Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Episode 21
“آپ کا کام ہوگیا”
وہ اسکے سینے پر سر رکھتے ہوئے پوچھنے لگی آبراش نے اسکے بالوں انگلیاں گھسائی۔
“میں تو پڑسوں لے کر جانا چاہ رہا تھا لیکن تم نے ہی شادی کا بولا ہے اب اسکے بعد ہی”
آبراش اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے بتانے لگا جس پر مہمل نے اسے دیکھا۔
“کوئی بات نہیں میں تین دن اور انتظار کرلوں گی”
وہ اسے معصومیت سے کہتے ساتھ سر نیچے رکھ گئی اور آبراش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
“سونے کا ارادہ نہیں ہے کیا”
وہ مسکراتے ہوئے اسکی جانب دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر مہمل نے نفی میں سر ہلایا آبراش اسے دیکھنے لگا۔
“مجھے آپ سے بہت ساری باتیں کرنی ہے آپ کا سر کھانا ہے سونا نہیں ہے”
وہ اسکے سینے پر دونوں ہاتھ رکھے محبت سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے لاڈ سے کہنے لگے جس پر وہ مسکرایا۔
“سر کا تو پتہ نہیں لیکن میں بہت رومینٹک بن سکتا ہوں کہو تو “
آبراش اسکے چہرے کے قریب چہرہ کیے اپنا ناک اسکے ناک سے چھوتے ہوئے گھمبیر لہجے میں بولا مہمل گھبراتے ہیں فوراً دور ہوئی۔
“مجھے نیند آرہی ہے “
وہ گھبراتے ہوئے دوسری طرف منہ کیے بولی تبھی آبراش نے کھینچ کر قریب کیا۔
“مجھ سے دور ہوکر نہیں میرے قریب ہوکر سو”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے اسکی گال پر لب رکھے کہتے ساتھ اسکے گرد حصار بنا گیا۔
*********
“سنو رومیسہ”
مہمل رومیسہ کے کمرے میں آتے ہوئے اسے پکارنے لگی
“کیا ہوا”
رومیسہ اسے دیکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھنے لگی
“میرے ساتھ آبراش کی مام کے گھر چلو گی ہم شاپنگ کا بہانہ کرلیں گے “
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی رومیسہ اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگی۔
“وہاں کیوں جانا ہے ویسے”
رومیسہ اسے دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگی
“وہاں جاکر پتہ لگ جائے گا ابھی چلیں رات میں آکر تیار بھی ہونا ہے”
وہ رومیسہ کا ہاتھ تھامے ساتھ لیتے ہوئے بولی اور دونوں چل دیے
“یہی ہے کیا”
کچھ دیر بعد جب وہ وہاں پہنچے رومیسہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“ہاں یہی ہے اللہ تعالیٰ ساسو ماں نہیں کوئی اور”
مہمل دعا کرتے دروازے پر دستک دینے لگی
“کون”
تبھی دروازہ کھلا اور خوبصورت سی لڑکی باہر آئی مہمل نے شکرادا کیا
“پلیززز ہماری ہیلپ کریں”
مہمل فوراً بولی جس پر رومیسہ اور آبرو اسے دیکھنے لگ گئی
“کیا ہوا ہے”
آبرو پریشانی سے پوچھنے لگی
“ہمارے پیچھے دو لڑکے لگے ہوئے ہیں ہم دونوں اکیلی ہیں پلیزز”
مہمل اسے گھبراتے ہوئے بہت صفائی سے جھوٹ بولنے لگی
“آئیے”
آبرو اسکی بات سن کر خود بھی گھبراتے ہوئے کہنے لگی جس پر رومیسہ اور مہمل اندر آ گئی۔
“کون ہے آبرو”
تبھی فریحہ بیگم باہر آتے ہوئے پوچھنے لگی لیکن جیسے ہی نظر سامنے گئی وہ سرد نگاہوں سے مہمل کو دیکھنے لگی۔
“تم تم یہاں پھر آ گئی”
وہ سرد لہجہ لیے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر مہمل تھوڑا سا گھبرا گئی۔
“میری بات سنیں صرف ایک دفعہ آپ آبراش کو جیسا سمجھتی ہیں وہ بلکل بھی ویسے نہیں ہے انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا آبرو کیساتھ وہ توآبرو سے بہت زیادہ پیار کرتے ہیں ابھی بھی یاد کرکے آپ دونوں کو وہ اداس ہوجاتے ہیں اور وہ قاتل نہیں صرف اپنی بہن کے مجرم کو اسکے انجام تک پہنچانے کیلیے وہ اس راستے کی طرف بڑھے ہیں ان کو سمجھے وہ آپ دونوں سے بہت پیار کرتے ہیں اور آبرو کیساتھ جو بھی ہوا اس میں انکی غلطی نہیں تھی وہ تو اسی کی خواہش پوری کرنے کیلیے گئے تھے باہر انہیں کیا معلوم تھا پیچھے کیا ہونا تھا “
مہمل ایک ہی اسپیڈ پر شروع ہو گئی جس پر فریحہ بیگم اور آبرو اسے دیکھنے لگ گئی۔
“کیا مطلب ہے تمہارا”
فریحہ اسے دیکھتے ہوئے ناسمجھی سے پوچھنے لگی
“میرا مطلب ہے آبراش نے اپنی بہن کے مجرم کو اسکی سزا دے دی ہے انہیں معاف کردیں پلیزززز اور ساتھ چلیں میرے آپ کے چھوٹے بیٹے کی شادی بھی ہورہی ہے وہ دونوں بہت خوش ہوجائیں گے”
مہمل فریحہ بیگم کے پاس آتے ہوئے پیار سے کہنے لگی آبرو اسے دیکھ رہی تھی
“جی پلیزز آنٹی”
رومیسہ بھی فوراً سے بولی جس پر فریحہ بیگم نے آبرو کی طرف دیکھا جس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“ٹھیک ہے ہم چلتے ہیں”
فریحہ بیگم سپاٹ لہجے میں کہتے ساتھ اوپر کی طرف بڑھی اور مہمل کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی اور وہ رومیسہ کے گلے لگ گئی۔
********
“کہاں رہ گئے ہیں یہ رومیسہ اور بھابی”
عریش وال کلاک میں نظر ڈالتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگا آبراش وہی جیب میں ہاتھ ڈالے خاموش کھڑا تھا تبھی مہمل رومیسہ اور ان کیساتھ دو اور عورتیں بھی تھی آبراش اور عریش ان دونوں کی طرف دیکھنے لگے لیکن جیسے ہی وہ قریب آئے آبراش اور عریش کو شاک سا لگا فریحہ بیگم چہرے پر مسکراہٹ سجائے انہیں دیکھ رہی تھی۔
“معاف کردو مجھے میں ہمیشہ تمہیں نظرانداز کرتی رہی کبھی جاننا نہیں چاہا تم کیا بتانا چاہتے ہو”
فریحہ بیگم شرمندہ بھرے لہجے میں افسردگی سے بولنے لگی آبراش اور عریش حیرت سے انہیں دیکھ رہے تھے۔
“مجھے بھی معاف کردیں بھائی”
آبرو روتے ہوئے کہنے لگی آبراش نے آبرو کو گلے سے فوراً لگا لیا جس پر وہ مسکرا دی۔
“آپ معافی نہ مانگیں ناراضگی بنتی تھی آپ دونوں کی “
آبراش فریحہ بیگم کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا عریش فریحہ بیگم کے گلے لگا۔
“مبارک ہو شادی کی “
وہ اسے سینے سے لگائے کہنے لگی جس پر وہ مسکرایا اور ان چاروں جو یوں ساتھ دیکھ کر پیچھے کھڑی مہمل اور رومیسہ مسکرائی۔
********
وہ باتھروم سے باہر نکلی گولڈن کلر کے کام دار لہنگے میں اوپر ملٹیشیڈ رنگ کا ڈوپٹہ کیے بالوں کو کھولے پیروں پر ہیلز چڑھائے وہ بہت ہی زیادہ حسین لگ رہی تھی آبراش کی نظر اس پر گئی چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
“مارنے کا ارادہ ہے کیا”
وہ مسکراتے ہوئے اسکی جانب بڑھتے ہوئے کہنے لگا جب مہمل مسکرائی لیکن جیسے ہی نظر اسکے حلیے پر گئی وہ آنکھوں میں حیرت لیے اسے دیکھنے لگی
“آبراش آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئے ہیں”
مہمل اسے دیکھتے ہوئے منہ بسورے بولی جس پر آبراش نے ایک نظر خود کو دیکھا
“میں ریڈی ہوں”
آبراش مرر میں ایک نظر خود پر ڈال کر مہمل کو دیکھتے ہوئے بتانے لگا مہمل کو اور حیرت ہوئی۔
“آپ کے بھائی کی مہندی ہے آج بھی یہ کوٹ اور یہ پینٹ پہنے گے نہیں بلکل بھی نہیں آپ شلوار قمیض پہنے گے “
مہمل اسے کہتے ساتھ وارڈروب کی طرف بڑھی جس پر آبراش اسے دیکھنے لگ گیا۔
“وہاں کوئی شلوار قمیض نہیں ملتی”
وہ اسے وارڈروب کھولتے دیکھتے ہوئے بولا مہمل مڑ کر اسے دیکھنے لگی
“میں بھی مسز آبراش شاہ ہوں”
وہ اتراتے ہوئے کہتے ساتھ بلیک کلر کی شلوار قمیض نکالنے لگی اب کی بار حیرت ہونے کی باری آبراش کی تھی
“جی جب اپنی شاپنگ کرنے گئی تھی آپ کیلیے لائی مجھے معلوم تھا آپ کے پاس نہیں ہونی جلدی جائے جلدی چینج کریں “
وہ اسے تھماتے ہوئے کہنے لگی آبراش اسے دیکھنے لگا۔
“میں یوں ٹھیک ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر مہمل اسے گھورنے لگا
“میں نے پوچھا ہے آپ سے شوہر کا کے ہے میرے اور مجھے جیسے آپ ہینڈسم لگے گے آپ ویسے تیار ہوں گے اب جائیں چینج کرنے ورنہ میں بات نہیں کروں گی”
مہمل ناراضگی بھرے لہجے میں کہتے ہوحے جیولری نکالنی لگی اور وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے نفی میں سر ہلاتے ہوئے چینج کرنے کیلیے بڑھ گیا۔
کچھ دیر بعد وہ بلیک شلوار قمیض میں ملبوس بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے کالا رنگ واقع اسکی پرسنیلٹی میں غضب کا ڈھا رہا تھا جس پر مہمل نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“اوئے ہوئے واہ واہ اب لگ رہے ہیں آپ مہمل کے راش”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے بولی اسکے انداز پر آبراش کو ہنسی آئی آبراش نے اسے پیچھے سے حصار میں لیا۔
“تھینکیو سو مچ فار کمنگ ان مائی لائف مائی اینجل”
وہ اسکے کان کے قریب اپنے ہونٹ کیے گھمبیر لہجے میں بولا جس پر مہمل نظریں جھکا گئی اور وہ مسکراتے ہوئے اسکی گردن پر جھکا۔
********
رومیسہ بھی ییلو کلر کے ڈریس میں لائٹ سے میں بہت پیاری لگ رہی تھی وہی دوسری طرف عریش سبزشلوار قمیض میں ملبوس بہت ہی زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا وہ دونوں ساتھ بیٹھے ہوئے تھے مہمل اور أچرو مل کر گانے گا رہے تھے آبراش سینے پر ہاتھ رکھے نظریں مہمل پر مرکوز کیے اسے دیکھنے میں مصروف تھا اور وہی فریحہ بیگم مسکرا رہی تھی اس گھر میں ایک بار پھر خوشیاں آ گئی تھی سب اکٹھے ہو گئے تھے اور ان کو اکٹھے کرنے والی وہ معصوم چنچل سی ناسمجھ سی لڑکی نے کیا تھا۔
“عریش بھائی میں دیکھ رہی ہوں”
وہ رومیسہ کے کان کے قریب ہوکر کچھ بولنے ہی لگا تھا مہمل بول گئی اور عریش فوراً دور ہوا آبرو فریحہ بیگم اور رومیسہ کا قہقہہ چھوٹا اور وہی آبراش کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
ااور اسی طرح ہنسی مذاق کیساتھ وہ آوازیں بھی اس گھر میں گونجنے لگی
********
“مہ جبین سانس کو سانس لو ڈرائیور”
اختر صاحب چلاتے ہوئے ڈرائیور کو پکارنے لگے جس پر وہ فوراً بھاگ کر آیا۔
“گاڑی نکالو “
اختر صاحب سرد لہجے میں کہنے لگے جس پر ڈرائیور فوراً باہر کی طرف بڑھا اور گاڑی نکالی اختر صاحب کی جبین بیگم کو لیے باہر کی طرف بڑھے۔
“جلدی چلو ہسپتال”
وہ اونچی آواز میں کہنے لگے تبھی ڈرائیور نے گاڑی کی رفتار تیز کردی اور اختر صاحب نہ جبین بیگم کے ہاتھ مسلنے لگے
مہمل ان سب کے بیچ بیٹھی تھی اچانک دل گھبرانے لگا اس نے جگ سے گلاس میں پانی ڈال کر پیا۔
“میں دو منٹ میں آتی ہوں “
وہ ان سب کے سامنے زبردستی مسکراہٹ سجائے کہتے ساتھ اٹھ کر اندر کی طرف بڑھی آبراش بھی اسے دیکھتے ہوئے پیچھے آیا
“سب ٹھیک ہے تمہاری طبیعت ٹھیک ہے”
آبراش مہمل کی جانب دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگا جس پر مہمل نے اسکی طرف دیکھا۔
“اچانک سے دل گھبرانے لگ گیا سب ٹھیک ہو پتہ نہیں دل کہ رہا ہے کچھ بہت برا ہونے والا ہے”
وہ گھبراتے ہوئے اداسی سے بولی آبراش نے اسے سینے سے لگایا مہمل اسکے سینے سے لگے آنکھیں بند کر گئی اس میں سے آتی خوشبو اسے ہمیشہ سے سکون دیتی تھی
“سب ٹھیک تو ہوگا نا”
رومیسہ باہر فکرمندی سے بولی جس پر عریش نے اثبات میں سر ہلا کر اسے تسلی دی
“اللہ کرے “
فریحہ بیگم اور آبرو بھی بولی جس پر عریش اور رومیسہ خاموش رہے ۔
“خیر اب تم روم میں جاؤ رومیسہ”
فریحہ بیگم رومیسہ جو بولی تو آبرو رومیسہ کو تھامتے ہوئے کمرے کی طرف لے جانے لگی۔
“ڈاکٹر پیشنٹ”
اختر صاحب فکرمندی سے پوچھنے لگے جس پر ڈاکٹر نے انہیں دیکھا
“پیشنٹ کی کنڈیشن بہت کریٹیکل ہے انہیں کچھ دن ووڈ میں رکھنا ہوگا آپ دعا کریں “
ڈاکٹر انہیں بتاتے ساتھ چلے گئے اور اختر صاحب پریشانی سے سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔
جاری ہے۔
