Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Episode 11
وہ اس وقت ایک بلڈنگ میں موجود تھا
“کون ہیں سر آپ آپ کیا چاہتے ہیں پلیززز ہمیں بتائیں پہلے”
گارڈز اسے روکنے کی ناکام سی کوشش میں لگے ہوئے تھے جب وہ ان دونوں کو دو دو مکے مارتا سرخ ہوتی آنکھوں سے آگے بڑھا اسکی کمپنی کے ورکرز فوراً اٹھ کر اسے دیکھنے لگ گئی مگر ان میں سے کسی کی ہمت نہیں تھی اسے روکنے کی اسکی گولڈن بلوئش آنکھیں اس قدر سرخ اور سرد تھی کہ کوئی بھی شخص اسکی آنکھوں کو دیکھ کر خوف میں مبتلا ہو سکتا تھا وہ بھاری بھاری قدم اٹھاتا اوپر کی جانب بڑھا ایک بندہ پیچھے سے وار کرنے کیلیے بڑھا اس سے پہلے وہ اسکی گردن دبوچتا وہ مڑ کر اسکی گردن کو دبوچ کر اسکی گردن پر سخت گرفت کیے اسے دیوار سے لگا گیا اور اسکی گردن گھما کر اسے وہی چھوڑ کر اوپر کی طرف بڑھا
نوریز جو اس وقت اپنے کیبن میں بیٹھا ایک انجان شخص کو دیکھ کر آنکھوں میں حیرت لیے کھڑا ہوا
“کون ہو تم”
وہ غصےسے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جب سامنے کھڑے کوبرہ نے اسکے منہ پر زور دار پنچ مارا وہ ہل کر کر رہ گیا اور کوبرہ نے اسی وقت جیب سے چاقو نکالا
“تمہاری موت”
وہ کہتے ساتھ گردن اسکے پیٹ پر چاقو گھسا گیا نوریز کو کس قدر تکلیف ہوئی تھی اسکے چہرے سے صاف واضح تھی اگلے ہی سکینڈ کوبرہ نے وہ چاقو جو اسکے پیٹ پر گھسایا تھا ایکدم نکالا وہ درد سے چیخ اٹھا اور زمین پر گر گیا اور اسے دیکھتے ہوئے کوبرہ ایک دفعہ پھر سے وہی عمل دہرانے لگاآنکھیں اس وقت اس قدر سرخ تھی جیسے خون جمایا ہو اوپر سے اسکا وحشی انداز میں اس شخص کو مارنا اسکے جنونی ہونے کا پتہ دے رہا تھا
وہ ابھی بھی ہسپتال میں موجود تھی ڈاکٹر نے ایک دو دن بعد ڈسچارج کرنے کا کہا تھا
وہ لیٹی ہوئی تھی تبھی آبراش فون میں داخل ہوتے ہوئے ہاتھ میں سوپ کا باؤل ڈش میں تھامے اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ اسکے سامنے رکھ گیا مہمل نے اسکی طرف دیکھا اسکے اس طرح دیکھنے پر آبراش نے ائبرو اچکائی
“مجھے آپ کے ہاتھ سے کھانا ہے”
وہ معصومیت سے اسکو دیکھتے ہوئے منہ بنائے بولی جس پر آبراش نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اسکی معصومیت اور خواہش سمجھ کر اس نے پوری کرنے وہ اسکے سامنے آکر بیٹھا اور اسے سوپ پلانے لگا مہمل مسکرائی
“تھینکیو”
وہ مسکراتے ہوئے بولی جس پر آبراش کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا
“ایک بات تو بتائیں اینگری مین “
وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر آبراش نے سر کو خم دیا
“کیا زیادہ بولنے سے کچھ ہوجاتا ہے نہیں نا میں بھی بولتی ہوں مجھے تو کچھ نہیں ہوتا ایک تو بولتے نہیں ہیں لیکن جب بولتے ہیں تین سے چار لفظ بس ایسا کیوں”
وہ اسکے ہاتھوں سے سوپ پیتے ہوئے اسکے چہرے پر نظریں جمائے کہنے لگی آبراش نے اپنی بلیو سرد نگاہیں اس کی طرف کی
“تم کچھ زیادہ بولتی ہو”
وہ اسکے چہرے پر گہری نظر ڈالے سنجیدگی سے کہنے لگا جس پر مہمل مسکرائی
“اب جب۔ میرا شوہر نہیں بولے گا تو ان کے حصے کا مجھ معصوم کو ہی بولنا پڑے گا نا”
وہ اسکی گھوری کا اثر نہ لیتے ہوئے مزے سے جواب دینے لگی جس پر وہ بس اسے دیکھ سکا وہ سوپ پی چکی تھی آبراش ڈش اٹھا کر باہر جانے لگا
“آکر میرے بال بھی بنا دینا”
وہ اسے جاتا دیکھتے ہوئے حکم دینے والے انداز میں کہنے لگی جس پر آبراش نے مڑ کر اسے دیکھا
“کیا ایسے کیا دیکھ رہے ہیں بیمار ہوں میں تو میرے کام میرے شوہر کو ہی کرنے ہوں گے”
وہ اسکی سرد آنکھوں کو خاطے میں نہ لاتے ہوئے بتانے لگی جس پر آبراش نفی میں سر ہلاتا باہر کی طرف بڑھ گیا
وہ کچھ دیر بعد دوبارہ روم میں آیا اسکے آتے ہی مہمل بہت مشکل سے اٹھ کر بیٹھی اور اسے مسکرا کر دیکھا
“دیر نہیں کردی”
وہ اسے آتا دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی مگر آبراش اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بالوں کو کیچڑ کی مدد سے آزاد کرتے ہوئے اسکے بال سلجھانے لگ گیا آرام آرام سے اس نے اسکے بال سلجھائیں اسکے بعد اس نے اسکے بالوں کو چٹیاں میں قید کیا جس پر مہمل نے اسے دیکھا
“آپ کو چٹیاں کس نے سیکھائی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے حیرت سے پوچھنے لگی جس پر اس نے اسکے بالوں پر بینڈ لگایا
“ہاں بس سیکھی تھی”
اس وقت اسکا لہجہ سرد نہیں تھا اسکے لہجے میں اداسی تھی جو مہمل نے بہت اچھے سے محسوس کی تھی
“مسٹر آبراش شاہ یہ کام بھی کرتے ہیں واللہ”
وہ مسکراتے ہوئے ایک ادا سے کہنے لگی اسکے انداز پر وہ ہلکا سا مسکرایا اور اگلے ہی پل وہ اپنی مسکراہٹ چھپا گیا
“ارے نہیں بھائی ایسے نہیں امی آپ سیکھائیں بھائی کو”
وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی جس پر اس بارہ سالہ لڑکے نے اپنی بہن کے بالوں سے ہاتھ ہٹایا
“یہ دیکھو یوں بناتے ہیں چٹیاں”
اسکی والدہ چٹیاں بناتے ہوئے اسے بتارہی تھی جس پر وہ سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا
“اب میں یہاں سے میں بناتا ہوں”
وہ اپنی والدہ سے مسکراتے ہوئے کہنے لگا جس پر وہ اثبات میں سر ہلا کر پیچھے ہٹیں اور بارہ سالہ بچہ بنانے لگا
“دیکھو آبرو میں نے سیکھ لی”
وہ اسکی چٹیاں کرتے ہوئے بولا جس پر وہ مسکرائی
“جی بھائی اب روز آپ کریں گے میری چٹیاں”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے بولی جس پر اس بارہ سالہ لڑکے نے اثبات میں سر ہلا دیا
مہمل ڈسچارج ہوکر گھر آ گئی تھی آبراش اسے کمرے میں لایا تھا اور بیڈ پر لٹایا تھا
“کچھ چاہیے تو میڈ سے بول دینا”
وہ اسے کہتے ساتھ وہاں سے چلا گیا اور مہمل اسے جاتا دیکھ رہی تھی وہ اسے کیسے بتاتی اسے میڈ کی نہیں اس وقت اسکی ضرورت تھی مگر وہ تو اسکی سنے بغیر ہی چلا گیا تھا
وہ دھوپ چھاؤں کی طرح تھا کبھی کچھ تو کبھی کچھ مہمل کی سمجھ سے وہ شخص باہر تھا وہ خالی نظروں سے دروازے کو تکتے ہوئے سر بیڈ کراؤن کیساتھ ٹکا گئی بہت سے آنسو مہمل نے اپنے اندر اتارے تھے اسے وہ لمحہ یاد آیا جب اسے ہلکی سی خراش بھی آتی تھی تو اسکے ماں باپ کیسے اسکے سر پر ہوتے تھے
“بہت یاد آرہے مام ڈیڈ”
وہ آنکھوں میں نمی لیے اداسی سے کہنے لگی اور آنکھیں موندے گئی
وہ بیڈ کراؤن کیساتھ سر ٹکائے آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی اس بات سے انجان کے کسی آنکھیں اس پر کب سے جمی ہوئی وہ شخص پچھلے آدھے سے گھنٹے سے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا اپنی گولڈن بلوئش آنکھوں کا حصار اس پر باندھے کھڑا تھا اسکی بے چینی آج ہھر اسے یہاں لانے پت مجبور کر گئی تھی
اچانک ہی اسے اس کمرے میں وہ مخصوس سی آہٹ اور خوشبو محسوس ہوئی جھٹ سے انکھیں کھولی اور ہ سامنے نگاہ اٹھائی جو اسی پر اپنی نظریں مرکوز کیے کھڑا تھا کون تھا وہ شخص جب بھی وہ اکیلی یا کچھ پریشان ہوتی تھی وہ آجاتا تھا
“کیا رشتہ ہے اسکا مجھ سے کہ میری مشکل میں جب بھی اداس ہوتی ہوں کیوں آتا ہے یہ نہیں مہمل نہیں تم ایسے لڑکی نہیں یہ تمہارے لیے ایک نا محرم ہے”
مہمل فوراً اپنی سوچ جھٹکتے ہوئے اسکی طرف دیکھنے لگی اچانک ہی اسے کوبرہ کی نگاہوں میں سرد ہن شامل ہوتا محسوس ہوا رہا تھا کوبرہ سرد نگاہوں سے گھور رہا تھا کیونکہ اسکا ذہن پڑھ چکا تھا
“کیا دیکھ رہے ہیں ایسے”
وہ اسکے اس طرح دیکھنے سے پوچھنے لگی جس پر کوبرہ اسکے تھوڑا قریب ہوا
“ان فضول باتوں کو سوچنا چھوڑ دو “
وہ اسکے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے اسے نرمی سے بولا اور مہمل شاک سی کیفیت میں گئی
“آپ کو کیسے “
وہ حیرت سے پوچھنے لگی تھی مگر اس کی آنکھوںں میں کچھ تھا اسکے الفاظ زبان میں آنے سے پہلے دم توڑ گئے تھے جس پر کوبرہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ کر غائب ہوئی تھی
“میں اپنے اس معصوم بچے کا ذہن اور دل میں کیا چل رہا ہوتا سب جان جاتا ہوں”
وہ اسے مسکراتے ہوئے دیکھتے ہوئے بولا مہمل اسے بس گھور سکی
“اپ کی موجودگی کا یہاں ہونا غلط ہے پلیز جائیے”
وہ اسے سرد لہجے میں باہر کی طرف جانے کا اشارہ کرنے لگا جب اچانک کوبرہ نے اسکا منہ دبوچا مگر گرفت بے حد نرم رکھی
“میرا کیا تعلق ہے تم سے اور کیا حق رکھتا ہوں اس وجود پر بہت جلد جان جاؤگی۔
وہ اس پر اپنی نظریں جمائے پتھریلے لہجہ میں اسے کہتے ساتھ چھوڑتا چلا گیا مہمل کی نگاہوں نے اس اجنبی کا دور تک پیچھا کیا تھا جو اجنبی ہو کر بھی بے حد قریبی لگتا تھا
رات کے وقت وہ واپس آیا وہ اسے دوسرے گھر لے آیا تھا جس کا مہمل کو معلوم تک نہیں تھا
“یہ کس کا گھر ہے”
اسکے آتے ہی مہمل نے اس کو دیکھتے ہوئے فوراً پوچھا جس پر آبراش نے اسے دیکھا
“میرا”
وہ مختصر سا جواب دیتے ساتھ باتھروم کی طرف بڑھنے لگا جس پر مہمل اٹھ کر اسکے پاس گئی
“عریش بھائی اور رومیسہ کہاں ہیں وہ ادھر کیوں نہیں”
وہ اسکے پاس آتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر آبراش نے مڑ کر اسے دیکھا
“وہ دونوں ٹھیک ہیں”
وہ اسے جواب دیتے ساتھ باتھروم میں چلا گیا مہمل اسکو جاتا دیکھنے لگی
کچھ دیر بعد وہ واپس آیا مہمل بیڈ پر منہ پھلائے بیٹھی تھی آبراش کی نظر اس پر گئی وہ اسکے پاس آیا اور بازو تھاما
“کیا کررہے ہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے منہ بسور کر پوچھنے لگی
“بینڈچ”
آبراش نے مختصر سا جواب دیتے ساتھ اسکی پہلے والی بینڈچ کو کھولا اور نئی بینڈچ کرنے لگا مہمل اسے دیکھ رہی تھی
“میں کرلوں گی”
مہمل اپنی بازو چھڑوانے کی ناکام سی کوشش کرتے ہوئے اسے کہنے لگی جس پر آبراش نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ کروایا
“مجھے آپ کا نظرانداز کرنا برداشت نہیں ہے راش میں صرف ایک ہی چیز چاہتی ہوں آپ سے اور وہ ہے امپورٹنس جو آپ۔مجھے نہیں دیتے”
وہ اسکے چہرے پر اپنی نظریں مرکوز کیے دل میں اداسی سے بولی آبراش بینڈچ کرنے کے بعد اسکا ہاتھ تھامے اپنے ساتھ لے جانے لگا
“کہاں جارہے ہیں ہم”
وہ اسکے اس طرح سے اپنے ساتھ لے جاتا دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی آبراش اسکی بات سن کر مڑ کر دیکھنے لگا
“تم سوال بہت کرتی ہو”
وہ اسکے چہرے پر نظر ڈالے اسے کہنے لگا جس پر مہمل گھبراتے ہوئے نظریں جھکا گئی
وہ اسے نیچے لایا اور ڈائننگ ٹیبل پر بٹھایا میڈ کو اشارہ کیا مہمل اسے دیکھ رہی تھی میڈ نے ان دونوں کے سامنے تین چار کھانے کی ڈشز رکھی
“ڈالو”
آبراش مہمل کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا مہمل نے پلیٹ اٹھائی اور تھوڑا سا اپنی پلیٹ میں ڈالا اور وہی آبراش نے بھی اپنی پلیٹ پر ڈالا
“آپ کو کس نے بتایا میں نے کھانا نہیں کھایا”
مہمل کھاتے ہوئے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“یہ جاننا ضروری نہیں”
وہ اسے دیکھے بغیر جواب دیتے ساتھ پانی کا گلاس لبوں سے لگا گیا اور مہمل خاموش رہی وہ اسکی کسی بات کا صحیح سے جواب دیتا ہی نہیں تھا
“میں بھی اب بات نہیں کروں گی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے منہ بنائے دل میں کہتے ساتھ پانی پی کر اٹھی
“میں نے کھا لیا “
وہ کہتے ساتھ اوپر کمرے کی طرف بڑھ گئی آبراش اسے جاتا دیکھنے لگ گیا
“عریش”
رومیسہ اور عریش اس وقت فلائٹ میں موجود تھے رومیسہ واپس جارہی تھی
“بولو”
عریش اسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
“نہیں کچھ نہیں”
رومیسہ اسکو اپنی جانب دیکھتے ہوئے گھبرا کر بولتے ساتھ نظروں کا تعاقب دوسری طرف کر گئی
“بتاؤ کیا بات ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پھر سے پوچھنے لگا
“وہ کچھ نہیں”
سب کا منہ بند کرنے والی لڑکی آج کسی شخص کے سامنے بولنے سے گھبرا رہی تھی
“رومیسہ کیا ہوا سب ٹھیک ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر رومیسہ نے اسے دیکھا
“عریش میں تمہیں بہت ٹائم سے لائک کرتی ہوں اور یہ میں بلکل سچ کہ رہی ہوں تم مجھے بہت بہت اچھے لگتے ہو “
وہ آنکھیں بند کیے ہلکی آواز میں اسے ایک ہی سانس میں بول گئی اسکی باتیں سن کر عریش شاک کی سی کیفیت میں مبتلا ہوا
“یار رومیسہ”
وہ اسے دیکھنے لگ گیا رومیسہ نے آنکھیں کھول کر جھکا لی
“ائی ایم سوری “
وہ نظریں جھکائے بولی جس پر عدیش نے اسکی طرف دیکھا
“تمہیں اچھا کیا لگتا ہے مجھ میں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر رومیسہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
“پتہ نہیں بس تم اچھے لگتے ہو اچھے بھی نہیں بہت اچھے”
وہ اسے کہتے ساتھ نظریں دوسری سمت کر گئی عرءش نفی میں سر ہلا گیا
“تم بہت اچھی ہو بہت اور تمہیں کوئی بھی مل سکتا ہے تو تم مجھے بھول جاؤ یہی بہتر ہے اور یہ فضول سوچیں ختم کردو “
وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے جواب دینے لگا جس پر رومیسہ کو اچھا خاصا غصہ آیا
“جنہیں تم فضول سوچیں کہ رہے وہ سچی فیلینگز ہیں میری “
وہ اسے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگی عریش نے چہرے پر ہاتھ پھیرا
“بس بات ختم اب کوئی بات نہیں”
وہ بھی سرد لہجے میں اسے کہنے لگا رومیسہ خاموش ہو گئی
جاری ہے
