No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
”تم ہار گئے شاہ میرحسن۔۔۔۔دیکھوتم ہار گئے۔۔۔ہار ہی تو گئے ہو۔۔۔۔۔“ وہ ہنوز سامنے کھڑی قدرے تاسف سے اُسکی شکست کا برملا اظہار کررہی تھی۔۔۔ پھر اگلے ہی پل کھنکھناتی آواز میں بلند ہوتے نسوانی قہقے مقابل کا ضبط ختم کرتے چلے گئے۔
”آاااا۔۔ہ۔۔۔۔بس بہت ہوگیا۔۔۔۔خاموش ہوجاؤ اب۔۔۔۔ایکدم چپ۔۔۔۔نہیں ہوں میں ہارا۔۔۔۔میں کبھی ہار ہی نہیں سکتا۔۔۔ کیونکہ آج تک صرف جیت ہی شاہ میرحسن کا مقدر ٹھہری ہے۔۔۔اور۔۔۔اور ہمیشہ جیتنے والے کبھی ہارا نہیں کرتے۔۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔۔سنا تم نے۔۔۔؟؟؟“ مشتعل سا بولتا وہ اگلے ہی پل پاس گرا واز اٹھا کر سامنے نظر آتے اس کے عکس پر مار چکا تھا۔۔۔ جو دھواں دھواں ہوتے وجود کے آرپار ہوتا۔۔۔دیوار سے لگ کر چکنا چور ہوتا چلا گیا۔۔۔۔
مقابل کو اپنی واضح شکست یوں چند جذباتی لفظوں کی آڑ میں چھپانے کی ناکام کوشش کرتا دیکھ۔۔اسکے سیاہی مائل لبوں پر صاف طنزیہ مسکراہٹ بکھری تھی۔
”لیکن تم تو ہارگئے۔۔۔خود کی حالت دیکھو۔۔۔کیا بازی جیت جانے والا شخص ایسا ہوتا ہے۔۔۔؟؟؟“ اس سنگین صورتحال سے رتی بھربھی مرعوب ہوئے بنا۔۔۔ کچھ نرمی سے پوچھتی اب کہ وہ سامنے سے غائب ہوکر اُسکی پشت پر نمودار ہوئی تھی۔
ایسے میں۔۔۔خود ہی کے دماغی فتور میں بری طرح پھنستے اس شخص کا دانت پیستے ہوئے۔۔دل شدت سے ڈوبنے لگا۔
” تمھارا ازلی غرور آج تمھیں پوری طرح لے ڈوبا ہے شاہ میر حسن۔۔۔اور یہ بات تم سے بہتر اور کوئی جان ہی نہیں سکتا۔۔۔“ اُسکے کان کے قریب جھک کر زہر اگلتی وہ اُسے سخت اذیت سے دوچار کرگئی تھی۔
نتیجتاً گہرے سانس بھرتا وہ ضبط تلے جلتی آنکھیں میچ کر کھول گیا۔
”آخر تم دفع کیوں نہیں ہوجاتی میری زندگی سے۔۔۔۔؟؟؟خدارا تنہا چھوڑدو مجھے اور چلی جاؤ یہاں سے۔۔۔گیٹ لاسٹ۔۔۔جسٹ گیٹ لاسٹ۔۔۔“ تلخ حقیقت سے نم پڑتی نگاہیں چراتا۔۔۔وہ پسینے میں شرابور حلق کے بل چلایا تھا۔ ہاں۔۔۔ہاں وہ جانتا تھا کہ وہ صحیح کہہ رہی تھی۔۔۔ خود کے۔۔۔کیے گئے بارہا انکار سے کہیں ذیادہ اُسکی بات میں حددرجہ وزن تھا، لیکن کسی کے سامنے یوں اپنی شکست تسلیم کرلینا بھلا اُس اناپرست بندے کے بس کی بات تھی ہی کہاں۔۔۔۔؟؟ چاہے پھر وہ کسی بےضرر سی لڑکی کا عکس ہی کیوں ناں ہو۔۔۔
اسکی کھوکھلی دہاڑ پر خائف ہونے کی بجائے وہ کھلکھلا کر ہنسی۔۔۔ اور پھر بےوجہ ہنستی چلی گئی۔۔۔تو شاہ میر حسن نے وحشت تلے سرخ چہرے پر ہاتھ پھیرے۔
”میں تو خود کو تمھاری خلوتوں کا محرم گردانتی ہوں۔۔۔۔پھر کیسے تمھاری زندگی سے دور ہوجاؤں۔۔۔؟؟بات وہ کرو جو میرے بس میں تو ہو۔۔۔۔“ معاً آگے آکر اسکے مقابل۔۔۔قریب تر بیٹھتی وہ ہر لحاظ سے اُسکا امتحان لے رہی تھی۔ مقابل کو کھل کر سانس لینا دشوار لگنے لگا۔
”خدا کا واسطہ ہے۔۔۔فی الحال کے لیے میری نظروں سے دور ہوجاؤ تم۔۔۔چلی جاؤ یہاں سے۔۔۔پلیززز۔۔۔۔۔۔“ وہ اس سمے بےبسی کی انتہا کو چھورہا تھا۔۔۔ جبھی اس بار مدھم لہجے میں شدت سے ملتجی ہوتا اگلے ہی پل اپنا سر ہاتھوں میں گراگیا۔
جواباً وہ نم۔۔سلگتی نگاہوں سے کئی پل اسے یک ٹک تکتی رہی۔پھربنا کسی تگ و دو کے دھیرے دھیرے ہوا میں تحلیل ہوتی چلی گئی۔۔۔
اس گہرے سکوت میں مزید لمحے سرکے تو یک دم اس نے بھاری ہوتا سر اٹھاکر اطراف میں بھوری نگاہیں دوڑائی۔۔۔پھر اسکا تخیلاتی وجود کہیں بھی دیکھائی نہ پڑنے پر۔۔۔لب بھینچ کر سر کو تنفر سے جنبش دی۔ ”آبرو۔۔۔۔آبرو۔۔۔۔آبرووووو۔۔۔۔“ اگلے ہی لمحے حلق کے بل چیخ کر شدت سے اسے مخاطب کرتے۔۔۔ فقط ایک پل لگا تھا اسے اپنی بدترین شکست تسلیم کرنے میں۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
گزشتہ راتوں کی طرح یہ رات بھی سب کے لیے معمول کے مطابق عام سی ہی تھی،لیکن دو وجود ایسے بھی تھے جن پر یہ سیاہ رات قہر بن کر ٹوٹ رہی تھی۔۔۔ جو اس کی بھیانک تاریکیوں اور برستی وحشتوں کو شدتوں سے محسوس کررہے تھے۔۔۔ خوف تلے لمحہ بہ لمحہ اُنکے دل کی کمزور پڑتی دھڑکنیں مزید مدھم ہوتی چلی جارہی تھیں۔
”مت کرو۔۔۔خدارا یہ ظلم مت کرو۔۔۔کیوں جانتے بوجھتے یہ گناہ کمارہے ہو۔۔۔۔؟؟؟اُس خدا کے قہر سے ڈرو جس کی لاٹھی بےآواز ہے۔۔۔مت کرو ایسا۔۔۔“ وہ عورت خود کی پرواہ کیے بنا۔۔گڑگڑا کر ہاتھ جوڑتے ہوئے اپنی معصوم بچی کے لیے اُس ظالم سے رحم کی بھیک طلب کر رہی تھی۔۔لیکن شاید مقابل کے سینے میں دل کی جگہ پتھر تھا، تبھی اس روتی بلکتی آٹھ سالہ نیلی نگاہوں والی بچی کو بازو سے پکڑتے ہوئے پشت پر کھڑے آدمیوں کی طرف بے دردی سے دھکیل چکا تھا۔
”چھوڑو مجھے۔۔۔مما۔۔۔بچاؤ۔۔۔مجھے کہیں نہیں جانا۔۔۔مجھے اپنی مما کے پاس جانا ہے۔۔۔چھوڑدو مجھے گندے انکل۔۔۔“ جیسے ہی وہ پھرتی سے اسے کندھے پر ڈالے باہر کی جانب لپکے۔۔تو وہ چیختی ہوئی اُن ظالموں سے اپنی ماں کی طرح ہی گڑگڑا کر فریاد کرنے لگی۔۔لیکن یہ شاید اُن ماں بیٹیوں کی بدقسمتی ہی تھی جو وہاں اُن کی صدائیں سننے والا کوئی بھی انسان موجود نہیں تھا۔
وہ آنسوؤں اور زخموں سے چُور تیزی سے اُٹھ کر اُن نقاب پوش آدمیوں کے پیچھے اپنی بیٹی کو چُھرانے کی نیت سے لڑکھڑاتی ہوئی بھاگی۔۔۔تو ہنوز وہیں کھڑے اس نفوس نے۔۔سرعت سے آگے بڑھ کر اُسے بازو سے دبوچتے ہوئے بیچ میں ہی روک لیا۔
”چھوڑو مجھے ذلیل انسان۔۔۔نہیں تو وہ میری بچی کو لے جائیں گے۔۔۔“ وہ تکلیف سے بمشکل بولتی ہوئی اُسکی آہنی گرفت سے مسلسل اپنا بازو چھڑوانے کی نحیف سی تگ و دو کررہی تھی۔۔جب اُسنے زور سے اسے اپنی اوڑھ جھٹکا دیا۔سرخ آنکھوں میں بجھتی بدلے کی آگ اب سرد پڑنے لگی تھی۔
گھنی مونچھوں تلے سیاہ لب ہنوزمسکرا رہے تھے جسے دیکھ کر اُس بکھر چکی عورت کو شدید قسم کی کراہیت محسوس ہوئی۔
”یہ جو بھی میں نے ابھی کیا وہ کوئی ظلم نہیں تھا۔۔۔بلکہ یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے۔۔۔جیسا بوؤ گے ویسا کاٹو گے۔۔۔۔اب یہ خود انسان پر منحصر ہے کہ وہ بدلے میں کیا پانا چاہتا ہے۔۔۔“ لہجے میں نفرت و حقارت سموئے وہ اُس پر بہت کچھ جتاگیا تھا۔
اگلے ہی پل اُسکا نڈھال ہوتا وجود قدرے بےرحمی سے پڑے دھکیلتا۔۔وہ فتح یاب سا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ اِس بات کی پرواہ کیے بنا کہ زمین پر ڈھیر ہوچکے۔۔۔ پل پل ساکت پڑتے اس وجود میں سانسیں باقی بھی تھیں کہ نہیں۔۔۔۔؟؟؟
💞💞💞💞💞💞
وہ آئینے کے سامنے کھڑی خود کا گہری نظروں سے بغور معائنہ کررہی تھی۔ سانولی سی رنگت،مناسب قدوقامت،گہرے جامنی رنگ کے سوٹ میں واضح ہوتا دبلا پتلا سا وجود۔۔۔ کمر تک آتی سیاہ گھنے بالوں کی چوٹی،مہارت سے تراشی ہوئی بھنوؤں تلے گہری کالی آنکھیں۔۔۔ پلکوں کے نام پر دکھائی دیتے گنتی کے محض چند بال، تیکھی ناک پر ٹکا بڑے بڑے شیشوں والا چشمہ،بھرے بھرے ہلکے سیاہی مائل لب، مزید پچکے گال اور دائیں گال کے بیچ و بیچ چمکتا ہوا موٹا سا کالا تِل۔۔۔ لیکن وہ اتنی حسین و جمیل تو ہرگز نہیں تھی جو قدرت نے اُسکی نظر اتارنے کے لیے یہ اتنا بڑا تل اُسے عطا کردیا تھا۔ کچھ بد دلی سے اپنی سانولی صورت تکتے ہوئے بےساختہ اُسکے دل میں شکوہ سا ابھرا۔
”تمھارا یہ خوبصورت تِل تمھارے سلونے چہرے پر بہت جچتا ہے۔۔۔اتنا کہ میں چاہ کر بھی اس پر سے اپنی توجہ نہیں ہٹاپاتا۔۔۔“ معاً سماعتوں شدت سے گھلتی بھاری۔۔آواز اُسے اپنے بہت قریب سے سنائی دی تھی۔
اپنے تل کو چھوتی وہ بےساختہ ہوکر مسکرائی،جب اگلے ہی پل اُسکی ٹھٹکتی نگاہیں آئینے میں صاف نظر آتے سفید دانتوں پر جا ٹھہریں۔۔۔بدقسمتی سے وہ قدرے ٹیڑھے تھے۔۔جبھی اسکی سیاہ آنکھوں کی چمک ماند پڑی۔ ”تمھیں معلوم ہے۔۔؟؟جب تم کھل کرمسکراتی ہو تو مجھے کس قدر حسین لگتی ہو۔۔۔یونہی مسکراتی رہا کرو۔۔۔لیکن صرف میرے لیے۔۔۔“ ایک بار پھر سے وہی دلکش آواز آس پاس بکھرتی اُسکا دل شدتوں سے دھڑکا گئی۔ نتیجتاً سیاہی مائل۔۔شفاف ہونٹوں پر دم توڑتی مسکان پھر سے زندہ ہوئی تھی۔
”مجھے یقین ہے کہ تم حجاب کی بانسبت کھلے بالوں میں ذیادہ دلکش لگتی ہوگی۔۔۔“ اپنی بالوں کی چوٹی کو پکڑ کر کندھے سے آگے کرتے ہوئے اسے بےاختیار اس کا حسرت زدہ لہجہ یاد آیا۔
”تمھارا یہ ظالم چشمہ۔۔۔اففف۔۔۔اِن حسین آنکھوں کا حسن ہمیشہ چرالیتا ہے۔۔۔۔پلیز اسے میرے سامنے لگاکرمت آیا کرو۔۔۔“ اب کی بار آواز میں خفگی سی تھی۔۔اور انداز قدرے دھونس بھرا۔
اسے ہنسی آئی۔
کنپٹی سے لال دستہ پکڑکر چشمہ اتارتے ہوئے۔۔اسنے اپنی بڑی بڑی گہری سیاہ آنکھوں کو جھپکایا تھا۔
”اگر تم خود کو میری نظر سے دیکھو تو اپنے آپ کو اِس دنیا کی سب سے حسین ترین لڑکی تصور کرو۔۔۔۔“ اُس شخص کا دلفریب لہجہ۔۔۔اُسکی بکھرتی دھڑکنوں کو مزید بکھیرگیا۔۔تو کھل کر مسکراتی ہوئی وہ خود سے ہی شرماگئی۔
”میں اتنی خوش قسمت کب سے ہوگئی جو مجھے اس قدر چاہنے والا شخص مل گیا۔۔۔؟؟؟“ خود کی جھلک ہنوز آئینے میں تکتے ہوئے جہاں وہ اپنی قسمت پر شدت سے نازاں ہوئی۔۔۔وہی اس سوال کے زیرِاثر بےیقینی کا عنصر بھی شامل تھا۔ لیکن پھر کچھ ہی لمحوں میں وہ ذرہ بھر بےیقینی بھی اُسکے وجود میں آباد خوشیوں کے جہاں تلے دب کر رہ گئی۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
وہ قدرے خاموشی سے کمرے میں داخل ہوا تو۔۔۔توقع کے عین مطابق وہ گھٹنوں میں سر دئیے رونے میں مصروف تھی۔ ”تیار کیوں نہیں ہوئی ابھی تک۔۔۔؟؟؟“ وہ سخت تیور لیے قدم قدم چلتا اُس تک پہنچا،اور اُسکے بکھرے سراپے کو نظروں میں بھرتے ہوئے۔۔۔سر پر کھڑا بازپرس کرنے لگا۔ نتیجتاً اپنے قریب سے آتی مانوس۔۔سخت آواز پر وہ پل بھر کو چونکی ضرور تھی۔۔۔مگر ہنوز اُسی پوزیشن میں ڈھیٹ بنی بیٹھی رہی۔
”میں تم سے مخاطب ہوں۔۔۔۔“ اُسکی خاموشی پر چبا چبا کر بولتے ہوئے اُسنے اپنی موجودگی کا صاف احساس دلانا چاہا۔
”جہاں ماتم کی صفیں بچھی ہوں وہاں کس خوشی کی تمناء کررہے ہیں آپ صاحب۔۔۔۔؟؟؟“ جواباً گھٹنوں سے ہلکا سا سر اٹھاکر سامنے پڑے نکاح کے سرخ جوڑے کو تنفر سے دیکھتی ہوئی وہ طنزیہ انداز میں غرائی۔۔۔تو وہ لب بھینچ کر رہ گیا۔
اُسکی طرف دیکھا ابھی بھی نہیں تھا۔۔۔جیسے ڈر ہو کہ اگر دیکھے گی تو سارا ضبط کھو بیٹھے گی۔
”فضول کی بکواس نہیں کرو میرے ساتھ۔۔۔چلو شاباش اٹھو اور دس منٹ کے اندر اندر ریڈی ہوکر کمرے سے باہر نکلو۔۔۔اتنا فالتو وقت نہیں ہے ابھی میرے پاس جو تمھارے بےجا نخرے اٹھاتا پھروں۔۔۔۔ہری اپ۔۔۔“ اُسکے لب و لہجے اور گریز کو بمشکل نظرانداز کرتا ہوا وہ قدرے بےزاری سے گویا ہوا۔
سر تا پیر آگ ہی تو لگا دی تھی مقابل کی باتوں نے اُسے۔۔۔ دوسرے ہی پل دونوں کی نظروں کا زبردست تصادم ہوا۔۔۔تو ناچاہتے ہوئے بھی وہ اُسکی بھیگی مگر بےخوف آنکھوں میں دیکھتا ہوا اپنے دل کی ایک بیٹ مس کرگیا۔
”مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے آپ سے اپنے نخرے اٹھوانے کا۔۔۔آپ بھی کسی خوش فہمی میں مبتلا مت رہیے گا۔۔۔نہیں ہونا مجھے تیار۔۔۔اور نہ ہی آپ سے کوئی رشتہ جوڑنا ہے۔۔۔دفع ہوجائیں میری نظروں کے سامنے سے۔۔۔“ سلگ کر چیختے ہوئے وہ اپنے سامنے رکھے سرخ جوڑے پر جھپٹی۔۔۔پھر ایک ہی وار میں اُسے بے دردی سے دور اچھال گئی۔
اُسکی ڈھٹائی اور کھلی بدتمیزی کا نظارہ کرتے ہوئے۔۔۔مقابل کی چمکتی پیشانی پر صاف رگیں ابھر آئی تھیں۔ اگلے ہی پل اُسکی مومی کلائی کو سختی سے دبوچتا وہ جھٹکے سے اُسے اپنے مقابل لڑکھڑا کر کھڑا ہونے پر مجبور کرگیا۔۔۔ تو اس اچانک افتاد پر اپنی چیخ روکنے کی کوشش کرتی وہ لبوں کو سختی سے دانتوں تلے دبا گئی۔
شدتوں سے دھڑکتا دل ایکدم ہی خوف تلے پھڑپھڑایا تھا۔ اس دوران سیاہ آنکھوں میں ہلکورے لیتی سرخی مقابل کے شدید غصے کا صاف پتا دے رہی تھی۔
”اگر نہیں چاہتی کہ تمھاری ماں صدمے سے کل کی مرتی آج ہی مر جائے۔۔۔تو چپ چاپ وہی کرو جو تم سے کرنے کو بولا جارہا ہے۔۔۔ اور سب سے مین بات۔۔۔آئندہ پھر کبھی میرے سامنے ایسی بدتمیزی کا مظاہرہ کیا تو مجھ سے کسی بھی نرمی کی امید مت رکھنا۔۔۔۔گیٹ اٹ۔۔۔“ اُسکی پھٹی پھٹی نم آنکھوں میں شدت سے دیکھتا وہ ناپسندیدگی کی کاٹ لیے پھنکارا تھا۔۔۔ پھر اپنی بات مکمل کرتے ہی اسے واپس بیڈ پر پٹختا ہوا تیزی سے کمرے سے نکلتا چلا گیا۔ پیچھے وہ گرنے کے سے انداز میں لیٹتی ضبط کا دامن چُھوٹتے ہی۔۔۔اپنی بےبسی پر شدت سے رو دی۔
💞💞💞💞💞💞
سیاہ آسمان پر ٹمٹماتے ستاروں کا پھیلا ہوا وسیع جال اور پرسکون سی ٹھنڈی روشنی بکھیرتا چاند۔۔۔اس پل قدرت کا حسین ترین منظر پیش کررہا تھا۔اسی حسین چاندنی رات تلے۔۔ کوٹھے کا بڑا سا ہال نہایت خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا تھا۔۔جہاں خوبصورت دوشیزاؤں کا دل بہکا دینے والا رقص اس پل اپنے جوبن پر تھا۔
بجتے طبلوں اور چھنچھناتے گھنگھروں کے دل بھاتے شور میں۔۔۔اردگرد بیٹھے موصوف اس دلچسپ نظارے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مزے سے جام نوش کررہے تھے۔۔۔ لیکن قدرے پیچھے ہوکر بیٹھا بس ایک وہی تھا جس نے ساتھ آئے اپنے دوستوں کے برعکس۔۔۔ کسی بھی قسم کا مشروب لینے سے انکار کردیا تھا۔
”یار کب آئے گی وہ ملکہِ حسن۔۔۔۔؟؟؟اب ہم سے مزید انتظار نہیں ہوتا۔۔۔۔“ وہاں پر بیٹھے پینٹ کوٹ میں ملبوس پچاس سالہ مرد کے چہرے پر بیزاری سے کہیں ذیادہ بے چینی کے تاثرات واضح ہورہے تھے۔ اُسکی حالت سمجھتے ہوئے وہاں پر بیٹھے بہت سوں کے چہروں پر حظ اٹھاتی مسکراہٹ بکھرتی چلی گئی۔
یہ دیکھ کر نجانے کیوں اُسے بھی اس پل شدت سے خواہش ہوئی تھی اُس لڑکی کو دیکھنے کی۔۔۔ جس کے حسن کے چرچے اس رنگین محفل میں زبانِ زد خاص و عام ہورہے تھے۔۔۔ تو کیا بھلا وہ اُسکی حسین و جمیل شریکِ حیات سے بھی ذیادہ خوبصورت ہوسکتی تھی۔۔۔؟؟جسے آج ہی پورے حق سے اپنے نام کرکے وہ چند نامی دوستوں کی ضد پر زندگی میں پہلی بار یہاں آیا تھا۔۔۔
جس کا وہ حقیقتاً پوری طرح دیوانہ ہوچکا تھا۔۔۔؟؟؟ اس سوچ پر اس کے دل میں بےاختیار ہلکی سی بغاوت نے سراٹھایا۔۔۔تو اگلے ہی پل موسیقی کے اختتام پر ایکدم سے اطراف میں نیم اندھیرا پھیلتا چلا گیا۔
معاً اس بکھری خاموشی میں گونجتی۔۔۔گھنگرو کی مخصوص چھنکار نے جہاں سب کو اپنے کان کھڑے کردینے پر مجبور کیا تھا۔۔۔وہیں اس کا دل بھی قدرے تیزی سے دھڑک اٹھا۔
اگلے ہی پل چہار سو مختلف رنگوں کی روشنیوں کا طوفان برپا ہوا تھا۔ وہ چہرے پر بھاری کامدار۔۔۔سرخ رنگ گھونگھٹ اوڑھے۔۔۔اپنے ہوشربا حسن سمیت سب کے سامنے اپنے دلنشین انداز میں جلوہ ِ افروز ہوئی تھی۔ عیاش پرست مرد حضرات کی تالیوں اور سیٹیوں کے اختتام پر نئے گانے کے دلنشین سُر شروع ہوئے۔۔۔تو وہ قدرے مہارت سے۔۔۔اپنی لچکتی کمر کے ساتھ سارے وجود کو دلنشین انداز میں۔۔۔دھیرے سےحرکت دینے لگی۔
”ملکہِ حسن کی ہر ادا ہی دلفریب ہے۔۔۔۔ کمال ہے۔۔۔۔ لاجواب ہے۔۔۔۔“ پہلے سے ہی کھڑے ایک آدمی نے مزید آگے بڑھ کر اُس پر بڑے بڑے نوٹوں کی بارش برسائی۔ جواباً اس کے رقص میں تیز ی در آئی۔۔۔یہ سب حقیقتاً قابلِ تعریف تھا۔ اس شخص کی بےچین۔۔ٹٹولتی نگاہیں اسی کے کامدار گھونگھٹ پر ٹکی تھیں۔
اگرچہ ٹھوڑی تک اس کا مکھڑا ہنوز پوشیدہ تھا۔۔۔پر شدت سے عیاں ہوتا بدن بہت سوں کی نگاہوں کی تسکین بنے۔۔۔انھیں مزید بہکنے پر مجبور کرگیا۔ اُسکا مکمل نوخیزحسن دیکھنے کو حددرجہ بےتاب ہوتا وہ ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچ گیا تھا۔۔۔جب اگلے ہی پل معاون لڑکیوں کے بیچ گول گول گھومتی ہوئی وہ ایکدم ہی گھٹنوں کے بل زمین پر جھکی۔۔۔پھر واپس سیدھی ہوتی۔۔۔ایک ہی جھٹکے میں کامدار گھونگھٹ کو اپنے حسین چہرے سے اٹھاتی پرے دھکیل گئی۔
صبر کی گھڑیاں ختم ہوچکی تھیں۔۔۔۔ اُسکے دیدار پر جہاں سارے تماشائیوں کی آوارہ سیٹیاں ایک بار پھر سے سپردِ فضا ہوتے ہوئے۔۔۔دل کی دھڑکنیں بےہنگم ہوئی تھیں۔۔۔ وہیں بنا پلکیں جھپکائے بغور اسے تکتے ہوئے اس کا زوروں سے دھڑکتا دل بےساختہ بند ہوا۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
کون ہے بھئی جسکی کال تمھیں بار بار کٹ کرنی پڑ رہی ہے۔۔۔؟؟؟“ وہ تینوں فارم ہاؤس میں ٹیبل کے گرد رکھی کرسیوں پر براجمان تھے۔۔ جب افروز موبائل اسکرین دیکھنے کی کوشش کرتا شام سے مخاطب ہوا۔
”ہوگی کوئی حسینہ۔۔۔کیونکہ جناب کی لسٹ میں تو مرد حضرات کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔۔۔۔“ فواد نے اُسے دیکھ کر لطیف سا طنز کیا جس پر وہ سرجھٹکتا ہوا مسکرادیا۔
”چل بتا بھی دے اب۔۔۔؟؟ہم سے کیا چھپانا برو۔۔۔“ شوخی سے آنکھ دبا کر پوچھتا وہ ہنوز متجسس تھا۔ افروز کو لڑکیوں کے نام پر چُپی کسی بھی طور ہضم نہیں ہوتی تھی۔۔۔ اُسکی اس چھچھوڑی عادت سے وہ دونوں تو کیا۔۔۔تقریباً سبھی واقف تھے۔
”ابے یار۔۔۔شمسہ ہے۔۔۔ٹاپ کلاس کی ڈھیٹ۔۔۔اتنی بار اُسکی کال کاٹ چکا ہوں لیکن بجائے سمجھنے کے۔۔کہ اگلا بندہ بات کرنے میں بالکل بھی انٹرسٹڈ نہیں ہے۔۔ ڈھیٹوں کی طرح کال پہ کال کیے جارہی ہے بس۔۔۔پاگل۔۔۔“ شام پھر سے آتی ہوئی کال کاٹتا قدرے بےزاری سے گویا ہوا۔پھر موبائل فون پاور آف کردیا تو دونوں اسکے تیور دیکھ کر رہ گئے۔
”ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئےتجھے شمسہ سے فرینڈشپ کیے اور اتنی جلدی بور بھی ہوگیا تُو اس سے۔۔۔۔حد ہے یار۔۔۔“ فواد تاسف سے اُسکا چہرہ دیکھ کر کہنے لگا۔
”شکر کرو کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن نکال لیے اُسکے ساتھ۔۔۔ورنہ سچ بتاؤں تو دو دن میں ہی بور ہوچکا تھا میں اُس سے۔۔۔چپکو ہے پوری یاررر۔۔۔۔“ سگریٹ لبوں کے بیچ دباکر سلگاتا وہ قدرے لاپرواہی سے بولا۔۔
”اگر میں تیری جگہ ہوتا تو کم از کم ایک ماہ تک کام چلاہی لیتا۔۔۔پر شمسہ میڈم ہمیں لفٹ کروائیں تب ناں۔۔۔“ افروز کو دکھ ہوا تھا اس بےباک لڑکی کی بےقدری پر، لیکن اس سے کہیں ذیادہ خود کے ٹھکرائے جانے کا افسوس تھا۔
کچھ دن پہلے ہی تو اس نے شمسہ کو فرینڈ شپ کی آفر کی تھی۔۔لیکن اس نے بنا لگی پٹی رکھے سیدھے سیدھے انکار اُسکے منہ پر دے مارا تھا۔۔۔افففف۔۔۔۔۔
”ٹرائی کرلے۔۔۔شاید اب کی بار مان جائے۔۔۔۔“ شام شریر سا بائیں آنکھ دباتا بولا۔ انداز خاصا لطف لینے والا تھا۔۔جسکو نظرانداز کرتا افروز بےاختیار گہری سوچ میں پڑگیا۔ فواد نے مسکراتے ہوئے تاسف سے سر جھٹکا۔
”میں حیران ہوں کہ اتنی لڑکیاں تجھ جیسے فلرٹی ٹائپ بندے پر کیسے مرمٹتی ہیں یار۔۔۔؟؟؟“ سگریٹ کا پیک بےوجہ ہی ہاتھوں میں گھوماتا فواد۔۔۔جلتے انداز میں پوچھ رہا تھا۔
مانا کہ وہ کافی ہینڈسم تھا۔۔۔ رئیس تھا۔۔۔قدرے اچھی ہائیٹ پر چہرے کے دلکش نقوش اُسکی شخصیت کو منفرد بناتے تھے۔ اور تو اور ہر طرح کی ڈریسنگ اُس پر جچتی تھی۔
سب سے بڑھ کر وہ اپنی ذات کو لےکر حددرجہ مغرور تھا جو کہ شاید اُسکا خاندانی خاصہ تھا۔۔
تو کیا۔۔۔۔؟؟؟
وہ کوئی کوہ قاف کا شہزادہ تھوڑی تھا جو لڑکیاں بآسانی اسے اپنے خوابوں میں جگہ دے دیا کرتی تھیں۔جواباً شام کمینگی سے ہنس دیا۔
”بس دیکھ لے۔۔۔کبھی غرور ہی نہیں کیا تیرے بھائی نے۔۔۔“ کہتے ہوئے اس نے بےاختیار گہرا کش بھرتے۔۔اگلے ہی پل دھواں تاریک فضاء میں چھوڑا۔
”وہ تو دِکھ ہی رہا ہے۔۔۔لیکن اصل مزہ تو تب ہے جناب۔۔اگر آپ اُس مولانی کو پھنسا کردیکھائیں۔۔۔“ دبے لہجے میں کہتے۔۔۔افروز کا انداز خاصا چیلنجنگ تھا۔
اس کی بات سمجھتے۔۔شام کی مسکراہٹ پل میں سمٹی۔
”کون۔۔۔؟؟؟وہ جونئیر۔۔۔حرمین زہرا۔۔۔؟؟؟“ جواد نے چونک کراُسکا پورا نام لیا تھا۔
”ہاں وہی۔۔۔پوری یونی میں ریکارڈ ہے اس حجابن کا۔۔۔آج تک کسی سے بھی نہیں پٹائی گئی وہ۔۔۔۔“ لفظ ”پٹانے“ پر زور دیتے ہوئے افروز نے شام کی جانب دیکھ کر کمینگی سے آنکھ دبائی۔
اب چھیڑخانیوں کی باری اُسکی تھی۔
”چھوڑ یار اس کو۔۔۔۔انفیکٹ اسے پٹانا بھی کون چاہے گا۔۔۔؟؟؟میں تو اسکے قریب جاتے ہی خاصا بور ہوجاؤں گا۔۔۔تم لوگ اچھے سے جانتے ہو کہ اس ٹائپ کی لڑکیوں سے سخت قسم کی الرجی ہے مجھے۔۔۔پھر بھی۔۔۔۔۔ “ بتاتے ہوئے اس کے لہجے میں بلا کی حقارت در آئی۔ بھوری نگاہوں میں اس پل گھومتا سراپا اُسکا دل ہی تو کھٹا کرگیا تھا۔
اس کی بات پر بےاختیار بھنویں اچکاتے ہوئے فواد نے پل بھر کو افروز کی جانب دیکھا۔
”سیدھی طرح بول کہ اس بار ہار مان رہا ہے تُو۔۔۔۔باقی سب تو تیرے کھوکھلے بہانے ہیں بس۔۔۔“ افروز اُسکی دکھتی رگ پر پیر رکھنا جانتا تھا۔۔۔جبھی تمسخر اڑاتے انداز میں گویا ہوا۔۔۔تو شام نے اسے تندہی سے گھورا۔ لفظ ”ہار۔۔۔“ اسے خود کی ذات کے لیے زہرترین ہی تو لگتا تھا۔ وہ اور فواد اکثر اُسے اسی طرح کے بےباک چیلنجز میں الجھادیا کرتے تھے۔۔اور پھر جوانی کے اس دل بھاتے کھیل میں۔۔وہ تینوں کچلے جانے والے جذبات کی پرواہ کیے بنا۔۔۔ مل کر من مستیاں کیا کرتے تھے۔
”ہار اور میں۔۔۔۔؟؟ہونہہ۔۔۔ناممکنات میں سے ایک ہے یہ۔۔۔۔اور باقی رہی بات اُس مولانی کی تو ٹھیک ہے۔۔۔میں تمھارا یہ چیلنج بھی پورے دل سے قبول کرتا ہوں۔۔۔اور ایٹ دی اینڈ۔۔۔جیت ہمیشہ کی طرح میری مٹھی میں قید ہوگی۔۔۔۔“ کچھ بگڑتے ہوئے وہ پل میں افروز کا چیلنج ایکسپٹ کرگیا تھا۔لہجے میں غرور کی جھلک تو تھی ہی۔۔ساتھ میں بلا کا اعتماد بھی شامل تھا جبکہ۔۔۔ وہ دونوں تیر سیدھا نشانے پر لگتا دیکھ کمینگی سے مسکرا پڑے۔ بلاشبہ جذبات سے کھیلا جانے والا یہ دلچسپ کھیل اس بار حد سے ذیادہ لطف دینے والا تھا۔۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
وہ مکمل ریڈی ہوکر اپنے روم سے باہر نکلا تھا۔چند ہی سیکنڈز میں ساری سیڑھیاں سرعت سے اترتے ہوئے اُسکا پشت سے لٹکتا بیگ بھی اچھل اچھل جارہا تھا۔ دوسرے ہاتھ سے اپنا قیمتی موبائل فون جینز کی جیب میں پھنساتے ہوئے۔۔اگلے ہی پل اُسنے جھٹکادے کر بیگ کو بیسٹ پوزیشن دی تھی۔ ”شام۔۔۔بیٹا رکو تو ذرا۔۔۔۔“ آئمہ بیگم جو پاس کھڑی ملازمہ کو آج کی دعوت پر جانے کے لیے اپنے کپڑے استری کرنے کا بول رہی تھیں۔۔اپنے لاڈلے بیٹے پر نظر پڑتے ہی ملازمہ کو وہاں سے بھیجتی اسکی جانب لپکیں۔
”جی موم۔۔۔۔؟؟؟“ اپنے نام کی پکار پر وہ اُنکی جانب پلٹا۔۔۔تو وہ قریب آتی رک گئیں۔ ”تم رات کو پھر گھر لیٹ آئے تھے ناں۔۔۔؟؟؟“ تفتیشی انداز میں پوچھتی ہوئی وہ خاصی پُریقین تھیں۔۔۔ جواباً بھوری آنکھیں گھماتا وہ نرمی سے ان کے کندھے تھام گیا۔
”کم آن موم۔۔۔فرینڈز کے ساتھ لیٹ نائٹ پارٹی انجوائے کررہا تھا یار۔۔۔ایسے میں دیرسویر تو ہوہی جاتی ہے۔۔۔اور ویسے بھی میں کوئی بچہ نہیں ہوں جو رات جلدی گھر آنے کے بےکار سے رولز فالوکروں گا۔۔۔ہمم۔۔۔“ وہ قدرے بےزار سا بولتا چلا گیا۔۔تو سینے پر بازو لپیٹتی وہ تاسف سے گہرا سانس بھر کر رہ گئیں۔
”لیکن عائل کے لیے تو تم ہمیشہ بچے ہی رہوگے ناں۔۔۔جانتے ہو تمھاری ان حرکتوں سے کتنا پریشان ہوتا ہےوہ۔۔۔؟؟؟لیکن تم ہوکہ باز ہی نہیں آتے۔۔۔۔اور تمھارے ڈیڈ۔۔۔؟؟اُنکی تو تم بات ہی چھوڑدو۔۔۔ “ عائمہ بیگم نے اسے فکر دلانے کی مزید۔۔ناکام سی کوشش کی تھی۔
ایک تو اُسکا یہ بڑا پرابلم ہوتا تھا وہ جہاں کہیں بھی اپنے دوستوں کے سنگ جاتا۔۔تو اپنا فون پاورآف کردیتا تھا۔ جبکہ۔۔۔ عائل کا نام سن کر شام کے بےزار تاثرات فوراً سے بھی پہلے نرم مسکراہٹ میں ڈھلے۔
اس دوران اپنے ڈیڈ کے ذکر پر اُسنے توجہ دینا کچھ خاص ضروری نہیں سمجھا تھا۔ ہاں۔۔وہ اپنے بڑے بھائی سے شروع سے ہی حددرجہ اٹیچ تھا۔
اتنا کہ اپنے باپ کو چاہ کر بھی وہ ایسا مقام نہیں دے پایا تھا۔شاید حسن صاحب کا حد سے ذیادہ سخت لہجہ اُسے متنفر کرچکا تھا۔
”فکر نہیں کریں بھائی کو میرا پتا ہے۔۔۔وہ چاہ کر بھی اس آزاد پنچھی کو ہتھکڑیاں لگا کر اپنی قید میں نہیں کرسکتے۔۔۔“ عائل کی کارکردگی کو مدِنظررکھتا ہوا وہ آنکھ دباکر مزے سے بولا۔لہجے میں مان سے ذیادہ دعویٰ تھا۔
”تم کبھی نہیں سدھروگے ناں۔۔۔؟؟“ بےاختیار عائمہ بیگم نے کچھ برہمی سے اپنے بگڑے ہوئے لاڈلے کو دیکھ کر۔۔ ہمیشہ والا جملہ دُہرایا۔۔تو وہ دھیرے سے ہنس دیا۔
”کبھی نہیں۔۔۔“ بدلے میں وہ اُنکی بات کی تصدیق کرتا ہوا ڈھٹائی سے کندھے اچکا گیا۔۔۔جب اچانک جینز کی جیب میں پھنسا۔۔اُسکا موبائل فون شدت سے رنگ ہوا۔ ”اچھا اب میں یونی کے لیے مزید لیٹ نہیں ہونا چاہتا۔۔۔اُممما۔۔۔۔۔“ شاید وہ جانتا تھا کہ اُسکے دوستوں کی کال تھی۔۔۔ جبھی بنا ریسیو کیے وہ عائمہ بیگم کو گال پر بوسہ دیتے ہوئے اگلے ہی پل پلٹ کر پھرتی سے باہر کی جانب لپکا۔
”ارے۔۔۔ناشتہ تو۔۔۔۔؟؟“ اُسکو قدرے تیزی سے اپنی متفکر نگاہوں سے اوجھل ہوتا دیکھ عائمہ بیگم کی بات منہ میں ہی دبی رہ گئی۔ معاً قریب ہی صوفے پر پڑا ان کا موبائل فون بھی بجتا ہوا عائمہ بیگم کو چونک کر اپنی جانب متوجہ کرگیا۔ بے اختیار آگے بڑھتے ہوئے انھوں نے موبائل فون ہاتھ میں پکڑا۔۔تو آئل کی کال دیکھتے ہوئے ان کے لبوں پر پرسکون مسکراہٹ بکھرتی چلی گئی۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
