڑ میں کسی اور ہی امیر زادے کے چکروں میں پھنس گئی تھی محترمہ۔۔۔۔“
حاویہ کی آگاہی سے ہنوز بے خبر وہ صاف زہر اگلنے پر آئی۔۔۔تو جہاں دوسری خاتون نے دیدے پھاڑ کے بے اختیار اللہ توبہ کی تھی وہیں حاویہ ضبط کے مارے لب بھینچتی سرخ پڑی۔
”ارے یہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔میں نے اپنی ان گنہگار آنکھوں سے خود اس حجابن کی ایک نہایت قابل اعتراض ویڈیو بھی دیکھ رکھی ہے۔۔۔“
کچھ لحاظ کرتی وہ بےاختیار اپنی آواز دھیمی کرگئی۔
”بڑی ہی کوئی نازیبا حالت میں سکون سے آنکھیں موندے۔۔۔ کسی غیر مرد کے بستر کی زینت بنی ہوئی تھی۔۔۔
پر وہ مرد کون تھا بدقسمتی سے یہ کسی کو بھی معلوم نہیں ہوا۔۔۔۔؟؟؟“
اسکی حیرتوں سے لطف لیتی وہ خاصا مرچ مصالحہ لگاتے ہوئے مزید گویا ہوئی۔۔۔تو ان سچی لب کشائیوں پر جہاں دوسری خاتون نے اب کہ باقاعدہ اپنے سنسناتے کانوں کو چھوا وہیں گہرے سانس بھرتی حاویہ کا دم گھٹنے لگا۔
اگلے ہی پل اس نے گردن موڑ کر قدرےنفرت سے ان دو عورتوں کی جانب دیکھا جو ذرا الگ تھلگ بیٹھ کر۔۔۔۔قرآنی پڑھائی کے فوری بعد صاف چغلیوں پر اتر آئی تھیں۔
”توبہ ہے بہن توبہ۔۔۔۔
صحیح کہتے ہیں لوگ۔۔۔۔
جن لڑکیوں کے سر سے باپ کا تحفط بھرا سایہ اٹھ جاتا ہے ناں۔۔۔تو پھر اُنھیں ماں کی بےجا سختیاں بھی باغی ہونے سے روک نہیں پاتیں۔۔۔۔“
جھرجھری لے کر بات کرتے ہوئے معاًاسکی نگاہیں۔۔۔اپنی ہی جانب متوجہ حاویہ پر پڑیں تو بےاختیار ہڑبڑاتی وہ ساتھ والی کو ٹہوکا دے گئی۔
اس نے بھی چونک کر حاویہ کی جانب دیکھا جو بگڑے تیوروں سے گال رگڑ کر اٹھتی اب کہ انہی کی جانب بڑھی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ دل میں مچلتی بھڑاس ان پر انڈیلتی۔۔۔معاً نفیسہ بیگم کو پڑتا کھانسی کا شدید دورہ سب کی توجہ پل میں اپنی جانب کھینچ گیا۔
جہاں پاس بیٹھی عورتوں نے انھیں سنبھالتے ہوئے پاس رکھا پانی فوراً اٹھا کر پلایا تھا وہیں حاویہ بھی ان کی فکر میں سب کچھ بھولتی۔۔۔مطلوبہ سیرپ لینے کو کمرے سے باہر بھاگی۔۔۔۔


”تجھے نہیں لگتا مدد کے نام پر یہ پیسے تو فضول میں اپنے ساتھ لایا ہے۔۔۔؟؟
اگر انھوں نے اپنی خودار طبیعت کے آگے تیری اس ہمددردی کو صاف ٹھکرا دیا تو پھر تجھے ہی گراں گزرے گا بتا رہا ہوں۔۔۔۔“
اس وقت وہ تینوں ادھ کھلا گیٹ کھول کر اندر آئے تھے جب شام کے ساتھ چلتے ہوئے فواد نے بلا جھجک اسے اسکی بےجا ہمدردی کا احساس دلانا چاہا۔
جواب میں شام نے رک کر اسے ناگواری سے گھورا۔
”جب حالات بد سے بدترین ہوجائیں ناں۔۔۔
تو انسان جتنا بھی خودار سہی۔۔۔مجبوریوں کے بوجھ تلے اسکی انا ایک بار ضرور ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوتی ہے۔۔۔
اور اس وقت سیم یہی حالات ان لوگوں کے بھی ہیں جن سے وقتی ہمدردی جتانے کی خاطر میں یہاں آیا ہوں۔۔۔
سو تُو اپنی فضول فکر اپنے پاس سنبھال کے رکھ۔۔۔۔سمجھا۔۔۔۔“
سرد لہجے میں بولتا وہ اگلے ہی پل اندر کی جانب بڑھ گیا تو فواد۔۔۔افروز کی جانب دیکھ کر لاپرواہی سے کندھے اچکاتا اسکے پیچھے لپکا۔۔۔
وہ بھی اس کے ڈھیٹ پنے پر تاسف سے سر جھٹکتا ان دونوں کی تقلید میں چل پڑا۔
کمرے سے آتی خواتین کی مدھم آوازیں انھیں حال کے بیچ و بیچ رکنے پر مجبور کرگئیں۔
”حالت تو دیکھو ذرا اس چھوٹے سے مکان کی۔۔۔۔
جانے کیسے یہ لوگ اتنے سکون سے یہاں رہ لیتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟
سریسلی۔۔۔میرا تو ابھی سے دم گھٹنے لگا ہے۔۔۔۔۔“
پہلے کی نسبت بڑھی کلین شیو پر انگلیاں پھیرتا شام قدرے حقارت سے بولا۔
غرور گھلی بھوری نگاہیں اطراف میں دوڑاتے ہوئے۔۔۔ایک بےنام سی وحشت نے اندر کہیں دھیرے سے سر اٹھایا تھا۔
جواب میں اسکے لفظوں سے رضامندی جتاتے۔۔۔وہ دونوں بھی چار دیواری کو عدم دلچسپی سے دیکھتے سر کو جنبش دے گئے۔
ایسے میں سیرپ پکڑ کر کچن سے باہر نکلتی حاویہ نے ٹھٹک کر حال میں کھڑے ان تین نفوس کو دیکھا تو۔۔۔ شام پر نگاہیں پڑتے ہی وہ اپنی جگہ ساکت ہوئی۔
سرخائی گھلی نم نگاہوں میں اترتی شناسائی پانی میں آگ لگنے کے برابر ہی تو تھی۔۔۔
تصاویر سے کہیں ذیادہ حقیقت میں وہ اسے زہر لگا تھا۔
”وہ دیکھ سامنے۔۔۔۔
لگتا ہے یہ حرمین کی بہن۔۔۔یاں پھر رشتے دار میں سے کوئی ایک ہے۔۔۔۔“
معاً افروز کی سامنے اٹھتی نگاہیں ہنوز وہیں جم کے کھڑی حاویہ پر پڑیں۔۔۔تو اگلے ہی پل وہ ان دونوں کی توجہ بھی اسکی جانب مبذول کرواگیا۔
”وہ تو ٹھیک ہے۔۔۔پر یہ ہمیں ایسے کیوں گھور رہی ہے یار۔۔۔۔؟؟؟
فواد بغور اسکے تاثرات کھوجتا کچھ چونک کر بولا تھا۔
”ہمیں نہیں۔۔۔۔
صرف مجھے۔۔۔۔
پر کیوں۔۔؟؟یہ تو فی الحال میں بھی نہیں جانتا۔۔۔۔“
اسے یوں بھیگی نگاہوں سے یک ٹک اپنی جانب تکتا پاکر شام آہستگی سے فواد کی تصحیح کرتا بظاہر ہولے سے مسکرایا۔۔۔
پر ہوش میں آتی حاویہ کے اگلے لائحہ عمل پر اسکے لبوں کی دلکش مسکراہٹ پلوں میں سمٹتی چلی گئی۔
”یہاں کیسے آئے ہو تم۔۔۔؟؟؟
ہمت۔۔۔۔ہمت کیسے ہوئی تمھاری یہاں آنے کی۔۔۔؟؟؟“
سیرپ کی شیشی ہنوز سخت گرفت میں دبوچے۔۔۔۔وہ قدم قدم چل کر اسکے مقابل آتی قدرے حیرت سے پوچھ رہی تھی۔
جواباً اسکے بگڑے تیوروں پر چونک کر جینز کی پاکٹس سے ہاتھ نکالتا وہ بھی حددرجہ سنجیدہ ہوا۔
”کیسے کا کیا مطلب۔۔۔۔؟؟
ظاہر سی بات ہے حرمین زہرا کی ڈیٹھ ہوئی ہے۔۔۔
اور میں۔۔۔۔۔“
موقعے کی مناسبت سے وہ ناچاہتے ہوئے بھی پرسکون لہجے میں بات کو سمیٹنا چاہ رہا تھا جب شہادت کی انگلی اٹھاتی وہ ایکدم سے چٹخ گئی۔
”نام مت لینا اپنی اس گندی زبان سے میری بہن کا۔۔۔۔
اسکی سانسیں چھین کے تمھارے سفاک سینے میں سکون نہیں اترا۔۔۔
جو اب اسکی موت پر اپنے دوستوں کے ساتھ۔۔۔دکھاوے کا یہ جھوٹا ڈھونگ رچانے یہاں چلے آئے ہو تم۔۔۔؟؟؟“
تڑخ کر پوچھتے ہوئے حاویہ کو اپنی آواز میں گھلتی نمی صاف محسوس ہوئی تھی۔۔۔
جبکہ اس کے چونکا دینے والے سلگتے لفظوں پر مقابل کی پیشانی پر شدت سے تیوریاں چڑھیں۔
افروز سمیت فواد نے بھی اس چھٹانک بھر کی لڑکی کا بھڑکتا لہجہ قدرے حیرت سے ملاحظہ کیا تھا جس کی نرم گالوں پر آنسو لڑھک آئے تھے۔
”اب تم حد سے بہت آگے بڑھ کے بات کررہی ہو۔۔۔
مانتا ہوں کہ تمھاری جوان بہن اپنی فطری موت مری ہے۔۔۔
جس کا تمھیں بہت صدمہ بھی ہے۔۔۔
مگر اس صدمے میں پاگل پن کی ساری حدیں پار کرجانا بالکل بھی مناسب نہیں لگتا۔۔۔۔
بہتر یہی ہے کہ اپنی بلاوجہ کی الزام تراشیاں بندکردو۔۔۔ورنہ اسکا انجام بھگتنا تمھاری نازک جان پر بہت بھاری پڑسکتا ہے۔۔۔ہہمم۔۔۔۔“
اسکے نازک رعب میں آئے بنا وہ سختی سے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچتا۔۔۔کرخت لہجے میں بولا۔
بھوری نگاہوں میں گھلتی سرخی اسکے ضبط کا پتا دے رہی تھی۔
اس رات افروز کی کہی بات کے بعد سے۔۔۔وہ اس موضوع کو سوچنے سے بھی کترا رہا تھا۔۔۔اور یہ جذباتی لڑکی اسی کو منظرِعام پر لانے کے لیے شدت سے کوشاں تھی۔
مقابل کی اس کھلم کھلی دھمکی پر ضبط کی طنابیں چھوڑتی حاویہ بےاختیار اس پر جھپٹی۔
اس دوران سیرپ کی شیشی کا ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرنا بے ساختہ تھا۔
”بلاوجہ کی الزام تراشیاں ہرگز نہیں ہیں یہ۔۔۔۔
قاتل ہو تم میری بہن کے۔۔۔
سب سے بڑے مجرم ہو تم۔۔۔۔
تمھاری ہوس نے پہلے اسکی عزت برباد کی پھر اسکی ذات اور آخرت۔۔۔۔
نہیں چھوڑوں گی میں تمھیں شاہ میرحسن۔۔۔
کسی بھی صورت نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔
تمھیں تمھارے اپنے ہی بھائی کے ہاتھوں پھانسی کے پھندے تک پہنچاؤں گی۔۔۔تم دیکھنا۔۔۔۔۔“
مٹھیوں میں گریبان دبوچ کر چیختی۔۔۔وہ اپنے زہر تلے مقابل کا دماغ بھک سے اڑا گئی تھی۔
”او جسٹ شٹ اپ یُو سائیکو۔۔۔۔“
اس قدر جرات کے سبب اسکے لرزتے وجود کو نظرانداز کرتا شام۔۔۔۔ بےاختیار اسکی کلائیاں مٹھیوں میں دبوچ کر مشتعل سا اسے پیچھے دھکیل چکا تھا۔
حاویہ کی اس بےساختگی میں اسے حقیقتاً حرمین زہرا کی ایک جھلک دیکھائی تھی۔۔۔جبھی کسرتی وجود میں شرارے سے دوڑنے لگے۔
”میں تب سے شرافت کا مظاہرہ کررہا ہوں اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ تم اب میرے ساتھ صاف فضول گوئی پر اتر آؤ۔۔۔۔
ہمدردی ہے مجھے جو کچھ بھی تمھاری بہن کے ساتھ ہوا ہے۔۔۔
لیکن میری اس ہمدردی کو جرم سمجھ کر اگر تم مجھے سرعام ذلیل کرنے پر آؤ گی۔۔۔۔تو میں تمھارا یہ گھٹیا پن قطعاً برداشت نہیں کروں گا۔۔۔۔“
اپنے اندر کی کھولن کو لفظوں میں بہاتا وہ اسکی جانب انگلی اٹھائے۔۔۔طیش زدہ سا بولا۔۔۔
تو جہاں فواد سمیت افروز نے حالات کی سنگینی کے باوجود بھی ان کے بیچ آنا فی الوقت مناسب نہیں سمجھا تھا وہیں اس ابھرتے ہنگامے پر دو چار عورتیں تجسس کے مارے کمرے سے باہر دروازے پر نکل آئیں۔
گہرے سانسوں کے بیچ۔۔۔اترے دوپٹے کو واپس سر پر لیتی حاویہ بے خوف سی ایک بار پھر اسکے مقابل آئی۔
مٹھیاں بھینچ کر کھڑا۔۔۔شام شعلہ بار نگاہوں سے اسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔
یہ تھی اسکے بھائی کی پسند۔۔۔؟؟؟
اس قدر پست۔۔۔کہ جس کی محبتوں میں وہ دن رات پگھلتا چلا جارہا تھا۔۔۔۔؟؟؟
شام کو شدتوں سے اس لڑکی سے نفرت ہوئی تھی۔
”فقط ایک محبت کا ہی جرم کیا تھا ناں اس نے۔۔۔
محبت بھی وہ جو ہرلحاظ سے مخلص تھی۔۔۔۔
پر تم نے کیا کیا۔۔۔؟؟؟
اس جرم کی سزا میں اسکی سانسیں ہی چھین لیں۔۔۔؟؟
ذرا سا بھی رحم نہیں آیا تھا تمھیں اس پر۔۔۔۔؟؟“
سسک کر پوچھتی وہ اس بار قدرے دھیمی آواز میں بولی تھی۔
اگر جو نفیسہ بیگم کی طبیعت اور کہی باتوں کا خیال نہ ہوتا اسے تو اس پل حقیقتاً وبال کھڑا کردیتی۔
شام نے ناسمجھی سے اپنی جانب تکتی خواتین پر پل بھر کو ایک ضبط بھری نگاہ ڈال کر بے اختیار اپنے سرخ چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
وہ سب فاصلے پر کھڑی یقیناً ان کی دھیمی گفتگو سے ہنوز بےبہرہ تھیں۔۔جبھی ایک دوسرے سے چہ مگوئیوں پر اتر آئیں۔
”لیسن حاویہ فیضان۔۔۔۔
میں نے کچھ برا نہیں کیا۔۔۔
کچھ بھی نہیں۔۔۔
اس لیے یہاں میرے خلاف کوئی بھی تماشہ کری ایٹ کرنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے تمھیں۔۔۔۔
ہہمم۔۔۔۔۔“
دھیرے سے۔۔۔ دانت پیس کر بولتا وہ ہرلحاظ سے انکاری تھا۔۔۔ورنہ دل تو اس پل اسے زمین پر پٹخنے کو چاہ رہا تھا۔
حاویہ بھیگے رخسار صاف کرتی دھیرے سے نفی میں سر ہلاگئی۔
پھر براہ راست اسکی جلتی نگاہوں میں جھانکا۔
”تم نے فقط برا نہیں۔۔۔
بہت برا۔۔۔بلکہ بدترین کیا ہے شاہ میر حسن۔۔۔
جس کا خوف اس وقت تمھاری ان آنکھوں میں صاف تیر رہا ہے۔۔۔
پر تم اعتراف کرنے سے ڈرتے ہو۔۔۔
ڈرتے ہو کہ کہیں تمھارے گھناؤنے کرتوت کھل کر سب کے سامنے نہ آجائیں جس کے سبب میری بہن خود کشی جیسا ناقابلِ برداشت فعل کرنے پر مجبور ہوئی تھی۔۔۔۔“
مضبوط لفظوں کی حقیقی مار مارتی وہ اس پل صحیح معنوں میں اسکا سفاک دل خوف تلے دھڑکاگئی تھی۔
لفظ ”خودکشی“ پر بیک وقت تینوں کا ردِعمل قابل دید تھا۔
اس واضح انکشاف پر جہاں فواد کی حیرت میں شام کے لیے فکر گھلی تھی وہیں قریب کھڑے افروز کے دل کو جانے کیوں ایک کمینی سی خوشی نے گھیرے میں لیا تھا۔۔۔۔
”آخر یہاں ہو کیا رہا ہے۔۔۔؟؟؟
اور یہ لوگ کون ہیں۔۔۔کوئی کچھ بتائے گا ہمیں بھی۔۔۔۔؟؟؟“
ان میں سے ایک عورت نے بلا جھجک آگے بڑھ کر پوچھا تھا۔
اس دوران نفیسہ بیگم اپنی ذرا ذرا سنبھلی طبیعت کے سبب ہنوز کمرے میں موجود تھیں۔
”ہم حرمین کے یونی فیلوز ہیں اور اسی کا افسوس کرنے یہاں آئے تھے۔۔۔۔۔
آئی تھنک اب ہمیں یہاں سے چلنا چاہیے شام۔۔۔۔
یہ نہ تو مزید بات چیت کرنے کا مناسب وقت ہے اور نہ ہی مناسب جگہ۔۔۔۔
کم آن مین۔۔۔بڑی ہوگئیں ہمدردیاں۔۔۔۔شرافت سے نکل چلتے ہیں یہاں سے۔۔۔“
ان بڑھتی عمر کی خواتین کو مطمئن کرنے کی غرض سے سرسری سی وضاحت دیتا فواد اگلے ہی پل شام کو جھنجھوڑ کر سرگوشی نما آواز میں گویا ہوا۔۔۔تو شام نے چونک کر اسکی فکر دیکھی۔
”اچھا ایسا ہے۔۔۔۔
فی الحال تو نفیسہ بہن کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔پر اگر تم لوگ چاہو تو ان سے بھی حرمین کا افسوس کرتے ہوئے جانا۔۔۔۔“
ان کی اچھی بھلی ظاہری حالت سے مرعوب ہوتی وہ قدرے نرم لہجے میں بولی تو محلے کی۔۔۔۔اس عورت کی مداخلت جہاں جھک کر نیچے گری شیشی اٹھاتی حاویہ کو شدید ناگوار گزری تھی وہیں شام نے ضبط سے سر جھٹکا۔
اس دوران دوسری خواتین کوئی غیرمناسب تماشہ ہوتا نہ دیکھ واپس کمرے میں پلٹ گئی تھیں۔
”افسوس ہوچکا خالہ۔۔۔۔
اب یہ لوگ یہاں سے جارہے ہیں۔۔۔۔“ سیدھی ہوتی وہ سپاٹ لہجے میں بولتی ہوئی نئے سرے سے انکی توہین کرگئی تھی۔
اسکے انداز پر ناچاہتے ہوئے بھی افروز کے بھینچے لبوں پر پل بھر کو مسکراہٹ مچلی جس سے قطعی انجان۔۔۔شام ضبط کھوتا بے اختیار اسکے قریب ہوا۔
حاویہ نے لب بھینچ کر نفرت سے اسکی جانب دیکھا۔
”چاہے جتنی مرضی خوش فہمیاں اپنے اندر پال لو حاویہ فیضان۔۔۔
پر مجھے کسی بھی صورت حرمین زہرا کا مجرم نہیں ٹھہرا پاؤ گی تم۔۔۔
ہاں البتہ اپنے لیے دشواریاں ضرور بڑھا لو گی۔۔۔
ان شارٹ کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی تم میرا۔۔۔۔
اور بلاشبہ یہ حقیقت تمھاری سب خوش فہمیوں پر پانی پھیرنے کے لیے کافی ہے۔۔۔۔“
اب کہ بنا اطراف کا لحاظ کیے۔۔۔۔مدھم سلگتے لہجے میں اپنا زہر اسکی سماعتوں میں انڈیلتا وہ مزید وہاں رکا نہیں تھا۔
آدھی ادھوری گفتگو سن کر بھی پاس کھڑی عورت نے قدرے ناسمجھی سے حاویہ کو دیکھا جس کی دھندلائی نگاہوں میں ان تینوں کو آگے پیچھے وہاں سے نکلتا دیکھ قہر ہلکورے لینے لگا تھا۔۔۔۔
اس کے برعکس اپنی جرات پر ہنوز لرزتے دل نے پل میں ایک قطیعت بھرا فیصلہ کیا تھا۔۔۔۔ایسا فیصلہ جس کے انجام کی حقیقتاً اسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔۔۔۔۔


”یا خدا۔۔۔۔۔
میری سانسیں۔۔۔۔۔“
قدرے سختی لفٹ کا سٹیل سٹینڈ دبوچے۔۔۔وہ حجاب کے اوپر سے سینہ مسلتی گہرے گہرے سانس بھر رہی تھی۔
وجود میں کھلبلی مچاتی بے چینیوں کی وجہ وہاں موجود اُس گارڈ کی نگاہوں کا خباثت زدہ ارتکاز تو تھا ہی۔۔۔۔
البتہ اس سے بھی کہیں ذیادہ بےسکونی کا سبب فرسٹ فلور کو اترتی لفٹ کا تقریباً پندرہ منٹ سے اٹکا ہوا ہونا تھا۔
ایسے میں بند لفٹ میں بکھرا ملگجا سا اندھیرا آبرو کی سانسوں میں گھلتی گھٹن کو مزید بڑھائے چلا جارہا تھا۔
”آخر کو تم کچھ کرتے کیوں نہیں ہو۔۔۔؟؟؟
ک۔۔کسی کو تو مدد کے لیے بلاؤ۔۔۔۔۔
کوئی تو حل تلاشو۔۔۔
م۔۔میں اس گھٹن زدہ ماحول کو مزید برداشت نہیں کرپارہی ہوں۔۔۔۔۔“
یک لخت گارڈ کی جانب پلٹتی وہ گھٹا گھٹا سا چیخی تو اسے یوں شدت سے ملتجی ہوتا دیکھ وہ قدرے لاپرواہی سے کندھے اچکا گیا۔
”ارے میڈم آپ بھی کیا عجیب باتیں کرتی ہیں۔۔۔
ذرا یادداشت پر کھل کے زور ڈالیں۔۔۔
بالکل ابھی۔۔کچھ لمحے پہلے ہی تو ہم دونوں مدد کی غرض سے ڈھیروں آوازیں لگا کر فارغ ہوئے ہیں۔۔۔
اور تو اور سٹیل کی اس ڈھیٹ دیوار کو فضول میں پیٹ پیٹ کے اپنی ہتھیلیاں بھی خاصی سرخ کرچکے ہیں۔۔۔۔
اب اور کیا کیا جتن کروانا چاہ رہی ہیں آپ مجھ سے۔۔۔۔؟؟؟
گارڈ کے لاپرواہ سے بدلے ہوئے تیور آبرو کی گہری نیلی نگاہوں کو مزید بھگو گئے۔۔
مقابل کی طمانیت۔۔۔اس پر مستزاد مسکاتی ہوئی شریر آواز۔۔۔
اسکی بد نیتی کی صاف عکاسی کرنے کے درپے تھی۔
اور ہوتی بھی کیوں ناں۔۔۔
بند چار دیواری۔۔۔
نیم تاریکی میں میسر حسین دوشیزہ کی تنہائی۔۔۔
اچھے اچھوں کی نیت میں کھوٹ گھولنے کو کافی تھی۔۔۔
مزید وہ خود کے پاس موبائل فون کی موجودگی سے بھی جانتے بوجھتے صاف انکاری ہوگیا تھا۔۔
آبرو کو تو کم از کم یہی سب محسوس ہوا تھا۔
اس کی چالاکیوں پر لعنت بھیجتی اگلے ہی پل وہ قدموں میں پڑی فائلز کو روندتی ہوئی سٹک دروازوں کی جانب لپکی۔
”کوئی ہے۔۔۔۔؟؟
پلیز کھولو اسے۔۔۔۔
ہم یہاں پھنس چکے ہیں۔۔۔۔
مدد کرو ہماری۔۔۔۔۔
سنو۔۔۔کوئی تو سنوووو۔۔۔۔۔۔“
پوری قوت سے چیخ کر ملتجی ہوتی وہ بےساختہ چہرے کے گرد کسا سرمئی رنگ حجاب کھینچ کے ڈھیلا کرگئی۔
یہ اسکی بد قسمتی ہی تو تھی جو اپنی حددرجہ لاپرواہی کے سبب وہ آج کے دن بھی اپنی مطلوبہ ادوایات نہیں لے پائی تھی۔
اور نتیجہ اب کہ پل پل بگڑتے تنفس پر بھاری پڑ رہا تھا۔
خود کی بےبسی پر آنسو سرعت سے اس کے گلابیت گھلے رخساروں پر لڑھک آئے۔
اس دوران قدرے بھونڈی ادا سے بالوں میں ہاتھ پھیرتا گارڈ اسکی حالت پرمسکرایا۔
نیت میں فتور بڑھ رہا تھا۔
گہری سانسوں کے بیچ سٹیل کی شفاف سطح پر ہاتھ مارتی وہ ہنوز ملتجیانہ انداز میں پکار رہی تھی جب اسکی ناکام کوششوں کو یکدم حلق سے پھوٹتی ہچکیوں نے بے دم کیا۔
”ہہ۔۔۔ہ۔۔۔ہہ۔۔ہ۔۔۔۔“
وقفے وقفے سے نکلتی ہچکیوں نے طول پکڑا۔۔۔ تو خود پر سے ضبط کھوتا گارڈ آگے بڑھ کر اس کی کلائی دبوچتا اپنی جانب گھوما گیا۔
اسکی غیرمتوقع ہمت آبرو کو شدت سے بوکھلانے پر مجبور کرگئی۔
”یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔۔؟؟
ہہ۔۔۔ہ۔۔۔
ت۔۔تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی۔۔۔۔چھوڑو میرا ہاتھ۔۔۔۔
ہہ۔۔۔ہ۔۔۔۔۔“
ہچکیوں کے بیچ بھڑک کر بولتی وہ اپنی سرخ ہوتی کلائی اسکی سخت گرفت سے چھڑوانے پر آئی۔۔۔تو وہ مزید پھیلتا دوسرا بازو بھی اس کے لرزتے وجود کے گرد حمائل کرگیا۔
”چھوڑنے چھڑانے کی باتیں کرکے کیوں ہماری تنہائی کے ان حسین پلوں کوخراب کرنے پر تلی ہو ظالم حسینہ۔۔۔؟؟؟
ایسا ضروری تو نہیں ہے کہ ہر بار شاہ ہی یہ کومل ہاتھ پکڑ کر تمھارے لمحوں کو حسین بنائے۔۔۔۔۔
امیدوں پر پورے اترنے والے بندے ہیں۔۔۔کبھی ہمیں بھی موقع دے دیا کرو۔۔۔۔“
انتہائی لوفرانہ انداز میں کہتا وہ آبرو کی بپھری سانسوں کو سلگا ہی تو گیا تھا۔
زہر لگتے اس گارڈ کی اس قدر دیدہ دلیری کی وجہ۔۔شاید شاہ کی اس پوری عمارت میں غیر موجودگی تھی۔۔۔
اور کچھ بد نیتی کا گہرا اثر۔۔۔
”بکواس بند کرو اپنی گھٹیا انسان۔۔۔۔“
برداشت کھوتی آبرو نے مقابل کو اسکی اوقات یاد دلانے کے لیے بڑی دقتوں سے تھپڑ مارنا چاہا۔۔۔پر سرعت سے اسکا دوسرا ہاتھ بھی دبوچنے پر وہ اسکی کوشش ناکام کرگیا۔
آبرو نے قہر برساتی بھیگی نگاہوں سے اسکے مسکاتے نقوش دیکھے۔
”اگر چاہتے ہو کہ ملازمت کے ساتھ ساتھ تمھاری سانسیں بھی سلامت رہیں تو وقت رہتے ایسی بیہودگیوں سے باز آجاؤ۔۔۔۔
ورنہ شاہ کا اشتعال تم سمیت تمھاری ساری حماقتوں کو نگل جائے گا۔۔۔۔
چھوڑو مجھے جاہل۔۔۔۔۔“
شاک کی کیفیت تلے ہچکیاں تو رک چکی تھیں پر سانسوں کی تیز رفتاری سمیت اشتعال دگنا ہوتا چلا گیا۔
جبکہ اسکے یوں مچلنے پر گارڈ کمینی مسکراہٹ مزید ہوتی چلی گئی۔
”چھوڑنا ہی تو نہیں چاہتا محترمہ۔۔۔۔
کیا کروں؟؟مجبور ہوں۔۔۔۔
بڑی حسرتوں کے بعد تو یہ مناسب وقت اور بہترین موقع ہاتھ آیا ہے جسے گنوانے کی ہمت فی الوقت مجھ میں نہیں ہے۔۔۔
اور نہ ہی انجام کی کوئی خاص پرواہ۔۔۔۔
ہاں البتہ اس پل ہوش گنوانے کی بےتحاشہ ہمت ہورہی ہے۔۔۔۔۔“
اس کے حد سے سوا بگڑتے تنفس کی پرواہ کیے بنا ہی اب کہ وہ اپنی گرفت مضبوط ترین کرتا اسے مکمل اپنے گھیرے میں لے چکا تھا۔
کمینگی اسکے سر چڑ کر بول رہی تھی۔
”چھوڑ۔۔و۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔۔۔“
شدت سے سٹپٹاتی آبرو کا سائیں سائیں کرتا دماغ جہاں ناچاہتے ہوئے بھی
ماضی کی کمزور کرتی یادوں کی اتھاہ گہرائیوں میں اترنے لگا تھا۔۔۔
وہیں اس گھٹیا شخص کے چنگل میں اس کی مزاحمت دھیرے دھیرے دم توڑنے لگی۔
زبردستی پر اترنے والے مرد کی پل پل سخت ہوتی گرفت۔۔۔۔
وحشتیں پھیلاتا اندھیرا۔۔۔۔
شدت سے التجائیں کرتی نسوانی چیخیں۔۔۔
اور نسوانیت کا مذاق اڑاتے مردانہ قہقے۔۔۔
گہری نیلی نگاہوں کو دکھائی دیتا دھندلا دھندلا سا منظر یکدم ہی بدلا تھا۔
”نن۔۔۔نہیں۔۔۔۔
چھوڑ۔۔دو۔۔۔و۔۔وہ مار دے گا۔۔۔۔
و۔۔وہ۔۔۔میری ماں کو۔۔۔۔مار۔۔دے گا۔۔۔۔“
بند کھلتی آنکھوں پر کمزور آواز میں سسکتی وہ حد سے ذیادہ قریب آتے گارڈ کو اپنی بے دم ہوتی مزاحمت سمیت لفظوں سے چونکا گئی۔
اس دوران پہلے سے ہی ڈھیلا سرمئی رنگ حجاب کھینچا تانی کے سبب اسکے سر سے اتر چکا تھا۔
معا ً مکمل ڈھیلی ہوتی آبرو گارڈ کے بازوؤں کے گھیرے مین لڑھک گئی تو گارڈ کی ساری شوخیاں غارت ہوتی چلی گئیں۔
”ہیں۔۔۔۔؟؟
ی۔۔۔یہ۔۔۔کیا۔۔۔۔؟؟؟
بے ہوش ہوگئی۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ارے ہوش میں آؤ میڈم۔۔۔۔
میں نے تو ابھی حقیقی بدتمیزیاں شروع بھی نہیں کی تھیں۔۔۔۔۔“
اسے ہنوز اپنی بازوؤں میں سمیٹے۔۔۔۔نازک نم گال تھپتھپاتا ہوا اس بار وہ بوکھلا سا گیا تھا۔
اچانک جھٹکا کھاتی لفٹ اطراف میں بکھرتی روشنی کے ساتھ ہی حرکت میں آئی تھی۔
”ارے بی بی۔۔۔
ڈرامے بازی بند کرکے سیدھی طرح ہوش میں آجاؤ۔۔۔۔
اب تو لفٹ کا مسئلہ بھی حل ہوچکا ہے۔۔۔۔“
اپنی آواز میں کچھ فکر گھولتا گارڈ۔۔۔خاصا بدمزہ ہوتا بولا۔
پر وہ ہنوز حواس گنوائے ہوئے تھی۔چہرے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں صاف محسوس ہورہی تھیں۔
لفٹ لمحوں میں اپنی منزل کو پہنچتی رکی۔
معاً سماعتوں سے ٹکراتی ٹِن کی آواز کے۔۔۔لمحے بعد ہی دروازے بیچ سے کھلتے چلے گئے تو بےاختیار گہرا سانس بھرتے ہوئے۔۔۔۔وہ اسے سنبھالتا سیدھا ہوا۔
لیکن نگاہیں اٹھانے پر۔۔۔۔اپنے مقابل مینجر کے ہمراہ شاہ میرحسن کا وجود دیکھ حقیقتاً اسکے ہوش اڑے تھے۔
آبرو کو ابتر حالت میں اس گارڈ کی بانہوں میں جھولتا دیکھ شاہ کی پل بھر کی حیرت شدید اشتعال تلے دبی۔
مقابل دکھائی دیتا۔۔۔منظر ناقابل برداشت ہی تو تھا۔۔۔
جبکہ گارڈ کے چہرے پر اڑتی ہوائیاں چیخ چیخ کر اپنے باس کے خوف کو بخوبی بیان کر رہی تھیں۔
قریب کھڑا مینجر بھی یہ سب دیکھ کر فکرمند سا ہوا تھا۔
”ب۔۔باس۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔
وہ لفٹ۔۔۔۔آاا۔۔ہ۔۔ہ۔۔۔۔“
اسے مٹھیاں بھینچ کر سرعت سے اپنی جانب لپکتا دیکھ گارڈ نے پھرتی سے آبرو کو چھوڑا۔۔۔۔تو بروقت اسے تھامتا وہ اگلے ہی پل۔۔۔ پوری شدت سے مکا اسکے منہ پر مار چکا تھا۔
”ہاؤ ڈئیر یُو ٹو ٹچ ہر۔۔۔۔
یُو بلڈی۔۔(گالیاں###)۔۔۔۔۔“
دھاڑ کر پوچھتے ہوئے اس نے بے اختیار آبرو کے زرد پڑتے چہرے پر متفکر سی نگاہ ڈالی۔
بھوری آنکھیں اس پل انگارہ ہورہی تھیں۔
”افففف۔۔۔آااہ۔۔۔ہ۔۔۔۔۔“
نتھنوں سے پھوٹتی نکسیر(خون) گارڈ کو شدید تکلیف سے دوہرا ہونے پر مجبور کرگئی۔
”چ۔۔۔چھوڑ۔۔۔۔دو۔۔۔۔۔۔“
گہری غنودگی تلے۔۔۔بے خودی میں آبرو کے پھڑپھراتے لب شاہ کے دماغ کی نسیں ابھار گئے۔
اگلے ہی پل اسکا کندھوں پر آیا حجاب پکڑ کے سر پر ڈالتا وہ پشت پر کھڑے منیجر کو اکھڑ لہجے میں مخاطب کیا۔
”اس سے پہلے کہ گند کا یہ ڈھیر میرے ہاتھوں سے پوری طرح ضائع ہوجائے۔۔۔۔
اٹھا کر باہر پھینک آؤ اسے۔۔۔۔
دوبارہ یہ مجھے کسی بھی صورت یہاں نظر نہیں آنا چاہیے۔۔۔گیٹ اٹ ۔۔۔“
سلگتے لہجے میں چبا چبا کر بولتا اسکا غصہ کسی بھی طور کم نہیں ہورہا تھا۔
اگر جو اس وقت آبرو اسکے نزدیک تر نہ ہوتی تو وہ یقیناً اس خبیث شخص کا حشر نشر بگاڑ کے رکھ دیتا۔
”جیسا آپ کہیں سر۔۔۔۔۔
اوئے چلو ذرا میرے ساتھ۔۔۔۔۔“
تب سے کھلے دروازوں کے بیچ و بیچ آڑ بن کے کھڑا مینجر تابعداری سے سر ہلاتا فوری آگے بڑھا۔۔۔۔اور گارڈ کو گھسیٹ کر باہر لے جانے لگا۔
”اور ہاں۔۔۔۔
اس پر ہراسمنٹ کا کیس کروانا مت بھولنا۔۔۔۔۔“
شاہ پیچھے سے سخت تنبیہہ کرنا قطعی نہیں بھولا تھا۔
جہاں گارڈ کی گھبراہٹ میں مزید اضافہ ہوا تھا وہیں مینجر اطمینان سے سرکو جنبش دے کر شاہ کی تسلی کرواتا۔۔۔اسے لے کر باہر کو نکلتا چلا گیا۔
شاہ نے ضبط کا گہرا سانس بھرتے۔۔۔نرم نگاہوں سے آبرو کے سوئے نقوش دیکھے۔
”میرے ہوتے ہوئے تمھیں کوئی بھی بری نیت سے چھونے کی گستاخی نہیں کر سکتا آبرو سکندر۔۔۔
میں ایسا ہونے ہی نہیں دوں گا کبھی۔۔۔۔
آخری سانس تک تمھاری حفاظت کروں گا۔۔۔۔
یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔۔“
قدرے نرمی سے اسکا نازک وجود۔۔۔ہنوز تھامے۔۔۔شاہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ اسے بڑی محبت سے جتایا۔
اس کے برعکس لہجے میں شدت کی تپش تھی۔
جلتی نگاہوں میں تفکر سموئے وہ اگلے ہی پل اسے احتیاط سے بازوؤں میں بھرتا لفٹ سے باہر نکلا۔۔۔۔
سب کاموں کو پس پشت ڈالتے ہوئے اسکے سنسناتے دماغ میں فقط آبرو کی پرواہ مچل رہی تھی۔۔۔۔
اس قدر پرواہ کہ اپنی گاڑی تک پہنچتے ہوئے وہ پاس سے گزرتے لوگوں کی حیرت زدہ نگاہوں کو بھی بڑے اطمینان سے فراموش کرتا چلا گیا۔۔۔۔


کراچی شہر میں تیزی سے بکھرتی شام۔۔۔ڈوبتے سورج کی مدھم ترین کرنوں کو خود میں سمیٹتی اب کہ تاریکیاں لانے کو بےتاب ہورہی تھی۔
ایسے میں خراماں خراماں چلتی ہوا کے نرم جھونکے۔۔۔جہاں سرمئی سڑک کے کنارے چلتے کتنوں کو ہی موسم میں گھلی خوشگواریت کا احساس دلا رہے تھیں۔۔۔۔
وہیں ان سب سے مکمل لاتعلق وہ ہنوز پولیس اسٹیشن میں موجود تھا۔
صفحات پر بکھرے قابل تفتیش لفظوں پر گہری سیاہ نگاہیں جمائے وہ بڑے انہماک سے ایک ضروری کیس فائل۔۔۔اسٹڈی کرنے میں مصروف تھا۔
اس کے برعکس طمانیت سے پھڑپھڑاتا دل اس کے وجود میں سکون برپا کیے ہوئے تھا۔
اور برپا کرتا بھی کیوں نہ۔۔۔۔
آخر کو حسن صاحب کا وہ پروجیکٹ آج اپنے اختتامی مراحل کو پہنچ چکا تھا جس کے انتظار میں ایک کی بجائے۔۔۔ کتنے ہی دن وہ اپنے آپ میں سلگتا رہا تھا۔
”تیار رہنا برخوردار۔۔۔
کل کی چڑھتی صبح ہم تمھارے نکاح کی بات کرنے ان کی طرف جائیں گے۔۔۔
امید تو۔۔۔۔مثبت جواب ملنے کی ہے۔۔۔۔
پر انسان کو ہمیشہ دو طرفہ سوچ رکھنی چاہیے۔۔۔اسی میں بہتری پوشیدہ ہوتی ہے۔۔۔۔۔“
حسن صاحب کا قطیت بھرا مضبوط لہجہ عائل کو کس قدر پرسکون کر گیا تھا ناں۔۔۔
صفحے کی آخری تحریر پر ایک بھرپور نگاہ ڈالتا وہ اگلے ہی پل فائل بند کرگیا۔۔۔
جب وہ اچانک بپھڑی ہوئی شیرنی کی مانند دھاڑ سے دروازہ کھولتی بے دھڑک اندر داخل ہوئی۔۔۔
عائل حسن نے قدرے چونک کر اس کی جانب دیکھا تو۔۔۔
جہاں دل شدید حیرت تلے دھڑکا تھا وہیں اس سمے اسکی پولیس اسٹیشن میں تن تنہا موجودگی اسکے ماتھے پر بل ڈال گئی۔
عین اسی وقت کانسٹیبل بھی غصے سے ہانپتا ہوا اندر آیا تھا۔
”سر۔۔۔۔۔
میں نے اس لڑکی کو یہاں پر آنے سے روکنے کی کئی کوششیں کی تھیں مگر۔۔۔
یہ پھر بھی۔۔۔۔۔۔“
سلوٹ کرتا وہ بے بسی تلے دانت پیس کر صفائی دینے پر آیا تھا جب بیچ میں ہی ہاتھ اٹھاکر اشارہ کرتا وہ اُسے باہر دفع ہونے کا آڈر دے چکا تھا۔
”جاؤ یہاں سے۔۔۔۔“
وہ قدرے سختی سے بولا۔
حاویہ بگڑے تنفس پر قابو پاتی بےتاثر چہرہ لیے اسی کی جانب دیکھ رہی تھی۔
پولیس یونیفارم میں رعب جھاڑتا وہ اس کے دل کی دھڑکنوں میں مزید تیزی لے آیا تھا۔
”یس سر۔۔۔۔۔“
حاویہ کی بابت ہنوز انجان وہ کچھ حیران ہوتا اگلے ہی پل سلوٹ کرگیا۔
پھر وہاں سے جانے کو پلٹا۔
کانسٹیبل کے وہاں سے جاتے ہی وہ واپس اُسکی جانب متوجہ ہوا جو نازک مٹھیاں سختی سے دبوچے۔۔۔ہنوز وہیں جم کر کھڑی تھی۔
سادے سے سفید رنگ سوٹ پر جامنی رنگ حجاب کیے وہ عائل کو پہلے کی نسبت کافی کمزور لگی تھی۔
”انتہائی غیر مناسب وقت پر یوں تن تنہا۔۔۔پولیس اسٹیشن آنے کی خاص وجہ جان سکتا ہوں میں۔۔۔؟؟؟“
سرد مہری سے پوچھتا وہ بآسانی اسکے نقوش پر رقصاں خفگی محسوس کرسکتا تھا۔۔۔جو شاید اس روز ریسٹورنٹ والے ہنگامے کو لے کر اسے شدت سے لاحق تھی۔
اسے حقیقتاً حاویہ کا پولیس اسٹیشن آنا کافی ناگوار گزرا تھا۔
”اگر وجہ خاص نہ ہوتی تو اس وقت میں بھی یہاں موجود نہ ہوتی عائل صاحب۔۔۔
بدقسمتی سے اب یہاں ہوں۔۔۔تو ظاہر ہے وجہ بھی بہت خاص ہوگی۔۔۔“
وہ جو بڑی دقتوں سے نفیسہ بیگم کے علم میں خود کو لائے بغیر گھر سے سیدھا یہاں تک پہنچی تھی۔۔۔
نمی پرے دھکیلنے کو پلکیں جھپکا جھپکا کرکہتی اسے اپنی بات سے ٹھیک ٹھاک
الجھا گئی۔
”فائن۔۔۔۔بیٹھو۔۔۔۔۔۔“
کئی پل بغور اسے دیکھنے پر وہ گہرا سانس بھرتا بےاختیار چئیر سے ساتھ ٹیک لگاگیا۔۔۔ساتھ ہی حاویہ کو بھی اپنے مقابل بیٹھنے کا بولتا وہ اصل مدعا جاننے کو بےتاب ہوا تھا۔
جواب میں وہ کئی قدم چل کر اسکی طرف آئی۔
پھر مقابل بیٹھنے کی بجائے۔۔۔ٹیبل کی شفاف سطح پر دونوں ہتھیلیاں جماتی بڑی جرات سے اُسکی جانب جھکی۔
عائل کو اُسکے پہلے کی نسبت قدرے بدلے بدلے سے انداز پل پل چونکا رہے تھے۔۔۔پر اپنی کیفیت کو بخوبی چھپاتا وہ اُسکی بھیگی انگارہ آنکھوں میں دیکھ کر رہ گیا۔
”میں یہاں سکون سے بیٹھنے نہیں آئی اے۔ایس۔پی صاحب۔۔۔۔
فقط انصاف مانگنے آئی ہوں۔۔۔
اور مجھے امید ہے کہ اپنی اس وردی اور رتبے کا لحاظ کرتے ہوئے آپ محض حق سچ کا ساتھ دیں گے۔۔۔۔“
حاویہ کے سلگتے تیوروں کی طرح۔۔۔اُسکی نمی گھلی آواز بھی خاصی تیکھی تھی۔
تو گویا اس سے انصاف کی ایپل کرتی وہ وردی سمیت اسکے سرکاری رتبے کو بھی بڑی شدت سے چیلنج کرگئی تھی۔
اس قدر سنجیدہ صورتحال میں بھی مسکراہٹ عائل کے لبوں پر پل بھرکو اپنی چھپ دکھلانے کو مچلی۔
دل چیڑتی سیاہ حقیقتوں سے ہنوز انجان۔۔۔وہ سختی سے لب بھینچتا اگلے ہی پل دلچسپی سے سر کو جنبش دے گیا۔
مقابل کی اس قدر بےخبری پر حاویہ کو کوئی خاص حیرت نہیں ہوئی تھی۔
”اوکے۔۔۔
تمھیں جو بھی کہنا ہے کھل کر کہو۔۔۔۔
کیا۔۔۔؟؟چاہ کیا رہی ہوتم ۔۔۔۔؟؟؟“
مضبوط انگلیوں کو آپس میں پھنساکر ٹیبل پر دھرتے ہوئے اس بار عائل نے سنجیدگی سے پوچھا۔
البتہ لہجے میں سرد پن مفقود ہوچکا تھا۔
”اپنی بڑی بہن۔۔۔۔“
خود پر سے پل پل ضبط کھوتی حاویہ پل بھر کو اٹکی۔
پلکیں جھپکانے پر آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر اسکی گالوں پر پھسلے تھے۔۔۔
”حرمین زہرا کے قاتل کو کیفرکردار تک پہنچانا چاہتی ہوں۔۔۔۔
اور یہ بات آپ اچھے سے جانتے ہیں کہ قاتل کے لیے صرف ایک ہی سزا متعین کی جاتی ہے۔۔۔
اور وہ ہے سزائے موت۔۔۔۔۔“
ہنوز اسی طرح جھکی۔۔۔وہ پھنکار کر بولتی مقابل کو جھٹکے سے اٹھنے پر مجبور کر گئی۔
”ح۔۔۔حرمین زہرا کا قاتل۔۔۔۔؟؟؟
تم۔۔۔یہ۔۔۔؟؟؟“
اس غیرمتوقع انکشاف پر شدت سے کنگ ہوتے عائل کے لیے اس پل بولنا محال ترین ہوا تھا۔۔۔
جب ٹیبل کے پار حاویہ سیدھی ہوتی۔۔۔اسکے بےیقینی میں ڈھلے نقوش دیکھ کر اذیت سے سر کو جنبش دے گئی۔
”فوری یقین کرنا دشوارترین ہورہا ہے ناں۔۔۔؟؟
پرصد افسوس کہ یہی حقیقت ہے۔۔۔
ایک بد ترین حقیقت۔۔۔۔۔
میری بہن اب مزید اس دنیا میں نہیں رہی عائل۔۔۔و۔۔وہ۔۔۔۔۔“
بھرائی ہوئی آواز میں بولتی وہ بے اختیار سسکی تو اسکی اذیت دیتی حالت پر عائل تڑپ کر سرعت سے اسکی جانب لپکا۔
”کیسے ہوا یہ سب۔۔۔۔؟؟
کون ہے وہ قاتل۔۔۔؟؟؟
ت۔۔تم مجھے ایک بار اسکا نام بتاؤ۔۔۔
میں تم سے وعدہ کرتا ہوں حاویہ۔۔۔
وعدہ کرتا ہوں کہ حرمین زہرا کے مجرم کو ہر صورت اُسکے گناہوں کی سزا دے کر رہوں گا۔۔۔۔چاہے پھر وہ سزائے موت ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔“
اُسکے قریب آکر رکتا وہ بےاختیار اسکے نازک ہاتھوں کو اپنی نرم گرفت میں لے گیا۔
حرمین زہرا کا قتل ہوا تھا۔۔۔۔۔
موجودہ حالات کی سنگینی اس قدر شدید تھی کہ عائل حسن۔۔۔پلوں میں یقین کرنے پر مجبور ہوا تھا۔
معاً ایک ہاتھ بڑھا کر انگلیوں کی پوروں پر اسکے بے مول ہوتے آنسو چُنتا وہ اسے تسلی دینے کو نفی میں سرہلاگیا۔
اندر کہیں شدت سے اپنی بے علمی پر افسوس ستانے لگا تھا۔
دھڑکتے دل پر ضبط کھوتی حاویہ نے دھندلائی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا۔
اسکے سلگتے لہجے کی تڑپ کو شدت محسوس کرتے ہوئے اسکے لب دھیرے سے استہزائیہ مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔۔
تو ہاتھ پیچھے ہٹاتے ہوئے۔۔۔اسکی زرد رنگت تکتے عائل کو نئے سرے تشویش ہوئی۔
لیکن۔۔۔اگلے ہی پل حاویہ کے لرزتے لبوں سے پھسلتا دو لفظی جواب عائل حسن کی ذات پر قدرے بھاری ثابت ہوا تھا۔
”شاہ میرحسن۔۔۔۔۔۔“
حقیقی معنوں میں اسکے سر پر دھماکہ کرتی حاویہ نے بڑے انہماک سے مقابل کےتیوروں کو پلٹا کھاتے دیکھا تھا۔
حیرت سے بے یقینی۔۔۔۔اور پھر بے یقینی سے آگے۔۔۔پیشانی پر چڑھتی ناگوار تیوریاں۔۔۔۔
عائل اسکا ہنوز تھاما ہوا ہاتھ چھوڑتا بے اختیار اس سے ایک قدم دور ہوا تو حاویہ کے دل میں ایک ٹیس سی اٹھی۔
”واااٹ۔۔۔۔؟؟؟
شام۔۔۔۔
شاہ میر حسن۔۔۔؟؟؟
کیا بکواس۔۔۔۔“ اسکی ذہنی حالت پر شدت سے شبہ کرتا وہ بے اختیار نگاہیں پھیرتا بات ادھوری چھوڑ گیا۔
دل کی گہرائیوں میں بسی وہ نازک لڑکی بڑی جرات سے اسکے جان سے قریب تر لاڈلے بھائی کو قاتل بتارہی تھی۔۔۔
شام اور قاتل۔۔۔۔۔؟؟؟
کس قدر مضائقہ خیز بات تھی ناں۔۔۔۔
”حاویہ تم میرے ساتھ مذاق کررہی ہو۔۔۔۔؟؟
سریسلی۔۔۔۔؟؟؟
بےسکونی سے بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ واپس اسکی جانب دیکھتا قدرے ضبط سے پوچھ رہا تھا۔
جہاں دماغ سائیں سائیں کررہا تھا وہیں آنکھوں میں سرخی تیزی سے پھیلتی چلی گئی۔
”ذرا سا بھی اندازہ ہے کہ تم کس کے بارے میں کیا بات کر رہی ہو۔۔۔۔؟؟؟
بھائی ہے وہ میرا۔۔۔
اور تم۔۔۔۔۔“
سختی سے اسے باور کرواتا وہ مر کر بھی یقین کرنے کو تیار نظر نہیں آرہا تھا جب یکدم اسکی بات تندہی سے بیچ میں کاٹتی وہ چٹخ گئی۔
”اندازہ نہیں ہے یہ۔۔۔
حقیقت ہے۔۔۔
سراسر حقیقت ہے۔۔۔
کیوں۔۔۔؟؟؟کیوں نہیں ہوسکتا وہ قاتل۔۔۔۔؟؟؟
صرف اس لیے کہ ایک ایمان دار پولیس آفیسر کا سگا بھائی ہے وہ۔۔۔۔؟؟؟
نہیں عائل حسن۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔
میری بہن کی خودکشی کا حقیقی ذمے دار ہے تمھارا بھائی۔۔۔۔“
صاف کھلی بدتمیزیوں پر اترتی وہ عائل کو کئی پلوں کے لیے حق دق کرگئی۔۔۔پر شام کے خلاف اسکا زہر اگلنا ہنوز تھا۔
”لیکن خود کشی سے کہیں ذیادہ وہ ایک قتل تھا۔۔۔
ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔۔۔جس کے تحت میری بہن کو خود کی جان لینے پرمجبورکردیا گیا۔۔۔
اور اس سب کی ذمہ دار فقط شاہ میر حسن کی ذات ہے۔۔۔۔
جھوٹی محبت کی آڑ میں حرمین زہرا کی عزت کی دھچیاں بکھرنے والا ایک لٹیرا ہے تمھارا بھائی۔۔۔۔دنیا بھر میں اس کے وجود کی سرعام تشہیر کرنے والا بےغیرت ترین انسان ہے وہ۔۔۔۔۔۔“
بدترین حقیقتوں کا ادراک کرواتے ہوئے۔۔۔چیخ چیخ کر صفائیاں دیتی وہ شدت سے رو دی تھی۔
ایسے میں دبی دبی آوازیں باہر کو نکلتی یقیناً کئی سرکاری ملازموں کو چونکا گئی تھیں۔
معاً مشتعل سا اسکی جانب لپکتا عائل۔۔۔ پل میں اسکو بازوؤں سے تھام کر اپنی جانب جھٹکا دے گیا۔
”او یُو شٹ اپ۔۔۔
جسٹ شٹ اااپ۔۔۔
اب میں اپنے بھائی کے خلاف مزید ایک بھی غلط لفظ نہیں سنوں گا۔۔۔۔
تم اپنے ہوش مکمل گنوا چکی ہو حاویہ فیضان۔۔۔پر میرے ہنوز قائم ہیں۔۔۔۔۔۔“
درشت لہجے میں بولتا وہ بآسانی اسے اپنے رعب تلے دباگیا تھا۔
اس دوران کپکپاتی ہوئی نرم ہتھیلیاں عائل کے مضبوط سینے پر تھیں جس میں پھڑپھڑاتا دل حاویہ کو اس پل سفاک ترین محسوس ہوا تھا۔
”اگر پرائی محبت پر خونی رشتوں کی تڑپ غالب آجائے تو کچھ حیرت نہیں۔۔۔۔
لیکن اگر یہی رشتے انصاف کے تقاضوں کو پوری طرح نگل جائیں تو اس سے بڑا اور کوئی عیب نہیں ہوتا عائل صاحب۔۔۔۔۔“
نم زخمی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھتی۔۔۔وہ دھیمے بھرائے لہجے میں بولی تو عائل نے ضبط سے جلتی آنکھیں میچ کر کھولیں۔
”بے بنیاد بہتان لگانا میرے نزدیک اس سے بھی بڑا عیب ہے جو تم بڑی آسانی سے میرے بھائی پر لگائے چلی جارہی ہو۔۔۔
اور یقین جانو یہ سب میری برداشت سے بالکل باہر ہے۔۔۔۔۔۔“
پُریقین سا بولتا وہ اس پر اپنی گرفت مزید سخت کرگیا تو نتیجتاً وہ سسکی۔
نتیجتاً اسکی آنکھوں میں اذیت دیکھ کر وہ ذرا ہوش میں آتا بے اختیار اپنی پکڑ میں صاف نرمی لے آیا۔
”ہوسکتا ہے کہ حرمین زہرا کی خودکشی کی کچھ اور وجوہات ہوں۔۔۔۔
یا پھر ان وجوہات کی حقیقی جڑ کوئی دوسرا مرد ہو۔۔۔۔
لیکن ایک بات میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ شام اس معاملے میں کہیں بھی نہیں ہے۔۔۔
دور دور تک نہیں۔۔۔۔“
گہرا سانس بھرتا وہ مزید گویا ہوا تو اسکی ڈھیلی پڑتی گرفت پر وہ تندہی سے اپنا آپ چھڑوا گئی۔
”اور میں بھی یہ بات پورے وثوق سے کہتی ہوں کہ شاہ میرحسن کے علاوہ اور کوئی دوسرا مرد اس سب میں شامل نہیں ہے۔۔۔
اور یہی حقیقت ہے۔۔۔۔۔“
گھٹی گھٹی آواز میں بھڑک کر بولتی وہ ہنوز اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی تھی۔
ایسے میں عائل کا بامشکل کم ہوا اشتعال پھر حد سے سوا ہونے لگا۔
”حقیقت۔۔۔۔؟؟؟
رئیلی۔۔۔۔؟؟؟
کیا ثبوت ہے تمھارے پاس کہ فقط شام ہی حرمین زہرا کا مجرم ہے۔۔۔؟؟؟
ہے کوئی ٹھوس ثبوت جس کی بنا پر میں تمھارا یقین کر سکوں۔۔۔ہوں۔۔۔؟؟؟“
اسنے مٹھیاں بھینچ کر کاٹ دار لہجے میں پوچھا تو لفظ ”ثبوت“ پر وہ کچھ چونک سی گئی۔
بھیگے گال رگڑ کر۔۔۔ ماؤف ہوتے ذہن پر شدت سے زور ڈالتی۔۔۔وہ کتنے ہی لمحے قابل بیان لفظوں کو تلاش نہیں کر پائی تھی۔
ہاں البتہ ناکام کھوج لگاتے کنپٹیاں ضرور دکھنے لگی تھیں۔
چھپ چھپا کر کی گئی بداعمالیوں کے پیچھے بتانے کو۔۔۔حقیقتاً کوئی بھی تو ثبوت نہیں چھوڑا گیا تھا۔
شام کے شاطر پنے پر حاویہ شدتِ بے بسی سے نازک مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی۔پھر بھیگی نظریں اٹھاکر خود کی جانب تکتے عائل کو دیکھا۔
”میری خود کی گواہی۔۔۔۔ہی میرا ثبوت ہے۔۔۔۔“
لبوں پر زبان پھیرتی وہ مضبوط لہجے میں بولی تھی جب اسکی بات سمجھتا عائل پُرتاسف سا نفی میں سر ہلاگیا۔
”فقط الزام لگانے والے کی لفظی گواہی کافی نہیں ہوتی محترمہ۔۔۔
ان معاملات میں مزید گواہوں اور ثبوتوں کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔۔“
ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولتا وہ حاویہ کو کمزور ہی تو کرگیا تھا۔
”ع۔۔عائل۔۔۔ایک بار آپ۔۔۔۔م۔۔۔۔“
اس بار کچھ نرم پڑتی وہ بولنا چاہ رہی تھی جب یکدم ہی دھاڑتا وہ اسے خود سے خوفزدہ کرگیا۔
”انف از انففف۔۔۔۔
اب تم مجھے پاگل کر رہی ہو حاویہ فیضان۔۔۔
مکمل پاگل۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ میں آپے سے باہر ہوکر تمھارے ساتھ حقیقتاً کوئی نا انصافی کر بیٹھوں۔۔۔
آؤٹ۔۔۔۔
جسٹ آؤٹ فرام ہیر۔۔۔۔۔“
تلخ حقیقتوں سے ہنوز بےبہرہ۔۔۔وہ اسکی ذات سے منہ موڑتا ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولا۔
تو اسے ٹیبل کی شفاف سطح پر ہتھیلیاں جماکر ضبط کے گہرے گھونٹ بھرتا دیکھ۔۔۔۔حاویہ کی نم پلکوں سے آنسو ٹوٹ کر گالوں پر لڑھک آئے۔
کچھ دیر پہلے اس کے آنسو پونچھنے والا شخص اب خود ہی ان کے بے مول ہونے کا سبب بن گیا تھا۔
کتنے ہی پل اطراف میں اذیت دیتا سناٹا چھایا رہا۔
”میری بہن نے شام سے محبت کرکے جو غلطی کی سو کی۔۔۔لیکن اب مجھے بھی اسی غلطی کا شدت سے احساس ہورہا ہے جو میں نے آپ سے محبت کرکے کی۔۔۔۔۔“
جذبات کی رو میں بہہ کر بولتی وہ عائل کو سختی سے لب بھینچنے پر مجبور کرگئی۔پر ان اذیت دیتے لفظوں پر وہ پلٹا پھر بھی نہیں تھا۔
حاویہ نے دھندلائی نظروں سے اسکی چوڑی پشت تکتے اپنی سسکی روکی۔
ہاں۔۔۔وہ دغا باز دھڑکنوں کے سبب مقابل سے چاہ کربھی نفرت نہیں کرپا رہی تھی
لیکن وجود میں اٹھتا درد اس قدر ناقابلِ برداشت تھا کہ ملنے والی جذباتی دھتکار پر اسکے لیے مزید وہاں رکنا محال ہوا تھا۔
اگلے ہی پل گال رگڑتی وہ وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
اس بات سے قطعی انجان کہ آنے والے لمحے اس کی نازک جان پر کس قدر بھاری پڑنے والے تھے۔۔۔
اس قدر بھاری کہ جس کا اس نے اپنے وہم و گمان میں بھی نہیں سوچا تھا۔
عائل نے سرعت سے پلٹ کر اسکی پشت دیکھی جو اگلے ہی پل دروازے کے پار ہوتی۔۔۔اسکی جلتی نگاہوں سے اوجھل ہوچکی تھی۔
”ڈیم۔۔۔۔۔۔“ اگلے ہی پل عائل نے مڑکرٹیبل پر پڑی چیزوں کو ہاتھ مار کر ایک ہی جھٹکے میں پرے اچھالا دیا۔۔۔۔
دل میں شدت سے مچلتی اذیتیں۔۔۔ اسکے وجود کا سکون صحیح معنوں میں غارت کرچکی تھیں۔۔۔۔


” کافی۔۔۔۔۔۔۔“
دھواں اڑاتا مگ ہاتھ میں پکڑے وہ ناک کرکے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ تو ادھ کھلی کھڑکی سے دکھائی دیتے رات کے پہلے پہر کو تکتی وہ پلٹی۔
فلیٹ میں آئے ڈاکٹر کے چیک اپ کہ بعد سے وہ کچھ دیر پہلے ہی ہوش میں آئی تھی۔۔۔
اور شاہ کے موبائل فون سے اپنی بوا کو کال کرکے اپنے متعلق آگاہی دے چکی تھی۔۔۔
جواب میں انھوں نے فکر میں گھلتے ہوئے اس سے واپس گھر لوٹ آنےکا صاف تقاضا کیا تھا جس کو شاہ نے بھی بخوبی سنا تھا۔
”آپکو مجھے یہاں نہیں لانا چاہیے تھا۔۔۔۔۔۔“
اسے اپنی جانب آتا دیکھ وہ چاہ کر بھی خود کو شکوہ کرنے سے باز نہیں رکھ پائی تھی۔
اسکی برہمی پر مقابل رکتے شاہ نے کچھ حیرت سے اسکی جانب دیکھا۔
قدرے مہارت سے سیٹ کیے گئے سرمئی رنگ حجاب میں اسکے حسین نقوش بہت بھلے لگ رہے تھے۔۔۔
”رئیلی۔۔۔؟؟؟تو پھر کہاں لے کر جاتا۔۔۔؟؟؟
ہوش میں رہ کر تم نے مجھے اپنے بارے میں جاننے کی اتنی اجازت ہی کب دی تھی آبرو۔۔۔کہ تمھاری بے ہوشی کے عالم میں۔۔۔میں تمھیں ڈائریکٹ تمھارے گھرتک چھوڑ کر آسکتا۔۔۔؟؟؟
ہہممم۔۔۔۔؟؟؟“ کافی بھرا مگ اسکی جانب بڑھاتا وہ حقیقتاً اسے لاجواب کرگیا تھا۔
”مگر۔۔۔۔۔۔“
بددلی سے مگ تھامتی وہ مزید بولنا چاہ رہی تھی جب شاہ بیچ میں ہی اسکی بات کاٹ گیا۔
”کافی پی کر تھوڑا فریش ہو جاؤ۔۔۔۔
خود اپنے ہاتھوں سے بنائی ہے۔۔۔۔
پھرجیسے کہو گی۔۔۔۔
جہاں کہو گی تمھیں با حفاظت وہیں چھوڑ آؤں گا۔۔۔۔سو بےفکر رہو۔۔۔۔“
نرمی سے کہہ کر وہ وہاں رکا نہیں تھا۔۔۔بلکہ ایک مسکاتی نگاہ اس پر اچھالتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
پیچھے آبرو نے لب کچل کر عجیب بے چینی تلے کمرے میں نگاہیں دوڑائیں۔
پھر اگلے ہی پل دھڑکتے دل کے ساتھ مگ سے پہلا گھونٹ بھرا۔
منہ میں گھولتا کافی کا حد سے تیز ذائقہ اس کے پنکھری لبوں پر دلکش مسکراہٹ بکھیر گیا تھا۔
کافی بد ذائقہ ضرورتھی مگر اس شدید کرواہٹ میں گھلی چاہت کی مٹھاس اسے شدت سے محسوس ہوئی تھی۔
منتشر دھڑکنوں کے ساتھ مزید دو سے چار گھونٹ بھرتی۔۔۔وہ کچھ سوچ کر اگلے ہی لمحے۔۔۔ مگ وہیں چھوڑتی کمرے سے باہر نکل آئی۔
وہ سامنے ہی صوفے سے اپنا نیوی بلیو کوٹ اٹھا کر پہن رہا تھا۔
آبرو کو اپنی جانب آتا دیکھ چونکا۔
”سر۔۔۔؟؟؟
تھ۔۔تھینکیو سو مچ۔۔۔۔۔۔“
اسکے قریب رک کر آہستگی سے بولتی وہ شاہ کو لبوں پر مچلتی بےساختہ مسکراہٹ دبانے پر مجبور کرگئی تھی۔
”کس لیے۔۔۔۔؟؟
کافی کے لیے۔۔۔۔؟؟
اگر ایسا ہے تو پھر تمھیں میرا دل رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔
جانتا ہوں تم سے بہتر کافی نہیں بنا سکتا۔۔۔پر شاید آگے جاکر کچھ بہتری آجائے۔۔۔۔۔“
سنجیدگی سے بولتا اب کی بار وہ آبرو کو سختی سے لب بھینچنے پر مجبور کرگیا۔
اسکے مسکاتے نقوش بغور دیکھتے۔۔۔شاہ کے دل نے بے اختیار ایک بیٹ مس کی تھی۔
”کافی سے ہٹ کر۔۔۔آج جو کچھ بھی آپ نے میری خاطر کیا ہے۔۔۔میں اس سب کے لیے آپکو تھینکس بولنا چاہ رہی ہوں۔۔۔۔۔“
کچھ توقف لیتی۔۔۔وہ براہِ راست اسکی بھوری نگاہوں میں جھانک کر نرمی سے گویا ہوئی تو بےساختہ اسکی جانب ایک قدم لیتا شاہ نفی میں سر ہلاگیا۔
”تمھیں یہ سب بولنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے آبرو۔۔۔اگر۔۔۔۔۔۔۔“
اسکا مومی ہاتھ قدرے نرمی سے تھامتا۔۔۔وہ اپنے دل میں دبی اسکی اہمیت جتانا چاہ رہا تھا۔۔۔
جب اگلے ہی پل بھوری نگاہیں بھٹک کر۔۔ٹھیک اسکے پیچھے کھڑے وجود پر جا ٹھہریں۔
وہ گہری سیاہ۔۔۔نم نگاہوں میں شدید نفرت سموئے اسی کی جانب دیکھ رہی تھی۔
”شاہ۔۔۔۔۔؟؟؟“
دل کی تیز دھڑکنوں پر قابو پاتی آبرو کچھ جھجک کر۔۔۔اسے براہِ راست اسکے نام سے مخاطب کرگئی۔۔۔۔
اسکے یوں چونک کر خود سے بے نیاز ہونے پر بلاشبہ وہ خود بھی حیران ہوئی تھی۔
مگر اسکا سکتہ ہنوز تھا۔
”ایک اور جال بچھا رہے ہو۔۔۔۔؟؟؟
پھر سے فریب دینے کی تیاری میں ہو۔۔۔۔؟؟؟“
نازک مٹھیاں بھینچ کر قدرے تلخی سے پوچھتی وہ شاہ کی دھڑکنیں سست کرگئی تھی۔
”آریو اوکے سر۔۔۔۔؟؟؟“
اسکے کوئی جواب نہ دینے پر آبرو اسکی قدرے ڈھیلی گرفت سے اپنا ہاتھ بآسانی چھڑوا گئی۔۔۔تو اگلے ہی پل ٹھٹک کر ہوش میں آتے شاہ نے آبرو کے الجھے نقوش پر حیران نگاہ ڈالی۔
”ہوں۔۔۔۔یاہ۔۔۔آفکورس۔۔۔۔ایوری تھنگ از اوکے۔۔۔۔۔“
بے اختیارسر جھٹکتا وہ زبردستی مسکرایا۔
پھر چہرے پر ہاتھ پھیرتا پلٹا اور جھک کر ٹیبل سے والٹ سمیت کیز اٹھاگیا۔
آبرو اسکے بدلے تیوروں پر ہنوز اسی کی جانب بغور دیکھ رہی تھی جب خود پر قابو پاتا واپس مُڑا۔
”چچ چچ چچ۔۔۔۔افسوس۔۔۔۔
افسوس کہ اتنے نقصانات اٹھانے کے باوجود بھی تمھاری فطرت ذرہ برابر بھی نہیں بدل پائی شاہ میر حسن۔۔۔۔
اپنی فتوری نیت کے سبب پھرسے تباہی مول لینے کے لیے خود کو قائل کرچکے ہو ناں تم۔۔۔۔؟؟؟“
اب کہ تڑخ کر بولتی ہوئی وہ آبرو کے آگے آئی تھی۔
”سر آپ۔۔۔۔۔“
شاہ کو قدرے سخت نگاہوں سے خود کی جانب گھورتا پاکر بےاختیار لبوں پر زبان پھیرتی آبرو نے بولنا چاہا۔۔۔۔
جب شاہ قدرے درشتگی سے اسکی آواز حلق میں ہی دبا گیا۔
”او جسٹ شٹ اااپ۔۔۔۔۔
بندکرو اپنی یہ فضول بکواس اور ابھی کہ بھی دفع ہو جاؤ میری نظروں کے سامنے سے۔۔۔۔
جسٹ آؤٹ ڈیمٹ۔۔۔۔“
تڑخ کر بولتا جہاں وہ مقابل کھڑی حرمین زہرا کو تاسف سے مسکرانے پر مجبور کرگیا تھا۔۔۔
وہیں آبرو خود کے ساتھ برتی گئی اس صاف بدسلوکی پر گہری نیلی آنکھیں پھیلائے اسے دیکھ کر رہ گئی۔
”م۔۔۔میں۔۔۔۔۔“
شدتِ توہین سے سرخ پڑتی آبرو کے لیے بولنا محال ہوا۔۔۔تو شاہ کے ذہنی فتور سے قطعی انجان وہ نفی میں سرہلاتی اگلے ہی پل وہاں سے جانے کو دروازے کی طرف بھاگی۔
”آ۔۔آبرو۔۔۔۔۔۔۔“
ایسے میں شاہ نے چونک کر پل بھر کی ناسمجھی سے اسے دروازہ کھول کر وہاں سے جاتے دیکھا۔۔۔
پھر مٹھیاں بھینچ کر شدید غصے میں پیچھے پلٹا۔۔۔۔جہاں اب وہ کہیں بھی نہیں تھی۔۔۔۔
آنکھوں میں اتری سرخی مزید گہری ہوئی تھی۔
”او شٹ۔۔۔۔
آبرووو۔۔۔۔لیسن پلیز۔۔۔۔۔۔۔“
معاً وہ سنسناتے دماغ کے ساتھ تیزی سے اسکے پیچھے لپکا۔۔۔
بےخودی میں ہوئی حماقت کے سبب ایک بار پھروہ اس نازک لڑکی کو خود سے خفا کرگیا تھا۔۔
اور وجہ حقیقتاً ناقابل بیان تھی۔۔۔۔


”آااہہ۔۔۔ہ۔۔۔ہ۔۔۔۔سی۔۔۔۔۔۔“
قدرے بھاری ہوتے سر کے ساتھ اسنے بامشکل اپنی آنکھیں کھولی تھیں۔
پھر ہنوز اتر کر کندھوں پر آئے حجاب کی پرواہ کیے بنا پلکیں جھپکا جھپکا کر اطراف میں دیکھا۔
مگر یہ کیا۔۔۔۔؟؟
یہ وہ جگہ تو ہرگز نہیں تھی جہاں حقیقتاً اسے اس وقت ہونا چاہیے تھا۔
ایسے میں نازک کلائی کو جکڑی ہتھکڑی دیکھ اسکی بھوری نگاہیں مزید پھیلی تھیں جس کا دوسرا۔۔۔سرا کرسی کے مضبوط ہتھے کو جکڑے ہوئے تھا۔
شدت سے تپتے سورج کی روشنیاں بند کھڑکیوں کے شیشوں سے اندر کو جھانکتی اس گودام سمیت حاویہ کی وحشت بھی مزید بڑھاگئیں۔
معاً اسنے اپنی آنکھیں میچ کر پوری طرح سے بیدار ہوتے ذہن پر زور ڈالا۔
”بھائی یہ۔۔۔۔
یہ کہاں لے کر جارہے ہیں آپ مجھے۔۔۔۔؟؟؟
یہ راستہ تو میرے گھر تک کو نہیں جاتا۔۔۔
فوراً روکو رکشہ۔۔۔
میں نے کہا روکو۔۔۔۔
اتارو مجھے یہی پر۔۔۔۔۔۔۔“
گزشتہ شب۔۔۔گھر جانے کو رکشے میں بیٹھی وہ اپنی سوچوں میں اس قدر غرق تھی کہ یکدم بدلتے راستوں کی جانب غور ہی نہیں کر پائی تھی۔۔۔
مگر جب نا آشنا سڑکوں کو دیکھ شدت سے احساس جاگا تو تب تک وقت کی لگامیں ہاتھ سے نکل چکی تھیں۔۔۔۔جبھی گھبرا کر پوچھتے اس نے بےاختیار شور مچانا چاہا۔
معاً ناک تک ہنوز رومال چڑھائے انجان ڈرائیور نے سنسان سڑک پر دوڑتا رکشہ روکا۔
پھر اتر کر سرعت سے اسکی جانب آیا۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنی طرف کا دروازہ کھول کر رکشے سے اترتی ہوئی۔۔۔مزید کوئی مزاحمت کرپاتی۔۔۔
یکدم ناک پر پڑتے رومال نے اسے بدحواس کیا تھا۔
”اممم۔۔۔ممم۔۔۔۔۔۔“
اس زور زبردستی پر اسکا حجاب تو ڈھیلا ہوا ہی تھا مگر وہ مقابل کا منہ نوچنے کی کمزور کوششوں میں اسکا نقاب چاہ کر بھی نہیں اتار پائی تھی۔
نتھنوں میں گھستی ناقابل برداشت کلوروفارم کی بُو اگلے چند لمحوں میں اسے بیہوش کر چکی تھی۔۔۔
اور پھر۔۔۔۔۔۔
”نہیں ں ں ں۔۔۔۔۔“
معاً حاویہ گھٹی چیخ کے ساتھ۔۔۔گھبرا کر تیزی سے نم ہوتی آنکھیں کھول گئی۔
تو کیا وہ اغواء ہو چکی تھی۔۔۔۔؟؟؟
ہاں۔۔۔ہاں وہ ہوچکی تھی۔۔۔۔
شدت سے دکھتی کنپٹیاں اسے حالات کی بد ترین سنگینی کا احساس دلاتی ہلکان کرنے کے درپے تھیں۔۔۔۔
پر اغواکار تھا کون۔۔۔۔؟؟
اور اسکی ذات کو لے کر ایسا گھٹیا پن کیونکر دکھایا گیا تھا۔۔۔؟؟
کس مقصد کے تحت۔۔۔؟؟
کیا شام۔۔۔۔؟؟
یاں پھر عائل حسن۔۔۔۔؟؟
جہاں شدت سے ابھرتے سوالات نے اسکا سنساتا دماغ مزید بھٹکایا تھا۔۔۔وہیں دوسرے نام پر اسکا بےچینی تلے پھڑپھڑاتا دل شدت سے انکاری ہوا۔
پر صد افسوس کہ۔۔۔۔ان میں حقیقی نام تو کہیں بھی نہیں تھا۔
”ی۔۔یہ میں کہاں ہوں۔۔۔؟؟
کک۔۔۔کون۔۔۔۔؟؟
کون لایا ہے مجھے یہاں پر۔۔۔۔؟؟“
چیخ کر پوچھتے ہوئے آنسو بے اختیار حاویہ کے سانولے گالوں پر لڑھک آئے۔۔۔
پر اسکا یہ بےسود استفسار اس ویرانے میں گونج کر اسی کی جانب واپس لوٹ آیا تھا۔
بیک وقت کئی سوچیں۔۔کئی فکریں۔۔اور بےتحاشہ خوف اسکے وجود میں اندر تک سرائیت کرگیا۔
”پلیز کھولو مجھے۔۔۔۔
نکالو یہاں سے۔۔۔۔
کوئی ہے۔۔۔۔؟؟کوئی تو سنو۔۔۔؟؟؟
خدا کا واسطہ ہے کھولو مجھے گھر جانا ہے۔۔۔۔۔“
بھرائی آواز میں شدت سے ملتجی ہوتی۔۔۔اب کہ وہ بے چینی تلے چئیر سےاٹھ کھڑی ہوئی۔
اس سے پہلے کہ وہ چئیر کو اپنے سنگ گھسیٹ کر گودام کے داخلی دروازے تک پہنچنے کی سعی کرتی۔۔۔
عین اسی وقت کھلتے دروازے نے اس کا ہولے ہولے لرزتا وجود وہیں ساکت کردیا۔
جلدی سے اپنا حجاب سر پر لیتی حاویہ۔۔۔ کے نازک دل کی دھڑکنیں خوف تلے تیز تر ہوئیں تھیں۔
آنے والا اپنے پیچھے دروازہ بند کرتا۔۔۔قدم قدم مزید آگے کو آیا تو حاویہ نے متوحش سی ہوکر دھندلائی نگاہیں جھپکاتے ہوئے آنے والے کی جانب دیکھا۔
اگلے ہی پل بہتے آنسوؤں میں مقابل کا چہرہ صاف ہوا تھا۔
”ب۔۔بختی بھائی۔۔۔۔؟؟“
حاویہ کے دہکتے لب بے یقینی تلے پھڑپھڑائے۔
بھیگی نگاہوں میں مزید خوف اتر آیا تھا۔
”کیسے مزاج ہیں میری باربی ڈول کے۔۔۔؟؟؟“
ہاتھ میں شاپر تھامے وہ اسکی جانب آتا قدرے خوش اخلاقی سے گویا ہوا۔
آنکھوں میں کمینی سی چمک نمایاں تھی۔
بختی کی طمانیت دیکھ اس کی سانسیں سینے میں اٹکنے لگیں۔۔۔
”اماں نے دال چاول بنائے تھے۔۔۔۔
کھانے بیٹھا تو یکدم تمھارا خیال آگیا۔۔۔
سوچا مل کے کھانے سے محبت بڑھتی ہے جسکو ہمارے بیچ بڑھانے کی ضرورت بھی کافی ذیادہ ہے۔۔۔۔
اس لیے بنا کچھ کھائے پیے سیدھا تمھارے پاس چلا آیا۔۔۔۔“
اسکے مقابل رک کر بےتکی وضاحت دیتا وہ حاویہ کی قابلِ دید حالت سے برابر حظ اٹھا رہا تھا۔۔۔
جبکہ وہ آنکھیں پھیلائے اسکی جانب دیکھتی ہنوز ساکت تھی۔
”ارے ایسے کیا گھور کے دیکھ رہی ہو مجھے باربی ڈول۔۔۔۔؟؟ہیں۔۔۔۔؟؟؟
ان دال چاولوں کی جگہ کہیں مجھے ہی تو ثابت نگل جانے کا ارادہ نہیں ہے تمھارا۔۔۔؟؟؟“
اسکی طول پکڑتی خاموشی پر مزید غیرسنجیدہ ہوتا وہ حاویہ کا ضبط ہی تو۔۔۔ توڑ گیا تھا۔
”کچھ خدا کا خوف کرو۔۔۔۔
کچھ تو خدا کا خوف کرو۔۔۔بہن مری ہے میری چند روز پہلے۔۔۔
ابھی تک اسکا کفن بھی میلا نہیں ہوا اور ایسے میں۔۔۔۔ تمھیں اپنی ذاتی دشمنیاں نکالتے ہوئے رتی بھر بھی شرم نہیں آرہی۔۔۔۔؟؟
آخرکس قسم کے انسان ہو تم۔۔۔؟؟؟“
اپنا دوسرا ہاتھ اسکے چہرے کے مقابل لاکر چٹختی وہ اسے شدت سے شرم دلانے کے درپے ہوئی تھی۔
وہ جو اپنے خاندان سمیت حرمین زہرا کی میت پر آنے سے گریزاں رہا تھا۔۔اب کیسے دھڑلے سے اپنا گھٹیا پن دکھانے پر اتر آیا تھا۔۔۔؟؟؟
اسکے نفرت چھلکاتے لہجے پر بختی کے نقوش ایکدم سپاٹ ہوئے۔
”شرم بیچ کھائی ہے میں نے اپنی۔۔۔۔
اسی لیے تم سے ذاتی دشمنیاں نکالنے پر اتر آیا ہوں۔۔۔
اور میری ان دشمنیوں میں پوشیدہ محبت تمھیں چاہ کر بھی نظر نہیں آنے والی۔۔۔۔اس بات کا بھی مجھے بخوبی اندازہ ہے۔۔۔۔۔۔“
بے اختیارقریب ہوتے ہوئے دانت پیس کر بولتا وہ اسے چئیر پر واپس ڈھے جانے پر مجبور کرگیا۔
”اگر تم اسے محبت کہتے ہو تو۔۔۔ایک بار چھوڑکر ہزار بار لعنت بھیجتی ہوں میں تمھاری ایسی محبت پر۔۔۔
جو سوائے اذیت اور رسوائی کے اور کچھ بھی دینا نہیں جانتی۔۔۔۔۔“
سسک کر بھیگی نگاہیں اسکی جانب اٹھاتی وہ اسکے سینے میں اپنے تند لفظوں کے تیر پیوست کرنے سے باز نہیں آئی تھی۔
جواب میں۔۔۔۔ہاتھ میں پکڑا شاپر پرے پھینکتا وہ مشتعل سا اس کی جانب جھکا تو حاویہ پیچھے ہوتی اپنا لب دانتوں تلے دباگئی۔
نم انگارہ نگاہیں ہنوز اسکے تنے نقوش پر دلیری سے جمی تھیں۔
”ہر لحاظ سے میرے چنگل میں ہوکر بھی تم اتنی دیدہ دلیری سے مجھ پر لعنتیں بھیج رہی ہو۔۔۔۔۔۔
ڈر نہیں لگتا تمھیں اپنے انجام سے۔۔۔ہہمم۔۔۔۔۔؟؟؟
تم۔۔۔۔
میں۔۔۔۔
یہ تنہائی۔۔۔۔
اور ان تینوں کے بیچ پنپتے۔۔۔کبھی بھی اور کچھ بھی ہوجانے والے خدشات۔۔۔۔
اففف۔۔۔۔۔“
صاف لفظوں میں اسے دھمکاتا وہ اسکے لرزتے وجود میں اپنے خوف کی سنساہٹ دوڑا گیا۔
”ک۔۔کیا۔۔۔۔؟؟
کیا چاہتے کیا ہو تم مجھ سے۔۔۔۔؟؟“
چیخ کر پوچھتی وہ بڑی مشکلوں سے خود کو پھوٹ پھوٹ کر رونے سے باز رکھے ہوئے تھی۔
جواباً سوچنے کی بھونڈی اداکاری کرتا وہ اسے زہر ہی تو لگا تھا۔
”میں۔۔۔۔۔؟؟؟
تمھاری مزید دو سے چار دن کی گمشدگی۔۔۔۔
اور پھر اس کے نتیجے میں ہونے والی وقتی بدنامی کے بعد تمھارا زندگی بھر کا حسین ساتھ۔۔۔
بس یہی۔۔۔۔۔“
بڑے سکون سے اسے اپنے خطرناک ارادے باور کرواتا وہ اسکے مزید ذرا سا قریب ہوا۔۔۔
تو وہ بے اختیار سسک کر خود کی پشت مکمل پیچھےکوٹکا گئی۔
آنسو تواتر سے حاویہ کے گالوں پر بہتے مقابل کو سکون سے دوچار کر گئے تھے۔
”میں بدنامی سہہ لوں گی۔۔۔۔
پر تم جیسے گھٹیا ترین انسان کا زندگی بھر کے لیے ساتھ ہرگز برداشت نہیں کروں گی۔۔۔۔
سنا تم نے۔۔۔۔۔“
شدت سے انکاری ہوتی وہ حقیقتاً بختی کے اشتعال کو ہوا دے گئی تھی۔
اگلے ہی پل حجاب سمیت اسکے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑتا وہ اسے اپنے ساتھ کھڑا کرگیا۔۔۔
ہتھکڑی کا ہنوز جکڑاؤ اسکی نازک کلائی کو سرخ کرگیا تھا۔
”کیا بکواس کری تم نے۔۔۔۔؟؟
ذرا پھر سے اپنے لفظوں کو دُہرانا۔۔۔۔
پہلی بار میں سننے کا کچھ خاص مزہ نہیں آیا مجھے۔۔۔۔“
بالوں کو جھٹکا دے کر اپنی گرفت سخت کرتا وہ کرخت لہجے میں بولا۔۔۔تو حاویہ نے سسک کر دوسرے ہاتھ اسے خود کو اسکی گرفت سے چھڑوانے کی ناکام کوشش کی۔
”اگر تم میں ذرا سی بھی انسانیت باقی ہے تو خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔
ا۔۔ایک رات بیت چکی ہے۔۔۔۔
میری ماں گھر میں بیمار پڑی ہے۔۔۔
و۔۔وہ۔۔۔میری غیر موجودگی سے اب تک یقیناً نڈھال ہو چکی ہوں گی۔۔۔
پلیز مجھے جانے دو۔۔۔۔۔“
بھرائی آواز میں ملتجی ہوتی وہ اسے خباثت سےمسکرانے پر مجبور کرگئی تھی۔
”چہ چہ چہ۔۔۔۔
یوں سسک سسک کر بھیک مانگتی ہوئی تم مجھے اور بھی خوبصورت لگتی ہو باربی ڈول۔۔۔۔
اور یقین مانو تمھاری یہ خوبصورتی اب مجھے زہر لگنے لگی ہے۔۔۔ زہر۔۔۔۔
جسے گھونٹ گھونٹ پینے کے لیے میں آخری دم تک تیار ہوں۔۔۔۔
بس تم بھی تیار رہنا۔۔۔۔۔“
کہتے ہوئے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑتا وہ اگلے ہی پل وہاں سے جانے کو پلٹا۔
”مت کرو یہ۔۔۔۔
پچھتاؤ گے۔۔۔۔
حد سے ذیادہ پچھتاؤ گے تم۔۔۔۔۔“
بختی کو وہاں سے جاتا دیکھ حاویہ جلدی سے بولی۔۔۔تو اسکی سخت تنبیہہ پر اسکے تیوریاں چڑھی۔
”اچھااا۔۔۔۔؟؟
اور مجھے پچھتانے پر مجبور کون کرے گا۔۔۔؟؟
وہ دو ٹکے کا پولیس آفیسر۔۔۔۔؟؟؟
تمھارا وردی والا عاشق۔۔۔۔؟؟؟ہیں۔۔۔؟؟؟“
پلٹ کر پھر سے اسکے قریب آکر پوچھتے ہوئے اسکی آنکھوں میں ضبط کی سرخی ہلکورے لے رہی تھی۔
اسکے تیوروں پر جہاں حاویہ نا چاہتے ہوئے بھی گھبرائی تھی۔۔۔وہیں دھڑکنیں عائل کے ذکر پر منتشر سی ہوئیں۔۔۔۔
جب جواب نہ ملنے پر وہ اسے کندھوں سے دبوچ گیا۔
”میری ایک بات اپنے اس چھوٹے سے بھیجے میں اچھے سے فٹ کرلینا تم باربی ڈول۔۔۔۔
اگر اب جو مجھ سے نکاح نہ کرنے کی ذرا سی بھی ضد لگائی ناں تم نے۔۔۔تو یاد رکھنا۔۔۔۔
خدا قسم تمھاری اس حماقت پر تمھیں وہ سزا دوں گا کہ۔۔۔جب جب اس بابت سوچو گی تب تب تمھارے رونگھٹے کھڑے ہوتے چلے جائیں گے۔۔۔۔
سمجھی۔۔۔۔۔۔“
کرخت لہجے میں اپنی بات کہتا وہ جھٹکے اسے اسکا نازک وجود چئیر پر دھکیلتا مزید وہاں رکا نہیں تھا۔
پلوں میں دھندلائی نگاہوں سے اوجھل ہوتی پشت دیکھ کر حاویہ۔۔۔اس ستم پر نڈھال سی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
اس شخص نے سرعام بولا تھا۔۔۔
بولا تھا کہ وہ موقع پاتے ہی ایسی کاری ضرب لگائے گا۔۔۔۔جس کے نتیجے میں عزت کی دھچیاں بکھرتی چلی جائیں گی۔۔۔
اور اب وہ دھیرے دھیرے بکھیر بھی رہا تھا۔۔۔۔
جہاں زمین پر پڑا کھانا اپنی بے قدری پر نالاں تھا۔۔۔۔وہیں وہ نازک وجود بھی ہچکیوں کی زد میں آتا۔۔۔ اس ستم ظریفی پر شدت سے ماتم کناں ہوا تھا۔
اس دوران بےچینیوں تلے پھڑپھڑاتے دل نے اپنی تمام تر خفگی کے باوجود بھی بڑی آہستگی سے ”عائل حسن“ کا نام پکارا تھا۔۔۔۔