Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Episode 33
عریش ڈسچارج ہوکر گھر آ گیا تھا لیکن ابھی وہ بیڈ ریسٹ پر تھا رومیسہ اسکا بہت اچھے سے خیال رجھ رہی تھی۔
“عریش اٹھ کر بیٹھو میڈیسن کا وقت ہوگیا ہے اس سے پہلے یہ سوپ پیو اور میڈیسن کو”
وہ اسکے سامنے ٹرے رکھتے ہوئے جس پر سوپ کا باؤل رکھا ہوا تھا اسے بولتے ساتھ وہاں سے جانے لگی جب عریش نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
“تھینکیو سو مچ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگا رومیسہ جو کمرے کی چیزی درست کررہی تھی اسے دیکھنے لگی۔
“کس لیے”
وہ سوالیہ نظروں سے اسکے پاس آتے ہوئے پوچھنے لگی
“میرا خیال رکھنے کیلیے میری زندگی میں آنے کیلیے”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر رومیسہ مسکرائی۔
“بےفکر رہو جب زخم ٹھیک ہو جائے گا نا تو میں پہلے والی رومیسہ بن جاؤ گی “
وہ اسے دیکھتے ہوئے ہنس کر بولی جس پر عریش نے اسے دیکھا۔
“اگر ایسا ہے تو پھر میں ساری زندگی بیمار رہنے کیلیے تیار ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر رومیسہ نے اسے گھورا
“بےفضول مت بولو اور سوپ پر کر میڈیسن کھاؤ”
وہ اسے سخت لہجے میں کہتے ساتھ کمرے سے چلی گئی اور وہ اسے جاتا دیکھ کر سوپ پینے لگا۔
آبراش کو کام تھا اس لیے وہ ناشتے کرتے ہی کام کیلیے نکل گیا تھا مہمل کمرے میں بیٹھی موبائل میں گیم کھیل رہی تھی وہ صبح کا گیا ہوا تھا اور اب چار بجنے کو تھے وہ شدید بور ہورہی تھی اس نے اسے دو دفعہ فون بھی کیا تھا مگر اس نے فون نہیں اٹھایا تھا مہمل وقت گزرانے کیلیے گیم کھیل رہی تھی لیکن وہ گیم کھیل کر بھی اب تھک گئی تھی۔
“حد ہے کل سے مجھے ٹھیک سے ٹائم نہیں دے رہے”
وہ وال کلاک پر نظر ڈالے غصے سے کہتے ساتھ فون رکھتی باہر کی طرف بڑھ گئی۔
کچھ دیر وہ باہر سب کے بیچ وقت گزار کر آئی لیکن اس وقت اسے صرف ایک ہی ضرورت تھی اور تھاابراش جس سے وہ دنیا جہاں کی باتیں کرسکتی تھی ایک وہی تو تھا جو اسے سنتا تھا ایک وہی تو تھا جو اسکی باتوں پر مسکراتا تھا وہ اداسی سے کمرے میں ٹہل رہی تھی وال کلاک چھ بجا چکی تھی مگر آبراش شاہ کے آنے کے مہمل کو کوئی آثار نہیں دیکھے وہ بیڈ پر برا نہ منہ بنائے بیٹھ گئی۔
“آجائیں راش”
وہ منہ بسور شدت سے اسکی کمی کو محسوس کرتے ہوئے کہنے لگی اور لیٹ گئی۔
“ہائے”
آبرو کی نظر لان میں اکیلے کھڑے عثمان پر گئی تو مسکراتے ہوئے اسکی طرف بڑھی اور باہر آکر اس سے مخاطب ہوئی عثمان نے اسے دیکھا۔
“ہیلو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے جواب دینے لگا اور واپس سے ٹہلنے لگا۔
“کچھ کہنا ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر آبرو نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“دیکھو آبرو اگر رشتے سے انکسر کرنے کا بولنا ہے تو اپنے بھائی اور مام سے خود بول دینا کیونکہ میں ایسا کچھ نہیں کرنے والا زبردستی بھی نہیں کروں گا تمہارے ساتھ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہتے ساتھ وہاں سے جانے لگا آبرو اسے جاتا دیکھنے لگی۔
“میں یہاں رشتے سے انکار کرنے نہیں سوری بولنے آئی تھی اور شکریہ بھی کرنے آئی تھی”
آبرو اسکی پیٹ تکتے ہوئے اسے بولی اسکی بات پر عثمان نے بڑھتے قدم رکے وہ مڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
“کیا”
عثمان اسے حیرت سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا اسکی بات پر وہ مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا گئی۔
“جس طرح آپ کو لگتا ہے میں آپ کیلیے مجھ سے بہترین لڑکی کوئی نہیں اسطرح آج مجھے لگتا ہے میرے لیے آپ سے بہترین لڑکا کوئی نہیں شکریہ مجھے قبول کرنے کیلیے”
وہ اسے بولتے ساتھ وہاں سے چلی گئی اور عثمان مسکراتے ہوئے اسے جاتا دیکھنے لگا۔
وال کلاک اس وقت آٹھ بجارہی تھی اور وہ اس وقت وآپس آیا تھا وہ گھر کی داخل ہوا ٹی وی لاؤنچ میں کوئی نہیں دیکھا وہ سیدھا روم کی طرف بڑھ گیا کمرے میں آتے ساتھ نظر مہمل پر گئی جو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے وال کلاک پر نظریں جمائے ہوئی تھی۔
“اینجل”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر پکارنے لگا اسکی آواز سے مہمل نے اسے دیکھا اور اٹھ کر فوراً اسکی طرف بڑھی سینے سے لگی۔
“راش کتنا مس کررہی تھی میں آپ کو”
وہ اسکے سینے سے لگی مسکراتے ہوئے کہنے لگی اسکی بات پر وہ مسکرایا۔
“ایسا ہے کیا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر مہمل نے اسے دیکھا۔
“جی اب چھوڑیں مجھے”
وہ منہ بنائے اسے چھوڑنے کا بولنے لگی آبراش اسے دیکھنے لگا
“تمہیں چھوڑ دوں لیکن کیوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگا جس مہمل نے ناک سکیڑہ۔
“کچھ پتہ بھی ہے بیوی کب سے انتظار کررہی ہے بیوی کو تو کوئی فکر ہی نہیں ہے وقت دیکھا ہے میں انتظار کیے جارہی ہوں اور یہ جناب اسوقت آرہے ہیں اس لیے میں ناراض ہوں “
وہ اسے دیکھتے ہوئے اس سے الگ ہوکر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے جانے لگی۔
“مہمل پہلی دفعہ ہوا ہے ایسا یار”
وہ اسے ناراض دیکھتے ہوئے بتانے لگا مہمل بغیر کوئی جواب دیے باتھروم کی طرف بڑھ گئی اور آبراش اسے جاتا دیکھنے لگا۔
وہ باتھروم سے باہر آئی اور اسے دیکھ کر منہ بناتی باہر جانے لگی۔
“مہمل کہاں جارہی ہو”
وہ اسے جاتا دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگا جس پر مہمل نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“میں کچھ دیر باہر جارہی ہوں آجاؤ گی”
وہ منہ بنائے اسے جواب دیتے ہوئے باہر چلی گئی اور آبراش اسے جاتا دیکھنے لگا
وہ باہر لان میں بیٹھی تھی جب آبراش اسکے ساتھ آکر بیٹھا۔
“کب تک ناراض رہنا ہے”
وہ اسکے اوپر کوٹ ڈالے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر مہمل نے ایک نظر اسے دیکھا۔
“جب تک میرا دل کرے گا”
وہ نظریں دوبارہ سامنے کیے اسے بولی جس پر آبراش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
“میں تمہارے دل کو خود سے زیادہ دیر ناراض نہیں رہنے دوں گا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا جس پر مہمل نے گھور کر اسے دیکھا۔
“آپ ایسا کیا کریں گے جس سے میرا دل مان جائے گا”
وہ اسے دیکھتے منہ بسورے بولی جب آبراش اسکے قریب ہوا اور اسے بلکل اپنے حصار میں قید کرلیا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی آبراش نے اسکی ایک گال پر اپنے ہونٹوں کا لمس محسوس کروایا دوسری گال پر پھر گردن پر مہمل بےبس ہونے لگی
“راش ہم روم میں نہیں ہیں “
وہ اسے دیکھتے ہوئے روکنے کی کوشش کرنے لگی جس پر آبراش نے اسکی جانب دیکھا۔
“تو روم میں چلتے ہیں”
وہ آنکھوں میں شرارت لیے پیار سے کہنے لگا مہمل نظریں۔ جھکا گئی اور آبراش اس سے الگ ہوکر اسے باہوں میں اٹھا گیا یہ کیا حرکت ہے مسٹر آبراش شاہ”
وہ اسے حیرت سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی اور آبراش اسکی سنی ان سنی کرتا کمرے کا رخ کر گیا۔
عریش اب بہت بہتر ہوچکا تھا اور عثمان نے سب گھر والوں سے نکاح کی بات کی تھی جس پر فریحہ بیگم نے کہا تھا وہ ایک دفعہ آبرو سے پوچھیں گے تو عثمان نے انکی بات مان لی اور جب فریحہ بیگم نے آبرو سے پوچھا تو اس نے انہیں جواب ہاں میں دیا جس سے وہ خوش ہوئی اور آبرو نے یہ تک انہیں بتایا کہ وہ عثمان کو ساری حقیقت بتا چکی ہے جس پر وہ اور بھی خوش ہوئی کہ وہ شخص اسکے بارے میں سب جانتے ہوئے اسے قبول کررہا تھا۔
“دیکھ بھائی سوچ لے میں تو بہت پچھتا رہا ہوں شادی کرکے”
عریش اسے دیکھتے ہوئے بولا عثمان اسکی بات پر اسے دیکھنے لگی وہی آبراش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
“اپنی تو کرلی اب میری باری یہ سب”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر عریش اسے دیکھنے لگا۔
“کون پچھتا رہا ہے شادی کرکے “
تبھی رومیسہ اور مہمل ان تینوں کے پاس آئی رومیسہ نے عریش کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“ارے رومیسہ کوئی بھی نہیں بھائی میں تو بہت خوش ہوں کیا بتاؤ دنیا کی سب سے اچھی بیوی ملی ہے مجھے “
عریش رومیسہ کے پوچھنے پر فوراً بات سے پلٹ گیا جس پر رومیسہ نے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور مہمل قہقہ لگا کر ہنسی عثمان اور آبراش اسے دیکھنے لگے۔
“آبراش آپ تو نہیں پچھتا رہے نا”
مہمل آبراش کو دیکھتے مسکرا کر پوچھنے لگی جس پر آبراش نے اسے دیکھا۔
“نہیں بلکل بھی نہیں”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر کہنے لگا اسکی بات پر عثمان اور عریش قہقہ لگا کر ہنسے۔
“یہ پورا جوڑو کا غلام ہے”
عریش ہنستے ہوئے بولا اسکی بات پر عثمان بھی ہنسا اور آبراش نے دونوں پرسخت نگاہ ڈالی۔
“اسے جوڑو کا غلام نہیں محبت کہتے ہیں جو تمہاری پہنچ سے بہت دور ہے”
وہ غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ وہاں سے چلی گئی اب ہنسنے کی باری عثمان اور آبراش کی تگی آبراش تو بس مسکرایا وہی عثمان قہقہ لگا کر ہنسا تھا اور عریش منہ بسورے بیٹھا تھا۔
“راش جل گیا”
وہ اسکے سامنے ہاتھ کیے معصومیت سے بولی جس پر آبراش نے اسکا ہاتھ تھام کر دیکھا
“کیسا جلا دھیان سے کام کرنا اور کام کرنے کی ضرورت ہی کیا تھا اینجل”
وہ اسے دیکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھنے لگا جس پر مہمل نے اسے دیکھا۔
“وہ میں آپ کیلیے نا پاستہ بنارہی تھی میں نے ریسپی سیکھی تھی ایک لیکن جل گیا “
وہ منہ بسورے اسے بتانے لگی اور اس وقت آبراش کو اس پر بےحد پیار آیا اور اسکی کو اپنے لبوں سے چھوا اور اسے اپنے قریب کیا
“آج کے بعد تم نہیں کرو گی یہ سب ٹھیک ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے نرمی سے کہنے لگا مہمل اثبات میں سر ہلا گئی۔
“راش مجھے آبرو کے نکاح کیلیے کچھ شاپنگ کرنی ہے چلیں گے میرے ساتھ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر آبراش اثبات میں سر ہلا گیا۔
“تم ریڈی ہوجاؤ ہم کچھ دیر میں چلتے ہیں”
وہ پیار سے اسے بولتے ساتھ کمرے سے باہر گیا اور مہمل اسے جاتا دیکھنے لگ گئی۔
عریش کمرے میں داخل ہوا جب اپنا تکیہ کاؤچ پر موجود پایا اس نے ایک نظر رومیسہ کو دیکھا۔
“میرا تکیہ وہاں کیوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر رومیسہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگی
“مجھ سے شادی کرکے پچھتا رہے ہوں نا اور تم ٹھیک بھی ہوگئے ہو تو شرافت سے وہاں سوجاؤ”
وہ اسے غصے سے منہ بنائے اسے دیکھ کر بولی جس پر عریش بس اسے دیکھتا رہ گیا۔
“جان میں نے ایسا کچھ نہیں کہا وہ تو عثمان نے مجبور کردیا ورنہ میں تمہارے بارے میں ایسا بولوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پیار بھرے انداز میں کہنے لگا جب رومیسہ نے مڑ کر اسے دیکھا اور چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
“جان آپ چہ چاپ کاؤچ پر سورہے ہیں یا ٹی وی لاؤنچ میں جانا پسند کریں گے”
وہ اسے دیکھتے چہرے پر مسکراہٹ سجائے بہت پیار سے پوچھنے لگی اسکی بات پر عریش خاموشی سے کاؤچ پر لیٹ گیا
“یہ دن بھی دیکھنا تھا تمہیں اپنی زندگی میں عریش شاہ”
وہ کاؤچ پر لیٹتے ہوئے بڑبڑایا اور وہی رومیسہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور وہ مزے سے لیٹ گئی۔
جاری ہے
