Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Episode 27 & 28
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Episode 27 & 28
آبراش کی صبح آنکھ کھلی اپنے ساتھ سوتے اس معصوم چہرے پر نظر گئی وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا اور اسکی ناک کو لبوں سے چھوا مہمل نیند تھوڑا سا کسمسائی آبراش اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر مسکرایا۔
“گڈ مارننگ اینجل”
وہ اسکے کان کے قریب ہوئے اسے بولا جس پر مہمل نے آنکھ کھول کر اسے دیکھا۔۔
“مارننگ لیکن مجھے ابھی نیند آرہی ہے اور جب تک میری نیند پوری نہیں ہوگی آپ میرے ساتھ رہیں گے”
وہ اسے بولتے ساتھ آنکھیں بند کرکے اپنا سر اسکے سینے سے ٹکا گیا اور آبراش بس مسکرا سکا اور اسے حصار میں قید کرلیا مہمل کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آئی۔
“تیری باہوں میں مجھے بے حد سکون ملتا ہے”💫♥️
“کیا کروں تمہارے ساتھ لیٹ کر”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پیار سے پوچھنے لگا
“مجھے دیکھتے رہیں”
وہ مسکراتے ہوئے کہتے ساتھ آنکھیں بند کر گئی۔
“گڈ مارننگ ایوری ون”
وہ سب لوگ ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے جب مسکراتے ہوئے عثمان وہاں داخل ہوا اسے دیکھ کر ان مسکرائے۔
“گڈ مارننگ”
وہاں موجود سب لوگوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیے اور وہ کرسی کھسکا کر بیٹھا نظر آبرو پر گئی جو ناشتہ کرنے میں مصروف تھی۔
“رات میں ٹھیک سے تو نیند آئی یا بیٹا”
فریحہ بیگم اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر عثمان نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
“ارے بھابی کے ہاتھ کا بریک فاسٹ ہے دیکھنے میں تو بہت مزے کا لگ رہاہے”
وہ مسکراتے ہوئے ٹیبل پر لگے ناشتے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر رومیسہ مسکرائی اور سب لوگ ناشتہ کرنے لگے۔
مہمل کمرے میں آئی کمرا تاریکی میں ڈوبا ہوا ہوا تھا اس نے بٹن دبا کر کمرے کو تاریکی سے اجالے میں کیا ٹیبل پر ایک چٹ پڑی تھی مہمل نے اٹھائی
“ایک آخری سچ جو تمہیں جاننا بہت ضروری ہے”
وہ چپ پر لکھا پڑھنے لگی کہ تبھی سکرین آن ہو گئی اور مہمل حیرانگی سے اس طرف نظریں کر گئی۔
“ہاں اسے کیڈنیپ کرنا ہے لیکن اسے چھونا نہیں یہ کام تم نے بغیر چھوئے کرنا ہے سمجھیں ہلکی سی بھی انگلی اسکے جسم سے نہ چھوئے یاد رکھنا انجام کے ذمہدار تم خود ہو گے میری بات یاد رکھنا اسے چھونے سے تمہاری جان خطرے میں پڑ سکتی ڈونٹ ٹچ ہر “
وہ سرخ آنکھوں کیساتھ غصے سے چلاتے ہوئے شدت سے بولا۔
سکرین پر اس وقت آبراش موجود تھا اور وہ ایک گارڈ سے یہ سب کچھ بہت سرد لہجے میں بول رہا تھا مہمل آنکھوں میں حیرت لیے اسے دیکھ رہی تھی اسکے بعد سکرین پر اب کراچی کا وہ ریسٹورنٹ جس میں مہمل اپنی دوستوں کیساتھ موجود تھی اور آبراش اسکے سائیڈ پر چہرہ ڈھکے اسی پر نظریں مرکوز کیے بیٹھا تھا مہمل کال سننے کیلئے باہر گئی تبھی آبراش نے گارڈ کو اشارہ کیا اور گارڈ نے فوراً مہمل کے منہ پر رومال رکھ کر اسے بےہوش کردیا اس سے پہلے کہ وہ گرتی آبراش نے اسے اپنے بازوؤں میں تھام کر بچا لیا۔ اور اسے گاڑی میں ڈال کر چل دیے یہ سب دیکھ مہمل کو پیروں میں کھڑا ہونا محال لگا وہ اس سب سے واقع انجان تھی وہ واقع لوگوں کو پہچاننے کی غلطی کردیتی تھی وہ مڑی تو آبراش بلکل پیچھے موجود تھا۔
“ی۔۔یہ سب آپ نے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بامشکل سے اور بےیقینی سے بولی جس پر آبراش قریب ہوا
“اب سمجھ آیا لوگ مجھے کوبرہ کیوں کہتے ہیں”
وہ اسکے چہرے پر نظریں جمائے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا مہمل بس بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی وہ شخصمہمل کو اس وقت واقع میں ایک حیوان لگ رہا تھا
“آپ کو پتہ ہے آپ کے یہ سب کرنے سے کیا ہوا ہے میں اپنے نام ڈیڈ سے دور ہو گئی اور میری مام اس دنیا سے چلی گئی اور یہ پتہ ہے کس کی وجہ سے صرف اور صرف آپ کی وجہ سے آبراش شاہ آپ نے یہ سب مجھے بتا کر اپنی نظروں میں اپنا مقام گرا دیا”
وہ غصےسے سے کہتے ساتھ آنکھوں میں نمی لیے جانے لگی
“مہمل”
وہ اسکا بازو سختی سے پکڑ کر اپنی جانب رخ کرکے اسے پکارنے لگا مہمل غصے سے اسے دیکھتے ہوئے اپنا بازور اسکے ہاتھ سے نکلنے کی ناکام کوشش کرنے لگی
“تم ایسے نہیں کرسکتی”
وہ اسے دیوار سے لگائے اسے کے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں تھامے اپنی سرخ گولڈن بلیش آنکھیں اس پر جمائے شدت سے کہنے لگا
“اور آپ نے جو میرے ساتھ کیا”
وہ آج اس وحشی خطرناک شخص کے سامنے یا ڈرنے والی نہیں تھی وہ کچھ بھی کرلیتا اسکے ساتھ اور وہ معصوم خاموشی سے چپ چاپ سہتی رہتی۔
“میں نے کچھ نہیں کیا غلط تم کررہی ہوں تم مجھے اپنی عادت ڈال کر چھوڑ نہیں سکتی ہو”
وہ شدت سے اسکے قریب ہوکر اسکے چہرے پر جھکتے ہوئے جنونی انداز میں کہنے لگا مہمل گھبرا کر رہ گئی
“آپ چھوڑیں مجھے”
وہ گھبراتے ہوئے اس سے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی
“You know that I am bloody psysho for you ,I am bloody lover, I am Damned don’t you know me how could you that “
سامنے کھڑا وہ بےحس سفاک وحشی انسان اسے دیکھتے ہوئے طیش سے بولا وہ کسی کیلیے اس قدر بھی دیوانہ پاگل ہوسکتا اس نے کبھی سوچا نہیں تھا آج وہ اس لڑکی کو کھونے سے ڈر رہا تھا وہ لڑکی بن بھی تو اسکا پاگل پن گئی تھی وہ اسے زور سے خود سے لگا گیا مہمل سہم کر رہ گئی۔
“مت چھوئے مجھے”
وہ غصے سے اسے دھکا دیتے ہوئے پیچھے کرتے ہوئے بولی آبراش اسے زبردستی خود سے لگائے رکھا۔
کچھ دیر بعد آبراش نے خود ہی اسے خود سے الگ کیا مہمل اسٹل کھڑی تھی۔
“مجھے جانا ہے مجھے نہیں رہنا ساتھ”
اسکے دور ہوتے ہی مہمل چیختے ہوئے بولی آبراش اسکے قریب ہوا اور اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھی اور سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا۔
“اب دور جانے کی بات نہیں”
وہ اسکے چہرے نظریں جمائے سرد لہجے سے اسے کہنے لگا مہمل اسے غصےس سے گھور رہی تھی
“میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں تم مجھ سے دور نہیں ہو سکتیوہ اسے دیکھتے ہوئے محبت سے کہنے لگا مہمل کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“پیار مسٹر آبراش شاہ جن سے پیار کیا جاتا ہے ان سے جھوٹ نہیں بولا جاتا ہے مجھے یہاں ایک منٹ نہیں رکنا میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں”
اسے طنزیہ لہجے میں کہتے ساتھ مہمل وہاں سے جانے لگی آبراش نے اسے اپنی جانب کھینچا۔
“تم یہاں سے کہیں نہیں جاؤ گی اینجل ابھی تک صرف تم نے آبراش کا پیار دیکھا ہے اب تم کوبرہ کا جنون دیکھو گی “
وہ اسکے بازوؤں میں سخت گرفت ڈالے اسے سرد لہجے میں بولا
“کیا کریں گے آپ زبردستی کریں گے میرے ساتھ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بغیر ڈرے پوچھنے لگی
“اگر تم ضد کرو گی تو زبردستی بھی کرسکتا ہوں اور قید بھی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر مہمل حیرت سے اسے دیکھنے لگی
“مجھے نہیں رہنا آپ کیساتھ سمجھ نہیں آرہی آپ کو اتنی گٹھیا حرکت کرنے کے بعد بھی میں رہوں گی آپ کیساتھ کیا آپ کو لگتا ہے ایسا”
وہ چیختے ہوئے اسے دیکھ کر سوال کرنے لگی۔
“تم رہو گی تمہیں رہنا ہوگا اور اب تم یہاں سے کہیں نہیں جاؤ گی”
کہتے ساتھ وہ کمرے سے باہر گیا اور دروازے کو لاک کردیا مہمل اسے جاتا دیکھنے لگی
“کھولیں دروازہ یہ کیا حرکت ہے آبراش اوپن دا ڈور”
وہ دروازے کو پیٹتے ہوئے چلا کر اسے پکارنے لگی مگر وہ شخص اسے کسی بھی حال میں خود سے دور کرنے کا نہیں سوچ سکتا تھا اسے اسکے لیے کچھ بھی کرنا پڑے وہ کرلے گا۔
“واقع مہمل تمہیں لوگوں کی پہچان نہیں ہے جس پر اندھا یقین کیا اسے نہ تمہارا یقین توڑ دیا”
وہ آنکھوں میں نمی لیے روتے ہوئے بولی اورکمرے میں نظریں گھمانے لگی اسے کوئی بھی جگہ نہیں دیکھی کہ وہ یہاں سے نکل جائے۔وہ غصےسے بیڈ پر بیٹھ گئی۔
قسط_نمبر_28
“اینجل تم نے کھانا نہیں کھایا اٹھو میں تمہارے لیے کھانا لایا ہوں”
آبراش کمرے میں آتے ہوئے مسکراتے ہوئے اسے کہنے لگا مہمل غصے سے اسے دیکھنے لگی۔
“مجھے جہاں سے جانا ہے”
وہ سرد لہجے میں نظریں اسی پر جمائے بولی جس پر آبراش نے بھی اسکی طرف دیکھا۔
“اوہ تو تم اس بات پر اٹکی ہوئی ہو خیر تمہیں بھوک لگی ہوگی تم کچھ کھا لو طبیعت خراب ہوسکتی ہے”
وہ اسکی بات نظر انداز کرتے ہوئے نرمی سے کہنے لگا
“مجھے نہیں کھانا کچھ بھی نہیں لگی بھوک مجھے بس یہاں سے جانا ہے آپ سے دور مجھے آپ کے اس پاس نہیں رہنا”
وہ ہر لفظ چباتے ہوئے نفرت بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے غصے سے بولی آبراش اسے دیکھنے لگا ۔
“شششش”
وہ اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھے اسے سرد و سرخ نگاہوں سے دیکھنے لگا مہمل اسکے اس طرح دیکھنے پر تھوڑا گھبرائی مگر اپنی نظریں نہیں جھکائی۔
“آخری دفعہ کہ رہا ہوں باتیں دہرانے کا عادی نہیں میں دور جانے کی بات اب نہیں ہونی چاہیے اس چھوٹے سے دماغ میں بٹھا لو”
وہ گولڈن بلیش سرد نگاہیں اس پر گاڑھے انتہائی سرد لہجہ اختیار کیے بولا مہمل خاموش رہی ۔
“کھاؤ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے چمچ اسکی طرف بڑھائے اسے کھلانے لگا مہمل کو مجبوراً کھانا پڑا ۔
“گڈ گرل”
وہ پیار سے اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگا اور مہمل اسے بس دیکھ کر رہ گئی اسے اس وجود سے نفرت سی ہورہی تھی۔
“شکر ہے کچھ اکیلا وقت ملا”
وہ کچن میں آتے ہوئے اسے پیچھے سے حصار میں لیے پیار سے بولا۔
“عریش”
رومیسہ نے اسے پکارا عریش اسکی گردن پر جھکا رومیسہ نے گرم گرم اوئل اسکے ہاتھ پر تھوڑا سا ڈالا۔
“آہہہہہہ”
عریش کی چیخ نکلی اور وہ رومیسہ سے الگ ہوا رومیسہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگی
“کیسی بیوی ہو شوہر کو قریب نہیں آنے دیتی جب سے شادی ہوئی ٹھیک سے رومینس کیا کس بھی نہیں کرنے دی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ اسکی گال پر جھکنے لگا جب رومیسہ نے پیچھے دھکیلا۔
“ہم روم میں نہیں ہے”
وہ اسے یاد دلانے لگی عریش اسے دیکھنے لگا
“تم روم کچن سب جگہ ایک جیسی کو لیکن آج رات جو میں نہیں چھوڑنے والا “
وہ اسے کہتے ساتھ چلا گیا اور رومیسہ کا قہقہہ چھوٹا۔
“ہائے معصوم شوہر”
وہ ہنستے ہوئے کہنے لگی اور کھانے میں چمچ ہلانے لگی۔
“سر آپ نے بہت پی لی ہے گھر چلنا چاہیے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر اختر صاحب اسے دیکھنے لگا
“نہیں اصل زندگی تو اب ملی کے دفعہ ہوجاؤ میں تھوڑی اور پی کر اور انجوائے کرکے خود ہی آجاؤں گا بےفکر رہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے غصے سے کہنے لگے جس پر ڈرائیور خاموشی سے چلا گیا۔
“مجھے چین نہیں کرنے دیتے ہیں سارے اپنا حکم چلاتے لیکن میں اب سے اپنی چلاؤ گا ٹھیک ہے نا”
وہ ڈرنک والے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گیا۔
وال کلاک اس وقت ایک بجارہی تھی اور وہ بیڈ پر آنکھیں چھت کی جانب کیے ہاتھوں کی انگلیاں دوسرے ہاتھ سے تھامے خاموشی سے تک رہی تھی تبھی آبراش آیا جس طرف مہمل کا چہرہ تھا اسی طرف رخ کیے وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا
“نیند نہیں آرہی”
وہ اسکو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا مہمل نے اسکی طرف دیکھا۔
“آپ کاؤچ پر سو گے یا میں”
وہ اسکی بات نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بات کرنے لگی
“نہ تم نہ میں”
وہ اسے پرسکون سا جواب دیتے ساتھ دیکھنے میں مصروف ہوگیا
“نیند نہیں آرہی”
آبراش نے اسے پھر سے مخاطب کرکے پوچھنا چاہا
“نہیں”
مہمل نے مختصر سا جواب دے کر کروٹ بدلنا چاہیے مگر آبراش نے اسے روک دیا
“تم ویسے نہیں سو سکتی ہو”
آبراش اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر مہمل بس اسے دیکھتی رہ گئی
“ٹھیک ہے مجھے سب بتا دینا میں ویسا کرلوں گی کیونکہ آپ جو تو لگتا ہے میں کوئی چیز جسے جس طرح مرضی استعمال کرو”۔
وہ طنزیہ انداز میں اسے گھورتے ہوئے بولی اسکے اس طرح گھورنے پر آبراش کو وہ بےحد پیاری لگی۔
“تمہیں استعمال کرنے کا کبھی سوچ نہیں سکتا میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا کچھ بھی صرف تمہیں اپنا بنانے کا جو راستہ ملا وہ کیا”
وہ کہتے ساتھ اپنا ہاتھ اسکے دائے ہاتھ کی طرف بڑھاتے ہوئے نرمی سے بتایا مہمل نے اپنا ہاتھ فوراً پیچھے کیا
“مت چھوئے اور مجھے جو جاننا تھا جان لیا”
وہ سپاٹ انداز میں کہتے ساتھ آنکھیں بند کر گئی
“ڈرتی ہو نا زیادہ دیر مجھے دیکھا تو مجھ سے دور نہیں رہ سکو گی “
وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے محظوظ مسکراہٹ سجائے بولا مہمل نے آنکھیں کھولی۔
“خوش فہمی ہے آپ کی یہ”
مہمل آنکھیں کھولے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی آبراش اسکے تھوڑا قریب ہوا مہمل کی بیٹ مس ہوئی۔
“خوش فہمی کبھی نہیں پالتا اینجل تم میری کو میری تھی میری رہو گی”۔
آبراش اسکے بالوں میں اپنی انگلیاں گھسائی چہرے کے قریب ہوکر اپنی گرم گرم سانسوں کی تپش اس پر ڈالے گھمبیر لہجے میں کہنے لگا مہمل کی بہت سی بیٹس مس ہوئی وہ آنکھیں بند کر گئی۔
“مجھے تمہارے ساتھ یوں سونے میں سکون ملتا ہے “
وہ اسکے کان کے قریب ہوتے ہوئے بولا اور اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگا مہمل کنفیوز سی ہو گئی گھبراتے ہوئے مہمل رخ دوسری طرف کر گئی اور پیٹ آبراش جی طرف آبراش نے اسے پیچھے سے حصار میں قید کرلیا اور اسکے اس طرح کرنے پر مہمل نے فوراً آنکھیں بند کرلی۔
“تمہاری ہارٹ بیٹ میں محسوس کررہا ہوں بہت تیزی سے چل رہی۔ کے”
وہ اس میں کھوئے ہوئے انداز میں بولا مہمل کو لگا اسکی جان ابھی باہر آجائیے گی وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور بیڈ سے اٹھںے لگی جب آبراش نے اسے اپنی طرف زور سے کھینچ کر اپنے ساتھ لگایا
۔”مجھ سے دور نہیں جاسکتی “
وہ شدت سے کہتے ساتھ اسکے لبوں پر اپنے لب رکھ گیا اور مہمل کچھ کرنی کی حالت میں نہیں رہی تھی۔
“اک ہی شخص میں بسی کے میری دنیا
یعنی ایک شخص مجھے ارض و سما جیسا ہے”♥️🔥
“بتاؤ تو سہی مزا آتا ہے مجھے تنگ کرنے میں”
عریش اسے حصار میں لیے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
“نہیں بس ویسے ہی تھوڑا ڈرتی ہوں”
وہ نظریں جھکائے گھبراتے ہیں بتانے لگی
“تو آپ جیسی شیرنی لڑکی بھی ڈرتی ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا رومیسہ نے اسے گھورا۔
“تو میں لڑکی ہی ہوں”
وہ تپ کر غصے سے کہنے لگی جس پر عریش مسکرایا۔
“لیکن مجھے نہیں آتی “
وہ کہتے ساتھ اسکی گال پر لب رکھتے ہوئے بےشرمی سے بولا
“تم شروع سے بےشرم ہو”
وہ منہ بنائے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر عریش نے اسے ایک نظر دیکھا اور اس پر جھکا وہ نظریں جھکا گئی۔
“تم روز یہاں رات کو آتی ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا آبرو نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“آپ”
وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگی عثمان نے اسے دیکھا۔
“ہاں میں نیند نہیں آرہی تھی اس لیے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا آبرو سر کو خم دے گئی۔
“میں تو روز آتی ہوں مجھے بھی نیند نہیں آتی ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی جس پر عثمان مسکرایا۔
“تم بہت چینج ہو گئی چپ چپ تم بچپن میں ایسی نہیں تھی”
وہ اسکے ساتھ چلتے ہوئے کہنے لگا جس پر آبرو نے اسکی طرف دیکھا۔
“وقت کیساتھ کیساتھ سب بدل جاتا وقت بہت کچھ دیکھا دیتا ہے سیکھا دیتا ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے جواب دیتے ساتھ اندر کی طرف بڑھ گئی اور عثمان اسے جاتا دیکھنےلگ گیا۔
جاری ہے
