Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Episode 2
وہ اس وقت اپنی فرینڈز کیساتھ ہوٹل میں موجود تصاویر وغیرہ اور باتیں کرنے میں مصروف تھی اس بات سے انجان کے کسی شخص کی نظریں اس پر جمی ہوئی ہے وہ اسکے ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھا منہ کو نقاب سے دھکے اپنی گولڈن بلیش آنکھیں اسکی طرف کیے ہوا تھا
“ایک منٹ میں آئی میں”
مہمل اپنی فرینڈز کو کہتے ساتھ کال اٹینڈ کرتی ہوٹل کے باہر آئی کال تین سے چار دفعہ آچکی تھی مگر آواز کٹ رہی تھی بس اس لیے وہ اٹھ کر باہر کی طرف بڑھ گئی
“جی مام تھوڑی دیر میں بھیج دیجیئے گا ڈرائیور کو”
وہ کہتے ساتھ کال رکھتی اندر جانے ہی لگی جب کسی نے اسکی ناک پر رومال رکھ دیا مہمل ایکدم اس حملے کیلیے تیار نہیں تھی خود کو چھڑوانے کی کوشش کی مگر ناکام رہی اور کچھ ہی دیر میں وہ بےہوش ہو گئی تبھی کسی دوسرے شخص نے آکر اسے باہوں میں بھرا
“چھوڑ دو مجھے جانے دو میرے مام ڈیڈ پریشان ہورہے ہوں گے بگاڑا کیا ہے میں نے تمہارا پلیززز چھوڑ دو”
وہ روتے ہوئے ناجانے کتنی دفعہ یہ الفاظ بول رہی تھی مگر سامنے جھڑے تینوں وجود پتھر کے تھے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کررہے تھے اس معصوم ہر ترس بھی نہیں کھارہے
“کیوں رکھا ہے مجھے مجھے جانا ہے جانے دو”
وہ روتے ہوئے چیخی مگر وہ تینوں خاموش کھڑے رہے
تاریکی میں ڈوبا ہوا کمرا چاروں طرف خاموشی کا راج تھا وہ چیخ چیخ کر تھک ہار کر خاموش ہو گئی تبھی کسی کے پیروں کی چاپ اس خاموشی میں ارتعاش پیدا کرنے لگی کسی کے پیروں کی آواز سن کر وہ معصوم کمزور جان نظریں بامشکل اٹھا کر سامنے کھڑے وجود کو دیکھنے کی کوشش کرنے لگی اندھیرے کی وجہ سے وہ شخص اسے نہیں دیکھ رہا تھا
“سر کوئی ہے”
تبھی ان دو آدمیوں سے ایک نے کیڈنیپر کو مخاطب کیا جس پر وہ مڑ کر دیکھنے لگا اور تاریکی میں ڈوبے ہوئے کمرے کو اجالا میں کیا نظر سامنے گئی گولڈن بلیش سرخ آنکھیں لیے رگیں پھولے ہوئی وہ انہیں کی طرف دیکھ رہا تھا اسکی آنکھیں دیکھ کر سامنے کھڑا شخص کانپ کر رہ گیا
“کک۔۔کون کو۔تم”
ہچکچاتے ہوئے وہ سامنے کھڑے اس خوفزدہ وجود سے پوچھنے لگا
“کوبرہ”
ایک لفظی جواب دیتا وہ آگے بڑھا مہمل چھوٹی آنکھیں کیے اسے بس دیکھ رہی تھی
“کک۔کیا لینے آئے کو”
سامنے کھڑا کیڈنیپر اسکی سرخ انگارہ برستی آنکھوں میں نہیں دیکھ سک رہا تھا اس لیے نظروں کا تعاقب دوسری سمت کرتے ہوئے پوچھنے لگا
“لیو ہر”
وہ سامنے اس معصوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا مہمل اسے پہچان گئی تھی یہ وہی تھا جس نے اس دن اسکا پرس بچایا تھا کیڈنیپر نے نفی میں سر ہلایا اسکے انکار پر سامنے کھڑے اس وحشی شخص کا دماغ گرم ہوگیا اوہ وہ غصے سے چاقو نکال کر اس پر فوراً وار کرگیا اسے خود کو بچانے تک کا موقع نہیں دو منٹ میں کھڑے کھڑے ان تینوں کو وہ اپنے چاقو سے فارغ کرتا اس معصوم کی جانب بڑھا اور اسکی رسیاں کھولی جیسے اسکے ہاتھ پیر کھلے وہ سیدھا اٹھ کر سامنے اس سفاک وحشی کے سینے سے لگ گئی
“تھینکیو سو سو مچ یو آر دا ریل ہیرو تھینکیو”
وہ اسکے سینے سے لگی روتے ہو کہنے لگی مگر اس بات سے انجان جسے وہ ہیرو کہ رہی ہے وہ ولن ہے کوبرہ کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آئی آنکھیں چمکنے لگی وہ اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھامے اپنے ساتھ لے جانے لگا
وہ جیسے ہی اسے باہر نکال کر لایا تھا دو قدم چلنے کے بعد مہمل نے مڑ کر دیکھا تو پیچھے کوئی بھی نہیں تھا
“سپر ہیرو”
وہ پریشانی سے نظریں ادھر ادھر گھمانے لگی وہ پریشان ہوئی اس انجان جگہ میں وہ بلکل اکیلی تھی
“کہاں چلے گئے وہ”
وہ اداسی سے بولی
“آر یو اوکے”
تبھی کوئی انجان بھاری آواز کانوں سے ٹکرائی وہ جو نظریں جھکائے کھڑی تھی نظریں اوپر اٹھائی سامنے ایک انتہائی خوبصورت اور ڈیشنگ لڑکے کو دیکھ کر جو جیب میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا بلیو عائز چمک رہی تھی وہ دیکھنے میں بہت ہی خوبصورت اور پرکشش اور کمال کی پرسنیلٹی رکھتا تھا۔
“یہ تو بلکل ناول کے ہیرو کی طرح ہے”
مہمل اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی آبراش شاہ نے اسکے چہرے کے آگے چٹکی بجائی جس پر وہ ہوش میں آئی
مہمل نے اسے سب بتایا وہ سپاٹ انداز میں اسکی ساری باتیں سننے لگ گیا
“چلو”
وہ اسکو کہتے ساتھ جیب میں ہاتھ ڈالے آگے بڑھ گیا
“ٹرسٹ کرنا چاہیے کیا مجھے”
وہ اسکی کاشت کو دیکھتے سوچنے لگی تبھی وہ مڑ کر دیکھنے لگا
“ٹرسٹ می”
وہ اسکے چہرے پر نظریں جمائے بولا مہمل حیرت میں مبتلا ہوگئی اسے کیسا معلوم کوا وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے ساتھ چلنے لگ گئی
“ہم کدھر ہیں”
وہ اسکے ساتھ مسلسل چل رہی تھی اب تھک کر وہ پوچھنے لگی۔
“مری”
اس شخص نے لفظی جواب دیتے ساتھ اسے گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا
“مری مگر میرا گھر تو کراچی ہے اور میں مری کیسے آئی پلیزز مجھے میرے مام ڈیڈ کے پاس جانا ہے وہ پریشان ہورہے ہوں گے”
مہمل مری کا نام سنتے ہی صدمے میں چلی گئی وہ تو کبھی اکیلی شاپنگ پر بھی نہیں گئی اور اسوقت اکیلی مری تھی
“چھوڑ دوں گا “
وہ گاڑی ڈرائیور کرتے ہوئے اسے جواب دینے لگا مہمل اسے دیکھنے لگ گئی
“ہم کہاں جارہے ہیں بتائیں گے آپ”
وہ اسے دیکھے ہوئے پوچھنے لگی سامنے کھڑے اسکی طرف سرخ نظریں کی جس پر وہ تھوڑا گھبرائی
“بیٹھو”
وہ سرد لہجے میں اسے بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگا جس پر وہ خاموشی سے بیٹھ گئی آبراش ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر گاڑی سڑک پر زن سے بھگا گیا۔
“پلیزز بتادیں ہم کہاں جارہے ہیں”
وہ ایک گھنٹے سے مسلسل خاموش بیٹھی تھی اس دفعہ اکتا کر پوچھنے لگی
“سب پتہ لگ جائے گا”
وہ اسے کہتے ساتھ گاڑی موڑ گیا اور مہمل منہ بسور گئی
“ایک بات پوچھوں”
وہ اسکی طرف نظریں کیے آنکھیں پٹپٹا کر معصومیت سے مخاطب ہوئی جس پر سامنے بیٹھے شخص نے صرف سر کو خم دیا تھا
“آپ کون ہو”
وہ معصومیت سے منہ بنائے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“اس سے مطلب نہیں ہونا چاہیے”
اس شخص نے نظریں گھما کر اپنی آنکھیں اس پر ڈالتے ہوئے کہا
“آپ بلکل ناول کے ہیرو کی طرح ہے “
وہ مسکراتے ہوئے اسے بتانے لگی اور وہ اس وقت اس قدر معصوم لگ رہی تھی کہ سامنے بیٹھا شخص اسے ایک پل نظر چھپکائے دیکھنے لگ گیا
“ہم پہنچ گئے کیا”
گاڑی کو جیسے ہی بریک لگی مہمل نے اس سے پوچھا جس پر وہ اثبات میں سر ہلا کر گاڑی سے اترا اور اسکی طرف کا دروازہ کھول کر اسے باہر آنے کا اشارہ کیا اور وہ باہر آ گئی
“کیا بکواس کررہے تم گھنٹے سے اسے لینے گئے تھے اور مہمل وہاں تھی ہی نہیں”
اختر خان غصے سے دھاڑے جس پر ڈرائیور سہم کر رہ گیا
“سر میں نے دوستوں سے بھی پوچھا تو وہ کہ رہی ہمیں نہیں معلوم وہ آئی تھی کال کا کہ کر باہر گئی تھی اسکے بعد اندر نہیں آئی”
وہ انہیں ساری بات سے آگاہ کرنے لگا
“ہائے اللہ پتہ نہیں میری بچی کیسی ہوگی اللہ جانے کسی نے کیڈنیپ تو نہیں کرلیا ہے بھی بہت معصوم”
مہ جبین بیگم روتے ہوئے کہنے لگی
“پریشان مت ہو سب ٹھیک ہو اللہ بہتر کرے گا وہ مل جائے گی میں ڈرائیور کیساتھ اور کچھ گارڈز وغیرہ کیساتھ اسے ڈھونڈنے جارہا ہوں نہ ملی تو پولیس میں رپورٹ کروائی گے ہم اپنی بچی کو کچھ نہیں ہونے دیں گے”
آختر خان انہیں تسلی دیتے ساتھ اپنے گارڈز کے ساتھ چل دیے اور نہ جبین بیگم روتی چلی گئی
“یہ کس کا گھر ہے”
وہ نظریں پورے گھر میں گھما کر جو بلکل محل کی طرح بنا ہوا تھا حیرت سے پوچھنے لگی
“میرا”
سامنے کھڑے شخص نے مختصر سا جواب دیا جس پر مہمل نے اسے دیکھا
“اتنے بڑے گھر میں اکیلے تو نہیں رہتے ہوں گے آپ”
مہمل معصومیت سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی
“اکیلا ہی رہتا ہوں اکیلا ہوں”
وہ سنجیدگی سے جواب دیتے ساتھ آگے بڑھنے لگا مہمل کو وہ بلکل ٹوٹا ہوا سا لگا
“میں ہوں آپ کیساتھ اکیلے تو نہیں ہیں آپ”
مہمل اسکے ساتھ چلتے ہوئے اسے مسکرا کر کہنے لگی وہ بدلے میں کچھ نہیں بولا
“آبراش تم آ گئے”
تبھی ٹی وی لاؤنچ میں ان۔ دونوں نے ایک بزرگ عورت کو بیٹھا دیکھا
“اسلام و علیکم”
وہ انہیں دیکھ کر بغیر کسی حیرت سے سلام کرنے لگا جس پر انہوں نے جواب دیا
“وجہ آنے کی”
وہ ان کیساتھ بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگا مہمل وہی کھڑی رہی
“تمہاری یاد آرہی تھی آ گئی ملنے یہ کون ہے”
وہ جواب دیتے ساتھ سامنے مہمل کی طرف اشارہ کرنے لگی آبراش نے اسکی طرف دیکھا جو دانتوں تلے لب دیے نظریں جھکائے کھڑے ہوئے آس وقت حد سے زیادہ معصوم لگ رہی تھی
“مشکل میں تھی کچھ دن یہی رہے گی”
وہ انہیں جواب دیتے ساتھ اٹھ کر جانے لگا
“ایسے کیسے ایسا نہیں ہوسکتا ایک غیر لڑکی کو تم نہیں رکھ سکتے ہو اپنے ساتھ تم پاگل تو نہیں ہو لوگ بہت باتیں کریں گے تمہاری نہیں اس لڑکی کی عزت پر انگلیاں اٹھائیں گے نہ تو ابھی چلی جاؤں گی کیونکہ تم جانتے ہو مجھ۔ سے نہیں رہا جاتااس ویرانے میں تو اس لڑکی کا کوئی اور بندوبست کرو “
وہ عورت فوراً بولنے لگی مہمل بھی انہیں دیکھنے لگ گئی
“اگر ان آنٹی کو میرا یہاں رہنا نہیں اچھا لگتا تو پلیززز آپ مجھے چھوڑ دیں میرے گھر یا کہیں اور میں کہیں اور رہ لوں گی”
مہمل آبراش سے مخاطب ہوئی آبراش ان دونوں کو دیکھنے لگ گیا
“یہ یہی رہے گی”
وہ اپنے بات بولتے ساتھ اوپر کی طرف بڑھنے لگا
“آپ سمجھ کیوں نہیں رہے مجھے میرے گھر جانا ہے میرے ماما ڈیڈ پریشان ہوں گے”
مہمل اسے اونچی آواز میں کہنے لگی
“سمجھو تمہارے ماں باپ کو معلوم ہے”
وہ اسے جھوٹی تسلی دینے لگا اور مہمل اسے جاتا دیکھنے لگ گئی
“ٹھیک ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے یہ رہے لیکن کسی رشتے سے میں نہیں چاہتی اس معصوم پر لوگ باتیں کریں اگر تم اسے یہاں رکھنا چاہتے ہو ابھی اور اسی وقت اس سے نکاح کرلو”
اس عورت کو ناجانے بیٹھے بیٹھے کیا سوجی فوراً بول گئی انکی بات سن کر آبراش کے بڑھتے قدم رکے اور وہ مڑ کر دیکھنے لگا مہمل بھی انکی بات سن کر حیرت میں مبتلا تھی
“آپ ہوش۔ میں ہیں نانو کیا بول رہی ہیں آپ”
وہ غصے سے سرخ ہوتی آنکھوں کیساتھ کہتے ساتھ اوپر کی طرف بڑھ گیا اسکے جانے کے بعد آبراش کی نانو نے مہمل کو اپنے پاس بلایا
“دیکھو بیٹا یہ دنیا بہت ظالم ہے بہت باتیں بناتے ہیں تم بےحد معصوم ہو میں نہیں چاہتی تم پر بلاوجہ کی باتیں میں خود ایک عورت ہوں تم اوپر جاکر اسے نکاح کیلیے مناؤں یا پھر اسے کہو تمہیں کہیں اور چھوڑ آئے یوں غیر مرد کیساتھ ایک گھر میں رہنا ٹھیک نہیں ہے سمجھ رہی ہو نا”
وہ اسے پیار سے سمجھانے لگی جس پر مہمل اثبات میں سر ہلا کر اوپر کی طرف بڑھنے لگی
“اللہ تعالیٰ بس مارے نہ مجھے”
وہ گھبراتے ہوئے کہتے ساتھ جس روم کا دروازہ کھلا تھا اس پر دستک دینے لگی وہ مڑا اور سامنے کھڑی اس معصوم لڑکی کو دیکھنے لگا
“مم۔۔مجھے بات کرنی ہے “
وہ نظریں جھکائے ہاتھ مسلتے ہوئے گھبرا کر بولی
“آجاؤ”
مختصر سا جواب دینے لگا جس پر مہمل چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر اسکے پاس آئی
“دیکھیں آپ کی نانو ٹھیک بات کررہی ہیں اگر نکاح نہیں کرسکتے تو مجھے یہاں رہنے نہیں چاہیے. یا تو آپ کہیں چھوڑ آئے جو بھی ہے ہے تو آپ نامحرم ہی نہ میرے لیے اور ویسے بھی میں اتنی بری نہیں ہوں کہ مجھ سے آپ نکاح نہ کریں مانا آپ تھوڑے زیادہ والے ہینڈسم ہے اور مجھے اچھے بھی لگے ہیں لیکن میں اتنی بری بھی نہیں ہوں”
وہ منہ بناتے ساتھ اسکی پیٹ تکتے ہوئے ڈرے بغیر بولی یہ جانے بغیر سامنا کھڑا شخص ایک سے دوسری بات کسی کی نہیں سنتا اور اسکی باتیں سن کر آبراش نے رخ موڑ کر اسکی طرف دیکھ
“یہ تمہاری زندگی کا معاملہ ہے سوچ لو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر مہمل نے نظریں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا
“مجھے آپ پہلی نظر میں ہی بہت پسند آ گئے تھے اور میرا تو خواب ہے آپ سے شادی کرنا میں نے سوچ لیا ہے مجھے آپ سے نکاح کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے”
وہ معصومیت سے اسے بولی آبراش نے ایک نظر اسے دیکھا وہ جیسااسے سمجھ رہی تھی وہ اس سے بلکل مختلف تھا اور وہ کچھ کہے بغیر چلا گیا مہمل بھی کمرے سے چلی گئی
نکاح ہو چکا تھا نکاح پڑھوانے کے بعد آبراش کی نانی جا چکی تھی اور وہ اس وقت اسکے کمرے میں کھڑی کمرے کو دیکھ رہی تھی وہ واقع میں بہت بڑا اور زبردست کمرا تھا
“کام کیا کرتے ہوں گے اتنا بڑا گھر”
مہمل سوچتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئی تبھی وہ کمرے میں داخل وہ جو ابھی بیٹھی تھی اسکے آتے کھڑی ہو گئی اور وہ ایک سرسری سی نظر اس پر ڈال کر باتھروم کی طرف بڑھ گیا۔
“اتنی بھی خوفناک نہیں لگ رہی”
خود سے کہتے ساتھ اپنا عکس شیشے میں دیکھنے کیلیے آئی
تبھی وہ باتھروم سے باہر آیااور کچھ کہے بغیر کاؤچ پر لیٹ گیا
“آپ یہاں سوئے گا شاہ”
وہ معصومیت سے ڈریسنگ کے پاس کھڑی پوچھنے لگی وہ جواباً صرف سر ہلا سکا اور مہمل اسے دیکھنے لگ گئی
“اتنا بڑا بیڈ ہے میں تو اتنی سی جگہ پر آجاؤں گی باقی جگہ أپ سوجائیں مجھے ادھر اکیلے ڈر لگے گا”
وہ معصومیت سے اسکے قریب آتے ہوئے اسے آئستگی سے کہنے لگی اس پر شاہ نے اس پر نظر ڈالی جو خود زدہ چہرے کے ساتھ ساز بیڈ پر نظریں گھما رہی تھی وہ کچھ کہے بغیر بیڈ پر آکر لیٹ گیا مہمل اسے بیڈ پر لیٹا دیکھ مسکرائی اور اسکے ساتھ آکر سونے لگی
“شاہ”
مہمل اسکے ساتھ لیٹے اسے پھر پکارنے لگی اس نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا وہ شخص اپنی نیند میں کسی قسم کا خلل برداشت نہیں کرتا وہ اسے کب سے نیند میں پکار رہی تھی
یہ کپڑے نہ کمفرٹیبل نہیں ہے آپ کے پاس کوئی ہے ڈریس “
وہ اسکی بلیو آنکھوں کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی وہ اٹھا اور وارڈروب سے ایک ٹی شرٹ اور اپنا ٹراؤزر دے دیا
“تھینکیو”
وہ اسے کہتے ساتھ ٹراؤزر شرٹ لیتی باتھروم میں بند ہو گئی
کچھ دیر وہ اس شرٹ ٹراؤزر میں ملبوس جو اسے بہت زیادہ کھلا تھا وہ خود کو پاگل سمجھ رہی تھی لیکن گزارا تو کرنا ہی ہوگا
“شاہ کل مجھے مام ڈیڈ پاس لے جائیں گے مجھے بہت یاد آرہی ہے وہ بھی پریشان ہورہے ہوں گے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے اداسی سے کہنے لگی
“ابھی نہیں”
وہ جواب دیتے ساتھ سیدھا ہوکر لیٹ گیا
“ایک بات بتائیں”
وہ اسکے تھوڑا قریب ہوکر اسکے چہرے پر نظر ڈال کر اسے بولی اس نے پھر آنکھیں کھول کر اسے دیکھا
“یہ آنکھیں ریل ہے”
وہ اسکی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے معصوم سا سوال کرنے لگی
“چپ بلکل چپ”
وہ اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھے اسے کہتے ساتھ اپنی طرف کھینچ کر اپنے حصار میں مضبوطی سے قید کرکے آنکھیں بند کر گیا مہمل کی سانسیں ایکدم رک سی گئی اسکا دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا وہ اس میں چھپ گئی تھی اور گھبراتے ہوئے خود بھی آنکھیں بند کر گئی
جاری ہے۔
