Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Episode 3
گھڑی اس وقت صبح کے سات بجا رہی تھی وہ شخص اپنی آنکھیں کھولو چہرے پر ہاتھ پھیرے نظریں اپنے ساتھ سوئے معصوم وجود پر ڈال گیا جو اسکی میں اسکے سینے میں منہ چھپائے اسکی گرم سانسیں اپنے سینے پر محسوس کرکے وہ اسے اپنی قید سے آزاد کرتا آرام سے اسکے سر تکیہ رکھتے چہرے پر آئی شرارتی لٹھ کو کان کے پیچھے کیے اس پر گہری نظر ڈالے جو اس وقت سوتے ہوئے بےحد معصوم پیاری لگ رہی تھی اور خود اٹھ کر بھاری بھاری قدم اٹھائے باتھروم کی طرف بڑھ گیا۔
کچھ دیر میں وہ وائٹ شرٹ پہنے ساتھ میں جینز چڑھائے جو اسکی پرسنیلٹی میں کمال کی لگ رہی تھی بڑے بال بڑی ںئیرڈ اوپر سے چمکتی بلیو آنکھیں چہرے پر سنجیدگی سجائے وہ نیچے کی طرف بڑھا۔۔
وہ لاؤنچ میں پہنچا ہی تھا سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کر وہ خاموشی سے جانے لگا۔۔
“تم نے کیوں کیا ہے نکاح اس لڑکی سے “
عریش سرد و سپاٹ لہجے میں سامنے کھڑے شخص سے مخاطب ہوا جس نے مڑ کر اسے دیکھا
“بات پتہ نہ ہو مت بولو”
وہ انتہا کا سرد لہجہ اختیار کیے اسے جواب دیتے ساتھ باہر کی طرف بڑھ گیا
اور وہ خاموشی سے۔ دوبارہ سے صوفے پر بیٹھ گیا وہ انسان صرف اپنی ہی سنتا اور جو اسکا دماغ کہتا تھا وہی کرتا۔
اسکی۔ آنکھ کھلی آنکھیں مسلتی وہ اٹھ کر بیڈ کراؤن کیساتھ ٹیک لگا گئی ابھی وہ تھوڑا نیند میں تھی جب نظر کمرے میں گئی اسے کل جو ہواوہ سب یاد آیا۔۔
“وئیر از اینگری مین”
وہ اسے اپنے ساتھ سوتا نہ پاکر اسے ایک نام سے پکارتے ہوئے بیڈ سے اٹھی اور واشروم کی طرف بڑھا مگر وہ واشروم میں بھی نہیں تھا
“کہاں چلے گئے صبح صبح مجھے چھوڑ کر”
وہ اداسی سے کہتے ساتھ سلیپر پہننے لگی بالوں کو پونی میں قید کیا اور نیچے کی طرف بڑھی
“ایک تو اتنا بڑا گھر ہے کوئی بھی گم ہوسکتا ہے”
منہ بنائے کہتے ساتھ وہ زینے اتر کر ٹی وی لاؤنچ میں آئی سامنے انجام شخص کو بیٹھا دیکھ مہمل گھبرا سی گئی عریش کی نظر بھی اس پر گئی
“کک۔۔کون ہو “
مہمل گھبراتے ہوئے ہمت کرتے اس انجان شخص سے مخاطب ہوئی
“گھبراؤ نہیں میں آبراش کا چھوٹا بھائی ہوں عریش”
وہ اسے گھبراتا دیکھ نرمی سے اسے کہنے لگا جس پر مہمل کو تھوڑی سی تسلی ہوئی
“آپ کہاں تھے کل تو نہیں تھے “
وہ معصومیت سے اسکی طرف نظریں کیے اسے پوچھنے لگی جس پر عریش جو فون پر کچھ پڑھنے لگا تھا اسکی بات سے دھیان دوبارہ اس طرف گیا
“ضروری کام سے باہر تھا”
وہ اسے مختصر سا جواب دیتے ساتھ جانے لگا مہمل اسے جاتا دیکھنے لگی
“سنیں”
وہ اسے جاتا دیکھ کر پکار کر روکنے لگی اسکی آواز سے عریش رکا اور مڑ کر اسے دیکھا
“میرے اینگری مین کہاں ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھنے لگی
“اینگری مین آبراش کی بات کررہی ہے شاید”
وہ خود کلامی کرتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جس پر مہمل نے اسے پھر مخاطب کیا
“باہر گیا ہے آجائے گا “
وہ اسے کہتے ساتھ اوپر چلا گیا اور مہمل منہ بنا گئی
“یہ بھی سڑیل”
وہ منہ بنائے اسے کہتے ساتھ دوبارہ کمرے کی طرف بڑھ گئی اور وہی بیڈ پر بیٹھ کر آبراش کے آنے کا انتظار کرنے لگی
“ہم نے کراچی کا چھپہ چھپہ چھان مارا ہے آپ کی بیٹی کہیں بھی نہیں ملی”
انسپکٹر آتے ہوئے انہیں بتانے لگا جس پر مہ جبین کی حالت اور بگڑتی چلی گئی
تبھی گارڈ اندر داخل ہوا
“کیا ہے یہ”
اختر خان اسکے ہاتھ میں خاکی لفافہ دیکھ کر پوچھنے لگی
“صاحب کوئی لڑکا تھا کہ اختر خان کو دے دینا یہ تو وہی دینے آیا ہوں”
وہ اسے بتانے اور لفافہ تھماتے چلا گیا اختر خان ماتھے پر بل لیے لفافہ کھولنے لگے پانچ چھ تصویریں تھی
“مہمل”
اختر خان تصویروں میں مہمل کو دیکھ کر حیرت میں مبتلا ہوئے وہ کسی عجیب سے شخص کیساتھ بیٹھی تھی ساتھ مولوی بھی موجود تھا ایک میں وہ سائن کررہی تھی اور ایک میں وہ دعا کررہی تھی اختر خان کو گہری صدمہ لگا
“نہیں یہ میری مہمل نہیں ہوسکتی ہے وہ ایسا کیسے کرسکتی ہے”
وہ خود کو سنبھالتے ہوئے غیر ہوتی حالت کیساتھ کہنے لگے
“اختر خود کو سنبھالیں”
مہ جبین انہیں سنبھالتے ساتھ انکے ہاتھ سے تصویریں سنبھالتی انہیں بٹھا کر دیکھنے لگی انہیں بھی حیرت کا جھٹکا لگا
“یہ کیسے ہماری مہمل تو بہت معصوم ہے اسے کچھ نہیں پتہ یہ جھوٹ ہے”
مہ جبین بیگم روتے ہوئے بولی جس پر انسپکٹر ان دونوں کو دیکھنے لگ گیا
وہ اسکا کب سے انتظار کررہی تھی تبھی دروازہ کھلا اور وہ کمرے میں داخل ہوا
“کہاں تھے آپ میں کب سے ویٹ کرررہی تھی آپ کا”
اسکے آتے ہی وہ اسکے قریب پہنچ کر فکرمندی سے پوچھنے لگی
“کام سے گیا تھا “
وہ اسے جواب دیتے ساتھ ایک نظر اس پر ڈالی جس ڈریس وہ یہاں آئی تھی اس نے وہی زیب تن کیا ہوا۔ بالوں کو پونی میں قید کیے بلکل سادے چہرے میں بھی وہ بےحد پیاری اور معصوم لگ رہی تھی۔
“بھوک لگ رہی ہے مجھے شدید”
وہ منہ بنائے اسکی نظروں کو نظر انداز کرکے اپنی بات کرنے لگی جس پر اسکا دھیان اس سے ہٹا
“چلو”
وہ اسکا ہاتھ تھامے سنجیدگی سے کہتے ساتھ چلنے لگا
“ک”
وہ اس سے پہلے کچھ بولتی آبراش ہونٹوں پر انگلی رکھ گیا
“پتہ لگ جائے گا”
وہ اسے جواب دیتے ساتھ گاڑی میں بٹھانے لگا وہ اسے ایک ہی دن میں سمجھ گیا تھا مہمل حیرت میں تھی مگر چہرے پر مسکراہٹ نمودار کوئی آبراش نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور سکی سیٹ بیلٹ باندھنے کے بعد وہ گاڑی گراج سے نکال کر سڑک پر دوہرا گیا۔۔۔۔۔
کچھ دیر میں گاڑی مال آف مری کے باہر روکی جو دیکھنے میں بہت بڑا تھا آبراش پہلے خود اترا پھر اسے اتار کر اسکا ہاتھ تھامے اسکے ساتھ چلنے لگا مہمل کی نظر اس پر گئی۔
“ماسک کیوں لگارہے ہیں کس سے ڈر رہے ہیں”
وہ اسے اس طرح ماسک لگاتا دیکھتے ہوئے پریشانی سے کہنے لگی آبراش نے بلیو سرد نگاہیں اس پر ڈالی وہ گھبرا گئی اور لب بھینچ کر اسکا ہاتھ پکڑے چلنے لگی
آبراش نے اسے شاپنگ کروائی کچھ گھر میں پہننے کیلیے سوٹ دلوائیں جوتی اور جو فضول ادھر ادھر کی چیزیں مہمل کو پسند آرہی تھی جن پر وہ ہاتھ رکھ رہی تھی وہ اسے دلواتا گیا
اس وقت وہ سب ایک ہوٹل میں موجود تھے مہمل کو بےحد بھوک لگ رہی تھی اس نے آرڈر کیا وہ خاموشی سے اس پر اپنی نظریں جمائے بیٹھا تھا اور وہ کھانے کیساتھ انصاف کرنے میں مصروف تھی کھاتے ہوئے وہ اس قدر پیاری لگ رہی تھی کہ۔ سامنے بیٹھا شخص اسے بار بار دیکھنے پر مجبور ہورہا تھا کہا تھا مگر وہ نہیں دیکھنا چاہ رہا تھا
“چلو”
وہ کرسی سے اٹھتے ہوئے سپاٹ لہجے میں اسے مخاطب کرنے لگا مہمل کی نظر اس پر گئی پانی پی کر وہ اٹھی
“کہاں جارہے ہیں”
مہمل اسکے ساتھ چلتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر اس نے مڑ کر ایک نظر اسے دیکھا
“واک کریں گے”
وہ جیب میں ہاتھ ڈالے آنکھوں میں گاگلز لگاتے ہوئے کہتے ساتھ چلنے لگا مہمل بھی اسکے ساتھ چل رہی تھی وہ چلتے چلتے بہت دور آ چکے تھے بہت دور یہ جگہ بلکل سنسان تھی اندھیرا تھا بہت ہلکی روشنی تھی وہ اسکے ساتھ تھا اسکا فون بجا اور اچانک اسکی نظروں سے آبراش غائب ہوا
“شاہ”
مہمل اسےنہ پاکر پریشانی اور ڈر سے پکارنے لگی
“اوہ حسین لڑکی ادھر تو دیکھ لو “
تبھی ایک شخص ادھر سے گزرا آس پاس کسی کو نہ پاکر اپنی گٹھیا حرکتوں پر اتر آیا مہمل کا خوف مزید بڑھ گیا وہ کانپنے لگی تھی آنکھوں میں آنسوں تھے وہ شخص اسکے قریب آنے لگا ابھی وہ اسے چھوتا کہ اس سے پہلے کسی نے اسکا کالر پکڑ کر رخ اپنی طرف کیا مہمل حیرت سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھنے لگی وہ کیسے نہ پہنچانتی ان آنکھوں کو وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی
گولڈن بلیش آنکھیں اس وقت انتہا کی سرخ تھی کوبرہ نے جیب سے چاقو نکالا اور اسکی پیٹ پر مارا
“آہہہہ”
وہ شخص درد سے کراہ گیا اور چیختے ہوئے زمین پر گر گیا مہمل یہ سب منظر دیکھ کر آنکھوں پر خوف سے ہاتھ رکھ گیا
“آر یو اوکے “
وہ اسکے قریب آتے ہوئے اسے اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے نرمی سے پوچھنے لگا جس پر مہمل نے آنکھوں کے اوپر سے ہاتھ ہٹائے اور اسے دیکھا
“جی میں ٹھیک ہوں تھینکیو ونس آگین “
وہ اسے دیکھتے ہوئے ہلکا سا مسکرا کر کہنے لگا جس پر کوبرہ نےاسے۔ سر تا پیر دیکھا
“Be careful”
وہ اسکے ہاتھ کو ہلکا سا چھوتے ہوئے کہتے ساتھ چلا گیا اور مہمل اسے جاتا دیکھنے لگی اسے اس کے اور آبراش کا لمس ایک جیسا لگا تھا ہاں اس نے بلکل ہلکا سا چھوا مگر مہمل کو چھونا برا نہیں لگا تھا
“جب بھی مشکل میں ہوتی ہوں یہی کیوں آتا ہے مجھے بچانے”
مہمل سوچتے ہوئے نظریں ہاتھ پر کر گئی جہاں اس نے چھوا تھا وہ یہی سب سوچ رہی تھی تبھی آبراش آیا
“چلیں”
وہ مہمل پر ایک سرسری سی نظر ڈالتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئی
“تم ٹھیک تو ہو”
آبراش نے اسکے چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے پوچھا جس پر بھی وہ ہاں میں سر ہلا گئی آبراش خاموشی سے جیب میں ہاتھ ڈالے ایک ہاتھ اسکا تھامے چلنے لگا
گھر آتے ساتھ آبراش نیچے ہی رہا مگر وہ ڈریسس لیتی اوپر کمرے کی طرف بڑھ گئی وہ کمرے میں آتے ساتھ شاور لینے کے غرض سے باتھروم کی طرف بڑھ گئی شاور وغیرہ لینے کے بعد وہ کپڑے پہن کر باہر آئی بلیک رنگ کا فراک زیب تن کیے جس کے اوپر گولڈن نفیس سا کام تھا جو بہت پیارا لگ رہا تھا بالوں کو ڈرائیر کی مدد سے سکھاتے وہ ہونٹوں پر پنک لپ بام لگائے نیچے کی طرف بڑھ گئی
آبراش جو عریش سے کوئی بات کرنے میں مصروف تھا مہمل ان دونوں کے پاس آئی آبراش کی نظر۔ اس پر گئی وہ سیاہ میں انتہائی حسین لگ رہی تھی
“کیسی لگ رہی ہوں”
وہ آبراش کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر پوچھنے لگی
“بیوٹیفل”
عریش نے بھی اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا اسکے الفاظ سنتے ہی آبراش نے غصے سے عریش کی طرف دیکھا اور مہمل نے بھی عریش کو دیکھا
“بھابی ہیں میری اپنی بھابی کہ تعریف نہیں کرسکتا”
اسکے غصے سے وہ سیدھا ہوتا مسکرا کر بولا مہمل کھلکھلا دی
“کرسکتے ہیں آپ میری تعریف اصل میں وائف ہوں نہ انکی تو اس لیے وہ غصہ ہو گئے “
وہ عریش کے پاس آتے ہوئے اسے مسکرا کر بتانے لگی اسکی بات سن کر عریش بھی ہلکا سا مسکرایا جبکہ آبراش کو اسکا عریش کیساتھ مسکراتا دیکھ کر بات کرنا ناگوار گزرا تھا اور غصہ دلا گیا
“مہمل گو ان ٹو دا روم”
وہ سرد لہجے میں اسے سخت تاثرات سجائے حکم صادر کرنے لگا مہمل نے اسکی طرف دیکھا
“اینگری مین مجھے مام ڈیڈ کے پاس لے جائیں ملنے کا دل ہے بہتت”
وہ اداسی سے آبراش کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی
“مہمل گو”
آبراش انتہائے سرد لہجے میں کہنے لگا جس سے اسکی رگیں صاف واضح ہورہی تھی وہ ڈرتے ہوئے چلی گئی
وہ اس وقت ایک ایسی جگہ موجود تھا جہاں کانسٹریکشن کا کام ہورہا تھا رات کی وجہ سے ادھر گھپ اندھیرا تھا
“بچا لو خدایا اس حیوان سے”
وہ گھبراتے ہوئے اس جگہ چھپ کر خود کو اس سے بچانے کی کوشش کررہا تھا تبھی کسی کا بھاری ہاتھ اپنے کندھے پر محسوس کیا وہ شاید بھول گیا تھا اس شخص نے آج تک کوئی نہیں بچ سکا اس نے اسے گھمایا اور اسکا رخ اپنی جانب کیا وہ اسکی سرخ انگارہ برستی آنکھیں دیکھ کر تھر تھر کانپنے لگا اسے اپنی جان جاتی لگ رہی تھی
کوبرہ نے جیب سے چاقو نکالا اس سے پہلے وہ شخص کچھ بولتا وہ اسکی گردن پر چاقو پھیر کر اسے بےجان کر گیا وہ زمین پر بےسود ہوکر گر گیا اور کوبرہ کے اندر سکون سا ہوا۔ وہ اسکے کپڑوں سے چاقو صاف کرتا جیب میں ڈال کر وہاں سے جانے لگا
“لاش تھکانے لگادینا”
وہ اپنے ساتھ کھڑے شخص کو مخاطب کرتا خاموشی سے وہاں سے ہڈی سر سے ہٹائے بھاری بھاری قدم اٹھاتا چلا گیا
وہ ٹی وی لاؤنچ میں خاموشی سے منہ بنائے بیٹھی تھی آبراش کے غصے سے وہ واقع ڈر گئی تھی اور ناراض بھی تھی وہ کب سے خاموشی اختیار کیے صوفے پر چڑھے منہ سجا کر بہرے پر ہاتھ بیٹھے ہوئے انتہا کی معصوم لگ رہی تھی
“کافی”
عریش کی آواز سے اسکا دھیان اس طرف گیا جس پر وہ نفی میں سر ہلا گئی
“وہ غصے کا ایسا ہی ہے خیر غصہ تو میرا بھی گندی ہے مگر تم جیسی معصوم سی لڑکی پلس میری بھابی پر نہیں آسکتا مجھے”
وہ کافی کا کپ ٹیبل پر رکھتا اس سے تین انچ کا فاصلہ اختیار کیے بیٹھ کر بتانے لگا مہمل نے اسکی طرف دیکھ
“انسان اتنا بھی غصہ نہ کرے”
وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ کافی کا کپ اٹھا گئی
“ابھی اس نے آرام سے بات کی ہے تم غصہ برداشت نہیں کرسکو گی اسکا”
وہ اسے سنجیدگی سے بتانے لگا کپ مہمل کے ہونٹوں کے قریب جاتا کہ تھما اس نے اس طرف دیکھا
“میں خود پر غصہ کرنے کا موقع نہیں دوں گی انہیں”
وہ مسکراتے ہوئے پراعتماد لہجے میں کہتے ساتھ لبوں سے کپ لگا گئی عریش ہلکا سا مسکرایا وہ واقع بہت معصوم تھی
تبھی وہ لان میں قدم رکھ کر سامنے کا منظر دیکھنے لگا مہمل کسی بات پر اونچا اونچا ہنس رہی تھی اور عریش مسکرا اسے دیکھ رہا تھا
وہ غصہ ضبط کرتا ماتھے پر سلوٹیں آئی ہوئی تھی آنکھیں ضبط کرنے کی وجہ سے مزید سرخ ہو گئی تھی خاموشی سے چلتا مہمل کی بازو تھامے غصے سے اسے اوپر کی طرف لے جانے لگا اور مہمل پریشانی سے اسے دیکھنے لگی مگر اسکی اتنی سرخ آنکھیں دیکھ کر وہ نظریں دوسری سمت کر گئی
وہ اسے کمرے میں لایا اور دیوار سے لگا کر مضبوطی سے اسکے نازک بازوؤں میں قید میں لیے اس پر اپنی سرخ وحشت بھری نگاہیں گاڑھے کھڑا اسے ڈرانے پر مجبور کرگیا۔
آج کے بعد زیادہ فری نہیں ہونا”
وہ تیش میں اپنا چہرہ اسکے قریب کیا بولا مہمل کانپ کر رہ گئی اسکی گرم سانسیں خود پر محسوس کرکے اسکی ریڑھ ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑی وہ معصوم ننھی جان گھبرا کر رہ گئی اسکی آنکھوں میں نمی آ گئی وہ نظریں جھکائے دانتوں تلے لب دیے کانپتے جسم کیساتھ اسکے سہارے سے کھڑی تھی ابھی تک اگر وہ اسکے بازو چھوڑتا وہ زمین پر گر چکی تھی وہ اسکے بازوؤں میں گرفت ڈھیلی کرتا اسے وہی چھوڑ کر باتھروم چلا گیا اور مہمل اپنے آنسو غصے سے صاف کرتی وہی زمین پر بےسود سی بیٹھ گئی
وہ باتھروم سے اپنا حلیہ درست وغیرہ کرکے باہر آیا نظر کمرے میں گھمائی اسے وہ کہیں بھی نہیں دیکھی نظر اسی جگہ پر گئی جہاں وہ اسے لگائے کھڑا تھا تبھی اسکی سسکیوں کی آواز آبراش کے کانوں سے ٹکرائی
“مہمل”
وہ اسکی طرف بڑھ کر نرمی سے اسے مخاطب کرنے لگا جس پر مہمل نے اپنی سسکیاں روک کر نظریں اٹھا کر اسے دیکھا جو اس وقت بلکل نارمل چہرے پر سنجیدگی لیے اسے دیکھ رہا تھا وہ اپنی سرخ آنکھیں دوبارہ جھکا گئی
“پسند نہیں تو کل منع کردیتے نکاح سے مجھے ہر بات پر ڈانٹ ڈانٹ کر ڈرا کر ہرٹ کرتے ہیں گندی لگتی نا تو چھوڑ دے مجھے “
وہ نظریں جھکائے تھوڑا گھبراتے ہوئے ہمت جما کر کے اسے غصے سے بولی جس پر آبراش نے اسے دیکھا
“زبردستی میرے ساتھ کوئی نہیں کرسکتا یاد رکھنا”
وہ کہتے ساتھ تھوڑی پر ہاتھ رکھے اسکا چہرہ اوپر اٹھایا وہ اسے معصومیت سے دیکھنے لگی آبراش نے کچھ کہے بغیر اسے گود میں بھرا وہ گھبرا کر رہ گئی وہ اس وقت اس بھاری وجود کے سامنے بلکل بچی لگ رہی تھی وہ اسے بیڈ پر لٹا کر اسکے اوپر کمفرٹر ڈال کر کان کے قریب ہوا
“اگر ساتھ رہنا تو سب کی عادت ڈال لو مسز۔ آبراش شاہ”
وہ گھمبیر لہجے میں اسکے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اسکی کان کی لو سے لب مس کرتا اسکے ہونٹوں کا لمس محسوس کرکے ہارٹ بیٹ مس کرنے پر مجبور ہو گئی وہ آنکھیں گھبرا کر میچ گئی اور آبراش ایک نظر اس معصوم پر ڈال کر کمرے سے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
