Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Episode 12
وہ اس گہری نیند میں سورہی تھی اور آبراش اسے دیکھ رہا تھا اچانک اسکی نظر اسکے بازو پر گئی جس بازو پر گولی لگی تھی مہمل وہی بازو پر دباؤ دیے ہوئے تھے اسکے چہرے پر بھی تکلیف کے اتار نمایاں ہورہے تھے
“ویک ایپ اینجل اوپن دا عائز”
آبراش اسکے بازو پر دباؤ دیکھ کر فکرمندی سے اسے کہنے لگا مہمل نے آنکھ کھلی اور سیدھی ہوئی تو اسکی گولی والی جگہ سے خون بہ رہا تھا
“او مائے گاڈ “
آبراش اسکا بہتا خون دیکھ کر بےحد پریشان ہوا ڈاکٹر نے دباؤ دینے سے منع کیا تھا
“کیا ہوا”
وہ اٹھ کر اسے دیکھتے پریشانی سے بولی آبراش اسے سرد نگاہوں سے دیکھ رہا تھا
“درد نہیں ہورہا”
وہ اسے پرسکون بیٹھا دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر مہمل سوالیہ نظروں سے گھورنے لگی آبراش نے اسکا بازو تھام کر اسے دیکھایا مہمل کی نظر اس پر گئی
“اوہ “
مہمل بہتا خون دیکھتے ہوئے اسکی بات سمجھ گئی اور آبراش کی جانب دیکھا
“حد ہے لاپرواہی کی”
وہ سخت تیور لیے سرد لہجے میں بولا مہمل خاموش رہی آبراش نے فرسٹ ایڈ باکس نکالا اسکی بینڈچ پھر سے کرنے لگا
“خیال رکھا کرو اپنا انڈرسٹینڈ”
وہ انتہائی سرد اور اونچے لہجے میں اسے بولا جس پر مہمل سہم کر رہ گئی اسکی سمجھ سے باہر تھا وہ ہر بات پر بلاوجہ اس پر غصہ ہوتا تھا وہ آنکھوں میں نمی لیے اسے خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی
وہ باہر ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھی تھی اس نے قسم کھائی تھی وہ اس کمرے میں ہرگز نہیں جائے گی جب تک وہ اسے خود نہیں بلائے گا
“اتنى دیر ہو گئی ہے ابھی تک نہیں بلایا اگر نہ بلایا تو”
صبح ناشتے کے بعد وہ یہی پر بیٹھی تھی اور اب وال کلاک چار بجارہی تھی
“میم سر روم میں بلارہے ہیں آپ کو”
میڈ اسکے پاس آتے ہوئے کہنے لگی جس پر وہ اٹھی اور پیروں پر چپل گھساتی کمرے کی طرف بڑھ گئی
وہ کمرے میں داخل کوئی تو وہ سامنے بیٹھا لیپ ٹاپ استعمال کررہا تھا
“میری سوتن کچھ زیادہ ہی محبت ہے”
وہ لیپ ٹاپ کو گھورتے ہوئے دل میں منہ بنا کر بولی مگر آبراش سے کوئی بات کیے بغیر کاؤچ پر بیٹھ گئی
“میں نے بلایا ہے”
آبراش نظریں لیہ ٹاپ پر جمائے اس سے مخاطب ہوا
“جی”
مہمل سپاٹ لہجے میں اسے دیکھے نظریں کمرے میں گھمانے لگی جس پر آبراش نے لیپ ٹاپ بند کیا اور اس کی جانب دیکھا
“ادھر آؤ”
وہ اسے بیڈ پر آنے کے کہنے لگا جس پر مہمل نے اسکی طرف دیکھا
“جو بات کرنی ہے ایسے کرلیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے منہ بنائے کہنے لگی
“میں ایک بات بار بار کہنے کا عادی نہیں”
وہ اس دفعہ تھوڑا سرد لہجے میں کہنے لگا مہمل نے ایک نظر اسے دیکھا اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائے اسکی طرف بڑھی
“صبح سے کہاں سے تھی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے اسکے چہرے پر نظر ڈال کر پوچھنے لگا
“میں ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھی تھی”
وہ اسکی نظروں سے کنفیوز ہوتی اپنی نظریں کمرے میں گھماتے ہوئے کہنے لگی
“کیوں”
وہ ابھی بھی نظریں اسی پر مرکوز کیے ہوئے ایک اور سوال کرنے لگا
“اسکا جواب آپ کو بہت اچھے سے پتہ ہے مسٹر آبراش شاہ میں کوئی گری پڑی چیز نہیں ہوں جب دل چاہا مجھے بچوں کی طرح ٹریٹ کیا جب دل چاہا مجھے انسلٹ کردیا میں ایک انسان ہوں اور دل رکھتی ہوں”
وہ اسکی طرف ایک نظر ڈال کر نظریں جھکائے کہنے لگی آبراش اسکے چہرے پر گہری نظریں ڈالے اسکی باتیں سن رہا تھا
“ناراض ہو”
وہ اسکی باتوں سے سمجھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر مہمل نے اسکی طرف دیکھا
“ہوں بھی تو کون سا فرق پڑتا ہے آپ کو “
وہ اسکے چہرے کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے اسے جواب دینے لگی
“پڑتا ہے”
وہ دو لفظ ادا کرتے ہوئے بولا مہمل نے اسکی طرف دیکھ مگر کچھ نہیں بولی
“اگر پڑتا ہوتا نہ تو انسان سوری کرتا ہے”
وہ منہ بنائے اسے دیکھتے ہوئے بتانے لازمی سمجھنے لگی
“سوری”
وہ اس پر چہرے پر نظریں جمائے بولا
“سوری سے کچھ نہیں چلنا ہے کتنا ہرٹ کیا ہے مجھے ایک سوری اس سے کیا ہوگا “
مہمل اب تھوڑا اتراتے ہوئے اور دانت پیس کر اسے بولی جس پر آبراش کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور اسی وقت وہ غائب بھی ہو گئی
“وہ ڈرا کھولو”
آبراش اسکی طرف دیکھتے ہوئے اسے بولا مہمل نے ڈرا کی طرف دیکھا
“کک۔۔کیوں”
وہ گھبراتے ہوئے بڑی بڑی آنکھوں سے ڈرا کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“کھولو”
وہ اسے پھر سے پوچھنے لگا جس پر مہمل اٹھی اور ڈرا کھولنے لگی
“آہہ”
وہ اتنی ساری چاکلیٹس دیکھ کر حیرت سے چلائی اسکی حیرت پر وہ ایک بار پھر سے مسکرایا
“یہ میرے لیے”
وہ آبراش کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی آبراش نے اثبات میں سر ہلایا مہمل خوش ہوئی اچانک مہمل کو یاد آیا وہ ناراض ہے مہمل منہ بنا کر تھوڑی سی چاکلیٹس اٹھاتی بیڈ پر آکر بیٹھ گئی
“میں ناراض ابھی بھی ہوں لیکن یہ چاکلیٹس میری ہیں”
مہمل اسے دیکھے بغیر منہ بنائے کہتے ساتھ چاکلیٹ جھول کر کھانے لگی آبراش اسکی حرکت پر نفی میں سر ہلا گیا اور آٹھ کر وارڈروب کھولی اور ایک ریڈ کلر کا ٹیڈی بیئر نکال کر اسکی طرف بڑھا
“یہ کس کا ہے”
وہ ٹیڈی بئیر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی آبراش ٹیڈی اٹھائے اسکے ساتھ آکر بیٹھا
“تم تو نہیں مان رہی تھا تو تمہارے لیے خیر پھی”
آبراش ابھی بول رہا تھا جب مہمل نے فوراً اسکے ہاتھ سے ٹیڈی تھاما اور اسے دیکھا
“مان گئی ہوں میں یہ میرا ہے “
وہ اس ٹیڈی کو تھامے ہوئے اسے بتانے لگی اور آبراش کو اس وقت وہ حد سے زیادہ کیوٹ لگی
“عورت اگر خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ شرارتی بھی ہو
تو اس سے محبت نہیں بلا کا عشق ہوجاتا ہے”🙈😍
“اب بتاؤ فرق پڑتا ہے”
وہ اسکے اوپر سے ٹیڈی ہٹاتے ہوئے اسے دیکھ کر پوچھنے لگا مہمل نے ایک نظر اس پر ڈالی
“چاکلیٹ جہاں گئی میری”
مہمل اسکی بات نظر انداز کیے چاکلیٹ ڈھونڈنے لگی
“جواب دو”
آبراش اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر مہمل نے اسکی طرف دیکھا
“پڑتا ہے فڑق بہتتتت پڑتا ہے “
وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگی آبراش اسے مسکراتا اور مانتا دیکھتے ہوئے اٹھ گیا اور وہ چاکلیٹس کھانے اور ٹیڈی کیساتھ کھیلنے پر مصروف ہو گئی
وہ دونوں لیٹے ہوئے تھے مہمل نے اپنا سر اسکے کندھے پر رکھا ہوا تھا
“مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی ہے آپ اتنا غصہ ہوتےک کیوں ہے کیوں دور رہتے ہیں مجھ سے “
وہ اسکے سینے پر سر رکھتے ہوئے اداسی سے پوچھنے لگی جس پر آبراش نے اسکی طرف دیکھا
“بتانا ضروری ہے کیا”
وہ اسکے بالوں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے اسکے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر مہمل اثبات میں سر ہلا گئی ۔
ماضی۔۔۔۔
“آبراش اپنی بہن کا خیال رکھنے لگا میں جلدی آجاؤ گی”
اسکی والدہ اسے کہتے ساتھ چلی گئی آبراش نے اثبات میں سر ہلا دیا
“چلو آؤ آبرو لڈو کھیلیں”
آبراش اپنی بہن کا ہاتھ تھامے ہوئے اندر کے کر جاتے ہوئے بولا
“بھائی ڈائس نہیں آپ ڈائس لے آئی دکان سے”
آبرو معصومیت سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر آبراش نے اسے دیکھا
“اوہ تم اکیلی ہوجاؤ گئی میں کیسے”
آبراش اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر آبرو نے اسے دیکھا
“کچھ نہیں ہوگا بھائی دو منٹ کی تو بات ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر آبراش رضا مند ہوگیا
“ٹھیک ہے تم گیٹ کھول کر رکھنا میں دو منٹ میں آجاؤ گا ٹھیک ہے”
وہ اسے سمجھانے ہوئے بولا جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئی اور آبراش گھر سے باہر نکل گیا آبرو دروازہ کھولنے صحن میں کھڑی تھی
تبھی ایک شخص اندر داخل ہوا آبرو اسے حیرت سے دیکھنے لگی
“کون ہو آپ”
آبرو پریشانی سے پوچھنے لگی جس پر اس نے چودہ سالہ آبرو کی انگلی پکڑے دروازہ بند کرتا اندر جانے لگا
“میں تمہارا انکل ہوں”
وہ آبرو کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگا آبرو نے اسکا ہاتھ پیچھے ہٹایا
کچھ دیر بعد جب آبراش گھر میں داخل ہوا اور اندر کی طرف بڑھا آبرو رو رہی تھی
“آبرو”
وہ اسے دیکھ کر پریشانی سے کہنے لگا جس پر آبراش اسکے قریب ہوا
“برے ہیں آپ دور رہیں مجھ سے”
وہ چیختے ہوئے بولی آبراش اسے دیکھ رہا تھا تبھی ہاجرہ ان دونوں کی والدہ آئی
“ہائے آبرو میری بچی کیا ہوا تمہیں آبراش کیا ہوا ہے اسے “
وہ اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے ان کے پاس آتے ہوئے پوچھنے لگی اور آبراش سے پوچھنے لگی
“امییییی”
وہ اسکا بکھرا حلیہ دیکھ کر بہت پریشان ہوئی آبرو روتے ہوئے انکے سینے سے لگی
“مجھے نہیں پتہ میں تو ڈائس لینے گیا تھا لڈو کھیلنے کے لیے جب آیا تو یہ سب “
وہ بتانے لگا جس پر ہاجرہ بیگم غصےسے کہنے لگی
“تمہیں حفاظت کرنے کیلیے چھوڑا تھا اسکی یہ حالت جیسے اسکے قصور وار تم ہو یا خدا یہ سب کیا ہوگیا”
ہاجرہ بیگم روتی چلی گئی اور آبراش حیرت سے کھڑا تھا اور آبرو بھی بہت رو رہی تھی
“انہیں نیری نظروں سے دور کردیں امی”
وہ غصےسے کہنے لگی جس پر آبراش جو جھٹکا لگا
“امی میرا کوئی قصور نہیں ہے سمجھیں”
وہ انہیں روتے ہوئے کہنے لفا اور اس دن ایک ہنستا بستا گھر تباہی ہوگیا اور این بےقصور کو اسکی ماں نے گھر سے نکال دیا
وہ حال میں واپس لوٹا آنکھیں اس وقت سرخ تھی اور اس میں سے آنسو نکل رہے تھے جو اسکی آنکھوں کو مزید سرخ بنارہے تھے مہمل خود یہ سب سن کر بہت رو رہی تھی
“تو اس وجہ سے آپ ایسے ہیں اب وہ کہاں ہے”
مہمل اسے دیکھنے ہوئے پوچھنے لگی جس پر آبراش نے اسے دیکھا
“یہ سب جاننا ضروری نہیں یے تمہارے لیے “
آبراش اسے کہتے ساتھ اس سے الگ ہوکر آٹھ کر چل دیا مہمل اسے جاتا دیکھنے لگی
تقریباً گھنٹے بعد وہ واپس کمرے میں آیا مہمل خود پر بلینکٹ ڈالے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے سورہی تھی وہ اسکے پاس آیا اسکے ماتھے پر لب رکھے اور اسے ٹھیک سے لٹایا
“تم میرے لیے خاص سے بھی خاص ہوتی جارہی ہوں اینجل”
وہ اس کے چہرے پر گہری نظریں ڈالے گھمبیر آواز میں بول کر اسے اپنے ساتھ لگا کر آنکھیں بند کر گیا
جاری ہے
