Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Episode 22
وال کلاک اس وقت ایک بجا رہی تھی وہ نظریں وال کلاک پر مرکوز کیے ہوئی تھی مڑ کر اپنے ساتھ سوئے آبراش شاہ جو دیکھا مہمل اسے منہ بسورے دیکھ رہی تھی۔
“اینگری مین”
مہمل کی خود بھی پانچ منٹ پہلے آنکھ کھلی تھی اسکے قریب ہوکر اسے ہلکی آواز میں پکارنے لگی
“راش اٹھیں”
وہ اب کی بار اسے تھوڑا سا ہلاتے ہوئے اٹھانے کی کوشش کرنے لگی جب آبراش کی آنکھ کھلی اور نظر مہمل پر گئی۔
“کیا ہوا ہے اینجل سب ٹھیک ہےوہ پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے محبت سے پوچھنے لگا مہمل منہ بنائے اسے دیکھ رہی تھی۔
“وہ مجھے نہ”
مہمل گھبراتے ہوئے منہ بسورے اسے دیکھتے ہوئے بامشکل بولنے کی کوشش کررہی تھی اسکے انداز پر آبراش کو اور زیادہ فکر ہونے لگی۔
“سب ٹھیک ہے نا طبیعت ٹھیک ہے تمہاری سب ٹھیک ہے نا”
وہ فکرمندی سے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے ہوئے پیار سے پوچھنے لگا
“وو۔۔وہ مجھے بھوک لگی ہے بہتتتت زور کی”
وہ بولتے ہوئے ڈرتے ہوئے نظریں جھکا گئی اسکی بات پر آبراش کو تسلی ہوئی۔
“افففف تم نے ڈرا دیا مجھے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا مہمل آنکھیں پٹپٹا کر اسے دیکھنے لگی
“کچھ بنا دیں مجھے بہت بھوک لگی ہے”
وہ معصومیت سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی آبراش نفی میں گردن ہلاتے ہوئے اٹھا۔
“بنادیتا ہوں”
وہ کہتے ساتھ جوتے پہنتا کمرے سے باہر چلا گیا مہمل بھی اٹھ کر اسکے پیچھے آئی۔
وہ کچن میں کھڑا اسکے لیے سینڈوچ بنا رہا تھا تب مہمل پیچھے سے اسکے سینے سے لگ گئی۔
“تھینکیو سو مچ”
وہ مسکراتے ہوئے اسکے گرد حصار بنائے لاڈ سے بولی آبراش جے چہرے پر مسکراہٹ آئی آبراش نے سینڈوچ والی ڈش اسکے سامنے کی
“نہیں”
مہمل نفی میں گردن ہلاتے ہوئے اس سے الگ ہوئی اور شیلف پر چڑھ کر بیٹھ گئی اور آبراش اسے دیکھنے لگ گیا۔
“کیا”
وہ اسے پریشانی سے دیکھتے ہوئے آئبرو آچکا کر پوچھنے لگا
“خود کھلائیں میں کھا بھی نہیں سکتی ہوں”
وہ معصومیت سے بچوں والے انداز میں اس سے بولی اسکے انداز میں آبراش مسکرایا اور اسے اپنے ہاتھوں سے بائٹ کروانے لگا وہ شیلف پر بیٹھی مزے سے کھانے لگی
“من چاہا شخص ہر مرض کی دوا ہوتا ہے”![]()
![]()
_______________
آج نکاح تھا اس وقت وہ لوگ ڈائننگ ایریا پر موجود تھے سب آپس میں باتیں بھی کرنے میں مصروف تھے
“ویسے بھابی کیسے منایا آپ نے ماما کو آج تک بھائی کی تو سنی نہیں”
وہ جوس پیتے ہوئے مہمل کو مخاطب کرنے لگا اور مہمل نے اسے دیکھا۔
“بس یہ آپ کی بھابی ہی کرسکتی ہیں”
وہ مسکراتے ہوئے اترا کر بولی اسکے انداز پر سب ہنسنے لگ گئے رومیسہ کمرے میں تھی۔
“پرانی باتیں چھوڑو اور چپ چاپ ناشتہ کرو”
فریحہ بیگم اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر عریش اثبات میں سر ہلا گیا ان سب کے دوران آبراش بلکل خاموش بیٹھا تھا۔
“آبراش کیا ہوا بیٹا تم ٹھیک ہو”
فریحہ بیگم اسے دیکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھنے لگی تو مہمل اور آبرو نے بھی اس طرف دیکھا۔
“جی ٹھیک ہوں”
وہ جواب دیتے ساتھ کھانا کھانے میں دوبارہ مصروف ہوگیا اور باقی سب بھی کھانے لگ گئے۔
___________________
“ڈاکٹر پیشنٹ”
اختر صاحب اٹھتے ہوئے ڈاکٹر سے پوچھنے لگے
“ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے آپ بس دعا کریں”
وہ انہیں کہتے ساتھ آگے کی طرف بڑھ گئے اور اختر صاحب سر پیٹ کر رہ گئے
“اللہ تعالیٰ میری بیوی کی حفاظت کرنا آمین”
وہ روتے ہوئے دعا کرنے لگے اور ایک نظر ووڈ میں ڈالی اور کرسی سے ٹیک لگا گئے۔
__________________
رومیسہ لال جوڑے میں بےحد پیاری لگ رہی تھی ریڈ لپسٹک اسکے چہرے پر غضب ڈھا رہی تھی وہ مسکراتے ہوئے اپنا عکس شیشہ میں دیکھ رہی تھی۔
وہ لائٹ پنک کلر کی چولی پر اور وائٹ رنگ کا لہنگہ پہنے اس پر کڑاہی کا کام ہوا ہوا تھا وہ بہت بہت پیاری لگ رہی تھی لائٹ سے میک ایپ میں ہیوی جیولری پہنے وہ ہیلز چڑھائے بہت ہی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی وہ وائٹ شلوار قمیض میں ملبوس وائٹ ویس کوٹ پہنے وہ بہت بہت زیادہ ڈیشنگ لگ رہا تھا۔
“آج لگ رہے ہیں نا آپ مہمل کے شوہر”
مہمل اس کو دیکھتے ہوئے بولی اسکے انداز پر آبراش مسکرایا اور اسکے سراپے پر نظر ڈالی۔
“تم تو ہمیشہ کی طرح حسین لگتی ہو”
وہ مسکراتے ہوئے اس پر گہری نظر ڈالے اسے بتانے لگی جس پر وہ مسکرائی
“وہ تو میں لگتی ہوں”
وہ اتراتے ہوئے اسے بولی اسکے انداز پر آبراش کا قہقہ لگا۔
اور دونوں چل باہر کی طرف بڑھ دیے سارا انتظام بہت خوبصورت نفاست سے کیا تھا سب لوگ بہت خوبصورت تیار ہوئے تھے
نکاح ہو چکا تھا عریش اور رومیسہ اب ایک دوسرے کے نکاح میں تھے۔
“اجازت بھابی میں بیٹھ جاؤ”
عریش مہمل کو دیکھتے ہوئے اجازت مانگنے لگا اسکے انداز پر سب قہقہ لگا کر ہنسے اور مہمل بھی ہنسی
“جی اب اجازت ہے”
وہ مسکراتے ہوئے اسے کہنے لگی عریش رومیسہ کیساتھ بیٹھ گیا اور اسے دیکھنے لگا۔
“زہ نصیب کمال لگ رہی ہیں”
وہ اسکے قریب ہوکر کان میں کہنے لگا
“آئی جو”
رومیسہ بغیر شرمائے مسکراتے ہوئے کہنے لگی جس پر مہمل اور آبراش ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔
“مجھے بھی اس طرح دلہن بننا تھا پتہ بھی ہے کتنا شوق تھا اتنی اچانک شادی ہو گئی ہماری”
وہ اداسی سے کہنے لگی جس پر آبراش نے اسے دیکھا
“اب کیا کر سکتے ہیں ایک کام کرتا ہوں آج رات تمہارے لیے ریڈ ڈریس لے آتا ہونا رات کو تیار”
وہ اسے دیکھتے ہوئے تنگ کرتے ہوئے کہنے لگا جس پر مہمل خوشی سے دیکھنے لگی۔
“ہاں بہت کمال آئیڈیا ہے”
وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی آبراش کے چہرے پر ہنسی
“ایسا کچھ نہیں ہورہا ہے کل ہم لوگ نکل رہے ہیں کراچی کیلیے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا مہمل خوش ہوئی۔
“اوکے اوکے”
وہ مسکراتے ہوئے بولی آبراش اسکی مسکراہٹ دیکھ کر خود میں سکون اترتا محسوس کرنے لگا۔
_______________
وہ کمرے میں آیا وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی جیولری اتار رہی تھی عریش نے پیچھے سے حصار میں لیا۔
“دیکھو تمہیں کیں نے اپنا بنا لیا”
وہ اسے پیچھے سے حصار میں لیے محبت سے کہنے لگا رومیسہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
“ہاں اور اب تم مجھے کافی بنا کردو گے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی عریش اسے دیکھنے لگ گیا
“کافی”
وہ پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر رومیسہ نے اثبات میں سر ہلا دیا
“اتنی رومینٹک نائٹ تم میری برباد کرنا چاہتی ہو”
وہ منہ بنائے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔
“بلکل نہیں کافی بنانے کے بعد اکٹھے کیے گے اور رومینٹک باتیں تم کرلینا “
وہ کہتے ساتھ اس سے الگ ہوتی باتھروم کی طرف بڑھ گئی اور عریش اسے جاتا دیکھنے لگا۔
“چل عریش بیٹے آج سے بھائی والی ڈیوٹی میں لگ جا ” وہ باتھروم کے دروازے کو تکتے ہوئے کہتے ساتھ کچن کی طرف بڑھ گیا۔
جاری ہے
