51.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Shiddat Junon) Episode 18

“پڑتا ہے فڑق تم صرف میری بنو گی صرف میری شروعات تم نے کی اس محبت کی اختتام میں کروں گا یاد رکھنا”
رومیسہ کمرے میں بیٹھی عریش کی باتیں سوچ کر مسکرا رہی تھی جب فائز کمرے میں داخل ہوا۔
“رومی”
رومیسہ اپنے سوچوں کو جھٹک کر اسکی طرف دیکھنے لگی۔
“کیا ہوا”
رومیسہ فکرمندی سے اسے دیکھتے ہوئے پریشان سی پوچھنے لگی تبھی فائز نے رومیسہ کا ہاتھ تھاما رومیسہ اسے دیکھ رہی تھی۔
“میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں میں تمہیں پسند کرتا ہوں بہت پسند “
وہ رومیسہ کے ہاتھ کی گرفت مضبوط کرتے ہوئے کہنے لگا۔ رومیسہ حءرتے سے اسے دیکھنے لگی۔
“نہیں فائز ایسا کچھ نہیں ہوسکتا ہے میں تمہیں پسند نہیں کرتی ہوں ہم دونوں دوست ہیں بس “
وہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی ناکام سی کوشش کرتے ہوئے کہنے لگی۔
“پھر وہ سب کیا تھا اتنے پیار سے بات کرنا یہ سب”
وہ غصےسے اسے اپنی جانب کھینچ کر پوچھنے لگی رومیسہ اسے گھور کر دیکھنے لگی۔
“صرف دوست کے طور پر تھا وہ سب دور رہو مجھ سے ورنہ میں ابھی عرءش کو بلاؤ گی”
وہ اسے قریب آتا دیکھتے ہوئے گھبرا کر کہنے لگی جس پر فائز نے زہریلا قہقہ لگایا۔
“وہ گھر نہیں ہے”
کہتے ساتھ وہ رومیسہ کے قریب ہونے لگا رومیسہ اردگرد نظریں گھمانے لگی دل گھبرا رہا تھا مگر وہ اس شخص کے سامنے کمزور ہرگز نہیں بننے والی تھی وہ گٹھیا نظروں سے گھورتا قریب آنے لگا جب کسی نے اسکے سر پر گن ماری وہ زمین پر گر گیا رومیسہ کی نظر پیچھے گئی تو عریش موجود تھا۔
“عریش”
وہ بھاگتے ہوئے اسکے سینے سے آ لگی عریشبہ سرد سرخ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگ گیا عریش نے رومیسہ کو خود سے الگ کرکے سائیڈ پر کیا۔
“ہاں کیا بکواس کر رہا تھا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر فائز اسکی سرخ آنکھوں سے گھبرا گیا۔
“کک۔کچھ نہیں”
وہ گھبراتے ہوئے کہنے لگا عریش نے تین چار اکٹھے مکے اسکے منہ پر دے مارے رومیسہ کھڑی بس خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔
“دور رہیں رومیسہ سے اور دفعہ ہوجا یہاں ختم نے مردوں تجھے”
وہ غصے سے کہتے ساتھ اسے گربیان سے پکڑ کر کمرے سے نکالنے لگا فائز ایک نظر ان دونوں پر ڈال کر چلا گیا اور عریش رومیسہ کی جانب بڑھا۔
“تم ٹھیک ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پیار سے پوچھنے لگا جس پر اس نے اثبات میں سر ہلا دیا عریش نے اسے بیڈ پر بٹھایا اور پانی دیا۔
“تھینکیو”
وہ اسے۔ دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگی جس پر وہ بھی مسکرایا۔


“راش”
مہمل اسکے سینے پر سر رکھے ہوئے محبت سے اسے پکارنے لگی جس پر آبراش نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“آپ کب سے اس راستے کی طرف گئے یعنی لوگوں کو قتل کرنا یہ سب”
مہمل اسے دیکھتے ہوئے معصومیت سے پوچھنے لگی آبراش کی آنکھیں ایکدم سرد ہو گئی وہ خاموش رہا۔
“بتائیں آبراش”
وہ اسے خاموش پاتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر وہ اپنی آنکھیں بند کر گیا
ماضی۔
“یار تیری بہن کے مجرم کو ڈھونڈ لیا ہے میں نے”
اسکا دوست اسے آتے ہوئے بولا جس اس نے فوراً اسے دیکھا۔
“کہاں ہے”
وہ سترہ سالہ لڑکا غصے سے پوچھنے لگا جس پر اس نے باہر کی طرف اشارہ کیا سترہ سالہ لڑکے نے پستول اٹھائی اور غصے سے باہر جانے لگا
“یہ نہ کریں”
اسکا دوست روکتے ہوئے کہنے لگا جس پر اس نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور سرخ آنکھوں سے اپنی بہن کے مجرم کو دیکھا اور گن اسکی طرف کرکے گن لوڈ کی اور دو گولیاں اسکے سینے پر اتار دی۔
“آبراش یہ کیا کیا تو نے”
اسکا دوست حیرت سے بولا وہ شخص زمین پر گر گیا اور آبراش اسے دیکھ رہا تھا اسکے اندر خوف کے ایک لہر دوڑی وہ گن پھینکتا بھاگنے لگا۔
حال
“راش”
مہمل اسے پھر سے پکارنے لگی جس پر آبراش کچھ کہے بغیر اٹھ کر باتھروم میں چلا گیا۔
“آپ پتہ بھی ہیں کیا ہے جو بہن کی حفاظت نہیں کرسکتا جو ایک قاتل ہے ظالم ہے”
یہ الفاظ اسکے کانوں سے ٹکرا کر اسے تکلیف پہنچاتے تھے وہ تکلیف سے آنکھیں بند کر گئی۔


آبراش اور مہمل باہر گھومنے کیلیے آئے ہوئے تھے وہ دونوں چل رہے تھے آبراش کی کال آئی تو وہ دو قدم پیچھے ہوا اور کال سننے لگا تبھی مہمل کے ساتھ سے ایک لڑکا گزرنے لگا وہ شخص ان بیلنس ہوا اور مہمل کا سہارا لینے لگا لیکن مہمل تھوڑی دیر ہوئی لیکن اسکی انگلی اس سے چھوئی اس شخص نے فوراً ہاتھ نیچے کرلیا مگر یہ منظر آبراش دیکھ چکا تھا اسکے ماتھے پر سلوٹیں آئی وہ اسے اپنی سرخ آنکھوں سے دیکھ رہا تھا وہ جانے لگا جب آبراش نے اسے پیچھے پکڑ کر کھینچا اور رخ اپنی طرف کیا مہمل اسے دیکھ رہی تھی آبراش نے کچھ کہے بغیر اسکا ہاتھ تھاما۔ وہ شخص اسکی آنکھوں سے پہلے خوفزدہ تھا اب اور ہوگیا تھا چاقو نکال کر اسکے ہاتھ پر چار پانچ کے لگائے وہ کراہ کر رہ گیا وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا
“مم۔میں نے کیا کیا۔۔۔چ۔۔چچچھوڑدیں”
وہ گھبراتے ہوئے کہنے لگا اور نظر اس پر ڈالی جو پرسکون سا اسکے ہاتھ میں کٹ لگانے میں مصروف تھا مہمل کے چہرے پر خوفزدہ تاثرات صاف واضح تھے وہ اسے زمین پر پٹکتا مہمل کا ہاتھ غصے سے تھامتا جانے لگا اور شخص کو وہ سائیکو لگا مہمل بھی خوف کی وجہ سے خاموشی سے ساتھ چل دی۔


وہ اس وقت اسٹڈی روم میں کھڑا سگریٹ پر سگریٹ پیے جارہا تھا دماغ اس وقت انتہائی گرم تھا وہ جیب میں ہاتھ اپنی گولڈن بلوئش سرخ سرد نگاہیں باہر مرکوز کیے اس شخص کا مہمل کو چھونے والا منظر بار بار ذہن میں گردش کررہا تھا اسکے ماتھے پر غصے کی وجہ سے سلوٹیں تھی اور وہ پانچواں سگریٹ پی رہا تھا۔۔
“راش”
مہمل اسٹڈی میں آتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے پکارنے لگی اسکی آواز سے اس شخص نے اپنی آنکھیں بند کی اور سگریٹ فوراً باہر پھینکا مہمل اسکے قریب گئی۔
“لیو می آلون”
وہ سرد لہجہ اپنائے اسے دیکھے بغیر غصے سے غرایا مہمل تھوڑا سا سہم گئی لیکن وہ ہمت جما کرتی اسکے قریب آئی۔
“صرف چھوا تھا اس نے اور آپ نے اسکو بہت ما”
مہمل ابھی بول رہی تھی جب آبراش نے اسکے نازک بازو کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیتے اسے اپنی طرف کھینچ کر سرد نگاہیں اس پر ڈالی تھی۔
“میں کسی کو تمہیں چھونے کا حق نہیں دیتا جو بھی چھوئے گا جان سے جائے گا تم پوری کی پوری آبراش شاہ کی ہو آبراش شاہ کی یاد رکھنا”
وہ اسے اپنے ساتھ لگائے اپنی نظروں اس پر مرکوز کیے سرد لہجے اور اونچی آواز میں اسے تیش میں کہنے لگا مہمل حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
“یو ہرٹنگ می”
وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر آبراش نے اپنے تھے اعصاب ڈھیلے کیے اور فوراً گرفت ڈھیلی کی اور اپنے ہاتھ اسکے چہرے پر رکھے۔
“ایم سوری ایم سوری اینجل میں تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا میری وجہ سے تمہاری آنکھوں میں آنسو آئے اور کتنا درد ہوا ہوگا “
وہ اسکے آنسو صاف کرتا ہوا نرمی سے بولنے لگا مہمل بس اسے دیکھ رہی تھی
“ناراض مت ہونا پلیززز ناراض مت ہونا”
آبراش زندگی میں کسی سے پہلی دفعہ اس طرح نرمی اور منت بھرے انداز میں بات کررہا تھا مہمل خاموش کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔
“ناراض تو نہیں ہوئی نہ تم”
وہ اسے دیکھتے ہوئے فکرمند سا پوچھنے لگا مہمل نے نفی میں سر ہلایا آبراش نے اسے سینے سے لگایا۔ مہمل بت بنی کھڑی تھی اسے اس شخص سے تھوڑا تھوڑا خوف سا آنے لگا تھا۔


“کیا نہیں ملی مہمل”
اختر صاحب کو گھر آتا دیکھتے ہوئے فکرمند سا پوچھنے لگے جس پر انہوں نے نفی میں سر ہلایا
“پتہ نہیں کیسی ہوگی میری بیٹی کا سے اس کی شادی کروادی وہ تو بہت معصوم تھی اسے دنیا کا کچھ نہیں پتہ تھا”
وہ روتے ہوئے پریشانی سے کہنے لگی جس پر اختر صاحب نے انہیں دیکھا۔
“اچھا اچھا تم پریشان نہ ہو میں کچھ کرتا ہوں “
ڈاکٹر نے مہ جبین بیگم کو کسی بھی پریشانی لینے سے منع کیا تھا اور وہ مہمل کی وجہ سے بہت حد تک پریشان تھی اس لیے اختر صاحب بھی بے حد پریشان تھے۔


“تم خیال رکھنا اپنا”
آبراش مہمل سے کہتے ساتھ چہرے پر ماسک لگاتا جیب میں ہاتھ ڈاکے باہر کی طرف بڑھ گیا اسکے جانے کے بعد مہمل نے فوراً کوٹ پہنا اور شوز پہن کر باہر آئی۔
“سوری میم سر نے منع کیا ہے”
گارڈ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا مہمل نے اسے دیکھا اور نظریں۔ ادھر ادھر گھمائی ۔
“میں تمہارے سامنے تمہارے سر سے پوچھتی ہوں”
وہ کہتے ساتھ فون کان سے لگا گئی
“راش میں کچھ دیر باہر چلی جاؤ “
وہ مسکراتے ہوئے گارڈ کو دیکھ کر کہنے لگی مگر دوسری طرف کوئی بھی نہیں تھا۔
“ہاں ہاں میں جلدی آجاؤ گی اوکے تھینکیو”
مہمل کہتے ساتھ فون رکھتی اسے دیکھنے لگی جس پر گارڈ خاموش رہا اور جانے کا راستہ دیا مہمل منہ بنائے اسے دیکھتی باہر کی طرف بڑھ گئی۔
“اس بلیک کار کا پیچھا کرو”
مہمل ٹیکسی پر بیٹھتے ہوئے ٹیکسی والے سے کہنے لگی جس پر وہ اثبات میں سر ہلا کر اسکا پیچھا کرنے لگا ۔
جاری ہے۔