Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Episode 9
مہمل نے رخ موڑ کر آبراش پر نظر ڈالی تو وہ گیری نیند سورہا تھا مہمل اٹھ کر نظریں اس کے چہرے پر مرکوز کر گئی
“سوتے ہوئے بھی اینگری مین ہی لگ رہے ہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے منہ بنائے بولی اور کشنز سائیڈ پر کرتی اسکے قریب ہوئی
“مجھے نہیں پتہ آپ غصہ کیوں ہوتے ہیں مجھ پر لیکن آج جب وہ سب باتیں کی مجھے یقین ہوگیا اینگری مین آپ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں”
وہ دل میں بولتے ساتھ اپنا سر اسکے سینے پر رکھ گئی اور اسے مسکرا کر دیکھنے لگ گئی اسے دیکھتے دیکھتے کب مہمل کی آنکھ کھلی اسے خود بھی معلوم نہ ہوا
اسکی آنکھ کھلی تو نظر گلاس وال پر پڑی گلاس وال سے آتی سورج کی روشنی مہمل کے چہرے پر پڑ رہی تھی جو اسکی خوبصورتی کو مزید نکھار رہی تھی آبراش کی نظر اس پر گئی ایک پل کے لیے وہ حیران ہوا لیکن جب کشنز کو ایک طرف پڑا دیکھا تو اس نے اپنی تاثرات نارمل کیے
“اٹھو مہمل”
وہ اسے ہلکا سا ہلاتے ہوئے کہنے لگا مگر وہ گہری نیند ویسے ہی سوتی رہی
“مہمل”
آبراش نے اسے پھر جگانے کیلیے پکارا مہمل ہلکا سا کسمسائی
“اٹھو مجھے جانا ہے “
وہ اسے اٹھانے کی پھر سے ایک اور کوشش کرتے ہوئے بولا مہمل نے ایک آنکھ کھول کر اسے دیکھا
“نہیں مجھے سونا ہے”
وہ نیند میں بولتے ساتھ دوبارہ سے اپنا سر اسکے سینے پر رکھ گئی آبراش نے ایک نظر اس پر ڈالی
“لیٹ ہوں میں مہمل تم ادھر ہوکر سوجاؤ”
وہ اب کی بار تھوڑا سرد لہجے میں کہنے لگا
“مجھے آپ کے ساتھ سونا ہے”
مہمل منہ بسور کر اسے زچ کرنے کے پورے موڈ میں تھی اسکی چالاکی سمجھتے ہوئے آبراش نے اسکی کمر کے گرد بازو ڈال کر اپنی قید میں کیا اور اسکے بالوں پر اپنے سیدھے ہاتھ کی انگلیاں پھیرنا شروع کردی مہمل کی ہارٹ بیٹ ایکدم سے تیز ہوئی
آبراش اپنے ہاتھ بالوں سے گزارتے ہوئے اسکی چہرے پر پر لایا اور رخسار کو چھونے لگا
“مجھے سونا ہے”
وہ کہتے ساتھ اپنا سر اسکے سینے سے اٹھا کر جانے لگی جب آبراش نے قریب کیا
“نیکسٹ ٹائم کرنے پلسے پہلے یہ یاد رکھنا”
وہ اسکے کان کے قریب گھمبیر آواز میں کہتے ساتھ آنکھ مارتا اسے خود سے الگ کرکے اٹھا مہمل اسے جاتا دیکھنے لگی
•••••••••••••••••••
“ڈاکٹر کیسی ہے میری وائف”
جیسے ہی ڈاکٹر باہر آیا اختر صاحب فوراً اٹھ کر پوچھنے لگے
“وہ پہلے سے سب بہتر ہے آپ پریشان نہ ہو”
ڈاکٹر انہیں تسلی دیتے ساتھ آگے بڑھ گئے اور اختر صاحب نے سکھ کا سانس لیا اور بیٹھ گئے
“میں ۔مل سکتا ہوں اپنی وائف سے”
وہ باہر آتی نرس کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے جس پر نرس نے انہیں دیکھا
“جی بلکل “
وہ جواب دیتے ساتھ آگے بڑھ گئی اور اختر صاحب روم کی طرف بڑھ گئے
••••••••••••••••••••••
مہمل شاور لے کر ابھی باہر آئی جب اسکا فون بجا وہ بالوں کو تولیے سے آزاد کرتے ہوئے سائیڈ پر رکھتی فون اٹھانے لگی
“کون”
وہ فون کان سے لگائے پریشانی سے پوچھنے لگی
“سپر ہیرو”
دوسری طرف سے آنے والی آواز وہ فوراً پہچان گئی تھی
“سپر ہیرو آپ آپ کو میرا نمبر کیسے ملا “
مہمل کے ماتھے پر سلوٹیں آئی وہ سوال کرنے لگی
“مشکل نہیں ڈھونڈنا “
وہ اسے مختصر سا جواب دے گیا مہمل نے فون پر نظر ڈالی
“کال کیوں کی ہے “
وہ سپاٹ لہجے میں اس سے پوچھنے لگی
“تم ٹھیک ہو”
وہ اس سے پوچھنے لگا مہمل کو اسکے لہجے میں فکرمندی لگی
” جی ٹھیک ہوں آپ میری فکر مت کریں”
مہمل بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی دوسری طرف سے شاید کال کٹ ہو گئی تھی مہمل کو فون کو دیکھنے لگی
“مجھے پتہ کروانا ہوگا ان کے بارے میں”
مہمل الجھے ہوئے انداز میں کہتے ساتھ سائیڈ پر رکھتی بال سلجھانے کے غرض سے ڈریسنگ کی طرف گئی
••••••••••••••••••••••••••
“مجھے نہیں پتہ تھا تم اتنی اچھی بھی ہو”
وہ کچن میں آتے ہوئے اس پر نظر ڈال کر بولا رومیسہ جو کافی بنارہی تھی اسے دیکھا
“کیوں اب کیسے اچھی لگی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر عریش کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی
“وہ رات میں مجھے تسلی دی تم نے اس لیے “
وہ اسے بتانے لگا جس پر رومیسہ نفی میں سر ہلا گئی
“شکریہ میں پھر نہیں کہ رہا ہوں”
وہ اسے تنگ کرتے ہوئے کہنے لگی
“تم جیسے انسان سے اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے”
رومیسہ تپ کر اسے جواب دیتے ساتھ کافی مگ میں ڈالنے لگی اور عریش اسکی حالت انجوائے کرنے لگا
“ہو تو تم ویسے پوری چڑیل شکریہ چڑیل”
وہ اسے غصہ دلانے کے پورے موڈ میں تھا رومیسہ نے غصے سے شیلف پر مگ رکھا اور مڑ کر اسے دیکھا
“سوچو اگر یہی چڑیل تمہارے نصیب میں ہوئی تو”
وہ غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر عریش نے اسے دیکھا
“تو میں خود کشی کرلوں گا تم سے شادی نہیں کروں گا”
عریش اسے بولا رومیسہ کے غصے میں مزید اضافہ ہوگیا
“میں مذاق کررہی تھی تم سے شادی کرنے سے اچھا ہے میں زہر کھا لوں”
رومیسہ غصے سے اسے جواب دیتے ساتھ جانے لگی
“اگر میں نے تو کبھی کہا عرءش تم مجھے اچھے لگتے کو تو پھر”
وہ جاتے جاتے رکی اور مڑ کر سنجیدگی سے پوچھنے لگی عرءش نے اسکی طرف دیکھا
“تو میں مانو گا ہی نہیں کبھی”
عرءش فوراً جواب دے گیا رومیسہ نے اپنے چہرے کے تاثرات نارمل رکھے
“سیریس نہیں ہونا مذاق کیا ہے”
وہ کہتے ساتھ کافی کا مگ اٹھاتی جانے لگی
“میں ہو بھی نہیں رہا”
وہ اسے بتاتے ساتھ وہاں سے چلا گیا رومیسہ جاتا دیکھنے لگی
“بس اس وجہ سے نہیں بتاتی ہوں تمہیں کہیں دور نہ ہوجاؤ بات کرنا نہ چھوڑ دو”
وہ چہرے پر اداسی سموئے بولتے ساتھ کافی کا کپ لبوں سے لگا گئی
•••••••••••••••••••••••••
“ہاں کیا بنا پھر”
رومیسہ ٹی وی لاؤنچ میں پہلے سے موجود تھی مہمل کو آتا دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“انہوں نے فوراً انکار کردیا مام ڈیڈ کے گھر جانے سے”
مہمل اسکے پاس بیٹھتے ہوئے مسکرا کر بتانے لگی
“واللہ ہمارا دوست تو آپ جناب کی دوری کا سن کر پریشان ہوگیا “
رومیسہ ہنستے ہوئے کہنے لگی جس پر مہمل بھی ہلکا سا مسکرائی
“ایسا ہی سمجھ لیں”
وہ شرماتی ہوئے بولی رومیسہ کا قہقہ چھوٹا
“ایک بات پوچھوں”
مہمل اسکے چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگی
“پوچھو یار”
وہ مسکراتے ہوئے اسے اجازت دینے لگی جس پر مہمل ہلکا سا مسکرائی
“آپ واقع اتنی خوش رہتی ہیں یا لوگوں کو دیکھانے کے لیے”
مہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر رومیسہ نے فوراً اسکی جانب دیکھا اور مسکرائی
“اپنے دشمنوں کو دیکھانے کیلیے”
وہ چہرے پر مسکراہٹ آنکھ مار کر بتانے لگی اسکی بات سن کر مہمل مسکرائی
“دیکھو ٹینشن تو ہر انسان کی زندگی میں ہوتی ہے میں مان ہی نہیں سکتی کوئی انسان ٹینشن میں ہے ہی نہیں اسکے اندر کیا چل رہا ہوتا ہے یہ تو وہ اور صرف اللہ جانتا ہے”
وہ اسے سمجھاتے ہوئے بتانے لگی مہمل اسکی بات سمجھتے ہیں اثبات میں سر ہلا گئی
“آبراش تمہیں دور نہیں کرنا چاہتا بہت جلد وہ تمہارے ساتھ اچھے سے دینے لگے گا پریشان نہ ہو سوئٹی”
وہ پیار سے اسے بولی جس پر مہمل مسکرائی
“تھینکیو”
مہمل اسے جاتا دیکھتے ہوئے بولی رومیسہ نے مڑ کر اسے دیکھا
“فار واٹ”
وہ مڑ کر دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی مہمل نے بھی اسے دیکھا
“ایوری تھنگ”
کہتے ساتھ اٹھی اور رومیسہ کو گلے سے لگا گیا اور پھر دونوں مسکرائی
••••••••••••••••••••••••••••
مہمل نے نظر وال کلاک پر ڈالی جو رات کے دس بجا رہے تھے اسکا باہر جانے کا دل ہورہا تھا
“شاہ”
وہ آبراش کی طرف دیکھتے ہوئے اسے پکارنے لگی اسکے پکارنے پر اس نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
“لان میں جانا ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے معصومیت سے بولی آبراش نے نظریں دوبارہ لیہ ٹاپ پر مرکوز کرلی
“نہیں مطلب”
وہ اسکے کوئی جواب نہ دینے پر نہ سمجھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گیا
“آپ نے نہیں جانا نہ جائیں میں جارہی ہوں”
مہمل اسکی سنے بغیر تیزی سے کمرے سے چلی گئی آبراش اسے جاتا دیکھنے لگا
آبراش اٹھا اور وارڈروب سے کعٹ اور شال نکال کر خود کو بھی کوٹ سے کور کرتا کمرے سے باہر بڑھا
“اللہ اتنی ڈھنڈ ہے یہاں”
مہمل کانپتے لبوں سے اور اپنے بازو اپنے سینے پر لپیٹے ہوئے بولی
“پہنو یہ”
تبھی آبراش کی آواز کانوں سے ٹکرائی مہمل فوراً مڑ کر دیکھا اسکے ہاتھ میں کوٹ اور شال دیکھ کر مہمل ہلکا سا مسکرائی
“تھینکیو اسکی ضرورت تھی مجھے”
اسکے ہاتھ سے لوٹ لیتے ساتھ کہتی پہننے لگی اور شال میں شانوں پر ڈال لی آبراش جیب میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا
“کتنا خوبصورت لگ رہا ہے نہ”
وہ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے مسکراتے ہوئے کہنے لگی آبراش نے ایک نظر اسے دیکھا
“مجھے ویسے بھی ایسی جگہ پسند مری تو بہت ہے”
وہ نظریں آسمان کی طرف مرکوز کیے بتانے لگی جب آبراش نے اسکی کمر پر بازو ڈال کر اپنے ساتھ لگایا مہمل کی بیٹ مس ہوئی وہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگی اور پھر دوبارہ آسمان کی طرف کر گئی
••••••••••••••••••••••••••••
“تم محبت کرتے ہو اس سے”
بابا نے سامنے بیٹھے شخص کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جو سگریٹ پینے اور سر جھکائے بیٹھا تھا
“محبت کا پتہ نہیں پاس رہنے سے سکون ملتا ہے “
وہ سر اٹھا کر سامنے بیٹھے بابا کہ طرف اپنی گولڈن بلیش آنکھیں کیے جواب دینے لگا جس پر انہوں نے اسے دیکھا
“تو کملے اسے عشق کہتے ہیں اور عشق یہ نہیں کہ وہ تیری بنی عشق تو یہ ہے کہ قائم رہے بےشک وہ کسی اور کا بھی ہوجائے جس سے آپ عشق کرتے ہو اپنے دل میں اسکی لیے کبھی پیار کم نہیں کرسکتے یاد رکھنا میری بات “
بابا کہتے ساتھ اٹھ کر جانے لگا سامنے بیٹھا شخص دیکھ رہا تھا
“عشق”
وہ زیرِ لب اور سگریٹ نکال کر منہ سے لگا کر درخت سے سر ٹکا گیا
•••••••••••••••••••••
“مہمل چلو اندر”
آبراش اسے سرد لہجے میں کہنے لگا مہمل نے اسے دیکھا
“چلیں “
وہ منہ بسور کر کہتے ہوئے چلنے لگی وہ دونوں کمرے میں آئے اور کمرے میں آتے ہی مہمل نے شال اور کوٹ اتارا اور بالوں کو جوڑے میں قید کیے اور باتھروم جانے لگی آبراش خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گیا
وہ کچھ دیر بعد واپس آئی تو نظر اس پر گئی آبراش اسکے آتے ہی اٹھا اور کوٹ اتارا کر بیڈ کی طرف بڑھنے لگا
“اب کیا کریں”
مہمل اسے دیکھتے ہوئے بولی جس پر آبراش نے بھی اسے دیکھا
“اب سو”
وہ مختصر سا جواب دیتے ساتھ لیٹ گیا مہمل اسے لیٹتامہ بسور کر خود بھی بیڈ پر آ گئی مہمل نے آبراش کی کمر پر انگلی رکھ کر اسے ہلکا سا ہلایا وہ نہیں مڑا مہمل نے پھر وہی حرکت دہرائی آبراش نے مڑ کر دیکھا
“سچ میں سورہے ہیں”
وہ معصومیت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی اور آبراش اسے گھورتے ہوئے دوبارہ منہ دوسری طرف کرگیا اور مہمل مسکرائی۔
جاری ہے
قسط کوئی بھی چھوٹی نہ کہنا میں نے یہ بھی بہت مشکل سے لکھی ہے ہاتھ میں بہت درد تھا
