51.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Shiddat Junon) Episode 25

مہمل کی آنکھ کھلی تو نظر کمرے میں گھمائی آبراش کہیں بھی نہیں دیکھا مہمل کو پریشانی ہونے لگی۔
“گڈ مارننگ اینجل”
وہ ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے پیار سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا مہمل نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“مارننگ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے جواب دینے لگی آبراش اسکی طرف چائے بڑھائی جو مہمل نے فوراً تھام لی۔
“میں کتنا ڈر گئی تھی پلیززز آپ ہر وقت میرے ساتھ میرے سامنے رہنا مجھے بہت ڈر لگتا ہے”
مہمل اسے دیکھتے ہوئے خوفزدہ سا بولی آبراش اسکے اس طرح بولنے پر اسے فوراً سینے سے لگا گئی۔
“ٹھیک ہے اینجل نیکسٹ ٹائم کبھی ایسا نہیں ہوگا ڈرو نہیں”
وہ اسے سینے سے لگائے پیار سے کہنے لگا مہمل کو تھوڑی تسلی ہوئی۔
“میں کسی اور اپنے کو نہیں کھونا چاہتی ہوں اور آپ کو تو خاص طور پر نہیں مہمل آپ کو کھونے سے ڈرتی ہے راش بہت ڈرتی ہے مجھ سے دور کبھی بھی مت ہونا”
مہمل آبراش جے سینے سے لگے بولتے ہوئے رونے لگ گئی آبراش نے اسے خود سے الگ کرکے اسکے چہرے پر اپنے ہاتھ رکھے اور اسے دیکھا۔
“اب سنو میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑ کر جاؤ گا اور راش کی اینجل اسکے بغیر نہیں رہ سکتی تو اینجل کا راز بھی اسکے بغیر ادھورا میں تمہیں پاگلوں کی طرح چاہتا ہوں تمہیں کبھی خود سے دور نہیں کروں گا یہ خوف دل سے نکال دو”
وہ اسکا چہرہ ہاتھوں میں لیے اسے بلکل بچوں کی طرح پیار سے سمجھانے لگا مہمل اثبات میں سر ہلا گئی اور اسکے سینے سے لگ گئی۔
“اینجل اب فریش ہوجاؤ اسکے بعد بریک فاسٹ بھی کرنا ہے تم نے رات سے کچھ نہیں کھایا”
وہ مسکراتے ہوئے اسے پیار سے کہنے لگا
“اوکے”
وہ کہتے ساتھ باتھروم کی طرف بڑھ گئی اور آبراش اسے جاتا دیکھنے لگا


“کوئی خبر ملی آبراش اور مہمل کی”
فریحہ بیگم ناشتے کے وقت عریش کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“نہیں ابھی نہیں بزی ہوں گے شاید ڈونٹ وری سب ٹھیک ہوگا”
وہ جوس پیتے ہوئے فریحہ بیگم کو جواب دینے لگا فریحہ بیگم اثبات میں سر ہلا گئی اور سب لوگ ناشتہ کرنے لگے۔
“ویسے وہ کراچی کسی ضروری کام سے گیا ہے”
فریحہ بیگم نے پھر سے عریش کو دیکھتے ہوئے سوال کیا جس پر عریش نے انہیں دیکھا۔
“جی بھائی کیلیے بہت امپورٹنٹ ہے بھابی کو انکی فیملی سے ملوانے گئے ہیں”
عریش مسکراتے ہوئے بتانے لگا جس پر فریحہ بیگم اور آبرو دونوں نے عریش کو دیکھا۔
“کیا وہ بہت خاص ہیں بھائی کیلیے”
آبرو سریش کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر عریش نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“مگر آپ دونوں کی جگہ ویسے سو ڈونٹ وری”
وہ ان دونوں کے چہرے ہے تاثرات دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر وہ دونوں مسکرادیے اور سب ناشتہ کرنے لگے ان سب کے دوران رومیسہ خاموش رہی۔
ناشتہ کرنے کے بعد عریش اٹھا اور رومیسہ کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا رومیسہ اسکے پیچھے آئی
“کیا ہوا “
وہ پیچھے آتے ہوئے عریش کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“یہ تو تم بتاؤ کیا ہوا اتنی خاموش تم ٹھیک تو ہو نا رومیسہ”
وہ اسے دیکھتے فکرمند لہجے میں پوچھنے لگا رومیسہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“ہاں ٹھیک ہوں ابھی تک کوئی فون نہیں آیا آبراش جا اس لیے تھوڑی پریشان ہوں اور کچھ نہیں”
وہ اسے مسکراتے ہوئے بتانے لگی
“سجائے گا پریشان نہ ہو اسمائل”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا جس رومیسہ مسکراتی عریش بھی مسکرایا
“اوکے میں چلتا ہوں”
وہ اسکے ہاتھ کو لبوں سے چھوتے ہوئے پیار سے بولتے ساتھ چلا گیا اور رومیسہ اسے گڈ بائے کرکے اندر کی طرف بڑھ گئی۔


“مہمل تھوڑا سا تو کھاؤ”
آبراش اسے زبردستی ناشتہ کرواتے ہوئے کہنے لگا۔
“راش دل نہیں ہے میرا”
مہمل اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی آبراش نے اسے دیکھا۔
“اس طرح کرو گی تو ہمت نہیں رہے گی کھانا نہ کھانے سے سب ٹھیک ہو جائے گا نہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا مہمل بس اسے دیکھ سکی۔
“اچھا میرے کہنے پر ایک بائٹ صرف ایک میں نے بہت دل سے سینڈوچ بنایا ہے تمہارے لیے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا مہمل اسکی بات مانتے ہوئے ایک بائٹ لینے لگی۔
“بہت سے اصلی چہرے تمہارے سامنے لانے ہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بڑبڑایا مہمل جو سینڈوچ کھارہی تھی اسے دیکھا۔
“کچھ کہا کیا آپ نے “
مہمل اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی آبراش نے نفی میں سر ہلایا اور اسکا چہرہ صاف کرکے اسے جوس پلانے لگا۔
وہ باہر لان میں خاموش سی بیٹھی تھی نظریں آسمان کی طرف کیے چہرہ بجھا بجھا سا تھا آبراش نے اسے دیکھا اور اسکے پاس آیا اور اسے دیکھا۔
“کیا کررہی ہو”
وہ اسے اپنے حصار میں لیے مسکراتے ہوئے پوچھنے لگا مہمل نے ایک نظر اس پر ڈالی اور نفی میں سر ہلا گئی آبراش اسے دیکھنے لگا۔
“مہمل میں کہ رہا ہوں جلد تمہیں تمہارے ڈیڈ کے پاس لے چلوں گا وہ تمہیں معاف کردیں گے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا مہمل نے اسے دیکھا۔
“میں اس وجہ سے پریشان نہیں ہوں ڈیڈ مجھے کبھی نہ کبھی معاف کردیں گے لیکن میں مام کا چہرہ نہیں دیکھ سکی ہوں آپ کو پتہ ہے مجھے کتنا برا لگ رہا اتنے وقت بعد مام سے ملی اور مام کو ہگ تو دور کی بات انہیں دیکھ نہیں سکی کیوں میرے ساتھ ہوا یہ میں نے تو کچھ بھی غلط نہیں کیا پھر ایسا کیوں میری مام تک کو نہیں دیکھنا ملا مجھے”
مہمل بولتے ہوئے رونا شروع ہو گئی اور روتے ہوئے اونچی آواز میں کہنے لگی آبراش نے اسے سینے سے لگایا۔
“میں سمجھ سکتا ہوں سمجھ سکتا ہوں لیکن چپ بلکل چپ کوئی نہیں رونا”
وہ اسے سینے سے لگائے چال سہلاتے ہوئے کہنے لگا مہمل اسکے سینے سے لگی رونے میں مصروف تھی۔کچھ دیر وہ اسے اپنے سینے سے لگائے رکھا اور اسے اندر لے جانے لگا۔


“سر مہمل میم کو انکی مام تو دیکھنے دیتے”
۔ گارڈ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جب اختر صاحب نے سرد نگاہیں اسکی طرف کی۔
” تم سے پوچھا ہے کسی نے اپنے کام سے کام رکھو”
۔ وہ سرد لہجے میں کہتے ساتھ صوفے پر لیٹ گئی اور وہ خاموشی سے چلا گیا۔
“یہ شخص شروع سے گٹھیا ہے بس اپنی بیوی اور بیٹی کے سامنے اچھا بنتا تھا اور اب دونوں ہی نہیں ہے اصل روپ دیکھو گے تم اسکا”
گارڈ دوسرے گارڈ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا۔
“کیا سچ میں کچھ ایسا ہے لیکن وہ تو بہت رو رہے تھے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر اس نے اسے دیکھا۔
“بس ایک دن کا غم تھا دیکھو اب جیسے جوس پی رہا ہے جیسے کچھ نہ ہوا ہو “
وہ غصے سے کہنے لگا جس پر دوسرا گارڈ اثبات میں سر ہلا گیا۔


“پتہ کرواؤ اختر کا”
آبراش فون کان سے لگائے دوسرے طرف موجود شخص سے کہنے لگا ۔
“ٹھیک ہے”
وہ کہتے ساتھ فون رکھ گیا اور مڑا سامنے مہمل کو کھڑا دیکھ کر آبراش کو حیرت ہوئی۔
“تم یہاں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا مہمل اسے دیکھ رہی تھی۔
“ہاں میں یہاں کس سے بات کررہے تھے آپ”
مہمل سینے پر ہاتھ باندھے اسے سر تا پر دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی آبراش اسکے اس طرح دیکھنے اور پوچھنے پر پہلی دفعہ کنفیوز ہوا۔
“ارے کسی سے نہیں تمہیں کیوں اتنی فکر ہوتکی ہے کسی لڑکی سے بات نہیں کررہا ہوں اینجل بس کام کی بات تھی”
وہ خود کو نارمل کرتے ہوئے اسے بولتے ہوئے بات دوسری طرف کر گیا مہمل اسے دیکھ رہی تھی۔
“کوئی لڑکی آئے تو صحیح حشر کردوں گی میں”
وہ غصے سے کہنے لگی آبراش اسکے انداز پر ہنسا۔
“کوئی نہیں آئے گی کہیں گھومنے چلیں”
آبراش اسے دیکھتے ہوئے نرمی سے پوچھنے لگا مہمل نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“میں یہی کہنے آئی تھی مجھے تھوڑی دیر باہر رہنا ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی جس پر آبراش اوکے کرتے ہوئے ساتھ لگائے آگے بڑھ گیا۔
جاری ہے۔