Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

”چھوڑو مجھے۔۔۔۔یہ تم کیا کررہے ہو۔۔۔؟؟؟میں نے کہا ہاتھ چھوڑو میرا۔۔۔۔۔“ پیاس کی شدت پر وہ پانی پینے کی غرض سے کچن میں چلی آئی تھی۔۔۔جب اچانک ڈھلتی رات کو تندہی سے فلیٹ میں داخل ہوتا وہ۔۔۔صاف کھٹکے کی آواز پر سیدھا اسی کی جانب چلا آیا۔۔پھر اسکی نازک کلائی کو دبوچتا ہوا تیزی سے اپنے کمرے کی جانب لپکا۔۔تو پل بھر کو بوکھلاتی وہ بے اختیار مزاحمت پر اتر آئی۔
مگر وہاں احتجاج کی پرواہ تھی ہی کسے۔۔۔؟؟
زبردستی اپنے سنگ گھسیٹ کر کمرے میں لاتے ہی شاہ نے اسے بےدردی سے دبیز قالین پر دھکیلا تھا۔
نتیجتاً اوندھے منہ گرتی آبرو۔۔بروقت ہتھلیاں ٹکاتی اپنا بچاؤ کر گئی۔
ایسے میں کمر تک کھلے بال۔۔۔سرعت سے آگے کو آتے بکھرے تھے۔
”اففف۔۔کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔۔۔؟؟؟“ ضبط سے اسکی جانب پلٹ کر دیکھتی وہ چیخی۔۔تو جلتی نگاہوں سے اسکا دوپٹے سے بےنیاز وجود پورے استحقاق سے۔۔بغور دیکھتے ہوئے اگلے ہی پل شاہ نے اپنی جیب میں پھنسایا ہوا سرخ گھنگرو کا جوڑا جھٹکے سے باہر نکالا۔
”پہنو انھیں۔۔۔۔۔“ قدرے حقارت سے کہتا وہ گھنگرو چھن کرکے اسکے سامنے پھینک چکا تھا۔
”مگر کیوں۔۔۔۔۔؟؟؟“ درشتگی سے پھینکے گئے گھنگرو کو ایک نگاہ دیکھتی وہ اگلے ہی پل اس غیرمتوقع فرمائش پر قدرے حیران سی کھڑی ہوئی۔
پیشانی پر صاف تیوری چڑھ آئی تھی۔
”کیونکہ آج یہ آوارہ دل بڑی شدت سے تمھارا ناچ دیکھنے کو مچل رہا ہے۔۔۔اُس رات محفل میں غصے کے سبب ڈھنگ سے دیکھ نہیں پایا تھا ناں۔۔۔لیکن اب۔۔۔اب میں وہ کمی بڑے شوق سے پوری کرنا چاہتا ہوں۔۔۔بیلیومی جانم تمھاری ایک ایک ادا کو دل سے۔۔۔انفیکٹ بے حدقریب سے سراہوں گا۔۔۔۔ “ بےساختہ ایک قدم اسکی جانب لےکر جلتے سینے کو مسلتا۔۔وہ بڑی مشکلوں سے اپنی تلخ ٹون کو مست بنانے میں کامیاب ٹھہرا تھا۔
جبکہ مقابل کے زہر اگلتے لفظوں پر آبرو سکندر کا دل بےسکونی تلے شدتوں سے دھڑک اٹھا۔
”کس قدر گٹھیا مرد ہو تم۔۔۔اپنی بیوی سے ایسی بےہودہ فرمائش کرتے ہوئے رتی بھر بھی شرم نہیں آرہی تمھیں۔۔۔؟؟تم یہ گھنگرو پہنا کر میرا۔۔۔۔یعنی کہ اپنی بیوی کا ناچ دیکھنا چاہتے ہو۔۔۔؟؟چِھی۔۔۔“ بظاہر حیرت تلے غراتی وہ اسے صاف شرم دلانے پر آئی تھی۔۔۔جس کی سرخ ہورہی نگاہیں غور کرنے پر ذرا سے نشیلے پن کی چغلی کھارہی تھیں۔
جواباً اسکی جانب تکتے شاہ نے سختی سے مٹھیاں بھینچ کر کھولیں۔پھر نفی میں سر ہلاتا تمسخرانہ مسکرایا۔
”جو بیوی ہزار نامحرم مردوں کے آگے۔۔ہزار بار اپنا رقص بڑے شوق سے دکھا چکی ہو۔۔۔اسے اپنے ایک عددمحرم شوہر کے سامنے یوں کھوکھلی شرم و حیاء کے قصے بالکل بھی نہیں کھولنے چاہیے جاناں۔۔۔۔۔۔“ ڈھٹائی سے پلکیں جھپکاتا وہ بڑے ضبط سے کڑوی حقیقت کا طمانچہ اسکے منہ پر مار چکا تھا۔۔
جواب میں سختی سے لب بھینچتی آبرو کی نگاہوں کی نیلاہٹ بھیگنے لگی۔
”چلو شاباش بیوی۔۔شروع ہوجاؤ اب۔۔۔ڈونٹ ویسٹ دی ٹائم۔۔۔ہہمم۔۔۔۔“ سرخ ہورہے چہرے کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے۔۔از خود جھک کر وہ گھنگرو کا جوڑا اٹھاتا اسکے ہاتھ میں تھما چکا تھا۔۔۔
جبکہ اسکی اس بےتکی ضد پر آبرو کا دماغ پل پل بڑھتے اشتعال تلے۔۔۔پھٹنے سا لگا۔
”تم چاہے کچھ بھی کہہ لو۔۔مگر میں تمھاری اس دلی خواہش پر ہرگز نہیں ناچوں گی۔۔۔سنا تم نے۔۔۔۔؟؟“ ضبط کھوتی وہ اگلے ہی پل گھنگرو کا جوڑا پرے پھینکتی طیش میں چلائی تھی۔۔۔جب یک دم اسکے بالوں کو مٹھی میں دبوچتا وہ جھٹکے سے اسے اپنے قریب تر ہونے پر مجبور کرگیا۔
اس رویے پر پنکھری لبوں سے مدھم ترین سسکاری کا نکلنا بےساختہ تھا۔
”انکار کرکے میرے بھڑکتے اشتعال کو مزید ہوا مت دو آبرو شاہ میرحسن۔۔۔۔ورنہ اسی میں جل کر راکھ ہوجاؤ گی۔۔۔۔“ براہ راست اسکی دل دھڑکاتی بھیگی نگاہوں میں جھانکتا وہ اسکے چہرے پر پھنکارا۔۔تو بے ساختہ دو آنسو ٹوٹ کر آبرو کے گالوں پر لڑھک آئے۔
”جلا کر راکھ کردینے کے لیے حد سے ذیادہ نفرت کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔۔۔۔اور میرے لیے اس حد تک نفرت تمھارے سینے میں چاہ کر بھی آباد نہیں ہوسکتی شاہ میر حسن۔۔۔۔“ ڈٹ کر مقابل کی سلگتی سانسوں کو برداشت کرتی وہ بڑے استحقاق سے اسکا گریبان مٹھیوں میں دبوچ چکی تھی۔
”میری مجبوری کا فائدہ اٹھا رہی ہو۔۔۔؟؟؟“ اس صاف حقیقت پر پوچھتا وہ اپنی بھنویں سکیڑ گیا۔۔تو اسکے بدلتے لہجے پر وہ ناچاہتے ہوئے بھی ہولے سے مسکرا دی۔
شاہ کی نگاہیں پل میں بھٹک کر اسکے نازکی لبوں پر جا ٹھہری تھیں۔
”نہیں۔۔۔تمھاری دب چکی محبت کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی ہوں۔۔۔۔“ آہستگی سے کہتی وہ بالوں پر اسکی پکڑ ڈھیلی کروائی گئی تھی۔
معاً اس کے حق میں دھڑکتے دل نے شاہ میر حسن کو شدت سے اس پل اپنی بےبسی کا احساس دلایا تھا۔
احساس دلایا تھا کہ۔۔۔۔
اس نازک جاں سے کیا جانے والا عشق،
خفگی۔۔
بدظنی۔۔
اور تلخ حقیقتوں پر ہرلحاظ سے بھاری تھا۔۔۔ہاں۔۔۔اب بھی بھاری تھا۔۔۔
”محبت۔۔اندھی ہوتی ہے۔۔۔پہلے صرف سنا تھا۔۔۔آج شدت سے محسوس کررہا ہوں۔۔۔اور یقین کرو یہ شدت میری اذیتوں میں مزید اضافہ کرتی چلی جارہی ہے۔۔۔۔۔۔“ بالوں کو چھوڑ کے آہستگی سے وہی ہاتھ اسکے رخسار پر ٹکاتا وہ مدھم۔۔سلگتے لہجے میں گویا ہوا تو۔۔۔اس صاف اعتراف سے کہیں ذیادہ اسکے لمس پر آبرو کی دھڑکنیں منتشر سی ہونے لگیں۔
مقابل کی نگاہیں پل میں بدلی تھیں۔۔
”یہ اذیت بھی تمھاری خود کی چنی ہوئی ہے۔۔۔چاہو تو راہِ فرار پاسکتے ہو۔۔۔۔“ بے اختیار اسے ہلکا سا پیچھے دھکیل کر کہتی وہ خود بھی کچھ دور ہوئی تھی۔۔
جواباً چہرے پر ہاتھ پھیر کر آبرو کی جانب دیکھتے شاہ نے بےتابانہ قدم اسکی طرف بڑھائے۔
دل کی یکدم بدلتی حالت کو بھلا اسکا یہ گریز اس پل کہاں پسند آیا تھا۔۔۔
”اب کسی کے لیے بھی راہِ فرار ممکن نہیں ہے۔۔۔ہاں البتہ تم چاہو تو میری روح میں اتر کر اس اذیت میں کمی کی دوا ضرور بن سکتی ہو۔۔۔۔“ اس بار مضبوطی سے کندھوں سے تھام کر اسے دوبارہ اپنے قریب تر ہونے پر مجبور کرتے شاہ کی بھوری سرخ نگاہوں۔۔کی وارفتگی بڑھی۔۔۔
تو آبرو اسکے یکدم پلٹا کھاتے تیوروں پر صاف غور کرتی ٹھٹھکی۔
”ک۔۔کیا مطلب ہے تمھارا۔۔۔۔؟؟؟“ کچھ حیرت سے پوچھتی وہ ہکلائی تھی۔
”وہی جو تم سمجھ کر بھی سمجھنا نہیں چاہ رہی۔۔۔۔تھک گیا ہوں بہت۔۔۔اب مزید دوریوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔۔۔اس پل تو بالکل بھی نہیں۔۔۔تمھارے سنگ فقط بہکنا چاہتا ہوں۔۔۔مکمل طور پر بہکنا چاہتا ہوں۔۔۔۔“ جذبات سے بھاری ہورہے اس لہجے۔۔ان حتمی الفاظ نے حقیقی معنوں میں آبرو کو پریشان کیا تھا۔۔۔
”یہ کیا بکواس کررہے ہو تم۔۔۔۔؟؟دور رہو مجھ سے۔۔۔۔“ شدت سے اس کے ہاتھوں کو اپنے کندھوں سے جھٹکتی وہ مزید کئی قدم پیچھے ہوئی۔
ایسی صاف دھتکار شاہ کو شدت سے مٹھیاں بھینچنے پر ہی تو مجبور کرگئی تھی۔
”بیوی ہو تم میری۔۔۔۔۔۔“ وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا۔۔۔تو اسے اگلے ہی پل اپنی جانب آہستگی سے قدم بڑھاتا دیکھ پیچھے ہوتی آبرو نے دھیرے سے نفی میں سر کو جنبش دی۔
ضبط کے باوجود بھی نم پڑتی آنکھوں کے سنگ۔۔۔تنفس تیز ہونے لگا تھا۔
”مت بھولو۔۔۔مت بھولو کہ مردوں کے سامنے پیش ہونے والی ایک رقاصہ بھی ہوں میں۔۔۔ایک ایسی رقاصہ جسے چھو لینے کی کتنوں نے ہی چاہ کی ہے۔۔۔بالکل اسی طرح جیسے اب تم۔۔۔۔“ اسے باز رکھنے کو سلگ کر بولتی وہ ہنوز پیچھے کو ہٹتی چلی جارہی تھی۔۔۔ جب ضبط کھوکر ایک ہی جست میں اسے قریب دیوار سے لگاتا وہ اگلے ہی پل اسکے پھڑپھڑاتے لبوں پر سختی سے اپنی شہادت کی انگلی جما گیا۔
”شش۔۔۔۔ایک بھی لفظ اور نہیں۔۔۔۔۔“ دانت پیس کر تنبیہہ کرتے بھوری نگاہوں کی سرخی مزید گہری ہوئی۔۔۔
تو کچھ بوکھلا کر اسکی جانب ب دیکھتی وہ۔۔پل بھر کو اپنی سانسیں روک گئی۔
”تمھارا ماضی چاہے کتنا بھی گھٹیا ترین کیوں نہ ہو۔۔۔مگر تم اس حقیقت کو چاہ کر بھی نہیں جھٹلا سکتی کہ اب تم میری بیوی ہو۔۔۔
میری ملکیت۔۔۔
تمھیں اذیت دینے کی وجہ اگر میں بنوں گا تو جان لو آبرو شاہ میر حسن۔۔جان لو کہ تمھیں محبت دینے کی حقدار بھی فقط میری ہی ذات ہوگی۔۔۔۔“ آج کے دن لگا تماشہ مکمل بھولتا اب کہ وہ لرزتے لبوں سے انگلی ہٹائے ٹھہرٹھہر کر بول رہا تھا۔
آنسو ٹوٹ کر آبرو کی سرخ گالوں پر پھسلتے ہوئے ٹھوڑی تک آئے۔
”ت۔۔تم چاہے کوئی سی بھی تمہید باندھ لو۔۔۔م۔۔مگر میں تمھیں یوں خود کے قریب آنے کی اجازت قطعی نہیں دوں گی۔۔۔دور ہٹو اب۔۔۔۔۔“ مضبوط سینے پر کچھ حد تک لرزتی ہتھلیاں جمائے وہ اپنی رٹ کے سبب اسکی طلب حد سے سوا ہی تو کرتی چلی جارہی تھی۔
”خدا قسم ہٹ جاؤں گا پیچھے۔۔۔ہٹ جاؤں گا اگر جو میرے چھو لینے سے تمھاری ان شفاف دھڑکنوں نے شدت سے شور نہ مچایا تو۔۔۔۔“ اسکی ناکام کوششوں پر چہرے پر آچکی چند لٹوں کو نرمی سے کان کے پیچھے اڑستا وہ چیلنجنگ انداز میں گویا ہوا۔۔۔تو آبرو کو اپنی بےبسی کا شدت سے ہوتا ادراک زہر ترین لگا۔
ضبط کے باوجود بھی دل کا شور پورے حق سے بڑھا تھا۔
”ان پوروں تلے یہ پلکیں نہ لرزی تو۔۔۔۔“ بےاختیار اسکی گھنی نم پلکوں کو اپنی پوروں سے چھوتا وہ اسےیہاں بھی خاصی مات دے چکا تھا۔
الٹا تپتے رخساروں کی لالی گہری ہوئی تھی۔
”ان پنکھری لبوں سے نکلتا احتجاج نہ کپکپایا تو۔۔۔“ مزید گھمبیر ہورہے لہجے میں بولتا شاہ اب کے دھڑکتے دل کے سنگ نرم پوروں تلے اسکا نچلا لب چھونے کی جسارت کرنے کو تھا۔۔۔جب بروقت اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھامتی وہ اسے وہی روک گئی۔
”ی۔۔یہ کیا۔۔؟؟کیا فضول حرکتیں کیے چلے جارہے ہو تم۔۔۔؟؟؟“ اٹکتا ہوا یہ احتجاج شاہ کو شدت سے مسکرانے پر ہی تو مجبور کرگیا تھا۔
”فضول حرکتیں تمھارے لیے ہوں گی بیوی۔۔۔مگر اس پل میرے لیے یہ حسین ترین احساسات ثابت ہو رہے ہیں۔۔جنھیں محسوس کرنے کے لیے اب میں ایک ایک حد پار کردینے کا شدت سے خواہشمند ہوں۔۔۔۔۔“ جہاں رکی ہوئی بےباکیاں بڑھنے کو بےقرار تھیں۔۔وہیں اسکے ہاتھوں کو اپنے چہرے کے اطراف میں محسوس کرتی آبرو کا تنفس مزید گہرا ہونے لگا۔
نم ہورہے رخساروں کو دھیرے سے سہلاتے انگوٹھے۔۔اسکے لیے گہری بےباکی ہی تو ثابت ہورہے تھے اس پل۔
”تمھاری جانلیوا قربت۔۔م۔۔میری روح کو گھائل کررہی ہے شاہ۔۔۔یہ جرات مت کرو۔۔۔۔۔۔“ اسکے مضبوط چنگل سے نکلنے کی ہنوز کوشش میں۔۔شدت سے ملتجی ہوتی وہ بے حال سی ہونے کو تھی۔
بھلا کہاں سوچا تھا۔۔۔؟؟حالات اور نیتوں کا یوں یک دم سے بدل جانا۔۔۔
جبکہ آبرو کے ایک بار پھر ہاتھ جھٹک دینے پر شاہ کے نقوش تن سے گئے۔
”اور جو تم نے میری ذات کو سرعام گھائل کیا ہے اس کا کیا۔۔۔۔؟؟؟“ معاً دیوار پر ہاتھ مارکر وہ قدرے تلخی سے دوبدو گویا ہوا۔۔۔تو آبرو نے بھیگتی سرخ نگاہوں سے۔۔اسکے ضبط تلے مزید سرخ ہورہے سخت نقوش دیکھے۔
”تو یعنی تم خود کی نفسی تسکین کے لیے۔۔ حقوق کے نام پر اب مجھ سے اس انداز میں بدلہ لینا چاہ رہے ہو۔۔۔؟؟؟“ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تندہی سے پوچھتی وہ اسے حددرجہ متاسف ہونے پر مجبور کرچکی تھی۔
اس قدر متاسف کہ۔۔بےاختیار گہرا سانس بھرتا وہ اپنے سخت ہوچکے اعصاب ڈھیلے چھوڑتا چلا گیا۔
”تمھیں مجھ سے۔۔میری طرح محبت نہیں ہوئی ناں۔۔ورنہ ضرور جان جاتی کہ یہ احساس انسان کو پاگل ہونے کی حد تک بےبس کر چھوڑتا ہے۔۔۔اورمیں اس وقت تمھارے لیے فقط پاگل ہونا چاہتا ہوں۔۔۔
ہر بدلے۔۔۔
ہر بےوفائی۔۔۔
ہر اذیت۔۔۔کو فی الوقت بھلا کر تم سے صرف اپنی محبت کی تسکین چاہتا ہوں۔۔۔۔“
بھوری آنکھوں میں آہستگی سے گھلتی نمی کے ساتھ وہ اگلے ہی پل دیوار پر دونوں ہاتھ ٹکائے۔۔اسکی پیشانی کے ساتھ اپنے ماتھے کو شدت سے مس کرچکا تھا۔
نتیجتاً اسکے ان بےباک۔۔آہنی ارادوں کے آگے ہرلحاظ سے بےبس ہوتی آبرو کو بھی اب اپنا آپ کمزور ترین لگنے لگا۔۔
مگر بےسکونیوں تلے مچلتا دل تو حقیقی معنوں میں اس پل شدت سے ڈوبا تھا۔۔۔جب مقابل نے پورے حق سے سلگتا ہوا۔۔۔طویل لمس اسکی پیشانی پر چھوڑا تھا۔
”ت۔۔تم پاگل ہوچکے ہو شاہ۔۔۔۔۔تم حقیقتاً پاگل ہو چکے ہو۔۔۔۔۔“ بےساختہ اس کے دھڑکتے دل کے اوپر سے شرٹ کو۔۔۔قدرے سختی سے مٹھی میں دبوچتی آبرو کے لب بڑی مشکلوں سے پھڑپھڑائے۔
ایسے میں ایک نئے جذبے کے تحت آنسو لٹاتی آنکھوں کا بند ہونا بےساختہ تھا۔
”ہاں میں ہوچکا ہوں۔۔۔تمھارے لیے بےحد۔۔۔بے انتہا۔۔۔۔“ دھیرے سے سماعتوں کے قریب جھک کر بھاری سرگوشی کرتا وہ صاف بہکا تھا۔۔۔
قطرہ قطرہ گزرتی اس رات کی وحشتوں میں جہاں کسی کا سلگتا ہوا عکس۔۔۔محرمیوں سے گھرتا۔۔۔چاہ کر بھی آج بھوری نگاہوں میں سما نہیں پایا تھا۔۔۔وہیں آنے والے حالات کی بدترین سنگینیوں سے قطعی انجان محبتوں میں دھڑکتا ایک دل۔۔دوسرے کو بھی اپنے سنگ شدتوں سے دھڑکنے پر مجبور کرتا چلا گیا۔۔۔
ہماری چاہت کا لمحہ لمحہ
وصال ہوتا کمال ہوتا
تمھارا ہم سے بچھڑنا پل بھر
محال ہوتا کمال ہوتا
میری نظر میں تیرا سراپا
سنور رہا جس طرح سے جاناں
تیری نظر میں بھی اگر
میرا یہ جمال ہوتا کمال ہوتا
مجھے لے ڈوبی انا پرستی
تجھے وفا کا ہنر نہ آیا
جو چھوڑتے دونوں خو ہم اپنی
کمال ہوتا کمال ہوتا
اےکاش کہ ہم؛
تمھاری قربتوں کی حدتوں میں پگھلتے رہتے
حقیقتوں میں ڈھلا کبھی یہ
خیال ہوتا کمال ہوتا
تجھے جو معلوم ہوتے جاناں
وفا کے رسم و رواج
ساری محبتوں میں ہمارا قصہ
مثال ہوتا کمال ہوتا


دیگر ناآشنا لوگوں کے ہمراہ۔۔۔انجان۔۔ناہموار راہ پر چلتے ہوئے اس پل ان کا دل بےچینی تلے شدتوں سے دھڑک رہا تھا۔
ایسے میں آب و ہوا میں گھلی گرمی بار بار وجود سے پسینہ پھوٹنے کا سبب بنے ہوئے تھی۔
”ت۔۔تم لوگوں میں سے کیا کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ۔۔یہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔۔۔؟؟؟“ ہنوز قدم آگے کو بڑھاتے ہوئے ان کا سوال خود میں ایک الگ ہی قسم کی وحشت سمیٹے ہوئے تھا۔
”ہاں۔۔۔۔میت پر۔۔۔۔۔“ مشترکہ سفید لباس میں موجود اس ہجوم میں سے کسی ایک نے بآواز بلند جواب دیا تھا۔
بےساختہ خود کی سفید سادہ چادر کو مٹھیوں میں دبوچتے ہوئے ان کا دل ان لفظوں پر بیٹھ سا گیا۔
”م۔۔میت۔۔۔؟؟؟مگر کس کی۔۔۔۔؟؟؟“ مزید پوچھتے ہوئے وہ گھبرا ہی تو گئی تھیں۔۔
ایسے میں دہکتے سورج کی تپش مزید گہری ہوئی تھی۔
”منزل قریب ترین ہے۔۔۔خود دیکھ لینا بی بی۔۔۔۔۔۔“ اس بار پشت سے ابھرتی مردانہ آواز انھیں خشک پڑتے لبوں پر۔۔زبان پھیرنے پر مجبور کرگئی۔
اگلے ہی پل بےسکونی سے پلکیں جھپکا کر سامنے دیکھتے ہوئے ان کی نگاہیں ٹھٹھک سی گئیں۔
منظر براہ راست بدل سا گیا تھا۔
وہ کوئی وسیع رقبے پر پھیلا۔۔ہریالی سے محروم۔۔صاف کچا میدان تھا جہاں پہلے سے ہی موجود نامعلوم افراد وسط میں دھری میت کے گرد جمع تھے۔
مقابل۔۔منظرحقیقتاً دلوں کو وحشت زدہ کردینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
اس دوران چلتی ہوا کا بہاؤ ہنوز ندارد تھا۔
”راستہ دو۔۔۔۔۔راستہ دو اسے۔۔۔۔۔“ ایک ٹرانس میں چلتے قدموں کو وہ چاہ کر بھی روک نہیں پا رہی تھیں۔۔۔جب کسی کے مضبوطی سے آگے دھکیلنے پر کتنی ہی آوازیں دہکتی آگ کی مانند ان کی سماعتوں سے ٹکرائیں۔
نتیجتاً تیزی سے پیچھے ہٹتے لوگ پلوں میں انھیں سفیدکوری چادر تلے ڈھکی اس میت کے قریب تر لے آئے تھے۔
اس قدر قریب کہ یک دم بلند ہوتے بین عائمہ بیگم کو شدت سے خوفزدہ کرتے چلے گئے۔
خائف ہوتا دل کر رہا تھا کہ یہی سے فوری واپس پلٹ جائیں۔۔۔۔مگر جانے کیوں؟؟اپنے قدموں کو اس عجیب سے ہجوم کے مخالف موڑ نہیں پائی تھیں۔۔۔۔
”ک۔۔کون ہے یہ۔۔۔۔؟؟؟“ حلق سے بمشکل نکلتی۔۔لرزتی ہوئی آواز۔۔۔گرم تپش تلے مزید پھوٹتا پسینہ۔۔۔۔ان کی نگاہیں پل میں بھگو گیا تھا۔۔۔
اتنی بھی ہمت نہیں تھی۔۔۔کہ کپکپاتا ہاتھ آگے بڑھاکر کفن کا کپڑا ہٹاتے ہوئے چہرہ ہی دیکھ لیتیں۔
”تمھارا کوئی اپنا ہے۔۔۔کوئی بہت ہی قریبی رشتہ۔۔۔۔“ بین کرتے اس بار کوئی چیخا تھا۔
عائمہ بیگم کو اپنی سماعتیں پھٹتی ہوئی محسوس ہوئیں۔
”م۔۔میرا اپنا۔۔۔۔۔“ تڑپ کر کہتے انھوں نے بڑی مشکلوں سے اپنا ہاتھ کوری چادر پیچھے ہٹانے کو بڑھایا تھا۔۔۔
جانے کون تھا وہ۔۔۔۔؟؟
آخر مقابل وہ کس اپنے کی میت ہوسکتی تھی۔۔۔۔؟؟؟
دل گھائل کرتے سوالوں کے سبب آنسو تپتے گالوں پر لڑھک آئے۔
لرزتے ہاتھ چہرے سے کفن پرے کھینچنے کو تھے۔۔۔جب اگلے ہی پل ہر شے یک دم گہری سیاہی میں ڈھلتی چلی گئی۔
”ہاااا۔۔۔ا۔۔اہ۔۔ہ۔۔۔۔۔۔“ جھٹکے سے اپنی سرخ ہورہی خمارزدہ آنکھیں کھولتی عائمہ بیگم کو اپنے ڈوبتے دل کی دھڑکنیں رکتی ہوئی محسوس ہوئیں تھیں۔
معاً نیند کے سبب بھاری ہوتے سر کی پرواہ کیے بنا وہ لیٹے سے اٹھ کر بیٹھ گئیں۔
ایسے میں ادھ کھلی کھڑکی کے سبب صبح کی گہری روشنی بڑے حق سے کمرے کے اندر تک جھانک رہی تھی۔
”یا میرے خدا۔۔۔۔ی۔۔۔یہ۔۔۔یہ سب کیا تھا۔۔۔۔؟؟کیسا خواب تھا یہ۔۔۔؟؟؟“ چہرے پر ہاتھ پھیر کر پسینہ رگڑتی وہ ہنوز وحشت زدہ سی تھیں۔
وہ انجان راہیں۔۔۔
سفید لبادوں میں بین کرتے وہ عجیب سے غیرلوگ۔۔۔
اور۔۔۔اور وہ بےشناسا میت۔۔۔۔
کیا یہ خواب بےمقصد تھا۔۔۔؟؟؟
یا پھر۔۔۔۔؟؟
بےاختیار جھرجھری لیتے ہوئے عائمہ بیگم کو اپنا حلق خشک ترین محسوس ہوا۔۔۔تو آس پاس نگاہیں دوڑانے پر پانی بھرا جگ کہیں بھی دکھائی نہ دیا۔
”پ۔۔پانی۔۔۔۔پانی۔۔۔؟؟؟ اندر کی گھبراہٹ دبائے بنا وہ کھسک کر بیڈ سے اتری تھیں۔
انھیں بخوبی علم تھا کہ عائل اس وقت اپنی ڈیوٹی پر جاچکا ہوگا۔۔۔
جبکہ حسن صاحب تو گزشتہ شب سے گھرواپس ہی نہیں آئے تھے۔۔۔اور یہ کسی بھی فرد کے لیے غیرمعمولی بات ہرگز نہیں تھی۔
وہ تو کاروباری معاملات کے سبب دو سے تین راتیں بھی بآسانی باہر گزار آتے تھے۔
راشدہ۔۔۔۔؟؟؟“ کندھے پر جھولتے دوپٹے کے سنگ چلتی ہوئی وہ اپنے کمرے سے باہر نکل آئیں۔۔
مگر لاؤنج میں اس وقت کوئی بھی نہیں دِکھ رہا تھا۔
”راشدہ۔۔۔؟؟ح۔۔حاویہ۔۔۔؟؟کہاں ہو تم سب۔۔۔؟؟پانی۔۔۔۔؟؟؟“ کچھ بےسکونی سے پکارتی جہاں وہ بےتابانہ کچن کی طرف لپکی تھیں۔۔۔وہیں حاویہ اپنی یک دم بھاری ہورہی طبیعت سے گھبراتی۔۔کمرے سے باہر نکل کر سیڑھیوں تک آئی تھی۔۔۔
مگر پھر سامنے نگاہیں اٹھانے پر عائمہ بیگم کو تیزی سے کچن میں گم ہوتا دیکھ۔۔ہمت مجتمع کرتی بمشکل ایک ایک کرکے سیڑھیاں اترنے لگی۔
”اففف۔۔۔سینے میں پنپتی یہ کیسی بےچینی ہے؟؟؟جو کسی بھی صورت کم ہونے کو نہیں آرہی۔۔۔“ شیلف پر رکھے گلاس میں تواتر سے پانی انڈیلتے ہوئے انہوں نے کچھ تلخی سے سوچا تھا۔
جانے یہ راشدہ بھی اس وقت کہاں مر کھپ گئی تھی۔۔۔؟؟
”آ۔۔ا۔۔نٹی۔۔۔۔۔؟؟؟“ عائمہ بیگم قدرے بےقراری سے گلاس سوکھے لبوں سے لگانے کو تھیں۔۔جب پشت سے ابھرتی نڈھال سی آواز پر چونک کر پلٹیں۔
مگرسہارا لے کربمشکل کچن کی دہلیز پر کھڑی حاویہ کا بےدم ہوتا وجود۔۔اگلے ہی پل زمین بوس ہوتا دیکھ عائمہ بیگم کا رنگ شدت سے متغیر ہوا۔
تو کیا۔۔۔؟؟ کچھ دیر پہلے دیکھا گیا خواب اب اس صورت میں پورا ہونے جارہا تھا۔۔۔؟؟؟
بوکھلائے انداز میں گلاس وہیں پٹخ کر۔۔ہواس کھوچکی حاویہ کی جانب لپکتے ہوئے یہ سوال شدت سے ان کے اندر چیخا تھا۔۔۔۔
مابین اختلافات کی جگہ فی الوقت۔۔وحشتیں بڑھتی چلی گئیں۔۔۔


”کہاں جارہی ہو۔۔۔۔؟؟؟“ وہ ذرا سی سرک چکی چادر کو سر پر واپس درست کرتی۔۔۔گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولنے کو تھی۔۔جب پشت سے اچانک ابھرتی بھاری مردانہ آواز پر چونک کر پلٹی۔۔
پھر اسکی حالت دیکھتی صاف ٹھٹھک گئی۔۔جو کھلے گیٹ سے ابھی ابھی اندر آیا تھا۔
بادامی رنگ کرتے کے پہلے دو ٹوٹ چکے بٹن،پھٹا ہونٹ،رنگت سمیت سرخ ہورہی انگارہ نگاہوں کے ساتھ وہ سختی سے لب بھینچے اسی کی جانب مشکوک سا دیکھ رہا تھا۔
ایسے میں سر پہ بندھی سفید پٹیوں کو داغدار کرتے لہو کا تازہ دھبہ حلیمہ کو اندر سے حقیقتاً بےسکون کرگیا۔
”آ۔۔آپ یہ۔۔؟؟لڑجھگڑ کر آئے ہیں۔۔۔؟؟؟“ اسکے سوال کو یکسر فراموش کرتی وہ حیرت سے پوچھ رہی تھی۔
یہ پرکھے بنا کہ۔۔۔
مقابل شخص اسے خود کے لیے فکرمند کرنے ہنوز صلاحیت رکھتا تھا۔
منتظر ڈرائیور نے پلٹ کر ایک نظر ان دونوں کو محو گفتگو دیکھا۔پھر گاڑی اسٹارٹ کرنے کا ارادہ ترک کرتا سیدھا ہوا۔
”خلع کے سلسلے میں وکیل کے پاس جارہی تھیں ناں تم۔۔۔۔؟؟؟“ پوچھتے ہوئے سالار خان کے لہجے میں تیزی در آئی تھی۔
اس کے اس قدر صحیح اندازے پر معاً خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیرتی حلیمہ کا دل ڈوبا۔
بڑا سوچنے سمجھنے کے بعد ہی تو وہ خود کوکسی کے علم میں لائے بغیر اس قانونی کاروائی کے لیے بمشکل قائل کرپائی تھی۔۔۔
مگر اب۔۔۔
”چلو۔۔۔۔چلو میرے ساتھ اندر۔۔۔۔۔“ اسکے انداز پر ضبط کھوتے سالار خان نے بےاختیار اسکی کلائی دبوچتے ہوئے اسے اپنے سنگ اندر کی طرف گھسیٹا تھا۔
”م۔۔میرا ہاتھ چھوڑیں خان۔۔۔۔یہ کیا کررہے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟“ کام کرتی دو ملازماؤں کو حیرت سے اپنی جانب تکتا پاکر وہ ان کے سامنے سے گزرتی چلائی۔۔۔
کالی چادرسر سے اتر چکی تھی۔
مگر وہ اپنے وجود سے اٹھتی ٹیسوں پر ضبط کیے۔۔۔بےبہرہ سا تیز تیز قدم اٹھاتا اس کے کمرے تک آیا۔۔۔
پھر جھٹکے سے دروازے کے پٹ وا کرتے ہوئے حلیمہ کو اندر کی جانب دھکیلا
تو وہ گرنے سے سنبھلتی۔۔۔ گہرئے تنفس کے ساتھ سرعت سے اسکی جانب پلٹی۔
”بس اتنا جان لو حلیمہ خانزادی۔۔جذبات میں آکر تمھیں خود کو مستقل برباد کرنے کی اجازت کبھی نہیں دوں گا میں۔۔۔۔“ اسکی جانب شہادت کی انگلی اٹھائے۔۔۔پھنکار کر بولتا وہ اگلے ہی پل تندہی سے دروازے بند کرتا باہر سے کنڈی لگا چکا تھا۔
”خان۔۔۔یہ کیا پاگل پن ہے۔۔۔؟؟دروازہ کھولیں۔۔۔۔آپ یہ زبردستی اب مجھ پر نہیں چلاسکتے۔۔۔سالار خان۔۔۔۔؟؟“ حلیمہ نم۔۔ غلافی آنکھوں کے ساتھ تیزی سے آگے کو لپکتی دروازہ پیٹنے لگی۔۔۔
مگر وہ پرواہ کیے بنا وہاں سے جاچکا تھا۔
ایسے میں ستون کے ساتھ لگ کے یہ سب کچھ دیکھتی ملازمہ نے اگلے ہی پل اوپر خنساء بیگم کے کمرے کی جانب دوڑ لگائی تھی۔
سالار خان کا طیش دیکھ کر براہ راست کنڈی پرے ہٹانے کی ہمت ہی کہاں تھی بھلا۔۔۔؟؟
”معاف کرنا خنساء بہن۔۔۔۔مگر اب ہمیں یہ رشتہ کسی بھی صورت منظور نہیں ہے۔۔۔۔آپکو ہی اپنی نیک پروین بہو مبارک ہو۔۔سنبھال کر رکھیے اسے اپنے پاس۔۔۔۔۔“
اسپیکر سے ابھرتی راحیلہ بیگم کی تلخ آواز پر جہاں خنساء بیگم تیوری چڑھائے بیٹھے سے اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔۔۔وہیں بنا اجازت دروازہ کھول کر اندر آتی پریشان زدہ سی ملازمہ نے سینے پر ہاتھ رکھتے بےاختیار اپنا سانس بحال کیا۔
”بیگم صاحبہ وہ حلیمہ بی بی کو۔۔و۔۔۔۔“ فون پر محو گفتگو خنساء بیگم کو غصے سے اپنی جانب پلٹتا دیکھ اس نے گھبرا کر بولنا چاہا تھا۔۔۔مگر وہ اگلے ہی پل۔۔اسے ہاتھ کے اشارے سے بیچ میں ہی بےآواز ٹوک گئیں۔۔
پھرتحمل سے کال کی طرف واپس متوجہ ہوئیں۔
”اگر تم حلیمہ اور سالار کی علحیدگی کو لے کر پریشان۔۔۔“ اصل حقیقت سے ہنوز انجان وہ سرد لہجے میں بول رہی تھیں۔۔۔
جب دوسری طرف راحیلہ بیگم ان کی بات کاٹتی صاف ہتھے سے اکھڑیں۔
”میں اپنے بیٹے کی زندگی کو لے کر پریشان ہوں بی بی صاحبہ۔۔۔جس طرح سے آج آپکے سرپھرے بیٹے نے میرے عرفان پر سرعام اپنی غنڈہ گردی جمائی ہے ناں۔۔۔اس کے بعد تو کو جواز ہی نہیں بنتا اس نئی رشتہ داری کو نبھانے کا۔۔۔۔۔“ اپنی بات سے وہ انھیں حقیقتاً پریشان کرگئی تھیں۔
ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو ان کا جگر اچھی خاصی مار کھا کر غصیلے تیوروں سے گھر واپس لوٹا تھا۔۔۔جبکہ اسکا بگڑا چہرہ دیکھ راحیلہ بیگم کے کلیجے کو صاف ہاتھ پڑا تھا۔
ایسے میں آگ لگاتے ہوئے وہ بلاشبہ اپنے بیٹے کی۔۔۔کی گئی دست درازی کو سرےسے ہی فراموش کر گئی تھیں۔
دروازے کے قریب چپ کھڑی ملازمہ کی نگاہیں خنساء بیگم کے متغیر ہوتے رنگ کی طرف ہی تھیں۔۔۔جو دوسری طرف سے جانے کیا کچھ سن کر ہنوز سکتے میں تھیں۔۔۔
”اگر میں چاہتی تو اسکی بدمعاشی پر سیدھا سیدھا پولیس کیس کروا دیتی۔۔۔لیکن ناچاہتے ہوئے بھی اس بار دوستی کا بھرم رکھ لیا ہے میں نے۔۔۔اور چاہتی ہوں کہ یہ بھرم آگے بھی قائم رہے جو صرف رشتہ نہ ہونے کی صورت میں ہی ممکن ہے اب۔۔۔
خدا حافظ۔۔۔۔“ تندہی سے ٹھیک ٹھاک احسان جتاتی وہ اگلے ہی پل کال کاٹ چکی تھیں۔
موبائل فون کان سے ہٹاتے۔۔۔اہانت محسوس کرتی خنساء بیگم نے سختی سے لب بھینچے۔۔۔جب ملازمہ کی محتاط سی آواز سماعتوں سے ٹکراتی انھیں چونکا گئی۔
”بیگم صاحبہ وہ خان جی۔۔۔انھوں نے جی۔۔۔ زبردستی حلیمہ بی بی کو انہی کے کمرے میں بند کردیا ہے۔۔۔لاکھ منتوں کے بعد بھی انھیں رہائی نہیں دی جی۔۔۔۔۔“ جھجک کر سالار خان کے بگڑے رویے کی بابت بتاتی وہ خنساء بیگم کو قدرے بےسکونی سے پیشانی مسلنے پر مجبور کرگئی تھی۔
ان کا بیٹا اپنی بےجا من مانیوں کے سبب حقیقتاً ان کا ضبط آزما رہا تھا۔
بدمعاشیاں دکھا کر رشتہ تو وہ تڑوا ہی چکا تھا۔
اففف۔۔۔۔
اگلے ہی پل وہ مشتعل سی ملازمہ کے سنگ اپنے کمرے سے باہر نکلتی چلی گئیں۔۔۔۔


وہ اس پل پچھلی سیٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھا۔۔۔چڑھے ہوئے شیشے کے پار بظاہر بھاگتے دوڑتے عام مناظر دیکھ رہا تھا۔۔۔
مگرسوچوں کا حقیقی مرکز تو محض اسکی مخصوص ذات تھی۔۔جسے وہ ناچاہتے ہوئے بھی اپنے پیچھے سکون سے سوتا چھوڑ آیا تھا۔
ہاں۔۔۔ہاں قربتوں میں گزر چکی وہ شب یک دم سی۔۔۔غیرمتوقع ضرورتھی۔۔۔
مگر کسی من چاہے خواب سے کم قطعی نہیں تھی۔۔۔
اس دوران اندر تک ایک اطمینان سا اتر گیا تھا۔۔۔۔
صاف اطمینان مل چکا تھا کہ لاکھ رقاصہ ہی سہی۔۔۔مگر وجود سمیت اسکی روح کو تسخیرکرنے والا وہ بحیثیت شوہر۔۔۔پہلامرد تھا۔
”مجھ جتنی نہ سہی۔۔۔۔مگر محبت تو تمھیں بھی ہے۔۔۔مان کیوں نہیں لیتیں۔۔۔؟؟؟“ آس پاس بکھرتی اپنی ہی مضبوط آواز پر۔۔شاہ کو بےاختیار اسکا کچھ برہمی سے لرزتی پلکیں جھکا جانا یاد آیا۔۔۔تو سر کو جھٹکتے ہوئے لبوں پر دھیرے سےمسکراہٹ اترتی چلی گئی۔
اگر صاف اقرار نہیں تھا۔۔۔تو انکار بھی کہاں تھا بھلا۔۔۔؟؟؟
شفاف سڑک پر تیز رفتار سے رواں گاڑی اب پنڈی کی حدود سے باہرنکل چکی تھی۔۔۔۔جب اچانک گہری سوچوں کا تسلسل توڑتے موبائل فون نے۔۔شدت سے بجتے ہوئے شاہ کو بری طرح چونکایا۔
فوری جیب سے اپنا موبائل فون باہر نکال کر اس نے جلتی اسکرین پر بغور نگاہ ڈالی۔
پھر یس کرکے اسے کان سے لگایا۔
”جی جعفرصاحب۔۔۔؟؟میں پنڈی کی حدود سے نکل آیا ہوں۔۔۔اب سیدھا میٹنگ میں ملاقات ہوگی۔۔۔۔۔“ خوشگوارلہجے میں تسلی کرواتا وہ۔۔۔دوسری طرف عمارت سے نکلتے اس شخص کے نقوش مزید سرد کرگیا تھا۔
”معذرت شاہ صاحب۔۔۔آپ بالکل مت آئیے۔۔۔۔کیونکہ اب اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔۔۔“ سپاٹ لہجے میں بولتا وہ شاہ میر حسن کو شدتوں سے الجھا گیا۔
”فائدہ نہیں مطلب۔۔۔؟؟؟کیا۔۔؟؟کہنا کیا چاہتے ہیں آپ جعفر صاحب۔۔؟؟مجھے صاف صاف بتائیے۔۔۔۔؟؟“ ماتھے پر تیوری چڑھاکر پوچھتے ہوئے اس کے لہجے کی نرمی گھٹی تھی۔
”مطلب یہ کہ۔۔۔میں آپ جیسے جذباتی انسان کے ساتھ کسی بھی قسم کا بزنس ورک کرنے میں رتی بھر بھی انٹرسٹڈ نہیں ہوں۔۔۔مزید یہ کہ۔۔۔روایت کمپنی کے ساتھ میں الریڈی ڈیل سائن کرچکا ہوں۔۔۔۔“ اپنی گاڑی کا دروازہ کھول کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے وضاحت دیتا۔۔۔وہ شاہ کو ٹھیک ٹھاک تپا چکا تھا۔
”وٹ دی ہیل از دس۔۔۔۔تمھیں اندازہ بھی ہے تم کیا بکواس کررہے ہو۔۔۔؟؟؟جان لو کہ یوں ڈنکے کی چوٹ پر مکرنا تمھارے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔“
ہاتھوں سے نکلتے لاکھوں کے منافع سے کہیں ذیادہ۔۔۔جعفر باجوہ کا اپنے کہے سے پِھرجانا اسے بھڑکنے پر مجبور کرگیا۔
جبکہ۔۔۔
ہنوز گاڑی چلاتا ڈرائیور اسکے چلا کر بولنے پر چوکنا ہوا تھا۔
”تم جیسا مار دھاڑ کرنے والا شخص شریف لوگوں کو دھمکیاں دینے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا ہے۔۔۔۔؟؟فی الوقت اصل خسارہ تو تمھارا خود کا ہوا ہے۔۔۔۔“ تاسف سے دوبدو بولتا جعفر اب کہ کال بند کرنے کو تھا۔۔۔جب لفظ ”مار دھاڑ“ پر ٹھٹھکتا وہ تیزی سے بول پڑا۔
”اس میٹنگ کے کینسل ہونے کی مین وجہ جاننا چاہتا ہوں میں۔۔۔؟؟؟“ منہ پر ضبط سے ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوا تھا۔
گاڑی ہنوز اس منزل کی جانب سفر طے کرتی چلی جارہی تھی جو کہ اب۔۔۔فقط اک رواں کال پر بے منزل ہوچکی تھی۔
”مین وجہ تمھاری ویڈیو ہے۔۔۔۔“ اسپیکر سے ابھرتی آواز بڑی صاف تھی۔
”میری ویڈیو۔۔۔۔؟؟؟کونسی۔۔۔۔؟؟؟“ وہ خاصا حیران ہوا۔۔۔تو بے اختیار اگنیشن میں جاپی گھساتا جعفر اسکے رویے پر چونکا۔
تو کیا اسے خود علم نہیں تھا۔۔۔؟؟؟
”سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تمھاری ویڈیو۔۔۔سرعام لوگوں کی دلچسپی کا سامان بنے ہوئے ہے۔۔۔اور اسی کو خاص وجہ بناکر میں نے تم سے بزنس کے معاملات میں لاتعلقی اختیار کی ہے شاہ میرحسن۔۔۔۔“ اصل جواز بتلاتے ہوئے جہاں جعفر کا لہجہ تلخ ہوا تھا وہیں ان سب سے قطعی انجان۔۔۔شاہ کی تیوریاں بڑھیں۔
”مجھے وہ ویڈیو سینڈ کرو۔۔۔فوراً۔۔۔“ ضبط سے بولتا وہ اگلے ہی پل کال کاٹ گیا۔
وائرل ویڈیو کی بابت سوچتے ہوئے بےسکونی سی ہوئی تھی۔۔جس کے سبب اسے کاروباری خسارہ الگ سے ہوچکا تھا۔
”سنو۔۔۔۔؟؟؟گاڑی واپس گھومالو۔۔۔۔۔“ معاً ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ہوئے شاہ ڈرائیور سے مخاطب ہوا۔
”جو حکم سر۔۔۔۔۔“ پہلے سے ہی اپنی تماتر سماعتیں اسی کی جانب موڑے ہوئے۔۔۔ڈرائیور نے قدرے تابعداری جواب دیا تھا۔۔۔
اگلے ہی پل موبائل کی بجتی میسج ٹیون نے شاہ کی توجہ شدت سے اپنی جانب کھینچی۔
قدرے پھرتی سے اس نے ویڈیو کا آیا ہوا نوٹیفیکیشن کھولا تھا۔۔۔
اور پھر۔۔۔۔
سرخ ہورہی نگاہوں کے سامنے۔۔یک دم چلتی سکرین پر جانا پہچانا سا منظر ابھرا۔
”رقاصہ نہیں ہے وہ۔۔۔۔سنا تم نے۔۔۔۔شاہ میرحسن کی بیوی ہے وہ۔۔۔۔۔ملکیت ہے میری۔۔۔۔۔“ نیچے گرے امپلائے پر مشتعل سا پے در پے وار کرتا وہ خود ہی تو تھا۔۔۔جب دو گارڈز بھی بھاگ کر وہاں آچکے تھے۔
فقط آواز سنتے ڈرائیور نے جہاں مہارت سے موڑ لیتے ہوئے۔۔۔گاڑی واپسی کے راستے پر ڈالی تھی۔۔۔وہیں چلتی ویڈیو کو قدرے غصے سے دیکھتے شاہ نے سختی سے مٹھی بھینچ لی۔
”اس کے خلاف ایک بھی واہیات لفظ سننے کا روادار نہیں ہوں گا میں۔۔۔۔ہاں مگر واہیاتی بکنے والے کا بد سے بدترین حال ضرور کردوں گا۔۔۔۔“ چیخ چیخ کر باور کرواتے ہوئے وہ خود سے ذیادہ تو اپنی بیوی کی رسوائی کا سبب بن رہا تھا۔
”شِٹ۔۔۔ شِٹ شِٹ شِٹ۔۔۔۔۔۔“ پیشانی کی ابھر چکی رگوں کو شدت سے مسلتے ہوئے۔۔۔معاً ضبط کھوتے شاہ نے ہاتھ میں پکڑا موبائل پوری قوت سے سامنے دکھائی دیتے ڈیش بورڈ پردے مارا۔
نتیجتاً قیمتی موبائل کی اسکرین ذرا سی داغی ہوتی جہاں آپ ہی آپ بند ہوئی تھی۔۔۔وہیں گاڑی چلاتا ڈرائیور صاف بوکھلایا۔۔
مگر اس کے باوجود بھی وہ خود کا بیلنس بگڑنے سے بچاگیا تھا۔
جبکہ۔۔۔
اس سب سے قدرے لاپرواہ ہوتے شاہ نے بےاختیار اپنے خراب ہورہے دماغ کو ہاتھوں کی سخت گرفت میں جکڑا تھا۔
سمٹنے کی بجائے معاملات حد سے باہر نکلتے جارہے تھے۔۔۔۔
ایسے میں خراب ہوچکی گاڑی کے سبب سڑک کے کنارے متفکر سےکھڑے۔۔۔ عائل حسن نے موبائل فون پر بات کرتے ہوئے بے اختیار ایک سرسری سی۔۔۔ناآشنا نگاہ اپنے پاس سے گزرتی اس گاڑی پر ڈالی۔۔۔جو اب پہلے سے ذیادہ رفتار پکڑ چکی تھی۔۔۔



”ی۔۔یہ۔۔۔یہ دیکھ رہی ہو۔۔۔۔؟؟دل کے لاکھ چاہنے کے باوجود بھی میں نے اس شراب کو لبوں سے نہیں لگایا۔۔۔۔الٹا برباد کردیا۔۔۔۔“ وہ غصے سے بپھری اسکے کمرے میں آئی تھی۔۔۔جب اس نے آخری بچ چکی بھوری رنگ بوتل کو اس بار پوری قوت سے سامنے آئینے پر مارتے ہوئے بھرپور شور برپا کیا۔۔۔۔
نتیجتاً شراب سمیت کئی بھیگی کرچیاں ٹوٹ کر کچھ فاصلے پر بکھری تھیں۔
”جانتی ہو کیوں۔۔۔؟؟؟
کیونکہ میں جانتا تھا اگر لگاتا تو تمھیں برا لگتا۔۔۔لگتا ناں۔۔۔۔؟؟؟“ نچلے زخمی لب کو ہاتھ کی مضبوط پشت تلے بےدردی سے رگڑتا وہ اسکی جانب پلٹا۔۔۔تو ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچتی حلیمہ کچھ احتیاط سے اسکے قریب چلی آئی۔
جہاں خنساء بیگم سے اسے رشتہ ٹوٹ جانے کا علم ہوا تھا۔۔۔وہیں کچھ دیر گزر جانے کےبعد ملازمہ نے اسے۔۔اسکے واپس حویلی لوٹ آنے کی اطلاع دی تھی۔
”برا لگنا نہ لگنا تو بعد کی بات ہے خان۔۔۔لیکن کیا آپکو ذرا سی بھی شرم نہیں آئی عرفان پر سرعام ہاتھ اٹھاتے ہوئے۔۔۔۔آخر کس حق سے آپ اسے زد و کوب کرکے آئے ہیں۔۔۔۔؟؟؟“ مشتعیل سی چیخ کر پوچھتی وہ اسے شرمندہ کرنے میں بری طرح ناکام ٹھہری تھی۔
”تمھاری بیوی تم جیسے شرابی۔۔گھٹیا انسان پر تھوکنا بھی گوارا نہیں کرتی۔۔۔تبھی تو تمھاری لاکھ ضد کے باوجود تم سے خلع لے رہی ہے۔۔۔تاکہ دوسری بیوی بن کر میرے پاس آسکے۔۔۔میرے قریب۔۔۔میرے پہلو میں۔۔۔۔“ ایک ہی جھٹکے میں اس کا ضبط توڑنے کو کس قدر واہیات الفاظ استعمال کیے تھے ناں اس عرفان نامی ذلیل شخص نے۔۔۔
”ہاں کرکے آیا ہوں۔۔۔تمھارا نام لے کر مجھے چھیڑنے کی پہل اس نے کی تھی۔۔۔اس کے بعد ہی جوابی کاروائی میری طرف سے ہوئی ہے۔۔۔۔۔“ ضبط سے منہ پر ہاتھ پھیر کر بولتا وہ سنجیدہ ہوا۔۔۔تو اس کے اتنے آرام سے جواب دینے پر حلیمہ تاسف سے سر ہلاگئی۔
ایک طرف تو اس کے سبب سے رشتہ ٹوٹ چکا تھا۔۔۔جس کا اطمینان اس کے نیم زخمی ہوچکے چہرے سے صاف چھلک رہا تھا۔
دوسری طرف اسے خود بھی تو افسوس ہوا تھا۔۔۔لیکن گہرا دکھ یا روگ لگانے کی اجازت اس نے خود کو قطعی نہیں دی تھی۔
”تو کیا جوابی کاروائی میں غنڈہ گردی جائز ہے۔۔۔۔؟؟؟“ غلافی۔۔نم آنکھوں سے اسکی سرخ نگاہوں میں غصے سے جھانکتی وہ چبا چبا کر پوچھ رہی تھی۔
دل بلاوجہ بھڑاس نکالنے کو اتاولا ہوا جارہا تھا۔
اسکے سینے پر ہاتھ لپیٹنے کا انداز بغور دیکھتا سالار ہولے سے مسکرایا۔
اسکے ظلموں نے حقیقتاً اسے ظالم بنا دیا تھا۔۔۔
حددرجہ ظالم۔۔۔
”جائز تو تمھارا بھی اس قدر سنگدل ہونا نہیں بنتا۔۔۔معاف کیوں نہیں کر دیتیں۔۔۔۔؟؟“ سوال پر دوبدو سوال پوچھتا وہ بےاختیار اسکے قریب ہوا تھا۔
”کاش۔۔۔کاش کے میں آپ جیسے مطلبی شخص کو جائز۔۔ناجائز کا فرق پہلے معلوم ہوتا تو آج نوبت کبھی یہاں تک نہ پہنچتی۔۔۔۔“ بروقت ایک قدم پیچھے لیتی وہ کاٹ دار لہجے میں گویا ہوئی۔
سالار خان کی نگاہوں میں گھلی سرخی گریز سمیت اس کے لفظوں پر مزید گہری ہوئی تھی۔
”مانتا ہوں۔۔۔۔مانتا ہوں کہ جانتے بوجھتے تمھیں اذیتوں میں مبتلا رکھنے کا بارہا روادار ٹھہرچکا ہوں میں۔۔۔مگرایسی بھی کیا سنگدلی؟؟ کہ خطاکار کو پشیمان ہونے پر غلطی سدھارنے کا دوسرا موقع ہی نہ دیا جائے۔۔۔۔“ اس بار آگے بڑھ کر بلا جھجک اس کا چہرہ نرمی سے تھامتا وہ اذیت سے پوچھ رہا تھا۔
اس کی جرات پر وہ پل بھر کو تھمی۔پھر لب بھینچ کر اس کے ہاتھ تھامتی درشتگی سے پرے جھٹک گئی۔
نم پڑتی نگاہوں میں صاف تنبیہہ تھی۔
”غلطی۔۔۔؟؟؟قدم قدم پر دل توڑنے کا صاف گناہ کرچکے ہیں آپ۔۔۔۔“ تڑخ کر باور کرواتی وہ اسے اس بار حقیقتاً شرمندہ ہونے پر مجبور کرگئی تھی۔
”ہاں تو۔۔۔کیا میرا یہ عمل ناقابلِ معافی ہے۔۔۔؟؟؟“ اپنے خالی ہاتھوں کو ضبط سے ایک نظر دیکھتا وہ بےچین ہوا تھا۔
جواباً وہ شدت سے نفی میں سرہلاتی اسے مزید بےسکون کرگئی۔
”میرے پاس آپکو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے خان۔۔۔۔معافی بھی نہیں۔۔۔۔“ کہتی وہ جانے کو پلٹی تھی جب۔۔۔بےتاب سا آگے بڑھتا وہ سرعت سے اسکی کلائی تھام کر اپنی جانب گھوما گیا۔
”ایسے مت کہو۔۔۔خدا کے لیے اتنی ظالم مت بنو۔۔۔اپنے کیے پر پشمان ہوں تو سہی۔۔۔
باقاعدہ گناہ کا اعتراف بھی کر رہا ہوں۔۔۔
تم سے معافی کا طلبگار الگ سے ہوں۔۔۔“ نازک پشت پر مضبوطی سے بازو حائل کرتا وہ حلیمہ کو پورے استحقاق سے اپنے حصار میں لے چکا تھا۔
اس کے بےبسی تلے بھاری ہوتے لہجے پرحلیمہ کا شدتوں سے دھڑکتا دل۔۔اسکی قربت میں ڈوب کر ابھرا۔
”اب کیا جان لوگی۔۔۔۔؟؟؟“ لال پڑتے چہرے پر بےاختیار مدھم پھونک مارتا وہ اسے بولنے پر اکسا رہا تھا۔۔۔جو بھیگی آنکھیں پھیلائے حیرت سے اسی کے وجیہہ نقوش تک رہی تھی۔
”پہلی محبت۔۔بھلائے نہیں بھولتی خان۔۔۔۔“ معاً چوڑے سینے پر ہتھلیاں جماکر اسے خود سے پرے دھکیلنے میں ہلکان ہوتی۔۔۔وہ اسے حقیقت کا آئینہ دکھا رہی تھی۔
سالار خان نے اسکے چوٹ کرنے پر اپنی گرفت مزید مضبوط کی۔
”محبت دوبارہ بھی تو ہوسکتی ہے ناں۔۔۔؟؟“ سینے پر نازک مکے کھاتا وہ مزید بہکتے انداز میں گویا ہوا۔۔۔
ہاں شاید۔۔۔وہ اس سے رابی جیسی شدید محبت کرنے کا روادار کبھی نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔لیکن بحیثیت بیوی۔۔اس کی چاہ تو کرہی سکتا تھا ناں۔۔۔۔
مقابل کی دل دھڑکاتی من مان پر حلیمہ نے بےاختیار دانت پیسے۔
”محبتوں میں مکر جانا آپکی فطرت میں شامل ہے۔۔۔۔“ غرا کر کہتی۔۔۔وہ پوری قوت لگا کر اسے خود سے پرے دھکا دے چکی تھی۔
آنسو ٹوٹ کر تپتے گالوں پر پھسلے۔
نتیجتاً لڑکھڑاتا ہوا جہاں وہ کئی قدم پیچھے ہوا تھا۔۔وہیں پیروں تلے آتے نوکیلے کانچ پر شدت سے اٹھتی تکلیف اگلے ہی پل حلیمہ کو ٹھٹھکا گئی۔
”خدا قسم۔۔ا۔۔اس بار نہیں مکروں گا۔۔۔۔“ بڑے ضبط سے پیر اٹھا کر۔۔لہو ہوچکا کانچ بےدردی سے کھینچ کر باہر نکالتا وہ اسے اب بھی اپنا یقین دلانے سے باز نہیں آیا تھا۔
بے اختیار حلیمہ اس کی اذیت خود میں محسوس کرتی بےتابانہ اسکی جانب بڑھی۔
”بالکل اس آئینے کی مانند۔۔۔ٹوٹ کر بکھر چکے اعتبار کو واپس جوڑنا مشکل ترین ہے میرے لیے۔۔۔۔“ شدتِ بےبسی سے رو کر بولتی وہ اس کے سنگ پل پل بکھررہی تھی۔
”فقط ایک آخری بار موقع دے دو۔۔۔پھر سب آسان کردوں گا تمھارے لیے۔۔۔۔“ درد سے صاف لاپرواہ بنتا ہوا۔۔ہاتھ بڑھا کر بھیگے گال صاف کرتا وہ نم پڑتی آنکھوں کے ساتھ شدت سے ملتجی ہوا تو۔۔جواب میں حلیمہ اس کے ہاتھ نرمی سے تھامتی لب بھینچ گئی۔
مزید گھائل تو وہ بذات خود ہوا تھا۔۔۔ لیکن اپنی ملامت تلے وہ اسے بھی گھائل کرنے پر تلا تھا۔۔
”دل کا کیا کروں۔۔؟؟جو اس پل کسی بھی منطق کو ماننے کے لیے رضامند نہیں ہے۔۔۔۔“ وہ اب بھی بضد تھی۔
اتنی آسانی سے سب مان لینا مشکل ترین ہی تو تھا اس کے لیے۔۔۔
سالار خان کے سر میں شدت سے اٹھتی ٹیس جلتی نگاہوں کی نمی مزید گہری کرگئی۔
”میری بے چین دھڑکنوں کی التجا کو محسوس تو کرو۔۔۔۔تمھارے دل کی یہ بغاوتی کیفیت خوبخود بدل جائے گی۔۔۔۔“ بےاختیار اسکی نرم ہتھیلی کو اپنے دھڑکتے دل پر رکھتا وہ اسکی دھڑکنیں مزید بکھیر گیا۔
”آپ کی یہ ضد اب مجھے بے چین کیے دے رہی ہے خان۔۔۔۔۔“
معاً اس کے۔۔۔نازک پشت پر استحقاق بھرا لمس چھوڑنے سے پہلے ہی وہ۔۔جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر پلٹتی۔۔ گہرے گہرے سانس بھرنے لگی۔
اس کے نئے سرے سے یوں مات دینے کے ارادے حقیقتاً جانلیوا تھے۔۔۔
سالار خان کا دل اس کے صاف منہ پھیرلینے سے لہو ہونے لگا۔۔تو لڑکھڑا کر چلتے ہوئے سامنے آتا وہ بڑے ضبط سے اسکے ہاتھ تھام گیا۔
حلیمہ نے بہتی نگاہوں سے اسکے گالوں پر ٹوٹ کر لڑھکتے آنسوؤں کو دیکھا۔
”فقط ایک بار میرے حق میں اقرارکردو بیوی۔۔فقط ایک بار۔۔۔پھرسکون دینا میرا کام ہے۔۔۔“ تھکے تھکے سے انداز میں گھٹنوں کے بل گر کر کہتا وہ اسے ساکت ہی تو کرگیا تھا۔
بھلا کہاں دیکھا تھا اس نے مقابل کا دل کو شدت سے بھاتا۔۔۔یہ دل ہارتا روپ۔۔۔؟؟
ایسے میں دہلیز پر ٹھٹھک کر رکتی خنساء بیگم نے بیٹھتے دل کے ساتھ اپنے لخت جگر کی جھکتی بےبسی کو دیکھا۔۔۔تو
اگلے ہی پل۔۔تیزی سے نم پڑتی نگاہیں حلیمہ سے ملتے ہی۔۔ان کے ہاتھ ملتجیانہ انداز میں جڑتے چلے گئے۔
گزارش صاف مان جانے کی تھی۔۔۔۔
اس دوران وہ شکست خوردہ سا سر جھکا چکا تھا۔
جواباً پگھلتے دل کے سنگ حلیمہ کی نم پلکیں بھی جھکتی چلی گئیں۔
”اگر اس بار دغا دے دیا تو میری سانسوں کا چلنا محال ہو جائے گا۔۔۔سوچ لیں۔۔۔۔“ جہاں خنساء بیگم بنا آواز۔۔۔ کھلے دروازے بند کرتی وہاں سے چلی گئی تھیں۔۔۔وہیں وہ بھی اس کے مقابل۔۔۔قریب ہوکر بیٹھتی۔۔۔بھرائی آواز میں گویا ہوئی۔
ہاتھ ہنوز اس کی سلگتی گرفت میں تھے۔
سالار خان نے جھکا سر اٹھاکر بےتابانہ اسکی جانب دیکھا۔۔۔
نرم پڑتا دل اسے نم آنکھوں کے سنگ کھل کر مسکرانے پر ہی تو قائل کرگیا تھا۔
”سوچ لیا۔۔۔ہر لحاظ سےسوچ لیا۔۔۔۔خدا قسم زندگی میں کبھی یہ بدترین لمحات نہیں آنے دوں گا۔۔۔۔۔۔۔“ بےخود ہوکر اسکے ہاتھ کی پشت پر کچھ عقیدت سے اپنا نرم لمس چھوڑتا وہ حلیمہ کو شدت سے جھجکنے پر مجبور کرچکا تھا۔
نتیجتاً۔۔حیاء کے سبب گالوں کی سرخی تیز ہوئی۔
”و۔۔وعدہ۔۔۔۔۔؟؟؟“ یک لفظی سوال پوچھتی وہ خود کے سنگ اسکا دل بھی شدتوں سے دھڑکا گئی۔
”وعدہ میری جان۔۔۔وعدہ رہا۔۔۔۔اور اگر نہ رہا۔۔۔تو سمجھ لینا سالار خان اپنی سانسیں کھو چکا ہے۔۔۔۔“ مضبوط لہجے میں بولتے ہوئے جہاں سالار خان نے اگلے ہی پل بڑے استحقاق سے اپنی خانزادی کو خود کے سینے میں سمیٹتے بالوں پر لمس چھوڑا تھا۔۔۔وہیں دور کہیں پل پل اپنی تپتی روشنی کھوتا سورج۔۔راہ میں شدت سے حائل ہوتے گھنگھور بادلوں کے پیچھے چھپاتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔
میرا سوچنا تیری ذات تک
میری گفتگو تیری بات تک!!
نہ تم ملو جو کبھی مجھے
میرا ڈھونڈا تجھے پار تک؛
کبھی فرصتیں جو ملیں تا آ
میری زندگی کے حصارتک!!
میں نے جانا کہ میں تو کچھ نہیں
تیرے پہلے سے تیرے بعد تک!!!