No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
فارم ہاؤس میں مکمل طور پر اتری اتوار کی صبح اپنے تلے ہر شے کو نکھار رہی تھی۔ایسے میں پل پل آسمان کے سینے پر چڑھتا سورج الگ سے اپنی قابل برداشت روشنیاں بکھیر رہا تھا جس سے بےنیاز وہ تینوں بند کمرے میں موجود اپنی بےوقتی شوخ سرگرمیوں میں غرق تھے۔
پروجیکٹرلینز سے پھوٹتی رنگین شعاعیں۔۔۔اطراف میں منڈلاتی نیم تاریکی کو بآسانی مات دیتی ہوئی شفاف پردے پر ہولی وُوڈ مووی کے بولڈ سین کی نمائش کررہی تھیں۔۔۔جسے بغور تکتے ان کی آنکھوں کی چمک پل پل بڑھتی چلی جارہی تھی۔
سپائسی چکن لیگز کے ڈبے صفا چٹ کرنے کے بعدسگریٹ نوشی کا چلنے والا یہ دوسرا دور تھا جو اُنکو عجیب سے سرور سے دوچار کرگیا۔
چلتی سکرین پر یک ٹک کپل کو آپس میں لائٹ رومانس جھاڑتا دیکھ افروز کے چہرے پر ایک بے نام سی بےچینی تھی۔
”ٹھک ٹھک ٹھک۔۔۔۔“ معاً کسی نے دروازے پر زور سے دستک دے کر ان کی محویت کو توڑا تو تینوں بیک وقت چونک سے گئے۔
”لگتا ہے مہوش آئی ہے۔۔۔۔تم لوگ مووی انجوائے کرو میں جاکر دیکھتا ہوں۔۔۔۔“ چلتی سکرین سے نگاہیں ہٹا کرشام اگلے ہی پل ادھ سلگتا سگریٹ ایش ٹرے میں مسل کر تیزی سے وہاں سے اٹھ گیا۔
اس دوران ٹھوڑی کھجاتا فواد بےاختیار چوکنا ہوا تھا۔
”مہوش۔۔۔؟؟؟یہ وہی چھپکلی ہے ناں جس کے ساتھ شام کا پہلے سے افئیر رہ چکا ہے۔۔۔؟؟؟“ شام کے دروازے تک جانے پر فواد بےاختیار افروز کی جانب دیکھتا دھیمے لہجے میں گویا ہوا تو جواباً سر کو پرسوچ انداز میں جنبش دیتا وہ بے دلی سے چلتی مووی کی طرف واپس نگاہیں پھیر گیا۔
”یار تم اتنی لیٹ۔۔۔ک۔۔۔۔“ عجلت میں دروازہ کھولتا شام شکوہ کرنے پر آیا تھا جب مہوش کی جگہ حرمین کو اپنے مقابل دیکھ کر اسے حیرت کا جھٹکا لگا۔
اسکے یوں ٹھٹک جانے پرحرمین کے لپ گلوس لگے پنکھری لب دھیرے سے مسکرائے۔مقابل کے وجیہہ نقوش پر بکھرتی حیرت دلچسپ تھی جبکہ اپنی منزل سامنے پاکر دھڑکتے دل میں ڈھیروں سکون اترا تھا۔
”حرمین۔۔۔تم۔۔۔؟؟؟“ اپنے پیچھے دروازہ بند کرتے شام نے بغور اسکا سراپا دیکھا جو بنا چشمے اور حجاب کے عنابی رنگ شلوار قمیض میں قدرے شرمائی لجھائی سی دکھائی دے رہی تھی۔ایسے میں آگے کو آئے کھلے بالوں نے ہم رنگ چادر کو کندھوں سے کافی حد تک ڈھانپ رکھا تھا۔
”تم اس وقت یہاں کیا کررہی ہو۔۔۔؟؟؟اور تمھیں کیسے پتا چلا میں یہاں فارم ہاؤس پر ہوں۔۔۔۔“ وہ جو اپنا ذاتی وقت مہوش جیسی بولڈ لڑکی کی سنگت میں گزارنا چاہ رہا تھا۔۔۔حرمین کی سانولی صورت دیکھ کر بظاہر نرمی سے پوچھتا اپنے لہجے کی کاٹ چھپانے میں کافی حد تک کامیاب رہا تھا۔
”آپکا نمبر بند جارہا تھا لیکن پھر افروز نے مجھے آپکی یہاں موجودگی کا کال پر بتادیا تھا۔۔۔۔ایکچولی شام میں۔۔۔ایک بہت ہی خاص موضوع پر آپ سے بات کرنا چاہ رہی تھی۔۔۔مزید انتظار کرنا محال تھا میرے لیے اسی لیے بنا دیر کیے یہاں چلی آئی۔۔۔۔۔“ بےتابی سے انگلیاں چٹخاتی۔۔۔وہ اسکی جانب دیکھتی گویا ہوئی تو شام افروز کا نام سن کر اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا کر رہ گیا جو رنگ میں بھنگ ڈالنے کا کام اسکے علم میں لائے بغیر کربھی چکا تھا۔اسنے ایک گہرا بھرا۔
”ہاں توکس خاص موضوع پر بات کرنا چاہ رہی ہو تم مجھ سے حرمین۔۔۔؟؟؟تم کہو میں سن رہا ہوں۔۔۔۔“ شام نے وہیں کھڑے کھڑے دروازے پر ہتھیلی جماتے کچھ تجسس سے پوچھا تو اسکی مکمل توجہ خود پر مرکوز ہوتے دیکھ حرمین کا دل شدت سے دھڑکا۔
”وہ۔۔۔ذباب۔۔۔اسکے گھر والے کل ہماری طرف آرہے ہیں۔۔۔ہمارے نکاح کی ڈیٹ فکس کرنے کے لیے۔۔۔ماما بھی راضی ہیں انفیکٹ سب ہی راضی ہیں۔۔۔۔“ بےتابی سے بولتے ہوئے اسکے لہجے میں ایکدم سے ہی اداسی گھلی تھی۔انداز صاف فکرکرتا ہوا تھا۔
”تو۔۔۔۔؟؟؟“ بےتاثر نگاہوں سے اسکی جانب دیکھتا وہ بھنویں اچکا گیا
جبکہ اسکے بدلتے تیوروں پر غور کیے بنا ہی وہ لبوں پر زبان پھیرتی پل بھرکو گڑبڑائی۔
”ت۔۔تو یہ کہ۔۔۔میں یہ چاہ رہی ہوں۔۔انکے آنے سے پہلے آپ اپنے پیرنٹس کو لے کر میرے گھر آئیں۔۔ماما سے اپنے اور میرے نکاح کی بات کریں۔۔۔مجھے پورا یقین ہے اسکے بعد۔۔۔“ پلکیں جھپکا جھپکا کر اپنے دل کی بات کہتی وہ مزید بولنا چاہ رہی تھی جب اسکی صاف گوئی پر حیرت تلے اسے ٹوکتا وہ سیدھا ہوا۔
”ویٹ ویٹ۔۔۔ویٹ۔۔۔۔؟؟تم کہنا چاہ رہی ہو کہ میں اپنے پیرنٹس کو لے کر تمھاری طرف آؤں۔۔۔ہمارے نکاح کی بات کرنے کے لیے۔۔۔رائٹ۔۔۔؟؟؟“ شہادت کی انگلی کو اٹھائے ہاتھ ہلاکر پوچھتا وہ اسے حیاء سے نگاہیں جھکانے پر مجبور کرگیا۔
”ہ۔۔ہاں۔۔۔بالکل ایسا ہی ہے۔۔۔“ شدتوں سے دھڑکتے دل کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کرتی وہ مضبوط آواز میں بولی تو اسکے مسکاتے نقوش دیکھتے ہوئے شام کی پیشانی پر ناگوار لکیروں کا جال بکھر کر سمٹا۔
”لیکن میں ایسا کیوں کروں گا یار۔۔۔؟؟؟ انفیکٹ تم جیسی لڑکی سے شادی ہی کیوں کروں گا۔۔۔۔؟؟؟“ کہتے ہوئے بھوری نگاہوں میں غرور اور حقارت کا ملاجلا جہاں آباد ہوا تھا جسے نگاہیں اٹھا کر دیکھ لینے پر بھی وہ اسکے استفسار کو محض ایک معصومانہ سوال سمجھتی ہولے سے مسکرائی۔
”کیونکہ ہم ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔۔۔۔۔“ وہ مکمل اعتماد سے بولی۔اس دوران ایک الوہی سی چمک مسلسل حرمین کے سانولے مکھڑے کا احاطہ کیے ہوئے تھی۔اسکی خوش فہمی پر شام کے لبوں پر کمینی مسکراہٹ اتری۔
”ہم۔۔۔؟؟؟ہم ناٹ حرمین ڈئیرجسٹ یو۔۔۔۔صرف تم ہی ہو جسے مجھ سے بے انتہا محبت ہوچکی ہے۔۔۔مگر اصل بات تو یہ ہے کہ مجھے تم سے بالکل بھی محبت نہیں ہے۔۔۔انفیکٹ کبھی ہو بھی نہیں سکتی۔۔۔اور جب محبت ہی نہیں تو پھر یہ نکاح شادی جیسے بکھیروں کا پیچھے کیا جواز رہ جاتا ہے ۔۔۔؟؟؟“ سفاکیت سے بولتا وہ اپنے لفظوں سے اسکی روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ گیا تھا۔
”آپ۔۔آپ مذاق میں بول رہے ہیں ناں یہ سب۔۔۔؟؟؟ا۔۔اگر ایسا ہے تو یقین جانیے مجھے یہ مذاق بالکل بھی اچھا نہیں لگا شام۔۔۔ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کو مجھ سے محبت نہ ہو۔۔۔۔۔“ کچھ توقف کے بعد بڑی مشکلوں سے اپنی مسکراہٹ کو دوبارہ بحال کرتی وہ شدت سے خوش فہمی کا شکار ہوجانا چاہتی تھی مگر مقابل بھی کھلتے لبوں سے مسکراہٹیں نوچنے کا کھلاڑی تھا۔
”میں ہرگز مذاق نہیں کررہا سویٹ ہارٹ۔۔۔حقیقت بیان کررہا ہوں سو اسےتسلیم کرو۔۔۔خود سوچو۔۔۔فیصلہ کرو اور پھر مجھے بتاؤ۔۔۔ہم نے بارہا ایک ساتھ وقت گزارا ہے۔۔۔کیا اس دوران ہمارے درمیان ایک بار بھی ایسا لمحہ آیا جس میں نے تم سے اظہارِ محبت کیا ہو۔۔۔؟؟؟کبھی ایک بار بھی اپنے جذبات تمھارے سامنے کھول کر بیان کیے ہوں۔۔۔۔؟؟؟“ وہ بڑے اطمینان سے بول رہا تھا اور وہ جو اب تک یہی سمجھتی آئی تھی کہ بے لوث محبت لفظوں کی محتاج نہیں ہے اب خود ہی چند الفاظ کی کھوج میں بار بار دماغ پر ضرور دیتی ہلکان ہونے لگی تھی۔شام نے سینے پر بازو لپٹتے بڑی دلچسپی سے اسکا زرد پڑتا چہرہ دیکھا۔
وہ تیزی سے بھیگتی نگاہوں کو جھپکا جھپکا کر ناکردہ اظہار تک رسائی حاصل کرنے کی ناکام کوششیں کررہی تھی۔۔۔لیکن ناسور بن کے پھیلتی چند خوشاآمدنہ تعریفوں کے سوا اسے وہاں کچھ بھی نہ ملا تھا۔ناکامی پلوں میں آنسوؤں کی صورت اسکی گالوں پر بہہ نکلی۔
معاً شام کی اذیت دیتی ہنسی نے اسکا جانلیوا سکوت توڑا تو اسنے چونک کر شام کی تمسخر اڑاتی نگاہوں میں دیکھا۔
”ت۔۔۔تو کیا۔۔۔تم مجھ سے محبت نہیں کرتے۔۔۔۔؟؟؟“ صدمے سے پوچھتے ہوئے اسکے پھٹتے دل کی دھڑکنیں تھم جانے کو ہوئیں تو اسکے ”آپ“ سے ”تم“ تک کا فاصلہ طے کرنے پر وہ پل بھرکو مسکرایا۔
پھرسر کو نفی میں جنبش دیتے ہوئے ذرا سا جھک کر اسکی جھلملاتی آنکھوں میں اپنا آپ دیکھنے کی کوشش کی۔
”جانتی ہو؟؟ محبت اور دل کا آپس میں بہت گہرا کنکشن ہوتا ہے۔۔اتنا گہرا کہ ان دونوں کے درمیان دماغ کا دور دور تک کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔۔۔۔فطرتاً انسان کو جب بھی محبت ہوتی ہے ہمیشہ دل سے ہوتی ہے دماغ سے نہیں۔۔۔لیکن آج یہ حقیقت جان لو حرمین زہرا کہ تمھارے معاملے میں،شاہ میر حسن نے کبھی بھی دل سے کام نہیں لیا۔۔۔جب بھی لیا ہے فقط اس دماغ سے لیا ہے۔۔۔۔“ اس کا لہجہ نہیں جلتے ہوئے انگارے تھے جس میں وہ اسکا نازک وجود جھلسا دینا چاہتا تھا اور وہ مقابل کے سلگتے لفظوں پر پور پور جھلستی جارہی تھی۔اسنے دھیرے سے نفی میں گردن ہلائی۔
”ی۔۔۔یہ تم نہیں ہوسکتے۔۔۔۔بھلا ایسا کیسےکرسکتے ہو تم میرے ساتھ۔۔۔؟؟میں نے اپنا تن من یقین سب کچھ تم پر اندھا دھند لٹا دیا تو پھر کیسے تم اتنی آسانی سے مجھے دغا دینے کا سوچ سکتے ہو۔۔۔؟؟کیسےےےے۔۔۔۔؟؟؟“ آخر میں بھرائی آواز میں چیخ کر پوچھتی وہ بےدردی سے اسکا گریبان اپنی مٹھیوں میں دبوچ چکی تھی۔
اذیت سے پلکیں جھپکانے پر آنسو تیزی سے گالوں پر لڑھک آئے۔
”ڈونٹ ٹچ می لائیک دیٹ اگین۔۔۔۔“ اسکی جرات پر شام کی آنکھیں جلنے لگیں تو بے اختیار اسکی کلائیوں کو مضبوطی سے پکڑتا وہ اگلے ہی پل اسے پیچھے دھکیل گیا۔نتیجتاً وہ کئی قدم لڑکھڑا کر پیچھے ہٹی تھی۔
فواد اور افروز بھی چیختی آوازوں پر بوکھلائے سے مووی چھوڑ کر جلدی سے دروازہ کھولتے ہوئے باہر نکل آئے۔
حرمین نے دھندلائی نگاہوں میں حیرت سموئے بامشکل اس دھتکار کو قبول کیا تھا۔
تینوں کی موجودگی میں اپنے وجود سے پھسلتی چادر کو ٹھیک کرتے ہوئے اسکا گلال چہرہ اہانت کے شدید احساس تلے مزید سرخ پڑا تھا۔۔۔مگر مقابل کے بے وفا چہرے پر کوئی پچھتاوا کوئی ملال نہیں تھا۔
”جانتی ہو مجھے حقیقتاً تمھاری طرف کس چیز نے اٹریکٹ کیا تھا۔۔۔۔؟؟؟“ شام کالر کو درشتگی سے جھٹکتے ہوئے بولا تو حرمین کے مردہ دل کی دھڑکنوں میں ہولے سے جنبش ہوئی۔
”تمھاری روڈنیس نے۔۔۔تمھاری اگنورینس نے۔۔۔۔۔“ قدم قدم چلتا وہ اُسکے مقابل آرکا۔
اسی کی جانب اذیت سے تکتی حرمین کی سانسیں اٹکنے لگیں۔جبکہ ان دونوں کی جانب خاموشی سے دیکھتے فواد اور افروز کافی حد تک معاملے کی سنگینی کو سمجھ گئے تھے۔
”مجھے لگتا تھا کہ تم وہ لڑکی ہو جو مردوں کی چاپلوسیوں کے آگے کبھی بھی گھٹنے نہیں ٹیک سکتی۔۔۔عام لڑکیوں سے ہٹ کر ہو تم جو ہم جیسوں کی ضد اور آفر کے سامنے انکار کرنے کی بےمثال جرات رکھتی ہے۔۔۔پر اس معاملے میں تم نے مجھے غلط ثابت کردیا حرمین۔۔۔تم نے ثابت کردیا کہ تم بھی ایک قابلِ تسخیر ہدف ہو جسے مشکلوں سے ہی سہی پر میں تسخیرکرچکا ہوں۔۔۔۔۔“ جینز کی پاکٹس میں ہاتھ پھنسائے وہ بےدردی سے بولتا اسکی ذات کے پرخچے اڑائے چلا جارہا تھا۔۔۔اور وہ کمالِ ضبط کا مظاہرہ کرتی اب بھی اپنے پیروں پر اسکے مقابل پورے قد سے کھڑی تھی لیکن تلخ لفظوں کے بوجھ تلے وجود کپکپا اٹھا تھا۔
تبھی دانتوں تلے اپنی سسکی روکتی حرمین اسکے چوڑے سینے پر دھیرے سے اپنی لرزتی ہتھیلیاں جماتی قریب ہوئی۔
شام نے بےتاثر نگاہوں سے اسکے بھیگے نقوش دیکھے تھے۔
”شش۔۔شام۔۔۔ہمارے بیچ گزرے تمام پل تو محبت میں گزرے پل تھے ناں۔۔۔خدارا انھیں خود غرضی کا نام دےکر یوں داغدار مت کرو۔۔۔تمھارے نفس کی تسکین کے سبب میری زندگی برباد ہوجائے گی۔۔۔۔“ پھوٹ پھوٹ کر رونے سے خود کو بامشکل باز رکھتی وہ شدت سے ملتجی ہوئی۔لہو لہان ہوتا دل ہنوز کرلا رہا تھا۔۔۔
جبکہ اپنی محبت میں شدت سے دم بھرتی اس لڑکی کو یوں قریب سے ہلکان ہوتا دیکھ شام کا سفاک دل تب سے پہلی بار اسکے حق میں زوروں سے دھڑکا تھا۔
اس سے پہلے کہ بےوفا ہوتی دھڑکنیں صاف بغاوت پر اترآتی معاً وہ پاکٹس سے ہاتھ باہر نکالتا اسے خود سے پرے کرگیا۔
”تو ہوجائے۔۔۔آئی ڈیم کئیر۔۔۔“ قدرے بےپروائی سے بولتا وہ اسکی ذات سے بے نیاز ہونے میں کامیاب ٹھہرا تھا۔
اسکے جواب پر ساکت ہوتی حرمین کو اپنی سانسیں بھی رکتی ہو محسوس ہوئیں۔
”بائے دا وے کیا۔۔۔کیاسوچا کیا تھا تم نے۔۔۔ہہمم۔۔۔؟؟؟“ استہزائیہ انداز میں اسکی جانب دیکھ کر بولتا وہ مزید گویا ہوا تو جہاں بمشکل خود پر ضبط کرتی۔۔حرمین کا تنفس بگڑنے لگا وہیں افروز سمیت فواد اسکی ڈھٹائی کو تاسف سے دیکھ کر رہ گئے۔
”شام۔۔۔چل چھوڑدے یار اب جانے دے بات کو۔۔۔۔۔“ اس طول پکڑتی بدمزگی پر کچھ پریشان ہوتا افروز معاملہ نمٹانے کو جلدی سے بول پڑا۔۔۔پر وہ ہر التجاء سے بےبہرہ اس وقت کسی کی بھی سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔۔۔۔
”چار دن تمھارے ساتھ گھوموں گا پھروں گا۔۔۔ایک عدد حسین رات گزاروں گا تو مجھے تم سے بےپناہ محبت ہوجائے گی۔۔؟؟سریسلی حرمین۔۔۔۔؟؟یارتمھاری اوقات کیا ہے میرے سامنے۔۔۔؟؟؟نہ صورت ہے نہ ہی امیری۔۔۔اور اب تو کریکٹر کے معاملے میں بھی تم بہت پیچھے رہ گئی ہو۔۔۔میری یہ بات اچھے سے ذہن نشین کرلو کہ تمھاری حیثیت میرے نزدیک فقط ایک ٹارگٹ۔۔۔۔۔“ اپنی برتری کو ہر لحاظ سے اس کی کمتر ذات پر ترجیح دیتا وہ ایک غرور سے بول رہا تھا جب اگلے ہی پل گال پر پوری شدت سے پڑنے والا تھپڑ پل میں اسکی بولتی بند کرواگیا۔
”چٹاخ۔۔۔۔۔“ وسیع ہال میں گونجتی آواز کو وہاں آتی مہوش نے بخوبی سنا تھا جبھی اس نا قابل یقین منظر کو حیرت سے تکتی وہ اپنی جگہ تھم کر رہ گئی۔
فواد سمیت افروز نے حیرت سے منہ کھول کر اپنے یار کی پشت کو دیکھا جو اس غیرمتوقع حملے پر سختی سے مٹھیاں بھینچے۔۔۔لہو رنگ آنکھوں سے ہنوز سفید ماربل کو گھور رہا تھا۔اس دوران مہوش کی موجودگی کی آہٹ اسکی سنساتی ہوئی سماعتوں سے پوشیدہ نہیں رہ پائی تھی۔
معاً حرمین نے نفرت بھری نگاہوں سے اسکا ضبط تلے خطرناک حد تک سرخ پڑتا چہرہ دیکھ کر فرش پر تھوکا تھا۔نظریں اٹھا کر غصے سے اسکی جانب دیکھتے شام کی رگوں میں خون ابلنے لگا۔
”تھو ہے تمھاری اس حسین صورت پر جس پر فدا ہوکر جانے کتنی ہی لڑکیاں خود کی عزت دو کوڑی سے بھی کم کی کر بیٹھتی ہیں۔۔۔اور تھو ہے مجھ جیسی بدنصیب لڑکی پر جو تم پر فدا ہوئی۔۔۔۔تم جیسے گھٹیا ترین مرد کے لیے یہ تھپڑ تو کچھ بھی نہیں ہے شاہ میر حسن ۔۔۔اگر میرا بس چلے تو تمھیں اپنی زندگی برباد کرنے کے جرم میں سیدھا پھانسی پر لٹکا دوں۔۔۔۔۔“ بےدردی سے اپنے نم گال مسلتی وہ مشتعل ہوکر بلندآواز میں چیخ رہی تھی۔
مقابل کا حقیقی روپ شدت سے اپنا آپ منواتا حرمین کو اس کے وجود سے شدید نفرت کرنے پر مجبور کر گیا تھا۔
اور بس۔۔۔یہی پر آکر شام کے ہاتھوں سے ضبط کی ساری طنابیں چھوٹتی چلی گئیں۔
جبھی اپنی رگوں میں امڈتے شدید اشتعال کو دبانے میں مزید ناکام ٹھہرتا وہ ایکدم سے حرمین پر جھپٹا۔
”او۔۔یو شٹ اپ۔۔جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔ہمت بھی کیسے ہوئی تمھاری مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔۔ہاں۔۔۔۔؟؟؟کیسےےے ہوئی جواب دو مجھے۔۔۔؟؟؟“ بازوؤں سے دبوچ کر اپنے بےحد قریب کرتا وہ حرمین کے بوکھلائے چہرے پر دہاڑا۔لہجے کے ساتھ ساتھ گرفت بھی اتنی سخت تھی کہ بازوؤں میں اٹھتا درد حرمین کی سانسیں خشک کرگیا۔
”شام۔۔۔۔۔“ وہ دونوں بھی ہوش میں آتے سرعت سے اسکی جانب لپکے۔
”چھ۔۔چھوڑو مجھے جنگلی۔۔۔۔“ جہاں حرمین ناکام مزاحمت کرتی نفرت سے بولی وہیں ہنوز بت بن کے کھڑی مہوش کی آنکھیں اس دست درازی پر مزید پھیل گئیں۔
گال پر ہوتی جلن کے سبب شام غصے سے پاگل ہوتا شاید ہاتھ اٹھانے سے بھی گریز نہ کرتا اگر جو فواد اور افروز بروقت بیچ میں پڑتے اس بپھڑے شیر کو گھسیٹ کرحرمین سے پیچھے نہیں کرتے۔
”حرمین۔۔۔پلیز گو۔۔۔۔چلی جاؤ یہاں سے۔۔۔اگر اپنی خیر چاہتی ہو تو کبھی پلٹ کر واپس مت آنا۔۔۔۔جسٹ گوٹو دی ہیل ڈیم اٹ ۔۔۔آؤٹ فرام ہیر۔۔۔۔“ حرمین کو سسک کر بازو ملتے دیکھ افروز چیخ کر بولا تو ان دونوں کی مضبوط ترین گرفت میں مچلتے شام نے شدت سے اپنا آپ چھڑوانا چاہا۔
”چھوڑو مجھے۔۔۔۔اسکی تو میں۔۔۔۔“ وہ پل پل بپھڑتا ان دونوں کی طاقت مزید صرف کررہا تھا۔حرمین کا دل ڈوبنے لگا۔
”ت۔۔۔تم نے اپنی نام نہاد جیت کی خاطر جس طرح مجھ یتیم لڑکی کی زندگی تباہ کی ہے ناں شام۔۔میری دعا ہے کہ تم بھی اسی طرح برباد ہوجاؤ۔۔پل پل سسکو۔۔۔تڑپو پر تمھیں زندگی میں کبھی سکون نہ آئے۔۔۔“ جواباً سسک کر بولتی حرمین کے لیے مزید وہاں رکنا محال ہوا جبھی وہ اپنا سب کچھ گنوا ہار کر وہاں سے ہانپتی کانپتی ہوئی بھاگ کر باہر کی طرف نکلتی چلی گئی۔
”تم دوٹکے کی نیچ عورت اب مجھے۔۔۔شاہ میرحسن کو پھانسی پر لٹکانے کی باتیں کروگی۔۔۔؟؟؟یو بلڈی۔۔###۔۔۔۔“ اسکے لفظوں پر وجود میں اترتی بےچینی پر وہ بدتمیزی کی آخری حدوں کو چھوتا مزید بولنا چاہتا تھا مگر اسے زبردستی گھسیٹ کر واپس کمرے میں لے جاتے ہوئے فواد اور افروز دھاڑ سے دروازہ بند کرگئے۔ہال خالی ہوتا دیکھ حواسوں میں واپس لوٹتی مہوش بھی بپھڑے شیر کے منہ میں ہاتھ نہ ڈالنے کا ارادہ کرتی اگلے ہی پل جس خاموشی سے آئی تھی تماشہ دیکھ کر اسی خاموشی کے ساتھ وہاں سے نکلتی چلی گئی۔۔۔
جبکہ بند دروازے کے پیچھے شام کی وقفے وقفے سے نکلتی بھڑاس کے سنگ اب توڑ پھوڑ کی آوازیں بھی شامل ہوتی چلی گئی تھیں۔۔۔۔
”تمھیں کچھ یاد کیوں نہیں پڑتا اس بدذات شخص کے حوالے سے۔۔۔؟؟؟اگر ہمیں ایک بار اسکا نام پتا معلوم ہوجائے تو بنا وقت ضائع کیے اس سمیت اسکی مدمعاشی کو جیل میں جھونک دیں ہم۔۔۔۔“ اپنے جگڑ کی بگڑی حالت پر خنساء بیگم نم آنکھوں کو جھپکاتی سخت لہجے میں بولیں تو انھیں اتنے وقت سے ایک ہی موضوع پر اڑا دیکھ کر سالارخان کو اب چڑ سی ہونے لگی۔
”جو ہوا سو ہوا اماں حضور۔۔۔آپ پلیز اس بات کو ذیادہ طول مت دیں تو بہتر ہے۔۔۔۔“ بےاختیار بیڈ کراؤن سے ٹیک ہٹاکر صحیح سے بیٹھتا وہ بےتاثر لہجے میں گویا ہوا تو خنساء بیگم اسکی الجھن کو محسوس کرتی اپنے لب بھینچ کر رہ گئیں۔
پھر نرمی سے اسے ٹھوڑی سے تھام کر اسکا زخمی چہرہ مکمل اپنی جانب موڑا۔
ناک کے ایک طرف کا کافی سارا حصہ مرہم تلے چھپا اتنا بھی بدنما نہیں لگ رہا تھا۔
”تمھارے لیے یہ محض ایک بات ہوسکتی ہے میرے چاند۔۔۔مگر تمھاری ایسی حالت دیکھ کر حقیقتاً میرے کلیجے کو ہاتھ پڑا ہے۔۔۔۔کیا معلوم وہ اجنبی مرد ہمارے دشمن خاندان میں سے کوئی ایک ہو۔۔۔؟؟؟اور بلاشبہ یہ بہت فکر کا معاملہ ہے۔۔۔“ اسےسمجھانے کو وہ نرمی سے لب کشائی کررہی تھیں۔
ایسے میں سوچوں میں پڑتے سالار خان کی یادداشت میں بےاختیار ایک دھندلا دھندلا سا عکس تازہ ہوا تھا۔
”یہ تمھاری رابی نہیں۔۔۔میری آبرو ہے۔۔۔فقط شاہ میر حسن کی آبرو۔۔۔۔“ اسکا گریبان دبوچ کرجھنجھوڑتا وہ شدت سے اسے باور کروانے کی کوشش کررہا تھا۔
مگر آگے سے اسے خود کا دیا گیا جواب یاد نہیں آیا تھا۔
سالار خان کا سر دکھنے لگا۔
ذہن پر شدت سے زور ڈالنے پر بھی اسے فقط ایک دو منظر ہی یاد رہے تھے۔باقی کیا ہوا تھا؟کیسے ہوا تھا؟وہ سب تو جیسے یاداشت سے مٹ سا گیا تھا۔
شاید گزشتہ شب اسنے اس شخص کی بیوی یاں منگیتر کو شدید مدہوشی کے عالم میں چھیڑکر تلملانے پر مجبور دیا تھا۔۔۔اور اسکا انجام وہ سر اور ناک میں اٹھتی تکلیف کی صورت بھگت بھی چکا تھا۔۔۔
”کہاں کھوگئے ہو برخوردار۔۔۔؟؟کیا اب بھی کچھ یاد نہیں آیا اس شخص کے بارے میں۔۔۔؟؟؟“ خنساء بیگم کے کھوجتے انداز پر وہ اپنے خیالوں سے چونکتا ان کی جانب متوجہ ہوا۔
”ہوں۔۔۔؟؟م۔۔معلوم نہیں وہ شخص کون تھا۔۔۔؟؟مگر جو بھی تھا ہمارا حریف ہرگز نہیں تھا۔۔۔۔“ ایک یقین سے بولتا وہ انکی بات سے صاف انکاری ہوا تو اسکی جانب دیکھتی خنساء بیگم کی پیشانی پر بل پڑے۔
”اور تم یہ بات اتنے وثوق سے کیسے کہہ سکتے ہو۔۔۔؟؟؟“ آدھے ادھورے معاملے سے انجان۔۔۔انکی تفتیش بڑھی تھی۔
”میں کہہ رہا ہوں ناں اماں حضور۔۔۔بس آپ یقین کرلیں اور مہربانی کرکے پرسکون ہوجائیں۔۔۔سب ٹھیک ہے۔۔۔۔“ اب کی بار وہ جھنجھلاکر بولا تو ملازمہ کی جگہ۔۔۔کھانے کا ٹرے پکڑ کمرے میں آتی حلیمہ نے اسکے چہرے کی ناگواری کو بغور دیکھا تھا۔۔۔جبکہ اس سمے اسے نظروں کے سامنے آتا دیکھ کر سالار خان کا حلق تک کڑوا ہو گیا تھا۔
”ہم تو جیسے تیسے پرسکون ہوجائیں گے برخوردار مگر تمھیں سکون حاصل کرنے کے لیے فقط شراب کے نشے کو ہی اپنا سہارا بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔اگر اپنے آس پاس غور و فکر کرو گے تو یقیناً اس پھیکے نشے سے کہیں بہتر اور مضبوط سہارےکو اپنا منتظر پاؤگے۔۔۔۔“ حلیمہ کی موجودگی محسوس کرلینے پر بھی خنساء بیگم دھیمے لہجے میں اسے تنبیہ کرنا نہیں بھولی تھیں۔گوکہ وہ جانتی تھیں مضبوط بندھن میں بندھنے کے باوجود بھی ان دونوں کے تعلقات مزید سرد ہو گئے تھے اور انھیں اپنے بیٹے کی وقتی ناراضگی سے بھی خوب واقفیت تھی۔۔مگر وہ سالار خان کی ہٹ دھڑمی کے آگے اسکے مستقبل کو خراب کردینے کی ہمت خود میں بالکل بھی نہیں پاتی تھیں۔
سالار نے کچھ خفگی سے خنساء بیگم کو دیکھا جو اب اسکے پاس سے اٹھ کر ایک بولتی نگاہ حلیمہ پر ڈالتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئیں۔
”میں یہ کھانا لائی تھی آپ کے لیے۔۔۔۔“ ان کے جانے کے بعد حلیمہ چلتی ہوئی بیڈ تک آئی تھی اور پھر سالار کے سامنے جھک کر کھانے کی ٹرے رکھتی دھیمے لہجے میں بولی۔
”مجھےبخوبی دکھائی دے رہا ہے۔۔۔تمھیں بلاوجہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔“ ایک تیز نگاہ اسکے سادہ چہرے پر ڈال کر سردمہری سے بولتا وہ کھانے کی طرف متوجہ ہوا تو حلیمہ اسکے لہجے کی کڑواہٹ کو بآسانی اپنے اندر اتارتی گہرا سانس بھرکے رہ گئی۔پھر لب سیے سامنے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف لپکی۔
ٹرے میں کوفتوں کی ڈش کے ساتھ۔۔۔علیحدہ پلیٹ میں دھرے ابلے انڈوں کے قتلے دیکھ سالار کی کب سے دبی بھوک ایکدم ہی بھڑک اٹھی تھی۔
ایسے میں الگ سے سائیڈ پر رکھی نمک دانی اور(کالی) مرچ دانی کی اضافی موجودگی حلیمہ کے سلیقے کا منہ بولتا ثبوت تھی۔
پہلے لقمے کا سواد حلق سے نیچے اتارنے پر یکلخت ایک خیال سالار کے دماغ کو تیزی سے چھو کر گزرا تو اسنے نگاہیں اٹھاکرحلیمہ کی پشت کو بغور دیکھا۔
”کھانا کھایا تم نے۔۔۔۔؟؟؟“ حلیمہ نے نچلا کیبن کھول کر فرسٹ ایڈ باکس باہر نکالا تھا جب سالار کا سرسراتا ہوا سوال اسکی سماعتوں سے ٹکرایا۔
معاً چونک کر سیدھی ہوتی وہ اسکی جانب پلٹی۔مگر پھراسکے چہرے کے سرد تاثرات دیکھ کر ہولے سے نفی میں سر ہلاگئی۔
”آپکی فکر چھوڑ کر بھلا میں اپنی بھوک کی فکر کیسے کرلیتی خان۔۔۔۔؟؟؟“ فرسٹ ایڈ باکس کھول کر مطلوبہ میڈیسن نکالتی حلیمہ نے جواب سالار کی توقع کے مطابق دیا تھا۔
بےاختیار ایک کمینی مسکراہٹ پل بھرکے لیے اسکے لبوں پر اپنی چھپ دکھلاکر تیزی سے غائب ہوئی تھی۔۔۔
”یہاں آؤ میرے پاس۔۔۔۔“ اسکی جانب دیکھتا وہ بےتاثر لہجے میں بولا تو وہ رک کر کچھ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔وہ اسے اپنے قریب بلارہا تھا۔
”میں کچھ کہہ رہا ہوں تم سے۔۔۔۔اب کیا اونچا سننے لگی ہو تم۔۔۔؟؟؟ادھر آؤ۔۔۔۔“ اسے وہیں ساکت کھڑا دیکھ اس نے پیشانی پر تیوری چڑھاتے ہوئے قدرے سخت انداز اپنایا تو وہ بھی چونک کر جیسے ہوش میں آئی۔
”جج۔۔۔جی میں۔۔۔“ جلدی سے اثبات میں سر ہلا کر میڈیسن سمیت فرسٹ ایڈ باکس کو وہیں چھوڑتی وہ تیزی سے اسکی طرف لپکی۔
”بیٹھو۔۔۔۔“ بھنوؤں سے اشارہ کرتا اب کہ وہ اسے اپنے مقابل بیڈ پر بیٹھنے کو کہہ رہا تھا۔
وہ الجھن بھری نگاہوں سے اسکے تنے نقوش دیکھتی چپ چاپ اسکے سامنے سمٹ کر بیٹھ گئی۔
”بہت فکر کرتی ہو ناں تم میری۔۔۔۔؟؟تو جواب میں اُس جتنی نہ سہی مگر تھوڑی بہت فکر کرنے کا حق تو میرا بھی بنتا ہے۔۔بقول تمھارے آخر کو شوہر ہوں تمھارا۔۔۔۔۔“ علیحدہ سے پلیٹ میں کوفتوں کا سالن نکالتا وہ دھیمے سرد لہجے میں بول رہا تھا جبکہ اسکی اس غیرمتوقع عنایت پر حیرت تلے حلیمہ کی دھڑکنیں تیز تر ہوئی تھیں۔
”اس وقتی فکر کی بجائے کیا آپ عمر بھر کے لیے میری فکر کرنے کا بیڑا نہیں اٹھاسکتے خان۔۔۔؟؟؟“ اسکے چہرے پر بکھرے اطمینان کو تکتی وہ چاہ کر بھی اپنا حسرت زدہ لہجہ چھپا نہیں پائی تھی۔نمک دانی اٹھاتا وہ تلخی سے مسکرایا۔
”اٹھانے کو تو میں یہ بیڑا بھی زندگی بھرکے لیے اٹھالوں۔۔لیکن مجھے یقین ہے اس کے بعد تمھیں میرے انداز اور طور طریقوں سے بہت سے اعتراضات ہونے لگیں گے۔۔سو جانے دو۔۔۔“ کہتے ہوئے فراخدلی سے سالن میں اضافی نمک چھڑکتا وہ حلیمہ کو اپنے عمل سے حیران کر گیا۔
”خ۔۔خان یہ آپ کیا کررہے ہیں۔۔۔ا۔۔؟؟؟“ اسنے بےاختیار دبی دبی آواز میں احتجاج کرنا چاہا تھا جب اسکے پھڑپھڑاتے لبوں پر بروقت اپنی شہادت کی انگلی جماتا وہ اسکی جان لبوں پر لے آیا۔
”تمھاری فکر۔۔۔۔۔“ سنجیدگی سے کہتے ہوئے اسنے اسکے نیم وا لبوں سے اپنی انگلی ہٹائی تھی اور پھر اگلے ہی پل نوالہ بنا کر وہ زبردستی اسکے منہ میں ٹھونس چکا تھا۔
سالار کے فکرکرتے اس انداز پر حلیمہ کی آنکھیں تیزی سے بھیگی تھیں۔منہ میں گھلتے تیز نمک کے ذائقے پر بھی اسنے نوالہ باہر نہیں تھوکا تھا۔۔۔اور وجہ مقابل کا خود اپنے ہاتھوں سے کھلانا تھا۔۔۔۔
جبکہ اپنی توقع کے برعکس حلیمہ کو ضبط سے نوالہ چباتا دیکھ وہ چونکا۔وہ لڑکی اسکی سوچ سے ذیادہ ہٹ دھرم نکلی تھی۔
”جانتی ہو اماں حضور چاہتی ہیں میں تم پر توجہ دوں۔۔۔بدلے میں مجھے تمھاری صورت میں ایک مضبوط سہارا ملے گا۔۔۔۔لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آتی جو صرف سہارا چھیننا جانتے ہوں وہ کسی کا سہارا کیسے بن سکتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟“ اسکا مزید ضبط آزمانے کو سر جھٹک کر دوسرا نوالہ بناتا وہ زہرخند لہجے میں گویا ہوا۔
”بھلے ہی آپ مجھے اپنا سہارا نہ بنائیں خان۔۔۔لیکن ایک بار میرا سہارا بن کے دیکھ لیں۔۔۔شاید اس طرح ہم دونوں کی الجھنے سلجھ جائیں۔۔۔“ کڑوے زہر کو بمشکل حلق سے نیچے اتراتی وہ آنسوؤں کو گالوں پر بہنے سے روک نہیں پائی تھی۔
”دونوں صورتوں میں نقصان تو میرا ہی ہے ناں۔۔۔تمھارا کیا بگڑے گا۔۔۔؟؟؟“ ہاتھ کی پشت سے بےمول ہوتے آنسوؤں کو صاف کرتا وہ دوسرا نوالہ بھی اطمینان سے اسے کھلا چکا تھا۔اسکے لمس پر حلیمہ کا دل ڈوبنے لگا تھا۔
”اگر میرا کچھ بگاڑنے سے آپکو واقعی میں دلی سکون ملتا ہے خان۔۔۔تو جی بھرکے بگاڑلیں۔۔۔م۔۔مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔۔۔۔“ پل پل ضبط کا دامن چھوڑتی حلیمہ کو متلی سی ہونے لگی۔مگر اس دوران بھی مقابل کے لیے دیوانگی کا عالم ہنوز برقرار تھا۔
”لیکن تمھاری سانسوں کو تو ابھی سے اعتراض ہونے لگا ہے۔۔۔درحقیقت تم میری توجہ کے قابل ہو ہی نہیں۔۔۔۔“ تمسخر اڑاتی نگاہوں سے اسے گہرے گہرے سانس بھرتا دیکھ سالار خان نے اس بار سفاک پنے کی حد کی تھی۔
”آپ ایک بار میری طرف متوجہ ہو کر تو دیکھیں۔۔۔اگر پھربھی اس قابل نہ لگی تو بے شک دوبارہ میری طرف پلٹ کر دیکھیے گا بھی مت۔۔۔۔بس تقاضا خلوص نیت کا ہے۔۔۔۔“ وہ شدت سے کہنا چاہتی تھی مگر حلق کو چیڑ کر باہر آنے کو بےتاب متلی نے اسے مزید بولنے کی اجازت نہیں دی تھی۔
معاً حلیمہ منہ پر سختی سے ہاتھ جماتی تیزی سے بیڈ سے اتری اور پھر بھاگتی ہوئی واشروم میں بند ہوئی تھی۔
پیچھے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سالار خان کو عجیب سی بےچینی نے آن گھیرا تھا۔
ایسے میں وقفے وقفے سے کھانستی ہوئی آوازیں اسکی سماعتوں سے ٹکراتی پیٹ میں کچھ دیر پہلے مچلتی بھوک کو پوری طرح مار چکی تھیں۔۔۔۔
”آخر ایسا بھی کیا ہے اُس لڑکی میں جس کے لیے تم مجھے۔۔۔یعنی عروسہ شاہنواز خواجہ کو ریجیکٹ کررہے ہو۔۔۔؟؟خواجہ انڈسٹریز کے مالک کی اکلوتی وارث کو۔۔۔؟؟؟“ وہ دونوں اس وقت ریسٹورنٹ میں ایک دوسرے کے مدمقابل بیٹھے تھے جب عروسہ ایکدم ہی رواں موضوع سے ہٹ کر پوچھتی عائل کو چونکنے پر مجبورکر گئی۔
کڑواہٹ بھرے لہجے میں اکڑ صاف عیاں تھی۔
”میں تم پر بہت پہلے سے ہی یہ بات صاف واضح کرچکا ہوں کہ میں اُس لڑکی سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔۔۔روح کی گہرائیوں تک چاہتا ہوں اُسکو۔۔۔کیا بیان کرنے کو اتنی وجہ کافی نہیں ہے۔۔۔؟؟؟“ ٹھہری ہوئی آواز میں بولتا وہ اگلے ہی پل کافی کا مگ بیزاریت سے ٹیبل پر رکھ چکا تھا۔
کہیں نہ کہیں عائل کو یہ یقین تھا کہ دورانِ گفتگو وہ اپنی ذات کے متعلق اس مباحثے کو بیچ میں ضرور گھسیٹ کرلائے گی۔۔۔سو توقع پر پوری اترتی وہ حقیقتاً گھسیٹ بھی لائی تھی۔۔۔
عروسہ کورا جواب ملنے پر اندر تک جھلستی بظاہرمسکرا بھی نہ پائی۔
”پلیز عائل ٹرائے ٹو انڈرسٹینڈ۔۔۔زندگی گزارنے کے لیے صرف محبت ہی سب کچھ نہیں ہوتی۔۔۔انسان کو اسکے علاوہ بھی بہت سی دوسری چیزوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔۔۔کمپرومائز کرنا پڑتا ہے جو تم اپنی ذاتی غرض کی وجہ سے بالکل بھی کرنا نہیں چاہ رہے۔۔۔۔“ بےاختیار ڈیپ ریڈ لبوں پر زبان پھیرتی وہ اسے سمجھانے کو قدرے بےتاب ہوئی تھی۔
”یوآر کمپلیٹلی رونگ عروسہ شاہنواز۔۔۔۔محبت کے بغیر زندگی کچھ معنی نہیں رکھتی۔۔۔۔اگر انسان کے پاس سب کچھ ہو پر محبت جیسا خوبصورت احساس نہ ہو تو کھوکھلی زندگی کی طرح وہ خود بھی کھوکھلا ہوکر رہ جاتا ہے۔۔اور میں ایسا بالکل بھی نہیں چاہتا۔۔۔۔“ بھنویں سکیڑ کر سرد آواز میں بولتا وہ اسکی سمجھداری سے صاف انکاری ہوا تھا۔
نتیجتاً اسکی سیاہ آنکھوں میں شدت سے جھانکتی عروسہ نے ہولے سے مسکراتے ہوئے ایکدم سے پینترا بدلا تھا۔آنکھوں کی ادا نرالی تھی۔
”دیکھو مجھے۔۔۔غور سے دیکھو۔۔۔خوبصورت ہوں۔۔۔ماڈرن ہوں۔۔۔ویل ایجوکیٹڈ ہوں۔۔۔بزنس۔۔بینک بیلنس ایون کہ سٹرونگ فیملی بیک گراؤنڈ سب کچھ تو ہے میرے پاس۔۔۔اس کے علاوہ تمھیں اور کیا چاہیے۔۔۔؟؟؟“ مقابل کو خود کی جانب قائل کرنے کی ناکام کوششوں میں ہلکان ہوتی وہ بہکی آواز میں بولتی چلی جا رہی تھی۔۔۔اور وہ لب بھینچے بنا پلکیں جھپکائے اسی کو دیکھ رہا تھا۔
تراش خراش کے نکالی گئی نسوانی خوبصورتی یقیناً دلچسپ تھی۔
لیکن مقابل بھی عائل حسن تھا۔۔۔جس کے لیے اپنی نمائش آپ ہی کرواتی ظاہری خوبصورتی سوائے گھٹائے کے سودے کے اور کچھ بھی نہ تھی۔
وجود میں امڈتے اشتعال کے باوجود بھی ایک تمسخر اڑاتی مسکراہٹ نے دھیرے سے اسکے لبوں کا احاطہ کیا تھا۔یہ دیکھ عروسہ کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔
”حیاء۔۔۔معصومیت۔۔۔جھجھک۔۔۔مروت لحاظ۔۔۔سادگی۔۔۔فطری کشش۔۔۔میری مرضی کا کچھ بھی تو نہیں ہے تمھارے پاس۔۔۔۔تو پھر کس بناء پر میں زندگی بھر کے لیے تمھارا انتخاب کروں۔۔۔؟؟؟ قدرے اطمینان سے ایک ایک کر کے اپنی طلب اسے بتلا تے ہوئے اسنے آخر میں ٹھوڑی کو پل بھر کے لیے کھجایا تو عروسہ کے مسکاتے نقوش تن سے گئے۔
”ناؤ یو انسلٹنگ می عائل۔۔۔۔“ اپنی تذلیل محسوس کرتی وہ سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ جہاں دبی دبی سی آواز میں پھنکاری تھی وہیں حاویہ بھی نیناں کی ضد پر اس کے ہمراہ ریسٹورنٹ میں داخل ہوتی سارے شاپنگ بیگز اسکو تھما چکی تھی۔
”اگر ماما نے اس دیری کا ذمے دار مجھے ٹھہرایا ناں نینی۔۔۔تو میں بتا رہی ہوں تجھے تُو میرے ہاتھوں پکا پٹ جائے گی۔۔۔“ برہمی سے بولتی وہ نیناں کی بے جا منمانیوں پر کلس ہی تو گئی تھی۔جواباً نیناں نے آنکھیں پٹپٹاتے اسے اپنی بتیسی کا دیدار کروایا تھا۔اور پھر اگلے ہی پل اطراف میں دوڑتی اسکی چمکتی نگاہیں ٹھٹک کر عائل پر رکی تھیں۔
”ناٹ ایٹ آل۔۔۔تم نے جو سوال پوچھا تھا میں نے پوری ایمانداری کے ساتھ صرف اُسکا جواب دیا ہے۔۔۔۔“ حاویہ کی موجودگی سے ہنوز انجان وہ عروسہ کی شاکی نگاہوں میں دیکھتا دو ٹوک لہجے میں گویا ہوا تو اسے کسی بھی طور اپنے موقف سے ہٹتا نہ دیکھ اب کہ عروسہ لب چباتی خود پرسے ضبط کھونے لگی۔
حاوی وہ دیکھ۔۔۔عائل بھی یہاں آیا ہوا ہے۔۔۔“ نیناں کے جلدی سے ٹہوکا دینے پر حاویہ نے چونک کر اسکی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا تو عائل کو کسی ماڈرن لڑکی کے ساتھ دیکھ اسکے دھڑکتے دل میں الجھن بھرتی چلی گئی۔
یونیفارم سے ہٹ کر۔۔۔بلیو جینز پر گرے شرٹ پہنے وہ بلاشبہ قدرے دلکش دکھائی دے رہا تھا۔
”بٹ تم سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں رہے عائل؟؟آئی لائیک یو۔۔۔۔نو نو۔۔۔جسٹ ناٹ اِٹ۔۔۔۔آئی۔۔آئی لو یو سو مچ۔۔۔۔پلیز ڈونٹ ریجکیٹ می اینڈ میری می۔۔۔۔“ خود میں مچلتے جذبات کو بےدھڑک نیلام کرتی عروسہ اگلے ہی پل آگے ہوکر ٹیبل پر عائل کے دھرے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھام گئی۔۔۔
تو اس قابل دید بےباکی پر جہاں عائل نے غصے سے اس کی آنکھوں میں ہلکورے لیتی بغاوت دیکھی تھی وہیں اس جذباتی ملن پر ذرا سے فاصلے سے تکتی حاویہ کے اندر چھن سے کچھ ٹوٹا تھا۔
ایسے میں ذرا تیز آواز میں کیا گیا اعترافِ محبت اس سمیت کتنوں کی ہی سماعتوں سے ٹکرایا تھا۔۔۔۔لیکن اذیت میں ڈوبتا دل فقط اسی کا تڑپا تھا۔نیناں نے گردن موڑ کر قدرے اداسی سے حاویہ کی تیزی سے بھیگتی آنکھوں کو دیکھا تھا۔
”عروسہ تم۔۔۔۔۔“ دانت پیس کر کچھ کہنے کی کوشش کرتا وہ اتنی تیزی سے اپنے ہاتھ نہیں چھڑوا پایا تھا جس تیزی سے اُسکی بھٹکتی نگاہوں نے کاؤنٹر کے پاس کھڑی اُس لڑکی تک سفر طے کیا تھا۔
نتیجتاً یوں نظریں ملنے پر ہوش میں آتی حاویہ نے بے ساختہ چادر کو اپنے آدھے چہرے پر ڈالتی سرعت سے پلٹی تھی جبکہ وہ اُسکا روہانسا چہرہ دیکھتا بےچینی سے اپنی جگہ سے اُٹھ گیا۔
”نینی پلیز چل یہاں سے۔۔۔نہیں تو میرا دم گھٹ جائے گا۔۔۔۔“ ناقابلِ برداشت ہوتی تکلیف پر ملتجی ہوتی وہ وہاں سے جانے کو تھی جب سماعتوں سے ٹکراتا مضبوط لہجہ اسے محتاط کرگیا۔
”حاویہ۔۔۔۔پلیز میری بات سنو۔۔۔۔تم غلط سمجھ رہی ہو مجھے۔۔۔۔“ لمبے لمبے ڈگ بھرتا عائل پلوں میں اُس تک پہنچتا جھٹکے سے اسکو خود کی جانب موڑ گیا۔۔۔تو حاویہ نے پلٹتے ہی غصے سے اپنی کلائی اسکی مضبوط گرفت سے چھڑوائی۔آنسو ٹوٹ کر اسکی گالوں پر پھسلے تھے۔
اس دوران وہاں آتے۔۔۔ریسٹورنٹ کے منیجرسمیت بہت کم لوگ اپنی باتیں چھوڑ کر انکی جانب متوجہ ہوپائے تھے۔
ایسے میں اپنی جگہ کھڑی ہوتی عروسہ کی حیرت حاویہ کو دیکھ کر نفرت اور حقارت میں بدلی تھی۔
”لیسن۔۔۔تم نے ابھی جو بھی یہاں دیکھا ہے وہ ایک مس انڈرسٹینڈنگ سے ذیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔بیلیو می۔۔۔عروسہ جسٹ۔۔۔۔“ اسکی بھیگی آنکھوں میں ناچتی بے اعتباری کو ضبط سے دیکھتا وہ سنجیدگی سے بول رہا تھا جب اسکی بات کاٹتی وہ بولی نہیں۔۔۔پھنکاری تھی۔
”میں نے آپ سے کوئی صفائی مانگی عائل صاحب۔۔۔؟؟؟نہیں ناں۔۔۔تو پھر کیوں مجرموں کی طرح میرے سامنے خود کی صفائیاں پیش کرتے پھررہے ہیں آپ۔۔۔۔؟؟؟“ رخساروں پر مزید پھسلتے آنسوؤں کو گڑر کر صاف کرتی وہ خود کو بےحس ظاہر کرنے کی پوری کوشش کررہی تھی۔
”میں خود کی صفائیاں پیش نہیں کررہا۔۔۔تمھارے بلاوجہ کے آنسو برداشت نہیں ہوئے تبھی تمھیں حقیقت بتارہا ہوں۔۔۔یوں آدھی ادھوری جانکاری پر تم خود سے مکمل نتیجے اخذ نہیں کرسکتی۔۔۔۔“ مٹھیاں بھینچ کر جواب دیتا وہ حاویہ کو اذیت سے مسکرانے پر مجبور کرگیا۔
ان کے قریب ہی کھڑی نیناں جہاں پریشان سی ان کی گفتگو سن رہی تھی وہیں حاویہ کی بڑھتی بدگمانی پر عروسہ کے لبوں پر شاطرمسکراہٹ رینگنے لگی۔
”جو حقیقت میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہوں میرے لیے وہی کافی ہے۔۔۔۔؟؟آپ اپنے لفظوں کے ہیر پھیر سے میرا آنکھوں دیکھا نہیں جھٹلا سکتے اے۔ایس۔پی صاحب۔۔۔نادانی میں ہی سہی لیکن آپ کی ذات کے لیے میری زبان سے پھسلے الفاظ غلط نہیں تھے۔۔۔بہت برے ہیں آپ ۔۔۔بہت ہی ذیادہ برے۔۔۔۔“ بھیگے ہوئے درشت لہجے میں بولتی وہ وہاں مزید رکی نہیں تھی بلکہ اُسے بےچینیوں میں چھوڑتی وہاں سے بھاگتی چلی گئی۔نیناں بھی تاسف بھری نگاہ عائل پر ڈالتی وہاں سے نکل گئی تھی۔
”ڈیم اٹ۔۔۔۔“ تبھی عائل نے شدید غصے میں کاؤنٹر پر پنچ مارکے قریب ہی کرسیوں پر بیٹھے بہت سوں کو اپنی جانب متوجہ کروادیا تھا۔ایسے میں پرائیوٹ روم کے دروازے پر کھڑا ریسٹورنٹ کا مینجر۔۔۔جو حیرت سے آنکھیں سکیڑ کر سارا معاملہ بغور دیکھ رہا تھا اچانک جیب میں بجتے فون پر ہوش میں آیا۔پھر سر جھٹک کر موبائل فون باہر نکالا۔
”ہیلو ذباب بیٹا۔۔۔۔۔“ کال ریسیو کرکے کان سے لگاتے ہی اسے اپنی ماں کی فکر کھاتی آواز سنائی دی تھی جو اب عائل کو بھی غصے سے ریسٹورنٹ سے باہر نکلتا دیکھ فون پر سنجیدگی سے محو گفتگو ہوچکا تھا۔۔۔۔جبکہ عروسہ مزید وہیں رکنے کا ارادہ کرتی۔۔بیٹھ کر اب بچی کچھی کافی کے سرد گھونٹ بھرنے لگی تھی۔کچھ لمحے پہلے عائل کی خود پر پڑنے والی قہرآلود نظروں کو سوچ کر اسکے لبوں پر لطف لیتی مسکراہٹ بکھر چکی تھی۔۔۔
پورے روم کا ہاتھوں ہاتھ کیا گیا حشر دیکھنے لائق تھا۔چاروں اطراف غصے میں بکھیری گئی چیزوں سے بےنیاز وہ کمرے کے بیچ و بیچ ٹہلتا قدرے بےتاب دکھائی دے رہا تھا۔
سامنے ہی وہ دونوں صوفے پر بیٹھ کر اسکا تباہ ہوا موڈ ہنوز خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔توڑ پھوڑ کے دوران واحد ایک پروجیکٹر ہی تھا جسے فواد نے بڑی مشکلوں سے اسکے اشتعال کی زد میں آنے سے بچا لیا تھا۔
”اُس۔۔۔اس مہوش نے بھی وہاں پر کھڑے ہوکر سارا تماشہ دیکھا تھا۔۔۔اس کمی کمین کی اتنی اوقات نہیں تھی کہ مجھے یوں سرعام تم سب کے سامنے ذلیل کرکے جاتی۔۔۔دل تو چاہ رہا ہے کہ ابھی جاکر اپنے ہاتھوں سے اسکا گلا گھونٹ دوں ۔۔۔ہونہہ۔۔۔چلی تھی مجھ سے شادی کی ڈیمانڈ کرنے۔۔۔۔سالی (گالیاں)###۔۔۔۔۔“ اسکی خون رنگ آنکھوں کے سامنے بار بار گھومتا تحقیرآمیز منظرایسا تھاکہ کسی بھی صورت ہٹنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔گال پر تھپڑ کی مدھم ترین جلن نے اب تک اسکے اندر باہر آگ سی لگا رکھی تھی۔
”ت۔۔۔تم نے اپنی نام نہاد جیت کی خاطر جس طرح مجھ یتیم لڑکی کی زندگی تباہ کی ہے ناں شام۔۔میری دعا ہے کہ تم بھی اسی طرح برباد ہوجاؤ۔۔پل پل سسکو۔۔۔تڑپو پر تمھیں زندگی میں کبھی سکون نہ آئے۔۔۔“ تھپڑ کے بعد بد ترین لفظوں سے حملہ کرتی وہ اسے برباد ہوتا دیکھنے کو کس قدر بےتاب ہورہی تھی اُس پل۔۔۔
اور بھیگا لہجہ۔۔۔
اس قدر گہرا ہوا تھا کہ۔۔۔۔
سوچتے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھنساتا وہ نئے سرے سے بےچین ہوا تھا۔
اور اسی بے چینی کو کسی شے پر اتارنے کے لیے وہ مدھم غراہٹ کے ساتھ اگلے ہی پل وہاں ایک طرف رکھے پروجیکٹر کی طرف لپکا۔
وہ دونوں بھی پل میں شام کا ارادہ بھانپتے ہوئے تیزی سے اسکی طرف بڑھے تھے۔
”بس کرجا یار۔۔۔بس کرجا اب۔۔۔ہر شے تو تُونے پہلے سے ہی بگاڑ کررکھ دی ہے اب مزید اور کتنی توڑ پھوڑ کرے گا تُو۔۔۔؟؟؟“ پیچھے سے دبوچ کر اب کی بار اسے روکنے والا افروز تھا۔اور یہی روک ٹوک اسکے لیے اگلے ہی پل قدرے سنگین ثابت ہوئی تھی۔
”چٹاخ۔۔۔۔۔“ پلٹتے ہی شام کا بھاری ہاتھ اسکے منہ پر پڑتا کئی پلوں کے لیے آس پاس سکوت بکھیرگیا۔
”تجھے کس الو کے پٹھے نے مخبر بن کر حرمین تک میری خبریں پہنچانے کا بولا تھا۔۔۔؟؟؟ہہہممم۔۔۔۔اصل میں ناں سارے فساد کی جڑ تُو ہی ہے سالے۔۔۔نہ تو اس لڑکی کو میری فارم ہاؤس میں موجودگی کے بارے میں کنفرم کرکے بتاتا۔۔۔نہ وہ شادی کا پرپوزل لے کر مجھ تک آتی۔۔۔نہ اسکی باتوں پر میرا دماغ گھومتا اور نہ ہی مہوش کے سامنے وہ سب تماشہ ہوتا۔۔۔۔۔“ افروز کے سینے پر بار بار انگلی سے دباؤ ڈال کر طیش زدہ سا بولتا وہ اسے شدت سے شرمندہ کرنے کے در پہ ہوا تھا۔۔۔جو تپتے گال پر ہاتھ رکھے بےیقینی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
مقابل کی اس بےرحمی پر اندر کہیں بغاوت نے شدت سے سر اٹھایا تھا۔۔۔مگر وہ فی الحال کے لیے خاموش تھا۔
”ریلکس ہوجا شام۔۔۔تُو بلاوجہ ہی اس بیچارے پر بھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔“ پاس ہی کھڑا فواد کچھ جھجک کر افروز کی حمایت میں بولتا اب کہ اسکی توپوں کا رخ اپنی جانب موڑ چکا تھا۔
”ریلکس۔۔۔؟؟؟ریلکس ہوجاؤں میں۔۔۔؟؟؟سالے تھپڑ مارکے گئی ہے وہ میرے منہ پر۔۔۔تھپڑ۔۔۔آج تک کبھی زندگی میں میرے باپ نے بھی ایسی جرات نہیں کی جو وہ دوٹکے کی لڑکی ایک سیکنڈ میں کرگئی ہے۔۔۔سریسلی آئی ول کل ہر۔۔۔“ معاملے کی سنگینی کا احساس کرواتا وہ چبا چبا کر بولا تو فواد مقابل کے اس جواز پر چند پلوں کے لیے چپ ہوکر رہ گیا۔
”تو اب کیا واقعی میں تُو اسکا قتل کرے گا۔۔۔؟؟؟کیونکہ ایسے تو تجھے صبر نہیں آئے گا۔۔۔۔“ اسکے غصے سے خائف ہوتا وہ اب کہ بڑے دھیمے لہجے میں بول رہا تھا۔
”درست کہہ رہ ہے تُو۔۔۔۔خیر ڈائریکٹ قتل تو نہیں کروں گا لیکن جوابی کاروائی میں ایسا نایاب داؤ کھیلوں گا کہ وہ جیتے جی موت کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائے گی۔۔۔۔“ مٹھیاں بھینچ کر بولتے ہوئے جہاں شدت ضبط سے اسکی پیشانی کی رگیں ابھر آئیں تھیں وہیں زمین کو گھورتے افروز نے بھی سرخ نگاہیں اٹھاکر اسکا سپاٹ چہرہ دیکھا۔
”مطلب۔۔۔؟؟ایسا کیا کرنے والا ہے تُو۔۔۔۔؟؟؟“ فواد کچھ تجسس سے پوچھتا اسکے خطرناک ارادے جاننے میں ناکام ہوا تھا۔جوابا ًکچھ نارمل ہوتے شام کے لبوں پر زہرخند مسکراہٹ نے دھیرے سے اپنی چاپ چھوڑی تھی۔
محض ایک تھپڑ کے جواب میں جذباتی ہوکر اب نجانے وہ حرمین کی زندگی میں کونسا نیا زہر گھولنے کا والا تھا۔۔۔؟؟؟لیکن جو کچھ بھی تھا اسکے سفاک دل کی دھڑکنیں بڑھاگیا تھا۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
