51.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Shiddat Junon) Episode 1

یہ منظر سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت برن کاہے جسے دریائے عار میں ایک بدمعاش کے آس پاس بنایا گیا ہے۔ اس کی ابتدا 12 ویں صدی تک کی ہے ، جس میں قرون وسطی کے فن تعمیرات الٹسڈٹ (اولڈ ٹاؤن) میں محفوظ ہیں۔
وہ دو شخص اس وقت موجود ایک سنسان خوفیہ طرح کی جگہ پر موجود تھے اور سامنے ایک شخص رسیوں سے بندھا ہوا تھا۔۔
“کیوں بولا”
اس میں سے ایک نے سرد لہجے میں اس بندھے ہوئے شخص سے پوچھا جس پر وہ دیکھنے لگا اور دوسرا شخص پیچھے پرسکون بیٹھا سگریٹ پینے میں مصروف تھا
“م۔۔میں۔۔نے۔۔کچھ نہیں۔کیا”
وہ کانپتے لبوں کیساتھ روتے ہوئے ڈر کر بتانے لگا دونوں وجودوں کے چہرے پر انتہا کی سخت تاثرات واضح ہوئے۔۔۔
“کوبرہ”
تبھی اس شخص نے پیچھے بیٹھے کو شخص مڑ کر پکارا وہ اسکی طرف دیکھنے لگا۔
“ن۔۔نہیں میں۔۔ںتاتا۔۔۔ہاں۔۔م۔۔میں نے۔۔ہی۔۔بتایا تھا۔۔۔اسے”
کوبرہ کا نام سنتے ہی اس شخص کا پورا جسم کانپ کر رہ گیا اسے اپنی جان بہت پیاری تھی اس لیے بہت مشکل سے یہ بول دیا اس نے جیسے ہی یہ لفظ ادا کیے ہی تھی کہ پیچھا بیٹھا وہ تیس سالہ نوجوان لمبا قدر چوڑی جسامت بڑھی ہوئی بئیرڈ گولڈن بلیش کلر کی سرخ آنکھیں لیے بلیک بال کانوں میں کانٹے عجیب سے حولیے میں ٹراؤزر اور سلیولیس شرٹ پہنے وہ شخص دیکھنے میں برا نہیں بلکہ بہت حسین اور پرکشش لگتا تھا مغرور چال چلتا اس بندھے ہوئے شخص کے مقابل میں بیٹھا اور بندھے ہوئے شخص کا حلق تک سوکھ گیااسکی طرف دیکھنا بھی محال تھا اور دوسرا ساتھی پیچھے ہوگیا۔
کوبرہ نے جیب سے چاقو نکالا اور اپنی وحشت غصے بھری نظروں سے اسے گھورتا بڑی بے رحمی سے اسکی گردن اور اسکی کلائی سب کاٹ ڈالا اسے لوگوں کو مار کر خود میں سکون اترتا محسوس ہوتا تھا وہ ٹشو سے پرسکون انداز میں چاقوصاف کرتا جیب میں ڈال کر کھڑا ہوا وہ انسان تڑپ کر رہ گیا۔
“لیٹس گو”
کوبرہ بس یہی دو لفظ ادا کرتا باہر نکل گیا اور اسکا ساتھی بھی ایک نظر اس پر ڈال کر باہر کی طرف بڑھ گیا۔
وہ شخص گاڑی میں بیٹھتے ساتھ دوسرے ساتھی کے بیٹھنے کا انتظار کرتا جیسے ہی وہ بیٹھا وہ زن سے گاڑی سڑک بھگا گیا
کچھ دیر بعد وہ دونوں ادھر کے ایک ہوٹل میں موجود تھے صرف اس شخص کا کام تمام کرنے کیلیے وہ یہاں آئے تھے کل دونوں کی پاکستان واپسی تھی وہ دونوں ہوٹل کے روم میں آتے ساتھ بیٹھ گئے کوبرہ باتھروم کی طرف بڑھ گیا وہی وہ لیٹ گیا۔۔۔۔۔
•••••••••••••••••
وہ اپنے کمرے میں گہری نیند سونے میں مصروف تھی دنیا سے بےخیر تبھی اسکے فون پر کال آئی۔
“کسے صبح صبح موت پڑی ہے”
وہ غصے سے کہتے ساتھ آنکھوں پر سے سلیپ آئی ماسک ہٹاتی نظریں موبائل پر ڈال کر منہ بسور کر اٹینڈ کرکے لیٹ گئی۔۔۔
“بولو”
وہ سرد لہجے میں اسے بولی فاطمہ کو پتہ لگ گیا تھا وہ ابھی تک گھوڑے بیچ کر گہری نیند سونے میں مگن ہے
“محترمہ نیند سے جاگ جائے رزلٹ آ گیا ہے”
فاطمہ کے الفاظ سنتے ہی اس پر تو جیسا کوئی کرنٹ سا لگ گیا وہ ایکدم اٹھ کھڑی ہوئی اور خود کے اوپر سے بلینکٹ اتارنے لگی
“کیا نہ کر یار کیوں جان نکال رہی ہے”
وہ پریشانی سے کہتے پیشانی مسلتی اٹھ کر سلیپر پہن کر بالوں کو پیچھے کرتی لیپ ٹاپ اٹھانے لگی۔
“رکھو فون میں کرتی”
وہ اسے کہتے ساتھ فون کٹ کرتی لیپ ٹاپ پر سرچ کرکے رزلٹ دیکھنے لگی جیسے ہی اپنا رول نمبر اس نے ڈالا
“اللہ تعالیٰ پلیززز پلیززز پاس ہوجاؤ”
وہ آنکھیں بند کیے دعا کرتے ہوئے بلکل کوئی معصوم بچی لگ رہی تھی اس نے ایک آنکھ کھل کر نظر لیپ ٹاپ پر ڈالی اور پھر دوسری بھی کھولی
“یاہووووو آئی گوٹ سکینڈ پوزیشن”
وہ چلا کر کہتے ساتھ خوشی سے پاگل ہونے لگی اور لیپ ٹاپ رکھتی فون اٹھا کر کال کرنے لگی۔۔۔۔
“سکینڈ پوزیشن اور تم”
وہ اب اس سے پوچھنے لگی جس پر فاطمہ نے اسے مبارک باد دی اور اس نے اپنے نمبرز بتائے
“ارے یار تمہارے نمبرز اچھے ہیں مبارک ہو تمہیں بھی پاس ہوگئی تم”وہ اسے کہنے لگی جس پر فاطمہ نے شکریہ ادا کیا اور وہ فون کاٹتی خوشی سے چھلانگے مارتے ہوئے بیڈ پر آئی۔
درمیانے قد کی سیاہ ریشمی لمبے کمر تک آتے بال بڑی بڑی سیاہ آنکھیں جن میں بےحد چمک تھی دودھیانہ رنگت تیکھی پتلی خوبصورت ناک گلابی رخسار اور لال لب وہ دیکھنے میں بلکل معصوم گڑیا کی مانند تھی وہ بالوں کو جوڑے کی شکل میں قید کرتی فون رکھتی باتھروم کی طرف بڑھنے لگی اسکا پورا کمرا پنک تھا ہر چیز وہاں موجود پنک تھی اور دیکھنے میں بےحد پیارا لگ رہا تھا۔
“مہمل باجی بڑی بیگم صاحبہ بلارہی ہیں”
بوا اسے بلانے کیلیے مخاطب کرنے لگی
“آگئی بوا”
وہ جواب دیتے ساتھ وارڈروب سے ڈریس نکال کر چینج کرنے کے غرض سے چلی گئی۔
••••••••••••••••••••
“نیکس”
عریش کچھ بول رہا تھا جب اس نے اسے ہاتھ سے روکنے کا اشارہ کیا لمبا قد چوڑی جسامت بڑھی ہوئی داڑھی درمیانی بلیو آنکھیں باتھوں میں بلیک بینڈ پہنے ہاتھ میں بلیک آئی فون تھامے وہ دیکھنے میں بےحد ہینڈسم اور سنجیدہ تھا اسکی سنجیدگی اسکی پرسنیلٹی کو مزید خوبصورت بناتی تھی وہ اسے خاموش کرواتا بھاری بھاری قدم اٹھائے باہر کی جانب بڑھ گیا
“یار سن تو لیا کر میری ” عریش اسے جاتا دیکھتے ہوئے کہنے لگا وہ جانتا تھا وہ صرف اسکی بھی زیادہ سے زیادہ دو لفظوں کی بات سنتا تھا نہ زیادہ بولتا نہ کسی کی اتنی اتنی سنتا تھا اپنے کام سے کام رکھنے والا تھا
••••••••••••••••••
اسکے سکینڈ آنے کی خوشی میں اختر خان نے ایک پارٹی کا انتظام کیا تھا وہ پنک فراک میں بالوں کو کھولے لائٹ سے میک میں پیروں پر ہیلز چڑھائے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی اختر خان اور نہ جبین بیگم کی جان بستی تھی اپنی بیٹی میں جان کیسے نہ ہوتی اکلوتی جو تھی
وہ سائیڈ پر کھڑی اپنی دوستوں کیساتھ تصویریں اور باتیں کرنے میں مگن تھی اختر مرزا کیلیے یہ سر اٹھانے تک کا مقام تھا انکی بیٹی نے انکا نام روشن کیا تھا وہ اس بات سے بھی بے حد خوش تھے
“مام ڈیڈ”
وہ انہیں پکارتے ہوئے اپنی جانب آنے کا اشارہ کرنے لگی اسکا اشارہ سمجھ کر وہ دونوں اسطرف بڑھے
“فاطمہ میری پک ان دونوں کیساتھ”
وہ چہرے پر مسکراہٹ اپنی بیسٹ فرینڈ کو مخاطب کرتے ہوئے ایک سائیڈ پر اختر خان اور دوسری طرف نہ جبین بیگم کو کھڑا کرکے تصویر بنانے لگی جب تصویر بن گئی تو وہ مسکراتے ہوئے انہیں دیکھنے لگی
“اب پہلے آپ کیک کٹ کرلو اسکے بعد کھانا کھا لو پھر باقی باتیں کرنا”
مہ جبین بیگم مہمل کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئی اور کیک کاٹنے لگی سب نے تالیاں بجائے اور اسے کسنگریٹس کیا اور منہ میٹھا کروایا۔۔
•••••••••••••••••••
اس شخص کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی رات اسکے لیے ویسے بھی بہت مشکل سے گزرتی تھی ناچاہتے ہوئے بھی جو اسکی ماں کیساتھ وہ بھلا نہیں سک رہا تھا وہ آنکھیں بند کرکے خود کو ٹھیک کرنے کی کوشش کررہا تھا مگر گولڈن بلیش آنکھیں انتہا کی سرخ تھی اب سکون صرف ایک شخص کو اذیت پہنچا کر ہی اسے ملنے والا تھا
وہ یہی سوچ رہا تھا تبھی اسکے ذہن میں وہ دن آیا
“پ۔۔پلیز میرا پرس لے دیں میری فیورٹ واچ فیورٹ لپسٹک اور بلش شون کٹ ہے پلیززز وہ بھاگ رہا ہے”
ایک معصوم آواز کوبرہ کے کانوں سے ٹکرائی اس نے مڑ کر اسے دیکھے تو نظریں وہی جم سی گئی وہ دیکھنے میں سچ میں کوئی گڑیا لگی تھی اسے۔۔۔
“پلیزز وہ بھاگ رہا ہے”
مہمل اس لڑکے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تھوڑی اونچی آواز استعمال کرنے لگی تبھی کوبرہ نے جیب سے چاقو نکالا جس سے مہمل گھبرا کر رہ گئی اس نے چاقو گھما کر اس لڑکے کی طرف پھینکا وہ سیدھا اسکی کمر سے لگ گیا جیسے ہی چاقو اسکی کمر سے لگا وہ فوراً زمین پر درد سے گر گیا اور وہ آگے کی جانب بڑھے غصے سے مہمل کا بیگ تھامتا اپنا چاقو نکال کر آ گیا اور وہ شخص پورا پورا زمین پر لیٹ گیا مہمل پھٹی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی اسے وہ انسان نہیں لگا کچھ اور ہی لگا تھا
“شش۔۔شکریہ”
وہ کانپتے لہجے میں کہتے ساتھ بہت تیزی سے وہاں سے بھاگ کر گاڑی میں بیٹھ گئی اور گولڈن بلیش آنکھوں نے اسکا بہت دور تک پیچھا کیا تھا
وہ دن یاد کرتے ہی کوبرہ تھوڑا بہتر ہوچکا تھا کچھ تھا اس میں جو کوبرہ کو اپنی طرف اٹریکٹ کر گیا تھا شاید اسکی معصومیت یا چہرے کی خوبصورتی وہ اسکا سوچتے سوچتے ہی لیٹ گیا
•••••••••••••••••••••
“مام صبح فاطمہ نے ٹریٹ دینی ہے تو سب کو ہوٹل میں انوائیٹ کیا ہے میں جاؤ گی میں کہ چکی ہوں”
مہمل انکی گود سے سر اٹھا کر انہیں بولی جس پر مہ جبین نے اسے دیکھا
“اچھا ٹھیک چلی جانا ڈرائیو ہی چھوڑو گا ڈرائیور ہی لے گا”
مہ جبین اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر وہ اثبات میں سر ہلا کر اٹھ گئی
“آں مجھےنیند آرہی میں بہت زیادہ تھک گئی ہوں آج”
مہمل منہ بنائے بچوں کی طرح کہتے ساتھ پانی ماں کی گال پر پیار کرتی وہ کمرے سے باہر کی طرف بڑھ گیا۔
وہ اکلوتی اور اس گھر کی رونق چلبل نادان سی اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنی والی اسے کیا پتہ تھا وہ ایک ایسے شخص کے نصیب میں لکھ دینے والے جو اندر تک کھوکھلا جسے انسانوں کو ختم کرکے خود میں سکون ملتا ناجانے کیا کھیل کھیلنا تھا قسمت نے اسکے وہ مزے سے چھلانگے مارتے ہوئے اوپر کی طرف بڑھ کر اپنے کمرے میں داخل ہوئی
“چل مہمل سوجا “
وہ خود سے کہتے ساتھ بیڈ پر لیٹی اور خود پر بلینکٹ ڈال کر سونے کی کوشش کرنے لگی پندرہ بیس منٹ میں وہ دنیا سے بیگانہ گہری نیند سونے میں مصروف تھی
••••••••••••••••••••••
“نن۔۔نننہیں پلیززز مت مارو”
وہ نیند میں بےچین ڈرتے ہوئے خوفزدہ سی بول رہی تھی
تبھی ایک وجود کھڑکی عبور کرکے اسکے پاس آیا چہرہ ماسک سے چھپائے اسکی گولڈن بلیش آنکھیں اس اندھیرے میں بھی چمک رہی تھی نظر اس بےچین معصوم وجود پر گئی جو نیند میں خوفزدہ سی تھی
وہ اسکے قریب آیا اپنی آنکھیں اسکے چہرے پر گاڑھی اور اپنے سیدھے ہاتھ کی انگلیاں اسکے بالوں میں پھیر کر اسکے سہلانے لگا
“Relax angel “
وہ گھمبیر آواز میں اسکے کانوں کے قریب ہوکر گھمبیر آواز میں بولا اور انگلیاں پھیر کر اسے سکون دلانے کی کوشش میں تھا مہمل جہاں پہلے بےچین تھی اب تھوڑا تھوڑا سکون اسے مل رہا تھا وہ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر انہیں سہلاتا مہمل کو سکون دے رہا تھا کچھ ہی دیر میں وہ پرسکون سی دوبارہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی اور وہ شخص جیب سے سگریٹ نکال کر کھڑکی کے پاس جاکر کھڑا ہوگیااپنی نظریں بار بار اسکے چہرے پر ڈال کر دیکھ رہا تھا کہ کہیں وہ پھر سے بے چین یا خوفزدہ نہ ہو جائے جب اسے یقین ہوگیا کہ وہ گہری نیند سوچکی ہے وہ سگریٹ بجھاتا آکے بیڈ کے قریب آکر اپنے چہرہ اسکے کان کے قریب کرگیا
“Good night angel”
وہ اسکے کان کے قریب ہوکر اسے کہتے ساتھ ایک گہری نظر اس پر ڈال کر خاموشی سے چلا گیا
••••••••••••••••••
وہ شیشے کے سامنے کھڑی خود کو سر تا پیر دیکھنے میں مصروف تھی
“صحیح لگ رہی ہو”
مہمل اپنا آپ دیکھتے ہوئے خود سے پوچھنے لگی لیکن جواب نہ مل رہا تھا
“اب مہمل تو اپنے منہ سے اپنی کیا تعریف کرے گی”
مہمل ہنس کر بولی تبھی بوا کمرے میں آئی مہمل نے انہیں دیکھا
“بوا بوا کیسی لگ رہی ہوں میں”
وہ بوا کو مخاطب کرتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کرنے لگی بوا نے اسے سر تا پیر دیکھا
“آپ ہمیشہ پیاری لگتی ہیں”
بوا محبت سے کہنے لگی جس پر مہمل منہ بسور کر کاؤچ پر بیٹھ گئی بوا اسے دیکھنے لگ گئی
“بوا آپ ہر دفعہ یہی کہتی ہے اور ہر دفعہ کوئی لڑکا نہیں پسند کرتا مجھے ایسے کہ کوئی مجھے دیکھ کر پاگل ہو جائے”
وہ منہ بسور کر کہتے ساتھ بوا کی جانب دیکھنے لگی اسکی بات سن کر وہ ہنسنے لگ گئی
“بیٹی اللہ نے تمہارے نصیب میں پہلے سے کسی کو لکھ دیا ہے بس دعا کرو جیسا تم چاہتی ہو وہ ویسا ہی ہو”
بوا اسے پیار سے بتاتے ساتھ سر پر ہاتھ رکھ کر مسکرائی
“آمین آمین بلکل ناولز کے ہیرو کی طرح بلکل انڈین+ترکش ہیرو کی طرح جو میرے لیے کچھ بھی کر جائے”
وہ سوچتے ہوئے مسکراتے ساتھ کہنے لگی جس پر بوا مسکرائی اور انشاء اللہ کہنے لگی تو مہمل کھل کر ہنس گئی
“اوکے اب میں چلتی ہوں دیر ہورہی ہے جلدی واپس آجاؤ گی”
مہمل کہتے ساتھ بیگ اٹھاتی کمرے سے باہر نکل کر زینے اتر کر ٹی وی لاونج میں آئے نہ جبین اور اختر خان سے مل کر وہ ڈرائیور کیساتھ ہوٹل کیلیے نکل گئی
جاری ہے
🥰
Murtasim Khan
Absolutely amazing
1y
Share
Rana Muhammad Umer
Very nice plzzzzzz plzzzzzz plzzzzzz next
1y
Share
Jeeya Khan
1y
Share
Jeeya Khan
1y
Share
Jeeya Khan
1y
Share
Hijjat Chuhan
1y
Share
Khalda Perveen
1y
Share
Mehjabeen Rana
nice
1y
Share
Muhammad Talha
nice
1y
Share
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook
Facebook