Shiddat Junon By Mahnoor Shehzad Readelle50297 (Shiddat Junon) Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
(Shiddat Junon) Episode 17
مہمل کمرے میں آئی وارڈروب کھولی چہرے پر خوشی صاف واضح تھی وہ ایک خوبصورت سا باربی فراک پنک کلر کا لیتی باتھروم کی طرف بڑھ گئی کچھ دیر میں وہ اس ڈریس میں ملبوس باہر آئی اور ڈریسنگ کے سامنے گئی ایک نظر اپنے سراپے پر ڈالی وہ اس فراک میں بےحد پیاری لگ رہی تھی بالوں کو کھول کر لائٹ سے میک ایپ کرنے لگی کانوں میں ٹوپس پہنے وہ اس وقت کسی حور سے کم نہیں لگ رہی تھی اس نے سینڈیلز نکالی مگر صرف نکال کر رکھ دی اور فون اٹھا کر آبراش کو کیا۔
“آجائیں آپ”
مہمل مسکراتے ہوئے چہرے پر معصومیت لیے کہتے ساتھ فون رکھ گئی۔ تبھی کمرے میں کا دروازہ کھلا اور وہ داخل ہوا مہمل مڑی اور مسکرا کر اسے دیکھا آبراش نے اسے سر تا پیر دیکھا اور نظریں اسی پر جیسے جم گئی۔
“Angel you look like princess”
وہ اسکے حسین سراپے کو دیکھتے ہوئے ہوش میں آتے ہوئے بولا اسکی تعریف پر وہ مسکرائی آبراش اسکی طرف بڑھا۔
“سینڈیلز”
وہ اسکے قریب آتے ہوئے سوالیہ نظروں سے پوچھنے لگا جس پر مہمل نے معصومیت سے سینڈیلز کی طرف اشارہ کیا
“کیوں نہیں پہنی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے نرمی سے پوچھنے لگا
“آپ پہنائے”
مہمل ایک نئی فرمائش کا اظہار بڑی معصومیت سے اسکے سامنے کرنے لگی جس پر آبراش کو اسکی بات فوراً ماننی پڑی مہمل بیڈ پر بیٹھ گئی آبراش نے اسکے پیروں پر سینڈیلز پہنائی۔
“سخت مزاج تو وہ دنیا کیلیے ہے
میرے ساتھ تو بچوں جیسے لاڈ کرتا ہے”💕😌
“تھینکیو”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی اور اسکی مسکراہٹ دیکھتے ہوئے سامنے بیٹھے شخص کو خود میں سکون اترتا محسوس ہورہا تھا اسکے آنے سے اسکی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں ہوئی تھی سوتے وقت میڈیسن کے کر نہیں سوتا تگثاسے ساتھ پاکر وہ سکون کی نیند سو جایا کرتا تھا۔
“اب باتیں کریں”
وہ اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے اسکی جانب دیکھ کر پوچھنے لگی جس پر آبراش نے اثبات میں سر ہلایا۔
“پہلے میری شرطیں سن لے اور ماننی لازمی اتنا تو حق رکھتی ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی جس پر آبراش اسے اپنے قریب کرتے ہوئے اپنے ہونٹ اسکے کان کے قریب کرگیا۔
“تمہارا مجھ پر سارا حق ہے”
وہ گھمبیر آواز میں اسکی ہارٹ بیٹ مس کروا گیا مہمل نظریں جھکا گئی۔
“تو پھر میری ماننی بھی ہے”
وہ دو وقدم پیچھے ہوتے ہوئے نظریں جھکائے پیار سے کہنے لگی جس پر آبرو نے اسے دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔
“مجھ پر بلاوجہ غصہ نہیں ہوں گے میری ہر بات مانے گے ہر وقت اور ہمیشہ پیار سے رہیں گے بلکل اسی طرح بتائں منظور ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر آبراش نے اسکی طرف دیکھا۔
“بس اتنی سی شرطیں”
وہ اسکی جانب قدم بڑھاتے ہوئے اس پر اپنی گہری نظریں ڈالتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر مہمل نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“بولیں منظور ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر آبراش نے اثبات میں سر ہلا کر اسکی کمر میں اپنا بازو ڈال کر قریب کیا۔
“مجھے نہیں پتہ آپ بھی بےشرم ہیں”
وہ منہ بنائے نظریں جھکائے ہوئے بولی اسکے انداز پر آبراش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
“تمہیں پتہ ہے تمہارے آنے سے مجھ میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں مسکرانے لگا ہوں میں بغیر کسی ٹیبلیٹ کی سونے لگا ہوں میری بس ایک ہی شرط ہے مجھ سے دور کبھی نہیں کونا”
وہ اسکے قریب ہوتے ہوئے اسکے بالوں کو کان کے پیچھے کیے شدت سے کہنے لگا جس پر مہمل نظریں جھکا گئی اور اثبات میں سر ہلا دیا۔
آبراش نے اسے خود میں بھیجا اور اپنے اندر سکون محسوس کیا۔
وہ دونوں رات کے وقت بیٹھے مووی دیکھ رہے تھے رومیسہ کی نظریں سکرین پر تھی۔فائز کی نظریں رومیسہ پر تھی تبھی عریش آیا اسکی آنکھوں سے یہ منظر بچ نہ سکا وہ اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے دوسرے صوفے پر بیٹھ گیا رومیسہ تو مووی میں مگن تھی لیکن فائز کو اسکی موجودگی کا معلوم ہوچکا تھا وہ اسکے ہوتے ہوئے جان کر رومیسہ کے بالوں کو چہرے سے پیچھے کرنے لگا جس پر رومیسہ نے بھی اسے دیکھا اور پھر نظر عریش پر گئی تو فائز کو دیکھ کر مسکرائی اور دوبارہ نظریں سکرین پر کر گئی اور وہ سرخ آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔
مووی ختم ہو گئی تی فائز اٹھ کر چلا گیا اور رومیسہ عریش سے کوئی بات کیے بغیر کچن میں چلی گئی۔
وہ کچن میں موجود تھی تبھی عریش کچن میں آیا اور اسکے بازو کو اپنی گرفت میں لے کر پوری قوت سے اپنی طرف کھینچ کر دیوار سے لگایا رومیسہ شاک کی سی کیفیت میں تھی وہ اپنی سرخ آنکھیں اسکے چہرے پر ڈالے کھڑا تھا
“دور رہو اس سے”
وہ سرخ آنکھوں کیساتھ لہجے میں سر پن لیے غصے سے کہنے لگا جس پر رومیسہ نے اسکی طرف دیکھا وہ اسکی سرخ آنکھوں سے ڈر رہی تھی مگر وہ خاموش نہیں رہنا چاہتی تھی
“کیوں وجہ تمہیں کیا تمہیں فڑق پڑتا ہے کیا”
وہ اسکی آنکھوں سے میں ہمت سے دیکھتے ہوئے اونچی آواز میں پوچھنے لگی
“پڑتا ہے فڑق تم صرف میری بنو گی صرف میری شروعات تم نے کی اس محبت کی اختتام میں کروں گا یاد رکھنا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے چلاتے ہوئے کہتے ساتھ اپنی گرفت ڈھیلی کرتا اسے چھوڑ کر چلا گیا اور رومیسہ اسے جاتا دیکھنے لگی۔
وہ دونوں یوں ہی باتیں کرتے کرتے رات گزار گئے اس وقت مہمل آبراش جے سینے پر سوئی ہوئی تھی بلکل بچی لگ رہی تھی آبراش کی نظر اس پر گئی چہرے پر دلفریب مسکراہٹ آئی۔
“ویک ایپ اینجل”
وہ اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے کہنے لگا مہمل نیند میں چہرہ اٹھا کر آبراش پر ایک خفگی بھری نگاہ ڈالتی دوبارہ اسکے سینے پر سر رکھ گئی۔
“مجھے نیند آرہی ہے ابھی ھب تک میں نہیں اٹھو گی آپ بھی یوں ہی رہیں گے”
وہ اسے کہتے ساتھ آنکھیں موند گئی اور آبراش خاموش اسکے بالوں انگلیاں پھیرتا رہا۔
“مجھے کام ہے جانا ہے”
وہ اسے کچھ دیر بعد پھر سے اٹھانے کی کوشش کرنے لگا جس پر وہ منہ بسورے اٹھ کر بیڈ پر جانے لگی جب آبراش نے اسے کھینچ کر اپنے ساتھ گیا۔
“اگر کام نہ ہوتا آئی پرامس کبھی نہیں جاتا”
وہ اسے اپنے ساتھ لگائے محبت سے کہنے لگا مہمل منہ بسور کر اسے دیکھنے لگی۔
“اچھا اگر اس طرح ناراض رہو گی تو میں کوئی کام نہیں کرسکوں گا۔”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر مہمل منہ دوسری طرف پھیر گئی
“آپ کو فڑق پڑتا ہے”
وہ منہ دوسری سمت کیے ناراضگی کا اظہار کرنے لگی جس پر آبراش نے اسے دیکھا۔
“بہت پڑتا ہے سب برداشت ہے مجھے تمہاری ناراضگی یاد رکھنا”
وہ اسکا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے اسکے چہرے کے قریب چہرہ کرتے ہوئے کہتے ساتھ اپنے لب اسکے ماتھے سے مس کر گیا اور مہمل کو وہاں ایک پل کا سکون سا ملا۔
“اسمائل”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پیار سے کہنے لگا اسکی بات پر وہ ہلکا سا مسکرائی اسکی مسکراہٹ دیکھ کر آبراش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
“دھیان سے جانا ہے وہ کہیں باہر ہی نہ موجود ہو”
وہ عورت اپنی بیٹی کو دیکھتے ہوئے کہنے لفی جس پر وہ لڑکی اثبات میں سر ہلا کر اپنی جیکٹ ٹھیک کرتی باہر آئی نظریں سامنے کھڑے شخص پر گئی اس لڑکی کا دماغ گھوما۔
“مسئلہ کیا ہے آپ کا کیوں روز آجاتے ہیں ادھر کتنی دفعہ کہوں اپنی شکل مت دیکھایا کریں نفرت ہے مجھے اس شکل سے”
وہ اسکے قریب ہستے ہوئے زہرخند لہجے میں کہنے لگی جس پر سامنے کھڑے شخص نے اسے دیکھا۔
“فکر ہے تمہاری”
وہ جیب میں ہاتھ ڈال کر نظر سعٹک پر ڈالے سنجیدگی سے کہنے لگا۔
“نہ کیا کریں آپ میری فکر چلے جائیں میں اپنی حفاظت خود کرسکتی ہو مجھے ضرورت نہیں آپ کی”
وہ غصےسے کہتے ساتھ وہاں سے چلی اور اس شخص نے اسے جاتے ہوئے اسکی گولڈن بلوئش آنکھوں میں ہلکی سی نمی آئی جو وہ اگلے ہی لمحے صاف کرتے ہوئے وہاں سے چلا گیا اور گھر کے اندر کھڑی وہ عورت یہ سارا منظر دیکھ چکی تھی۔
مہمل آبراش کو دیکھنے کیلیے نیچے آرہی تھی وہ جیسے ہی ٹی وی لاؤنچ میں پہنچی تبھی دو شخص جن کے ہاتھوں میں گنز تھی اور ایک کے ہاتھ میں چاقو بھی تھا مہمل کو عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے مہمل کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
“کون ہو تم لوگ”
مہمل ہمت کرتے ہوئے سخت لہجہ اپنائے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔
“بتادیتے ہیں اتنی جلدی بھی کیا ہے”
ایک شخص انتہائی گھٹیا لہجے میں کہنے لگا جس پر مہمل کو حد سے زیادہ غصہ آیا اس نے جلدی سے فون پر آبراش کا نمبر ڈائل کیا جو دوسری ہی بیل پر اٹھا لیا گیا۔
“میرا شوہر تمہیں چھوڑے گا نہیں جان لے لے گا”
وہ اونچی آواز میں ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی فون سے آتی آواز سے آبراش حد سے زیادہ پریشان ہوا اور گاڑی کا رخ فوراً گھر کی طرف کیا۔
“میرے قریب آنے کی کوشش بھی مت کرنا”
وہ ان میں سے ایک کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھتے ہوئے گھبرا کر کہنے لگی اس سے پہلے وہ مہمل کے بلکل قریب جاتا تبھی اس شخص کی کمر پر گولی لگی وہ کراہ کر رہ گیا اور دوسری لڑکے کو بھی لگی دونوں زمین پر گر گئے
مہمل کی نظر آبراش پر گئی وہ بھاگ کر اسکے سینے سے سے لگی۔
“تم ٹھیک ہو”
وہ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے اسے سر تا پیر دیکھتے ہوئے فکرمندی سے کہنے لگا جس پر مہمل نے اثبات میں سر ہلایا۔
“روم میں جاؤ”
وہ زمین پر گرے ان دونوں کو سرخ انگارہ برستی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے مہمل سے کہنے لگا مہمل اسے دیکھ رہی تھی۔
“مہمل روم میں”
وہ اب کی بار تھوڑا سرد لہجے میں کہنے لگا جس پر مہمل کمرے کی طرف بڑھ فئی اور آبراش ان دونوں کی طرف بڑھا۔
آبراش نے چاقو نکالا اور ایک کے بازو پر بہت سے کٹ لگائے انتہائی جنونی لگ رہا تھا وہ کٹ لگاتے ہوئے
“کیوں آئے تھے یہاں “
وہ اس پر اپنی سرد نگاہیں گاڑھے پوچھنے لگا جس پر وہ شخص اسے دیکھنے لگا
“ہ۔۔ہمیں نوریز صاحب کے کچھ بن”
وہ ابھی بول رہا تھا جب آبراش نے اپنی پوری جان سے وہ چاقو اس شخص کے بیٹ میں ڈال دیا اس شخص کو لگا اسکی جان نکل گئی آبراش نے اگلے ہی لمحے چاقو نکالا وہ شخص ہھر درد سے چیخ اٹھا یہی عمل آبراش دوسرے شخص کیساتھ بھی دہرایا۔
“اگر اتنی سی بھی خروش آتی نہ میری اینجل کو تو تم دونوں یہاں سے زندہ نہیں بچتے”
وہ اپنی سرخ سرد نگاہیں ان دونوں کے وجود پر ڈالے انتہائی سرد لہجہ اپناتے ہوئے کہتے ساتھ چاقو صاف کرنے لگا اور وہ دونوں بامشکل اٹھ کر جانے لگے جب آبراش نے ایک ایک مکہ ان دونوں کے منہ پر جھڑ دیا جو تھوڑی بہت ہمت ان دونوں میں تھی وہ بھی ختم ہو گئی تھی آبراش بھاری بھاری قدم اٹھائے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
“ایک دفعہ اسے میرے سامنے لے آؤ میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں”
مہ جبین بیگم کھانستے ہوئے اداسی لہجے میں لیے اختر صاحب سے التجائی انداز میں کہنے لگی۔
“اسے تمہاری پرواہ نہیں ہے وہ خوش ہے اپنی زندگی میں تم بھول کیوں نہیں جاتی اسے”
وہ سرد لہجے میں کہنے لگے جس پر مہ جبین بیگم کی آنکھوں میں آنسوں آ گئے۔
“ماں ہوں کیسے بھول اسے”
وہ روتے ہوئے افسردہ سی کہنے لگی جس پر اختر صاحب بس اسے دیکھتے رہ گئے۔
“میں کوشش کرتا ہوں ڈھونڈنے کی”
وہ کہتے ساتھ آگے کمرے سے چلے گئے مہ جبین بیگم مہمل کو یاد کرتے ہوئے رونے لگی۔
“تم ٹھیک ہو اینجل”
وہ کمرے میں آتے ہوئے فکرمندی سے پوچھنے لگا جس پر مہمل اسکے پاس آئی اور اثبات میں سر ہلا دیا۔
“آپ ٹھیک ہے انہوں نے آپ کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ٹھیک تو ہے نا”
وہ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھے فکرمندی سے پوچھنے لگی جس پر آبراش نے اسکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اپنے ہاتھوں میں لیا۔
“میں بلکل ٹھیک ہوںوہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا مہمل کو تسلی ہوئی لیکن اچانک اسکی آنکھوں میں نمی آ گئی
“کیا ہوا اینجل “
آبراش اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھنے لگا جس پر مہمل نے اسکی طرف دیکھا
“مجھے نہ مام ڈیڈ کی بہت یاد آرہی ہے ایسا لگ رہا ہے مام کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ بہت یاد کررہی ہے مجھے”
مہمل آنکھوں میں آنسو لیے اداسی سے کہنے لگی جس پر آبراش اسکے قریب ہوا۔
“پلیززز مجھے مام ڈیڈ کے گھر لے جائیں”
وہ روتے ہوئے آبراش کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی آبراش نے اسکے آنسو اپنے انگلیوں کی مدد سے صاف کیے اور اسکی آنکھوں پر جھکا۔۔
“بس دو تین دن میں کچھ کام ختم ہو جائیں ہم کراچی جاکر سب سے پہلے ان کے پاس جائیں گے”
وہ اسکے چہرے کو دیکھتے ہوئے نرمی سے کہنے لگا مہمل اسے دیکھنے لگی۔
“پرامس”
مہمل بھی اسے دیکھتے ہوئے اسکی گردن پر چٹکی کی طرف انگلیاں رجھے پوچھنے لگی
“گوڈ پرامس”
وہ اسی کے انداز میں اسکی گردن پر اسی کی طرف انگلیاں رکھے بولا اسکے انداز پر مہمل مسکرائی۔
“مجھے تمہاری یہ مسکراہٹ اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے”
وہ اسکے ہونٹوں پر نظریں جمائے شوخیہ لہجے میں کہتے ساتھ ہونٹوں پر جھکنے لگا جب مہمل نے ہونٹ آپس میں جوڑ لیے آبراش اسے دیکھنے لگ گیا اور آئبرو اچکائی مہمل شرمندگی سے نظریں جھکا گئی اور اسکے انداز پر آبراش جے چہرے پر مسکراہٹ آئی مہمل اپنا منہ دوسری طرف موڑ گئی آبراش نے اسکا رخ اپنی طرف کیا اور پوری شدت سے اپنے لب اسکے لبوں پر رکھے مہمل ایک دم ہڑبڑا کر رہ گئی اور شرمندگی سے نظریں جھکا گئی۔
جاری ہے۔
