51.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Shiddat Junon) Episode 20

“طبیعت کیسی ہے اب”
آبراش کمرے میں آتے ہوئے اسکے لیے سوپ ہاتھ میں تھامے پیار سے پوچھنے لگا۔
“ٹھیک ہے”
وہ بالوں کو جوڑے میں قید کرتی اٹھ کر بیڈ کراؤن سے سر ٹکاتے ہوئے بتانے لگی۔
“یہ پیو”
وہ ماسجے سامنے ڈش رکھتے ہوئے کہنے لگا مہمل خاموشی سے پینے لگی۔
“کیا ہوا سب ٹھیک ہے”
مہمل اسکے چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے فکرمندی سے پوچھنے لگی جس پر آبراش نے اسے دیکھا۔
“ہاں کیوں”۔۔؟؟؟
آبراش اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگا
“مجھے آپ کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے پریشان لگ رہے ہیں کوئی بات ہے کیا”
مہمل سوپ پیتے ہوئے اسے بتانے لگی جس پر آبراش نے نفی میںسر ہلا دیا۔
“مجھے پتہ ہے آپ آنٹی اور اپنی بہن کی وجہ سے پریشان ہے فجر نہ کریں انشاء اللہ آپ سب کے درمیان سب ٹھیک ہو جائے گا”
وہ آبراش کو دیکھتے ہوئے نظر اسکے چہرے پر ڈالتے دل میں کہنے لگی
“آپ پیے گے”
وہ چمچ اسکی طرف بڑھاتے ہوئے معصومیت سے پوچھنے لگی اسکی معصومیت دیکھتے آبراش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور خاموشی سے پینے لگا مہمل مسکرائی۔
“کچھ دیر لان میں چلیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی آبراش اثبات میں سر ہلا گیا مہمل فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔
“ایک منٹ”
آبراش اسے کہتے ساتھ وارڈروب سے کوٹ نکال کر اسے پہنانے لگا مہمل مسکرادی۔
“ڈھنڈ نہ لگ جائے”
وہ اسے پہناتے ہوئے بولا مہمل اسکی بات پر مسکرائی اور اسکا ہاتھ تھامے باہر کی طرف بڑھ گئی۔
وہ دونوں لان میں ٹہل رہے تھے آبراش اسے دیکھ رہا تھا مہمل اسکے ساتھ چل رہی تھی۔
“کیا دیکھ رہے ہیں”
وہ اسکی نظریں مسلسل خود پر پاتے ہوئے پوچھنے لگی آبراش ابھی بھی اسے دیکھ رہا تھا۔
“کچھ پل سکون کے چاہیے جو تمہیں دیکھ کر مل رہا ہے”
وہ اسکے چہرے پر گہری نظر ڈالتے ہوئے پرسکون سا جواب دینے لگا مہمل اسکے جواب پر مسکرائی۔
“اتنا پیار نہ کریں میرے بغیر رہنا ممکن ہی نہ ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی اسکی بات پر آبراش کے تاثرات بلکل سنجیدہ ہو گئے۔
“تم کہاں جارہی ہو”
وہ سنجیدگی سے اس سے نظریں ہٹاتے ہوئے پوچھنے لگا
“ایک نہ ایک دن اس دنیا سے جان”
ابھی وہ بول رہی تھی جب آبراش نے اسے خاموش کروا دیا۔
“چپ بلکل چپ کچھ بھی منہ میں آئے گا بول دو گی خاموش”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگا جس پر مہمل مسکرائی۔
“تو مسٹر آبراش اپنی بیوی کو کھونے سے ڈرتے ہیں”
وہ مسکراتے ہوئے خوشی سے پوچھنے لگی جب آبراش جے قدم رکے اس نے اپنا رخ اسکی طرف کیا۔
“میں تمہیں خود سے کبھی دور نہیں جانے دوں گا”
وہ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے اپنی نظریں اس پر جمائے پیار سے بولا مہمل مسکرادی۔
“میں جاؤں گی بھی نہیں”
وہ مسکراتے ہوئے اسے کہنے لگی آبراش بھی ہلکا سا مسکرادیا۔
“میں مگن ہوں اپنی دنیا میں
میری دنیا تم فقظ تم ہو”♥✨


“رومیسہ میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں”
عریش اسکے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگا جس پر رومیسہ نے اسے دیکھا۔
“بولو”
وہ سینے پر بازو باندھے اسکی جانب دیکھتے ہوئے اسے اجازت دینے لگی۔
“سوری میں نے جو سب کہا میں خود بھی اپنی فیلینگز سے انجان تھا میں دل سے تمہیں چاہنے لگا ہوں آئی لو یو اور میں کوئی ریلیشن کچھ بھی نہیں مری جاتے ہی تمہیں اپنے نکاح میں کرنا چاہتا ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے چہرے پر سنجیدگی لیے اسے بتانے لگا اسکی آنکھیں اسکے لفظوں کا ساتھ دے رہی تھی رومیسہ نے اسے دیکھا۔
“تم میری فیلینگز جانتے ہو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے”
رومیسہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی عریش کے چہرے پر بھی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“چلو میرے ساتھ پھر”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا رومیسہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“لیکن ایک وعدہ کبھی دھوکہ نہیں دو گے “
رومیسہ اسے روکتے ہوئے کہنے لگی جس پر عریش نے اسے دیکھا۔
“وعدہ کبھی نہیں تمہیں ہرٹ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا میں جانتا ہوں تم نے اپنوں کو کھویا ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تبھی رومیسہ اسکے سینے سے لگی۔
“مجھے سب سے زیادہ تم سمجھتے ہو ہمیشہ سمجھنا “
وہ اسکے سینے سے لگے کہنے لگی عریش کے چہرے پر شوخیہ مسکراہٹ آئی۔
“میں کچھ غلط کردوں پھر کچھ مت “
ابھی عرءش اسکے گرد حصار بنانے ہی لگا تھا رومیسہ فوراً الگ ہوئی اور اسے گھور کر دیکھا۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو گلے تم لگی”
وہ مسکراتے ہوئے اسے شرارتی انداز میں کہنے لگا رومیسہ نے اسے مکہ مارا۔
“چلو”
وہ اسے گھورتے ہوئے کہنے لگی عریش ہنستے ہوئے چل دیا۔


صبح مہمل کی آنکھ کھلی آبراش نہیں موجود تھا مہمل نے وال کلاک پر نظر ڈالی جو بارہ بجارہی تھی مہمل اٹھی پیروں پر چپل گھسائی اور دروازہ کھول کر نیچے کی طرف بڑھی۔
“سر کہاں گئے”
مہمل میڈ کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر میڈ نے بھی اسے دیکھا۔
“وہ تو بہت پہلے کسی کام سے چلے گئے تھے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی مہمل سوچنے لگی
“کب واپس آئے گے کچھ بتایا”
مہمل میڈ سے پھر سے پوچھنے لگی جس پر میڈ نے نفی میں سر ہلا دیا مہمل اوپر کی طرف بڑھی
“میں اپنا کام کر آؤں تب تک”
وہ کہتے ساتھ باتھروم کی طرف بڑھی اور فریش وغیرہ ہوکر باہر آئی بالوں جو ٹیل پونی میں قید کیے پاؤں پر فلرٹس چڑھائی کوٹ پہنتی ایک نظر شیشے پر ڈالتی وہ باہر کی طرف بڑھ گئی۔
“میم آپ کہاں جارہی ہے”
گارڈ اسے روکتے ہوئے پوچھنے لگا اور مہمل نے گھور کر اسے دیکھا۔
“کچھ دیر میں واپس آجاؤں گی مجھے جانے دو “
مہمل اسے دیکھتے ہوئے تھوڑی نرمی سے کہنے لگی
“میم سر نے منع کیا ہے آپ نہیں جا سکتی”
وہ اسے روکتے ہوئے بولا مہمل منہ بنا گئی۔
“میں آدھے گھنٹے میں آجاؤ گی جانے دو صرف کچھ دیر کی بات ہے ایسا کرو تم اسے ساتھ بھیج دو”
مہمل آبراش کے دوسرے گارڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگی جس پر وہ خاموش ہو گیا اور اس لڑکے کو اشارہ کیا مہمل مسکرائی اور وہ دونوں چل دیے۔


وہ اس وقت اسی گھر کے باہر موجود تھی مہمل نے گارڈ کو گاڑی سائیڈ کی طرف کرنے کا اشارہ کیا اور خود گھر کی طرف بڑھی اور بیل بجائی۔
“کون ہے”
وہی عورت دروازے کھولتے ہوئے پوچھنے لگی اور نظر جیسے ہی سامنے لڑکی پر گئی وہ حیرت میں مبتلا ہو گئی۔
“اسلام و علیکم میں آبراش کی بیوی مہمل آبراش شاہ”
مہمل ہاتھ آگے کی طرف بڑھاتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگی اسکی بات سن کر وہ عورت اس بس دیکھتی رہ گئی۔
“آبراش کون آبراش میں کسی آبراش جو نہیں جانتی چلی جاؤں یہاں سے”
کہتے ساتھ وہ عورت دروازہ بند کرنے لگی جس پر مہمل نے اسے روکا۔
“ایک دفعہ ایک دفعہ میری بات سنیں آپ جیسا انہیں سمجھتی ہیں وہ ویسے نہیں ہے سمجھنے کی کوشش کریں میری بات”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنگی تبھی عورت نے دروازہ بند کردیا مہمل سہم کر رہ گئی۔
“اللہ میری ساسو ماں تو بہت غصے والی ہے “
وہ دروازہ تکتے ہوئے منہ بسور کر بولی اور واپس منہ بنائے گاڑی میں بیٹھ گئی اور گارڈ نے گاڑی اسٹارٹ کردی۔


وہ گھر میں داخل ہوئی سامنے ہی رومیسہ اور عریش کو موجود پایا وہ ان دونوں کو دیکھ کر مسکرائی۔
“کیوٹو”
رومیسہ اسے دیکھتے ہوئے خوشی سے کہتے ساتھ اسکے گلے لگی مہمل بھی اس سے مل کر بہت خوش ہوئی
“آپ آرہی تھی بتایاہی نہیں کیا سرپرائز دیا ہے”
مہمل اسے دیکھ کر واقع حیرت میں مبتلا تھی وہ اسے کہنے لگی
“بس دیکھ لو”
رومیسہ مسکراتے ہوئے بولی مہمل بھی ہنسنے لگ گئی۔
“بھائی کہاں ہے بھابی”
عریش مہمل کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا مہمل نے بھی اسکی طرف دیکھا۔
“مجھے نہیں پتہ میں سوئی ہوئی تھی جب گئے”
مہمل اسے جواب دیتے ساتھ رومیسہ سے باتوں میں لگ گئی تبھی آبراش داخل ہوا عریش اس سے ملا۔
“تم واپس”
آبراش رومیسہ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر رومیسہ نے عریش کی جانب دیکھا مہمل بھی ان دونوں کو دیکھنے لگی۔
“سب ٹھیک تو ہے “
مہمل فکرمندی سے پوچھنے لگی عریش نے اثبات میں سر ہلا دیا
“مجھے کچھ بتانا ہے آپ کو”
عریش آبراش کو دیکھتے ہوئے کہنے گا جس پر آبراش نے اثبات میں سر ہلا دیا عریش آبراش کو بتانے لگا۔
“واؤ واؤ یہ تو بیسٹ نیوز تھی “
مہمل رومیسہ کے گلے لگتے ہوئے خوشی سے کہنے لگی جس پر رومیسہ بھی مسکرائی۔
“سادگی سے کل نک”
ابھی آبراش بول رہا تھا مہمل نے اسے ٹوک دیا
“کیوں سادگی سے پوری رسمیں ہوگی سارے فنکشنز ہوں گے اور تب تک عریش شاہ آپ مجھے میری ہونے والی دیورانی کے اردگرد بھی نظر نہیں آئے گے کل مایو ہو گی پڑسو مہندی اس سے نیکسٹ دن بارات تو اب آپ رومیسہ کو بارات والے دن ہی دیکھ سکتے ہیں”
وہ عریش کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے اسے بتانے لگی آبراش خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا اور رومیسہ ہنس رہی تھی۔
“جی اور کچھ”
عریش فرمانبرداری سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر مہمل ہنس دی۔
“نہیں نہیں”
وہ ہنستے ہوئے کہنے لگی وہ بھی ہنسنے لگ گیا
“صحیح بدلے لے رہی ہیں میرے کھڑوس بھائی سے”
عریش ہنستے ہوئے کہنے لگا جس پر مہمل بھی ہنسی اور آبراش سرد نگاہیں ان دونوں پر ڈالے کھڑا تھا۔
“ہو گیا نا سب چلو روم میں”
آبراش مہمل کا ہاتھ پکڑتے ہوئے تھوڑے سرد لہجے میں کہتے ساتھ اوپر کی طرف بڑھنے لگا
“کانگریچولیشنز”
وہ جاتے ہوئے مڑ کر دونوں کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی


“کانگریچولیشنز تو کہنے دیتے مجھے”
وہ کمرے میں آتے ہوئے منہ بنائے بولی آبراش بس اس پر سرد نگاہیں ڈالے کھڑا تھا۔
“کیا ہوا ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگی
“عریش سے زیادہ فرینک نہیں ہونا یہ بات ذہن میں بٹھا لو اور باہر کیوں گئی تھی پھر”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھنے لگا جس پر مہمل گھبرا گئی
“اوہ تو چمچے نے بتادی آپ کو ساری بات”
مہمل اسے دیکھتے ہوئے منہ بنائے بولی
“میری بات کا جواب دو”
وہ اسکی بات نظر انداز کرتے ہوئے بولا مہمل گھور کر دیکھنے لگی۔
“اکیلے نہیں گئے تھے گارڈ کیساتھ گئی تھی صرف بیس منٹ کیلیے اکیلی بیٹھے بیٹھے بور ہورہی تھی اس لیے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بغیر ڈرے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بتانے لگی
“مہمل تم کیوں نہیں سمجھ رہی باہر خطرہ ہے تمہیں یوں اکیلے نکلنا ٹھیک نہیں ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے فکرمندی سے بولا مہمل نے اسکی طرف دیکھا۔
“پھر خود گھر رہ لیا کریں اور مجھے باہر لے جائیے کریں”
مہمل اسے بولتے ساتھ کوٹ اتارتے ہوئے باتھروم کی طرف بڑھ گئی آبراش اسے جاتا دیکھنے لگ گیا اسے جاتا ہوئے اپنی طرف کھینچا۔
“اتنا تیار ہوکر باہر گئی تھی”
وہ اسکے سراہے پر ایک نظر ڈالتے ہوئے پوچھنے لگا مہمل خود کو دیکھنے لگی۔
“میں کہاں تیار ہوئی ہوں صرف کپڑے چینج کیے تھے “
مہمل اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی آبراش نے مزید قریب کیا مہمل کی بیٹ مس ہوئی۔
“پھر بھی میں تو ساتھ نہیں تھا تو تیار ہوکر باہر جانے کا مقصد”
وہ اسکے قریب ہوکر گھمبیر آواز میں کہنے لگا مہمل اسکی سانسوں کی تپش خود پر محسوس کرکے بےبس ہورہی تھی وہ کچھ بولنے کی کیفیت میں نہیں تھی ۔
آبراش اسکی بالوں میں لب رکھ گیا اور اپنی انگلیاں اسکی گردن پر پھیرنے لگا مہمل کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا محال لگا وہ اپنی آنکھیں بند کر گئی آبراش نے اپنے ہونٹ مہمل کہ گردن پر رکھے مہمل کے پورے جسم میں کرنٹ سا دوڑا اسکی خوشبو آبراش کو مدھوش کررہی تھی آبراش نے نظریں اٹھا کر مہمل کے چہرے پر ڈالی جو گھبرائی ہوئی آنکھیں بند کیے بامشکل کھڑی تھی اسکے ہونٹ کانپ رہے تھے اس نے بہت ہی نرمی سے اپنے ہونٹ آبراش کے کانپتے ہونٹوں پر رکھ دیے۔


“عریش اپنے کمرے میں چلے جاؤ”
رومیسہ کمرے میں بیٹھی ہوئی بولی
“ایک دفعہ ایک بات تو سنو”
عریش دروازے کیساتھ لگے ہلکی آواز میں کہنے لگا۔
“بلکل بھی نہیں ہم ساری باتیں تم نکاح والے دن کرنا”
رومیسہ اسے بتاتے ساتھ بیڈ پر لیٹ گئی۔
“اتنا ظالم بھی کوئی نہیں ہوتا”
وہ دروازے کو گھورتے ہوئے کہنے لگا۔
“لیکن میں بہتت ہوں اور یہ شروعات ہے شروعات”
وہ ہنستے ہوئے کہنے لگی اور عریش بس دروازے کو دیکھ کر کمرے کی طرف بڑھ گیا رومیسہ کا قہقہہ چھوٹا۔
جاری ہے۔