Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12


ٹیچر کی غیرموجودگی میں کلاس کے کھلے دروازے سے بےوجہ اندر باہر ہوتی لڑکیاں اس پل بےخوف دکھائی دےرہی تھیں۔جہاں چند ایک آپس میں سر جوڑے سرگوشیوں میں اپنے راز ایک دوسرے کی سماعتوں میں گھولنے میں مصروف تھیں وہیں باقی بھی بآواز بلند قہقے لگاتی گپیں جھاڑ رہی تھیں۔ایسے میں نیناں خود بھی اپنی جانب متجسس انداز میں تکتی کچھ لڑکیوں سے بےپرواہ اُسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی جانے کب سے اُسے منانے کی کوششوں میں تھی لیکن مقابل کے خفا خفا سے نقوش ہنوز بگڑے ہوئے تھے۔
”معاف کردے میری ماں۔۔۔۔معاف کردے مجھے۔۔۔۔بہت بڑی غلطی ہوگئی مجھ سے جو میں نے تجھے بن بتائے ہی کالج سے چھوٹی کرلی تھی۔۔۔۔میری توبہ جو میں دوبارہ یہ کام کروں۔۔۔۔“ اپنی انگلیوں میں پھنسی اُسکی نازک انگلیاں مزید جکڑتی وہ دہائی دینے والے انداز میں بولی۔
”ایسے کیسے معاف کردوں میں تمھیں۔۔۔۔؟؟تمھاری وجہ سے میرے جو اتنے آنسو ضائع ہوئے ہیں اُن کا حساب کون چکائے گا۔۔۔۔؟؟“ اپنے اندر کی باقی کھولن بھی اُس پر اتارتی وہ تڑخ کر بولی تو نیناں کو بےاختیار کوفت سی ہونے لگی۔
”تو یعنی تم ایسے نہیں مانو گی۔۔۔؟؟“ بجھتے دل کے ساتھ اُسنے تصدیق چاہی۔انگلیوں کے گرد گرفت ڈھیلی پڑی تھی۔
”نہیں۔۔۔۔“ ٹکا سا جواب حاضر تھا۔
وہ الگ بات تھی کہ دل اُسکی بےچاری سی شکل دیکھ کر پگھل پگھل جارہا تھا۔
”ٹھیک ہے۔۔۔مت مانو۔۔۔ویسے اگر تم مان جاتی تو میں تمھیں بتاتی کہ کل کس طرح مجھے تمھارے اے۔ایس۔پی کی کال آئی تھی۔۔۔۔اور آگے سے میں نے اُس سے کیا کیا باتیں کیں۔۔۔۔؟؟؟لیکن افسوسسس۔۔۔۔“ اُسکے ہاتھوں کو آزاد بخشتی وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہونے ہی والی تھی جب حاویہ نے جھٹکے اُسکی کلائی اپنی جانب کھینچ کر اُسے واپس گھٹنوں کے بل بیٹھادیا۔
”کیا مطلب۔۔۔۔؟؟؟عائل جی نے تمھیں کال کی تھی۔۔۔۔؟؟پر کیوں۔۔۔۔؟؟“ تمام تر خفگی بھلائے وہ حیرت زدہ سی اُس سے استفسار کرگئی تو نیناں اُسکی بےاختیاری پرمسکراہٹ دباتے ہوئے چہرہ پھیرگئی۔
”تم تو مجھ سے بات ہی نہیں کرتی۔۔۔۔تو پھر میں تمھیں یہ سب کس حق سے بتاؤں محترمہ۔۔۔؟؟“ اب کہ سود سمیت بدلہ لینے کی باری نیناں کی تھی۔
”نینی میرا دماغ خراب مت کرو۔۔۔تم سیدھی طرح بتاؤ کیا بات ہوئی ہے تم دونوں کے بیچ۔۔۔؟؟نہیں تو میں تمھارا گلا دبادوں گی۔۔۔۔کہیں اُنھوں نے ہمیں اریسٹ کرنے کی دھمکی تو نہیں دے دی۔۔۔۔؟؟“ سب کچھ پل میں جان لینے کو بےتاب ہوتی وہ روہانسی ہوکر بولی۔
آواز ہنوز مدھم تھی لیکن تیزی سے دھڑکتے دل کا شور مزید بڑھنے لگا تھا۔
”نہیں بتاؤں گی۔۔۔۔“ اُسکے اس قدر خوف پر امڈتے قہقے کو بڑی آفتوں سے روکتی وہ حقیقتاً اُسکا صبر آزماگئی تھی۔
”ٹھیک ہے۔۔۔۔مت بتاؤ۔۔۔پھر میں بھی ابھی جاکر پرنسپل سر کو بتاتی ہوں کہ تم نے اُنکے آفس میں گھس کر نمبرررر۔۔۔۔۔“ اُسکی ہٹ دھڑمی سے بری طرح خار کھاتی وہ چٹخ گئی جب نیناں اُسکے ایکدم اونچے ہونے والے والیوم پر بوکھلاتی سرعت سے اُسکے لبوں پر اپنی ہتھیلی جماگئی۔
”آہستہ بول کمینی۔۔۔۔کیوں مروانا چاہ رہی ہے مجھے۔۔۔؟؟؟“ دانت پیس کر دھیمی آواز میں غراتی وہ حاویہ کو اُسکی بےاختیاری کا شدت سے احساس دلاگئی تھی جب اچانک کلاس میں مدھم پڑتا شور شرابہ اچانک سے سناٹے کی زد میں آ گیا۔
نیناں نے حاویہ کے لبوں کو ہنوز اپنی گرفت میں لیے جہاں ناسمجھی سے کلاس کی تقریباً ساری لڑکیوں کو دیکھا تھا وہیں حاویہ کی بھوری آنکھیں ٹیچرندا کو دروازے پر کھڑا پاکر بے اختیار پھیل گئیں۔
”نیناں۔۔۔۔یہ کیا طریقہ ہے کلاس میں بیٹھنے کا۔۔۔۔؟؟؟آپ میں مینرز نام کی کوئی چیز باقی ہے کہ نہیں۔۔۔۔؟؟گیٹ اپ ناؤ۔۔۔۔آئی سیڈ گیٹ اپ۔۔۔“ اپنی پشت سے سنائی دیتی مس ندا کی سخت آواز پر نیناں آنکھیں پھاڑے جھٹکے سے اٹھتی پیچھے پلٹی۔
لڑکیوں کی دبی دبی ہنسی پر اُسکا گلا مزید خشک پڑا تھا۔
حاویہ کی سانسیں کیا ہی بحال ہونی تھیں الٹا مس ندا کی یکلخت آمد اور اُس پر مستزاد اُنکے بگڑے تیور دیکھ کر مزید دھیمی پڑگئیں۔
”میم۔۔۔۔وہ میں۔۔۔۔“ اپنی بوکھلاہٹ پر بمشکل قابو پائے اُسنے اپنی صفائی دینا چاہی جب مس ندا کو اُسکے مزاحمت کرتے لب قدرے ناگوار گزرے۔
”شٹ اپ۔۔۔۔یہاں کوئی فلم کا سین شوٹ نہیں ہورہا جو آپ دونوں آپس میں کسی رومینٹک کپل کی طرح سب کے سامنے شوخیاں جھاڑتی پھر رہی ہیں۔۔۔یہ کالج ہے۔۔۔پڑھنے کی جگہ۔۔۔یہاں سب پڑھنے آتی ہیں نہ کہ یہ قابل اعتراض حرکتیں کرنے۔۔۔جب سینئر کلاس کا یہ حال ہے تو ایسے میں جونیئرز سے کیا توقع رکھی جاسکتی ہے۔۔۔۔؟؟؟“ اس بار مس ندا نیناں کے ساتھ ساتھ حاویہ کو بھی اندر گھسیٹتی اچھا خاصا جھاڑگئیں۔
یہ اُن دونوں کی بدقسمتی ہی تو تھی جو وہ بھری کلاس میں مس ندا کے خراب موڈ کا شکار ہو گئی تھیں۔
”میم ہم معصوموں کا جونیئرز سے مقابلہ مت کیجیے۔۔۔وہ پڑھائی کے علاوہ ہر کام میں ہم سے بہت آگے ہیں۔۔۔۔اور رہی بات قابلِ اعتراض حرکتوں کی تو اپنی ناراض دوست کو منانا میری نظر میں کوئی شرمناک حرکت نہیں ہے۔۔۔۔“ موقع کی مناسبت سے اپنا لہجہ دھیماکرتی وہ دوبدو بولی۔
”اب آپ مجھے سیکھائیں گی محترمہ کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔۔۔؟؟؟“ چٹخیلے انداز میں بولتی وہ اُسکے سر پر جا پہنچیں۔نیناں کا آگے سے جواب دینا آگ ہی تو لگاگیا تھا اُنھیں۔
”سوری میم۔۔۔۔۔“ بدزبانی کا ارادہ ترک کرتی وہ شکست خوردہ سی نگاہیں جھکاگئی تو مس ندا اُسکی معذرت کو خاطر میں لائے بغیر دیوار پر نصب گھڑی کی سوئیوں کا مشاہدہ کرتی تاسف سے سر جھٹک گئیں۔
جبکہ حاویہ نیناں کی فکر میں گھلتی اپنی تمام تر ناراضگی پر کب کی لعنت بھیج چکی تھی اور بلاشبہ اس فکر میں عائل کے نام کی بےچینی بھی گھر کرگئی تھی۔۔۔


اُسکی آنکھوں پر ہتھیلی جمائے وہ اُسے دہلیز پار کرواتا اپنے قدم پورچ کی جانب موڑگیا۔لبوں پر دلکش مسکراہٹ ہنوز برقرار تھی۔اُن دونوں کی تقلید میں چلتی پُرجوش سی آئمہ بیگم بھی اپنے لاڈلے بیٹے کی خوشی دیکھنے کے لیے اِس پل قدرے بےتاب دکھائی دے رہی تھیں۔
ایسے میں مالی بابا سمیت گیٹ کے قریب پہرہ دیتے گارڈز بھی بروقت اپنے کام سے توجہ ہٹاتے حسرت بھری نگاہوں سے اپنے چھوٹے صاحب کے لاڈ اٹھوانے والے اِس منظرکو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہے تھے۔
” اورکتنی دور ہے بھائی۔۔۔۔؟؟؟مجھ سے مزید ویٹ نہیں ہوپا رہا یار۔۔۔۔“ بند آنکھوں میں سمائی سیاہ تاریکی سے حقیقتاً چڑتا وہ جھنجھلاکر گویا ہوا تو عائل سمیت عائمہ بیگم کی مسکراہٹ اُسکی بےصبری پر مزید گہری ہوتی چلی گئی۔
حسن صاحب کے علاوہ شام تقریباً سبھی سے اپنی برتھڈے وِشز وصول چکا تھا اور شاید اُسے اپنے باپ کی خود سے برتی گئی اِس لاتعلقی کی بابت کوئی خاص فرق پڑتا بھی نہیں تھا۔گزشتہ رات سوئی کے بارہ کا ہندسہ پار کرتے ہی اُسے بےتحاشہ میسجز اور کالز نے اپنے گھیرے میں آن جکڑا تھا جس کا جواب دیتے دیتے نتیجتاً وہ ساری رات ہی نیندسے کوسوں فاصلے پر جاگتا رہا تھا۔
”بس دو کلو میٹر کا فاصلہ باقی رہ گیا ہے پھر ہم یقیناً تمھارے گفٹ تک پہنچ جائیں گے انشاءاللہ۔۔۔۔“ مسکاتی آواز میں بولتا ہوا وہ اپنے تمسخرے پن سے شام کو چڑچڑاتی طبیعت کے باوجود بھی مسکرانے پر مجبورکرگیا۔
”انسپیکٹر صاحب۔۔۔اپنے جان سے بھی عزیز چھوٹے بھائی کو ستانے کے جرم میں قانون کونسی سزا عائد کرتا ہے آج ذرا یہ بات بھی آپ مجھے بتادیں۔۔۔؟؟؟“ اُسکی پیروی میں احتیاط سے قدم اٹھاتا وہ اپنی مسکراہٹ دبائے ذرا سنجیدگی سے گویا ہوا۔
”معاملہ جو بھی ہو بس کسی بھی حال میں انسان کو صبر۔۔۔خاموشی اور برداشت کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دینا چاہیے۔۔۔۔“ اُسکے سوال پر بےاختیار ہنستا وہ آرام سے بولا۔
”اور سچ کا بھی۔۔۔۔“ اپنی آنکھوں پر موجود عائل کے ہاتھ کی پشت کو ہولے سے تھپتھپاتا وہ ہنسا جب اگلے ہی پل اُسے مضبوط دباؤ کے احساس تلے ٹھٹھک رکنا پڑا۔
”کیا۔۔۔؟؟؟ہوگئے دوکلو میٹر پورے۔۔۔۔؟؟؟“ عائل کے ایک جگہ جم جانے پر قدرے تحمل سے پوچھتے ہوئے اُسنے جیسے تصدیق چاہی۔
جبھی عائل اُسکی گھنی خم دار پلکوں سے اپنی مضبوط ہتھیلی پرے ہٹاگیا تو زور سے پلکیں جھپکاتا وہ سامنے کھڑی بلیوکلر کی لشکارے مارتی ہیوی بائیک کو دیکھ کر پل بھر کو ٹھٹھکا۔
”کیسا لگا سرپرائز۔۔۔۔۔؟؟؟“ شام کی اس قدر گہری محویت محسوس کرتے ہوئے جہاں عائمہ بیگم پُرسکون ہوتی کھل کر مسکرائی تھیں وہیں عائل اُسکے کندھے پر بازو دھڑتا اُسے ہوش کی دنیا میں واپس لایا۔
” کمال کردیا ہے آپ نے تو یار۔۔۔۔مطلب کہ۔۔۔۔“ چونک کر خوشگوار حیرت سے بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ ہولے سے ہنسا۔مارے خوشی کے الفاظ گویا لبوں پر ہی دم توڑگئے تھے۔
”میں جانتا تھا تمھیں یہ گفٹ ضرور پسند آئے گا۔۔۔۔“ اُسے ہیوی بائیک کی جانب تیزی سے لپکتا دیکھ عائل پُریقین سا بولا جو اب گہری نظروں سے ماڈل نیم پڑھتا مزید پُرجوش ہوتا جا رہا تھا۔
”یہ بولنے کی ضرورت ہی کیا ہے عائل بیٹا۔۔۔؟؟دیکھ نہیں رہے اُسکے چہرے پر بکھرے خوشیوں کے رنگ۔۔۔اپنی ماں سے بھی ذیادہ اُسے تمھارا دیا تحفہ پسند آیا ہے۔۔۔۔“ نرم لہجے میں میٹھاس بھرا طنز گھولتی عائمہ بیگم کی نگاہیں بےاختیار شام کی کلائی میں دمکتے سلور ڈائل پر پڑیں تھیں جو کہ اُنہی کی جانب سے شام کو دیا جانے والا پہلا قیمتی نذرانہ تھا۔
”ڈیڈ تو یقیناً ناراض ہوگئے ہوں گے آپ سے۔۔۔“ کالی سیٹ کی شفاف سطح پر انگلیاں پھرتے جہاں اُسکے دماغ میں چند دنوں میں ہونے والی نیو ریس کا خیال تیزی سے کوندا تھا وہیں حسن صاحب کی شدید ناراضگی کا سوچتے ہوئے اُسکے لبوں کی مسکراہٹ بےاختیار مدھم پڑی۔
بھوری آنکھوں میں یکدم ہی سردمہری گھلی تھی۔
اپنی بات کے فراموش کیے جانے سے ذیادہ حسن صاحب کے نام پر عائمہ بیگم کا منہ کڑوا پڑا تھا۔
”ایسی کوئی بات نہیں ہے شام۔۔۔انفیکٹ وہ تو مجھے تمھیں بائیک کی بجائے گاڑی گفٹ کرنے کا مشورہ دے رہے تھے۔۔۔پرتمھاری پسند کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مجھے یہی چوائس بیسٹ لگی۔۔۔۔۔“ اُسکے درست اندازے پر سمٹتی مسکراہٹ کو پل میں بحال کرتا وہ کچھ مفاہمتی انداز میں گویا ہوا۔
”ہونہہ۔۔۔جیسے کہ میں تو جانتا ہی نہیں ناں اُنکے مشورے کے پیچھے کا مقصد۔۔۔۔“ زیرلب بڑبڑاتا وہ اپنا موڈ مزید خراب کیے بغیرسرجھٹک کر مسکراتا ہوا عائل کی جانب لپکا۔
”آئی لو یو برو۔۔۔۔۔“ گفٹ کے بدلے قدرے لاڈ سے اُسکے کشادہ سینے سے لگتا وہ عائل کے دل میں اپنی چاہت مزید بڑھاگیا تو پاس کھڑی عائمہ بیگم کے لبوں سے بےاختیار اپنے بیٹوں کی تاعمر خوشیوں کی دعا نکلی۔
”میں تو اپنی بیوی کو ہی بولوں گا۔۔۔۔“ مدھم لہجے میں آنکھ دباکر بولتا وہ پل میں اُسکی مسکراہٹ چھین گیا۔
”کسے۔۔۔۔وہ جو حر۔۔۔۔“ جواب میں وہ بھی الگ ہوتا عائمہ بیگم کے سامنے ہی سارے راز کھولنے پر اتر آیا جب عائل گڑبڑاتا ہوا اُسے بیچ میں ہی ٹوک گیا۔
”اچھا تو یہ فارم ہاؤس کا کیا سین ہے۔۔۔۔؟؟؟موم بتارہی تھیں کہ تم اس بار اپنی برتھ ڈے پارٹی وہاں ارینج کررہے ہو۔۔۔۔“ ناسمجھی سے خود کی جانب تکتی عائمہ بیگم کو ایک نظر دیکھ کر عائل نے بظاہرسنجیدگی سے سینے پر بازو لپٹتے تصدیق چاہی تو وہ اُسکی بروقت ہوشیاری پرمسکراتا بےساختہ اثبات میں سرہلاگیا۔
”جی بھائی۔۔۔۔ایسا ہی ہے۔۔۔۔ایکچولی یونی فرینڈز کی ریکوئسٹ تھی الگ سے ہلہ گُلہ کرنے کی تو کچھ میرا موڈ بھی یہی ہورہا تھا۔۔۔۔بس اسی لیے۔۔۔۔“ اچھے خاصے منصوبے کو سرسری سا انداز دیتا وہ کچھ لاپرواہی سے بولا جبکہ عائل اُسکے ہلے گُلے کو عام معنوں میں لیتا تائید میں گردن ہلانے لگا۔
”ہوں۔۔۔۔ڈیڈ تو یقیناً انوائٹڈ ہوں گے اس پارٹی میں۔۔۔؟؟؟“ عائل نے جان بوجھ کر اُسے پھرسے چھیڑا تو عائمہ بیگم کی اُس کی جانب اُٹھتی گھوری بےساختہ تھی۔
” کیا بھائی آپ بھی۔۔۔۔؟؟کیوں میرے سارے فرینڈز بھگانے کے چکروں میں ہیں یار۔۔۔۔؟؟؟“ پچھلے ہنگاموں کو مدِنظر رکھتا وہ قدرے بےچارگی سے بولا۔
”سدھرجاؤ بگڑے نواب۔۔۔۔۔۔اب اگر میرے ڈیڈ کے خلاف ایک بھی بات منہ سے نکالی تو سچ میں اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر اُن کے ہمراہ تمھاری پارٹی میں چلاآؤں گا۔۔۔۔“ شہادت کی انگلی اٹھائے بظاہر ڈپٹنے والے انداز میں بولتا وہ ہنوز غیرسنجیدہ تھا۔
”لیں نہیں بولتا کچھ بھی۔۔۔۔آپکو ہی آپکے سویٹ سے ڈیڈ مبارک ہوں۔۔۔۔“ مقابل کی دھمکی پر مصنوعی گھبراہٹ کا دکھاوا کرتا وہ لبوں پر انگلی دھڑتے دونوں کو ہی کھل کرمسکرانے پر مجبور کرگیا۔۔۔


وہ کافی عجلت میں بغیر ناک کیے آفس روم میں داخل ہوئی تھی۔دو دن گزرجانے کے بعدآج وہ شاہ کو اپنے روبرو دیکھنے والی تھی شاید جبھی دل کی بےہنگم دھڑکنیں اُسے بےچین کرتی دغا دینے پر تلی تھیں۔
لیکن اگلے ہی پل جو نظارہ بدقسمتی سے اُسکی اُٹھتی پلکوں تلے نیلی نگاہوں نے دیکھا تھا وہ اُسکے نازک وجود کو پتھرانے کے لیے کافی تھا۔
گھبرائے تاثرات چہرے پر بکھیرے نیو امپلائے سمن لطیف اپنے بازو شاہ کے مضبوط کندھوں پر لپیٹے شدت سے اُسکے فکرمند نقوش ازبرکررہی تھی جب اُسکی آمد پر وہ دونوں ہی ایک پل کو بوکھلاتے سنبھل کر دور ہوئے۔
ٹرے کے کناروں کو سختی سے جکڑتے ہوئے بےاختیار ہی آبرو کے سینے میں آگ سی جلنے لگی۔
”تم ٹھیک ہو۔۔۔۔؟؟؟“ اپنا کالر ٹھیک کرتا شاہ آبرو کے ضبط سے سرخ پڑتے مکھڑے کو بغور دیکھتا بظاہرسمن سے مخاطب تھا۔
یہ دیکھ کر آبرو نے بےاختیار گہرا سانس بھرتے نظریں پھیری تھیں جیسے آکسیجن کی شدید کمی ہوگئی ہو۔
”ی۔۔۔یس۔۔۔یس سر۔۔۔ایم آل رائٹ۔۔۔اگر میں نے بروقت آپ کا سہارا نہیں لیا ہوتا تو یقیناً اس وقت نیچے بیٹھی اپنی کمر مسل رہی ہوتی۔۔۔۔اور شاید پاؤں بھی۔۔۔۔تھینک یو سو مچ جو آپ نے مجھے گرنے سے بچالیا۔۔۔۔“ شدت سے احسان مند ہوتی سمن کھل کر مسکرائی۔پھسلنے سے بچنے کی خاطر وہ اپنے باس کا سہارا تو پاگئی تھی لیکن اس چکر میں جو اُسکا دل اُسکے کنٹرول سے پھسلتا حدود پھلانگ گیا تھا اُسکا وہ کیا کرتی۔۔۔؟؟
”سہارا دینے کا تو میں دل سے قائل ہوں مس سمن۔۔۔۔لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی کم عقلی کے باعث میری اس عنایت کو ڈیزرو کرنے کے قابل نہیں رہتے۔۔۔۔“ دبے لفظوں میں براہِ راست آبرو کے دامن بچانے پر گہری چوٹ کرتا وہ ہنوز اُسی پر نظریں ٹکائے ہوئے تھا جب سمن نے کچھ ناسمجھی سے شاہ کی جانب دیکھا۔آبرو کو وہ ابھی بھی پورے اعتماد سے مکمل نظرانداز کیے ہوئے تھی۔
”سر۔۔۔آپکی کافی۔۔۔۔“ اپنے بڑھتے غصے سمیت بےچینی کا بمشکل گلا گھونٹتی وہ بےتاثر لہجے میں اپنے اٹھتے قدم ٹیبل کی جانب بڑھاگئی جبکہ اُسکی پل پل بدلتی ہر ادا آج شاہ کو ایک الگ ہی مزہ دےرہی تھی۔
اور وجہ اُسکی منفرد اداؤں میں گھلی جلن تھی جو شاید وہ پہلی بار محسوس کرتا شرسار سا ہورہا تھا ورنہ تو اُسکا لاپرواہ انداز اُسے ہمیشہ ہی نئی اذیت سے دوچار کرجاتا۔انجانے میں آبرو کو سرتاپیر سلگانے کا ایک اور سرا بغیر کسی تگ و دو کے شاہ کے ہاتھ لگ گیا تھا جسے وہ آگے جاکر مزید کھینچنے کا ارادہ انہی لمحوں میں بنا چکا تھا۔
”ہوں۔۔۔۔آپ نے فرسٹ میں ہی بہت اچھا ورک شو کیا ہے مس سمن۔۔۔ویل ڈن۔۔۔۔آپ ایسا کریں کہ مجھے آج ہی دوسری فائل بھی ریڈی کرکے دے دیجیے۔۔۔۔اس کے بعد ہی میٹنگ فائنل ہوپائے گی۔۔۔۔“ بے اختیار ماتھے کی نوک کو انگوٹھے سے کھجاتا ہوا وہ سمن کی جانب متوجہ ہوا جو کہ اب اپنی اِس قدر تعریف پر اترانے سی لگی تھی۔وہ الگ بات تھی کہ شاہ کی جانب سے ملنے والا مزید کام اُسکے کندھوں پر پہاڑ جتنا بوجھ پڑنے کے ہی مترادف تھا لیکن وہ اُسکی بھوری آنکھوں میں شدت سے جھانکتی اسے بھی بخوشی قبول کرگئی تھی۔
”اوکے سر۔۔۔۔۔“ اُسکے چہک کر بولنے پر جہاں شاہ نے اپنی آئی برو اچکائی تھی وہیں آبرو نے چبھتی نظروں سے اُسکا قابلِ اعتراض کپڑوں میں گھرا سراپا بغور دیکھا۔
”م۔۔۔میں اب چلتی ہوں سر۔۔۔۔کام بہت ہے ناں۔۔۔۔“ اپنی بےاختیاری پر کھسیانی ہوتی وہ اگلے ہی پل ٹیبل سے فائل اٹھاتی پلٹی اور ایک اچٹتی نگاہ آبرو پر ڈالتی روم سے باہر نکل گئی۔
دروازہ بند ہونے پر شاہ نے آبرو کا سراپا اپنی نرم نگاہوں میں بھرا تھا۔
”اب کیا وہیں پر کھڑے رہنے کا ارادہ ہے آپکا مس آبرو۔۔۔۔؟؟اپنی گہری سوچوں کو فی الحال کے لیے گڈ بائے بولیے اور کافی یہاں مجھے پکڑائیں۔۔۔میں کب سے ویٹ کررہا ہوں۔۔۔۔“ اُسے ہنوز دروازے کی جانب تکتا پاکر وہ مسکاتی آواز میں بولا تو وہ اپنی سوچوں سے چونکتی کچھ ناسمجھی سے اُسکی جانب دیکھنے لگی۔چند ہاتھ کے فاصلے پر رکھی گئی کافی کا مگ اٹھانا بھی اُسے محال لگ رہا تھا جس میں سے مدھم مدھم اٹھتا دھواں ابھی بھی اُسکے حددرجہ گرم ہونے کا ثبوت دے رہا تھا۔
”آپ سے مخاطب ہوں مس۔۔۔۔پکڑائیے۔۔۔۔۔۔“ سنجیدگی سے اپنی بات پر زور دیتا وہ اُسے اپنا آپ منوانے پر مجبورکرگیا تو وہ بھی پل بھر کے لیے اُسے گھورتی ہوئی آگے بڑھ کر ٹرے سے مگ اٹھاتی اُسکے ہاتھ میں پکڑاگئی۔
احتیاط کے باوجود بھی شاہ اُسکی انگلیوں پر اپنا دل دھڑکا دینے والالمس چھوڑ گیا تھا جبھی وہ مقابل کی ضد پر لب بھینچتی سرعت سے دور ہوئی۔
”اممم ہہمم۔۔۔اتنی کڑوی کافی۔۔۔۔بالکل زہر کی طرح۔۔۔مجھے مارنے کا ارادہ ہے کیا آپکا۔۔۔؟؟بادا وئے آج آپکے تیور بھی مجھے اس سے کچھ الگ نہیں لگ رہے مس آبرو۔۔۔لگتا ہے آج آپ نے اپنے لہجے کی ساری کڑواہٹ ایک ساتھ ہی میری بےزبان کافی میں گھول دی ہے۔۔۔۔ورنہ آپکے ایسے ظلم پر یقیناً یہ بھی چیخ اٹھتی۔۔۔“ مگ سے پہلا گھونٹ بھرتے ہوئے بےاختیار اپنے نقوش بگاڑتا وہ اُسکا ضبط توڑنے پر ہی تو اترآیا تھا۔
”سر۔۔۔۔کافی بالکل ویسے ہی بنی ہے جیسےکہ روز بنتی ہے۔۔۔اسکے ٹیسٹ میں رتی بھربھی فرق نہیں آیا۔۔۔ہاں اگر آپکے ٹیسٹ میں فرق آجائے تو وہ الگ بات ہے۔۔۔۔“ طنز سے بھیگا نشتر اُسکی جانب پھینکتی وہ سلگتے لہجے میں دوبدو بولی تو شاہ اُسکا دبادبا غصہ یکدم لاوے کی صورت پھٹتا دیکھ بے اختیار قہقہ لگاگیا۔
ایک پل کو ٹھٹھکتی آبرو نے ناچاہتے ہوئے بھی اُسکی دل دھڑکا دینے والی شفاف ہنسی کو پورے استحقاق سے دیکھا تھا جو بے اختیاری میں اپنے اندر کی جلن کھولن سمیت اُس پر واضح کرگئی تھی۔
”تو آپ میرا ٹیسٹ چینج کردیں۔۔۔۔آئی سویئر مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔۔۔۔۔“ اپنی ہنسی کو پل میں دلفریب مسکراہٹ میں ڈھالتا وہ معنی خیزی سے گویا ہوا۔
”م۔۔۔مطلب۔۔۔؟؟؟“ مقابل کی بےباکی کو سمجھ کر جھینپتے ہوئے بھی وہ انجان بنی۔دل نے بےہنگم سا شور مچایا تھا۔
”چلیں چھوڑیں اس بات کو۔۔۔۔آپ یوں کریں کہ اس میں سے دو چار سِپ لے لیں تاکہ اسکی کڑواہٹ کچھ حد تک کم ہوجائے۔۔۔اینڈ ایم شیور مجھے اسکا ٹیسٹ ضرور پسند آئے گا۔۔۔۔اٹ از آ بیسٹ آپشن فار یو۔۔۔۔اسی طرح آپ یقیناً دوسری کافی بنانے سے بھی بچ جائیں گی اور وقت کی بھی الگ سے بچت ہوجائے گی۔۔۔۔“ پُر حدت نظروں سے اُسکے چہرے کی سرخی مزید گہری ہوتے دیکھ وہ بظاہر درپیش مسئلے کا خود سے حل پیش کرتا اُسے حقیقتاً پریشانی میں ڈال گیا۔
اس سے پہلے کہ آبرو اُسکی اِس بےجا من مانی پر دھڑلے سے انکارکرتی،شاہ اُسکے چہرے پر رقم ہوتے بغاوتی تاثرات پڑھتا سرعت سے اپنی جگہ سے اٹھتا اُسکی جانب لپکا۔
سراسیما نگاہوں سے اُسے اپنے قریب رکتا دیکھ جانے کیوں وہ شدت سے دھڑکتے دل سمیت فوری طور پر احتجاج نہیں پائی تھی۔
”کم آن۔۔۔ڈونٹ ویسٹ دی ٹائم۔۔۔۔پیو اِسے۔۔۔۔“ قدرے دلچسپی سے اُسکے حیرت میں ڈھلے نقوش دیکھتا وہ کافی کا مگ بڑے استحقاق سے اُسکے لبوں کے قریب کرگیا۔
”م۔۔۔معاف کیجیے گا سر۔۔۔۔لیکن یہ میری جاب کا حصہ بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میں کسی کا جھوٹا کھانے پینے کی عادی ہرگز نہیں ہوں۔۔۔۔“ پل بھر کو گڑبڑاتی وہ انکار سمیت مگ کو تیزی سے چھوتی پرے ہٹاگئی۔
دبے لفظوں میں خود کی ذات کے پرخچے اڑائے جانے پر جہاں مقابل کی دلکش مسکراہٹ لبوں پرسمٹی تھی وہیں مگ سے چھلکتی گرم کافی گرے کوٹ تلے سفید شرٹ کو سرعت سےبھگوتی اُسکا پہلے سے ہی تپا سینہ مزید تپاگئی۔اگلے ہی پل مگ اُسکے اشتعال کی نذر ہوتا جھٹکے سے زمین بوس ہوتے ہی کئی ٹکڑوں میں بٹا تھا۔یہ سب دیکھ کرحقیقتاً گھبراتی وہ بےاختیار ایک قدم پیچھے کو لےگئی۔
”کیا۔۔۔؟؟سمجھتی کیا ہوتم خود کو۔۔۔ہہمم۔۔۔؟؟؟کہیں کی مہارانی ہو۔۔۔؟؟یاں پھر میں بہت گیا گزرا لگتا ہوں تمھیں۔۔۔؟؟نہیں آخر اتنا غرور ہےکس شے کا تمھیں۔۔۔؟؟ہوں۔۔۔؟؟اگر میں چاہوں ناں تو دو منٹ میں تمھاری یہ ساری اکڑ ملیا میٹ کرسکتا ہوں۔۔۔لیکن افسوس کہ میرے اندر پنپتی تمھارے لیے یہ جومحبت ہے ناں۔۔۔وہ میرے اندر کے ضدی انسان کو ہربار تھم جانے پر مجبور کردیتی ہے۔۔۔“ بازو سے کھینچ کر اُسے خود سےقریب کرتا وہ دبی آواز میں پھنکارا تو وہ ڈوبتے دل سمیت اپنی نم پڑتی آنکھیں پھیلائے اُسکی ابھری نسیں دیکھتی رہ گئی۔
ایک بار پھر سے مقابل کے کیے گئے اعتراف محبت پر دل شدتوں سے دھڑکا تھا۔
”چھ۔۔۔چھوڑیں مجھے پلیز۔۔۔۔یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔؟؟“ بےاختیار نظریں چراتی وہ اُسکی جارحانہ گرفت سے رہائی پانے کومچلی۔
مقابل کے نتھنوں سے پھوٹتی گہری سانسوں میں اُسے خود کا چہرہ جھلستا ہوا محسوس ہوا تھا۔
”بدتمیزی۔۔۔جانتی بھی ہو بدتمیزی کا اصل لیول ہوتا کیا ہے۔۔۔؟؟؟“ تنا ہوا چہرہ مزید قریب کرتے وہ اُسے سانسیں روکنے پر مجبور کرگیا۔
”آپکو کو سچ میں کسی نے تمیز نہیں سکھائی۔۔۔پلیزدوررہیں مجھ سے۔۔۔“ اُسکے سینے پر نازک ہتھیلیوں کا دباؤ ڈالتی وہ مقابل کو پیچھے ہٹانے کی ناکام کوشش میں چہرہ پھیرتی چلائی جب وہ تیوروں سمیت اپنی گرفت اُسکے بازوؤں پر مزیدسخت کرگیا۔
”تم میری تربیت پر سوال اٹھا رہی ہو۔۔۔۔؟؟؟یونو واٹ اگر تمھارے ماں باپ نے تمھیں ذرا سی بھی تمیز سکھائی ہوتی کہ اپنے سے اونچے لوگوں کے ساتھ کس طرح پیش آیا جاتا ہے تو یقیناً اس وقت تم یوں میری گرفت میں کسی زخمی چڑیا کی طرح پھڑپھڑا نہ رہی ہوتی۔۔۔۔“ اُسکے گلاب رخساروں پر ٹوٹ کر لڑھکتے آنسو دیکھ کر وہ سرد مہری سے بولتا اُس پر اپنی حیثیت واضح کرگیا۔
”میرے ماں باپ کا نام بھی مت لیجیے گا اپنی زبان سے۔۔۔۔“ جھٹکے سےآنکھوں میں آنکھیں ڈالتی وہ وارنگ دینے والے انداز میں تڑخ کر بولی۔
دونوں کی آنکھوں میں گھلی سرخائی مزید گہری ہوئی تھی۔
”اچھاااا۔۔۔۔کیا کرلو گی۔۔۔۔؟؟شکایت کروگی اپنے ماں باپ سے میری کہ میرے باس نے آپکا نام لے کر مجھے ہرٹ کیا۔۔۔۔؟؟یاں پھر یہ بتاؤ گی کہ میں نے کس طرح تمھیں اپنے شکنجے میں تڑپایا۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکے بپھرے تیوروں سے پل بھر کو چونکتا وہ تمسخرانہ انداز میں گویا ہوا تو وہ مجبوراً ضبط کرتی سختی سے لب بھینچ کررہ گئی۔
ایک اپنی انا برقرار رکھنے کو جانے انجانے میں مقابل کی دکھتی رگ پر سختی سے قدم جمائے پیچھے ہٹنے سے گریزاں تھا تو دوسرے کے سینے میں بھڑکتی ان دیکھی آگ رگوں میں سرائیت کرتی اُسکا روم روم سلگاتی جارہی تھی۔
”کاش کہ میں اُن سے شکایت کرنے کے قابل ہوتی۔۔۔کاش کہ وہ اس قابل ہوتے کہ میری شکایت سن سکتے تو آج میں واقعی اِس حال کو کبھی نہ پہنچتی۔۔۔۔“ بھرائی آواز میں چباچبا کر بولتی وہ اپنی زندگی کا سب سے تلخ باب اُسکی ذات پر ناچاہتے ہوئے بھی دبے لفظوں میں کھول گئی تھی۔
مقابل کا اذیت سے پُر لہجہ اور شدتِ بےبسی سےجھکتی ہوئی نم پلکیں شاہ کے رگ و پے میں عجیب سی بےچینی بھر تے چلے گئے۔
اُسکے مبہم لفظوں کے زیر اثر پل میں بےشمار الجھنوں میں گھرتا وہ بےاختیار اپنی گرفت اُسکے بازوؤں پر ڈھلی کرگیا۔
آبرو کے ماں باپ۔۔۔۔ہاں!شاہ اُن کے بارے میں کیا جانتا تھا۔۔۔؟؟ کچھ بھی تو نہیں۔۔۔۔
اُسکی واقفیت تھی تو فقط آبرو سکندر کے نام کی حد تک تھی۔اس سے آگے کی حدود بدقسمتی سے اُسکی لاعلمی پر مبنی تھیں۔
”واٹ ڈویو مین بائے دِس۔۔۔۔۔ویئر از یور پیرنٹس۔۔۔؟؟؟“ دھیمے لہجے میں پہلی بار اسکے ماں باپ کی بابت خود سے پوچھتا وہ کچھ حیران ہوا۔
سب کچھ پل میں جان لینے کا تجسس اُسکے اندر شدت سے انگڑائیاں لینے لگا تھا۔
”میں آپکو بتانا ضروری نہیں سمجھتی۔۔۔۔۔چھوڑئیے مجھے۔۔۔۔“ درشتگی سے اُسکے ہاتھ جھٹکتی وہ پل میں اُسکی نرم گرفت سے رہا ہوئی تھی اور تقریباً بھاگتی ہوئی اُسے تنہا چھوڑے وہاں سے نکلتی چلی گئی جبکہ دروازہ بند ہونے کی پُرزور آواز پر گہرا سانس بھرتا شاہ اُسکی گہری نیلی آنکھوں میں ناچتی وحشتوں بھری اذیت کا سوچ کر مزید بےسکون ہوا۔
”ناٹ اگین۔۔۔۔۔ناٹ اگین۔۔۔۔“ سینے پر پھیلے بےڈھنگے داغ کو شدت سے مسلتا وہ اپنے قدموں میں پڑے بےوقعت ٹکڑوں کو ٹھوکر سے دور اچھال گیا۔ ناچاہتے ہوئے بھی اُسے آبرو سے برتے گئے اپنے لہجے کی بدصورتی کا احساس شدت سے ہونے لگا تھا۔۔۔


”آپکی دوست کو بھلا لیٹ نائٹ فنکشن رکھنے کی کیا ضرورت تھی اپیہ۔۔۔؟؟دوپہر بارہ بجے بھی تو وہ یہ سب ہنگامے آرام سے کرسکتی تھی۔۔۔۔مگر نہیں۔۔۔اپنے چکروں میں اُسے آپکی پرواہ کیوں ہوگی۔۔۔؟؟بھلے ہی دوسرے پریشان ہوتے رہیں مگر آپکی موجودگی اُسے اپنے پاس ہرحال میں چاہیے۔۔۔“ حرمین آئینے کے سامنے کھڑی اپنے مہرون دوپٹے کو تہہ در تہہ فولڈ کرتی حجاب کررہی تھی جب وہ اُسکے پہلو میں ٹھہرتی منہ بسور کر پٹر پٹر بولنے لگی۔
”حاوی۔۔۔۔ذرا دو کو کامن پنیں تو پکڑانا مجھے پلیززز۔۔۔۔“ اُسکی نان سٹاپ چلتی زبان کی پرواہ کیے بنا وہ پل بھرکو اُسکے عکس پر نظریں جماتی عجلت میں بولی۔
”آپکی ضد کے آگے ماما نے اپنی رضامندی تو دے دی ہے لیکن درحقیقت وہ آپکو لے کر کافی فکرمند ہیں۔۔۔۔“ پنز کی تلاش میں دراز کھول کر چیزیں الٹ پلٹ کرتے اب بھی اُسکی زبان مگن انداز میں متواتر چلتی جارہی تھی۔
”چچ۔۔۔جلدی۔۔۔۔۔“ تہہ پر ہاتھ جمائے حرمین کچھ چڑ کر بولی تو جہاں حاویہ کے ہاتھ مطلوبہ چیز آئی تھی وہیں قدرے کونے میں اپنی بےقدری پر روتی چمچماتی انگوٹھی دیکھ کر وہ بےاختیارٹھٹھکی۔
حرمین سے صبرکرنا مشکل ہونے لگا جبھی وہ خود ہی آگے بڑھتی اُسکے ہاتھ سے پنیں کھینچ گئی۔اپنا ڈھلکتا حجاب دوبارہ سے سیٹ کرتی وہ حاویہ کے الجھن میں ڈوبے نقوش تک فراموش کرگئی تھی۔جانے کی جلدی اُسے بےتاب جو کیے دے رہی تھی۔
”اپیہ۔۔۔۔آپ نے اپنی رِنگ کیوں اتاردی۔۔۔؟؟؟“ اُسکی تلخی کو بمشکل نظرانداز کرتی وہ انگوٹھی اٹھائے کچھ حیران سی گویا ہوئی تو حرمین کی حرکت کرتی انگلیاں اس غیرمتوقع صورتحال پر بےاختیار اپنی جگہ تھم سی گئیں۔
”ی۔۔۔یہ۔۔۔۔بس میرا دل نہیں چاہ رہا تھا پہننے کو۔۔۔۔۔اسے واپس وہیں رکھ دو۔۔۔۔“ لحظے بھر کو ہکلاتی وہ اپنی گھبراہٹ کو چھپائے عام سا جواز پیش کرگئی جو مقابل کو کسی طور مطمئن نہیں کرپایا تھا۔
”دل تو آپکا اب اور بھی بہت کچھ کرنے کو نہیں چاہتا اپیہ۔۔۔۔“ اُسکے حکم کو یکسرفراموش کرتی وہ حرمین کی اپنے برائے نام منگیتر سے برتی جانے والی بلاوجہ کی بےرخی پر براہِ راست چوٹ کرگئی۔
نتیجتاً وہ اس گہرے طنز پر لاجواب ہوتی بےاختیار اپنی نگاہیں واپس آئینے کی جانب پھیرگئی تو حاویہ شدتِ ضبط سے انگوٹھی اپنی مٹھی میں بھینچ گئی۔
”آپی میں یہ تو نہیں جانتی کہ اس وقت آپکے من میں کیا چل رہا ہے۔۔۔؟؟ لیکن مجھے اتنا یقین ہوچلا ہے کہ آپ کہیں نہ کہیں بہت غلط راستے کا انتخاب کرچکی ہیں۔۔۔۔“ اُسکی خاموشی کو اپنے اندر شدت سے امڈتے اندیشوں کا اقرارسمجھتی وہ مزید گویا ہوئی۔لہجے میں تلخی سی گھل چکی تھی۔
”حاویہ۔۔۔۔تمھیں یاد ہے تم نے مجھ سے ایک سوال کیا تھا۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکی تاسف بھری نظروں سے بچنے کی ناکام کوشش میں بےاختیار ہارمانتی وہ اپنی ساری تیاریاں چھوڑگئی۔کہیں نہ کہیں حاویہ بھی اُسکے بدلتے رویوں کی اصل وجہ سے آگاہ تھی۔
” کیسا سوال۔۔۔۔؟؟؟“ سوال کے بدلے سوال داغتی وہ بےتاثر لہجے میں بولی۔
”یہی کہ سچی محبت کی نشانی کیا ہوتی ہے۔۔۔۔؟؟؟“ حرمین کے لفظوں نے ناچاہتے ہوئے بھی اُسکا دل دھڑکادیا تھا۔اپنے ہی پوچھے گئے سوال کا جواب جاننے کے لیے اب جانے کیوں اُسکے لب بےدم سے ہوگئے تھے۔
”سچی محبت کی نشانی یہی ہوتی کہ اسکے بعد پھر کسی سے محبت نہیں ہوتی۔۔۔۔“ اُسکی طول پکڑتی خاموشی پر اُسکے دونوں ہاتھ تھامتی وہ قدرے ٹھہرے ہوئے لہجے میں ایک طرح سے اپنی مجبوری اُس پر ظاہر کرگئی تھی۔
”تو کیا میں یہ یقین رکھوں کہ آپکی پہلی اور آخری محبت ذباب احمد کے نام سے منسلک ہے۔۔۔۔؟؟؟“ کچھ ہی لمحوں میں اپنی شدت پکڑتی دھڑکنوں پر زبردستی بند باندھتی وہ مقابل سے بہت سخت بات کرگئی تھی۔
حرمین جو اپنی بات بول کر شام کی یادوں تلے دبنے لگی تھی چونک کر حاویہ کا سپاٹ چہرہ دیکھتی ضبط کھوبیٹھی۔
”ماما ٹھیک کہتی ہیں۔۔۔بہت ذیادہ سر چڑھ چکی ہو تم ہمارے۔۔۔ ہٹو راستے سے۔۔۔دیر ہورہی ہے جانا ہے مجھے۔۔۔۔“ چٹخ کر بولتی وہ ڈھلکی شال کو واپس اپنے نازک کندھوں پر ڈالتے ہوئے آدھی ادھوری تیاری میں ہی کمرے سے نکلتی چلی گئی جبکہ حاویہ اُسکا خودسری بھرا انداز نم پڑتی آنکھوں سے دیکھتی چاہ کر بھی یہ سوال نہیں کر پائی تھی کہ آیا وہ اپنی دوست کے ہاں ہی جارہی تھی یاں پھر اِس برائے نام دوستی کی آڑ میں چھپے شام نامی جال میں پھنسنے۔۔۔۔۔۔؟؟؟
💞💞💞💞💞💞
جاری ہے۔۔۔