No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
وہ قدرے فکرمند سا ماتھے پر سلوٹیں ابھارے اُسکے سامنے مجرموں کی طرح ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔ مگر فائل کے صفحے الٹ پلٹ کرتے مقابل کا اطمینان اس پل قابلِ دید تھا۔ تبھی خود کے حواسوں پر بمشکل کنٹرول کرتی آبرو پورے فکس ٹائم پرٹرے ہاتھوں میں تھامے اجازت لیتی روم میں داخل ہوئی۔
”سرآپکی کافی۔۔۔۔“ دھیمے لہجے میں بولتی وہ ٹرے میں سے کافی کا مگ اٹھا کر اُسکے سامنے ٹبیل پر رکھے دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔ مگر شاہ نے بولنا تو دور اُسکی جانب دیکھنا تک گوارا نہیں کیا تھا جسکا اُسے شدت سے کھٹکا لگا۔
”بٹ سر آپ ایسے کیسے فائر کرسکتے ہیں مجھے۔۔۔۔؟؟؟حالانکہ میری کوئی غلطی بھی نہیں۔۔۔۔“ آبرو پر سے اپنی نظریں ہٹاتا رحمان شکایتی انداز میں بولا تو وہ شاہ کو دیکھتی صحیح معنوں میں چونکی۔ یہ پہلی بار تھا جب شاہ اُسکے سوال پر نہ صرف مسکرایا تھا بلکہ آبرو کے حیران نقوش پر پل بھر کے لیے جتاتی نگاہ ڈالتا واپس بھی موڑ گیا۔
”کیونکہ آپکا اور ہمارا ساتھ بس یہی تک خدا کو منظور تھا مسٹر رحمان اصغر۔۔۔۔اور پلیز غلطی پر غلطی دُہراکر اگرآپ اپنی بےوقوفی کا ثبوت نہیں دیں گے تو یہ ذیادہ بہتر رہے گا آپ کے لیے۔۔۔۔ناؤ یو کین گو فرام ہیر فارایور۔۔۔۔“ اپنے تاثرات ایکدم سے سپاٹ بناتا وہ دوبدو جواب دے کراُسکی بولتی پل بھر کو بند کرواگیا۔ وہ جو دس دنوں کی کڑی محنت کے بعد ایک امپورٹینٹ پروجیکٹ پر اپنی فائل کمپلیٹ کرتا شاہ کے پاس داد وصولنے کی غرض سے آیا تھا مگر آگے سے اُس کے سکون بھرے لہجے میں دیئے جانے والے آڈر پر اُسے خود کا سر چکراتا ہوا محسوس ہوا۔
”پلیز سر۔۔۔۔مجھے یوں جاب سے مت نکالیں۔۔۔اگر انجانے میں مجھ سے کوئی بھی مسٹیک ہوگئی ہے تو اس پر میں آپ سے تہے دل سے معافی مانگتا ہوں۔۔۔۔پر پلیز۔۔۔۔مجھ پر رحم کریں میرے سر پر میرے بیوی بچوں کی بھی ذمہ داری ہے۔۔۔۔ایسے میں۔۔۔میں اتنی جلدی دوسری جاب کہاں سے ڈھونڈوں گا۔۔۔۔؟؟پلیز سر۔۔۔۔“ اُسے کسی بھی طور قائل نہ ہوتا دیکھ رحمان بےبسی کی انتہا پر پہنچتا اب کی بار بھرپور منتوں پر اتر آیا۔ مگر نہ تو اُس بےحس کو فرق پڑنا تھا اور نہ ہی اُسے کوئی فرق پڑا تھا۔ اندر ہی اندر آبرو رحمان کی بےروزگاری کی ذمہ دار خود کو ٹھہرانے لگی تھی۔
” گیٹ آؤٹ۔۔۔۔مسٹر رحمان۔۔۔۔وہ رہا دروازہ۔۔۔۔“ اُسکے جوڑے ہاتھ اور تراتر چلتی زبان دیکھ کر دانت بھینچتے وہ باہر کی جانب اشارہ کرتا خود پر سے ضبط کھونے لگا جب رحمان کے لیے پریشان ہوتی آبرو ہمت جُٹاتی دو قدم آگے بڑھی۔
”سس۔۔۔سررر۔۔۔۔۔“ وہ کچھ بولنا چاہتی تھی مگرپل میں بپھرتے شاہ نے اُسے آواز نکالنے کا کوئی موقع ہی فراہم نہیں کیا تھا۔
”آئی سیڈ گیٹ آؤٹ۔۔۔۔اگر نہیں چاہتے کہ گارڈز کے ہاتھوں دھکے کھاتے ہوئے یہاں سے سب لوگوں کے سامنے بےعزت ہوکر جاؤ تو۔۔۔۔آؤٹ۔۔۔۔ابھی اور اسی وقت۔۔۔۔“ اُسکی بلند دہاڑ میں غضب ہی غضب ہچکولے لے رہا تھا جسکی وجہ یقیناً آبرو کا اُس دو ٹکے کے ملازم کی حمایت میں ذرا سی آواز نکالنا تھا۔ جہاں آبرو اُسکے حددرجہ بگڑے تیور دیکھتی اپنی نیلی کانچ سی آنکھیں پھیلائے بےاختیار اپنے قدم پیچھے لینے پر مجبور ہوئی تھی وہیں رحمان اپنی پھیکی پڑتی رنگت سمیت ایک آخری نظر آبرو پر ڈالتا شکست زدہ سا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
دروازہ بند ہونے کی آواز پر ہوش میں آتی آبرو اُسکے عتاب سے بچنے کی خاطر وہاں سے نکلنے کوتھی جب شاہ کی انتہائی سرد آواز نے اُسکے بڑھتے قدموں کو وہی پر جمادیا۔
”مس آبرو۔۔۔۔آپکو کسی نے بولا یہاں سے جانے کو۔۔۔۔؟؟۔۔۔۔ہممم۔۔۔۔؟؟“ تلخ لہجہ اپنائے وہ اُسکے وجود کی کپکپاہٹ میں مزید اضافہ کرگیا۔
”سس۔۔۔۔سوری سر۔۔۔۔۔“ واپس پلٹتی وہ حلق میں پھنستی آواز کو بمشکل اُسکے سامنے نکال پائی تھی۔ دل مقابل کے خوف کے تحت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اُسکی اس قدر غیر ہوتی حالت پر کافی گہرائی سے غورکرتا شاہ اپنے غصے کی پرواہ کیے بغیر پل بھرکو مسکرایا۔۔۔جبکہ آبرو بےدھیانی میں اُسکے لبوں پر غور کرتی رہ گئی۔۔۔
آیا وہ شدید غصے میں مسکرایا بھی تھا یا پھر یہ محض اُسکا وہم تھا۔۔۔۔؟؟ گہری نظروں کی تپش سے وہ اُسکے ننھے سے دماغ میں آئی سوچ بآسانی پڑھ گیا اور بےساختہ اُمڈ آنے والی مسکراہٹ کو چھپانے کی غرض سے اگلے ہی پل ہاتھ کی مٹھی بناتا لبوں پر جماگیا۔اپنی اس قدر بےاختیاری پر سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں وہ اپنی نگاہوں کو ماربل پر جماتی پل میں سرخ پڑی۔ مگر شاید وہ نہیں جانتی تھی کہ اُسکے سرخ گلاب رخسار اور بےخبری میں دانتوں کے نیچے سختی سے دبا پنکھری لب مقابل کے دل پر گہرا وار کرگیا تھا۔
”مس آبرو۔۔۔۔آپ یہ بات تو اچھے سے جانتی ہی ہیں کہ مسٹر رحمان اصغر کی سیٹ خالی ہوچکی ہے۔۔۔۔لہٰذا اُنکے حصے کا کام روک کر میں کسی بھی قسم کے بزنس لاس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔۔۔۔اسی لیے میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اُنکے حصے کا سارا کام اب سے آپ کریں گی۔۔۔۔“ گلاکھنکار کر خود کو بمشکل سنبھالے وہ سکون سے بولتا اُسکا سکون بڑی آسانی سے چھین چکا تھا۔
”میں۔۔۔۔؟؟؟“ اپنی جانب انگلی گھماتی وہ حیرتوں کے سمندر میں ڈوبتی چلی گئی۔
”جی آپ۔۔۔۔۔ ویسے بھی بہت شوق ہے ناں آپکو مسٹر رحمان کی ہیلپ کرنے کا۔۔۔۔تو میں آپ کو دل کھول کر چانس دے رہا ہوں۔۔۔۔۔ناؤ اٹس یور ٹائم ٹو پروو یورسیلف۔۔۔۔اینی مور کوئسچن۔۔۔۔؟؟؟“ سرد لہجے میں دوٹوک بات کرتا وہ مسلسل اُسکی مشکلات کو بڑھتا ہی جارہا تھا۔
”نو۔۔۔نونو۔۔۔“ اُسکی پیشانی پر بل پڑتے دیکھ کر شدت سے خائف ہوتی وہ اب کے رودینے کو تھی پر اس بار وہ اُس اناپرست کو چاہ کر بھی”نہ“ کرنے کا رسک نہیں لےسکی تھی۔
شاہ کی اس قدر بےرحمی پرحسین آنکھوں کی بھیگتی نیلاہٹ پل پل آنسوؤں کی صورت اختیار کرنے لگی تھی۔ اُسکے سر پہلے سے ہی بہت سی مجبوریاں اور ذمہ داریاں تھیں۔ مگر مقابل کا ان سب سے کوئی لینا دینا ہوتا تو پرواہ بھی کرتا۔۔۔۔
وہ تو شاید انتقام کی آگ میں سلگتا سامنے والے کے ہر درد سے لاتعلق تھا۔ آنسو بےاختیار گھنیری پلکوں کی باڑ پھلانگتے گالوں پر پھسلے تھے۔
”اب آپ جاسکتی ہیں۔۔۔۔“ پہلی دفعہ دل پر پتھر رکھ کر اُسے خود سے دور جانے کی اجازت دیتا وہ اپنے اِس نئے اور سرد انداز سے اُسے دوبارہ حیران کر گیا۔ اگلے ہی پل وہ سختی سے اپنے گال رگڑتی دروازے کی جانب لپکی جب وہ اُسے پھر سے اپنے حکم کا پابند بناگیا۔
”رکیں۔۔۔۔یہ کافی ٹھنڈی ہوکر بالکل ہی بدذائقہ ہوگئی ہے۔۔۔بالکل میرے اندر کی طرح۔۔۔۔سو پلیز اسکی جگہ دوسری کافی بناکرلائیں میرے لیے۔۔۔۔“ اُس کا رخ اپنی جانب گھومتا دیکھ وہ قدرے لاپرواہی سے بولتااُسکی بےبسی کا جی بھرکے فائدہ اٹھا رہا تھا۔ بھوری آنکھیں اُسکے دبے دبے غصے کو محسوس کرتی اس پل شدت سے مسکرارہی تھیں۔
”اوکے سر۔۔۔۔۔“ بےدلی سے بولتی ہوئی وہ اُسکی جانب لپکی اور ٹرے کو ٹیبل سے اٹھاتی بغیر اُسکی جانب دیکھے وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
”اففف آبرو اففف۔۔۔۔ابھی تو یہ شروعات ہے۔۔۔۔اور جہاں تک مجھے اندازہ ہے تمھارے جیسی معصوم مگر ضدی چڑیا میرا وار سہنے کی ذرا سی بھی طاقت نہیں رکھتی۔۔۔۔لیکن اب کیاکیا جاسکتا ہے۔۔۔۔؟؟مجھے اس حد تک لانے پربھی تمہی نے مجبور کیا ہے۔۔۔۔اب برداشت تو کرنا ہی پڑے گا۔۔۔۔“ ریوالونگ چیئر کی پشت پر سر ٹکائے سرد آہ بھرتا وہ خیالوں میں بھی فقط اُسی سے مخاطب تھا۔ اپنے ہی دل کے قرار کو بےقرار کرنے کے لیے وہ کس حد تک جانے والا تھا شاید یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔ سوائے اسکے کہ آبرو سکندر کو اپنی محبت کے آگے گھٹنے ٹیکنے پرہر صورت مجبور کرنا تھا۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
وہ اپنے سب سے عزیز فرینڈ کو ایئرپورٹ تک سی آف کرکے سیدھا گھرآیا تھا۔گرمی کی شدت اور ایسے میں چائے کی طلب اُسے بےچین کیے دے رہی تھی۔اوپر سے تھکاوٹ کا معاملہ اور دماغ میں مسلسل پنپتے ایک نئے کیس کا الجھاؤ۔۔۔۔ آج وہ حقیقتاً تھک چکا تھا۔
بازو پہ کوٹ دھڑے وہ اپنے کمرے کی جانب جارہا تھا جب کچن سے آتی کھٹ پٹ کی آوازوں نے اُسے دو سیڑھیوں سے واپس مڑنے پر مجبور کردیا۔
”مُنی۔۔۔۔پلیز ایک کپ چائے بناکر میرے کمرے میں لے آؤ۔۔۔۔سر درد سے پھٹا جارہا ہے۔۔۔۔“ کچن کی دہلیز پر کھڑے ہوکر برتن دھوتی آمنہ کی پشت کودیکھتا وہ مسلسل اپنا ماتھا مسل رہا تھا۔
”جی صاحب ابھی لائی۔۔۔۔“ عائل کے نرم مگر عجلت بھرے انداز سے چونکتی وہ ذرا سی گردن موڑے دھیرے سے بولی۔
برتنوں پر گرتے نل کے پانی کا شور اُسکی بھیگی آواز کو دبا گیا تھا جس پر غور کیے بنا وہ اگلے ہی پل وہاں سے واپس پلٹ گیا۔
”صاحب چائے۔۔۔۔“ کچھ ہی دیر میں اُسکے کہے کی تعمیل کرتی وہ چائے کا مگ ٹرے میں سجائے قدرے محتاط انداز میں اُسکے روبرو سرجھکائے کھڑی تھی۔ چائے بھرا مگ اٹھاتے وہ جواباً مسکرایا۔
”آہ۔۔۔۔تھینکس مُنی۔۔۔۔تیز پتی والی چائے بناکر تو تم نے بہت اچھ۔۔۔ااا۔۔۔۔“ تیزدم چائے کا کڑک سواد منہ میں گھلتے ہی اُسنے تب سے پہلی بار اُسکا دوپٹے کے ہالے میں گھرا زرد چہرہ دیکھا تھا مگر یہ سرسری سی نگاہ اگلے ہی پل اُسکی سرخ آنکھوں میں جھانکتی گہری نگاہ میں ڈھلی تھی۔ ”مُنی۔۔۔ تم روئی ہو۔۔۔۔؟؟تمھاری آنکھیں کس قدر سرخ پڑرہی ہیں۔۔۔۔“ پوچھتے ہوئے ماتھے پر ایکدم سے بل پڑے تھے جس پر وہ گھبراتی شدومد سے نفی میں سر ہلاتی مسکرانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔ ”نن۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔نہیں تو صاحب۔۔۔۔وہ بس کھانا بناتے وقت مرچیں آنکھوں میں گھس گئی تھیں۔۔۔۔“ آنکھوں میں آنے والی نمی کو سرعت سے صاف کرتی وہ روہانسی آواز میں بےڈھنگا سا بہانہ بناگئی۔
مگر مقابل بالکل بھی مطمئن نظر نہیں آرہا تھا۔
”ایک ساتھ دونوں آنکھوں میں۔۔۔۔؟؟؟مت بھولو کہ میں ایک پولیس آفیسر ہوں۔۔۔۔رونے اور آنکھوں میں مرچی چلے جانے کےچھوٹے سے فرق کو بآسانی سمجھ سکتا ہوں۔۔۔۔چلو اب بتاؤ۔۔۔۔کیا بات ہے۔۔۔؟؟“ مگ کو سائیڈ پر رکھتا وہ اپنی تمام تر توجہ اُسکی جانب سمیٹ گیا تو اُسکے لہجے میں چھپی فکر اور اپنائیت محسوس کرتے اُسے خود کے اجڑنے پرمزید رونا آنے لگا۔
”موم نے ڈانٹا ہے۔۔۔۔؟؟؟“ اُسے خاموش پاکر بذاتِ خود حقیقت کی تہہ تک پہنچنے کی ہلکی سی کوشش کرتے اُسکا لہجہ سرد ہوا۔ جہاں تک عائل کو معلوم تھا اُسکے اکثر افسردہ ہونے کی وجہ عائمہ بیگم کی ڈانٹ ڈپٹ ہی ہوا کرتی تھی۔ مگر اسکے باوجود بھی وہ کبھی اس حد تک نہیں گئی تھی کہ رو رو کر اپنی حالت ہی خراب کرڈالے۔
”نہیں صاحب۔۔۔۔قسم لے لو۔۔۔۔اُنھوں نے تو مجھ سے کام کے علاوہ اور کوئی بات نہیں کی۔۔۔۔“ گالوں پر لڑھکتے بےقابو آنسوؤں کو سختی سے مسلتی وہ کمزور سی آواز میں اپنی صفائی دینے لگی جب خود کا ہی ہاتھ لگنے سے دوپٹہ ہلکا سا پیچھے سرکتا پیشانی کی تازہ چوٹ کو واضح کرتا چلاگیا۔ ”یہ۔۔۔یہ چوٹ کیسے لگی۔۔۔۔؟؟“ عائل کی گہری سیاہ آنکھوں نے سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اُسکے ماتھے پر ابھرے زخم کو حیرت سے پکڑا تو وہ اُسکے سوال پر بوکھلاتی دوپٹے کا سرا سرعت سے بھنوؤں تک کھینچ گئی۔ اب کیا بتاتی اُسے کہ جو کارنامہ اُسنے نادانی میں سرانجام دیا تھا اُس پر اُسکی اماں کا دیا ہوا پہلا تحفہ تھا یہ۔۔۔۔ اُسے گہری سوچ میں مسلسل خاموش دیکھ کر ضبط سے عائل کا سر درد سے مزید پھٹنے لگا۔
”گڑیا۔۔۔۔اپنے صاحب سے اپنا مسئلہ شیئر نہیں کروگی کیا۔۔۔۔۔؟؟؟گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے پگلی میں ہوں ناں تمھارے ساتھ۔۔۔۔شاباش بتاؤ ہوا کیا ہے۔۔۔۔؟؟“ گہرا سانس بھرتے اگلے ہی پل وہ اپنے عصاب ڈھیلے چھوڑگیا۔ اُسکے نرم لہجے میں التجاء صاف جھلک رہی تھی۔ وہ جو کب سے اندر ہی اندر گھٹ گھٹ کر مررہی تھی مقابل کے مان اور ہمددر بھرے لہجے سے جی جان سے مرعوب ہوتی پل میں اپنا آپ اُسکے سامنے کھولنے کا فیصلہ کرگئی۔ اس لمحے اُسے انجام کی بھی کوئی پرواہ نہیں رہی تھی۔
”صص صاحب۔۔۔۔وہ۔۔۔۔جج۔۔۔جنید۔۔۔۔“ وہ ہمت کرتی ابھی بول ہی رہی تھی جب اچانک اپنی پشت سے ابھرتی اپنی اماں کی حدرجہ سخت آواز پر ٹھٹھک کر چپ ہوئی۔
”آمنہ۔۔۔۔تُو یہاں کھڑی ہے پگلی اور بیگم صاحبہ تجھے نیچے بلارہی ہیں۔۔۔۔چل جلدی سے جاکر اُنکے لیے مالٹے کا جوس بنادے نہیں تو وہ ناراض ہوکر تجھے پھرسے ڈانٹ دیں گی۔۔۔۔چل جلدی نیچے جا شاباش ۔۔۔۔“ بروقت اُسے منہ کھولنے سے روکتی وہ بےاختیار اُسکے کندھے پر وارن کرتے انداز میں تھپ رسید کرگئی۔
”ایک منٹ طلعت۔۔۔۔پہلے ہماری بات مکمل ہولینے دو۔۔۔۔پھر وہ موم کا بھی کام کردے گی۔۔۔۔ہاں بولو مُنی۔۔۔۔کس جنید کا بتارہی تھی تم مجھے۔۔۔۔؟؟“ وہ جو نیا معاملہ کھلنے پر چونک کر سیدھا ہوا تھا طلعت کی غلط ٹائم آمد پر سخت بدمزہ ہوتا سپاٹ لہجے میں بولا۔
”ارے صاحب یہ تو پوری جھلی ہے۔۔۔۔بنا سوچے سمجھے کچھ بھی بک دیتی ہے۔۔۔آپ اسکی باتوں پر دھیان مت دو۔۔۔۔یونہی آپکا قیمتی وقت ضائع ہوگا۔۔۔۔“ وہ لہجے کو نرم رکھتے بمشکل مسکراتی عائل کو ٹالنے کی کوشش میں تھی مگر پھربھی اپنے ڈگمگاتے لفظوں کی گھبراہٹ اُس سے چھپا نہیں پائی تھی۔
”میں نے تم سے کوئی مشورہ نہیں مانگا طلعت۔۔۔۔بہتر ہے ہمارے معاملے میں مت پڑو۔۔۔۔اگر پھر بھی خاموش نہیں رہا جاتا تو دروازہ کھلا ہے۔۔۔۔تم جاسکتی ہو یہاں سے۔۔۔۔“ طلعت کو آمنہ کا بازو پکڑکے وہاں سے لےجاتا دیکھ وہ اپنی جگہ کھڑا ہوتا لہجے میں شدید برہمی لیے بولا تو ناچار طلعت کو اُسکا بازو چھوڑنا پڑا۔
”میں سن رہا ہوں مُنی۔۔۔۔جو بھی دل میں ہے سب بےجھجک بول دو گڑیا۔۔۔۔“ اپنے تاثرات پھر سے نرم بناتا وہ اپنے سینے پر ہاتھ باندھ گیا جب وہ طلعت کی سخت گھوری کی پرواہ کیے بغیر عائل کی جانب متوجہ ہوئی۔ شاید اب وہ تھک گئی تھی خود سے تنہا لڑتے لڑتے اور جب اپنے مسیحا کا مضبوط سہارا مل رہا تھا تو پھر کیوں قدم پیچھے لیتی۔۔۔۔
”صاحب۔۔۔۔وہ لڑکاجنید۔۔۔۔ہم دونوں ایک دوسرے سے بےپناہ محبت کرتے تھے صاحب۔۔۔۔اور اسی محبت میں اندھی ہوکر میں نے سب کے احساسات کی پرواہ کیے بغیر اُس سے چھپ کر نکاح کرلیاتھا۔۔۔۔لیکن پھر۔۔۔۔“ شرمندگی سے بھیگتے لفظوں کو رفتہ رفتہ زہر کی مانند اُسکی سماعتوں میں گھولتی وہ اس لمحے ڈوب مرنے کے مقام پر تھی جب لڑکھڑاتی آواز نے ایکدم سے ساتھ چھوڑا تھا۔
اس کھلے انکشاف پر اُسنے قدرے بے یقینی سے اُسکے معصوم دِکھنے والے پھیکے نقوش بڑی گہرائی سے دیکھے تھے جو اس پل اُسکی زباں سے پھسلتے حدرجہ تلخ لفظوں سے کسی بھی طرح میل نہیں کھا پارہے تھے۔
تبھی وہ گہرا سانس بھرتی پھرسے بولنے کے لیے اپنے کپکپاتے لبوں کو کھولنے کی گستاخی کرگئی۔ اپنی بےقابو بیٹی کا پھر سے کھلتا منہ دیکھ کر پاس ہی کھڑی طلعت کا بےبسی کے مارے بلڈلو ہورہا تھا۔
سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیسے پل پل بگڑتے معاملے کو سنبھالے۔۔۔؟؟؟ ”جب جب اُسے موقع ملا اُسنے پورے استحقاق سے میرے وجود کی دھچیاں اڑائیں صاحب۔۔۔اور میں پاگلوں کی طرح اُس ذلیل انسان کی ہوس کو محبت سمجھتی رہی۔۔۔۔محض چند دن کا کھیل تھا جب اُسکے سر سے اِس کھوکھلی محبت کا بھوت بھی اترگیا۔۔۔۔جس خاموشی سے اُسنے مجھے اپنایا تھا اُسی خاموشی سے تین بولوں کا ٹھپہ میرے ماتھے پر مارکر اُس ظالم نے مجھے اپنی زندگی سے ہمیشہ کے لیے نکال باہر کیا۔۔۔۔میں نے بھی دل پر پتھر رکھ کے یہ سب بڑی خاموشی سے برداشت کرلیا صاحب۔۔۔لیکن۔۔۔“ وہ کس اذیت سے اپنے دل کا بھاری بھرکم بھید اُس پر قطرہ قطرہ ظاہر کررہی تھی یہ صرف وہی جانتی تھی اور وہ کس قدر ضبط سے لب بھینچے یہ سب سن رہا تھا یہ بھی صرف اُسے ہی معلوم تھا۔
”لیکن کیاااا۔۔۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکی چبھتی خاموشی پر بےاختیار مٹھیاں پھینچتے وہ بے چین سا غرایا۔ یعنی اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود بھی اُسکا لفظ ”لیکن“ پیچھے باقی تھا۔
”مت بول آمنہ۔۔۔۔۔خدارا چپ ہوجا نہیں تو غضب ہوجائے گا۔۔۔۔“ طلعت گھٹتے دل کے ساتھ زیرِلب التجاء کرتی اگلے ہی پل سہارے کی تلاش میں دروازے کا ہینڈل تھام گئی۔
وہ شدت سے چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کرپارہی تھی۔
”لیکن اب میں بدقسمتی سے اُسکے بچ۔۔۔بچے کی م۔۔۔ماں۔۔۔۔۔“ ہنوز بہتی ہوئی جھکی آنکھوں سے وہ بمشکل اپنی ٹوٹی بکھری ہمت کو مجتمع کرتی اُسکے سر پر ایک اور دھماکہ کرگئی تھی جسکا مطلب فوراً سے بھی پہلے سمجھتا وہ اُسے وہی پر دہاڑتے ٹوک گیا۔
”شٹ اپ۔۔۔۔۔جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔“ وہ اس پل ضبط کی تمام حدوں کو پار کرگیا تھا جبکہ مقابل کی آنکھوں سے پھوٹتی چنگاڑیوں اور درشتگی بھرے لہجے پر وہ طلعت سمیت اپنی جگہ پر اچھل کررہ گئی۔ اگلے ہی پل بے اختیاری میں تھپڑ کی صورت اٹھتا عائل کا ہاتھ بےبسی سے ہوا میں ہی معلق رہ گیا تھا جس پر آمنہ دبا سا چیختی فوری اپنی آنکھیں میچ گئی۔
دل تو شدت سے چاہ رہا تھا کہ اُسکا بھیگا چہرہ ابھی تھپڑوں سے لال کردے مگر صد افسوس کہ وہ عورت پر ہاتھ اٹھانے کا قائل نہیں تھا تبھی ہاتھ کی سخت مٹھی بناتااگلے ہی پل اُسکی طرف سے اپنا رخ پھیرگیا۔
دل میں موجود اُس لڑکی کے لیے عزت و اپنائیت کی عمارت پل میں ملیامیٹ ہوئی تھی جسے وہ خود سے پڑھا لکھا کر جانے کیا سے کیا بنانا چاہتا تھا۔۔۔۔
مگر وہ کیا نکلی تھی۔۔۔۔؟؟
بدکردار۔۔۔۔
یاں دھوکے باز۔۔۔۔؟؟
”ایڈریس بتاؤ مجھے اُس خبیث کا۔۔۔۔؟؟“ نفرت سے پھنکارتا وہ اگلا لائحہ عمل سیکنڈوں میں ذہن نشین کررہا تھا۔ وہ جو عائل کے حددرجہ سخت لب و لہجے پر آنکھیں کھولے تکلیف اور صدمے سے اُسکی پشت دیکھ رہی تھی اُسکے پلٹ کر غصے سے دیکھنے پر کپکپاتی فوری سب کچھ بتاتی چلی گئی۔ ”صاحب۔۔۔۔۔۔؟؟؟“ اُسے موبائل سکرین پر تیزی سے انگلیاں چلاتا دیکھ وہ آنسو پونچھتی اُسکی جانب بڑھی۔
”ہاں راشد۔۔۔۔میں نے تمھیں جو ایڈریس ابھی سینڈ کیا ہے گاڑی لے کر فوری وہاں پہنچو۔۔۔۔تب تک میں بھی وہاں پہنچتا ہوں۔۔۔۔اور ہاں ہتھکڑی ساتھ لانا مت بھولنا۔۔۔۔اوکے خدا حافظ۔۔۔۔“ سب انسپیکٹر سے بات کرتا وہ اُسے بالکل نظرانداز کرگیا جبکہ اُسکی بات سن کر وہ دونوں چونک کررہ گئیں۔
”صص صاحب۔۔۔صاحب آپ کدھر جارہے ہو۔۔۔۔؟؟؟ مجھ سے انجانے میں بہت بڑی غلطی ہوگئی۔۔۔۔خدارا مجھے معاف کردو صاحب۔۔۔۔صاحب۔۔۔۔۔“ اُسے کوٹ پکڑتے کمرے سے جاتا دیکھ آمنہ بدحواس سی اُسکے سامنے آکر ہاتھ جوڑے کھڑی ہوگئی جب وہ اُسے جھٹکے سے پیچھے دھکیل گیا۔
”کوشش کرنا کہ اب سے مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔۔۔۔ورنہ ممکن ہے کہ میں اپنا ضبط کھو بیٹھوں۔۔۔۔۔“ شہادت کی انگلی اٹھائے قدرے تنفر سے بولتا وہ اُسے بھبھک کر رونے پر مجبور کرگیا جبکہ اپنی بیٹی کی بےوقوفیوں کی وجہ سے طلعت سے نظریں ہی اوپر نہیں اٹھائی جارہی تھیں۔
”افسوس کہ تم اپنی اکلوتی بیٹی کی صحیح سے حفاظت بھی نہیں کرسکی طلعت۔۔۔۔اور شاید نہ ہی میں۔۔۔۔۔“ کمرے کی دہلیز پھلانگنے سے پہلے وہ طلعت کو احساسِ جرم سے دوچار کرنا نہیں بھولا تھا اور پھر اگلے ہی پل لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلاگیا۔
”کلموہی۔۔۔۔منحوس ماری۔۔۔۔کیا آفت پڑگئی تھی تجھے عائل صاحب کے سامنے سب بکنے کی۔۔۔۔؟؟اتنا بڑا کانڈ چھپ کر کرلیا اور اب کھلے عام اسکا ڈھنڈورا پیٹتی میرے سر پر خاک ڈلواتی پھررہی ہے۔۔۔۔اپنی پھسلتی زبان سے ہماری روزی روٹی پر لات مارہی دی ناں تُونے بےوقوف۔۔۔۔دیکھنا ابھی کچھ ہی دیر میں ہمیں اس گھر سے دھکے مار کر باہر نکال پھینکیں گے یہ لوگ۔۔۔۔یااللہ مدد کر ہماری۔۔۔۔“ طلعت نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور آمنہ کو دوپٹے سمیت بالوں سے جکڑتی ایک ساتھ کئی چماٹ جڑ ڈالے۔ ”اماں اب یہاں رہنا ہی کون چاہتا ہے۔۔۔۔۔ہم خود ہی یہاں سے چلے جائیں گے۔۔۔۔۔“ اپنی تکلیف کی پرواہ کیے بغیر وہ بڑے ضبط سے بولتی طلعت کو مزید آگ بگولا کرگئی۔
تبھی کوئی کھٹکے کی آواز کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا تو دونوں نے بھیگی آنکھوں سے بےاختیار پلٹ کر پیچھے دیکھا۔
”بب۔۔۔بیگم صاحبہ۔۔۔۔آ۔۔۔پ۔۔۔۔“ عائمہ بیگم کے غصے سے لبریز خطرناک تیور دیکھ کے دونوں ماں بیٹیوں کی جان ہوا ہوئی تھی۔
💞💞💞💞💞💞
آج اتوار کا دن تھا۔برائے نام آرام کا دن جو کہ حاویہ کے لیے کسی وبال سے کم نہیں تھا۔ایک سنڈے سارے کاموں کا ذمہ اُسکے سر ہوتا اور دوسرا سنڈے حرمین کے نام ہوتا۔ مگر بدقسمتی سے یہ والا سنڈے اس بار اُسکے حصے میں آیا تھا۔نفیسہ بیگم نسیمہ آپا کے ساتھ حرمین کے ہونے والے سسرال گئی ہوئی تھیں۔ حالانکہ اُسکا بھی جانے کو بہت من ہورہا تھا پر نفیسہ بیگم نے ساتھ لےجانے سے صاف منع کردیا تھا۔سو اُس نے بھی سب معاملات سمجھتے ہوئے ذیادہ ضد نہیں کی تھی۔ حرمین بھی پڑھائی کے سلسلے میں اس وقت اپنی فرینڈ علیزہ کی طرف گئی ہوئی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی جو وہ سارے کام چھوڑے اس وقت دیوار کے ساتھ لگی چیئر پر کھڑی ہوکرنیناں سے گپیں ہانکنے میں مصروف تھی۔
”اچھا بس بس۔۔۔بہت ہوگئیں باتیں۔۔۔اب مجھے کام کرنے دو۔۔۔۔وہاں دھونے والے کپڑوں کا انبار لگا پڑا ہے۔۔۔جو مجھ بیچاری کو اکیلے ہی دھونا پڑے گا۔۔۔۔تم کونسا آکر میری مدد کروں گی۔۔۔۔بس باتیں کروالو تم سے جتنی مرضی۔۔۔میں تو چلی۔۔۔۔تم جاکے اب اپنے مہمانوں کو سنبھالو۔۔۔“ نیناں کو اچھی خاصی جھاڑ پلاتی وہ رفوچکرہونے کو تھی جب وہ اُسے آواز دے کر ایکدم سے روک گئی۔ نیچے سے اُسے اپنی امی کی مسلسل آوازیں پڑرہی تھیں۔
”اچھا اچھا۔۔۔میری ایک آخری بات تو سنتی جاؤ۔۔۔۔میں تمھیں سب سے امپورٹنٹ بات بتانا تو بھول ہی گئی۔۔۔۔“ قدرے عجلت میں سر پر ہاتھ مارتی وہ اُسے اچھا خاصا تجسس دلاگئی۔
”جلدی بول نیناں۔۔۔اتنا فالتو وقت نہیں ہے میرے پاس۔۔۔۔“ منہ بسور کر بولتی وہ مزید ایڑیاں اچکاگئی۔
”وہ بختی ہے ناں۔۔۔۔ارے بختیارکی بات کررہی ہوں۔۔۔۔وہ کل ہی دبئی سے واپس آیا ہے۔۔۔۔اُسکی چھوٹی بہن آئی تھی ہماری طرف۔۔۔بتارہی تھی کہ اُسکا بھائی بہت چیزیں لایا ہے اُن سب کے لیے۔۔۔۔“ پرجوش سی بولتی وہ حاوی کے سر پر دھماکہ کرگئی اور اگلے ہی پل پھر سے اپنی امی کی چیختی آواز پر نیچے کی جانب بھاگی جہاں اُنکے مہمان یقیناً آچکے تھے۔ پیچھے وہ حق دق سی جہاں کھڑی تھی وہی کھڑی رہ گئی۔
بختی کے نام پر دل ایکدم خوف و غم سے پھڑپھڑایا تھا جسے وہ اپنے دل و دماغ سے تقریباً نکال ہی چکی تھی۔
قدرے ڈھیلے انداز میں چیئر سے نیچے اترتے ہوئے بےاختیار اُسکے دماغ میں اُسکی زبردستی قربت کے خیالات گھومنے لگے تو وہ اندر تک کانپ کررہ گئی۔
”یا میرے اللہ۔۔۔۔مجھے اُس شیطان کے شر سے ہمیشہ محفوظ رکھنا۔۔۔۔۔ہمیشہ بس اپنی پناہ میں رکھنا۔۔۔بےشک عزت اور ذلت تیرے ہی ہاتھ ہے میرے مالک۔۔۔۔“ بےاختیار آسمان کی جانب نم آنکھوں سے دیکھتی وہ اپنے رب کی رحمت و تحفظ کی شدت سے طلبگار تھی۔
اور پھر کچھ ہی پلوں میں خود کو پرسکون کرتی سامنے کمرے کی جانب بڑھ گئی جہاں دھونے والے کپڑوں کا ڈھیر ٹب میں پڑا یقیناً اُسکی کے انتظار میں تھا۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
وہ اس وقت گھر کے کھلےصحن میں کرسی پر براجمان ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھا فون پر کسی لڑکی سے محوِ گفتگو تھا۔ ماں باپ اور چھوٹی بہن اس وقت گھر میں موجود نہیں تھے جو شہر سے باہر اپنے دور کے رشتہ دار کی شادی اٹینڈ کرنے گئے تھے۔ ایسے میں اُسے کھلی چھوٹ مل چکی تھی۔ باتیں تو باتیں۔۔۔انداز بھی ایک دم چھچھوڑا تھا جس پر دوسری طرف سے شرمانے کی بھونڈی اداکاری کرتی لڑکی کی کھنکھناتی ہنسی سنائی دی۔
”پلیز بےبی۔۔۔۔صرف آج کے لیے میرے پاس آجاؤ ناں۔۔۔۔گھر پر اگلی صبح تک کے لیے مکمل پرائیویسی دستیاب ہوگی۔۔۔۔پھر شاید ہی کبھی ہمیں ایسا سنہری موقع ملے ملاقات کے لیے۔۔۔۔میرا دل بہت بےقرار ہورہا ہے تمھیں دیکھنے کے لیے۔۔۔۔اب صرف تم ہی ہو جو اِس پیاسے دل کو سیراب کر سکتی ہو۔۔۔۔تم آؤگی ناں۔۔۔۔؟؟؟“ وہ اُسکی مکمل توجہ سمٹے مزید مست ہوتا اصل مدعے کی جانب بڑھ رہا تھا لیکن تبھی زور زور سے بجتے دروازے کے درمیان لڑکی کا واضح انکار اُسکا موڈ حددرجہ خراب کرگیا۔
”ٹھک ٹھک ٹھک۔۔۔۔۔“ مسلسل دروازہ توڑ دستکوں پر وہ گالی بکتا تیزی سے مین گیٹ کی جانب بھاگا۔
”کون ہے بے۔۔۔۔۔؟؟صبر کر آرہا ہوں۔۔۔۔“ غصے سے چیختا وہ کنڈی کھول گیا لیکن سامنے پینٹ کوٹ میں کسی اجنبی شخص کے ساتھ ایک باوردی سب انسپیکٹر کو دیکھتے اُسکی سٹی گم ہوئی تھی۔
”جنید امجد۔۔۔۔تمہی ہو۔۔۔۔۔؟؟؟“ کڑے ضبط سے پوچھتا یہ عائل تھا۔ ”جج۔۔۔جی صاحب۔۔۔۔پر میں نے آپکو پہچانا نہیں۔۔۔کون ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟“ پولیس کو دیکھ کر ماتھے پرآیا پسینہ ہاتھ کی پشت سے صاف کرتا وہ تحمل سے مسکراتے ہوئے استفسار کرنے لگا۔
”چل آجا پھر۔۔۔۔ابھی اچھے سے پہچان کرواتا ہوں تجھے کہ کون ہوں میں بےغیرت انسان۔۔۔۔“ اپنے سوال کی مکمل تصدیق پر وہ اگلے ہی پل دانت پیس کر بولتا ہوا اُسے گریبان سے پکڑ کر دہلیز سے باہر کھینچ چکا تھا۔ ”ارے صاحب یہ کیا کررہے ہو۔۔۔۔؟؟؟چھوڑو مجھے۔۔۔۔صص۔۔اااا۔۔۔۔۔حب۔۔۔۔“ اُسکی مضبوط گرفت سے اپنی خاکی رنگ قمیض کا کالر چھڑوانے کی کوشش کرتا سانولی رنگت کا جنید گھبراتے ہوئے چلایا جب ایکدم سے منہ پر پڑنے والا زور کا مکا اُسکی بولتی بند کروانے کے ساتھ ہی اُسے زمین بوس کرچکا تھا۔
یہ منظر دیکھ کر آس پاس محلے کے لوگ تماشا دیکھنے کے لیے آہستہ آہستہ جمع ہونے لگے۔کچھ ہی دیر میں اطراف میں بھیڑ لگ چکی تھی جن میں سے کچھ اس آوارہ لڑکے کی دھلائی ہوتے دیکھ حیرانگی اور کچھ دلچسپی سے تکنے لگے جبکہ ان میں سے چند ایک آگے بڑھ کر جنید کو عائل کے ہاتھوں بچانے کی سوچ میں تھے مگر باوردی سب انسپیکٹر کی حاضری سمیت عائل کا حددرجہ غصہ دیکھ کر اپنی جگہ بےبس کھڑے رہ گئے۔
جبکہ وہ اردگرد سے بےبہرہ آمنہ کے لفظوں کی کھولن اُس پر پوری طرح اتارتا پل پل بے قابو ہوتا چلاجارہا تھا۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
”یااللہ خیر۔۔۔۔۔“ لمحہ بہ لمحہ بلند ہوتے شور پر گھبراتی وہ دھونے والے کپڑوں کا ڈھیر وہیں پر چھوڑے بنا دوپٹے کے ٹیرس کی جانب تقریباً بھاگتی ہوئی لپکی۔تجسس اس قدر حاوی تھا کہ ہاتھ میں پہلے سے ہی جکڑی پانی سے آدھی بھری بالٹی کا بھی دھیان نہیں رہا تھا۔نیچے جھانکتے ہی اُسے بہت سے لوگوں کا ہجوم دکھائی دیا لیکن اگلے ہی پل جس چونکا دینے والے منظر نے اُسکی توجہ شدت سے اپنی جانب کھینچی تھی وہ ٹھیک نیچے اُنکے محلے کے آوارہ ٹائپ لڑکے کی دب دبا کے ہونے والی کٹائی تھی۔اپنی جانب پشت ہونے کی وجہ سے وہ اُس دبنگ شخص کا چہرہ نہیں دیکھ پارہی تھی جو پینٹ کوٹ میں ملبوس بنا رکے اُسے کپڑے کی طرح دھونے میں کوئی کثرباقی نہیں چھوڑرہا تھا۔
”چچ۔۔۔اب یہ نیا مدمعاش کون ہے بھئی۔۔۔۔؟؟؟“ خود کے بالوں سے الجھتی وہ مزید آگے کو ہوئی جس کے ساتھ ہی دیوار کے سہارے ٹکی بالٹی پر اُسکی گرفت بے دھیانی میں ڈھیلی پڑی تھی۔
”مج مجھے۔۔۔معاف کردو صاحب۔۔۔غلطی ہوگئی مجھ سے۔۔۔مم میں حلالہ کرواکر آمنہ کو پھرسے اپنالوں گا۔۔۔بس مجھے چھوڑدو۔۔۔“ وہ لڑکا اپنے دفاع میں ہاتھوں کو آگے پھیلائے فوری حل نکالتا پھٹے لبوں سے اپنی جان بخشی کی بھیک مانگ رہا تھا۔
”حلالہ تو تیرا جیل جانے کے بعد میں خود کرواؤں گا ذلیل انسان۔۔۔۔“ اُسکی نازیبا بات پر بھڑک کربولتے ہوئے اُسنے نیچے گرے لڑکے کو گریبان سے پکڑکراپنے مقابل کھڑا کیا جب اچانک اوپر سے گرتا جھاگ والا پانی اُسکے پورے وجود کو تیزی سےبھگوتا اگلے ہی پل اُسے بری طرح حواس باختہ کرگیا۔
”کیا بیہودگی ہے یہ۔۔۔۔؟؟؟“ ضبط سے گہرا سانس بھرتے اپنے بھیگے چہرے کو دائیں ہاتھ سے صاف کرتا وہ شدید غصے میں برہم سا چلایا اور اگلے ہی پل پلٹ کر سرخ آنکھوں سمیت اوپر کی جانب دیکھا جہاں وہ ویسے ہی جھکی سانس روکے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔
بالٹی کا کھلا منہ بھی قدرے آگے کو جھک کر عائل کو بخوشی سلامی پیش کررہا تھا۔ وہ حاویہ کے دل ڈگمگانے دینے والے ملگجے حلیے سمیت اُسکا زرد پڑتا چہرہ دیکھ کر پل بھر کو بری طرح چونکتا قدرے ضبط سے مٹھیاں بھینچ گیا۔
”او تیری ی ی ی ی۔۔۔۔۔“ عائل سمیت وہاں کھڑے سب لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول ہوتے دیکھ وہ اگلے ہی پل چھپنے کی کوشش میں جھٹکے سے بالٹی سمیت گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھی تھی۔
”وہ یہاں کیا کررہا تھا۔۔۔۔؟؟“ عائل کی غصیلی نظروں کو اندر تک محسوس کرتی وہ شدت سے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھ گئی۔
”پاگل۔۔۔۔بےوقوف۔۔۔۔“ ۔اُسے فوراً سے بھی پہلے سب کی نظروں سے اوجھل ہوتا دیکھ وہ دانت پیستے ہوئے سختی سے لب بھینچ گیا اور مُڑکر جنید سمیت سب کی طرف دیکھا جو اپنی نگاہوں کا زاویہ بدلتے واپس اُسے ہی دیکھ رہے تھے۔ بہت سوں کی نظروں میں خود کے لیے تمسخر محسوس کرتا وہ واپس جنید کی جانب متوجہ ہوا جو اب سوجھی ہوئی آنکھ سے اُسے گھورنے میں مصروف تھا۔
”لے جاؤ اسے۔۔۔اور جب جب یہ بولے اسکی اچھی خاطرتواضع کرنا مت بھولنا۔۔۔۔بہت خاص مہمان ہے یہ ہمارا۔۔۔۔۔“ ۔زہرخندق لہجے میں راشد کو حکم دیتا وہ جنید کو گریبان سے پکڑکر اُسکی جانب دھکیل گیا۔
”نن۔۔۔نہیں صاحب۔۔۔۔خدارا معاف کردو۔۔۔۔مم۔۔۔میں پیر پکڑتا ہوں آپکے صاحب۔۔۔۔نہیں چھوڑو مجھے۔۔۔۔چھوڑو۔۔۔۔“ راشد اُسے اپنے قابو میں کیے ہاتھ میں ہتھکڑی ڈالتا جونہی اپنے ساتھ گھسیٹ کر کچھ فاصلے پر موجود موبائل تک لے جانے لگا تو وہ پھر سے زخمی پرندے کی طرح پھڑپھڑانے لگا۔
موبائل تک پہنچتے ہی راشد اُسکی گردن پر زور کا چھانپڑ چھوڑتے اُسے بےدردی سے اندر پٹخ گیا اور سٹینڈ کے ساتھ ہتھکڑی کا دوسرا سرا بھی لاکڈ کرتے اُسے مکمل بےبس کرگیا۔
”تماشہ ختم ہوچکا ہے۔۔۔۔اب آپ لوگ بھی جاسکتے ہیں یہاں سے۔۔۔۔“ موبائل کو دورجاتا دیکھ عائل ایکدم سے تالی بجاتا لوگوں کو مخاطب کیے بھیڑ ختم کرنے کا آڈر دےگیا۔
تبھی ایک ایک کرکے سب لوگ چہ مگوئیاں کرتے وہاں سے ہٹتے چلے گئے۔ تبھی آخری نگاہ واپس ٹیرس کی جانب اچھالتا وہ بےاختیار اپنا گیلا کوٹ ہاتھ مار کے جھاڑ گیا جہاں اب اُس لڑکی کا دور دور تک کوئی نام و نشان نظر نہیں آرہا تھا۔
”ایڈیٹ۔۔۔۔۔“ اگلے ہی پل وہ اُسکے گھر کی نشاندہی کیے پیرپٹختا اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
