No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
وہ کچھ مطمئن سی کال کاٹتی کچن کی طرف آئی تھیں جہاں پہلے سے ہی موجود راشدہ پکتے ہوئے قورمے میں چمچا ہلاتی خوشبو کو مزید پھیلائے دے رہی تھی۔
”حسن صاحب کی چائے تیار کردی تم نے۔۔۔؟؟؟“ سیلف کے قریب کھڑی ہوتی عائمہ بیگم نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
”ہوگئی بیگم صاحبہ جی۔۔۔بس کپ میں انڈیلنا باقی ہے۔۔۔“ راشدہ جلدی سے پلو سے ہاتھ صاف کرتی ہوئی فوراً اسٹینڈ سے کپ اتارنے کو پلٹی۔ابھی کچھ لمحے پہلے ہی وہ تیز پتی والی چائے کے نیچے سے ہلکی آنچ بندکرکے ہٹی تھی۔
عائمہ بیگم نے ایک سراہتی ہوئی نگاہ چولہے پر چڑھائے سالن پر ڈالی۔اطراف میں پھیلی۔۔پکوان کی خوشبو راشدہ جیسی کم ذات عورت کے ہاتھ کا ہنر بخوبی واضح کررہی تھی۔
کٹے ہوئے دھنیے کے ساتھ ہی باداموں کی پیالی الگ سے پڑی تھی۔
”سنو۔۔۔اسکے ساتھ میں کباب بھی ضرور تل لینا۔۔۔آج رات ڈنر پر ہمارے ساتھ شام بھی ہوگا اسی لیے میں چاہتی کہ ہوں کہ ہر شے اسکی پسندکی بنے۔۔۔“ عائمہ بیگم نے بروقت سوچ آنے پر ایک نئی فرمائش کر ڈالی تو مطلوبہ سامان شیلف پر دھرتی وہ زبردستی مسکرائی۔
اگر جو آج صبح عائمہ بیگم نے اسے دو چار کے حساب سے اپنی جھوٹی اترن دینے کا وعدہ نہ کیا ہوتا تو وہ یقیناً بیماری کا بہانہ بناکر بروقت وہاں سے کھسک لیتی۔۔
اور پھر ڈنر کی لسٹ بھی کم لمبی نہیں تھی۔ایسے میں ایک اور شے بنانے کا اضافہ۔۔۔جواب میں وہ بڑی مشکلوں سے مسکرائی۔
”کیوں نہیں بیگم صاحبہ جی۔۔۔کھیربنانے کے فوراً بعد ہی تل لوں گی کباب بھی۔۔۔اور یہ تو بڑی اچھی بات ہے جی۔۔کہ چھوٹے صاحب بھی آج رات گھر پر ہی ٹھہریں گے ورنہ تو بڑے صاحب کے غصے سے خائف ہوکر وہ اپنی ذیادہ تر راتیں فارم ہاؤس پر ہی گزار کر آتے ہیں۔۔۔۔“ بڑے آرام سے کپ میں چائے انڈیلتی وہ مالی سے سنی سنائی باتیں عائمہ بیگم کے گوشِ گزار کر رہی تھی۔۔۔جبکہ اس کا عامیانہ لہجہ مقابل کے دبے زخم ادھیڑ گیا۔
”یہ حسن صاحب کی تلخیاں بھی ناں بس۔۔۔کبھی کبھی تو حد سے ذیادہ ہی مجھ سمیت میرے بیٹے کی برداشت آزمالیتے ہیں۔۔۔اور ایک وہ ہے روٹھا نواب۔۔مجال ہے جو ایک بار بھی اسے اپنی تڑپتی ہوئی ماں کا خیال آجائے۔۔۔کتنی بار کہا ہے کہ اپنے باپ کی باتوں کو دل پر مت لیا کرے۔۔پر وہ ہے کہ سمجھنے کی بجائے مزید ہتھے سے اکھڑ جاتا ہے۔۔۔۔“ بےاختیار ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچتی وہ سلگتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولیں تو انکی اس قدر لب کشائی پر راشدہ نے چونک کر سر اٹھاتے خوشگوار حیرت سے انکی جانب دیکھا۔۔۔جن کی پرسوچ نگاہوں کا مرکز ہنوز گرم چائے سے بھرا کپ تھا۔
”اس حساب سے میرا بندہ تو بہت بیبا ہے جی۔۔۔مجال ہے جو کبھی میرے سامنے ذرا سی بھی اف کرجائے وہ۔۔۔تلخ کلامی تو بہت دور کی بات ہے بیگم صاحبہ۔۔تلوے چاٹتا ہے وہ میرے تلوے۔۔۔۔ہاں البتہ بچوں سے کبھی کبھار لڑ جھگڑ پڑتا ہے۔۔۔اب مرد ہے کہیں نہ کہیں تو کثر نکلے گی ہی ناں اسکی بھی۔۔۔“ راشدہ کے جتاتے لہجے میں اپنے شوہر کی خوبیوں سے کہیں ذیادہ طنز کے نشتر گھلے ہوئے تھے۔
اور پھر جواب میں عائمہ بیگم نے جس انداز میں اسے گھورا تھا اس سے صاف پتا چلتا تھا کہ وہ اسکے طنزوں سے ٹھیک ٹھاک گھائل ہوئی ہیں۔
”ایسے بندے کو شوہر کم زن مرید ذیادہ کہتے ہیں بی بی۔۔۔اور پھر جب تم گھر بیٹھے شوہر کو خود اپنے ہاتھوں سے کما کما کر کھلاؤ گی تو وہ تمھارے آگے اف تک تو کرنے سے رہا۔۔۔“ ان کے اس قدر سخت لہجے اور حساب بےباک کرنے پر راشدہ نے گڑبڑا کر جلدی سے نفی میں گردن ہلائی۔
”تمھاری حقیقتیں مجھ سے چھپی نہیں ہے راشدہ۔۔سو بہتر یہی ہے کہ زبان چلانے کی بجائے ہاتھ پیر چلانے پر ذیادہ دھیان دو۔۔۔آئی بڑی بے کار شوہر کے گن گانے والی۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔“ اپنے آگے پڑی ٹرے کو جھپٹنے کے سے انداز میں پکڑتی وہ اسے جانے سے پہلے کڑی تنبیہہ کرنا نہیں بھولی تھیں جبکہ وہ ڈھیٹ بنتی بےاختیار پیچھے سے ہانک لگا گئی۔
”ارے بیگم صاحبہ۔۔۔آپ تو ناراض ہی ہوگئیں میرے سے۔۔۔خدا قسم آپکو غصہ دلانے کا میرا ہرگز کوئی مقصد نہیں تھا۔۔۔اور وہ جو آپ نے اپنے پرانے کپڑے دینے کا بولا تھا مجھے۔۔۔اسکا تو بتاتی جائیں۔۔۔۔؟؟؟“ پیچھے سے راشدہ بولتی چلی گئی لیکن عائمہ بیگم اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی تنفر سے ہنکارہ بھرتی وہاں سے سیدھا اسٹڈی روم میں چلی آئی تھیں۔
سامنے ہی حسن صاحب شیلف کے قریب کھڑے کسی مخصوص فائل کا مطالعہ کرنے میں مصروف تھے۔۔۔عائمہ بیگم کو چائے اندر لاتے دیکھ وہ اپنی توجہ واپس فائل کے کھلے صفحے پر مرکوزکرگئے۔
”یہ آپکی چائے۔۔۔۔“ ان کی بےنیازی پر صبر کے گھونٹ بھرتی عائمہ بیگم نے دھیمے لہجے میں انھیں مخاطب کیا۔
”ہوں۔۔۔رکھ دو وہیں پر۔۔۔“ چشمے کے پار دیکھائی دیتی تحریر پر نگاہیں جمائے انکی لاپرواہی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔
عائمہ بیگم ٹرے خاموشی سے قریب پڑی میز پر رکھ کے پلٹی۔پھر گہرا سانس بھرتی وہیں کھڑے کھڑے اپنے لفظوں کو ترتیب دینے لگیں۔
”وہ۔۔شام کی کال آئی تھی مجھے کچھ دیر پہلے۔۔۔کہہ رہا تھا کہ آج رات ہمارے ساتھ ہی ڈنر کرے گا۔۔۔۔“ گلا کھنگارتی وہ نرمی سے بولیں تو حسن صاحب کی سماعتیں انکے لفظوں کی جانب کھینچتی چلی گئیں۔البتہ نظریں ہنوز صفحے پر بکھرے انگریزی لفظوں کو باریک بینی سے ٹٹول رہی تھیں۔
”میں چاہ رہی تھی کہ اس دفعہ آپ اس کے ساتھ تلخ کلامی اور حوصلہ شکن باتیں کرنے سے پرہیز برتیں۔۔۔پہلے ہی وہ چوبیس سو گھنٹے بعد گھر واپس لوٹ رہا ہے۔۔ایسے میں اگر آپ۔۔۔“ دل میں دبے خدشوں کو التجا کی صورت پیش کرتی وہ حسن صاحب کو اپنی جانب پلٹ کے بیچ میں ٹوکنے پر مجبور کر گئیں۔
”میری نصیحتوں کو تلخ کلامی کا نام دے کر غلط بات مت کرو عائمہ بیگم۔۔۔درحقیقیت تمھارا بیٹا خود ایک آوارہ گرد لڑکا ہے جبھی تو گھر کی چاردیواری میں اسکا دم گھٹنے لگتا ہے۔۔۔۔“ فائل کو نخوت سے بند کرتے وہ انکی جانب آئے تو لفظ ”آوارہ گرد“ پر عائمہ بیگم نے کچھ حیرت سے انکی جانب دیکھا۔
اگر بیٹا باپ سے متنفر تھا تو باپ بھی اس معاملے میں کم پیچھے نہیں تھا۔۔۔
”دن یونیورسٹی اور رات فارم ہاؤس میں گزارنا کوئی آوارہ گردی تو نہیں ہے حسن صاحب۔۔۔اور وہ فارم ہاؤس۔۔جہاں وہ جاتا ہے وہ بھی ہماری اپنی ہی ملکیت ہے۔۔۔آپ ایسے آوارہ گرد تو مت بولیں اسے۔۔۔بیٹا ہے وہ آپکا۔۔۔۔“ وہ شام کے حق میں تڑپ کر احتجاج کرنے سے خود کو روک نہیں پائی تھیں۔
جواباً حسن صاحب بےتاثر چہرے کے ساتھ چشمہ اتار کر فائل سمیت اسے ٹیبل پر پٹخنے کے انداز میں رکھتے۔۔۔اگلے ہی پل صوفے پر بیٹھ گئے۔
چائے کا کپ تھام کر لبوں سے لگاتے سمے بھی انکے حلق سے کوئی تسلی بخش الفاظ نہیں نکلے تھے۔
جواب میں انکی طول پکڑتی خاموشی پر عائمہ بیگم کی نگاہوں میں ملامت سی اترآئی۔
کچھ پل سرکتے ہوئے مزید چبھتی خاموشی کی نذر ہوئے تو ان سے ہنوز چپ چاپ قریب کھڑا رہنا محال ہوگیا۔
”آج ڈیوٹی پر جانے سے پہلے عائل ایک بار پھرسے مجھ سے منت سماجت کر کے گیا ہے۔۔۔“ سینے پر ہاتھ باندھتے انکا انداز حسن صاحب کو چونکا دینے والا تھا۔۔
”کیا کہہ رہا تھا وہ۔۔۔۔؟؟؟“ کپ ٹرے میں واپس رکھتے ہوئے انکا فوری طور پوچھا جانے والا سوال حسب توقع تھا۔
عائمہ بیگم انکی کشادہ پیشانی پر پڑتی۔۔پھر مٹتی لکیریں صاف دیکھ سکتی تھیں۔
”کہہ رہا تھا کہ بچوں کی پسند کے آگے ماؤں کی خواہشیں اور ترجیحات بدل جاتی ہیں۔۔۔اور پھرڈیڈ خود بھی راضی ہیں۔۔۔اسی لیے آپ بھی مہربانی کرکے راضی ہوجائیں اور اس لڑکی کے گھر جلد از جلد میرا رشتہ لے کر جائیں۔۔۔حسن صاحب کیا آپ واقعی میں اس حوالے سے راضی ہیں کہ وہ تھرڈ کلاس لڑکی ہمارے گھر کی بہو بنے۔۔۔۔؟؟؟“ لفظ لفظ تفصیل بتاتی عائمہ بیگم نے آخر میں ذرا سا ان کی جانب جھک کر۔۔۔انکے ارادے ٹٹولنا چاہے تو حسن صاحب نے قدرے سنجیدگی سے انکی جانب دیکھا پھر دھیرے سے نفی میں سر ہلاتے سامنے دیکھنے لگے۔
”نہیں۔۔۔اگر میں عائل کی پسند سے ذرا سا بھی متفق ہوتا تو اسکی بجائے یوں کھلے عام تمھارا ساتھ نہیں دیتا۔۔۔عائل ابھی ناسمجھ ہے جو اتنی آسانی سے عشق محبت کے چکروں میں پڑ گیا ہے۔۔۔وہ نہیں جانتا کہ یہ محبت بظاہر دکھنے میں تو بہت خوبصورت احساس لگتا ہے لیکن اندر سے اسکی حقیقت اس قدر بدصورت ہے کہ جان کو آجائے۔۔۔“ بولتے بولتے حسن صاحب کے لہجے میں ایک عجیب سی وحشت اتر آئی تھی۔۔۔جبکہ ان باتوں کی گہرائی سے کہیں ذیادہ ان کا ناقابل فہم لہجہ ہمیشہ کی طرح عائمہ بیگم کو خود سے بیزار کرگیا۔ایک بار پھر انکے لبوں پر اترتی خاموشی دیکھ کر اگلے ہی پل وہ تاسف سے سرجھٹکتی وہاں سے نکلتی چلی گئیں۔۔۔
کراچی شہر کے گڈشارٹ سنوکر کلب میں دن کی بانسبت رات میں ذیادہ کھلبلی برپا تھی۔مختلف فلورز پر جہاں مڈل کلاس آوارہ لڑکوں کی تعداد میں کمی نہیں تھی وہیں امیر گھرانے کے عیاش پسند جوان بھی اپنا شغل پورا کرنے کی خاطر خود کے لیے الگ سے پول ٹیبل مختص کیے ہوئے تھے۔
ایسے میں فواد سیکنڈ فلور کے مخصوص ایریا میں اپنے مخالف پارٹنر سے گیم کھیلتا۔۔کافی الجھا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔
اس وقت بائیس میں سے صرف چھ بالز باقی بچی تھیں جنھیں وہ کارنر پاکٹ میں پاٹ کرنے کی ناکام کوششوں میں ہنوز مصروف تھا۔
خلاف توقع افروز بھی آج منظر عام پر سے غائب تھا۔اگر اپنے باپ کی جانب سے سونپے گئے کاروباری کام کے سلسلے میں اسے مجبوراً دوسرے شہر نہ جانا پڑتا تو وہ ہر صورت فواد کے ہمراہ اس آوارگی میں بھی پیش پیش ہوتا۔
”چل اب تیری باری۔۔۔“ فواد کی جانب دیکھ کر بازی مارتا مقابل لڑکا تمسخرانہ گویا ہوا تو کیو (سٹک) سے ٹھوڑی ہٹاتا وہ فوراً سیدھا ہوا۔
تبھی وہاں آتے شام نے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے بےاختیار اطراف میں نگاہیں پھیریں تو فواد بآسانی اسے پول ٹیبل پر جھک کر اپنی پوزیشن سنبھالتا دکھائی دے گیا۔
اگلے ہی پل وہ بنا تاخیر کیے اسکی جانب لپکا تھا۔
”پہلے میں اتنے جوشیلے موڈ میں نہیں تھا پر اب آگیا ہوں۔۔بس اب تُو دیکھ بیٹا کیسے میں تیری اس مکروہ مسکراہٹ کے پڑخچے اڑاتا ہوں۔۔۔“ چیلنجنگ انداز میں بولتے ہوئے اس بار فواد نے قدرے ناپ تول کر شارٹ مارا تھا لیکن اس سے پہلے کہ ریڈ بال اسکے چیلنج پر پورا اترنے کو سیدھا کارنر پاکٹ میں گھستی۔۔۔اچانک کسی نے بجلی کی سی تیزی سے آگے بڑھ کے بال کو بروقت اپنی مضبوط گرفت میں دبوچا تھا۔
”ابے اوئے سالے۔۔۔۔۔۔“ اپنی کامیابی کو ایکدم سے ناکامی کی صورت ڈھلتا دیکھ فواد تقریباً چیخ ہی پڑا۔
پر اگلے ہی پل شام کو مقابل پاکر اسکے تنے ہوئے اعصاب تھوڑے ڈھیلے پڑے۔۔۔ورنہ ممکن تھا کہ اسکی زبان بہت سی ناقابلِ برداشت گالیاں بک دیتی۔
شام بال کو ہوا میں اچھالتا ہوا اسی کی جانب دیکھ کر دلکشی سے مسکرارہا تھا۔
مخالف سمت کھڑے لڑکے کے تاثرات جہاں اسکی مداخلت پر سرد پڑے تھے وہیں فواد کو مزید پوائنٹس سے ہارتا دیکھ اسے ایک کمینی سے خوشی محسوس ہوئی۔
” کیا یار شام۔۔۔؟؟پہلے ہی خود کے ہائی پوائنٹس نہیں بنا پارہا ہوں اور اب تُو بھی بیچ میں آکر ساری کسریں پوری کررہا ہے۔۔۔چل ادھر پکڑا بال۔۔۔“ کچھ برہمی سے بولتا وہ اسکی جانب آیا۔
معاً شام نے پول ٹیبل پر بکھری بال میں سے ایک پر۔۔دوسری بال کھینچ کر مارتے ہوئے اختتام کو پہنچتی گیم کا پلوں میں ستیاناس کیا تو دونوں حق دق سے اسکی کاروائی دیکھتے رہ گئے۔
”بیٹا یہ ہار اس ہار کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے جسکی دلچسپ جھلک تُو ابھی میرے ہاتھوں دیکھنے والا ہے۔۔۔“ اسکی خفگی کی پرواہ کیے بنا وہ ہاتھ جھاڑتا ہنوز غیرسنجیدہ تھا جب فواد نے مٹھیاں پھینچتے خود پر ضبط کیا۔
”کیامطلب ہے تیرا۔۔۔؟؟کس ہار کی بات کررہا ہے تو کمینے۔۔۔۔؟؟؟“ مٹھی میں بھینچی کیو کو پرے پھینکتا۔۔۔وہ اسکے قریب رکتا ہوا شدت سے الجھا تو شام کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔
”اس گیم کو ادھورا مت سمجھنا افروز۔۔۔میں جیت گیا ہوں سو حساب کتاب بعد میں مل کر پورے کروں گا تم سے۔۔۔“ ان دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل دیکھ وہ لڑکا خود کی موجودگی کو بےکار سمجھتا ہوا بگڑے تاثرات لیے وہاں سے پلٹ گیا۔۔۔جبکہ وہ دونوں بڑی لاپرواہی سے اسکے وجود سمیت لفظوں کو سن کر بھی نظرانداز کرگئے۔
”کیا کہا تھا۔۔۔؟؟اصل مزہ تو تب ہے شام اگر تُو اس مولانی کو پھنسا کر دیکھائے۔۔۔۔پورا ریکارڈ ہے اس لڑکی کا۔۔۔آج تک کسی مائی کے لال سے نہیں پٹائی گئی وہ۔۔۔فلاپ۔۔۔لٹکا ہوا۔۔۔بورنگ سا کیس ہے۔۔۔ ختم کرو بس۔۔۔تجھ سے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔بلا بلا بلا ہہمم۔۔۔۔؟؟یہی۔۔یہی سب کہا تھا ناں تم لوگوں نے مجھ سے۔۔۔؟؟؟“ اپنی جینز کی پاکٹس میں ہاتھ پھنساتا وہ ماضی میں کہے گئے افروز سمیت مقابل کے لفظوں کو روانی سے دوہراتا چلاگیا تو فواد کا ماتھا ٹھنکا۔
مقابل کا لہجہ تو لہجہ۔۔۔بھوری آنکھوں کے رنگ بھی اس پل بدلے بدلے سے تھے۔
ان میں چھلکتی چمک کو فوری طورسمجھنا اسکے لیے مشکل ترین ہوا تھا۔
”ہاں تو۔۔۔۔؟؟تو نے کونسا تیر ماردیا ہے اب تک۔۔۔؟؟درست ہی تو بولا ہے کہ اسکا ریکارڈ ابھی تک کوئی بھی۔۔۔۔“ خود کو کھپانے کی بجائے سر جھٹکتا وہ کچھ لاپرواہی سے کہہ رہا تھا جب شام تندہی سے اسکی بات بیچ میں کاٹتا بول پڑا۔
”میں۔۔۔!میں توڑ کر آرہاہوں اسکا ریکارڈ۔۔۔انفیکٹ میں ہی وہ مائی کا لال ہوں جس نے گزشتہ رات پورے حق سے حرمین زہرا کے بنے بنائے ریکارڈ سمیت اسکی کھوکھلی شرافت کی دھچیاں بکھیر ی ہیں۔۔۔۔“ بھرپورسنجیدگی سے بولتا وہ فواد کو حیرت تلے ساکت ہی تو کرگیا تھا۔۔۔جبکہ
اسکے قابلِ دید تیور اپنی توقع پر پورے اترتے دیکھ شام کے اندر کہیں سکون سا اترا تھا۔
معاً فواد کے ذرا سے وا لب پل میں واپس ملتے مسکراہٹ کی صورت ڈھلے۔پھر مسکراہٹ سے ہنسی کا سفر پلوں میں طے کرتا ہوا وہ اس بار شام کو چونکنے پر مجبور کرگیا۔
”تجھے کیا لگتا ہے یار۔۔۔؟؟تو آرام سے آکر بول دے گا اور میں۔۔میں شرافت سے مان بھی جاؤں گا۔۔۔ہاں۔۔۔؟؟“ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اس پر مسلسل ہنسی کا دورہ ہنوز طاری تھا جب اسکے ردعمل پر شام کے تیوری چڑھنے لگی۔
”ناٹ برو۔۔۔اگر افروز یہاں پرہوتا تو جانتا ہے پہلی فرصت میں کیا مانگتا۔۔۔؟؟ثبوت۔۔۔بول ہے تیرے پاس۔۔۔؟؟“ اسکے چوڑے کندھے پر باقاعدہ ہاتھ جماتا وہ بمشکل اپنی ہنسی روک پایا تو اسکا قابل برداشت انداز شام کے نقوش پر ناگواری کی گہری چھاپ چھوڑگیا۔
شام کا موڈ غارت کرتا وہ یقیناً اس کی کچھ دیر پہلے کی جانے والی ناپسندیدہ حرکت پر اس سے اپنا حساب چکتا کررہا تھا۔
کچھ پل تو وہ فواد کو یونہی سنجیدگی سے دیکھتا رہا پھرتائیدی انداز میں سر ہلاتا اسکا ہاتھ پرے ہٹاگیا۔
”جانتا تھا تو کمینہ ہے۔۔۔پر افروز جتنا کمینہ نکلے گا یہ اب پتا چلا۔۔۔خیرثبوت دیکھنا ہے ناں تجھے خبطی انسان۔۔۔؟؟رک ذرا ایک سیکنڈ۔۔۔کھولتا ہوں تجھ پہ ساری اصلیت۔۔۔۔“ کہتے ہوئے شام نے جیب سے اپنا قیمتی موبائل فون کھینچ کر باہر نکلا تو اسے ہر لحاظ سے سنجیدہ پاکر فواد کی مسکراہٹ بےاختیار معدوم پڑنے لگی۔
تو کیا وہ مذاق سے پرے ہٹ کر حقیقتاً سچ بول رہا تھا۔۔۔؟؟
حرمین زہرا کی نسوانیت قدموں تلے روند کر۔۔۔۔۔کیا وہ۔۔۔؟؟
مقابل کا حدردجہ اعتماد اسکی سوچوں کے اقرار کے لیے کافی ہورہا تھا جب اچانک شام نے اسے مزید پرکھنے سمجھنے کا موقع دئیے بنا سرعت سے موبائل فون کی چمکتی اسکرین کو اسکی نظروں کے اسکے سامنے کیا۔
تصویر میں دیکھائی دیتے شام کو تو فواد کی بےتاب نگاہیں پل میں پہچان چکی تھیں مگر نازیبا حالت میں اسکی بانہوں میں پڑی اس لڑکی کو آنکھیں سکیڑ کر بغور دیکھتے ہوئے اسے جان پہچان میں کئی لمحے لگے تھے۔
”حرمین زہرا۔۔۔۔“ اگلے ہی پل جہاں فواد کے لب بےیقینی تلے ہلے تھے وہیں سرکو ہولے سے جنبش دیتے شام کے شفاف لبوں پر دھیرے سے خباثت بھری مسکراہٹ اتری۔
”بالکل وہی ہے۔۔۔۔بڑا زعم تھا ناں اسے خود کی پردہ داری کا۔۔۔یہ۔۔۔یہ دیکھ۔۔۔چیک کر ذرا کس طرح سے سب پردے یوں سیکنڈوں میں میرے آگے گرتے چلے گئے۔۔۔۔“ تمسخرانہ گویا ہوتا وہ حق دق کھڑے فواد کو ایک کے بعد ایک تصویر دیکھاتا چلا گیا۔
یہ شیطانیت کی حد ہی تو تھی جو اس عیاش فطرت شخص کے لیے فقط دلچسپی کا ایک سادہ سا سامان تھی۔
تبھی فواد خود پر سے ضبط کھوتا ہوا موبائل جھپٹنے کے سے انداز میں اسکے ہاتھوں سے لے گیا۔
اسکی بڑھتی بےچینی دیکھ شام نے بےاختیار اپنی بھنویں اچکائیں۔
”یقین نہیں آرہا یار۔۔یہ۔۔۔یہ وہی چوبیس سو گھنٹے بظاہر حجاب میں رہنے والی شریف لڑکی ہے جو رات بھر تیرے ساتھ۔۔۔اففف۔۔۔میں نے تو سنا تھا کہ ایک عورت کے لیے بہترین زیور اسکا پردہ ہوتا ہے اور اس نے معمولی سے زیور کی خاطر اپنا پردہ ہی بیچ دیا۔۔۔ دیکھ تو فقط تین لاکھ میں اپنی عزت کا سودا کرکے کیسے چہرے پر سکون کی سی کیفیت سجا رکھی ہے اس لڑکی نے۔۔۔۔ “ دھیمے لہجے میں لب کشائی کرتا وہ حرمین کی ہر قابل اعتراض تصویر کو زوم کرکرکے دیکھتا جارہا تھا جو یقیناً سوتے میں کھینچی گئی تھیں۔
بہت سوں میں اسکا سانولا چہرہ صاف دکھائی دے رہا تھا اور کچھ میں وہ اکیلی ہی پوری اسکرین پر قابض تھی۔
آگے آنے والی ویڈیو پر بلا جھجھک کلک کرتا وہ اپنا لب دانتوں تلے دبا گیا تو اگلے ہی پل نگاہوں کے سامنے آتا۔۔۔آدھی ادھوری چادر میں لپٹا حرمین کا وجود ناچاہتے ہوئے بھی فواد کے اندر کھلبلی سی مچاگیا۔
خود کی شکست آمیز گیم تو وہ کب سے بھلا چکا تھا۔۔۔
جبکہ اس سب کے دوران شام ذرا اچھل کر پول ٹیبل کی شفاف سطح پر اطمینان سے بیٹھتا اسکے چہرے کے پل پل بدلتے رنگوں کو دیکھتا ہوا خاصا محفوظ ہورہا تھا۔
”خلوت میں فقط ایک عدد قدم بڑھایا تھا اسکی جانب اور بدلے میں۔۔چار قدم چل کے آئی وہ میری طرف۔۔۔ثابت کیا ہوا۔۔۔؟؟جتنی بھی با پردہ یاں باکردار سہی۔۔۔دو میٹھے لفظوں میں پھنسنے والی ہے تو دو ٹکے کی لڑکی ہی ناں۔۔۔“ حرمین کی نسوانیت کے بری طرح پڑخچے اڑاتا وہ اس پل اپنی ذات میں بےحدآگے نکل گیا تھا۔
”مان گیا تجھے برو۔۔۔لڑکیاں تیکھی ہوں یاں پھرپھیکی۔۔۔تجھ جیسے عیاش پسند بندے پر مرمٹتی ہیں۔۔۔۔“ چلتی سکرین سے بمشکل نگاہیں ہٹاتا وہ شام کی اس ناقابلِ برداشت کرتوت سے حددرجہ متاثر نظرآرہا تھا۔
جواباً اسکی بات پرسر جھٹکتا وہ کمینگی سے ہنسا۔
اپنا آپ منوا لینے پر جہاں اسکی بھوری آنکھوں میں سرشاری ہی سرشاری تھی وہیں افروز کی کمی اسکے سینے میں چبھنے سی لگی۔
اگلے ہی پل اسے کال ملانے کی خاطر اچک کر فواد سے اپنا موبائل فون واپس کھینچتا وہ اسکا موڈ خراب کرگیا۔۔اس بات سے قطعی انجان کہ مقابل ویڈیو سمیت تصاویر افروز کو بھیج کر سینڈنگ ڈیٹا۔۔سیکنڈوں میں ڈیلیٹ بھی کرچکا تھا۔۔۔۔اور یہ پھرتی آنے والے دنوں میں کس قدر سنگین ثابت ہوسکتی تھی اس سے حقیقتاً وہ دنوں ہی بےخبر تھے۔۔۔۔
خاموش رہ، تنہا بیٹھ، یاد کر اسکو
تُو نے عشق کیا ہے گناہ چھوٹا نہیں تیرا
گھٹنوں کے گردسختی سے بازو لپیٹے۔۔جانے وہ کتنی دیر سےکسی غیر مری نقطے پر دھندلائی نگاہیں جمائے بیٹھی تھی۔سیاہ نم پلکیں اسکے بےآواز رونے کی مسلسل چغلی کھا رہی تھیں پر ان پلوں میں وہ اپنی دکھتی آنکھوں سے بھی بےنیاز تھی۔
”آخر کب سے تم نے پڑھائی کو خود پر اتنا سوار کرلیا حرمین کہ پوری رات گھر سے باہر گزار آنے میں بھی تمھیں کوئی عیب نہیں لگا۔۔؟؟اتنی پرواہ تو مجھے میری تکلیف پر نہیں ہوئی تھی جتنی شدید فکرتمھاری غیرموجودگی نے مجھے دی ہے۔۔۔“ نفیسہ بیگم کا دھیما سا شکوہ کناں لہجہ اسے اپنے کانوں میں چیختا ہوا محسوس ہوا تو گزشتہ روز کی طرح اسکا سانس اس سمے بھی پل بھرکو خشک پڑا۔
”ر۔۔رات دیر تک پڑھائی کا معاملہ چلتا رہا تھا۔۔۔ایسے میں علیزہ نے زبردستی مجھے اپنے پاس ٹھہرانے ضد کی۔۔تو کچھ اس ضد میں میری مرضی بھی شامل ہوچکی تھی۔۔اسی وجہ سے۔۔۔۔“ ان کی چوٹ پر ہنوز تڑپتی ہوئی وہ کتنی آسانی سے حاویہ سمیت انھیں خود کی جانب قائل کرگئی تھی۔اس دوران لبوں سے لفظ لفظ پھسلتے جھوٹ پر اسکا نگاہیں چرانا ایک بےاختیاری سا عمل تھا۔
اور جواب میں اندھا دھند اعتبار کرنا ان ماں بیٹی کا ظرف۔۔۔جسکے لائق شاید وہ تھی ہی نہیں۔۔۔
حرمین نے بےاختیار حجاب سے آزاد بالوں میں اپنی انگلیاں پھنسائی تھیں۔ اپنے اندر کی وحشتوں کو دبانے کی ناکام کوششوں میں وہ پل پل ہلکان ہوئے جارہی تھی۔۔۔لیکن گہرے سکوت میں اسکے ارگرد چیختی سوچیں اسکا پیچھا چھوڑنے پر رضامند ہی کہاں تھیں۔۔۔تبھی اس نے بے چین ہو کر اپنی بھیگی پلکوں کو جھپکایا۔
”اگر یقین کرتی ہو تو پھر میری بےتاب دھڑکنوں کو قرار بخش دو حرمین زہرا۔۔۔اس سے ذیادہ میں تم سے کچھ نہیں مانگتا یار۔۔۔۔“ معاً شام کا بھاری لب و لہجہ ایک بار پھرسے حرمین کی سنسناتی سماعتوں میں اترتا اسکی دھڑکنیں سست کرگیاتو۔۔۔بےاختیار ایک نگاہ اپنے لُٹے ہوئے وجود کی جانب ڈالتی وہ سسکی روکنے کو نچلا لب دانتوں تلے دباگئی۔
اس شخص کی دھڑکنوں کو قرار پہنچانے کی خاطر وہ پوری رضامندی کے ساتھ اپنے سینے میں اذیتوں کا دریا بھرلائی تھی۔۔۔لیکن جانے کیوں اس پر اپنا تن من لٹا دینے کے بعد بھی وہ اپنی آزمائی ہوئی محبت میں چاہ کر بھی کوئی کمی نہیں کرپارہی تھی۔۔۔دل میں شام کی تا ابد وفا کا اطمینان بھی مچل رہا تھا۔۔۔۔جبکہ اسکے برعکس اندر کہیں دبا ضمیر اسے زنا جیسے گناہ عظیم کا احساس دلانے کی ناکام کوششیں کررہا تھا جسے محض محبت میں بہک جانے کا عام سا جواز بناتا دل و دماغ اس حقیقت سے مسلسل انکاری تھا۔۔۔
معاً سماعتوں سے ٹکراتی موذن کی بآواز بلند اذان پر حرمین کی محویت ٹوٹی تو اسنے چونک کر کھلی کھڑکی کی طرف نگاہیں پھیریں جہاں سحری کا وقت دھیرے دھیرے سرکتا جا رہا تھا۔۔۔
یہ غالباً فلاح کی جانب بلاتے موذن کی لبوں سے نکلتی فجر کی پہلی پہلی اذان تھی۔
تبھی پلنگ کے دوسری سائیڈ کسمساتی ہوئی حاویہ نے حرمین کی جانب کروٹ بدلنا چاہی تو۔۔۔اسکے اٹھ جانے کے احساس سے بے اختیار انگلیوں تلے آنکھوں کے ساتھ ساتھ بھیگے رخساروں کو رگڑ کر صاف کرتی وہ اپنی سائیڈ سے نیچے اترگئی۔
آنکھوں کے سوجے کناروں کا نظارہ کروانے سے بچنے کو جہاں حرمین وضو کی نیت سے واشروم میں بند ہوئی تھی وہیں حاویہ بھی دھیرے سے اپنی خمار آلود آنکھیں کھول گئی۔۔۔اختتام کو پہنچتی اذان پر اٹھ کر بیٹھتے ہوئے جانے کیوں اسے ایسا محسوس ہوا تھا جیسے وہ رات بھر نیند میں کسی کی سسکیاں سنتی رہی تھی۔۔۔اپنی غلط فہمی پر سر جھٹکتے ہوئے اسنے بےاختیار جمائی روکی پھر حرمین کی تلاش میں اطراف میں نگاہیں دوڑائے بغیر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔۔۔کیونکہ واشروم سے گرتے پانی کی آواز اسے اپنی بہن کی موجودگی کا ثبوت دے چکی تھی۔
وہ ہاٹ شاور لے کر واشروم سے باہر نکلا تھا اور اب بنا شرٹ کے ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑا خود کا نکھرا نکھرا سا عکس بغور دیکھتے ہوئے گیلے بالوں میں ہاتھ چلارہا تھا۔کسرتی جسم سے پانی کی بوندیں ہنوز پھسل رہی تھیں۔ صبح کے گیارہ بجنے کو آئے تھے مگر اپنے فلیٹ میں اسکی اب تک موجودگی اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ آج وہ اپنے سست موڈ کے باعث جانتے بوجھتے آفس سے لیٹ ہوا تھا۔
اگلے ہی پل کندھے پر دھرے ٹاول کو کھینچ کر اتارتے ہوئے اس نے خود کا کسرتی سینہ پونچھا۔
آبرو واپس آگئی تھی اس بات کا اسے دلی سکون ہوا تھا البتہ دماغ آنے والے دنوں میں اسے نئی سنگینیوں کا احساس دلانے کی منصوبہ بندیوں سے فی الوقت محروم تھا۔
دھیرے سے مسکراتا وہ مزید گہری سوچوں میں اتر جانا چاہتا تھا مگر ڈریسنگ پر پرفیومز کی شیشیوں کے پہلو دھرے موبائل فون نے یکدم بجتے ہوئے اسے اس بات کی قطعی اجازت نہیں دی تھی۔
اگلے ہی پل شاہ نے چونک کر ٹاول سائیڈ پر رکھتے ہوئے موبائل فون ہاتھ میں پکڑا۔پھر لب بھینچتا چند لمحے یونہی اسکرین کو گھورتا رہا۔
بجتے ہوئے موبائل فون کی چیخ و پکار میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔
گہرا سانس بھرتے ہوئے شاہ نے کال بند ہونے سے پہلے ہی ریسیو کرتے موبائل فون کو کان سے لگایا۔
”اسلام علیکم ڈیڈ۔۔۔۔۔“ ایک عرصے کے بعد ان سے محو گفتگو ہو تے ہوئے اسکا لہجہ بےتاثر تھا۔۔۔لیکن اسکے برعکس دل کی دھڑکنوں میں بے چینی سی مچ گئی تھی۔
”وعلیکم اسلام برخوردار۔۔۔کیسے حال ہیں تمھارے۔۔۔۔؟؟؟“ دوسری طرف سے حسن صاحب نے اپنی آواز کو ڈگمگانے سے بمشکل روکا۔شاہ کی آواز انکے اندر ایک اطمینان سا بھرنے لگی تھی۔
مقابل کے یوں حال احوال پوچھنے پر ایک تمسخرانہ مسکراہٹ نے تیزی سے اسکے لبوں کو چھوا۔
”ہونہہ۔۔میرا حال پوچھ رہے ڈیڈ۔۔؟؟یاں پھر اپنے بزنس کا۔۔۔۔؟؟؟چلیں میں آپ کو بتائے دیتا ہوں کہ آپکا بزنس میرے ہاتھوں میں کافی پھل پھول رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب وہ کراچی میں موجود اپنی پہلی برانچ جتنی ہی حیثیت اختیار کرلے گا۔۔۔۔“ ایک نظر آئینے میں خود کا ضبط سے سرخ پڑتا چہرہ دیکھتا جانے کیوں وہ خود کو گہرا طنز کرنے سے باز نہیں رکھ پایا تھا۔۔۔جبکہ اسکے تفصیلی جواب پر حسن صاحب کی مسکراہٹ سمٹ کر سنجیدگی میں ڈھلی۔
”ایک باپ کو اُسکی اولاد سے بڑھ کر کبھی بھی کسی بزنس کی چاہ نہیں ہوسکتی۔۔۔اور مجھے ان مادی چیزوں سے کہیں ذیادہ تمھاری پرواہ ہے۔۔۔۔“ اپنے بیٹے کو ہنوز سابقہ نظریات پر قائم دیکھ کر انھوں نے اپنی صفائی دینا ضروری سمجھا تھا۔
ورنہ بات بات پر صفائیاں پیش کرنا ان کی طبیعت میں بھلا کہاں شامل تھا۔۔۔
”پر افسوس کہ میں اُس باپ کا بیٹا ہرگز نہیں ہوں جو مادی چیزوں سے ہٹ کر حقیقتاً اپنی اولاد کی چاہ کرتے ہیں۔۔۔۔“ دو بدو جواب دیتا وہ خود کے ساتھ ساتھ انھیں بھی سخت اذیت سے دوچارگیا تو حسن صاحب کی پیشانی پر بےساختہ بل پڑتے چلے گئے۔
”لعنت ہے تمھاری ایسی بےتکی سوچ پر۔۔۔۔مجھے لگا تھا کہ وقت اور حالات تمھیں بدل دیں گے۔۔۔ مگر یہ وہم پالتے وقت میں یہ بھول بیٹھا تھا کہ فطرت کبھی نہیں بدل سکتی۔۔۔۔“ پل میں بپھڑتے وہ اپنا ازلی غصہ دبا نہیں پائے تھے جب اسپیکر سے ابھرتی تلخ آواز پر شاہ پل بھرکو تھما۔آنکھوں میں اتری سرخائی مزید گہری ہوئی تھی۔
”میں بدل چکا ہوں ڈیڈ۔۔۔آپکی سوچ سے بہت ذیادہ بدل چکا ہوں۔۔۔لیکن اگر اس وقت آپ اپنے اصولوں کے خلاف جاکر میرے لیے بدل جاتے۔۔تو آج میں یہاں تن تنہا اپنی بےمقصد زندگی نہ گزار رہا ہوتا۔۔۔اپنے خونی رشتوں سے کوسوں دور ہرگز نہ ہوتا۔۔۔پر آپ نے۔۔۔؟؟آ۔۔آپ کبھی نہیں بدل سکتے ڈیڈ۔۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔۔“ بےچینی سے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے۔۔۔اپنے لہجے کو بھیگنے سے روکنے کی ناکام کوشش کرتا وہ اگلے ہی پل کال کاٹ چکا تھا۔
دوسری طرف چیخ چیخ کر شکوے کرتے ان لفظوں نے حسن صاحب کے دل پر جیسے آریاں چلا دی تھیں۔
اپنے موبائل کی شفاف اسکرین کو وہ کتنے ہی پل خالی خالی نظروں سے دیکھتے رہ گئے تھے۔
شاہ موبائل فون کو ڈریسنگ ٹیبل پر تقریباً پٹختا ہوا۔۔۔ویسٹ پر ہاتھ رکھے گہرے گہرے سانس بھرنے لگا۔
اسکا دکھتا دل شدت سے اس وقت کمرے کی توڑ پھوڑ کرنے کو چاہا تھا پر وہ فرش پر خونی نگاہیں جمائے اپنی جگہ ساکت کھڑا رہا۔
معاً سمن مطمئن سی ادھ کھلا دروازہ پورا کھولتی اندر آئی تو کسی کے یوں بے دھڑک کمرے میں چلے آنے پر شاہ نے سر اٹھا کر کچھ حیرت سے آئینے میں بنتے سمن کے خوبصورت وجود کو دیکھا۔
وہ بھی حیرت تلے ذرا سا منہ کھولے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔شفاف برہنہ پشت پر ٹکتی نگاہوں کو فوری طور پرے ہٹانا جانے کیوں اسکے اختیار سے باہر ہوا تھا۔ اگلے ہی پل شاہ کی پیشانی پر ناگوار لکیروں کا جال بنتا چلا گیا۔
”سس۔۔سوری سر۔۔۔۔سوسوری۔۔۔۔“ اسے بنا شرٹ کے مشتعل سا اپنی جانب پلٹتا دیکھ وہ معذرت کرتی سرعت سے اپنی آنکھوں پر بازو چڑھا گئی۔
”تم۔۔۔۔؟؟تم یہاں کیا کررہی ہو۔۔۔۔؟؟؟“ قدرے پھرتی سے بیڈ کی جانب لپک کر اپنی شرٹ اٹھاتا وہ دبے دبے غصے میں چلایا تھا۔
”و۔۔وہ ایکچولی سر۔۔۔م۔۔میں آپ سے خان پراجیکٹ کے متعلق کچھ مین پوائنٹس ڈسکس کرنا چاہ رہی تھی تو۔۔۔سوچا سٹاف کے سامنے پریزنٹیشن دینے سے پہلے ایک بار آپکے پاس۔۔۔“ بازو تلے ہنوز آنکھیں میچے وہ گھگھیائی تو سیکنڈوں میں شرٹ کے بٹن بند کرتا وہ اسکی توقعات جان کر بےاختیار اپنی بھنویں سکیڑ گیا۔
”پوائنٹس۔۔۔؟؟سریسلی۔۔۔۔؟؟؟صرف چند معمولی پوائنٹس ڈسکس کرنے کی خاطر تم بنا کسی پرمیشن کے سیدھا میرے بیڈروم میں ہی گھس آئی۔۔۔؟؟“ سارے لحاظ بلائے طاق رکھتا وہ انتہائی حقارت آمیز لہجے میں بول رہا تھا جب خفت سے مزید سرخ پڑتی وہ بےاختیار اپنا بازو آنکھوں سے پرے ہٹاگئی۔
مقابل سے اس قدر عزت افزائی کی اسے قطعی کوئی امید نہیں تھی سو آنکھوں میں تیزی سے نمی اترنے لگی۔
”ایم رئیلی سوری سر۔۔۔مجھے ہرگز یہ اندازہ نہیں تھا کہ آپ اس وقت یوں شرٹ لیس۔۔۔“ ایک نظر اسکے ڈھکے وجود پر ڈالتے ہوئے اسنے بھرائی آواز میں اپنی صفائی پیش کرنا چاہی تھی جب اسکے مقابل آکر رکتا وہ سختی سے اسے ٹوک گیا۔
”لیسن سمن لطیف۔۔۔کام کرنے کی بھی کچھ لمٹس ہوتی ہیں جنھیں تم جانتے بوجھتے کراس کررہی ہو۔۔۔۔آفس ورک آفس تک ہی اچھا لگتا ہے۔۔۔باس کے فلیٹ یاں بیڈروم تک نہیں۔۔۔یو گیٹ دیٹ۔۔۔؟؟“ انگلی اٹھا کر اسے اسکی بےتکلفیوں کا احساس دلاتا وہ اپنے تلخ رویے پر ہرگز شرمندہ نظر نہیں آرہا تھا۔
نتیجتاً شرمندگی سے اپنا نچلا لب دانتوں تلے کچلتی وہ بمشکل جھکا سر اقرار میں ہلاپائی۔اس دوران دوسرے ہاتھ میں پکڑی فائل پر اسکی گرفت شدتِ ضبط سے مزید سخت ہوئی تھی۔
”بڑی معذرت خواہ ہوں آپ سے جو بنا اطلاع دئیے غلط وقت پر یہاں آگئی۔۔اورپھرآپکا پرسنل ٹائم بھی بلاوجہ ہی برباد کردیا میں نے۔۔۔۔اپنی سفارشات آپکے پاس لانے کی بجائے مجھے میرے کام خود تک ہی محدود رکھنے چاہیے تھے۔۔۔آ۔۔آئی تھنک آئی شوڈ لیو ناؤ۔۔۔۔“ اسکے پتھریلے لہجے کو ہضم کرنے کی ناکام کوشش میں وہ زور زور سے پلکیں جھپکاتی اپنے آنسو رخساروں پر بہنے سے روک نہیں پائی تھی۔
شاہ نے بےاختیار انگوٹھے اور شہادت کی انگلی تلے اپنی آنکھیں مسلتے خود کو ریلکس کرناچاہا۔اسکا دماغ اس پل سائیں سائیں کررہا تھا۔
ایک بھرپور شکوہ کناں نگاہ اس پر ڈالتی سمن۔۔۔بےدردی سے اپنے گال رگڑ کر صاف کرتی وہاں سے جانے کو پلٹی جب شاہ بےساختہ پیچھے سے اسے روک گیا۔
”ایک سیکنڈ رکیں مس سمن۔۔۔۔خالدہ۔۔۔۔خالدہ۔۔۔۔“ وہ جو اس خوش فہمی میں تیزی سے شاہ کی جانب مڑی تھی کہ شاید شاہ اس سے براہِ راست معذرت کرلے مگر اگلے ہی پل اسکے لبوں سے کسی پرائی عورت کا نام نکلتا دیکھ اسکی آنکھوں کی چمک بجھ سی گئی۔
”جی صاحب۔۔۔۔۔“ کچن سے نکل کر جلدی سے وہاں آتی خالدہ نے عادتاً سر پر پڑی چادر بےوجہ ہی ٹھیک کی تو سمن نے کچھ حیرت سے اس پنتالیس پچاس سالہ عورت کو دیکھا جو شکل سے ہی گھر کی خدمت گاروں میں سے لگ رہی تھی۔
”میڈم کو ڈرائنگ روم میں بیٹھاؤ اور ان کو چائے کافی پلائے بغیریہاں سے مت بھیجنا۔۔۔۔تب تک میں آفس کے لیے تیار ہو لوں۔۔۔۔“ اپنے لہجے میں کچھ نرمی لاتا وہ سمن کو انجانے میں نئے سرے سے بےعزت کرگیا تو ضبط کا گھونٹ بھرتی وہ بے اختیار اسے ٹوک گئی۔
”نو۔۔۔نو سر۔۔۔۔آپکو میرے لیے اتنا تکلف کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔۔۔ایکچولی مجھے ارجنٹلی پوائنٹس بھی کلئیر کروانے ہیں۔۔۔سو پھرکبھی سہی۔۔۔“ مشکلوں سے اپنا آپ قابو رکھتی وہ مسکاتی آواز میں بولی۔۔۔ورنہ دل تو چیخ چیخ کر اسکی بے رخی پر گریبان سے پکڑ کے شکوے کرنے کو مچل رہا تھا۔
کل کا نرم میٹھا لہجہ رکھنے والا شخص آج اتنا کڑوا کسیلا کیونکر ہوگیا تھا۔۔۔؟؟یہ سب سمجھنے سے اسکا ماؤف ہوتا دماغ فی الوقت قاصر تھا۔
شاہ نے اسکے عجلت بھرے انکار پر بے اختیار بھنویں اچکا کر اسکا پھیکا چہرہ دیکھا۔
”میں گھر آئے گیسٹ کی مہمان نوازی کیے بغیر اُنھیں رخصت کرنے کا عادی نہیں ہوں۔۔۔سو پلیز چائے کافی پی کے جائیے گا۔۔۔ہہمم۔۔۔۔“ بےتاثر لہجے میں بولتا وہ وہاں مزید نہیں رکا تھا جبکہ اپنے منہ پر دروازہ زور سے بند ہوتا دیکھ سمن کی نگاہوں میں ضبط کی گہری لالی بکھرتی چلی گئی۔
”میڈم جی۔۔۔آپ آئیں میرے ساتھ۔۔ میں آپکو ڈرائنگ روم میں لے چلتی ہوں۔۔۔اور ساتھ میں مجھے یہ بھی بتا دیجیے گا کہ آپ چائے پیے گی یاں کافی۔۔۔؟؟؟“ اسے بلاوجہ دروازے کو گھورتا دیکھ خالدہ نے نرمی سے سمن کا دھیان اپنی طرف سمیٹنا چاہا تو چونک کر اسکی جانب دیکھتی اگلے ہی پل وہ غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچ گئی۔
”جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔“ دبی آواز میں اس پر غراتی وہ دوسرے ہی لمحے پیر پٹختی ہوئی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
”ہائیں۔۔۔یہ کیا بلا تھی۔۔۔۔؟؟؟“ پیچھے خالدہ اسکے غیرمتوقع رویے پر جی بھر کے حیران ہوتی بے اختیار انگلی دانتوں تلے دباگئی۔۔۔پھر اس پر جلدی جلدی سے دو حرف بھیجتی شاہ کا ناشتہ بنانے واپس کچن کی جانب لپکی جو وہ اپنے صاحب کے بلانے کی وجہ سے اپنے پیچھے ادھورا ہی چھوڑ آئی تھی۔۔۔۔
”بھائی کتنے پیسے ہوگئے ان سب کے۔۔۔؟؟؟“ وہ کالج سے واپسی پر گھر لوٹنے کی بجائے سیدھا بک شاپ چلی آئی تھی اور اب کاؤنٹر کے آخری سرے پر دھری اپنی مطلوبہ چیزوں کو اطمینان سے سمیٹتی ان کی قیمت پوچھ رہی تھی۔
”ویسے تو کُل ملاکر ایک ہزار روپے بنتے ہیں لیکن تمھیں رعایت دے رہا ہوں اس لیے ان سب کا نو سو دے دو۔۔۔۔۔“ عمیر نامی دکاندار کیلکولیٹر پرکیے گئے حساب کتاب کو کلئیر کرتے ہوئے نرمی سے بولا تو حاویہ اثبات میں سرہلاتی اگلے ہی پل کندھے سے اپنا کالج بیگ اتارتی کاؤنٹر پر رکھ گئی۔۔۔نیناں کی غیرموجودگی کے سبب اسکے حصے کے بھی ٹپس لیتے ہوئے اسے ایک بیزاری سی تھی۔
معاً کوئی پھرتی سے بک شاپ کے کھلے دروازے سے اندر داخل ہوا تھا۔۔۔
مگر بیگ کے اندر کی جیبیں ٹٹول کر پیسے نکالتی حاویہ نے خود سے الجھتے ہوئے وہاں آنے والے شخص پر پلٹ کر ایک سرسری نگاہ ڈالنا بھی گوارا نہیں کیا تھا۔
”او خیراں۔۔۔آج یہاں کا رستہ کیسے بھول گئے جناب۔۔۔؟؟؟“ عمیر اپنے دوست کو یوں اچانک اپنی دکان پر دیکھ کر خوشگوار حیرت سے گویا ہوا تو جواباً شہادت کی انگلی لبوں پر ٹکاتا وہ اسے چونکا گیا۔
”بھائی یہ پیسے۔۔۔۔“ گن کے رقم پوری کرتی وہ کاؤنٹر کے پیچھے الجھے کھڑے عمیر کے سامنے رکھ گئی۔پھر مختلف کتابوں کے ٹپس بیگ میں ٹھونس کر اسے واپس کندھے پر چڑھاتی جونہی پلٹی۔۔۔تو اپنے مقابل بختی کو کھڑا دیکھ حاویہ کا دل دھک سے رہ گیا۔
”ب۔۔بختی بھائی۔۔آ۔۔آپ۔۔۔؟؟؟“ بےیقینی تلے آنکھیں پھیلائے کچھ اٹک کر بولتی وہ اس پل اُس سے سامنا کرنے کی قطعی کوئی توقع نہیں کررہی تھی۔
”کیا ہوا باربی ڈول۔۔۔۔؟؟؟ڈر گئیں مجھے دیکھ کر۔۔۔۔؟؟؟“ قدرے دلچسپی سے اسکی اڑی اڑی رنگت دیکھتا وہ حظ اٹھانے والے انداز میں بولا تو حاویہ کے وجود میں بےچینی سی بھرتی چلی گئی۔
اُسکی نزدیکی سمیت لب و لہجے سے گھبراتی وہ اگلے ہی پل قدرے پھرتی سے اسکی سائیڈ سے نکلی تھی کہ تبھی۔۔۔بختی ایک ہی جست میں اسے بازو سے دبوچ کر اپنی جانب گھوماتا بری طرح بوکھلانے پر مجبور کرگیا۔
اس دوران عمیر حق دق سا اپنے یار کی کاروائیاں خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔
”کیا بدتمیزی ہے یہ چھوڑیں مجھے۔۔۔۔بھائی انھیں روکے پلیز۔۔۔۔“ اپنا بازو چھڑوانے کی ناکام کوشش کرتی وہ بےاختیار عمیر سے مدد کی درخواست کرگئی تو بختی اسکی مزاحمت روکنے کو ایک زور کا جھٹکا دیتا۔۔۔اسکی توجہ واپس اپنی جانب کر گیا۔ایسے میں کندھے سے ڈھلکتے بیگ کی پوزیشن وہ بمشکل درست کرپائی تھی۔
”اس سے مدد کی اپیل کرنا بےکار ہے جانم۔۔۔کیونکہ وہ میرا جگری یار ہے اسی لیے میرے خلاف اففف تک نہیں کرے گا۔۔۔۔“ حاویہ پر کھل کر انکشاف کرتا وہ ایک غرور سے بولا۔
جواباً حاویہ نے نم ہوتی آنکھوں میں تاسف اور غصہ کے ملے جلے جذبات لیے اسکی جانب دیکھا۔عمیر ہنوز بےحس کھڑا اسکے لفظوں کو پورا پانی دے رہا تھا۔
”کیا لگا تھا۔۔۔؟؟تمھاری ماں اور بہن کی حفاظتی تدابیر کے بعد سے میرے لیے تم تک رسائی چاند جتنی مشکل ہوجائےگی۔۔۔؟؟ہیں۔۔۔؟؟“ اپنی بات کو اُسکی سوچوں کا رنگ دیتا وہ تمسخرانہ گویا ہوا۔پھرنفی میں سر ہلاتا بے اختیار ایک قدم کا فاصلہ مٹاگیا تو وہ بھی کچھ سہم کر تھوڑا پیچھے ہوئی۔
”جانتی ہو تمھارا مسئلہ کیا ہے۔۔۔؟؟؟تم میری ذات کو ہر بار ہلکا لینے کی بےوقوفی کرجاتی ہو۔۔۔اور اس بار تو تم نے میرے حوالے سے لاپرواہی کی سب سے آخری حدوں کو جا چھوا ہے جانم۔۔۔۔“ اس پر اپنی برتری جتاتا وہ مزید بولا تھا جب پورا زور لگا کر اپنا دکھتا بازو اسکی سخت گرفت سے چھڑواتی۔۔۔وہ اسے خود سے پرے دھکیل گئی۔
”تم جیسوں کی ذات کو میں ہلکا اس لیے لیتی ہوں کیونکہ مجھے میرے خدا پر بھروسہ ہے۔۔۔میری ماں بہن نہ سہی پر تم جیسے شیطان صفت بندے سے وہ بلند ذات میری حفاظت ضرورکرے گی۔۔۔“ بپھڑ کر بولتی وہ اپنے رد عمل سے مقابل کو حیران کرگئی تھی۔بظاہرمضبوط بننے کی کامیاب کوشش میں اسکے لرزتے وجود پر ایک بھرپور نگاہ ڈالتا وہ اگلے ہی پل ڈھیٹ پن سے مسکرایا۔
”اففف۔۔۔میری غیرموجودگی میں تم نے خود کے حوصلے اس قدر بلند کر لیے باربی ڈول۔۔۔؟؟کیا بات ہے۔۔۔مگرشایدتم یہ بھول رہی ہوکہ میرا محض ایک جذباتی قدم اٹھانے کی دیر ہے۔۔۔نتیجتاً تمھارے یہ سارے اسلامی فلسفے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔۔۔“ قریب آکر سفاکیت سے بولتا وہ اس بار اسکی کلائی دبوچ گیا تو مقابل کی بےجا جرات پر دو آنسو ٹوٹ کر اسکے رخساروں پر پھسلے۔
”اب بس کردے بختی۔۔۔اتنا جذباتی مت ہو لڑکی کے ساتھ۔۔۔مت بھول کہ تو اس وقت میری دکان پر کھڑا ہے۔۔۔یہاں کبھی بھی کوئی بھی گاہک بنا اجازت اندر آسکتا ہے یار۔۔۔“ عمیر جسکی ایک نظر اندر تھی اور ایک باہرکو۔۔۔اپنے یار کی منمانیوں پر ملتجی ہوا۔
”اگر تم نے میرے ساتھ کچھ بھی غلط کرنے کی کوشش کی تو میں یہی پر شور مچا کر سب کو اکٹھا کرلوں گی۔۔۔ چھوڑو میرا ہاتھ۔۔۔ “ جواباً چیختی وہ بنا کوئی لحاظ رکھے اپنی آواز حددرجہ بلند کرگئی تو عمیر سمیت بختی بھی پل بھرکو گڑبڑا گئے۔
”اےےے۔۔۔ذیادہ واویلا مچانے کی ضرورت نہیں ہے تمھیں سو اپنی آواز نیچی رکھو اور میری بات دھیان سے سنو۔۔۔۔“ دبی آواز میں غراتا بختی اتنی چھیڑ چھاڑ کرنے کے بعد اب اصل مدعے کی جانب آیا تھا۔
کلائی ہنوز اسکی سخت گرفت میں تھی۔
حاویہ نے شدتِ بےبسی سے اپنے لب بھینچتے۔۔۔مقابل کے تنے ہوئے نقوش دیکھے۔
”کل میں بڑی باجی کے ہمراہ تمھاری ماں کی طرف آؤں گا تمھارا ہاتھ مانگنے کے لیے۔۔۔سو بہتری اسی میں ہے کہ اس رشتے کے لیے اپنے گھروالوں کو پہلے سے ہی رضامند کرلو۔۔۔ورنہ انکار کی صورت جو ذلت تم لوگوں کو میرے ہاتھوں اٹھانا پڑے گی ناں۔۔۔اسکا سوچ کر ہی تم سب کے رونگٹھے کھڑے ہوجائیں گے۔۔۔سمجھی۔۔۔۔“ دھمکی آمیز لہجے میں بول کر حاویہ کے سانس خشک کرتے ہوئے جہاں اس نے ایک جھٹکے سے اسکی کلائی چھوڑی تھی وہیں ایک لڑکی اپنے بھائی کے ہمراہ بے دھڑک دکان کے اندر داخل ہوئی۔
حاویہ جلدی سے اپنا آپ سنبھالتی ہوئی تقریباً بھاگ کر وہاں سے نکلی تو عمیر نے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بے اختیار بختی کو ایک شاندار گھوری سے نوازا۔
جواب میں اسکی جانب آنکھ دباکر کمینی مسکراہٹ اچھالتا وہ بھی وہاں مزید نہیں رکا تھا۔۔۔جبکہ
عمیر اسے نظروں سے اوجھل ہوتا دیکھ اب کہ نئے گاہکوں کی طرف متوجہ ہوچکا تھا۔
”اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا
اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا
اسکا خرام دیکھ کے۔۔۔۔۔“
ادھ ڈھکے حسین مکھڑے سے ہاتھ پرے ہٹاتی وہ موسیقی کے رواں لفظوں پر اپنے بہت سے چاہنے والوں کو رجھاتی چلی گئی تھی۔
گہرے گلے کا نارنجی فراک پہنے وہ حسب ضرورت زیورات سے سجی دھجی ہمیشہ کی طرح اپنے اندر مردوں کو بہکا دینے کی صلاحیت لیے ہوئے تھی۔
بچی کھچی کثر آج دوپٹے سے محروم کھلے بالوں نے پوری کردی تھی۔
ذرا دور بیٹھ کر رقص سے لطف اندوز ہوتی تابین بائی سمیت سب کی سراہتی نظریں رابی پر ہی ٹکی تھیں۔
آج رات کی اس رنگین محفل کا خاص مہمان پینتیس چالیس کی عمر کے بیچ جھولتا سیٹھ تیمور تھا جسکی آنکھوں میں لہکتا وجود دیکھ کر الگ سے خمار اترتا جارہا تھا۔
”ہم راہروان ِ راہ فنا ہیں برنگ ِ عمر
جاویں گے ایسے کھوج بھی پایا نہ جائے گا
اسکا خرام دیکھ کے۔۔۔۔۔“
نشیلے لفظوں پر اپنے وجود کو بھرپور ادا سے حرکت دیتے اب کہ اسکی سست اداؤں میں تواتر سے بجتے طبلوں پر پھرتی آئی تھی۔
تبھی ایک مرد نے بیٹھے بیٹھے ہی اس پر کئی نوٹ اچھالے۔
تابین بائی کی نگاہ کے اشارے سے پہلے ہی دو لڑکیاں دھیمے دھیمے رقص کرتی پیسے اٹھانے کو آگے بڑھیں۔ایسے میں چند ایک عیاش پسند مردوں کا دھیان بھٹک کر انکی جانب بھی لپکا تھا۔
ایسے میں ہال کے بیچ و بیچ سرخ رنگ دبیز قالین پر گھومتی رابی کا رقص مزید تیز ہوتا بہت سوں کی دھڑکنیں تیز کرگیا۔
”یہ اسود صاحب کیوں نہیں آئے آج کی اس محفلِ خاص میں۔۔۔؟؟ہمیں تو بتارہے تھے کہ بچوں سمیت بیوی کو اسکے میکے چھوڑتے ہی سیدھا یہاں چلے آئیں گے۔۔۔“ معاً کسی مرد کی بآواز بلند ہانک رابی کی سماعتوں سے ٹکرائی۔۔
کبھی دھیما تو کبھی تیز ہوتا رقص ہنوز جاری تھا۔
”آپ کو علم نہیں جناب پر بیوی بچوں کو میکے چھوڑنا ہی تو اسود صاحب کی عیاشیوں پر بھاری پڑ گیا۔۔۔“ دو آدمی چھوڑ کر تیسری نشست سنبھالے اس شخص کی آواز اس قدر تیز ضرور تھی کہ پاس ہی لہکتی جھومتی رابی کی سماعتوں کو بآسانی چھوسکتی۔
”مطلب۔۔۔۔؟؟؟“ وہ الجھا۔
”آج سالار خان کا نکاح تھا۔۔۔سو بیوی بچوں کی غیر موجودگی میں انھیں خان برادری سے راہ و رسم بڑھانے کی خاطر مجبوراً خود ہی اُس نیک ستھری محفل میں شرکت کرنا پڑی۔۔۔ورنہ اسود صاحب یہ بدنام محفل چھوڑجانے والوں میں سے تو ہرگز نہیں ہیں۔۔۔“ تفصیل بتانے والے کا سادہ لہجہ خود میں تمسخر سمیٹے ہوئے تھا۔۔۔
مگر لفظوں کی گہرائی رقص کرتی رابی کے دل میں اس قدر شدت سے چبھی تھی کہ چہرے کے مقابل۔۔۔بل کھاتے ہاتھوں کی حرکت بےاختیار دھیمی پڑتی رکی۔
”مجھ سے شادی کرلو رابی۔۔۔۔میں وعدہ کرتا ہوں تمھیں ہرخوشی دوں گا۔۔۔دل و جان سے بھی ذیادہ عزیز رکھوں گا۔۔۔تمھارا ہر گلہ شکوہ مٹا دوں گا۔۔۔۔بس میرے عشق کو کامل کردو۔۔۔۔مجھ سے ایک پاکیزہ بندھن میں بندھ کر میرے وجود کو کامل کردو۔۔۔بخدا میری ذات پہ کیاگیا تمھارا یہ احسان میں نہیں بھولوں گا۔۔۔۔“ بے اختیار اسکی سماعتوں میں زہر کی مانند گھلتی سالار خان کی تڑپتی آواز نے اس کے حسین چہرے کی رنگت پل میں بدلی تھی۔
”تمھارے بغیر جینے کا تصور کرنا میرے لیے خود کی سانسیں روک لینے کے مترادف ہے۔۔۔۔ میں مرجاؤں گا یار۔۔۔۔اور تم یہ بات اچھے سے جانتی ہو۔۔۔۔۔“ بےبسی کے بوجھ تلے کیسے وہ اُسکے سامنے گھٹنوں کے بل گرتا چلا گیا تھا۔
گزرے وقت کی یادیں رابی کے حواسوں پر شدت سے سوار ہوتیں اسے سریلی دھنوں سے بےبہرہ کرتی چلی گئیں۔۔۔
”آج سالار خان کا نکاح تھا۔۔۔۔“ پھر سے لفظوں کی ہوتی باز گشت پر اس کی آنکھیں بہت تیزی سے نم ہوئی تھیں جنھیں پلکیں جھپک جھپک کر اندر اتارنے کی کوشش میں ہلکان ہوتے اسنے اپنا سرجھٹکا۔
بارہا موسیقی کے رواں لفظوں کے مطابق اس نے باقاعدہ خود کا وجود ڈھالنا چاہا تو اسکی ناکام کوششیں سب تماشائیوں کی توجہ اپنی جانب شدت سے کھینچ گئیں۔
”کیا ہوگیا ہے تمھیں میری معصوم کلی۔۔طبیعت تو ٹھیک ہے ناں تمھاری۔۔۔؟؟“ اسکے اچانک رک جانے پر تابین بائی بے چین سی تیمور سیٹھ کے پاس سے اٹھتی تیزی سے اسکی جانب لپکیں تو اسنے چونک کر انھیں اپنے قریب آتے دیکھا۔پھر چاروں اطراف نگاہ دوڑائی۔
سب حیرت تو کچھ تفکر گھلی نگاہوں سے بغور اسے ہی دیکھ رہے تھے۔اس دوران میٹھے سُر اپنے اختتام کو پہنچتے خاموشی اختیار کرچکے تھے لیکن لبوں سے پھوٹتی چہ مگوئیاں بے آواز نہیں رہی تھیں۔
جام کے گلاس کو سائیڈ پر رکھتے ہوئے اب کہ سیٹھ تیمور کا خمار بھی مدھم پڑنے لگا تھا۔
”زندگی میں پہلی بار تم ناچنا بھول گئی ہو رابی ورنہ تو تمھارے انگ انگ سے پھوٹتے رقص نے مداحوں کے سامنے یہ ہاتھ پیر کبھی رکنے ہی نہیں دئیے۔۔۔۔آخر یہ۔۔۔یہ نوبت کس سبب سے آئی ہے۔۔۔؟؟؟“ نرمی سے اسکے ہاتھ تھام کر۔۔۔ پریشان سی سب سے نگاہیں چراتی وہ دبی آواز میں گویا ہوئیں۔
کوٹھے کی لڑکیاں بھی حق دق سی بدمزہ ہوتی محفل کا تماشہ دیکھ رہی تھیں۔
”وفا کے عہد و پیماں کرنے والا شخص اگر اپنے ہی لفظوں سے بےوفائی کرجائے تو فقط چند پلوں کے لیے رقص بھول جانے میں کوئی قباحت نہیں ہے بی بی جان۔۔۔“ حقیقت کو دبے لفظوں میں بیان کرتی وہ اگلے ہی پل نئی موسیقی شروع کرنے کا اشارہ کرچکی تھی۔۔۔جبکہ تابین بائی اسکے الجھا دینے والے انداز سے مزید پریشان ہوتیں موقع کی مناسبت سے مجبوراً وہاں سے ہٹ گئیں۔
”سحر گہِ عید میں دورِ سبو تھا
پر اپنے جام میں تجھ بن لہو تھا۔۔۔۔“
جہاں ایک بار پھر سے نئی موسیقی پر رابی کا دل دھڑکاتا ناچ شروع ہوا تھا وہیں سیٹھ تیمور سیمت سب کے سمٹے لبوں پر دوبارہ سے شوخ مسکراہٹیں بکھر گئیں۔
وہ بڑی تیزی سے اپنا آپ سنبھال گئی تھی۔۔۔۔لیکن سینے میں دھڑکتی دھڑکنیں ہنوز بے قرار تھیں۔
حقیقتاً اسے سالار خان سے کوئی عشق نہیں تھی۔۔۔مگر اس شخص کی حددرجہ دیوانگی کے آگے جھکے دل میں تڑپ ضرورتھی۔۔۔۔اور یہی تڑپ اسکے رگ و پے میں پھیلتی اسکا رقص مزید پھرتیلا کرتی چلی گئی۔
💞💞💞💞💞💞
