Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Episode 15
وہ لوگ آئسکریم پارلر میں اس وقت موجود تھے رومیسہ آگے بیٹھی تھی فائز ڈرائیونگ سیٹ پر موجود تھا اور عریش پیچھے بیٹھا ناگواری سے فائز کو دیکھ رہا تھا ۔
کون سا فلیور؟
فائز نے عریش کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“اسٹابری”
عریش نے اسے بتایا فائز نے آرڈر کردیا عریش اسے دیکھنے لگ گیا
“رومیسہ سے نہیں پوچھا اسکے لیے نہیں منگوانی کیا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگا جس پر فائز نے مڑ کر اسے دیکھا
“اس سے فلیور پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی میں بچپن سے رومی کو بہت اچھے سے جانتا ہوں چاکلیٹ فلیور پسند ہے اسے”
وہ محظوظ مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے عریش کو جواب دینے لگا
“رومی”
عریش منہ بنائے دل میں بولا اور رومیسہ فائز کو دیکھ کر مسکرائی عریش کو اسکی مسکراہٹ سخت ناگوار سی گزری
ان تینوں نے آئسکریم کھائی اور فائز نے گاڑی سڑک پر دوہرا دی
آبراش کو کافی دیر ہو گئی تھی مہمل فکرمندی سے کمرے میں ٹہل رہی تھی
“افف کہاں رہ گئے ہو اینگری مین”
وہ تپ کر بولتے ساتھ نظریں وال کلاک پر کر گئی جو نو بجارہی تھی وہ فکرمندی سے ٹہل رہی تھی تبھی اسکا فون بجا مہمل نے کال اٹینڈ کی
“کون”
وہ فون کان سے لگائے پوچھنے لگی
“سامنے والے روم میں جاؤ”
دوسری طرف سے یہ آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی مہمل فون کو دیکھنے لگی دوسری جانب سے آتی آواز مہمل پہچان گئی تھی
“سپر ہیرو”
وہ اسکی آواز پہنچانتے ہوئے بولی دوسری طرف سے کال کٹ گئی وہ فون کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے سامنے والے کمرے کی طرف بڑھی
مہمل نے جیسے ہی دروازہ کھولا کمرے میں بلکل اندھیرا تھا وہ گھبراتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدموں سے اندر کی طرف بڑھی تبھی پھر سے فون بجا مہمل نے فوراً کال اٹینڈ کی
“ریمورٹ اٹھاؤ اور بٹن کرکے سامنے دیکھو “
کہتے ساتھ دوسری طرف سے کال کٹ گئی مہمل نے ٹیبل سے ریمورٹ اٹھایا اور سامنے موجود ایل ای ڈی آن کی۔
یہ منظر اس سنسنان اندھیری خوفیہ جگہ کا تھا جہاں مہمل کو ہوٹل سے اغوا کرکے لایا گیا تھا مہمل نظریں سکرین پر جمائے دیکھ رہی تھی کوبرہ اسے بچا کر باہر لایا وہ دونوں چل رہے تھے کہ کوبرہ وہاں سے چلا گیا اچانک مہمل نے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوبرہ نہیں تھا کوبرہ ایک سائیڈ پر آیا اور اپنی گولڈن بلوئش آنکھوں پر بلیو لینز لگا کر اور ماسک اتارتا وہ جہاں مہمل موجود تھی وہاں آیا اور مہمل سے بات کرنے لگا مہمل نے اسکی طرف دیکھا یہ سب سکرین پر دیکھ کر مہمل شاک کی سی کیفیت میں مبتلا تھی۔اور اسی طرح سکرین پر ویڈیو چلتی گئی اور جہاں جہاں کوبرہ اسکی مدد کرنے کیلیے آیا اس سے پہلے آبراش اسے اسی وقت اس کے اردگرد نہیں تھا وہ سب سوچتے ہوئے اسے سمجھ آئی کہ جسے وہ اپنا سپر ہیرو سمجھتی تھی وہ ایک ہی شخص تھا وہ نظریں سکرین پر جمائے کھڑی تھی بلکل بت بنی کھڑی تھی۔
تبھی وہ شخص پیچھے سے اسکی طرف قدم بڑھانے لگا مہمل اسکی خوشبو سے اسے پہچان چکی تھی مگر اس وقت وہ کچھ بولنے یا کچھ کرنے کی کیفیت میں نہیں تھی یہاں تک کہ مڑ کر اس شخص کو دیکھنے کی ہمت بھی نہیں تھی
“اینجل”
وہ اسکے کان کے قریب اپنے لب لیے گھمبیر لہجے میں بولا مگر وہ اسی طرح بت بنی کھڑی رہی۔
“تمہیں میں نے پہلی دفعہ مری نہیں کراچی میں ہی دیکھا تھامجھے تمہاری اس مسکراہٹ نے ایک نظر میں مجھ جیسے شخص کو دیوانہ بنایا آبراش شاہ تمہاری اس مسکراہٹ کیلیے کچھ بھی کرسکتا ہے”
وہ اسکے بالوں کی خوشبو میں کھوئے ہوئے انداز میں اپنی گرم گرم سانسیں اس کے وجود پر ڈالے بولا مہمل بت بنی کھڑی تھی۔
“یہ سب اس لیے کیا تم سے جھوٹ بولنا اور تم سے چھپانا مجھے کچھ اچھا نہیں لگا”
وہ اسکے چہرے پر گہری نظریں ڈالتے ہوئے کہنے لگا مہمل ایکدم مڑی اور اسکی طرف دیکھا آبراش بھی اسی کو دیکھ رہا تھا دونوں کی نظریں آپس میں ٹکرائی اور مہمل اسے کچھ کہے بغیر سائیڈ سے گزرتی دوسرے کمرے کی طرف بڑھ گئی آبراش خاموشی سے اسے جاتا دیکھنے لگ گیا
وہ ایک گھنٹہ کمرے میں بیٹھی وہ سب سکرین پر جو دیکھ کر آئی تھی دماغ میں گردش کررہا تھا وہ ایکدم اٹھی اور اسی کمرے میں آی آبراش وہاں موجود نہیں تھا مہمل نے ٹیرس کا رخ کیا مہمل کی نظر اس پر گئی
وہ ہاتھ میں چاقو لیے اسے گھمانے اور اپنی آنکھیں ایک جگہ پر جمائے کھڑا تھا مہمل نے ایک غصے بھری نظر اس پر ڈالی اسکی طرف بڑھی اور اسکے بلکل قریب اور مقابل میں کھڑی ہوئی اور اسکے چہرے پر نظر ڈالی مہمل نے اسکے ہاتھ سے چاقو لیا اور جیب میں رکھا اور منہ پر لگا ماسک اتار کر اسکی دوسری جیب میں رکھا۔ وہ خاموشی سے اسکی حرکتیں دیکھ رہا تھا
“Remove lens”
وہ سنجیدگی سے اسکی آنکھوں پر نظریں ڈالی اسے کہنے لگی تبھی آبراش نے اپنے لینز اتارے۔
“کیوں کیا”
وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے اداسی سے پوچھنے لگی آبراش نے اسکی طرف دیکھا اس سے پہلے وہ کچھ بولتا مہمل بول پڑی
“اس سے کیا ہوتا اگر بتادیتے ہاں”
وہ اسکا گریبان پکڑے سرد لہجے میں کہنے لگی زندگی میں پہلی دفعہ کسی میں اتنی جرات ہوئی تھی آبراش سے اس طرح بات کرنے کی اور اس طرح گریبان پکڑنے کی
“آپ جانتے ہیں مجھے کتنا برا لگ رہا ہے آپ کے سامنے ہی آپ کی برائی کرتی تھی میں اور سپر ہیرو کو ہمیشہ اگنور واؤ یعنی کہ جس طرح آپ نے مجھے مسٹر آبراش شاہ بن کر اگنور کیا ہے ویسے ہی میں نے آپ کو سپر ہیرو ڈمجھ کر اگنور کیا واہ مہمل تم نے پورا حساب لیا”
وہ خود کو داد دیتے ہوئے اس سے دور ہوکر مسکرا کر بولی آبراش پریشانی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“تمہیں غصہ نہیں”
آبراش ابھی کچھ کہتا مہمل ہنسنے لگ گئی آبراش حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا اسے لگا تھا یہ سب جاننے کے بعد مہمل ایک منٹ اسکے ساتھ نہیں رہی گی لیکن ایسا کچھ نہیں لگ رہا تھا
“ارے غصہ کیوں مجھے تو ویسے بھی گنڈے ٹائپ لڑکے پسند ہے اللہ میرا خواب پورا ہوگیا واہ واہ اب تو میں آپ کو جو چاہے کہوں گی صرف اپنی مسکراہٹ دیکھانے کی دیر ہے مجھے تو پتہ لگ گیا آپ میری چھوٹی چھوٹی بات پر بہت پریشان ہوتے ہیں”
وہ خوشی خوشی مسکراتے ہوئے بتانے لگی اور آبراش کی نظریں اس وقت صرف اسکی مسکراہٹ پر مرکوز تھی۔
“مجھے پتہ ہے آپ مجھ سے کیا کرتے ہیں”
وہ اسکے گلے میں ہار کی طرح بازو ڈالے اسے دیکھتے ہوئے معصومیت سے کہنے لگی آبراش نے اسکی کمر پر دونوں بازو ڈال گرفت مضبوط کرکے اپنی جانب کھینچا دونوں کے بیچ اب ایک انچ کا فاصلہ بھی نہیں تھا
“کیا”
آبراش اسکے چہرے پر نظریں ڈالے پوچھنے لگا
“جنونِ عاشق ہے آپ میرے”
وہ مسکراتے ہوئے بتانے لگی جس پر وہ نفی میں سر ہلا گیا
“جنون تو ابھی تم نے میرا دیکھا نہیں اصل تو اب دیکھو گی”
وہ شوخیہ لہجے میں کہتے ساتھ اسکے ہونٹوں پر جھکا مہمل کی آنکھیں پھیل گئی اور وہ اسے پھٹی ہوئی آنکھوں سے دیکھنے لگی
“تم سکون ہو میرا تمہارے قریب رہنے سے میں بےحد سکون میں رہتا تھا اینجل”
وہ اسکے ہونٹوں کو آزاد کرتے ہوئے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے شدت سے بولا مہمل گھبرا کر رہ گئی وہ نظریں جھکا گئی۔
“اور من چاہا۔ شخص ہر مرض کی دوا ہوتا ہے”❤️😍
“میں آپ کا سکون ہوں”
وہ نظریں جھکائے معصومیت سے پوچھنے لگی
“تم سب کچھ ہو میرا”
وہ کہتے ساتھ اپنا چہرہ اسکی گردن میں چھپا گیا مہمل دور ہوئی آبراش نے اسے دیکھا
“ابھی پہلے کھل کر پیار کا اظہار کریں گے کوئی دو تین لائنز بہت بڑا گھٹنوں پر بیٹھ کر “
مہمل کمر پر ہاتھ رکھے آرڈر دینے والے انداز میں کہنے لگی آبراش نے اسکی طرف دیکھا
“کیا دیکھ رہے ہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی آبراش نے نفی میں سر ہلایا اور گھٹنوں کے بل بیٹھا اور اسکی طرف دیکھا
“اینجل تم شاہ کا سکون جنون عشق ہو تمہارے بغیر میں ادھورا ہوں تمہیں بہت چاہتا ہوں اور اس مسکراہٹ کیلیے یہ شخص اپنی جان بھی دے سکتا ہے تم سے عشق ہے بے پناہ عشق مجھے کبھی چھوڑ کر نہیں جانا”
وہ اسے دیکھتے ہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکی طرف دیکھتے ہوئے محبت سے کہنے لگا مہمل مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی
“اور یہ لڑکی آپ پورے کی دیوانی ہے”
وہ مسکراتے ہوئے اسے کہنے لگی آبراش ہلکا سا مسکرایا اور اٹھا اور اسے سینے سے لگایا
“چلیں اب جائیں”
وہ اس سے الگ ہوتے ہوئے کہنے لگی جس پر آبراش نے اسے دیکھا
“کہاں”
وہ پریشانی سے پوچھنے لگا مہمل نے مسکرا کر اسے دیکھا
“میں تیار ہوں گی آپ کیلیے رات میں آنا گھر اور پھر ہم ساتھ ٹائم اسپیڈ کریں گے”
وہ مسکراتے ہوئے اسے بتانے لگی یہ سب جان کر وہ اتنی خوش تھی آبراش اسکی بات سنتے ہوئے ہلکا سا مسکرایا
“میں دوسرے روم میں ہوں جب تم تیار ہو جانا مجھے کال کرلینا”
وہ اسے کہتے ساتھ بھاری بھاری قدم اٹھائے کمرے کی طرف بڑھ گیا مہمل اسے جاتا دیکھنے لگی اور خود اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
جاری ہے.
