Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Episode 29
مہمل کی صبح آنکھ کھلی خود کو آبراش کی باہوں میں موجود پایا وہ ایک نظر اس پر ڈالتے ہوئے اسکے حصار سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی اور بہت مشکل سے وہ اسکی قید سے نکلتی اسے ایک نظر دیکھے جو گہری نیند سورہا تھا بیڈ سے اٹھ کر باتھروم کی طرف بڑھی۔
“مہمل بہت اچھا موقع بھاگ جاؤ”
وہ فریش ہوکر باہر آتے ہوئے آبراش پر نظر ڈالے خود سے بولتے ہوئے روم کے دروازے کی طرف بڑھی۔
“اوہ واہ “
دروازہ کھولا اور باہر نظر گھمائی کسی کو بھی اس پاس موجود نہ پاتے ہوئے وہ خوشی سے بولی اور جلدی سے شال لیتی وہ وہاں سے جانے لگی
مہمل ابھی مین گیٹ کی طرف بڑھنے ہی لگی تھی۔
“اینجل اگر ایک قدم بھی باہر کی طرف بڑھایا تو انجام کی ذمہدار تم ہوگی تم جانتی ہو میں کتنا سائیکو ہوں “
آبراش کی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی مہمل کے بڑھتے قدم رکے اس نے مڑ کر اسکی طرف دیکھا وہ پستول سر پر تانے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔
“آپ سائیکو ہے تو اپنا پاگل پن اپنی حد تک محدود رکھیں مجھ سے دور رہیں اور آپ سے دور جاکر تو میں دیکھاوں گی “
وہ غصےسے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی آبراش بس اسے دیکھتا رہ گیا
“مہمل اندر چلو میرے ساتھ تم چاہتی ہو اگر میں ایسا کچھ نہ کروں “
وہ اسے جاتا دیکھتے ہوئے کہنے لگا مہمل نے اسے دیکھا۔
“آپ جو مرضی کریں مجھے فڑق نہیں پڑتا”
وہ کہتے ساتھ آگے کی طرف بڑھنے لگی اسکی بات سن کر آبراش کو ہنسی۔
“تمہیں میرے یا نہ ہونے سے فڑق نہیں یہ میں مان ہی نہیں سکتا”
وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا مہمل نے مڑ کر غصے سے اسکی طرف دیکھا اسی وقت آبراش دو قدم آگے بڑھے اسے کمر سے پکڑتے ہوئے اپنے قریب کرگیا مہمل اسے دیکھتی رہ گئی۔
“چھوڑیں مجھے سمجھ نہیں آتا آپ کو آپ کیساتھ نہیں رہنا یہ پستول والا بھی صرف ناٹک تھا ہے نا مار ہی نہ لے آپ”
وہ اسکی باتوں کو دھمکیاں سمجھتے ہوئے غصے سے گھورتے ہوئے کہنے لگی۔
“اچھا یہ لو”
کہتے ساتھ آبراش مہمل سے الگ ہوا اور سر پر پستول تانی ٹریگر پر انگلی رکھی اور اور اسے دبانے لگا مہمل نے فوراً پستول چھت کی جانب کردی اور گولی اوپر کی طرف چل دی۔
“پاگل ہیں کیا آپ یہ سب عجیب چھوڑیں”
مہمل غصے سے پستول اسکے ہاتھ سے لے کر زمین پر پھینکتے ہوئے بولی۔
“تمہیں میرے ہونے سے فڑق بھی پڑتا ہے اور تم مجھ سے دور نہیں جاسکتی واپس میرے پاس ہی آنا ہے”
وہ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا مہمل اسے دیکھنے لگی۔
“میں کوئی نہ کوئی راستہ نکال لوگی آپ سے دور جانے کا”
کہتے ساتھ وہ کمرے کی طرف بڑھ گئی آبراش اسے جاتا دیکھنےلگ گیا۔
تبھی اسکا فون بجا آبراش نے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔
“کام بن گیا “
وہ شخص اسے بتانے لگا آبراش کی آنکھوں میں چمک آئی۔
“گریٹ”
یہ کہتے ساتھ اس نے فون جیب میں ڈالا اور کمرے کی طرف بڑھنے لگا
رومیسہ کی صبح آنکھ کھلی تو نظر کمرے میں گھمائی عریش کہیں بھی نظر نہیں آیا
“عریش”
اسے پکارتے ساتھ نظر وال کلاک پر ڈالی جو دس بجارہی تھی۔
“اوہ لیٹ ہو گئی مجھ سے ملے بغیر ہی چلا گیا آنے دو آج قریب بھی نہیں آنے دوں گی”
وہ منہ بنائے ناراضگی جتاتے ہوئے اٹھ کر جانے لگی جب سائیڈ ٹیبل پر ایک چٹ نظر آئی
“یہ کیا ہے”
وہ چٹ کو دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ اٹھا کر اسے کھول کر پڑھنے لگی۔
“گڈ مارننگ مائی بیوٹیفل وائف مجھے ضروری کام تھا مجھے جانا لازمی تھا “
وہ چٹ پر لکھا پڑھنے لگی اور چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی
“یہ اچھا تھا”
وہ مسکراتے ہوئے کہتے ساتھ باتھروم کی طرف بڑھ گئی۔
“تم یہاں”
عثمان کچن میں آتے ہوئے آبرو کو دیکھ کر مسکرافے ہوئے پوچھنے لگا آبرو نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“جی کافی بنانے آئی ہوں آپ کو کچھ چاہیے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتاتے ساتھ پوچھنے لگی
“ہاں اگر ایک کپ مجھے بھی بنا دو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا آبرو اثبات میں سر ہلا گئی۔
“آپ باہر بیٹھے میں بنادیتی ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی عثمان اسکے ساتھ آکر کھڑا ہوا
“میرے یہاں کھڑے ہونے میں کوئی مسئلہ ہے تمہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا آبرو نے اسے دیکھا۔
“ارے نہیں نہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے آپ کھڑے ہو جائیں”
کہتے ساتھ وہ مگ میں پانی ڈالنے لگی عثمان اسے دیکھ کر مسکرایا رومیسہ جو کچن کی طرف بڑھ رہی تھی ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر مسکرائی۔
مہمل باہر لان میں ٹہل رہی تھی تبھی آبراش آیا اور اسکے گرد شال لپیٹ کر اسے اپنے حصار میں لیا مہمل نے اسکی طرف دیکھا اور بغیر تاثر دیے نظریں سامنے کی جانب کرلی آبراش اسے دیکھنے لگا۔
“دور رہیں مجھ سے “
وہ اسے دیکھے بغیر کہنے لگی تبھی آبراش اپنی گولڈن بلوئش آنکھوں میں سختی لیے اسکا رخ اپنی طرف کرنے لگا۔
“دور دور دور اب مت بولنا یہ لفظ مہمل “
وہ اسکے بازوؤں میں سخت گرفت ڈالے اسے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں سخت تاثرات کیساتھ کہنے لگا مہمل اسکی سرخ سرد نگاہوں کو دیکھ کر تھوڑا گھبرائی۔
“آپ نے جو کیا وہ ٹھیک تھا بولیں میں اپنی ماں کی موت کا قصوروار آپ کو ٹھہراتی ہوں میرے ڈیڈ مجھ سے بات نہیں کرتے صرف اور صرف آپ کی وجہ سے مسٹر آبراش”
مہمل اسے دیکھتے ہوئے وہ سب یاد کرتے ہوئے چلاتے ہوئے بولی۔
“آسان نہیں ہوتا اپنوں کو کھونا ارے میں تو وہ لڑکی تھی جو ہلکی سی خروش پر چیخنے لگتی تھی اور اب بلکل اکیلی ہو گئی ہوں صرف آپ کی وجہ سے اور کچھ بھی نہیں بول رہی میرے صبر کا اور امتحان نہ لے مجھ سے دور رہیں بس یہی چاہتی ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے آنکھوں میں نمی لیے دھیمے مگر سخت لہجے میں کہتے ساتھ اس سے الگ ہوکر رخ اندر کی طرف کر گئی اور آبراش اسے جاتا دیکھنے لگا۔
وہ اسوقت ایک بار میں موجود تھے جہاں ہلکی ہلکی روشنیاں اور بہت تیز آواز میں گانے چل رہے تھے اور اندر بہت سے لوگ ڈانس کرکے بےہودگی پھیلائے ہوئے تھے اسکی گولڈن بلوئش آنکھیں بہت ہی حد تک چمک رہی تھی چہرے کو ماسک سے ڈھکے اس نے چار میں نظر گھمائی سامنے اس شخص کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں مزید چمک آ گئی تبھی اس نے اپنے پیچھے موجود دو لڑکوں کو اسکی طرف اشارہ کیا اور وہ اسکے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس شخص کی طرف بڑھے۔اور آس پاس نظر گھما کر بہت ہی احتیاط سے اسکے بازوؤں پر بےہوش کا انجیکشن لگایا۔
“کون ہو تم”
اختر صاحب بول ہی رہے تھے کہ انجکشن نے فوراً اپنا اثر کیا جس سے وہ بےہوش ہو گئے اور وہ دونوں انہیں وہاں سے چھپ کر لے جانے لگا کوبرہ نظریں بار میں گھمائے بھاری قدم لیے اس طرف بڑھ گیا۔
یہ ایک کمرا تا جو تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اختر صاحب نے آنکھوں پر جبنش کرکے بامشکل آنکھیں کھولی اور نظر پورے کمرے میں گھمائی اور ذہن پر زور دیتے ہوئے یاد کرنے لگے۔
“کون ہو تم لوگ کیوں مجھے یہاں قید رکھا ہے بتاؤ”
وہ چیختے ہوئے پوچھنے لگے تبھی کسی کے پیروں کی چاپ سنائی دی۔
“اتنی جلدی بھی کیا ہے سسر جی”
وہ زہر خند لہجے میں زہریلی نظروں سے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کر کہنے لگا جس پر اختر صاحب نے اسے دیکھا اس تاریکی کمرے میں اسکی گولڈن بلوئش آنکھیں چمک رہی تھی اسکی آنکھیں دیکھ کر وہ گھبرائے
“کک۔۔کون۔ ہو۔۔ تم”
وہ گھبراتے ہوئے بولے تبھی اس نے لائٹس آن کی اور چہرہ ماسک سے ڈھکا ہوا تھا وہ الجھن بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگے۔
“کوبرہ”
وہ اسکے قریب بیٹھ کر اپنی سرد نگاہیں اختر صاحب کے چہرے پر ڈالے انتہائی سخت لہجے میں کہنے لگا۔
“کک۔۔ککون کوبرہ میری تم سے کیا دشمنی ہے بتاؤ”
وہ گھبرائے اور ڈرے ہوئے لہجے میں پوچھنے لگی اسکے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آئی۔
“یاسر شاہ کو جانتے ہو”
وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے جیب سے چاقو نکال کر ہاتھ پھیرنے لگا اختر صاحب نے تھوک نگلی انکو پسینے آنے لگے
“تم کون ہو”
وہ پھر سے خوفزدہ سے اس سے پوچھنے لگے اب کی بار کوبرہ نے سرد نگاہوں سے انہیں دیکھا۔
“جتنا پوچھا ہے اتنا بتاؤ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں اور سخت تیور لیے پوچھنے لگا جس پر اختر صاحب ڈر کے مارے اثبات میں سر ہلا گئے۔
“جان کیوں لی تھی”
وہ سنجیدگی سے سخت تاثرات سے ایک اور سے سوال پوچھنے لگا اختر صاحب کی آنکھیں پھیل گئی۔
“تم یہ سب”
وہ ابھی کچھ بولتے اس سے پہلے آبراش نے اپنا چاقو انکی گردن کے قریب کیا جس پر وہ گھبرا کر رہ گئے آنکھوں میں۔ خوف طاری ہوا۔
“میری دشمنی تھی اس سے ہم دونوں دوست تھے لیکن اس نے ہمیشہ مجھے نیچا دیکھانے کی کوشش کی تو بس نفرت میں یہ کردیا کیونکہ وہ ہمیشہ مجھ پر ہنستا تھا میرا مذاق بناتا تھا اور تو اور فریحہ بھی اسے چاہتی تھی مجھے نہیں مجھے جانے دو میں نے سب بتادیا ہے تمہیں میں نے یہ سب اس لیے کیا”
وہ ڈرتے اور کانپتے لبوں کیساتھ بولے جس پر اسکی آنکھوں میں مزید غصہ در آیا ایسے جیسے کسی نے خون ڈال دیا اختر صاحب کو اپنی جان جاتی لگی اس نے چاقو انکی گردن کی طرف بڑھایا۔
“میں ہوں یاسر شاہ کا بیٹا آبراش یاسر شاہ”
زہر خند لہجے میں کہتے ساتھ اس نے اختر صاحب کی گردن پر چاقو پھیر دیااور غصے سے اسے دیکھنے لگا۔
“بدلہ پورا ہوا”
وہ زہریلی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ اپنا چاقو صاف کرتا بھاری بھاری قدم اٹھائے باہر کی طرف بڑھ گیا
وہ اس وقت اندھیرے میں ٹی وی لاؤنچ میں تہجد ادا کررہی تھی مگر اندھیری جگہ میں بھی اسکے چہرہ پرنور دیکھ رہا تھا وہ سلام پھیر کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا گئی آنکھوں میں بےتحاشہ آنسو تھے
عثمان پانی پینے کیلیے کچن کی طرف بڑھنے لگا نظر آبرو پر گئی اسے حجاب میں اور یوں دعا مانگتا تھا عثمان کے دل نے بیٹ مس کی تھی اسکے قدم خودبخود اسکی طرف بڑھنے لگے تھے
آبرو نے دعا مانگ کر نظریں اوپر کی طرف اٹھائی
“آپ”
وہ عثمان کو دیکھ کر گھبراتے ہیں بولی عثمان نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“آپ یہاں خیریت”
آبرو جائے نمازسے اٹھ کر لپیٹے ہوئے پوچھنے لگی
“میں پانی پینے کیلیے آیا تھا تمہیں دیکھا تو اس طرف آ گیا یہ حجاب بہت پیارا لگ رہا ہے تم پر”
وہ اسکے حجاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگا آبرو نے ایک نظر اسے دیکھا۔
“شکریہوہ بس اتنا کہتے ساتھ وہاں سے چلی گئی عثمان اسے جاتا دیکھنے لگا۔۔
“رومیسہ سوری نا کام ضروری تھا بھائی کو ضرورت تھی میری”
وہ اسکے قریب آتے ہوئے کہنے لگا رومیسہ منہ بسورے دوسری طرف رخ کر گئی۔
“مجھے نہیں کرنی بات مجھ سے ملے بغیر تم کیسے جا سکتے ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے ناراضگی جتلانے لگی عریش اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے رخ اپنی طرف کیا
“میں نے چٹ رکھی تھی تاکہ تم پڑھ سکو “
وہ اسے پیار سے کہنے لگا رومیسہ نے اسکا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹا کر اپنےہاتھ میں لے کر ہونٹوں کے قریب لانے لگی۔
“آئی لو یو عریش”
وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ اپنے ہونٹوں کے قریب لاکر اسکی انگلی اپنے دانتوں تلے دیج عریش جو مسکرا رہا تھا اچانک کاٹی ہونے پر چیخ پڑا۔
“اگلی دفعہ ایسا نہ ہو “
وہ اسکا ہاتھ چھوڑتے ہوئے غصےسے کہتے ساتھ وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔
“بیوی نہیں ڈائن ملی ہے مجھے ڈائن”
وہ غصےسے اسے دیکھتے ہوئے بولا رومیسہ نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“تم کمرے میں نہیں سو گے آج وہ اس پر ایک اور دھماکہ کرتے ہوئے وہاں سے چلی گئی اور عریش اسے جاتا دیکھنے لگا۔
“اینجل”
وہ کمرے میں آتے ہوئے اسے پکارنے لگا مہمل گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھے سر دیوار سے ٹکائے سے آنسو بہا رہی تھی آبراش کی نظر اس پر گئی مہمل نے اپنے آنسو فوراً صاف کیے۔
“مہمل مجھے معاف کردو میرا تمہیں کیڈنیپ کرکے تمہارے ساتھ کچھ برا کرنے کا ارادہ نہیں تھا ہاں ایک وجہ تھی تمہارے باپ کا سچ سامنے لانے کیلیے تمہیں کیڈنیپ پہلے سے کرنا تھا لیکن جب تمہیں دیکھا تو تمہیں دیکھتے ہی مجھے پیار ہوگیا تمہاری مسکراہٹ نے مجھے اپنی طرف مائل کردیا اور یہ سب صرف تمہیں اپنا بنانے کیلیے کیا تھا تمہارا باپ ایک اچھا شخص نہیں ہے”
وہ اسے دیکھتے نرمی سے بتانے لگا مہمل خاموشی سے اسے سن رہی تھی اور کچھ کہے بغیر اٹھ کر باتھروم کی طرف بڑھ گئی آبراش اسے جاتا دیکھنے لگ گیا۔
جاری ہے
