No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕💕
”چچ۔۔۔بےچارہ سالار خان۔۔۔۔“ وہ اپنے کمرے میں جارہی تھی جب سماعتوں سے ٹکراتی چھمی کی تاسف زدہ آواز پر اُسکے اٹھتے قدم دھیمے پڑتے رُک سے گئے۔
”آہستہ بول چھمی کی بچی۔۔۔۔اگر کہیں رابی جی یاں تابین بی بی نے بذاتِ خود تیری قینچی کی طرح چلتی اِس زبان کے جوہر دیکھ لیے ناں تو بڑی مصیبت ہوجائےگی۔۔۔خود تو مرے گی ہی کمینی ساتھ میں میری لٹیا بھی ڈبوائے گی خوامخواہ میں۔۔۔۔۔“ چھمی کو اُسکی سنگینی کا احساس دلانے کی سعی کرتی لالی بےاختیار اُسکا کندھا دبوچ گئی۔
”ارے پرے ہٹ رے لالی۔۔۔۔تُو تو ہمیشہ بزدل ہی رہی یو بس۔۔۔۔بھلا دل کی بات۔۔۔زبان پہ لانے سے بھی کوئی ڈرتا ہے کیا۔۔۔۔؟؟؟میں تو نہیں ڈرتی ورتی کسی سے بھی۔۔۔چاہے پھروہ تیری رابی جی ہوں یاں پھر تابین بی بی۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔“ چڑکر اُسکا ہاتھ جھٹکتی وہ تنفر سے گویا ہوئی تو ادھ کھلے دروازے سے اُسکا نڈر لہجہ محسوس کرتی رابی ضبط سے گہرا سانس بھرگئی۔
” تُو سچ میں پاگل ہوگئی ہے چھمو۔۔۔۔۔“ اُسکی اس قدر جرات پر لالی کو فی الوقت اُسکی دماغی حالت پر شبہ ہوا تھا جو جانے آج کن ہواؤں میں اڑتی مدہوش ہونے کے درپے تھی۔
”ہائےےے۔۔۔۔بس ایک بار۔۔۔۔ایککک بار اگر وہ بندہ مجھے بول دیتا ناں کہ چھمی جان۔۔۔۔میرے ساتھ چلی چلو۔۔۔۔تو خداقسم اُس کی خاطر ہرشے پیروں تلے روندکر اُسکے سنگ نکل جاتی زندگی بھرکےلیے۔۔۔۔لیکن وہ سنگدل ہےکہ اُسے میرے حالِ دل کی کوئی خیرخبرہی نہیں۔۔۔۔“ خود کی فکر میں ہلکان ہوتی لالی کی پرواہ کیے بنا ہی وہ حسرت زدہ سی بولی تو جہاں لالی کا دل اپنا ماتھا پیٹ لینے کو کیا تھا وہیں پل بھرکو حیران ہوتی رابی شدتِ ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی۔
اس قدر بےایمانی پر آنکھوں کی گلابیت میں سرخی سی گھلنے لگی تھی۔
”منہ دھو رکھو چھمی جان۔۔۔۔سالار خان عاشق دیوانہ ہے تو فقط رابی جی کا۔۔۔تیرا کیا ہے۔۔۔۔؟؟نہ عقل نہ شکل۔۔۔۔۔چلی ہے عاشقیاں نبھانے۔۔۔ہونہہ۔۔۔ احسان فراموش۔۔۔۔“ اُسکی حددرجہ سانوالی رنگت پر تھوپے گئے سرخ سنگار کا حقیقتاً مذاق اڑاتی وہ چھمی کو پل میں اُسکی اوقات یادکرواگئی تو اس واضح حقیقت پر رابی کے جلتے دل کو چندپلوں کے لیے قرار ساآیا۔
جواباً چھمی اپنی جانِ عزیز دوست کو گھورتی تپی تھی۔
”تم مجھے احسان فراموش کہہ رہی ہو۔۔۔؟؟حقیقتاً احسان فراموش تو وہ رابی ہے جس نے سالارخان کے احسانوں کا بدلہ ہمیشہ بےوفائی کی صورت ہی اتارا ہے۔۔۔کم از کم میں اُس جیسی ناقدری تو ہرگز نہیں ہوں جو آج تک انمول محبت کی قدروقیمت ہی نہیں جان پائی۔۔۔۔“ لفظوں کی صورت زہر اگلتی وہ رابی کو بِل میں چھپے بیٹھے سانپ کی مانند ہی تو لگی تھی جو بغاوت پر اترتی انجانے میں اپنے سارے بھرم توڑتی چلی جارہی تھی۔
”اب بس بھی کرجا چھمو۔۔۔۔پھوڑلیے تُو نے اپنے دل کے چھالے۔۔جتنے پھوڑنے تھے۔۔۔۔اپنا منہ بندکرلے کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں یہی تلخ الفاظ تیرے لیے وبالِ جان ثابت ہوں۔۔۔۔“ اُسکی مسلسل چخ چخ کے آگے بری طرح چڑتی لالی کسی انجانے خوف کے تحت بےاختیار اُسے چپت لگاتی سختی سے ٹوک گئی۔
لالی کی جائز ڈانٹ ڈپٹ پر جہاں چھمی نے اپنی چوڑیوں بھرا ہاتھ جھٹک کر منہ بسورا تھا وہیں برداشت کی آخری حدوں کو چھوتی وہ آگے کا لائحہ عمل سیکنڈوں میں طے کرتی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
مختلف سوچوں کی آماجگاہ بنا دماغ ایک خاص نتیجے پر پہنچتا اب قدرے سکون میں آچکا تھا۔۔۔
معمول کے مطابق رات کی لامحدود سیاہی دھیرے دھیرے وسیع آسمان کو اپنی لپیٹ میں لیتی وحشت زدہ سی بناتی چلی جارہی تھی۔ایسے میں خاموش اندھیرے میں ڈوبتا یہ فارم ہاؤس اِس سمے اپنے اطراف میں پھیلی بےرونقی کو پیش پیش مات دےرہا تھا جہاں پارٹی کے نام پر کھلی بےحیائی کا مظاہرہ سرِعام کیا جاسکتا تھا۔ملٹی شیڈز ڈسکو لائٹ میں فل لاؤڈ میوزک پر جھومتے تھڑکتے کتنے ہی وجود اِن سرکتے لمحوں میں محرم و نامحرم کا فرق بھلائے ایک دوسرے کی بانہوں میں بری طرح مست تھے۔
کلب اور یہاں کے ماحول میں کوئی خاص فرق نہیں رہا تھا۔جہاں ڈی۔جے والا بابو جھومتے ہوئے والیم اپ ڈاؤن کرتا مزید جوش دلارہا تھا وہیں آوارگی پسند لڑکے لڑکیاں ہر فکر و خوف سے بےبہرہ معمولی حدود پھلانگنے کے لیے قدرے بےتاب دکھائی دے رہے تھے۔
ایسے میں وہ خود بھی شعلہ جوالہ بنی شمسہ کے گرد اپنا نرم گھیرا پھیلائے ڈانس کے ہر موومنٹ پر اُسے پل پل معتبر کررہا تھا۔پھٹی جینز پر بلیک ٹی شرٹ اس پر مستزاد سر پر ذرا ٹیڑھے اسٹائل میں اٹکی چارلی چیپلن کیپ میں وہ جانے کتنی ہی لڑکیوں کی بھٹکتی نگاہوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔
”تمھیں نہیں پتہ شام۔۔۔میں تمھارے سنگ یہ حسین پل گزارنے کے لیے کس قدر بےچین تھی۔۔۔۔“ اُسکے ابھرے سینے پر موجود موٹی چین مٹھی میں دبوچتی وہ اُسے بڑی بےباکی سے اپنے مزید قریب کھینچ چکی تھی۔
شمسہ کا بہکتا انداز اور کاجل بھری نگاہوں کا خمار قدرے قریب سے محسوس کرتا وہ بےاختیار مسکرایا۔خوبصورت لڑکیوں کی یہی بےباکیاں تو اُسے اپنی جانب حد سے ذیادہ اٹریکٹ کرتی تھیں۔
موومنٹس دھیمے پڑتے اب تھم چکے تھے۔
”اس سونگ کے میجیکل ورڈز۔۔۔۔ہمارا لوَنگ کپل۔۔۔۔اور کبھی نہ بھولنے والے یہ ڈریمی مومنٹس۔۔۔۔اُففف۔۔۔سب کچھ کتنا پرفیکٹ ہے ناں۔۔۔“ اُسکے کان کے قریب جھکتی وہ شریں آواز میں بولی جسے شور کے باعث بمشکل اُسے سنتا وہ اپنے مسکراتے لب بھینچ گیا۔
”تم خوش ہو۔۔۔۔؟؟؟“ ڈانس کے سٹیپس دوبارہ سے شروع کرتے شام نے اُسکے چہرے سے پھوٹتی دیدنی خوشی کو مزید پرکھنا چاہا۔
”بہت۔۔۔۔بہت ذیادہ۔۔۔۔“ اُسکی رہنمائی میں گول گول گھومتی وہ کھکھلاکر ہنسی۔
جبکہ شام کی عروج پر پہنچتی کھلکھلاہٹیں دور سے دیکھتا افروز اپنی سلگتی نظریں واپس مدہوش ہوتے اُس کپل کی جانب گھوماگیا۔رابعہ کسی لڑکے کی بانہوں میں جھولتی اپنی بےاعتناعی سے اُسے پل پل جھلسارہی تھی لیکن وہ ہاتھ میں ڈرنک دبوچے خلاف توقع بالکل خاموش بیٹھا تھا۔دو بار ٹھکرائے جانے کی وقتی اذیت سے ذیادہ رابعہ کا کسی اور کے سنگ بہکنا افروز کو حددرجہ بےسکون کرگیا تھا جب فواد بھی اپنی گرلفرینڈ کو ڈرنکس کا بول کر اُسکی طرف چلاآیا۔
”کیوں بے تاڑوو۔۔۔یہاں بیٹھ کر کیوں لڑکیوں کو تاڑ رہا ہے۔۔۔۔؟؟؟آجا۔۔۔۔ڈانس فلور پر چل کر مزے کرتے ہیں۔۔۔۔ڈونٹ بی وری۔۔۔۔تجھ جیسے لنگور کو کوئی نہ کوئی میٹھا انگور مل ہی جائے گا۔۔۔“ تیزی سے رنگ بدلتی روشنیوں میں افروز کا سپاٹ چہرہ دیکھتا وہ اُسکی بےلگام نظروں پر شرارتاً چوٹ کرگیا۔
”ذیادہ بکواس نہیں کرمیرے ساتھ۔۔۔۔بس اتنا بتا کہ یہ لڑکی یہاں پر کیا کررہی ہے۔۔۔۔؟؟؟“ فواد کی مسکراہٹ سمیت اُسکے آنکھ دبانے پر بری طرح چڑتا وہ قدرے تیز لہجے میں بولا تو جواباً اُسے بھی سنجیدہ ہونا پڑا۔
”یہ۔۔۔۔؟؟؟شام نے انوائٹ کیا تھااسے۔۔۔انکار نہیں کرسکی تو چلی آئی۔۔۔“ رابعہ کی جانب نگاہیں پھیرتا وہ سادگی سے بولا۔
”تو پھر اُسکا(گالی)۔۔۔۔##۔۔۔۔بوائے فرینڈ ساتھ کیوں آیا ہے۔۔۔۔؟؟“ غصے میں گلاس سامنے ٹیبل پر پٹختا وہ فواد کو اپنی پرسنالٹی سے ہٹ کر کوجا لگا تھا۔
”کیا یاررر۔۔۔۔تیرا دماغ ابھی تک اسی منحوس لڑکی پر اٹکا ہوا ہے۔۔۔۔لعنت بھیج ان دونوں پر اور چل میرے ساتھ۔۔۔۔چل چل اُٹھ شاباش۔۔۔۔“ اُس پر سخت برہم ہوتا وہ اُسے زبردستی صوفے سے اٹھانے کی تگ و دو کرنے لگا جب احتجاج کرتے افروز کی بیزاریت یکدم ہی کمینی مسکراہٹ میں بدلی۔
فواد نے اُسکی بلاوجہ کی مسکراہٹ پر چونک کر اگلے ہی پل اُسکی نظروں کے تعاقب میں دوبارہ رابعہ کی جانب دیکھا جو اپنے بوائے فرینڈ کی راہ تکتی منتظر سی یہاں وہاں دیکھ رہی تھی۔
اُسے بالکل تنہا پاتا افروز برق رفتاری سے اُسکی جانب لپکا تو فواد اُس کے ڈھیٹ پنے پر سرجھٹک کر رہ گیا۔
”ہے ای سوئیٹی۔۔۔میرے ساتھ ڈانس کروگی۔۔۔۔۔؟؟؟“ رابعہ کا سیلولیس بازو پکڑ کراپنی جانب گھوماتا وہ حقیقتاً اُسے چونکاگیا۔
”ناٹ آ چانس مسٹر۔۔۔۔“ اپنے مقابل افروز کو دیکھتی جہاں وہ اُسکا ہاتھ جھٹکتی چڑی تھی وہیں اُسکی سفاک دھتکار پر افروز کے تیور پھرسے بگڑے۔
”یو۔۔۔۔۔“ رابعہ کو وہاں سے جاتا دیکھ وہ سرعت سے اُسکا بازو دبوچتا اُسے اپنی جانب کھینچ گیا۔
”آہ۔۔۔۔افروز۔۔۔۔ہاؤڈیئر یو ٹو ٹچ می۔۔۔۔۔؟؟“ اُسکی سخت گرفت پر ضبط کھوتی وہ دبا سا چیخی تو اُسکی آواز مزید بلند ہوتے بھڑکیلے شور تلے دب کررہ گئی۔
”اور کتنا ذلیل کروگی مجھے۔۔۔۔؟؟ہاں۔۔۔۔؟؟ایسی بھی کیا اکڑ ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لےرہی۔۔۔۔؟؟؟“ رابعہ کی نظروں میں سرخ نظریں گاڑتا وہ حقیقتاً اُسکی بےرُخی سے اکتا گیا تھا۔
”آئی ہیو الریڈی آ بوائے فرینڈ۔۔۔۔سو مجھے تمھاری ضرورت نہیں ہے اوکے۔۔۔“ اُسکی تلخی میں گھلی بےچینی محسوس کرتی وہ اب کی بار ذرا نرم پڑی لیکن الفاظ ہنوز سختی لیے ہوئے تھے۔
”بٹ آئی ہیو نو اینی گرلفرینڈ۔۔۔۔مجھے تم جیسی خوبصورت گرلفرینڈ کی ضرورت ہے یار۔۔۔۔“ اُسکی سوچ اور بوائے فرینڈ دونوں پر شدت سے لعنت بھیجتا وہ قدرے بےبسی سے اپنی مجبوری بیان کرگیا۔
”جسٹ لیومی افروز۔۔۔نہیں تو میرا بوائے فرینڈ آکر تمھارے دونوں ہاتھ توڑ ڈالے گا۔۔۔۔“ اُسکی ڈھٹائی سے عاجز آتی وہ خود کو چھڑانے کی سعی میں دھمکی دے گئی۔
”اوشٹ۔۔۔۔“ اس سے پہلے کہ افروز اِس ضدی لڑکی کو صحیح معنوں میں اسکی اوقات دکھانے پر اترآتا اچانک اُسکی نگاہ ٹھٹھک کر قدآور سلائیڈنگ ونڈو کی جانب گئی۔شفاف شیشے کے پار دکھائی دیتا وجود اُسکی آنکھوں میں حیرت سمیت عجیب چمک ابھار گیا۔
اگلے ہی پل وہ رابعہ کو جھٹکے سے چھوڑتا سرعت سے شام کی جانب لپکا تھا۔
”ایڈیٹ۔۔۔۔سائیکو مین۔۔۔۔“ بےاختیار اپنے دونوں بازو سہلاتی رابعہ اپنی جانب آتے خود کے رومیو کو دیکھ کر نارمل ہونے کی کوشش کرنے لگی۔
”برو۔۔۔۔وہ آگئی ہے۔۔۔۔“ کندھے پر مضبوطی سے ہاتھ جماتا وہ شام سمیت شمسہ کو بھی ٹھٹھک کر رکنے پر مجبور کرگیا۔
”کون۔۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکی ادھ برہنہ کمر سے بازو ہٹاتا وہ افروز کی جانب مڑا تو پوچھتے ہوئے بے اختیار اُسکی بھوری نگاہیں بھی شیشے کے پار حرمین کے نازک وجود سے ٹکراتی پل بھرکو حیران ہوئیں۔
”لیسن بی کیئر فلی شمسہ۔۔۔۔۔“ اگلے ہی پل وہ واپس اُسکی جانب گھومتا اُسے بازوؤں سے تھامے اپنے حددرجہ قریب کرگیا۔
اُسکے کلون کی دلفریب مہک شدت سے محسوس کرتی شمسہ کے الجھے نقوش ناچاہتے ہوئے بھی مدہوش سے ہونے لگے۔
”ناؤ یور ٹائم از اپ بےبی۔۔۔سو۔۔۔۔میرے آس پاس بھٹکنے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔۔۔ہہمم۔۔۔۔؟؟؟“ وہ مدھم لہجے میں بولتا اُسکے نازک گال برابر تھپتھپا رہا تھا جب وہ مقابل کے میٹھے لہجے سے ہٹ کر الفاظ پر غورکرتی پل میں اُسکے سحر سے باہر نکلی۔
”ل۔۔۔لیکن شام۔۔۔یہ تم۔۔۔۔۔“ اپنی حیرت پر قابو پاتی وہ اُسکے پل میں بدلتے روپ پر شدت سے احتجاج کرنا چاہتی تھی جب وہ اُسکے دوآتشہ لبوں پر انگلی جماتا بیچ میں ہی اُسے سختی سے ٹوک گیا۔
”اننففف۔۔۔۔ذیادہ سوال نہیں۔۔۔۔جو کہہ رہا ہوں صرف اسی پر عمل کرو ورنہ مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگے گا۔۔۔۔اور جب مجھے اچھا نہیں لگتا تو پھر میں کچھ بھی کرگزرتا ہوں۔۔۔۔۔اور یقین جانو اسکا اندازہ مجھے بعد میں ہوتا ہے۔۔۔۔“ دبے لفظوں میں کھلے عام دھمکی دیتا وہ جھٹکے سے اُسے پیچھے دھکیل گیا تو اپنی اس قدر بےوقعتی پر شمسہ کی آنکھیں تیزی سے بھیگتی چلی گئیں۔
حسین پلوں نے اچانک ہی کسی بری بلا کا روپ دھاڑن کیا تھا۔
شمسہ کو اُسکی اوقات دکھاتا وہ عادتاً آنکھ دباگیا تو اپنے جگری یار کی سفاکی پر افروز کے لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ در آئی۔
جہاں افروز کے کندھے پر بازو جماتے ہوئے شام نے ساکت کھڑی شمسہ سے اپنا رُخ موڑا تھا وہیں حرمین بھی حددرجہ جھجھکتی دروازہ کھول کر اندر قدم جماگئی۔یہاں کا آزادانہ ماحول دیکھتے ہوئے بےاختیار اُسکا حلق پل بھرکو خشک پڑا تھا۔۔۔۔
پریکٹس ہال میں گونجتے تبلوں کی آواز میں گھنگھروؤں کی بھی مسلسل چھنچھناہٹ شامل تھی۔بظاہر رقص کرتی لڑکیوں کی تیاری پر آخری بار غور و فکر کرتی وہ آنے والے لمحوں میں ہنگامہ برپا کرنے کے لیے خود کو قائل کرچکی تھی۔اپنے رقص کی چند غلطیوں کو سُروں کے مطابق ڈھالتی چھمی خود پر پڑنے والی پُرتپش نگاہوں سے یقیناً بےخبرتھی۔
”واللہ میری چین۔۔۔۔میری چین کہاں گئی۔۔۔؟؟؟“ شفاف صراحی دار گردن کو یکدم لانبی انگلیوں سے چھوتی وہ پریشان زدہ سی بولتی تقریباً سبھی کو اپنی جانب متوجہ کرواگئی۔
تھاپ سمیت ایک ہی دھن میں ہلتے وجود چونکتے ہوئے اپنی جگہ تھمے تھے۔
”رابی جی۔۔۔ آج صبح سویرے ہی تو میں نے آپکی گردن میں سونے کی چمچماتی ہوئی چین دیکھی تھی۔۔۔۔اتنی قیمتی شے بھلا یوں اچانک سے کہاں غائب ہوسکتی ہے۔۔۔؟؟؟“ اُن دس بارہ لڑکیوں میں سے ایک بےساختگی میں آگے بڑھ کر رابی کی سُونی گردن پر گہری نظریں جمائے قدرے حیرت سے گویا ہوئی۔
یہاں سبھی اُس بےجان شے کی قدروقیمت سے بخوبی آگاہ تھیں کیونکہ وہ تابین بائی کی جانب سے رابی کو دیا جانے والا خاص تحفہ تھا۔خود پر پڑنے والی اس اچانک افتاد پر تقریباً سب ہی شک کے دائرے میں آچکی تھیں سو ایسےمیں سب کا بےچین ہوکر خیر کی طلب کرنا تو لازم سی بات تھی۔
”ہاں۔۔۔۔کسی کی بھی اتنی مجال نہیں کہ اس حویلی کی چاردیواری میں رہ کر آپکی سب سے خاص شے چرانے کی گستاخی کرجائے۔۔۔۔ورنہ تو یہ سیدھا سیدھا اپنا نقصان آپ ہی کرنے والی بات ہوگئی۔۔۔۔“ بدقسمتی سے اس بار جذباتی انداز میں مداخلت کرنے والی چھمی تھی۔
خود کی پرواہ میں گھلتی چھمی کا دوغلاپن دیکھتی رابی ضبط سے لب بھینچ گئی۔
”واللہ۔۔۔کوئی لوٹ مار کرے یا براہِ راست بغاوت پر اتر آئے۔۔۔میری نظروں میں تو دونوں ہی برابر سزا کے مستحق ہواکرتے ہیں۔۔۔۔“ رابی کے بولنے کا انداز ایسا تھا کہ اُسکی خود پر جمی نگاہیں محسوس کرتی چھمی ناچاہتے ہوئے بھی پل بھرکو گڑبڑاتی نگاہیں پھیر نے پر مجبور ہوگئی۔
”تو اب کیا کیا جائے رابی جی؟؟؟یہاں سب موجود لڑکیوں کی فرداً فرداً تلاشی لے لی جائے۔۔۔؟؟؟اگر تابین بی بی کو اس حوالے سے معلوم پڑا تو ہم سب کے سروں پر بڑی آفت ٹوٹ پڑے گی۔۔۔۔“ وہی لڑکی ٹھوڑی کے نیچے چند انگلیاں ٹکاتی سنجیدگی اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت میں بولی تو وہاں پر موجود حق دق کھڑی تمام لڑکیاں پل میں چوکنا ہوگئیں۔
”فی الحال کے لیے اسکی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ کچھ وقت پہلے میں پول والی سائیڈ پہ بیٹھی تھی۔۔۔شاید اپنے بھول پن میں چین وہیں کہیں گرا آئی ہوں۔۔۔۔؟؟؟جاؤ چھمی ذرا ایک نظر تم وہاں بھی ڈال آؤ۔۔۔۔“ اُن کو رعایت دینے والے انداز میں تحمل کا مظاہرہ کرتی وہ پُرسوچ نگاہوں سے فرش کو تکتی چھمی کو چونکا گئی۔
”ا۔۔۔بھی۔۔لیجیے رابی جی۔۔۔۔بس چھمی یوں گئی اور یوں آئی۔۔۔۔“ خود کا ڈگمگاتا لہجہ پل میں بحال کرتی وہ چُٹکی بجاتے ہوئے سرعت سے دروازے کی جانب لپکی تو جہاں نظروں سے اوجھل ہوتی اُسکی پشت دیکھ کر رابی کے پنکھری لبوں پر ہولے سے تبسم بکھرا تھا وہیں باقی لڑکیاں کھوئی ہوئی شے کے مل جانے کی دعائیں کرنے لگیں۔۔۔
”کہاں پھنسا دیا اِس رابی جی نے۔۔۔۔؟؟؟“ مشترکہ روشنیوں میں اپنی متلاشی نگاہوں کا محدود زوایہ اطراف میں گھوماتی وہ اس پل کافی عجلت میں دکھائی دے رہی تھی۔رات کو منعقد ہونے والی محفل میں بس کچھ ہی وقت باقی بچا تھا اور ابھی تک وہ تیار بھی نہیں ہوئی تھی۔اُسے یہاں وہاں تانکا جھانکی کرتے ابھی کچھ ہی لمحے سرکے تھے جب اگلے ہی پل اُسکی بھٹکتی نظروں کو ٹھٹھک کررکنا پڑا۔سوئمنگ پول کے بالکل کنارے پر رولتی چین کی موجودگی کو یقینی بناتی وہ سرعت سے اُسکی جانب لپکی۔
”آہ۔۔۔تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے ربا جو یہ چین مجھے یہی پر مل گئی۔۔۔ورنہ تو رابی کے بھولپن کا خمیازہ بھی ہم معصوموں کو ہی بنا کسی جرم کے بھگتنا پڑنا تھا۔۔۔آہ۔۔۔ہااااا۔۔۔۔“ چہکتے لہجے میں کڑوے الفاظ بولتی وہ مطلوبہ شے اپنی گرفت میں دبوچنے کی غرض سے ابھی جھکی ہی تھی جب اچانک پشت پر پڑنے والے سخت دباؤ سے اُسکا توازن پل میں بگڑتا دبی چیخ کی صورت اختیار کرگیا۔
اگلے ہی پل چھپاک کی پُرزور آواز کے ساتھ اُسکے ڈگمگاتے وجود نے ساکن پانی میں شدت بھرا ارتعاش برپا کرکیا تھا۔
خنک راتوں میں ہڈیوں کو منجمد کردینے والا سرد پانی چھمی کے ابھرتے بدن کی سانسیں پل بھرکو روک گیا۔
” کس کی ہمت ہوئی۔۔۔ میرے ساتھ ایسی بیہودگی رچانے کی۔۔۔؟؟؟“ بمشکل پلٹتی وہ گہری سانسوں کے بیچ چیخی لیکن اپنے مقابل رابی کو دیکھ کر اُسکی ساری طراری پل میں ہواہوئی تھی جوکہ اب جھک کر چین اپنی بند مٹھی میں دبوچتی اُسکی جانب مکمل طور پر متوجہ ہوچکی تھی۔
”واللہ چھمی۔۔۔کیا کہنے تمھارے بھی۔۔۔یقین کرو اس کا بیہودگی سے قطعی کوئی واسطہ نہیں ہے بلکہ یہ تو تمھاری خود کی بغاوت کا نتیجہ ہے جسکا بھگتنان تمھیں اس صورت بھگتنا پڑرہا ہے۔۔۔۔“ سماعتوں سے ٹکراتی رابی کی بےلچک آواز نے اُسے حیرت کی حقیقی گہرائیوں میں اتارا تھا۔گہرے پانی میں ہنوز ہاتھ پاؤں چلاتی وہ بے اختیار نفی میں سرہلاگئی۔
”رابی جی۔۔۔رابی جی۔۔۔۔باہر نکالیے مجھے۔۔۔۔مجھے تیرنا نہیں آتاااا۔۔۔۔“ اُسکے سامنے اپنی مجبوری بیان کرتی وہ حددرجہ خوفزدہ تھی۔
”واللہ کیا کہنے تمھارے بھی چھمی۔۔۔۔دیکھو تو ذرا تمھارا یہ بھیگا وجودکس قدر پُرکشش لگ رہا ہے۔۔۔۔میں دعوے سے کہہ سکتی ہوں کہ اگر کوئی بھی مرد تمھیں اِس حالت میں دیکھ لے تو اپنا دل ایک بار تم پر ضرور ہاردے گا۔۔۔۔پھر چاہے وہ تمھارے دل پر راج کرتا تمھارا عشق سالار خان ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔“ ایک گہری نگاہ اُسکے پانی میں مچلتے تڑپتے بدن پر ڈالتی وہ اپنے تلخ لفظوں سے مزید اُسکے ہوش اڑاتی جارہی تھی۔
گہرے سانس بھرتے ہوئے چھمی نے بے چین ہوکر رابی کی پشت پر کھڑی حیرت کا مجسمہ بنی تمام لڑکیوں کو دیکھا جن میں فی الوقت آگے بڑھ کر اُسے بچانے کی ہمت ہرگز نہیں تھی۔
اور وجہ یقیناً رابی کی یہاں موجودگی تھی جو جانے کتنے عرصے بعد اپنے سفاک روپ میں واپس لوٹی تھی۔
وہ جانتی تھی کہ مقابل سے بھیک مانگنےکے سوا کوئی چارہ نہیں ہے سو وہ مانگ رہی تھی۔
”خد۔۔۔۔خدارا۔۔۔۔رحم کرو۔۔۔۔را۔۔۔بی جی۔۔۔۔م۔۔۔میں ڈوب رہی ہو۔۔۔۔مجھے بچالوووو۔۔۔۔“ کپکپاتی آواز میں بےڈھنگے انداز میں ہاتھ پیر مارتی وہ کئی بار غوطے کھا چکی تھی۔
”ًمیں حقیقتاً احسان فراموش ہوں۔۔۔۔کسی کی لاکھ خدمتیں ہوں یا واحد انمول محبت۔۔۔۔قدر کرنا میری فطرت میں شامل نہیں ہے۔۔۔۔بے وفائی اور انتقام کی بھڑکتی آگ میری رگ رگ میں بستی ہے چھمی۔۔۔۔“ سفاکیت کی انتہاؤں کو چھوتی وہ اپنی حقیقیت بذاتِ خود اُسے سنارہی تھی۔ اُسکا بے تاثر لہجہ چھمی کا دل مسلسل دہلائے جارہا تھا۔
”مع۔۔۔۔اف۔۔۔کر۔۔دو۔۔۔م۔۔۔میں مر۔۔۔جاؤں گی۔۔۔۔“ لمحہ بہ لمحہ ہوش کھوتی وہ مدد کے لیے آخری بار پوری قوت سے چیخی جب وہ اُسکی دھیمی پڑتی دھڑکنوں کی پرواہ کیے بغیر ایک قدم اٹھاتی ذرا سا اُسکی جانب جھکی۔
”موت کے ڈر سے گڑگڑا کر زندگی کی بھیک مانگنا بزدلی کی انتہا ہے اور میرے نزدیک ایک بزدل۔۔۔نڈر اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔اُس پر فقط خوف کے گہرے سائے ہی جچتے ہیں۔۔۔۔اور ایک آخری بات۔۔۔جسے میں نظرانداز کروں اُسکی حد سے ذیادہ خبر رکھتی ہوں۔۔۔۔“ اُسکی کھوکھلی بےخوفی پر گہری چوٹ کرتی وہ طنز کا شدت بھرا آخری طمانچہ اُسکے منہ پر جڑتے ہوئے وہاں سے جاچکی تھی۔
”ارے جلدی نکالو اسے۔۔۔۔۔کہیں اسکی سانسیں ہی بند نہ ہوجائیں۔۔۔۔یااللہ رحم۔۔۔۔“ اُسکا بےجان ڈوبتا وجود دیکھ سرعت سے آگے بڑھتی لالی اپنے دوست کے انجام پر نم آنکھوں سے چیخی تو باقی بھی ہوش میں آتی اُسکی تقلید میں چھمی کی جانب بھاگی تھیں۔
جبکہ دور سے متفکر نگاہوں کے ساتھ یہ منظردیکھتی تابین بائی اپنی معصوم کلی کے اشتعال کی ٹھوس وجہ جاننے کو بے چین ہوئی تھیں۔۔۔۔
”میرے ساتھ ڈانس کرو گی۔۔۔۔؟؟؟“ گال پہ لگی کیک کریم کو ٹشو سے صاف کرتی وہ پلٹی تھی جب اچانک اُسکے سامنے ہاتھ پھیلاتا وہ اُسے چونکا گیا۔
چند لمحے قبل کان پھاڑتی شوخ آواز اب لائٹ سے رومانٹک سونگ میں بدلتی ماحول کو خوابناک سا بناگئی تھی اور یہ عنایت بھی یقیناً برتھڈے بوائے کی ہی طرف سے ہی کی گئی تھی۔
”ڈ۔۔۔ڈانس۔۔۔۔؟؟پ۔۔۔ر۔۔۔شام۔۔۔مجھے یہ سب نہیں آتا۔۔۔۔انفیکٹ میں نے زندگی میں کبھی بھی ایسا کوئی فن نہیں کیا۔۔۔۔“ وہ جو پہلے ہی یہاں کے آوارہ ماحول سے ٹچی ہونے کی کوشش میں ناکام ٹھہررہی تھی مقابل کی خواہش پر پریشان ہوتی دبے لفظوں میں انکار کرگئی۔
”میری خاطر بھی نہیں۔۔۔۔“ اُسکی نفی پر ضبط کیے بظاہر بڑے مان سے پوچھتا وہ اُسے حقیقتاً امتحان میں ڈال گیا۔
حرمین کی جانب بڑھا ہوا ہاتھ تھامے جانے کی امید میں ہنوز ہوا میں معلق تھا۔
جواباً وہ اُسکی شفاف ہتھیلی کو پُرسوچ نظروں سے تکتی لب چبانے لگی۔عروج پر منڈلاتی ہچکچاہٹ میں اب کہ مقابل کے خفا ہوجانے کا خوف بھی شدت سے گھلنے لگا تھا۔
”ڈونٹ وری۔۔۔میں سب سیکھادوں گا ناں یار۔۔۔۔“ حرمین کو تذبذب کا شکار ہوتا دیکھ اُسنے کھلے دل سے آفرکی اور اگلے ہی پل اُسے کچھ بھی سمجھنے کا موقع فراہم کیے بغیر قدرے نرمی سے اپنی جانب کھینچتا بوکھلانے پر مجبورکرگیا۔
”شا۔۔۔م۔۔۔۔۔۔“ بے یقینی کے بوجھ تلے ٹوٹتے لفظ اُسکی خود کے ساتھ برتی گئی بےباکی پر بےدم ہوئے تھے۔سانوالے رخساروں پر بےاختیارسرخائی اترنے لگی۔
”یہ۔۔۔یہاں اسطرح رکھو۔۔۔۔یس اینڈ دِس۔۔۔۔پرفیکٹ۔۔۔۔“ اُسکی غیر ہوتی حالت کی پرواہ کیے بنا ہی وہ اُس سمیت خود کی پوزیشن بڑی پُھرتی سے سیٹ کرگیا۔
اُسکی تقلید میں ہولے ہولے ڈانس کے اسٹیپ لیتی حرمین کا دل بند ہونے کے قریب تھا۔
اپنی گھبراہٹ میں وہ خود پر پڑتی شمسہ کی نم شعلہ بار نگاہوں کا ارتکاز بھی محسوس نہیں کرپائی تھی۔اگلے ہی پل وہ اپنا کلچ سنبھالے پیرپٹختی وہاں سے نکلتی چلی گئی کیونکہ جس مقصد سے وہ ضبط کیے یہاں ٹھہری ہوئی تھی وہ تو اب پورا ہوچکا تھا۔
”شام۔۔۔۔۔“ اُسے کانپتی آواز میں ایک بار پھر مخاطب کرتی وہ ملتجی ہوئی۔
ذرا فاصلے پر کھڑے شام کے دوست دلچسپ نگاہوں سے ایک کا گھبرانا شرمانا تو دوسرے کا بےباکی سے مزے اڑانا دیکھ رہے تھے۔
” کیسا محسوس کررہی ہو۔۔۔۔؟؟؟“ الٹامسکرا کر پوچھتا وہ یقیناً اُس سے کسی اچھے جواب کی توقع کررہا تھا لیکن مقابل بھی حرمین تھی۔
دبو سی لڑکی جو اتنے سارے لوگوں کے بیچ خود کی ایسی حالت پر مارے شرم کے پانی پانی ہوئے جارہی تھی۔
”عجیب۔۔۔۔عجیب لگ رہا ہے بہت۔۔۔۔“ اپنی کمر پر محسوس ہوتی اُسکی نرم گرفت سے کہیں ذیادہ اُسے لڑکیوں کا مُڑ مُڑ کر خود کی جانب دیکھنا بےچین کرگیا۔
حرمین کی صاف گوئی پر شام پل میں اپنی مسکراہٹ سمیٹتا لب بھینچ گیا۔
”کیا میرا اس طرح سے تمھارے قریب آنا تمھیں پسند نہیں آیا۔۔۔۔؟؟؟“ یکدم رکتا وہ اپنی ناگواری چھپانہیں پایا تھا۔
”نن۔۔۔نہیں۔۔۔۔ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔میں بس تھوڑی سی نروس ہوں۔۔۔۔“ اُسکی تیوری دیکھ وہ چشمہ اچکاتی بوکھلائی۔
”تھوڑی نہیں بہت۔۔۔۔اینی وے۔۔۔اگر تم چاہو تو ہم کہیں بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔کہیں اکیلے میں کسی پُرسکون سی جگہ پر۔۔۔۔“ تباہ ہوتے موڈ کے ساتھ وہ اُس سے فاصلہ بناتا زبردستی مسکرایا تو حرمین اُسکے لبوں کا تبسم دیکھتی کچھ پُرسکون ہوئی۔
”پر۔۔۔۔آپکے فرینڈز۔۔۔۔؟؟؟“ وہ منظرِ عام سے فوری ہٹ جانا چاہتی تھی مگر شام کی سب میں غیرموجودگی کی بابت سوچتی متفکر سی گویا ہوئی۔
”تم اُنکی ٹینشن مت لو۔۔۔۔وہ میری غیرموجودگی کا بالکل بھی مائینڈ نہیں کریں گے کیونکہ میں اُن کو پہلے ہی اپنا اچھا خاصا ٹائم دے چکا ہوں۔۔۔۔اب باقی کا سارا وقت میں صرف تمھارے سنگ گزارنا چاہتا ہوں۔۔۔۔“ ایک نظراپنے دوستوں پر ڈالتا وہ اس بار شریں لہجہ اپنانے میں کامیاب ٹھہرا تھا۔
”اب چلیں۔۔۔۔؟؟؟“ حرمین کی جھکتی نگاہوں کے جواب میں وہ ہاتھ سے قدرے کونے میں اوپر کو چڑھتی بل دار سیڑھیوں کی جانب اشارہ کرتا ابرو اچکاگیا تو وہ چونک کر شدت سے دھڑکتے دل سمیت اثبات میں سرہلاگئی۔
اگلے ہی پل دونوں آگے پیچھے سیڑھیاں چڑھتے سب کی متجسس نظروں سے اوجھل ہوتے چلے گئے اس بات سے قطعی انجان کہ چند لمحے قبل دونوں کے قربت بھرے لمحات کیمرے کی شاطر آنکھ میں قید کیے جاچکے تھے۔۔۔
ِتاحد نگاہ تک پھیلے تاریک آسمان پر ٹمٹماتے ہوئے ان گنت ستارے دیکھنے میں قدرے بھلے لگ رہے تھے۔ان ستاروں میں گھرا آدھا چاند تکتے ہوئے وہ دونوں ریلنگ پر ہاتھ جمائے اسی نیم تاریکی کا خاموش حصہ لگ رہے تھے۔ایسے میں اطراف میں اُگے سرسبزوشاداب درختوں کے گرد گھوم کر اُن تک پہنچتے نرم ہوا کے میٹھے جھونکے روح کو مزید آرام پہنچا رہے تھے۔نیچے کا ماحول جس قدر ہنگامہ خیز تھا یہاں سماعتوں سے ٹکراتے مدھم مدھم شور کے باوجود بھی سکون تھا۔
”اب تو عجیب نہیں لگ رہا۔۔۔یوں اکیلے میں میرے ساتھ اسطرح۔۔۔؟؟؟مینزکہ ایزی ہو ناں اب تم۔۔۔۔؟؟؟ہوں۔۔۔؟؟“ حرمین کی جانب زرا سی گردن موڑے اُسکی بےجا گھبراہٹ پر چوٹ کرتا وہ بظاہرفکرمندی سے گویا ہوا تو حرمین نے چاند کی گھلی ملی نیم روشنی میں اُسکے نقوش پر بکھری برہمی کو گہری نظروں سے دیکھا۔
اگلے ہی پل شام کے مضبوط کندھے پر ہاتھ جماتے ہوئے وہ بےاختیار ہوتی اُسکا رخ اپنی جانب موڑ گئی۔
”مجھے آپکے ساتھ کبھی بھی عجیب نہیں لگا شام بلکہ میں تو جب بھی آپکے ساتھ ہوتی ہوں خود کو ریلکس فیل کرتی ہوں ۔۔۔۔آپ اسے میری عادت کہہ لیں یاں پھر بزدلی لیکن میں لوگوں کی بھیڑ میں ناچاہتے ہوئے بھی گھبرا جاتی ہوں۔۔۔۔ایسے ماحول سے میری آشنائی بالکل بھی نہیں ہے جس میں۔۔میں نے فقط آپکی خوشی کے لیے شرکت کی ہے۔۔۔۔“ اپنے تیئں ٹھوس جواز پیش کرتی حرمین نے اُسے خود سے متنفر ہونے سے باز رکھنے کی پوری کوشش کی تھی۔
جانے کیوں شام کو اس پل اُسکی تیکھی ناک پر ٹکے چشمے سمیت اُسکے حجاب میں لپٹے چہرے سے عجیب سی وحشت ہوئی تھی۔
کتنی ہی حسین لڑکیوں کے چہرے بیک وقت اُسکی بھوری نگاہوں کے سامنے گھوم گئے جنھیں وہ فقط اس پھیکی صورت کے پیچھے گنوا بیٹھا تھا۔
وجہ صرف اپنی انا کا برہم رکھنا تھا۔اپنے یاروں کو چاروں خانے چِت کرنے کے لیے جیت کی بازی مارنا تھی جو مقابل کھڑی لڑکی کو ہارا کر ہی ممکن تھی۔
ہار بھی ایسی جو اُسکی ذات سمیت وجود کو ریزہ ریزہ ہونے پر مجبورکردیتی۔
ہلتے ہوئے سیاہی مائل لبوں کو تمھتا دیکھ کر بھی اُسکا سکتہ نہیں ٹوٹ پایا تھا۔
”ایسے کیا دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔؟؟؟“ اُسے عجیب نظروں سے خود کی جانب تکتا پاکر وہ پل بھر کو گڑبڑائی۔مقابل کی فکرمیں وہ خود کی بڑھتی نزدیکی کا بھی دھیان نہیں رکھ پائی تھی سو سرعت سے فاصلہ بناگئی۔
”دیکھ رہا ہوں کہ تمھارا یہ خوبصورت تِل تمھارے سلونے چہرے پر بہت جچتا ہے۔۔۔اتنا کہ میں چاہ کر بھی اس پر سے اپنی توجہ نہیں ہٹاپاتا۔۔۔۔“ چونک کر اُسکے بےرنگ لبوں سے موٹے تِل تک کا فاصلہ پل میں ناپتا وہ بروقت اپنی حقارت کو پسندیدگی میں ڈھال گیا تو بے اختیار اپنے دائیں رخسار پر ابھرے تِل کو انگلیوں سے چھوتی وہ نگاہیں جھکاگئی۔
مسکراتے ہوئے سلونے چہرے پر حیا کی پھیکی لالی گہری ہوئی تھی۔
”کیا ہوا۔۔۔۔؟؟شرماگئی۔۔۔۔؟؟بس اتنے میں ہی۔۔۔۔؟؟“ ذرا سا اُسکی جانب جھک کر وہ معنی خیز لہجے میں مسکرا کر بولا تو وہ ایک عجیب سے سرور سے آشنا ہوتی اندر ہی اندر کپکپا اٹھی۔
”آ۔۔۔پ۔۔۔سے۔۔۔ ایک بات پوچھوں۔۔۔۔؟؟؟“ دماغ کو تیزی سے چھوتے ایک خیال کے تحت حرمین نے بمشکل سر اٹھا کر اُسکی سرخ پڑتی آنکھوں میں جھانکا۔
”ایک کیوں۔۔۔۔؟؟دس پوچھو بیوٹیفل گرل۔۔۔۔“ شریں لہجے میں بولتا وہ قدرے نرمی سے اُسکے ہاتھ تھام گیا۔
”وہ۔۔۔ایکچولی۔۔۔آپکو۔۔۔۔“ جانے کیوں اُسکے الفاظ لبوں پر آتے دم توڑ رہے تھے۔
”ہوں ہوں۔۔۔۔؟؟؟ سر کو تیزی سے جنبش دیتا وہ اُسے کھل کے بولنے پر اکسانے لگا۔
”آپ کو مجھ میں کیا اچھا لگا۔۔۔؟؟؟یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں۔۔۔میں بالکل بھی خوبصورت نہیں ہوں۔۔۔۔“ خشک لبوں کو زبان سے تر کرتی وہ اس پل ضبط کی حدوں کو چھونے لگی تو وہ اُسکے اس قدر صاف کورے اعتراف پر چونک سا گیا۔
”اُففف لڑکی کس قدر نیگیٹو سوچتی ہوتم۔۔۔۔میں نے اپنی پوری زندگی شاید ہی کوئی ایسی لڑکی دیکھی ہوگی جو خود کو بدصورت کہے۔۔۔۔مینز کہ آجکل کی لڑکیوں کی پہلی ڈیمانڈ ہی یہ ہوتی ہے کہ اُنکی خوبصورتی کو دن رات سراہا جائے۔۔۔اور تم ہوکہ۔۔۔اوگاڈ۔۔۔۔سریسلی۔۔۔۔؟؟؟“ اُسکی متجسس نگاہوں میں دکھتی بےتابی کو یکسرفراموش کرتا وہ حیرت زدہ سا ہنس دیا۔
”پر میں اُن لڑکیوں جیسی بالکل بھی نہیں ہوں جو خود کو جانتے بوجھتے دوسروں کی تعریفوں کا محتاج بنالیتی ہیں۔۔۔بلکہ میں تو ان سب سے ہٹ کر حقیقیت پسند ہوں۔۔۔۔“ مقابل کے لاپرواہ انداز میں گھلا تمسخر شدت سے محسوس کرتی وہ بےاختیار اپنے ہاتھ اُسکی نرم گرفت سے نکال گئی۔لہجے کی گھبراہٹ اب کہ حددرجہ سنجیدگی میں بدلی تھی لیکن دل مقابل کے جواب کا منتظر ابھی بھی شدتوں سے دھڑک رہا تھا۔
”اب انسان کو اِس حد تک بھی حقیقیت پسند نہیں ہونا چاہیے کہ سچ بھی جھوٹ لگنے لگے۔۔۔۔اگرتم خود کو میری نظرسے دیکھو تو اپنے آپ کو اِس دنیا کی سب سے حسین ترین لڑکی تصور کرو۔۔۔۔اور بلاشبہ یہ سچ میرے نزدیک سب سے بڑی حقیقت کا درجہ رکھتا ہے۔۔۔“ قدرے نرمی سےاُسکی گندمی رنگ انگلیوں میں خود کی شفاف انگلیاں پھنساتا وہ ایک جذب سے بولتا چلاگیا جبکہ وہ اپنی سانسیں روکے اُسکے لہجے کی شدت خود میں اتارتی ہولے سے لرز اٹھی۔
دل کی دھڑکنیں بےچین ہوتی سینے میں ہی مچل رہی تھیں۔
”سچ میں۔۔۔۔۔؟؟؟“ ہولے سے لبوں کو جنبش دیتے اُسنے جیسے تصدیق چاہی۔
”تمھاری قسم۔۔۔۔۔“ بڑی دلیری سے اُسکے ہاتھ کی پشت پر اپنا دہکتا ہوا نرم لمس چھوڑتا وہ اُس کمزور سی لڑکی کا دل پورے وجود سمیت کئی پلوں کے لیے ساکت کرگیا۔۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
جاری ہے۔۔۔
