51.4K
33

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Shiddat Junon) Episode 23

“کتنا خوبصورت لگ رہا ہے سب”

وہ دونوں اس وقت بیلکونی میں موجود تھے رومیسہ نظریں باہر کی طرف کیے بتانے لگی

“ہاں بہتتت”

وہ اسے پیچھے سے حصار میں لیے پیار سے بولا اسکے اس انداز میں وہ نظریں جھکا گئی۔

“دیکھو ہماری ویڈنگ نائٹ ڈفرنٹ اور رومینٹک ہے”

وہ نظریں جھکائے مسکراتے ہوئے کہنے لگی اسکی بات سن کر عریش مسکرایا۔

“ڈفرنٹ تو ہے لیکن رومینٹک میں خود بنارہا ہوں”

وہ اسکی گال پر لب رکھتے ہوئے شوخیہ لہجے میں کہنے لگا اسکے انداز پر رومیسہ شرما گئی۔

“آپ شرماتی بھی ہیں “

وہ اسکا شرماتا روپ دیکھتے ہوئے کہنے لگا رومیسہ نے اسے گھورا۔

“نہیں بلکل بھی نہیں میں نہیں شرما رہی تم اتنے بےشرم ہو گے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا”

وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر عریش مسکرایا۔

“ابھی تو بےشرمی شروع ہوئی ہے”

وہ آنکھ مارتے ہوئے اسے قریب کیے چہرہ پر ہاتھ پھیرے بولا اور رومیسہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔

********

وہ آبراش کے کندھے پر سر رکھے ہوئے بیٹھی تھی آبراش نے اسکے گرد حصار میں بنایا ہوا تھا۔

“راش آپکی نظر میں میں کیا ہوں”

وہ اسکے کندھے پر سر رکھے ایک نظر اس پر ڈالتے ہوئے معصوم سا سوال کرنے لگی راش نے اسے دیکھا ۔

“تم ایک معصوم سا بچہ ہو میری نظر میں جو دنیا سے نہیں واقف اور صرف پیار چاہتا ہے اور اس راش کے پیچھے پاگل ہے کچھ بھی کرسکتی ہے”

وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے چہرے پر ہاتھ پھیرے اس پر گہری نظریں جمائے کہنے لگا۔

“ایسا ہے کیا”

وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر آبراش نے اثبات میں سر ہلایا۔

“اب تم بتاؤ میں کیا ہوں”

وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا

“میں بتاؤں”

وہ اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی جس پر آبراش نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

“آپ ایک سیکیریٹ مین ہے جس کے سارے سیکریٹ صرف اور صرف اسکی اینجل جانتی ہے جس سے وہ کبھی نہیں جھوٹ بولتا ہے”

وہ مسکراتے ہوئے بتانے لگی اسکی باتوں پر آبراش کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہوئی۔

“تمہیں لگتا ہے میں نے تمہیں سارے سیکریٹس بتائیں ہوئے ہیں”

وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے سوال کرنے لگا جس پر مہمل اثبات میں سر ہلا گئی آبراش خاموش ہو گیا۔

“کیوں”

مہمل اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی

“نہیں ویسے ہی ہمیں سوجانا چاہیے کل ہمیں کراچی کیلیے نکلنا ہے”

وہ اسکے ماتھے پر لب رکھے پیار سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر مہمل نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا۔

“لیکن میں یوں ہی سو گی آپ کے کندھے پر سر رکھ کر “

وہ مسکراتے ہوئے اسے کہنے لگی جس پر آبراش نے اسے دیکھا۔

“تم جیسے مرضی سوسکتی کو میرے اوپر بھی پوری ا سکتی ہو”

وہ شرارتی انداز میں کہنے لگا جس پر مہمل نے گھورا اور کندھے پر سر رکھ کر آنکھیں بند کر گئی

*******

“راش کہاں ہیں”

وہ فریش ہوکر نیچے آتے ہوئے سب سے پوچھنے لگی۔

“وہ ضروری کام سے باہر گیا ہے کہ کر گیا تھا کچھ دیر میں آجائے گا”

فریحہ بیگم مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی مہمل بھی مسکرائی اور ناشتہ کرنے لگ گئی۔

“ارے ہو گئی آپ دونوں کی گڈ مارننگ”

مہمل کی نظر نیچے آتے عریش اور رومیسہ پر گئی وہ خوشی سے بولی

“ہاں ہو گئی “

رومیسہ مسکراتے ہوئے بتانے لگی مہمل نے اسے دیکھا۔

“کافی فریش دیکھ رہی ہو”

وہ اسے چھیڑتے ہوئے کہنے لگی جس پر رومیسہ نے اسے گھورا مہمل ہنس دی۔

ان چاروں نے مل کر ناشتہ کیا اسکے بعد مہمل اور رومیسہ کچن کی طرف بڑھ گئے

“آج ہم دونوں مل کر کھانا بنائیں گے”

رومیسہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی مہمل نے اسے دیکھا۔

“مجھے تو کچھ بھی نہیں آتا بنانا”

وہ شرمندگی سے اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی اسکے انداز پر رومیسہ مسکرائی۔

“میں تمہیں ساتھ ساتھ بتاؤں گی تم وہ کرتی رہنا”

وہ اسے دیکھتے ہوئے پیار سے بولی جس پر مہمل مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا گئی۔

وہ دونوں کام میں لگے ہوئے تھے

تبھی آبراش گھر میں داخل ہوا آبرو اسے دیکھ رہی تھی۔

“بھائی”

وہ مسکراتے ہوئے اسے پکارنے لگی جس پر آبراش بھی مسکرایا اسے ساتھ لگایا اور نظریں پورے ٹی وی لاؤنچ میں گھمائی مہمل کہیں نہیں دیکھی۔

“کدھر ہیں سب”

آبراش اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر آبرو نے اسے دیکھا

“بھابیاں کچن میں کام کررہی ہیں عریش بھائی کام پر گئے ہوئے ہیں اور مام کمرے میں ہے”

وہ اسے سب کا بتانے لگی جس پر آبراش نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

“چلو میں فریش ہو جاؤ”

وہ اسے مسکراتے ہوئے کہتے ساتھ آگے بڑھ گیا آبرو اسے جاتا دیکھنے لگ گئی اور کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

********

وہ کمرے میں آیا مہمل وہاں موجود نہیں تھی وہ فریش ہوا اور بیڈ پر بیٹھ کر مہمل کا انتظار کرنے لگا لیکن اسکے لیے بیس منٹ بیٹھنا بھی مشکل ہوا وہ اٹھا اور کچن کی طرف بڑھنے لگا۔

“میں آتی ہوں تم دیکھو”

رومیسہ اسے کہتے ساتھ کچن سے چلی گئی اور مہمل دیکھنے لگ گئی۔

“میں نے ابھی تک اینگری مین کو بھی نہیں دیکھا صبح سے”

وہ اداسی سے منہ بنائے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔

“دیکھو لوں تمہارے پیچھا ہے تمہارا اینگری مین”

وہ اسے پیچھے سے حصار میں لیے اسے گھمبیر لہجے میں اس میں کھوئے ہوئے بولا اسکے اس طرح پیچھے سے حصار میں لینے پر مہمل کی سانس رک گئی۔

“آآآپ”

وہ گھبراتے ہوئے کہنے لگی جس پر آبراش مسکرایا

“ہاں میں اینجل “

وہ کہتے ساتھ اسکا رخ اپنی طرف کرنے لگا مہمل مسکرادی۔

“یہ کیا ہے”

وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر مہمل مسکرائی۔

“میں کھانا بنانے کی کوشش کررہی ہوں”

وہ مسکراتے ہوئے اسے بتانے لگی جس پر آبراش مسکرایا اور اپنی ناک اسکی گردن کے قریب کی۔

“راش ہم کچن م”

مہمل ابھی بول رہی تھی جب آبراش نے اسے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چھوا اور وہ پٹھی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔

“کوئی آجائے گا آپ پلیززز سمجھیں میری بات اور ہمیں رات کو نکلنا بھی ہے تو پیکنگ کرتے ہیں”

وہ بالوں پر ہاتھ پھیرے انتہائی گھبرائے ہوئے انداز میں کہنے لگی اسکے گھبرائے ہوئے انداز میں وہ مسکرایا۔

“جلدی آجاؤ”

وہ اسکا ہاتھ تھامے پیار سے کہنے لگا مہمل اثبات میں سر ہلا گئی۔

********

“ڈاکٹر کیسی ہے میری بیوی”

اختر صاحب انہیں دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے جس پر ڈاکٹر انہیں دیکھنے لگے۔

“آئی ایم ریلی سوری شی از نو مور”

وہ اداسی سے بتاتے ساتھ آگے کی طرف بڑھ گئے اور اختر صاحب کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونا محال لگ رہا تھا کانوں پر یقین نہیں ہورہا تھا۔

“نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا”

وہ بےیقینی والے لہجے میں کہتے ساتھ واڈ کی طرف بڑھے جہاں مہ جبین بےجان پڑی تھی اختر صاحب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

*******

“دھیان سے جانا خیال رکھنا”

فریحہ بیگم آبراش سے ملتے ہوئے کہنے لگی آبراش نے اثبات میں سر ہلایا مہمل بھی سب سے ملی اور وہ دونوں لان عبور کرتے باہر کی طرف بڑھ گئے وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے اور ڈرائیور نے گاڑی سڑک پر دوہرا دی۔

وہ لوگ ائیر پورٹ میں پہنچ چکے تھے مہمل بہت خاموش تھی آبراش نے ایک نظر اسے دیکھا۔

“مہمل کیا ہوا ہے اب ٹھیک تو ہے”

وہ اسے دیکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھنے لگا مہمل نے اسکی طرف دیکھا۔

“راش میرا دل بہت بہت زیادہ گھبرا رہا ہے عجیب سا ہورہا ہے سب ٹھیک ہو”

وہ پریشانی سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے بتانے لگی آبراش نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔

“سب اچھا ہوگا سب میں ساتھ ہوں کچھ نہیں ہوگا اینجل ہم جلدی مل لیں گے تمہارے پیرینٹس سے”

وہ اسے سینے سے لگائے پیار سے سمجھانے لگا مہمل اثبات میں سر ہلا گئی گئی

“اسمائل”

وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا مہمل مسکرائی وہ بھی مسکرایا اور اپنا انک مکمل کے ناک سے چھوا مہمل کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔

*********

“تو کیسا گزرا دن”

عریش کمرے میں آتے ہوئے مسکراتے ہوئے پوچھنےلگا جس پر رومیسہ مسکرائی۔

“اچھا گزرا”

وہ مسکراتے ہوئے بتانے لگی عریش بھی مسکرایا۔

“مجھے یاد کیا”

وہ اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے محبت سے پوچھنے لگا جس پر اس نے اثبات میں سر ہلایا

“تو ایسا کرو ہر وقت میرے ساتھ رہا کرو “

وہ اسے قریب کیے اسکی گال پر جھک کر مسکراتے ہوئے بولا

“عریش تمہیں کیا ہوگیا ہے مجھے نیند آرہی ہے”

وہ سرخ ہوتے چہرے سے اسے دور کرتے ہوئے کہنے لگی جس پر عریش نے اسے دیکھا۔

“تم نے مجھ پر جادو کیا ہے وہ بھی دنوں دنوں میں “

وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا جس پر رومیسہ اسے گھور کر دیکھنے لگی۔

“اسے جادو نہیں پیار کہتے ہیں”

وہ منہ بنائے اسے بتانے لگی جس پر عریش مسکرایا

“ہاں اور اب مجھ سے زیادہ دور نہیں رہنا میرے قریب رہنا”

وہ اسے کہتے ساتھ اسکے ماتھے پر لب رکھنے لگا جس پر رومیسہ آنکھیں بند کر گئی۔

“تمہیں پتہ ہے یہ سب ایک خواب لگتا ہے”

وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی عریش نے اسے دیکھا

“میں تمہیں خوابوں جی شہزادیوں جی طرح ہی رکھوں گا”

وہ اسے پیار سے کہتے ساتھ سینے سے لگا گیا اور رومیسہ اسکے سینےسے لگے آنکھیں بند کر گئی۔

*******

“راش مام ڈیڈ ناراض تو نہیں ہوں گے”

وہ نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی

“ناراض تو ہوں گے لیکن ہم بات کریں گے وہ مان جائے گی پریشان نہیں ہونا اینجل سب اچھا ہوگاوہ اسے اپنے ساتھ لگائے انتہائی نرمی سے بولا مہمل مسکرادی۔

“مجھے آپ کے ہونے سے بہت حوصلہ ملتا ہے”

وہ مسکراتے ہوئے اسے بولی جس پر آبراش مسکرایا

“اور مجھے تمہارے تم میری طاقت میری کمزوری”

وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا مہمل مسکرائی اور اسکی گال پر لب رکھے۔

“آئی لو یو”

وہ مسکراتے ہوئے اسے کہنے لگی آبراش اسکے کس کرنے پر مسکرایا

“ہم فلائٹ میں ہیں تو تم میرا موڈ نہیں چینج کرو”

وہ اسے پورا۔ اپنی قید میں لیے گھمبیر لہجے میں شوخیہ لہجے میں کہنے لگا جس پر مہمل شرما گئی۔

“مجھے تنہا مت کرنا

تجھ میں بسی ہے میری دنیا”❤️😍

جاری ہے