51.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Shiddat Junon) Episode 24

وہ دونوں کراچی پہنچ چکے تھے مہمل کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ تھی اس وقت صبح کے چار بج رہے تھے اور وہ دونوں ائیر پورٹ میں موجود تھے تبھی آبراش کا ڈرائیور وہاں آیا وہ دونوں گاڑی میں بیٹھتے چل دیے۔
“کتنی خوش ہوں میں آپ کو بتا بھی نہیں سکتی آج پورے ڈھائی مہینے بعد میں اپنی مام ڈیڈ سے ملوں گی مجھے امید ہے وہ مجھے غلط نہ سمجھیں”
وہ خوشی سے گاڑی میں اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی اسے اس طرح خوش دیکھ کر آبراش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
“ہاں انشاء اللہ”
وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا مہمل بھی مسکرائی۔
“آپ بیسٹ ہیں”
وہ اسکے گلے میں بازو ڈالے پیار سے بولی اسکی بات پر مسکرایا۔
“سر ہم پہنچ گئے”
تبھی ڈرائیور نے گاڑی روکتے ہوئے بتایا مہمل فوراً گاڑی سے اتری آبراش بھی اترا اور دونوں اندر کی طرف بڑھنے لگے
اس وقت ٹی وی لاونج میں صرف رونے کی آوازیں گونج رہی تھی وہ بیچ میں نہ جبین کی ڈیتھ باڈی پڑی تھی افتخار صاحب اسکے پیروں پر بیٹھے رو رہے تھے۔
“ڈیڈ یہ”
وہ اپنی آنکھوں پر یقین نہ کرتے ہوئے بامشکل بول سکی اسکی آواز سے اختر صاحب نے اسے دیکھا مہمل ٹی وی لاونج کے اندر قدم رکھنے لگی تھی ۔
“اس جگہ پر قدم بھی نہیں رکھنا تم “
وہ چلاتے ہوئے کہنے لگے جس پر مہمل انہیں روتے ہوئے دیکھنے لگی اختر صاحب اسکی طرف آئے آبراش خاموشی سے کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔
“اس جگہ پر آنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں تم مر گئی ہو تمہیں پتہ ہے تمہاری ماں نے کتنا یاد کیا تمہیں میری بیوی کی موت کی ذمہدار صرف اور صرف تم ہو چلی جاؤ تم”
وہ چلاتے ہوئے تیش میں بولے مہمل سہم گئی اور نم آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی۔
“ڈیڈ ایسا مت کریں پلیززز ایسا نہیں مجھے ایک دفعہ ایک دفعہ مام کو دیکھنے دیں میں آپ کو سب بتاؤں “
وہ روتے ہوئے بےبسی سے انہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر اختر صاحب غصےسے دیکھنے لگے۔
“تمہیں سمجھ نہیں آئی میری بات چلی جاؤ یہاں سے”
وہ سخت تیور لیے سخت لہجے میں کہنے لگے مہمل نم آنکھوں سے بے بسی بس دیکھ رہی تھی۔
“دیکھیں سر میری بات سنیں”
آبراش نے بیچ میں مداخلت کرتے ہوئے اختر صاحب جو مخاطب کیا جس پر انہوں نے اسے دیکھا۔
“میں کوئی بات سننا چاہتا تھا چلے جاؤ تم سمجھو کر گئی میرے لیے “
وہ غصے سے اسے بولے اور گارڈز کو بلایا مہمل نم آنکھوں سے بےبسی سے ان سے منتیں کررہی تھی۔


“آبراش یہ کیا ہوا ہے میری ماما چلی گئی مجھے چھوڑ کر اور میرے ڈیڈ مجھے دیکھنا نہیں چاہتے ایسا تو نہیں تھا وہ تو میرے بغیر ایک دن نہیں رہا کرتے تھے ایسا کیوں ہوا ہے”
وہ روتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے اداسی سے کہنے لگی آبراش بس خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“مجھے مام کے پاس جانا ہے پلیززز مجھے جانے دیں مجھے وہاں کے جائیں راش آپ تو کچھ بھی کرسکتے ہیں پلیزززز”
وہ روتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی آبراش نے بس اسے سینے سے لگایا۔
“مہمل صبر کرو “
وہ اسے سینے سے لگائے اسکے بالوں کو سہلاتے ہوئے انتہائی نرمی سے بولا۔
“نہیں آرہا ہے مجھ میں صبر میری ماں مر گئی اور میرے ڈیڈ مجھے چھوڑ گئے وہ کہتے ہیں میں انکے لیے مر گئی کیا کوئی بیٹی زندہ رہ سکتی ہے بتائیں”
وہ اسکے سینے سے لگی روتے ہوئے سسکتے ہوئے بولی آبراش کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔
“مہمل ہمیں گھر جانا ہے”
وہ اسے پیار سے کہتے ساتھ گاڑی میں بٹھانے لگا مہمل مڑ کر اپنے گھر کو دیکھ رہی تھی اسکی آنکھوں سے بہت سے آنسو نکل کر رخسار پر گرے۔


وہ اسے گھر میں لایا مہمل بت بنی بیڈ پر بیٹھی تھی آنکھیں ڈوبی ہوئی تھی بال بکھرے ہوئے تھے وہ اسی طرح بیٹھی تھی جب آبراش کمرے میں داخل ہوا۔
“اینجل”
وہ اسے دیکھتے ہوئے نرمی سے پکارنے لگا مگر مہمل نے کوئی حرکت اور کوئی تاثرات نہیں دیے
“اینجل اس طرح مت کرو یوں رہو گی تو میں کیسے رہوں گا”
وہ اسے دیکھتے ہیں اداسی سے بولا مہمل نے بس اسے دیکھا اور اٹھ کر جانے لگی جب آبراش نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے روکا اور اپنے سینے سے لگایا
“آئی پرامس سب ٹھیک کردوں گا یوں نہ کرو”
وہ اسے سینے سے لگائے محبت سے کہنے لگا مہمل اب بھی کچھ نہیں بولی اور اسکے سینے سے لگی آنکھیں موند گئی آبراش نے بھی آنکھیں بند کرلی۔


“عریش آبراش کا کوئی فون آیا”
رومیسہ فون سائیڈ پر رکھتے ہوئے عریش سے مخاطب ہوئی عریش نے نفی میں سر ہلا دیا۔
“مہمل بھی نہیں اٹینڈ کررہی تھی امید ہے وہ دونوں ٹھیک ہوں گے”
وہ فکرمندی سے کہنے لگی عریش نے اسکا ہاتھ تھاما
“ڈونٹ وری بھائی ساتھ ہیں بھابی کو کچھ نہیں ہوگا”
وہ اسکا تھاما پیار سے کہنے لگا رومیسہ مسکرائی اور عریش کو دیکھا
“مجھے ایک کہ کافی ملے گی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر رومیسہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“ملے گی لیکن تم ساتھ آؤ گے اس وقت مجھے اکیلے ڈر لگے گا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی
“اوہ یعنی تم ڈر کر مجھے ہگ کرنا چاہتی ہو برا آئیڈیا نہیں ہے چلو”
وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا جس پر رومیسہ نے گھورا
“اپنا آئیڈیا اپنے پاس رکھو اور چلو”
وہ اسے کہتے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی اور عریش بھی اٹھا دونوں کچن کی طرف بڑھ گئے۔


آبراش نے اسے بہت مشکل سے کھانا کھلا کر سلایا تھا وہ بار بار اختر صاحب کا چہرا سوچ رہا تھا۔
“تم زیادہ وقت تک نہیں بچو گے اب”
وہ آنکھوں میں خون لیے انہتائی زہر خند لہجے میں کہتے ساتھ مہمل کی طرف مڑا جو سوئی ہوئی تھی آبراش اسکے پاس آیا اور اسے اپنے حصار میں لیے اسے دیکھنے لگا۔
“تمہیں میں دوبارہ پہلی جیسی اپنی معصوم سی اینجل بنا دوں گا”
وہ اسے ہر نقوش کو غور سے دیکھتے ہوئے دل میں کہنے لگا اسے اس طرح دیکھنے میں آبراش کو سکون سا مل رہا تھا
“آئی لو یو سو مچ اینجل”
وہ کہتے ساتھ اسکے بال چہرے ہٹائے ماتھے پر لب رکھے محبت سے کہنے لگا اور مہمل کیساتھ گزرا ہوا ہر وقت یاد کرنے لگا ایک ایک وقت جب جب وہ اسے تنگ کرتی تھی جب جب نکھرے دیکھاتے تھی وہ سب سوچتے ہوئے آبراش مسکرادیا۔
“تم نے میری زندگی میں آکر میری زندگی کو حسین بنا دیا ہے”
وہ اسکے کان کے قریب ہوئے سرگوشی والے لہجے میں بولا اور اسکے ناک سے اپنا ناک مس کرکے آنکھیں بند کر گیا۔
جاری ہے
اسلام و علیکم ریڈرز کیسی لگی قسط کمنٹ سیکشن میں سب بتائیں اور آبراش اور اختر صاحب کا کیا تعلق ہے جس سے آبراش اتنی نفرت لیے بیٹھا ہے بتاؤ بتاؤ