No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
حرمین کے تیسری بار شدت سے دروازہ پیٹنے پر ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا تو اُنکے عجلت میں کمرے کی دہلیز پھلانگتے ہی حاویہ سسکتی ہوئی نفیسہ بیگم کے حصار میں سمٹتی اُنھیں بری طرح بوکھلانے پر مجبور کرگئی۔
”مم۔۔ماما۔۔۔ماما۔۔۔مجھ۔۔۔ے۔۔۔“ اُنھیں پوری قوت سے خود میں جکڑتی وہ ہنوز بختی کے خوف میں تھی جبھی تو بے ربط لفظوں میں اپنی بات پوری کرنا محال ہورہا تھا۔
حرمین بھی سکتے کی سی کیفیت میں اُسکی یہ بکھری حالت دیکھتی بے چین ہوئی۔
”حا۔۔حاویہ چندا کیا ہوا ہے۔۔۔؟؟کیا ہوا ہے تمھیں۔۔؟؟کیوں ایسے رو روکر ہلکان ہورہی ہو۔۔۔۔ہیں بتاؤ مجھے۔۔۔؟؟“ معاملہ سمجھنے کی ناکام تگ و دو میں شدت سے اُسکی پشت تھپکتی وہ اُسے بولنے پر اکسارہی تھیں جب نگاہیں نادانستگی میں سٹریچر کے قریب دنگ کھڑے بختی پر جا ٹھہریں۔
”بختی بچے تم ہی بتاؤ۔۔۔کیا ڈر گئی ہے یہ کسی شے کو دیکھ کر۔۔۔؟؟ہاں۔۔؟؟کتوں اور اندھیرے سے بہت ڈرتی ہے ناں میری بچی۔۔۔۔“ اس غیرمتوقع افتاد پرسن ہوتے ذہن کے ساتھ وہ فی الوقت بختی کو شک میں لینے کی حالت میں ہرگز نہیں تھی سو اسی سے پوچھتی مزید الجھیں۔
”پت۔۔پتا نہیں خالہ۔۔۔“ جواباً ہتھیلی کو پسینے سے نم چہرے پر پھیر کر بےاختیار جھٹکتا وہ بمشکل ہی بول پایا۔
شدت سے اپنے رعب میں لاتا وہ حاویہ بولتی بند رکھنے کی کھلی دھمکیاں تو پہلے ہی دے گیا تھا۔۔مگر جانے کیوں اُسکے بےچین دل میں اطمینان کی جگہ عجیب سے خدشے ہچکولے لینے لگے تھے۔۔۔جیسے آج کہیں وہ اپنوں کا سہارا پاکر اُسکے خلاف اندر دبا ڈھیر سارا زہر باہر اُگل کر اُسکی ذات کی دھچیاں نہ بکھیرکر رکھ دے۔۔۔
مگر اگلے ہی پل وہ ایسے وحشت بھرے وہموں سے چھٹکارا پانے کو زور سے اپنا سر جھٹکتا پھر سے اُنکی جانب متوجہ ہوا۔
”حاویہ بچے بس کرجاؤ رونا۔۔۔میرا دل بیٹھا جارہا ہے۔۔۔ادھر میری طرف دیکھ کر بتاؤ کیا بات ہے۔۔۔؟؟“ ضبط کھونے پر نفیسہ بیگم نے حاویہ کو زبردستی خود سے الگ کرتے جھنجھوڑا تو اسکا بھیگا چہرہ اپنی نم آنکھوں کے سامنے دیکھتی وہ ٹھٹھک سی گئیں۔
تمتماتی ہوئی نم سانولی رنگت پر چھپی انگلیوں کی نیلاہٹ واضح تھی۔
”ی۔۔یہ کیا ہے۔۔؟؟تمھارے گال پر یہ نشان کیسے ہیں حاویہ۔۔۔۔؟؟“ بے اختیار دل پر ہاتھ دھڑتی وہ تشویش زدہ سی بڑبڑائیں تو حاویہ نے متوحش سی ہوکر اپنے سوجھے گال پر چھپے انگلیوں کے نشان پر نرم پوروں کو دھنسایا۔
درد کی مدھم پڑتی لہر میں ہلچل سی مچ گئی تھی۔گزرے لمحوں کی وحشت کا سوچ کر بےساختہ آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر اُسکی گالوں پر پھسلے۔۔جبکہ اپنی ذیادتی پربختی کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا۔
معاً اُسکا رویا رویا سا چہرہ اپنی جانب گھوماتی۔۔حرمین بھی اُسکے نازک گال کا حشردیکھتی نئی اذیت میں گھری تھی۔
”آ۔۔۔آپ نے یہ نشان۔۔۔یہ نشان دیکھے۔۔۔؟؟یہ۔۔یہ سارا اس شخص کا کیا دھڑا ہے۔۔۔“ ضبط کی طنابیں ہاتھ سے چھوٹتے ہی وہ بختی کی جانب انگلی کرتی بپھری تھی۔
اُسکی دیدہ دلیری پر جہاں پل بھرکو بوکھلاتے بختی کے تیوری چڑھی تھی وہیں اسِ غیرمتوقع انکشاف پر حرمین سمیت نفیسہ بیگم کو بےیقین سا دھچکا لگا۔
”یہ تم کیا بات کررہی ہو حاویہ۔۔۔؟؟“ وہ حیرت تلے کچھ ڈپٹنے والے انداز میں گویا ہوئیں۔
”میں سچ بول رہی ہوں۔۔۔ا۔۔پیہ۔۔۔اپیہ۔۔۔آپ میرا یقین کریں۔۔۔یہ شخص۔۔انسان نہیں۔۔بھیڑیا ہے بھیڑیا۔۔جو صرف مجھے تباہ کرنا چاہتا ہے۔۔۔“ یکدم حرمین کے ہاتھوں کو دبوچ کر آپے سے باہر ہوتی آج وہ سب کچھ اگل دینے کے درپے تھی۔
اپنے خدشوں کو کڑوی ترین حقیقیت میں ڈھلتا دیکھ وہ چشمے کے پار حرمین کی وحشت گھلی غصیلی نگاہوں کا ارتکاز خود پر محسوس کرتا جیسے ہوش میں آیا۔
”یہ تم کیا بکواس کیے جارہی ہو۔۔۔؟؟ہوش میں تو ہو۔۔۔؟؟خالہ پتا نہیں کیا ہوگیا ہے اسے۔۔۔؟؟کچھ بھی بولے جارہی ہے یہ پاگل لڑکی۔۔۔“ وہی کھڑے کھڑے برداشت کھوتا وہ اپنی صفائی پر بے اختیار چلایا تو نفیسہ بیگم نے حاویہ کی اس قدر خراب حالت پر آنسو بہاتے اُسے اپنی جانب کھینچا۔اتنی بھیانک حقیقت کو پلوں میں تسلیم کرنا مشکل ہورہا تھا۔
”حاویہ۔۔۔میری بچی یہ تم کیسی بہکی بہکی باتیں کررہی ہو۔۔۔؟؟ہوش میں آؤ وہ بڑا بھائی ہے تمھارا۔۔۔یقیناً تمھیں کوئی بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہوگی یا پھر جاگتے میں برا خواب دیکھ لیا ہوگا۔۔۔کیوں تم اپنے بچپنے میں خود کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی ناقابلِ برداشت اذیت سے دوچار کرنے پر تلی ہو بیٹا۔۔۔۔۔“ جھٹکا دے کر اُسکی حماقت کا احساس دلاتے اُنکا بھیگتا لہجہ کپکپایا تھا۔دل نے شدت سے دعا کی تھی یہ سب جھوٹ ہو۔۔۔مگر اگلے ہی پل حاویہ کا شدت سے نفی میں ہلتا سر اُنکی دلی خواہش جیسے ریزہ ریزہ کرنے کو بےتاب ہوا۔
”کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی مجھے۔۔۔بھائی کبھی بری نظرنہیں ڈالتے اپنی بہنوں پر۔۔۔“ اُنکے لرزتے ہاتھ شدت سے جھٹکتی وہ چیخی۔
جہاں حرمین سمیت نفیسہ بیگم کا دل ڈوبا تھا وہیں بختی کا اشتعال تلے پھڑپھڑاتا دل بےاختیار اُس بپھری لڑکی کا گلا دبانے کو چاہا۔
اس دوران سٹریچر پر لیٹی ریشماں بیگم کی سماعتوں میں یکجا آوازوں کی عجیب سی ہلچل ہوئی تو چہرے پر پل بھرکو ابھرتی الجھن پھر سےسمٹتی چلی گئی۔
”اگر یہ بھائی ہوتا تو مجھے کبھی بھی ہراساں نہیں کرتا جو یہ ہمیشہ سے مجھےکرتا آیا ہے۔۔۔ میرا یقین کریں میں سچ بول رہی ہوں۔۔۔۔“ اُنکے اتنی آسانی سے نہ ماننے پر وہ ہذیانی کیفیت میں دبا سا چیختی ملتجی ہوئی جب آنکھوں میں سرخی لیے بختی دانت کچکچاتا ہوا تیزی سے اُسکی جانب لپکا۔
”اے بس بہت ہوا۔۔۔بند کرو یہ الزام تراشی کا ڈھونگ رچانا۔۔۔اتنا گھٹیا نہیں ہوں میں جتنا تم مجھے سب کی نظروں میں بنانے کی ناکارہ کوششیں کررہی ہو۔۔۔کوئی تمھاری باتوں کا یقین نہیں کرے گا بے سود ہے یہ سب۔۔سمجھی۔۔۔“ اُسے بازو سے جکڑتے ہوئے بے اختیار اپنی جانب جھٹکا دیتا وہ غرایا تو اُسکے سخت لمس سے خائف ہوتی وہ سسکی۔
یہ دیکھ کر نفیسہ بیگم کے جھنجھناتے دماغ میں بےاختیار درد کی شدید ٹیس اٹھی تھی جب بھیگی آنکھوں کو جھپکا کر بجلی کی سی تیزی سے آگے بڑھتی حرمین۔۔حاویہ کو اُسکے شکنجے سے زبردستی چھڑواتی اپنے حصار میں سمیٹ گئی۔حاویہ نے روتے ہوئے بےساختہ آنکھیں میچ لیں۔
”اگر یہ الزام تراشی کا ڈھونگ رچا رہی ہے تو پھر اسکے گال پر یہ انگلیوں کے نشان کیسے چھپے۔۔۔۔؟؟؟دروازے کا یوں اندر سے لاکڈ ہونا۔۔اور پھر بند کمرے میں آپکی موجودگی کیا ظاہر کرتی ہے۔۔۔؟؟جواب دیں۔۔۔یہ اسکا ڈر۔۔رو رو کر سوجھائی گئیں آنکھیں۔۔۔ سب سے بڑھ کر اسکی بولی گئی ایک ایک بات۔۔۔کچھ بھی تو قابلِ فراموش نہیں ہے۔۔۔۔“ حاویہ کے دفاع میں بختی کے سامنے پہلی بار درشت لہجہ اپناتی وہ اپنے سخت تیوروں سے اُسے حیران ہی تو کرگئی تھی۔مضبوط لہجے کے برعکس وجود میں سرسراتی کپکپاہٹ واضح تھی۔
”او بہن خدا کے واسطے میرا یقین کرو یہ سب صرف مجھے پھنسانے کے لیے کیا جارہا ہے اور کچھ نہیں۔۔۔میں صرف امی کی خاطر یہاں آیا تھا۔۔۔اور خالہ آپ تو کچھ۔۔۔۔“ ہاتھ جوڑ کر اس نئی افتاد سے جان چھڑوانے کو بگڑتا وہ نفیسہ بیگم کی جانب متوجہ ہوا۔۔مگر اُنکی بھیگی آنکھوں میں نفرت آمیز تاثر پرکھتا وہ چونکا۔
”خالہ۔۔۔آپ ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں میری طرف۔۔۔اففف۔۔۔کہیں آپ بھی اپنی بیٹیوں کے پاگل پن پر یقین کرکے مجھے قصوار تو نہیں سمجھ رہیں۔۔۔اگر ایسا ہے تو۔۔۔“ آگے کو لپک کر مضبوطی سے اُنکے تھامتا وہ اُنھیں اپنی جانب قائل کرنے کی بےفائدہ تگ و دو میں تھا جب نفیسہ بیگم نے قدرے غصے میں اُسکے ہاتھ جھٹک ڈالے۔
”میں نے تم پر آنکھیں بندکرکے اندھا اعتبار کیا۔۔تمھیں اپنی سگی اولاد سے بڑھ کر ایک خاص مقام۔۔ایک درجہ دیا۔۔اورتم۔۔تم کیا نکلے۔۔۔؟؟آسیتن کا سانپ۔۔جو پلٹ کر اپنوں کو ہی بےدردی سے ڈستا ہے۔۔۔“ اپنے تلخ لفظوں سے حقیقت کی مار مارتی وہ پلوں میں اُسے اسکی اوقات باور کرواگئیں جو کچھ بے یقین سا اُنہی کی جانب دیکھ رہا تھا۔
”خالہ۔۔۔خالہ۔۔۔کیا ہوگیا ہے آپکو۔۔۔؟؟کیوں آپ اپنی کم عقل بیٹیوں کے پیچھے لگ کر اس قدر بے اعتباری دکھا رہی ہیں اپنے بھانجے کو۔۔۔؟؟یہ میرے خلاف سوچ سمجھ کر پھیلائے گئے فساد سے ذیادہ کچھ بھی نہیں ہے یقین کریں میرا۔۔۔“ سنگین حالات کے پیشِ نظرملتجیانہ گویا ہوتا وہ تھوڑا نرم پڑا۔۔۔ماؤف پڑتے دماغ سے فی الحال کے لیے حاویہ کے معاشقے کی بات نکل چکی تھی۔۔
”تو پھر ثابت کرو۔۔۔ثابت کرو میری بیٹیوں کے خلاف اپنی بےگناہی اورتسلی بخش جوابات دے کر میری روح کے اندر تک اطمینان اتار دو کہ تم پر لگائے گئے سب الزامات بے بنیاد ہیں۔۔۔فریب ہے یہ سب۔۔۔تمھیں پھنسانے کو بس ایک جال ہے۔۔۔“ بولتے ہوئے اُنکا لہجہ بھاری ہوگیا۔مقابل کے ظلم سے کہیں ذیادہ انھیں اپنی بیٹی کی بابت خود کی بےخبری نے اذیت سے دوچار کیا تھا۔
جواباً مٹھیوں سمیت لب بھینچتے اُسنے ضبط بھری نگاہ پل بھرکو اطراف میں دوڑائی۔
”ماما یہ صرف باتیں گھمائے گا بس۔۔کوئی خاطرخواہ جواب نہیں دے گا۔۔کیونکہ اپنی کالی کرتوتوں کے بعدسے یہ اس قابل بچا ہی نہیں جو اپنی سچائی سے آپکی روح کو تسکین دے سکے۔۔۔“ اُسکے یوں نظریں چرانے پر حرمین نے گہری چوٹ کی تو بختی نے اُسکی کھلی بدتمیزی پر اُسکے ناک سے ذرا نیچے کو پھسلتے چشمے سمیت اُسے سخت چتونوں سے گھورا۔
”کیا بےکار کی باتیں کررہی ہو تم۔۔۔ہاں۔۔؟؟ کیا اکھاڑا ہے میں نے تمھارا جو تم یوں ہاتھ دھو کر مجھ معصوم انسان کے پیچھے پڑگئی ہو۔۔۔؟؟پوچھو ناں اپنی پاگل بہن سے۔۔اگر ایسا ہی تھا تو پھر کیوں یہ اتنے عرصے تک خاموش رہی۔۔۔میری کرتوتوں کے حوالے سے کسی کو کچھ بتایا کیوں نہیں اس نے۔۔؟؟؟“ اُسکے آگے سینہ تان کر کھڑا ہوتا وہ ہرلحاظ سے رعب جماتا اپنا دامن بچارہا تھا۔لہجہ ہنوز انگارے چباتا ہوا تھا۔
”کیونکہ تم نے مجھے روکا ہوا تھا۔۔۔تمھارے ڈر اور جانلیوا دھمکیوں نے مجھے چپ رہنے پر مجبور کیا تھا۔۔۔لیکن اب میں تمھاری ذیادتیاں مزید برداشت نہیں کروں گی ۔۔۔چیخ چیخ کر سچ بتاؤں گی سب کو۔۔۔۔“ حرمین سے الگ ہوکر کپکپاتے لہجے میں دوٹوک جواب دیتی وہ اُسے لاجواب کرگئی۔
اگلے ہی پل بختی کا توانا وجود سب کی نفرت بھری نگاہوں کی زد میں آیا تھا۔
”تم تو دماغ سے بالکل ہی فارغ ہو گئی ہو۔۔۔چلو میرے ساتھ۔۔۔خالہ والا ڈاکٹر ابھی اِدھر ہی ہے تمھارا پراپر علاج کروادیتا ہوں میں اُسکے پاس سے۔۔۔“ اپنی خجالت مٹانے کو زبردستی اُسے کلائی سے کھینچتا وہ دیدہ دانستہ گستاخی کرنے پر اتر آیا جب نفیسہ بیگم ضبط کھوتی اُسکے چوڑے سینے پر شدت سے دو ہتھڑ مارتی اُسے پیچھے دھکیل گئیں۔چند قدم لڑکھڑاتا وہ بروقت سنبھلا۔
”دور رہو میری بچی سے۔۔۔خبردار اب جو اُسے غلطی سے بھی چھونے کی کوشش کی تو۔۔۔ابھی میں زندہ ہوں اپنی بچیوں کی حفاظت کرنے کو۔۔۔مری نہیں جوتم انھیں لاوارث سمجھ کر اپنی منمانیاں کرتے پھررہے ہو۔۔۔“ سلگتے لہجے میں چیختی وہ بختی کو توہین کی انتہا پر پہنچاگئی تھیں۔
اس جذباتی پن پر پل بھرکو وہ سکتے میں آیا۔کب سوچا تھا کہ ہمیشہ شائستگی سے بات کرنے والی نفیسہ بیگم کا یوں جلالی روپ بھی اُسے برداشت کرنا پڑے گا۔
اگلے ہی پل اُسنے کاٹ دار نظروں سے حاویہ کے چہرے پر اترتے اطمینان کو دیکھا جو اُسے اپنی جانب تکتا پاکر حقارت سے نگاہیں پھیر گئی تھی۔
تبھی ادھ کھلے دروازے کو پورا دھکیل کر ایک نرس پراپر یونیفارم میں غصے سے دندناتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔
”یہ کیا شور مچارکھا ہے آپ لوگوں نے یہاں۔۔۔؟؟مت بھولیں کہ یہ ایک ہاسپیٹل ہے۔۔۔آپکا گھر نہیں۔۔۔پلیز ہمارا نہیں تو کم از کم اپنے اردگرد بیمار پڑے پیشینٹس کا ہی کچھ لحاظ خیال کرلیں۔۔۔“ اُن سب پر دبا دبا سا چیختی وہ سٹریچر پر چت لیٹی ریشماں بیگم کی جانب اشارہ کرتی تاسف سے سر ہلانے لگی جو دوائیوں کے زیرِ اثر ہنوز گہری نیند کی وادیوں میں جھول رہی تھیں۔
بختی نے نرس کی مداخلت پر غصے سے سر جھٹکتے ہوئے ایک نظر پلٹ کر اپنی ماں پر اچھالی۔
”ایم سو سوری سسٹر۔۔۔ہم بس جاہی رہے تھے یہاں سے۔۔۔“ اپنا چشمہ ٹھیک سے ناک پر ٹکاتی حرمین نرس کی جانب دیکھتی دھیمے لہجے میں بولی تو جواباً وہ نخوت سے سر جھٹکتی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
اگلے ہی پل نفیسہ بیگم چند قدم اٹھاتی بختی کے مقابل آئی تھیں۔
”میرے سوالوں کے جواب میں تمھارے اس جاہلانہ رویے نے مجھ پر ساری حقیقت کھول کر رکھ دی ہےبختی۔۔۔اسی لیے آج اور ابھی سے میں ہمارے بیچ کے ہر رشتے کو بذاتِ خود ختم کرتی ہوں۔۔۔آئندہ سے مجھے اور میری بچیوں کو اپنی یہ شکل کبھی مت دیکھانا۔۔۔پلے سے باندھ لو میری یہ بات۔۔۔چلو لڑکیوں۔۔۔“ نفیسہ بیگم سرمہری سے اُسکی لہو رنگ آنکھوں میں جھانکتی پل میں سارے رشتے پیروں تلے روندگئیں تو اُنھیں اپنے بیٹیوں کے سنگ وہاں سے پلٹتا دیکھ بختی کا فشار خون ابالے مارنے لگا۔
اُنکے نکلتے ہی کمرے میں وحشت بھرا سکوت چھایا تھا۔
”بہت پچھتاؤگی تم حاویہ فیضان۔۔۔یہ دوسری بار بے وفائی کری ہے تم نے میرے ساتھ۔۔۔دیکھ لوں گا میں تمھیں اور تمھاری ان محافظ چوکیدارنیوں کو بھی۔۔۔سالی۔۔سب کی نظروں میں دوکوڑی کی عزت بناگئی میری۔۔۔ہاہ۔۔۔دیکھ لوں گا۔۔۔ایک ایک کو۔۔۔دیکھ لوں گا۔۔۔“ اس قدر رسوائی پر بالوں میں ہاتھ پھنسائے شدت سے کڑھتا ہوا وہ اِدھر اُدھر ٹہلنے لگا۔ان پلوں میں انتقام کی آگ شدت پکڑتی اُسکے وجود میں مزید بےسکونی اتار گئی۔۔۔۔
سرد فضاء میں گہری تپش چھوڑتی سورج کی چمکتی کرنیں اِس وقت ریسٹورنٹ کے گلاس والز سے ٹکراتی اندر بیٹھے نفوس کو بھی گرم سا لطف بخش رہی تھیں۔ایسے میں وہ اس پرسکون حصے میں مسٹر ہاشم فاروق کے ساتھ ارینج کی گئی میٹنگ میں سنجیدہ سا مگن بظاہر مس انجمن کی خود پر بار بار پڑتی گہری نگاہوں سے لاپرواہ بنا بیٹھا تھا۔بلیک پینٹ کوٹ میں اُسکی مردانہ وجاہت قابل ستائش تھی۔
”بائے دا وئے۔۔کنگریجولیشن آن دی گریٹ سکسیس آف پریویس سبجیکٹ۔۔۔۔انفیکٹ اتنی امید نہیں تھی جتنی کامیابی دیکھنے کو ملی۔۔۔یو آر رئیلی آ گریٹ بزنس مین۔۔۔“ آگے پڑا لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے مسٹر ہاشم فاروق نے سابقہ پروجیکٹ کی فتح یابی پر مبارکباد دینا ضروری سمجھا تو خود کی تعریف وصولتا وہ دلکشی سے مسکرایا۔مس انجمن شاہ کے لبوں پر بکھرے مغرور تبسم کو بغور دیکھتی خود بھی شدت سے مسکرائیں۔
”تھینک یو سو مچ فار دیس نائس کمپلیمنٹ مسٹر ہاشم فاروق۔۔۔بقول آپکے یہ سچ میں ایک منافع بخش اور شاندار کامیابی تھی جو ہمیں ملی۔۔۔اور اسی کو خاص وجہ بناکر ہماری کمپنی کی طرف سے ایک بزنس پارٹی کا خصوصی ارینج کیا گیا ہے۔۔۔سو یو وِل ڈیفینیٹلی کم ٹو دِس پارٹی۔۔۔۔“ تب سے ہاتھ میں جکڑی بلیک سن گلاسز کو گہرا سانس بھرتے ہوئے ٹیبل پر مگ کے پہلو میں دھرتا وہ بخوشی مروت نبھاگیا تو اس نئی اطلاع پر پل بھر کو چونکتے ہوئے اُن دونوں نے سرسری سی نگاہ ایک دوسرے کی جانب اچھالی۔
”شیور۔۔۔وائے ناٹ۔۔۔ہمیں خوشی ہوگی اس بزنس پارٹی میں شرکت کرکے۔۔۔اینڈ آئی ہوپ اپنے نیکسٹ پروجیکٹ میں بھی آپ ہمیں پاٹنرشپ کرنے کا موقع فراہم کریں گے مسٹر شاہ۔۔۔ “ گود میں پڑے ریڈ فولڈر کو کناروں سے جکڑتی مس انجمن اُسے مزید شراکت داری کرنے کو اکساتی پُرجوش سی گویا ہوئیں۔
مسٹرہاشم فاروق نے بھی فائدہ تکتے اُسکی تقلید میں سر کو ہولے سے جنبش دی تو شاہ اُنھیں مطمئن کرنے کو بےساختہ مسکرایا۔بزنس کی دنیا میں حقیقتاً فائدہ تو اُسے تھا۔
”آفکورس۔۔۔ایسا کریں کہ میری طرف سے آپ مسٹرجنیدملک کو بھی ہاں کا آپشن پاس کردیجیے اور اُن سے کہیے گا کہ ہم بہت جلد میرے آفس میں ایک میٹنگ ارینج کریں گے انشاءاللہ۔۔۔۔“ پل بھرکو کان کی لو مسلتے ہوئے نرم لہجے میں آفر دیتا وہ مس انجمن سے مخاطب تھا۔۔جبکہ اِن بڑھتے تعلقات پر اُنکے کھلتے چہروں پر کھلتی مسکراہٹیں دوڑگئیں۔
”اوکے مسٹر شاہ۔۔آپ بے فکر رہیں میں بول دوں گی اُنھیں۔۔۔۔“ خوش اخلاقی سے گویا ہوتی وہ بےاختیار حامی بھرگئیں تو ٹیک چھوڑتے ہوئے شاہ کی بھوری نگاہیں بےاختیار کلائی پر بندھے سلور ڈائل پرپھسلیں۔
”اوکے دین۔۔۔میٹنگ ٹائم از اپ ناؤ۔۔۔۔آئی ہوپ جلد ملاقات ہوگی۔۔۔“ ٹیبل پر پڑا اپنا قیمتی موبائل فون اور سن گلاسز اٹھاتا وہ فوری اٹھ کھڑا ہوا تو اُسے وقت کا اس قدر پابند دیکھ کر وہ دونوں بھی بے دقت اپنی جگہ سے اُٹھے تھے۔
”ہمیں بھی انتظار رہے گا۔۔۔۔“ حسبِ توقع ہاتھ ملاتے مسٹر ہاشم فاروق گرمجوشی سے گویا ہوئے تو جواباً اثبات میں سر ہلاتے اُسکے لبوں کو بھی دھیمی سی مسکان نے چھوا۔
ایسے میں مس انجمن بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھیں سو قدرے آگے بڑھ کر ہاتھ ملاتی وہ مسکرائیں۔
”میرے پاس مزید کچھ یونیک آئیڈیاز ہیں۔۔۔اگر چاہیں تو ہم اس حوالے سے کال پر بات کرلیں گے۔۔۔“ اُسکی جانب جھکتی بظاہر کام کی آڑ میں وہ اُسے اپنی جانب پیش قدمی کی سادہ سی دعوت دے رہی تھی۔
”اوکے۔۔۔۔“ بےزاری سے اُسکی کَسی گرفت سے ہاتھ چھڑواتے ہوئے بلیک گلاسز آنکھوں پر چڑھاتا وہ اثبات میں سرہلاگیا تو مس انجمن کی آنکھوں کی چمک مزید بڑھ گئی۔
لمحے بھر کی مسکراہٹ خود کی جانب متوجہ ہاشم فاروق پر ایک بار پھر ڈالتا وہ پلٹا پھر تیزی سے وہاں سے نکلتا چلاگیا۔
البتہ لوٹتے ہوئے وہ ٹیبل پر پڑی مینیو ڈائری میں بل کے ساتھ ٹِپ رکھنا قطعی نہیں بھولا تھا۔
پارکنگ ایریا کی جانب بڑھتے اُسے دور سے ہی اپنی پجارو سمیت سینے پر بازو لپیٹے دھوپ کے مزے لیتا ڈرائیور دکھائی دیا تو اُسکی شاہانہ چال میں بے اختیار تیزی آئی۔۔مگر اگلے ہی پل شاہ کے سرعت سے فاصلہ ماپتے قدموں میں واضح لڑکھڑاہٹ آئی تو پل بھر کی بوکھلاہٹ پر اُسے بےساختہ رکنا پڑا۔۔۔اور وجہ وہ تصادم تھا جو یقیناً مقابل کی لاپرواہی سے ہوا تھا۔
”یُو فول مین۔۔۔۔دیکھ کر نہیں چل سکتے تم۔۔۔؟؟“ قدرےتلخی سے بولتے اُسنے جھٹکے سے کالا چشمہ آنکھوں سے کھینچ اتارا۔۔مگر منظر صاف ہونے پر بھوری نگاہوں کو جو چہرہ دیکھنے کو ملا تھا اُسکی توقع شاہ کو ہرگزنہیں تھی۔تنے ہوئے اعصاب بےاختیارحیرت کی ذیادتی سے ڈھیلے پڑے۔
سامنے والے کی حالت بھی اِس سے کچھ کم نہیں تھی۔
”آ۔۔آئی کانٹ بیلیو یار۔۔۔یہ۔۔۔یہ سچ میں تم ہو۔۔۔۔؟؟؟“ بڑھی ہوئی شیو میں پہلے کی بانسبت کمزور سا چہرہ لیے بےیقینی سے اٹک اٹک کر بولتا وہ یقیناً افروز عالم ہی تھا جسکا ڈریسنگ سینس آج بھی نہیں بدلا تھا۔
”کیسے ہو برو۔۔۔۔؟؟؟“ ہوش میں آتے ہی اُسنے شاہ سے جوشیلے انداز میں بغل گیر ہونا چاہا جب وہ بےدردی سے اُسکے سینے پر پوری قوت سے ہاتھ مارتا اُسے خود سے دور دھکیل چکا تھا۔
ماضی کی چندسلگتی یادیں تیزی سے اُسکی یادداشت میں تازہ ہوتی اُسکے وجود میں چنگاڑیاں سی بھر گئیں۔
اُسکے شیدید ترین ری ایکشن پر جہاں افروز دو قدم پیچھے کو لڑکھڑاتا گرنے سے بمشکل بچا تھا وہیں کالا چشمہ شاہ کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گرا۔۔۔جسے اُس بندے کے سامنے جھک کر اٹھانا اُسنے ضروری سمجھا بھی نہیں تھا۔
”تم جیسے مکار اور دھوکےباز شخص سے واقفیت بھی میری شخصیت کی توہین ہے۔۔۔آئندہ مجھ سے ٹکرانے کی غلطی۔۔غلطی سے بھی مت کرنا۔۔۔نہیں تو پھر جو غلطی میں کروں گا وہ تم برادشت نہیں کرپاؤ گے۔۔۔سمجھے۔۔۔“ ضبط سے سرخائی گھلی نگاہیں اُسکی ساکت نگاہوں میں گاڑتا وہ شہادت کی انگلی اُٹھائے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تو جانے کیوں افروز اُسکے لفظوں پر شرمندہ سا ہوتا پل بھرکو نگاہیں پھیر گیا۔
اُسکے یوں نظریں چرانے پر ایک تمسخر بھری مسکراہٹ نے شاہ کے لبوں کو چھوا۔اگلے ہی پل وہ سرجھٹکتا اُسکے پاس سے گزرکر بےنیاز سا آگے نکل گیا تو وہ خجل سا اپنی انا کو بھاڑ میں بھیج کرسرعت سے اُسکی جانب لپکا۔
گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑے ڈرائیور کی نظریں اپنی جانب غصے سے آتے شاہ پر پڑی تو وہ محتاط ہوتا فوراً سے دروازہ کھول کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال گیا۔
”کہاں جارہا ہے تُو۔۔۔۔؟؟؟یار ایک بار میری بات تو سن لے۔۔۔پلیز رک جا۔۔۔۔م۔۔میں کب سے تجھ سے معافی مانگنا چاہتا تھا پر میرے ہاتھ اتنے وقت سے صحیح موقع نہیں لگا۔۔۔یاررر پلیز رک تو۔۔۔۔دیکھ۔۔اُسے میری نادانی سمجھ کر بھول جا۔۔پاگل تھا میں جو۔۔۔“ اُسکے پیچھے تیزی سے لپکتا ہوا وہ باقاعدہ منتوں پر اتر آیا تھا جبکہ اُسے ہرلحاظ سے ان سنا کرنے کی کوشش میں ہلکان ہوتا وہ سختی سے مٹھیاں بھینچتا اب کہ جیسے انگاروں پر لوٹنے لگا۔اُسکے لفظوں پر نئے سرے سے اذیت ہوئی تھی۔
پلٹ کر افروز کے منہ پر پنچ مارنے کی شدید خواہش کو بڑی مشکلوں سے اپنے اندر دباتا وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر پچھلی سیٹ پر بڑے آرام سے براجمان ہوچکا تھا۔
”گھر لے چلو۔۔۔۔“ سرد لہجے میں آڈر دیتا وہ بےاختیار اپنی تنی کنپٹیاں دبانے لگا جب افروز بھی اُس تک پہنچتا شدت سے شیشے پر ہاتھ مارتے ہوئے اُسے پکارنے لگا۔
ناک کی سیدھ میں تکتے شاہ نے ایک بار بھی شیشے کے پار اُسکی شکل دیکھنا گوارا نہیں کیا تھا۔
ہنوز شیشہ بجاتے گہرے سانس بھرتا وہ ہانپ رہا تھا مگروہاں پرواہ کسے تھی۔۔۔
”سر۔۔۔شاید کوئی شخص آپکو باہر بلارہا ہے۔۔۔۔“ جھٹکے سے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے ڈرائیور نے باہر پاگل ہوتے شخص کی ہمدردی میں یونہی شاہ کی توجہ اُس جانب دلانا چاہی تو آپے سے باہر ہوتا شاہ بےاختیار ڈرائیونگ سیٹ کی پشت پر زور کی ٹھوکر مارتا اُسے سہماکررکھ گیا۔
”شٹ اپ۔۔۔جسٹ شٹ اپ اینڈ جسٹ موو ڈیمٹ۔۔۔۔۔“ اُسکے کان کے پاس چیختا وہ ڈرائیور کو تو اُسکی اوقات باورکروا ہی چکا تھا۔۔ساتھ میں افروز کو بھی اپنے اشتعال تلے تھمنے پر مجبور کرگیا۔
”سس۔۔سوری سر۔۔سوری۔۔“ ویو مرر سے اُسکی شعلہ بار نگاہوں کی جھلک دیکھ وہ دھیمے لہجے میں معذرت کرتا تقریباً بڑبڑایا پھر اطراف سے مکمل بےبہرہ ہوتے ہوئے اگلے ہی پل گاڑی ریورس کرتا زن سے وہاں سے بھگا لے گیا۔
پیچھے افروز شدتِ بےبسی سے مٹھیاں بھینچتا پل پل دور جاتی گاڑی کو محض نم پڑتی نظروں سے دیکھتا رہ گیا۔۔وقت اور حالات انسان کو اُسکی شخصیت سمیت کس قدر تیزی سے بدل کر رکھ دیتے ہیں آج اسکا ایک بھرپور نمونہ وہ بظاہر خود اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا۔۔۔۔۔شرمندگی کے بھاری بوجھ نے نئے سرے سے اُسکے وجود کو ان دیکھی اذیتوں میں مبتلا کیا تھا۔۔۔
رات کی لامحدود سیاہی جہاں بےجھجک کھلے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی وہیں تیزی سے کھسکتے ان لمحوں سے لاپرواہ وہ تینوں ابھی تک حسن پیلس میں ٹھہرے اس وقت خوش گپیوں میں مصروف تھے۔اس دوران چائے کا چلنے والا یہ دوسرا دور تھا۔
وہ جو پہلے ہی شدید تھکاوٹ کا بوجھ کندھوں پر ڈالے جان بوجھ کر دیر سے گھر واپس لوٹا تھا اس غیرمتوقع صورتحال پرمہمانوں سے محض مروت نبھانے کو اپنی بےزاری چھپاتا بات چیت کرنے پر مجبور تھا۔
عین مقابل ٹانگ پر ٹانگ جماکر بیٹھی عروسہ شاہنواز چائے کی چسکیاں بھرتی اُسی کے وجیہہ چہرے کو ہنوز دلچسپ نگاہوں کا مرکز بنائے ہوئے تھی۔
اُسکی بےخودی کو کب سے محسوس کرتا عائل اب اندر ہی اندر الجھن کا شکار ہونے لگا۔
ٹائٹ جینز کے اوپر وائٹ لوز شرٹ پہنے وہ شوخ چنچل سی لڑکی ہر بات میں حصہ ڈالتی۔۔ڈائی شولڈر کٹ بالوں سمیت ہلکے پھلکے میک اپ میں اُسے ایک آنکھ نہیں بھائی تھی۔۔۔
کجا کہ عمر بھر کا ساتھ۔۔۔
عائل نے بےساختہ سر جھٹکا۔
”موم۔۔۔۔آئی لائیک ہِم۔۔۔۔بس آپ اِن لوگوں کو یس کا سائن دیں اور بات آگے بڑھائیں پلیز۔۔۔۔“
معاً خود پر پڑتی عائل کی سرسری سی بےزار نگاہ پر بےاختیار ہوتی وہ پہلو میں بیٹھیں حسنہ بیگم کی جانب جھکی تو اُسکی سرگوشی کوسمجھتی وہ لبوں پر تبسم بکھیرے سر کو ہولے سے جنبش دے گئیں۔
محوِ گفتگو ہونے کے باوجود بھی اُسکی یہ بےاختیاری عائل سمیت عائمہ بیگم کی نگاہوں سے مخفی نہیں رہ پائی تھی۔۔جبکہ حسن صاحب نے شام کی غیر موجودگی کا لحاظ برتتے ہوئے تقریباً چوتھی بار سامنے دیوار گیر گھڑی پر پل بھرکی بےچین سی نگاہ جمائی تھی۔
ہاتھ میں پکڑا خالی کپ شیشے کی میز پر رکھتے ہوئے حسنہ بیگم نے باقاعدہ بات کا آغاز کرنے کو گلا کھنگارا تو عائمہ بیگم بھی ٹیک چھوڑتی اپنی جگہ محتاط سی ہوئیں۔
”بسس جی ساری باتیں ایک طرف۔۔۔ہمیں تو آپکا قابل اور ذمہ دار بچہ اپنی عروسہ بیٹی کے لیے ہر لحاظ سے بھایا ہے۔۔۔اگر ایک ماں باپ کا نظریہ پرکھا جائے تو یقیناً عائل جیسا لڑکا ہماری بچی کے لیے ایک بہترین انتخاب ہے۔۔۔
اور ان سب باتوں کے بعد تو ہمارا اب آپ لوگوں سے بس یہی ایک تقاضا ہے کہ اس دوستی کو جلد از جلد قریبی رشتہ داری میں بدل دیا جائے۔۔۔“
اپنے آنے کا اہم مقصد اُنھیں باور کرواتی وہ بڑے مان سے گویا ہوئیں تو جہاں انکے بے دھڑک پہل کرنے پر عائمہ بیگم گڑبڑائی تھیں وہیں عائل نے سختی سے لب بھینچتے شکوہ کناں نگاہیں اپنی ماں پر ڈالیں جو اب کچھ فکرمندی سے پہلو بدلتی اس خوشگوار خبر پر ٹھیک سے خوش بھی نہیں ہوپائی تھیں۔۔۔
یقیناً عروسہ اُنھیں اپنی بہو کے روپ میں ہرلحاظ سے بھائی تھی۔
اپنے رشتے کی بابت سن کرایک ادا سے لمبی سی مصنوعی پلکیں جھکاتی شرمانے کی بھونڈی سی کوشش کرنے لگی تو اُسے یوں مسکراہٹ روکنے کی چکر میں لب کاٹتے دیکھ عائل کو بےساختہ کوفت ہوئی۔
”جی بالکل حسن صاحب۔۔۔ہماری سالوں کی دوستی ہے۔۔اور اب اس دوستی کو رشتے داری میں بدل جانا چاہیے۔۔۔ویسے بھی عائل مجھے اپنی بیٹی کے لیے شروع سے ہی بہت پسند ہے۔۔لہٰذا اس معاملے میں،میں نہ سننے کا روادار ہرگز نہیں ٹھہروں گا۔۔۔“
شاہنواز صاحب نے بھی اپنی زوجہ کی تقلید میں لگے ہاتھوں اپنا موقف بیان کرڈالا تو اُنکی اس قدر اپنائیت جتانے پر جواباً۔۔حسن صاحب سیاہ وسفید مونچھوں کو عادتا ًتاؤ دیتے کھل کر ہنس دئیے۔
”یہ تو آپ لوگوں کی پُرخلوص محبت کا نتیجہ ہے جو آپ میرے بیٹے کو اپنا داماد بنانے پر دل سے بضد ہیں۔۔۔لیکن میرا خالص تجربہ تو یہی کہتا ہے کہ رشتوں کا گٹھ جوڑ کرنے سے پہلے لڑکی اور لڑکے کی رضامندی لینا بھی بہت ضروری امرہوتا ہے۔۔۔“
ٹانگ سے ٹانگ ہٹاکر ٹیک چھوڑتے ہوئے اُنھوں نے سنجیدہ لہجے میں بڑی گہری بات کی تھی۔
”یہ تو آپ نے خوب کہی بھائی صاحب۔۔۔ہم بھی آپکی رائے سے خاصے متفق ہیں۔۔۔اسی لیے اگر عروسہ اور عائل بیٹے کو تنہائی میں بات چیت کرنے کے لیے کچھ وقت میسر آجائے تو ہمیں انکی رضامندی کا بھی معلوم پڑجائے گا اور آگے کا فیصلہ لینا بھی آسان ہوجائے گا۔۔۔۔“
عائل جو کافی دیر سے سب کی منمانیاں بڑے جگرے سے برداشت کررہا تھا اس نئے تقاضے پر بھی صبرکے گھونٹ بھرتا ہنوز خاموش تھا۔۔
جبکہ اسکے برعکس اُسکا دماغ صبرسے کام لینے کو قطعی آمادہ نہیں تھا جبھی مختلف سوچوں کی آماجگاہ بنا پلوں میں اگلا لائحہ عمل ترتیب دے رہا تھا۔
”ہوں۔۔۔یہ مناسب ہے۔۔۔ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں۔۔۔بیٹا عائل۔۔عروسہ بیٹی کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔۔۔امید ہے کہ ہمارے اس فیصلے کے نتائج اچھے ثابت ہوں گے۔۔۔“
عائمہ بیگم کی پریشان نظروں سے کچھ الجھتے ہوئے۔۔حسن صاحب اپنے بیٹے کی ناپسندیدگی سے قطعی انجان لبوں پر مسکراہٹ سجاتے قدرے شائستگی سےگویا ہوئے تو عائل ضبط سے پل بھرکو آنکھیں بند کرتا گہرا سانس بھر کے رہ گیا۔
”جی ڈیڈ۔۔۔“
لہجے کو مودب رکھنے کی کوشش کرتا وہ جلتے دل کے ساتھ بمشکل اپنی جگہ سے اٹھا تو اُسکے یوں آسانی سے مان جانے پر عائمہ بیگم کو خوشگوار حیرت ہوئی۔
عائل نے عروسہ کی جانب دیکھتے ابرو اچکائی تو مزید شرمانے کی تگ دو ترک کرتی وہ جھٹکے سے کھڑی ہوئی پھر وہاں بیٹھے نفوس پر پل بھرکو نگاہیں ڈالتی عائل کی تقلید میں سب کے بیچ سے نکلتی چلی گئی۔
آگے پیچھے سیڑھیاں پھلانگتے اگر ایک کی دھڑکنیں ملن کے لمحوں کا سوچ کر بےہنگم ہو رہی تھی تو وہیں دوسرے کا دل مزید بوجھل ہوتا اندر کی بےقراری کو اب باہر ابھارنے لگا تھا۔۔۔۔
بمشکل کچھ ہی پل گزرے تھے جب شام کانوں سے ہیڈ فونز ہٹاتا داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا۔۔
تو جہاں سب چونک کر اُسکی جانب متوجہ ہوئے تھے وہیں حسن صاحب کے ماتھے پر چڑھتی تیوری بغور دیکھتے شام کے لب شوخ سی مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔جبکہ بھوری نگاہوں میں واضح چیلنج تھا۔۔۔
*
”کیاآپکو شروع سے ہی یہ فورس جوائن کرنے کا شوق تھا۔۔۔؟؟؟“
اُسے کمرے سے ملحقہ ٹیرس کی جانب نکلتے دیکھ وہ بھی سرعت سے اُسکے پیچھے لپکتی قدرے دلچسپی سے گویا ہوئی۔
”ہوں۔۔۔بچپن سے ہی۔۔۔۔“ گہرے تاریک آسمان پر ٹھنڈی روشنی بکھیرتے چاند کو بغور دیکھتا وہ ناپ تول کر بولا تو وہ سمجھنے والے انداز میں سرہلاتی پرجوش سی مسکرائی۔
”او۔۔نائس۔۔۔تو آپ جناب دل کے شوق پورے کرنے کے خاصے شوقین لگتے ہیں۔۔۔ویل۔۔۔میں تو اپنے ڈیڈ کی طرح بزنس میں بہت ذیادہ انٹرسٹ رکھتی ہوں۔۔۔آفٹرآل فیوچر میں ڈیڈ کی سیٹ مجھے ہی تو سنبھالنی ہے۔۔۔“
اندازِ بےتکلفی قابلِ دید تھی۔
وہ جو سوچ رہا تھا اپنے دل کی بگڑتی حالت اُس پر ظاہرکرنے کوکن مناسب لفظوں کا سرا تھامے۔۔؟؟اُسکے پٹر پٹر بولنے پر ضبط سے ریلنگ کے گرد گرفت پکڑتا سخت کرگیا۔
اُسکی خاموشی پر وہ چونکی۔۔پھر سر جھٹک کر سینے پر بازو لپیٹتی ریلنگ کے سہارے جا لگی۔
”آں۔۔آپ بھی تو کچھ بتائیں مجھے اپنی پسند ناں پسند کے بارے میں۔۔۔۔؟؟اپنے فرائض سے ہٹ کر اور کن کن چیزوں میں انٹرسٹ رکھتے ہیں آپ۔۔۔؟؟“
خود کا باتونی لہجہ اور مقابل کی ہنوز بےنیازی کا احساس کیے بغیر وہ اب بھی قدرے بےتکلفی سے گویا ہوئی۔
جواباً لب بھینچ کر گردن ترچھی کرتے ہوئے اُسنے بغور اُس بولڈ لڑکی کی جانب دیکھا جوعمر بھرکے لیے اُسکے نام سے منسوب ہونے کی شدید خواہش رکھتی تھی۔
”میں۔۔۔؟؟“
کچھ سوچ کر اثبات میں سر ہلاتا وہ پھر سے سامنے دیکھنے لگا۔
”ایک لڑکی ہے۔۔جس میں سنجیدگی کی آخری حد تک انٹرسٹ رکھنے لگا ہوں۔۔۔اور پورا ارادہ ہے کہ شادی بھی اُسی سے رچاؤں۔۔۔“
اپنی پسندیدگی کی بابت اُسے بےجھجھک آگاہ کرتا وہ انجانے میں اُسے خوش فہمیوں کے گہرے بھنور میں دھکیل چکا تھا۔۔
”سوانٹرسٹنگ۔۔۔اور۔۔وہ لڑکی کون ہے۔۔۔؟؟؟“
بالوں کی گھنی لٹ کو شوخ انداز میں انگلی کے گرد لپٹتی اب وہ باقاعدہ اُسکے لبوں سے اپنا نام سننے کو بےتاب ہوئی۔۔
انداز صاف ٹٹولتا ہوا تھا۔
”حاویہ۔۔۔پورا نام حاویہ فیضان۔۔۔۔“
بڑے سکون سے اُسکے پنکھڑی لبوں پر مچلتی شوخ مسکراہٹ کو اپنے لفظوں تلے کچلتا اب وہ ریلنگ سے ہاتھ ہٹائے اُسکے مقابل آ کھڑا ہوا تھا۔
”واٹ۔۔؟؟آر یو سیریس۔۔۔؟؟شاید تمھیں اندازہ نہیں مسٹر لیکن مجھے اس وقت تمھارا یہ مذاق انتہائی چیپ لگا ہے۔۔۔“
جھٹکے سے سیدھی کھڑی ہوتی وہ آپ سے تم تک کا فاصلہ پل میں ماپتی یکدم اُس پر بگڑی تو جینز کی جیبوں میں ہاتھ پھنساتے مقابل کی بےتاثر آنکھوں میں واضح ناگواری در آئی۔
”مس عروسہ شاہنواز۔۔کیا مجھے دیکھ کر تمھیں کہیں سے بھی ایسا لگ رہا ہے کہ میں اس وقت رتی بھربھی تمھارے ساتھ مذاق کے موڈ میں ہوں۔۔۔؟؟“
ایک ایک لفظ پر زور دے کر پوچھتا وہ اُسے اہانت کے بھاری بوجھ تلے سرخ پڑنے پر مجبور کرگیا۔
”ا۔۔اگر ایسا تھا تو پھر مجھے اپنے ساتھ یوں تنہائی میں لاکر میرا وقت برباد کرنے کی کیا ضرورت تھی تمھیں۔۔۔؟؟وہیں پر سب گھر والوں کے سامنے ڈائریکٹ انکار کیوں نہیں کردیا اس رشتے سے۔۔۔؟؟“
سارے بھرم تڑاتڑ ٹوٹنے پر اُسے شدت سے اپنی ریجیکشن کا بدترین ادراک ہوا تو بے ساختہ چیختی وہ اُسکا گریبان دبوچنے کو اُس پر جھپٹی۔۔
مگر وہ بیچ میں ہی اُسکی کلائیاں بروقت اپنی مضبوط گرفت میں لیتا اُسکی یہ کوشش ناکام بناگیا۔
”او جسٹ سٹاپ دیس نان سینس ایڈیٹ۔۔۔“ اُسکی بولڈنیس کے ساتھ ساتھ بدتمیزی بھی قابل اعتراض تھی سو وہ بھی مشتعیل سا غراتا اُسے جھٹکا دے کر اوقات میں لایا۔
”میں نہیں چاہتا تھا کہ سب کے سامنے میرے انکار سے تمھاری انا کو براہِ راست ٹھیس پہنچے۔۔تبھی میں نے پرسنلی طور پر تمھیں اپنے ارادوں سے باخبر کرنا ضروری سمجھا۔۔۔
ایم سوری عروسہ بٹ میں تمھاری آمد سے بہت پہلے ہی عشق محبت جیسے مرض میں مبتلا ہوچکا ہوں۔۔۔اور بقول تمھارے دل کے شوق پورے کرنے کا خاصا شوقین بھی ہوں۔۔۔سو ایسے میں تو تم سے شادی کرنے کا پھرکوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔۔“
اُسکی ڈبڈبائی آنکھوں میں دیکھتا وہ کچھ نرم پڑا جب اُسکی وضاحت پر نفی میں سر ہلاتی وہ جھٹکے سے خود کی کلائیاں چھڑواگئی۔۔
یاں یوں کہنا بہتر ہوگا کہ اُسکی بےضرر سی مزاحمت پر عائل نے خود ہی چھوڑدی تھیں۔
”نوووو۔۔۔نیور۔۔۔انکار چاہے اکیلے میں ہوا ہو یاں سرعام۔۔۔میری انا کو توٹھیس تم پہنچا ہی چکے ہو عائل حسن۔۔۔اور تمھاری جانب سے میری ذات پر کیا گیا یہ کاری وار میں عمر بھر نہیں بھلا پاؤں گی۔۔۔
سنا تم نے۔۔۔“
چہرے پر آئے بالوں کو درشتگی سے پرے ہٹاتی وہ اُس پر اپنا بھیگا قہر برستاتی وہاں رکی نہیں تھی۔
جبکہ اُسے نگاہوں سے اوجھل ہوتا دیکھ عائل نے برداشت کھوتے خودکی ہتھیلی پر زورکا پنچ مارا تھا پھر بےچینی سے بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ بھی ٹیرس سے نکل گیا۔۔۔
مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے کمرے کی دہلیز سے پار قدم دھڑتا اچانک رِنگ ہوتے موبائل فون نے بےساختہ اُسکے بڑھتے قدم جکڑلیے۔۔۔
”موم۔۔۔ڈیڈ۔۔۔۔“
پھولی سانسوں کے ساتھ تیزی سے اُنکی جانب لپکتی عروسہ تقریباً چلا کربولی تو جہاں سب اُسکی بکھری حالت دیکھ کر سکتے میں آئے تھے وہیں چونک کر اُسکی جانب دیکھتے۔۔شام کا جھلاتا پاؤں ساکت پڑا۔
ابرو اچکا کر قدرے بےباکی سے اُسنے جینز شرٹ میں پوشیدہ اُسکا دلکش سراپا پلوں میں تولا تھا۔
بھابیوں والا ادب و احترام اپنے اندر جگانے کی زحمت اُسنے گوارا نہیں کی تھی۔۔کیونکہ اِس رشتے کا سوچا سمجھا انجام اُسکی نظروں کے سامنے تھا جبھی لبوں پر استہزائیہ مسکراہٹ پل بھر کو اپنی جھپ دکھلاتی فوراً سے غائب ہوئی تھی۔
”ع۔۔عروسہ۔۔بیٹا کیا ہوا ہے تمھیں۔۔۔؟؟تم۔۔۔اس طرح سے کیوں رو رہی ہو مائے ڈول۔۔۔؟؟“
سب سے پہلے حسنہ بیگم کو ہوش آیا تو بوکھلا کر اٹھتی وہ سرعت سے اُسکی جانب لپکیں۔
ماسوائے شام کے تقریباً ہر فرد ہی پریشان سا بیٹھے سے اٹھ چکا تھا۔
”پلیز آپ چلیں یہاں سے ابھی اور اسی وقت۔۔۔“
اپنے بھیگے چہرے پر حسنہ بیگم کا نرم لمس محسوس کرنے سے پہلے ہی وہ بیچ میں اُنکے ہاتھ پکڑتی خفت زدہ سی گویا ہوئی۔
ایسے میں کچن سمیٹتی راشدہ بھی اپنا کام ادھورا چھوڑتی خبریں لینے کو فوراً سے وہاں چلی آئی۔
”ہمیں بتاؤ بیٹا کیا بات ہے۔۔۔؟؟تم کیوں اس قدر جذباتی ہورہی ہو۔۔۔؟؟کیا عائل نے تم سے کچھ کہا ہے۔۔۔؟؟“
اس بار گہرا سانس بھرتے حسن صاحب نے نرمی سے بیچ میں مداخلت کی تو جانے کیوں شام کو اپنے باپ کا کسی اور کے لیے فکر کرتا یہ نرم انداز دیکھ کر گھٹن سی ہونے لگی۔۔
جواباً عروسہ نے تیز نگاہوں سے اُنکا چہرہ دیکھا۔
”بے دھڑک ریجکیٹ کردیا ہے مجھے آپکے بیٹے نے۔۔۔کیونکہ وہ کسی اور لڑکی کے عشق میں گرفتار ہے۔۔سو شادی بھی اُسی کے ساتھ رچائے گا۔۔۔۔“
آتش فشاں بنی وہ غالباً حسن صاحب کا لحاظ کرنا بھی بھول گئی تھی۔۔تو جہاں اُسکے غیر متوقع انکشاف پر حسن صاحب سمیت سب پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹا تھا وہیں اُسکے یہ تیور دیکھ کر بےاختیار شام کے تیوری چڑھی۔
”یہ تم کیا کہہ رہی ہو لڑکی۔۔۔؟؟کیا عائل نے بذاتِ خود تمھیں اپنی پسند سے آگاہ کیا ہے یاں پھر تم نے بظاہر اُسکے رویے سے خود ہی یہ سب اندازے اخذ کرلیے ہیں۔۔۔؟؟“
ذرا پاس آکر پوچھتے ہوئے عائمہ بیگم کے لہجے میں بےیقینی واضح تھی۔۔
عروسہ اُنکے استفسار کرنے کو بھی اپنی توہین سمجھتی نظرانداز کرنے والے انداز میں حقارت سے منہ پھیر گئی۔
اور یہی۔۔اپنی ماں سے برتی گئی اس بدلحاظی پر شام کا ضبط ٹوٹا تھا۔
”او ہیلو۔۔۔کیا ہاں۔۔۔۔؟؟؟“
صوفے سے اٹھ کر اُسکے مدِ مقابل اکڑ کر کھڑا ہوتا وہ بدتمیزی سے بولا تو عروسہ اپنا رونا دھونا بھول کر اُسے گھورنے لگی۔
”شام۔۔۔۔“
حسن صاحب کی تنبیہی آواز پر بھی وہ ٹس سے مس نہیں ہوا تھا۔۔
جبکہ آئمہ بیگم اُسے خود کے حق میں بھپرا دیکھ مزید بے چین ہوئیں۔
”یہ جو گھٹیا سی اینگری لُوک ہے ناں تمھاری۔۔ گھر جا کر اپنے ماں باپ کو دیکھانا۔۔۔میرے ہی گھر میں کھڑے ہوکر میرے ماں باپ کو دیکھانے کی ضرورت نہیں ہے تمھیں۔۔۔ہہمم۔۔۔؟؟
ابھی تک صرف لحاظ کررہا ہوں تمھارا۔۔۔ گریز کرو اتنا غصہ دیکھانے سے نہیں تو پھر میرا گریز نہ کرنا یقیناً تمھارے لیے بہت سی مشکلات پیدا کردے گا۔۔۔“
فقط اپنے باپ کے لحاظ میں اُسے کندھوں سے دبوچ کر جھنجھوڑنے کی خواہش بمشکل دل میں دباتا وہ کاٹ دار لہجے میں سرعام دھمکی دے گیا تو عروسہ اُسکے رعب میں آتی چاہ کر بھی آگے سے کچھ بول نہیں پائی تھی۔
البتہ نئے سرے سے ہونے والی اس عزت افزائی پر اُسکے گلابیت میں مزید سرخائی گھلی تھی۔
تبھی حسنہ بیگم جوابی کاروائی کرنے کو آگے ہوکر کچھ کڑوا بولنے ہی والی تھیں جب شاہنواز صاحب شام کی کھلی بدتمیزیوں پر بڑے ضبط کا مظاہرہ کرتے بروقت اُنھیں کچھ بھی کرنے سے روک گئے۔
”بس کرجاؤ شام۔۔۔آگے ہی بہت فساد پھیل چکا ہے۔۔۔اب تمھیں بیچ میں مزید فساد پھیلانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔“
اب کہ حسن صاحب نے غصے سے اُسکا کندھا پکڑ کے اُسے پیچھے کھینچا تو عروسہ کو ہنوز سخت چتونوں سے گھورتا وہ ایک سائیڈ پر ہٹا۔
اگلے ہی پل سرعت سے سیڑھیاں اترتا عائل وہاں آتا سب کو شدت سے اپنی جانب متوجہ کرگیا۔
”فار گاڈ سیک موم ڈیڈ چلیں یہاں سے۔۔۔اتنی انسلٹ کروانے کے بعد اب میرا دم گھٹنے لگا ہے یہاں۔۔۔۔۔“
عائل کی جانب ایک غصیلی نگاہ اچھال کر اپنی ہچکیوں پر بمشکل قابو پاتی وہ اپنے ماں باپ سے ملتجیانہ انداز میں گویا ہوئی تو ضبط کرتے وہ اقرار میں سرہلاگئے۔
”ڈیڈ وہ میں۔۔۔۔“
عائل حسن صاحب سے مخاطب ہوا تو تب سے خاموش کھڑے شاہنواز صاحب نے اپنے جگڑی دوست کی جانب تاسف بھری نگاہوں سے دیکھتے اُسکی بات بیچ میں ہی کاٹ دی۔
”ہمیں آپ سے ایسی بدسلوکی کی قطعی کوئی امید نہیں تھی حسن صاحب۔۔۔میری پھول سی بچی کو تکلیف پہنچاکر آپکے بیٹے نے حقیقتاً ہمیں اذیت پہنچائی ہے۔۔۔
اور میں یہ بےعزتی اتنی آسانی سے نہیں بھولوں گا۔۔۔۔یاد رکھیے گا میری یہ بات۔۔۔چلو یہاں سے۔۔۔“
اپنی بیٹی کے آنسوؤں پر ضبط کھوتے وہ قدرے تلخی سے بولے تو اپنے دوست کی بےرخی پر حسن صاحب عائل پر ایک شکوہ کناں نگاہ ڈال کر سختی سے لب بھینچتے صبر کرگئے۔
وجہ اپنے لاڈلے جگر کی نادانی تھی ورنہ اُنکی شخصیت ضبط کرنے والوں میں سے تو ہرگز نہ تھی۔۔۔
شاہنواز صاحب کے سخت رویے پر مٹھیاں بھینچتے ہوئے اب کہ عائل کا ضبط ٹوٹنے لگا۔
اس سے پہلے کہ وہ غصے میں آکر اپنا کوئی ری ایکشن دکھاتا جبھی وہ تینوں مزید کوئی تلخ کلامی کیےبغیر۔۔۔بنا کسی سلام دعا کے منہ ناک پھلاتے وہاں سے نکلتے چلے گئے۔
”یہ سب کیا تھا برخوردار۔۔۔۔؟؟ہمیں تم سے اس قدر بچگانہ حرکت کی ہرگز امید نہیں تھی۔۔۔“
تاسف زدہ نگاہوں سے دیکھتے وہ پشت پر ہاتھ باندھے سرد لہجے میں بولے تو اس متوقع سوال پر اُسنے ایک بےبس سی نگاہ اطراف میں دوڑاتے گہرا سانس بھرا۔
”ڈیڈ۔۔۔میں موم کو بہت پہلے ہی اس معاملے سے آگاہ کرچکا تھا کہ میں فی الحال کےلیے شادی جیسے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتا۔۔۔“
ٹھہرے ہوئے دھیمے لہجے بولتا وہ جانے کیوں اُن کی آنکھوں میں جھانکنے سے گریزاں ہوا تھا۔۔
اُسکی صفائی پر ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے حسن صاحب نے بے اختیاز عائمہ بیگم کو گھورا تو پل بھرکو سٹپٹاتی اب کہ وہ عائل کی جانب غصے سے دیکھنے لگیں۔
”اور تم جو عشق جیسے جھنجھٹ میں پڑچکے ہو۔۔۔اُسکے بارے میں کیا کہو گے۔۔۔۔؟؟مجھے تمھارے پہلی دفعہ کے انکار پر ہی یہ بات سمجھ جانی چاہیے تھی کہ شادی کے نام سے کوسوں دور بھاگنے کی وجہ تمھارے سر پڑی ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں بلکہ کسی لڑکی کے لیے تمھاری شدت پسندی تھی۔۔۔“
غصے اور بےبسی کے احساس تلے سرخ پڑتی وہ تنک کر بولیں۔۔
جبکہ شام اُن کی تلخ گفتگو پر کان دھڑے اب کہ ساتھ ساتھ موبائل کی اسکرین پر چھیڑخانی کرتا حرمین کو بھی سکون بخش جوابات دے رہا تھا۔
”ہاں تو میں کب اِس بات سے مُکررہا ہوں۔۔۔۔؟؟ہنڈرڈ پرسنٹ یہی وجہ تھی میرے شادی کے نام سے دور بھاگنے کی کیونکہ میں حاویہ کے علاوہ کسی اور سے شادی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔
محبت کرتا ہوں اُس سے۔۔آپ نے میرے واضح انکار کو کوئی ویلیو نہیں دی سو اسی کے نتیجے پر مجھے مجبوراً یہ اقدام کرنا پڑا۔۔۔“
اس بار قدرے جھنجھلاکر اعتراف کرتا وہ بآواز بلند گویا ہوا تو اُس انجان لڑکی کے حق میں دل سے کیے جانے والے اظہارِمحبت پر کئی پل یونہی خاموشی سے سرک گئے۔
بے آواز کی بورڈ پر تیزی سے ٹائپنگ کرتے شام کے گرد ایک کڑواہٹ سی پھیلتی چلی گئی۔
حسن صاحب نے بے اختیار اپنا گلا کھنگارا۔
”تو برخوردار تمھیں یہ بات پہلے مجھے بتانی چاہیے تھی ناں۔۔نہ کہ صرف اپنی ماں تک محدود رکھتے۔۔۔۔مجھ سے یوں حقیقت چھپاکے کیا حاصل ہوا۔۔۔۔؟؟الٹا گھر آئے مہمانوں کی ناراضگی مول لے لی۔۔۔“
بولتے ہوئے اس بار اُنکے لہجے میں سختی نہیں بلکہ ہمدردی تھی۔
”ایم سوری ڈیڈ۔۔۔میں بس کسی مناسب موقع کے انتظار میں تھا۔۔۔“ اُنکے کوئی تردد نہ کرنے پر نگاہیں جھکاتا وہ دھیرے سے مسکرایا۔
اپنی پسند کے ٹھکرائے جانے پر جہاں عائمہ بیگم نے تنفر سے سر جھٹکا تھا وہیں شام کے وجود میں ایک ان دیکھی سی آگ بھڑکنے لگی۔
کیوں۔۔۔۔؟؟وہ خود نہیں سمجھ پایا تھا یاں شاید جانتے بوجھتے سمجھنا نہیں چاہ رہا تھا۔
معاً نادانستگی میں اُسکی سلگتی نظروں نے قدرے کونے میں ساکت کھڑی راشدہ پر تک سفر ایک پل میں طے کیا تھا جو دانتوں میں چادر کا پلو دبائے۔۔ جانے کب سے وہاں ہوتے ہنگاموں سے لطف لے رہی تھی۔
”ہے ای یُو کام والی بائی۔۔۔ واٹ۔۔۔ہاں۔۔۔؟؟یہاں کھڑی کیا کررہی ہو تم۔۔۔۔؟؟“
ایکدم اچانک سے شام کو خود پر بھڑکتے دیکھ وہ اپنے خیالوں سے چونکتی بُری طرح سٹپٹائی۔
”نن۔۔نہیں چھوٹے صاحب۔۔۔وہ۔۔۔“ سب کی خود پر مرکوز ہوتی نگاہیں اُسکا سانس خشک کر گئی۔
معاً عائل کے ایک بار پھرسے رنگ ہوتے موبائل فون نے اُسکے ماتھے پر فکرکی لکیریں ابھاریں تو بنا تاخیر اُسے اٹینڈ کرتا وہ معذرت بھری نظریں سب پر ڈال کر فوراً سے وہاں سے نکلا۔
”لے لی اے ٹو ذی رپوٹ۔۔۔؟؟ہہمم۔۔۔؟؟نکلو فوراً یہاں سے ۔۔۔آؤٹ۔۔۔آؤٹ آؤٹ۔۔۔۔“
انگارے چباتی زبان سمیت انگلی کے واضح اشارے سے راشدہ کو ذلیل کرتا وہ شاید اپنے اندر کی گھٹن کم کررہا تھا سو وہ بھی اُسکے حکم پر ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کرتی واپس کچن میں بھاگی۔
”اور تم۔۔۔۔“
وہ جو کب سے شام کی بدتمیزیاں برداشت کررہے تھے کرخت لہجے میں گویا ہوئے تو وہ بھی شانِ بے نیازی سے اُنکی جانب پلٹا۔
”کون۔۔۔؟؟“
چونک کر متلاشی نگاہوں سے اردگرد دیکھنے کی اداکاری قابلِ دید تھی۔
میں۔۔۔؟؟“
معاً خود کی جانب اشارہ کرتے اُسنے جیسے تصدیق چاہی تو حسن صاحب نے اُسکی حرکت پر بھنویں سکیڑیں۔
”اتنے بھولے مت بنوتمہی سے مخاطب ہوں۔۔۔تم تو کہیں عشق جیسے جھنجھٹ میں نہیں پڑے۔۔۔؟؟؟یاں پھر پڑ گئے۔۔۔؟؟“
وہ جو ہمیشہ ہی اُسکی فکروں میں حد سے ذیادہ گھلتے اُسے خود سے متنفر کرچکے تھے۔۔۔
اس پہلو پر بھی غوروفکر کرتے واضح تفشیش پر اتر آئے۔۔
سوال سے کہیں ذیادہ وہ طنزکا نشتر تھا جو اُسکے سینے میں اتارتے حسن صاحب اب جانچتی نظروں سے اُسے ہی گھور رہے تھے۔۔کم از کم شام کو تو ایسا ہی لگا تھا جس پر عائمہ بیگم بھی بے چین ہوتی اُسے سوالیہ نظروں سے تکنے لگیں۔۔
بڑا تو پہلے ہی ہاتھ سے نکل چکا تھا اب چھوٹے کو بھی اس بےمنزل راہ پر چلتا دیکھنے کی فی الوقت ہمت اُن میں قطعی نہیں تھی۔
”سریسلی ڈیڈ۔۔۔؟؟آپکو میں کس اینگل سے یہ مجنوں عاشق ٹائپ لڑکا لگتا ہوں۔۔۔؟؟؟فائن۔۔۔آوارہ ہوں۔۔بدتمیز ہوں ایون کہ آپکے بقول نافرمان بھی ہوں۔۔۔
لیکن محبت میں پاگل دیوانہ۔۔اففف۔۔یہ خرافات فیلنگز میرے ٹائپ کی ہیں ہی نہیں یار۔۔۔آفکورس ناٹ۔۔۔ناٹ ایٹ آل۔۔۔“
مغرور لہجے میں حقارت گھولتا وہ اپنی بے حسی کے آگے عائمہ بیگم سے ذیادہ حسن صاحب کو مطمئن کرتا وہاں مزید رکا نہیں تھا۔
”حسن صاحب اب میرا بیٹا اتنا بھی برا نہیں جتنا آپ اُسے سمجھتے ہیں۔۔۔اپنے لاڈلے کی طرف ہی دیکھ لیں۔۔۔کیسے ہماری مرضی کے خلاف جاکر بلاوجہ کی منمانیاں کرکے گیا ہے ابھی۔۔۔“
خود کو اپنے مجازی خدا کی ڈپٹ سے بچانے کو عائمہ بیگم نے دکھتی ٹانگوں کے لحاظ میں صوفے پر براجمان ہوتے خواہ مخواہ میں چڑھائی کرنا ضروری سمجھا۔۔۔
جبکہ حسن صاحب عائمہ بیگم کے کھوکھلے انداز وہ بخوبی سمجھ رہے تھے۔
”ہاں تو اس میں غلط ہی کیا ہے۔۔۔؟؟جب عائل اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے جوکہ اُسکا حق بھی ہے تو کیوں تم اپنی پسند کی طوق زبردستی اُسکے گلے میں ڈالنا چاہتی ہو۔۔۔؟؟“
حسن صاحب نے کڑے تیوروں سے گھورتے انھیں ایک حساب سے اُنکی خواہشوں سمیت روندا تھا۔۔جواباً عائمہ بیگم نے شکوہ کرتی نظروں سے اُنکی جانب دیکھا۔
”حسن صاحب بات اگر زبردستی کی ہے توپھر۔۔وہ تو آپ بھی میرے چھوٹے بیٹے کے ساتھ کررہے ہیں۔۔۔آپکے بنائے گئے منصوبوں پر چلنے کے لیے رضامند تو دل سے وہ بھی نہیں ہے۔۔۔“
شام کے حق میں بولنے کی ہمت جٹاتی وہ صحیح معنوں میں حسن صاحب کی برداشت آزما گئیں۔
جبھی آگے کو لپکتے اُنھیں نے بےدردی سے اُنکا منہ اپنی مضبوط گرفت میں دبوچا تو اس طرح کھلے میں خود کے ساتھ برتے جانے والے اس سلوک پر عائمہ بیگم کی سانسیں اٹک گئیں۔
”میرے بیٹوں کے لیے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔۔یہ چیز مجھ سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔۔۔تم بھی نہیں۔۔۔
سو بہتر ہے کہ میرے سامنے قینچی کی طرح چلتی اس زبان کو لگام دو۔۔۔نہیں تو میری برداشت کتنی کم ہے یہ تم سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔۔۔ہونہہ۔۔۔“
اُنکی سماعتوں میں زہر گھولتے ساتھ ہی انھیں نے جھٹکے سے اُنکے جبڑے چھوڑے تھے۔
”جج۔۔جی۔۔سمجھ گئی۔۔۔بھلا مجھ سے بہتر کون جانے گا آپکی برداشت۔۔۔۔۔“
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وہ اُنکے رعب تلے اچھا خاصا دب چکی تھیں۔۔۔
سو شکست خوردہ انداز میں تائید کرتی وہ چاہ کر بھی اپنی غلافی آنکھوں کو بھیگنے سے روک نہیں پائی تھیں۔۔۔
💞💞💞💞💞💞
