Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Episode 6
وہ ٹیرس سے واپس آیا تو نظر کمرے میں ڈالی وہ کاؤچ میں نیند پوری کرنے میں مصروف تھی اسے دیکھتے ہی آبراش نے گہرہ سانس خارج کیا اور اسکی جانب بڑھا۔۔۔
“اینجل ویک اپ”
وہ اسکے قریب ہوکر اسکے کان میں گھمبیر آواز میں کہتے ساتھ اسے اٹھانے کی کوشش کرنے لگا مہمل منہ بنائے دوسری طرف منہ کر گئی اور کمر آبراش کی طرف کر گئی۔۔۔۔
“اوکے از یو وش”
آبراش نے کہتے ساتھ اسے اپنی گود میں بھرا مہمل اسکے اس طرح اٹھانے پر بھوکلا گئی۔۔۔
“چھوڑیں مجھے مجھے نہیں سونا آپ کیساتھ چھوڑیں آپ برے ہیں”
وہ اسکے سینے پر تھپڑوں کی بارش کرتے ہوئے خود کو اسکی قید نکلنے کی ناکام کوشش کرنے لگی
“یہ چھوٹے اور نرم ہاتھ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے”
وہ اسکے ہاتھوں کو تھامتا بیڈ پر لٹا گیا مہمل غصے سے اسے دیکھنے لگ گئی۔
“مجھے نہیں سونا آپ کے ساتھ “
مہمل غصے سے کہتے ساتھ بیڈ سے اٹھ کر جانے لگی جب اس نے اسے دوبارہ بیڈ پر لٹا دیا اور دونوں بازوؤں کو اپنی قید میں لیا
“تم میری زندگی آئی اپنی مرضی سے تھی مگر کرو گے سب کچھ میری مرضی سے یاد رکھو “
آبراش اسکے چہرے کے قریب ہوتے ہوئے اپنی گرم سانسوں کی تپش اس ننھی سی جان کر محسوس کرواکر اسے بے بس بنا کر خاموش کروا گیا اسکے اس طرح قریب آنے پر مہمل کے دل نے بیٹ مس کی وہ اسکی سانسوں کی گرمائش اپنے چہرے پر محسوس کرکے آگے بند کر گئی اور آبراش نے اسے جھٹکے سے اپنے سینے سے لگایا مہمل کسی روبورٹ کی طرح اسکی جانب کھینچتی چلی گئی
“سوجاؤ اب”
وہ اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہنے لگا مہمل نے اسکے سینے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا
“یہ سب کرنے کے باوجود بھی میں نہیں کروں گی بات آپ سے زبردستی ساتھ سلا سکتے ہیں باتیں منوا سکتے ہیں لیکن میری ناراضگی نہیں ختم کرسکتے”
وہ ناک پھلائے چھوٹی چھوٹی آنکھیں کیے اسے منہ بنا کر کہتے ساتھ دوبارہ منہ سینے میں دے گئی اور اسکے چہرے کے اظہارات دیکھ کر آبراش نے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“ہوگیا ہے سوجائیں اب”
وہ اسکے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے اپنے ساتھ لگائے بولا جس پر وہ منہ بنا گئی
•••••••••••••••••
“آپ نے بریک فاسٹ بنایا ہے”
مہمل نیچے آتے ہی ڈائننگ پر سجا ناشتہ دیکھتے ہوئے رومیسہ سے پوچھنے لگی
“ہاں تم سب کیلیے جلدی اٹھ گئی سوچا تم سب کیلیے بنادو”
رومیسہ جوس کا جگ رکھتے ہوئے اسے مسکراتے ہوئے بتانے لگی تبھی عریش اور آبراش بھی وہاں آئی آبراش مہمل کیساتھ والی کرسی کھسکا کر بیٹھ گیا اور عریش بھی اپنی جگہ سنبھال گیا
“آج باہر گھومنے چلیں”
وہ جوس پیتے ہوئے ان تینوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر مہمل نے اسے دیکھا
“ہاں مجھے مری دیکھنے کا ویسے بھی بہت شوق تھا بٹ ڈیڈ ڈھنڈ کی وجہ سے نہیں لاتے تھے”
وہ رومیسہ کو دیکھتے ہوئے بتانے لگی جس پر رومیسہ مسکرائی
“ڈن آج ہم سب شام میں گھومنے جائیں گے”
رومیسہ انہیں دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگی جس پر مہمل بھی مسکرائی
“ڈن کرو”
عریش اسے دیکھتے ہوئے بولا اور رومیسہ مسکرائی ان سب کے دوران آبراش بلکل خاموش رہا
“تم نہیں جاؤ گے”
وہ آبراش کی جانب نظریں کیے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“نہیں کام ہے مجھے”
مختصر سا جواب دیتا وہ جوس کا گلاس لبوں سے لگا گیا مہمل خاموش بیٹھی ٹوسٹ کھارہی تھی
•••••••••••••••••••
وہ آج پورا دن کمرے میں نہیں گئی تھی چار ہونے کو تھی آبراش بھی آج پورا دن گھر تھااور کمرے میں تھا اس وجہ سے وہ کمرے میں نہیں گئی تھی
“مہمل تمہیں آبراش بلارہا ہے”
رومیسہ ٹی وی لاؤنچ میں آتے ساتھ اسکے ساتھ بیٹھتے ہوئے اسے بتانے لگی اسکی بات سن کر مہمل نے اسکی طرف دیکھا اور اٹھ کر کمرے کی طرف بڑھنے لگی
وہ کمرے میں آئی تو وہ سامنے ہی بیٹھا تھا مہمل نے اسے دیکھا اور منہ بنا کر جاؤ پر بیٹھ گئی
“کیوں بلایا ہے مجھے”
جب آبراش نے کوئی بات نہیں کی تو مہمل نے بات کا آغاز کیا
“میں نے نہیں بلایا”
وہ کہتے ساتھ نظریں لیپ ٹاپ پر مرکوز کر گیا
“آپ کو پتہ ہے میں آپ سے ناراض ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے اسے بتانے لگی جس پر آبراش نے ایک نظر اسے دیکھا
“مجھے فڑق نہیں پڑتا”
وہ اسے کہتے ساتھ لیپ ٹاپ بند کرتا اٹھ کر جانے لگا
“یہ سب کیا ہے راش”
وہ اسکا ہاتھ تھامے اسے روکتے ہوئے بولی
“لیو می دور رہو مجھ سے “
وہ جھٹکے سے اس سے بازو چھڑواتا سرد لہجہ میں کہنے لگا مہمل اسے دیکھ رہی تھی
“نہیں رہوں گی قریب رہوں گی آپ کے “
وہ اسکا راشتہ پھر سے روکتے ہوئے پوچھنے لگی جب آبراش نے بازوسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا
“میری بات دھیان سے سنو میرے قریب آؤ گی تو بس خود کو تکلیف پہنچاؤ گی اور کچھ بھی نہیں سمجھی دور رہو مجھ سے بہتر یہی ہے “
وہ اسکا بازو مضبوط گرفت میں لیے سخت لہجے میں کہتے ساتھ اسے جھٹکے سے وہاں سے چھوڑتا باہر چلا گیا مہمل جاتا دیکھنے لگ گئی
“مجھے ایک انجان پر اتنا یقین نہیں کرنا چاہیے تھا کبھی بھی کسی نے مجھ سے اس طرح بات نہیں کی مجھے مام ڈیڈ کے پاس جانا ہے”
وہ وہی آنکھوں میں آنسو لیے بیٹھتے ہوئے افسردہ سی بولی
••••••••••••••••••
“مہمل کہاں ہے”
رومیسہ روم ناک کرتی اندر آئی اور آبراش کو سامنے کھڑا پاتے ہوئے پوچھنے لگی آبراش نے باتھروم کی طرف اشارہ کیا
تبھی وہ ریڈ کلر کے کورٹ میں ساتھ میں بلیک پینٹ پہنے پیروں پر فلرٹس چڑھائی میں بالوں کو کھولے بےحد پیاری لگ رہی تھی
“جی بولیں”
وہ باہر آتے ساتھ رومیسہ کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“واہ کیوٹو تم تو اس میں بہت پیاری لگ رہی تھی یہی کہنے آئی تھی جلدی سے آجاؤ تم دونوں میں اور عریش ریڈی ہیں”
وہ مہمل کو دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ اسے شرمانے پر مجبور کر گئی اور وہ جواباً اثبات میں سر ہلا گئی
وہ بالوں کو کیچڑ میں قید کیے ڈریسنگ کے سامنے آئی آبراش باہر چلا گیا مہمل اسے جاتا دیکھنے لگی ۔
لکڑیوں کی بنی سیڑھیوں وہ اپنی پہنے اس پر چلتی نیچےکی طرف آرہی تھی ہیلز کی آواز سے رومیسہ اور عشر اس جانب متوجہ ہوئے وہ تینوں ٹی وی لاونج میں اسی کا ہی انتظار کررہے تھے ریڈ کورٹ میں بلیک پینٹ پہنے ساتھ میں بلیک ہیلز چڑھائے سیاہ بالوں کو ہائی پونی میں قید کیے لائٹ سے میک ایپ ہونٹوں پر ریڈ لپسٹک لگائے جو اسکی سفید رنگت پر بےحد جچ رہی تھی وہ کسی کو بھی اسوقت اپنی طرف مائل کرنے کا ہنر رکھتی تھی آبراش جو نظریں ریسٹ واچ پر ڈالا ہوئے تھا نظریں اٹھا کر اسے ایک نظر دیکھا وہ مسکراتے ہوئے نیچے آئی
“چلو میں اور عشر تو جارہے ہیں تم لوگ اپنی گاڑی میں آجانا”
رومیسہ آبراش اور مہمل کو دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ عشر کا ہاتھ تھامے نکل گئی اور وہ دونوں خاموش کھڑے رہے
“You look damn pretty angel”
وہ اسکے قریب ہوکر اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر کان کے قریب ہوکر گھمبیر آواز میں کہتے ساتھ اسکی بہت سی بیٹس مس کروا گیا مہمل نظریں جھکائے گھبرائی ہوئی کھڑی رہی اور آبراش کہتے ساتھ اسے اپنی گرفت سے آزاد کرتا باہر کی طرف بڑھ گیا مہمل ہلکا سا مسکرا کر اسکے پیچھے چل دی
•••••••••••••••••••••
“وہ چاروں اس وقت گھوم رہے تھے آبراش مہمل ساتھ چل رہے
“یہ سب بہت پیارا ہے بہت زیادہ”
وہ سڑکوں پر نظر گھمائے اشتیاق سے مسکراتے ہوئے بولی آبراش نے ایک نظر اس پر ڈالی اور کچھ بھی نہیں بولا
“وہ مسکرائے بھی تو کیا ہائے
میں صدقے جاؤ اسکے”🙈❤️
مہمل مسکراتے ہوئے آس پاس دیکھ رہی تھی تبھی نظر ایک بچے پر گئی جو پھول بیچ رہا تھا اور آنکھوں میں آنسو تھے مہمل کے چہرے پر اچانک اداسی چھا گئی
“ہائے”
وہ اسکے پاس جاکر اسے مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلانے لگی وہ بچہ ہلکا سا مسکرایا
“آپ رو کیوں رہے ہو”
مہمل اسکے آنسو پونچھتے ہوئے پیار سے پوچھنے لگی
“مجھ سے کوئی پھول نہیں لے رہا ہے”
وہ روتے ہوئے اسے بتانے لگا جس پر مہمل کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہوگئی وہ اٹھی اور آبراش کے پاس گئی جو ایک سائیڈ پر کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا
“والٹ چاہیے”
وہ ہتھیلی پھیلائے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی آبراش نے اسے خاموشی سے جیب سے والٹ نکال کردے دیا جس پر مہمل ہلکا سا مسکرائی اور واپس اس بچے کی طرف بڑھی
“یہ لو “
وہ پیار سے اس والٹ سے کچھ نوٹ نکال کر دیتے ہوئے اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی
“نہیں میں محنت سے کمانا چاہتا ہوں ایسے نہیں لوں گا آپ کو یہ پھول لینے ہوں گے”
وہ اسے پھول دیتے ہوئے فوراً بولا
“چلو میں صرف ایک لوں گی پھول یہ پیسے تم مجھے اپنی بڑی بہن سمجھ کر لے لو”
وہ مسکراتے ہوئے اسے بولی جس پر وہ ہلکا سا مسکرایا اور مہمل کے گلے لگا گولڈن بلیش آنکھیں اس پر جمی ہوئی تھی وہ اسے کب سے یوں ہی دیکھ رہا تھا بچے کی مدد کرتا دیکھ اس سفاک کے چہرے پر بھی مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی
“میں نے تم سے پیار اس لیے نہیں کیا تمہارا ملنے یا نہ ملنے سے مجھے فڑق نہیں میں تمہیں چاہتا ہوں تمہیں دیکھ لیتا میرے لیے یہی بہت ہے”
وہ اس پر نظریں جمائے دل میں کہنے لگا مہمل مسکراتے ہوئے مڑی
“رومی”
عریش نے اسے پکارتے ہوئے اپنی جانب متوجہ کیا وہ مڑی
“واٹ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“تمہارا ہیرو ڈھونڈ لیا ہے۔ میں نے”
وہ ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہوئے کہنے لگا رومیسہ اس جانب دیکھنے لگ گئی
“عریش بدتمیز میرے ڈیڈ کی ایک کا ہے وہ ذرا شرم کرو “
وہ غصے سے لال ہوتے ہوئے چہرے کیساتھ اسے سناتے ہوئے آگے بڑھ گئی عریش کاقہقہ چھوٹا
“سنو تو “
عریش اسکے پیچھے گیا
“آبراش پانی پوری “
مہمل کی نظر جیسے ہی پانی پوری پر گئی وہ آبراش کو پکارنے لگی آبراش نے اسے دیکھا
“صرف دو کھاؤں صرف دو ویسے بھی بات سے مت پیچھے ہوں صرف دو کھاؤں گی صرف دو”
وہ ضد کرتے ہوئے اس سامنے کھڑے شخص سے اپنی بات منوانے پر کامیاب ہوگئی تھی وہ کچھ کہے بغیر خاموشی سے آگے بڑھ گیا مہمل بھی پیچھے آئی
“ایک تو کھائیں”
مہمل آبراش کی طرف پوری کیے ہوئے کہنے لگی جس پر وہ نفی کرنے لگا
“ایک نہ صرف ایک “
وہ اسے منہ بنائے کہتے ساتھ زبردستی منہ میں ڈالنے لگ گئی رومی اور عریش منہ کھولے ایکدوسرے کو دیکھنے لگی وہ شخص کچھ بھی نہیں بولا تھا کسی نے زبردستی اسکے ساتھ کی تھی وہ دونوں خاموش ہو گئے
“چلو مال چلیں گے اب”
رومیسہ ان تینوں کی طرف دیکھتے ہوئے بتاتے ساتھ پانی پینے لگی
“نہیں گھر”
عریش نے فوراً اسکی بات سے انکار کیا
“بلکل بھی نہیں مجھے ابھی اور گھومنا ہے اور میرے اینگری مین مجھے گھمائیں گے”
وہ اسکے بازو میں بازو ڈالے مسکراتے ہوئے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی عریش خاموش ہو گیا اور رومیسہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور وہ بےتاثر کھڑا تھا
•••••••••••••••••••
وہ چاروں اس وقت مال میں گھوم رہے تھے آبراش نے اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا آنکھیں نظر آرہی تھی جو بہت سی لڑکیوں کو اپنی طرف متوجہ کررہی تھی
“ایسے نہیں بال ہونے چاہیے یہ اچھے الگ رہے”
مہمل کی نظر ایک لڑکی پر گئی جو گھور کر آبراش کو دیکھ رہی تھی وہ فوراً آبراش کے قریب ہوکر بالوں پر ہاتھ پھیر کر کہنے لگی
“ہم باہر ہیں “
وہ اسے سرد لہجے دیکھتے ہوئے بولا مہمل شرمندگی سے دور ہوئی اور دونوں چلنے لگ گئے
“واؤ یہ کتنی پیاری ہے”
مہمل کی نظر ایک ڈول پر گئی وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر کہنے لگی آبراش اسکے ساتھ ساتھ ہی تھا
“مجھے یہ لینی ہے مجھے پیاری لگ رہی ہے”
وہ ڈول کو پکڑے آبراش کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر آبراش حیرت سے اسے دیکھنے لگ گیا اور جن نظروں سے اس نے اسے دیکھا تھا مہمل اپنی ہنسی بامشکل ضبط کر گئی تھی
“مجھے لینی ہے لینی ہے نا پلیزز”
وہ کہتے ساتھ اٹھاتے ہوئے کاؤنٹر کی طرف بڑھ گئی تھی آبراش خاموش رہا تھا مہمل سمجھ گئی تھی اسے کوئی اعتراض نہیں ہے وہ خوشی خوشی اسے پیک کروانے لگ گئی
جاری ہے
See translation
Jeeya Khan
1y
Share
Jeeya Khan
1y
Share
Jeeya Khan
